پیر، 30 ستمبر، 2013

کم اِل سُنگ: تحریر ڈاکٹر شاہ محمد مری



(15 اپریل 1912۔۔۔۔۔۔8 جولائی 1994)

تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری

.............................

عوامی جمہوریہ کوریا کے عظیم کمیونسٹ لیڈر مغربی دانشوروں کے بقول ،’’ایشیا میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘‘(1)کامریڈ کم ال سنگ 82 سال کی عمر میں آٹھ جولائی 1994 کو انتقال کرگیا ۔ اس کا انتقال ایک ایسے دور میں ہوا جب ایک طرف عظیم سوویت یونین کا وجود موجود نہیں رہا ، دیگر تمام سوشلسٹ ممالک کا گلا معاشی اور سیاسی طور پر دبوچا جا رہا ہے اور دوسری طرف سرمایہ ایک عالمگیر اور بے پایاں اقتدار اور حشمت حاصل کر چکا ہے ۔ امریکہ سارے جہاں کا آقا بن چکا ہے ۔ طبقاتی لوٹ کو مقدس قرار دیا گیا ہے اور دکاندار کے سامنے آزادی ، آبادی، ضمیر اور سا لمیت و وقار رہن رکھ دیے گئے ہیں۔ ایک ہی عالمگیر طبقے کا واحد نمائندہ ہی تمام ممالک کی سرحدوں، وہاں کے طرزِ حیات، فوجی قوت و تعداد اور اسلحہ کی قسم کا تعین کرتا ہے ، بحث مباحثہ، حیل و حجت، پس و پیش اور اگر مگر کی جرأت کی سزا بہت بھیانک ہے ۔ انسانیت کے روشن مستقبل کے لیے جدوجہد کرنے والے کاررواں کو تتر بتر کر دیا گیا ہے ۔ امید کی تسبیح کے دانے بظاہر بکھر گئے ہیں ۔ آزادیوں کے نام پر برلن کی دیوار توڑ دی گئی اور آزادی ہی کے نام پہ روزگار کی ضمانت، مفت تعلیم کے حصول اور صحت و رہائشی سہولیات کی یقینی ترسیل کی لائن کاٹ دی گئی ہے ۔ زر کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور کرنسی کی تھاپ سے مسحور انسان اپنے باپ دادا کی تصویریں زمین پر پٹخنے لگے۔ شرفِ آدمیت کے تاریخی کاررواں کے ہر سنگِ میل کو ندامت کا نشاں ثابت کیا گیا۔ ستر سال سے خوش خوشحال لوگ اپنی ہی موت پہ جشن منا کر انتہائی تیز رفتاری سے عصمت فروشی کے تاریک بازار کی طرف دوڑنے لگے ۔ امن کی تحریک کو دفن کر کے کروڑوں لوگ نیو ورلڈ آرڈر کے وحشی دیو کے سامنے رقص کرنے لگے اور اپنی ہی منتخب پارلیمنٹ پر ٹینکوں سے گولہ باری کر کے ایک نئی قسم کی بورژواجمہوریت مسلط کرنے لگے ہیں۔

اس پس منظر میں جناب کم ال سنگ کا انتقال ہو گیا۔ اس کم ال سنگ کا جس نے نہ تو نیو ورلڈ کومانا ، نہ سوشلزم کی موت کے پروانے پر دستخط کیے اور نہ ہی کوریائی عوا م کے اتحاد کے اپنے عزم سے پیچھے ہٹا۔ کامریڈ کم ال سنگ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ایک سامراج دشمن انسان تھا ۔وہ نو آبادیت اور جدید نو آبادیت کے خلاف ایک عملی مجاہد تھا۔ وہ جمہوریت، امن، انصاف اور ناوابستگی کا داعی تھا ۔
گو کہ اس نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں جگہ جگہ اپنے دیو قامت مجسمے کھڑے کرنے اور اپنے آپ کو مافوق الفطرت مخلوق ثابت کرنے پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کر کے شخصیت پرستی کے زہریلے بیج بو دیے تھے اور پھر پارٹی کو اولیت دینے کے بجائے اپنے بیٹے کو اقتدار عطا کر کے اس نے اپنی پارٹی میں جمہوریت اور اس کے اداروں کی بنیادیں ہلا ڈالنے کی حرکت کی ہے، مگر اس سب کے باوجود کم ال سنگ ایک سچا کمیونسٹ، عظیم محب وطن اور عوام سے سچا پیار کرنے والا عظیم لیڈرتھا ۔
کامریڈ کم ال سنگ کا اصل نام ’’ کم سنگ جو ‘‘ تھا ۔ وہ 15 اپریل 1912 کو کوریا میں پیانگ یانگ کے قریب پیدا ہوا۔ کوریا ایک قدیم اور بڑاملک ہے ۔ اس کے مغرب میں Yellow Sea اور جنوب میں آبنائے کوریا واقع ہے ۔ مشرق میں بحیرہ جاپان اور شمال میں یالو اور تومین نامی دریا ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ اس کی سرحد ملتی ہے اور سابقہ سوویت یونین، کوریا کا زبردست دوست اور پڑوسی تھا ۔
کوریا کے وجود کی تاریخ سن 57 قبل مسیح تک جاتی ہے ۔ آٹھویں صدی میں اس کا نام سلطنت ’’ کوریا ‘‘ پڑا۔ کوریا سو سال تک منگولوں کے تسلط میں رہا اور 1395 میں جنرل یی سانک گائی نے اقتدار پر قبضہ کر کے یی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور مرکزی انتظامیہ رائج کی ۔ کنفیوشس کا فلسفہ یہاں کااخلاقی نظام قرار پایا ۔ سولہویں صدی میں چین نے جاپانی حملے کو پسپا کرنے میں کوریا کی مدد کی ۔ مگر سترہویں صدی میں چین نے خود اس مملکت سے خراج لینا شروع کر دیا۔ انیسویں صدی تک یہ علاقہ چین اور جاپان کے درمیان جھگڑے کا باعث بنا رہا ۔ اور 1910 میں جاپان نے مکمل طورپر اس علاقے پر قبضہ کر کے اسے اپنا مطیع بنا لیا ۔
کم ال سنگ کا والد جاپانی سامراج کے خلاف تحریک آزادی میں فعال طور پر شریک تھا ۔ اس کی مادرِ مہربان بھی حبِ وطن اور آزادیِ نسواں کے نشے میں سرشار تھی اور اپنے رفیقِ حیات کی انقلابی سرگرمیوں میں مدد گار تھی۔اس کی ماں صرف ایک انقلابی مجاہد کی رفیقہِ حیات ہی نہ تھی، وہ ایک ایسے باپ کی بیٹی بھی تھی جس نے جاپانی سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ۔ محترمہ کانگ بین سوک نے نہ صرف ایک عمدہ کمیونسٹ کو جنم دے کر اسے جوان کیا بلکہ خود بھی آزادی کی قومی جدوجہد اور معاشرتی انقلاب میں حصہ لیا ۔
کم ال سنگ 1925 میں قابض جاپانیوں کے تشدد سے فرار ہو کر مانچوریا چلا گیا۔ 1926 میں 14 سال کی عمر میں مانچوریا کے سکول میں داخل ہوا اور وہاں وہ کمیونسٹ بن گیا ۔ اس نے نوجوان کمیونسٹ اتحاد میں شمولیت اختیار کی اور اپنی محنت، نظریاتی وابستگی اور فعال جدوجہد کی بدولت تین سال کے اندر اندر مانچوریا کی کمیونسٹ یوتھ الائنس کیکمیشن کا سیکرٹری بنا ۔ 1917 کا زمین ہلاڈالنے والا بابرکت انقلاب روس میں بپا ہو چکا تھا ۔ سماجی برابری اور انسانی شرف کا محدود قافلہ عالمگیریت کی منزلیں طے کر رہا تھا ۔ سوشلزم مقبولیت پا رہی تھی اور دنیا بھر کی غلام قوموں میں آزادی کی تحریکیں کامیابیوں سے ہمکنار ہو رہی تھیں ۔ کوریائی تحریک آزادی بھی اس گرما دینے والے انقلاب کے اثرات کے خوشگوار زد میں تھی ۔ کامریڈ کم ال سنگ 1931 میں باقاعدہ طور پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کا ممبربن گیا اور ایک سال کے اندر اندر اس نے کوریا کی عوامی انقلابی فوج کی بنیاد رکھی ۔ اس نے اپنا نام کم سونگ جو سے بدل کرکم ال سنگ رکھا اور 1936 میں آبائی وطن کی آزادی کے لیے جاپانیوں کے خلاف پہلا متحدہ نیشنل فرنٹ قائم کیا اور اس کا چیئرمین منتخب ہو گیا۔ 
وہ جاپان کے خلاف گوریلا جنگ کی قیادت کرتا رہا ۔ وہ چاولوں کے کھیت میں کسانوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے بھی کام کرتا گیا اور انہیں آزادی اور انقلاب کا شعور بھی بخشتا رہا ۔ وہ بچوں کے ساتھ بنٹے کھیلتے کھیلتے انہیں آزادی اور سوشلزم کا سبق دیتا تھا۔ انہوں نے اپنی سچائی اور کھرے کمیونسٹ خیالات سے لوگون کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ وہ جدوجہد اور انقلابی عمل کے ہر مرحلے پر اپنے لوگوں کے دوش بدوش کام کرتا ۔ وہ عام لوگوں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھاتا۔ اس نے خود کو مکمل طور پر عوامی انسان بنا لیا تھا اور جاپانیوں کے خلاف ملکی آزادی کی چوتھی لڑائی میں مرکزی کردار ادا کیا ۔
وہ 1942 میں سوویت یونین چلا گیا اور سوویت فوج میں میجر بن گیا ۔ جنگ عظیم دوم میں وہ جاپان کے خلاف کوریائی کمیونسٹ کے ساتھ سوویت فوج کے شانہ بشانہ لڑا۔ جب جاپان نے ہتھیار ڈالے تو اس وقت جنوبی حصے میں امریکی فوجیں موجود تھیں اور شمالی حصے میں کوریائی کمیونسٹ اور سوویت سرخ فوج کاقبضہ ہو چکا تھا ۔ 1945 ہی میں کم ال سنگ نے کوریا میں کمیونسٹ حکومت کے قیام کا اعلان کیا ۔ وہ عوام میں ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کر چکا تھا ۔ وہ جلد ہی شمالی کوریا کی لیبر پارٹی کا وائس چیئرمین بن گیا ۔ 3 ستمبر 1948کو ملک کا نام عوامی جمہوریہ کوریا ہوا اور کم اس ملک کا پہلا وزیراعظم منتخب ہو گیا ۔ اس ملک کا رقبہ 122,400 مربع کلو میٹر ہے اور اس کا دارالحکومت پیانگ یانگ ہے ۔
کم ال سنگ 1949 میں کوریائی ورکرز پارٹی کا چیئرمین بن گیا جو کہ 23 اگست 1946 میں بنی تھی ۔ شمالی کوریا میں تیزی سے سوشلسٹ معاشرہ تشکیل پا رہا تھا۔ جبکہ جنوبی کوریا میں امریکی سامراجی پالیسیاں چل رہی تھیں۔ 1950 میں دنیا کے کمیونسٹ دشمنوں کے سب سے بڑے سرخیل پاگل میکارتھی نے اپنی فوجیں اتار دیں۔
الامان از جنگِ اِستعماریاں
کوریا با کوریا آمد بہ جنگ
امریکہ اور مغربی طاقتیں جنوبی کوریا کی پشت پر تھیں۔ یہ جنگ ’’ کورین وار ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ اس جنگ کے خلاف ساری دنیا میں امن تحریک چلائی گئی ۔ خود ہمارے بلوچستان میں کمیونسٹوں نے اس جنگ کے خلاف زبردست مہم شروع کر دی تھی ۔ بابو عبدالکریم امن نے اپنے دیگر کمیونسٹ رفقا کی مدد سے جناح روڈ کوئٹہ کے میٹرو ہوٹل میں پریس کانفرنس منعقد کی تھی جس میں اس نے دو نکات پر زور دیا تھا۔ اس کی ایک دلیل یہ تھی کہ کوریا کی جنگ صرف کمیونسٹ کوریا کو تباہ کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد کمیونسٹ چین کو بھی گھیرے میں لینا ہے اور وہاں چیانگ کائی شیک کی فارموسا والی حکومت کو پھر سے مسلط کرنا ہے ۔ امن بابو کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ امریکہ اپنے دیگر اتحادی ممالک کو بھی چین اور عوامی کوریاکے خلاف استعمال کرے گا اور پاکستان کو بھی اس جنگ میں جھونک دیے جانے کا خطرہ موجود ہے ۔ اس لیے اس کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو اس سامراجی جنگ سے دور رکھا جانا چاہیے ۔
اس پریس کانفرنس کے بعد انہی امور پر عوام میں ایک دستخطی مہم شروع کی گئی ۔ یہ مہم جاری تھی کہ 17 اگست 1950 کو بابو عبدالکریم اور اس کے رفقا محمد ہاشم خان غلزئی ، مولوی حکیم عبداللہ جان بازئی، مرزا فیض اللہ خان، عبدالصمد درانی اور محمد یوسف خان غلزئی کو 40 ایف سی آر کے تحت گرفتار کر لیا گیا ۔ ہتھکڑیوں اور جولانوں سے انہیں آراستہ کر کے سی کلاس کے کپڑے پہنا کر مچھ جیل بھیج دیا گیا ۔ ہمارے یہ اکابرین چھ ماہ تک جیل میں رہے ۔ آج ہم روایت پرستی کی ہزاروں بد صورت کارستانیوں کے بجائے بلوچستان کے ان سچے بیٹوں کی سامراج دشمنی اور کمیونسٹ بین القوامیت کے اقدام پر جیل میں کاٹے گئے ان 180 دنوں پہ افتخار سے سر بلند کرتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے اکابرین توسیع پسند اور لٹیری قوتوں کے حلیف ہونے کے بجائے کوریا کی آزادی اور سامراج دشمنی کے کیمپ میں سر بلند کھڑے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ کم ال سنگ کی آزادی کی افواج کے سپاہیوں میں بلوچستانی کمیونسٹوں کے نام بھی جلی حروف میں موجود ہیں۔
یہ جنگ تین سال تک جاری رہی اور اس میں تیس لاکھ انسان ہلاک ہو گئے جن میں امریکیوں کی تعداد 54 ہزار تھی ۔ چین کی انقلابی حکومت کی موثر اور فعال یکجہتی کی وجہ سے شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت بالآخر امریکی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب ہو گئی اور کوریا کے مزدور اور کسان جنگ زدہ معیشت اور تباہ شدہ مملکت کی تعمیر میں جت گئے ۔
دسمبر1972 میں کامریڈ کم ال سنگ ملک کا صدر منتخب ہوگیا۔ اس نے بار بار شمال اور جنوب کے اتحاد کی کوششیں کیں اور جنوبی کوریا سے امریکی فوجوں کے انخلا کی جدوجہد جاری رکھی ۔ بڑی طاقتوں کی آمیزش سے خود کو جدا رکھتے ہوئے سوشلزم کے عمومی اصولوں کے ساتھ مضبوط وابستگی رکھ کر کم ال سن نے کوریا کو ایک پسماندہ زرعی ملکسے ایک عظیم صنعتی قوت بنا دیا۔ سوویت یونین اور عوامی جمہوریہ چین کے بے لوث تعاون سے کورین وار کے نتیجے میں تباہ شدہ شہری مراکز کو دوبارہ تعمیر کرکے صنعتی عمل کو بہت تیز رفتاری عطا کی گئی ۔ آج جمہوریہ کوریا فولاد، صنعتی و زرعی مشینری اور ٹیکسٹائل کی صنعت میں لاثانی مملکت بن چکا ہے ۔ اس کے علاوہ کیمیکل ، آٹو موبائل، سیمنٹ اور شیشہ کی صنعت بھی بہت ترقی کر چکی ہے ۔ صنعتی ترقی نے بجلی کی ترقی کی رفتار کو تیزی دی اور جواباً بجلی کی عظیم ترسیل و ترقی نے صنعتی ترقی کو آسمان تک پہنچا دیا۔ عوامی جمہوریہ کوریا بجلی کے میدان میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اپنی عظیم الجثہ صنعتی و شہری ضروریات کو پورا کر کے عوامی جمہوریہ چین کو بھی بجلی بیچتا ہے ۔
انقلابی حکومت نے زراعت کو بھی بہت ترقی دی ہے ۔ چاول ، مکئی، گندم ، سبزیاں اور میوے یہاں کی بڑی پیداواری اجناس ہیں۔ ساری زراعت کو آپریٹو ہے ۔ اس ملک میں تقریباً 3000 کوآپریٹو ہیں۔ ہر کوآپریٹو میں تقریباً 300 خاندان ہیں اور وہ 1000ایکڑ پر مشتمل ہوتی ہے ۔ کواپریٹو میں شامل لوگ جمہوری انداز میں اپنے علاقے میں بیج، کھاد اور دیگر ضروریات کا تخمینہ لگاتے ہیں، پیداوار کا ہدف مقرر کرتے ہیں اور علاقے کی معاشرتی، معاشی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں۔
کمیونسٹ کوریا نے ہر خاندان کو مکان مہیا کیا ہوا ہے اور کچے فرسودہ مکانات کی جگہ پکے مکانات تعمیر کر کے لوگوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں دیگر کمیونسٹ ممالک کی طرح کوریا میں بھی رہائش کا کوئی مسئلہ نہیں۔ تیز رفتاری صنعتی ترقی کے باوجود وہاں نہ تو کوئی کچی آبادیاں ہیں اور نہ ہی پینے کے پانی اور نکاسیِ آب کے مسائل موجود ہیں۔
عوامی جمہوریہ کوریا میں تعلیم مفت ہے ۔ ہر شخص کے لیے تعلیم کا حصول قانونی طور پر لازمی ہے ۔ کوئی بچہ بغیر تعلیم کے نہیں رہ سکتا اور چار برس کی عمر میں ہر بچہ سکول جانے لگتا ہے ۔ نصاب تعلیم میں فضول اور غیر ضروری مضامین موجود نہیں ہیں بلکہ تربیت یافتہ کارکن، ٹیکنیشن اور سائنسدان پیدا کرنے کی طرف سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔ کم ال سنگ کے ملک میں شرح خواندگی سو فیصد ہے۔ تکمیل علم کے بعد روزگار کا حصول کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ روزگار کی ضمانت سرکار دیتی ہے اور ہر شخص اپنی اہلیت اور قابلیت کے مطابق روزگار پاتا ہے ۔
تقریباً ہر گاؤں میں بنیادی سہولیات سے مزین ہسپتال موجود ہے۔ ملک میں علاج معالجہ مفت ہے ۔ زچہ بچہ کی نگہداشت پہ خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ بڑھاپے میں دیکھ بھال کی سہولیات بہت اعلیٰ ہیں ۔ تفریح گاہوں، کھیل کے میدانوں، بہتر خوراک اور صاف ستھرے ماحول کی فراہمی سے حکومت نے لوگوں کی صحت کا معیار بلند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ کوریا میں اوسط عمر 70 سال ہے ۔ صحت کے نظام میں بیماریوں سے بچاؤ اور پرہیز پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جس سے وبائی امراض بہت حد تک کنٹرول ہو چکے ہیں ۔
ہر چار سال بعد 615 ممبروں پر مشتمل اسمبلی کے انتخابات منعقد ہونے والے ملک میں کلچرل زندگی زبردست ترقی کر گئی ہے ۔ حکومت نے لوگوں کی روحانی زندگی کی بہتری کے کئی زبردست ادارے قائم کر دیے ہیں۔ مثلاً تھیٹر ، نیشنل آرکسٹرا اور نیشنل ڈانسنگ تھیٹر وغیرہ ۔ ہرجگہ میوزیم قائم ہیں۔ حکومت دل کھول کر انہیں فنڈ فراہم کرتی ہے ۔ صرف دارالحکومت میں کم از کم بارہ میوزیم موجود ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی نشریات تک تقریباً ہر شخص کی رسائی ہے ۔ دیہات میں ایک خاص نظام کے تحت ریڈیو نشریات ہر گھر تک پہنچائی جاتی ہیں۔ ملک بھر کے دیہاتوں میں ٹی وی نشریات دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہاں کی زبان کوریائی ہے جس میں لکھنے والے شاعروں اور ادیبوں کاخاص خیال اور احترام کیا جاتا ہے ۔ حکومت ان کی کتابیں شائع کرنے اور فروخت کرنے کا انتظام کرتی ہے ۔ ایک زندہ معاشرے میں ادیب اور دانشور کی ضروریات کے عین مطابق انقلابی حکومت سہولیات فراہم کرتی ہے ۔ لائبریریاں وافر تعداد میں ہر دیہات میں موجود ہیں۔ بہترین تخلیقات پر ایوارڈ اور انعامات دیے جاتے ہیں ۔ ادبی اور ثقافتی وفود دنیا بھر کے ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح فلم سازی کو خصوصی ترقی نصیب ہوئی ہے ۔
کم ال سنگ کے ملک میں دیگر سوشلسٹ ملکوں کی طرح عورت کو تکریم حاصل ہے ۔ اسے برابری کا درجہ حاصل ہے اور کوریا میں جنس کی بنیاد پر ہر قسم کے امتیاز کا خاتمہ سوشلزم کے اولین اقدامات میں سے تھا۔ جاگیر داری اور قبائلی غیرت کے نام پر عورت پہ ہونے والے ہر ظلم کا خاتمہ کر دیا گیا ۔ عورتوں کی جمہوری تنظیم منظم کی گئی ۔ اس پر تعلیم اور ترقی کے دروازے کھول دیے گئے اور سماجی ترقی کے عمل میں عورت کی بھر پور شرکت کو یقینی بنایا گیا ۔
کامریڈ کم ال سنگ کوریا کے درمیان اتحاد کے لیے کوشاں رہا ۔ امریکی سامراج دنیا میں ہر جگہ کے عوام کی طرح کوریا کے عوام کے اتحاد کوبھی سرمایہ داری کے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے ۔ لہٰذا کبھی دہشت پسندی کا الزام لگایا گیا تو کبھی ایٹم بم کی تیاری کا راگ الاپ کر وہ عوامی کوریا کے خلاف حلقہ تنگ کرتا رہا ۔ ایسے دور میں جب دستِ قاتل کو جھٹک دینے والے سارے مجاہد ایک ایک کر کے بچھڑ گئے ،کم ال سنگ نے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ۔ وہ سوویت خاتمے کے باوجود نہ تو کمیونزم سے تائب ہوا نہ ہی ڈالر کی تلاش میں اس نے اپنی تنی ہوئی گردن کو جھکانا گوارا کیا ۔ کم ال سنگ صرف سیاستدان ہی نہ تھا وہ ایک فلاسفر ، نظریہ دان اور ایک مفکر بھی تھا ۔ وہ آج کے پیچیدہ عالمی سیاسی منظر نامے میں ایک کامیاب اور باعمل سیاستدان تھا ۔ وہ ایک مدلل اور بہترین مقرر تھے ۔ اچھے لکھاری اور بہترین استاد تھا ۔ ایک سچے کمیونسٹ تھا ۔ ایک عظیم انسان دوست اور بین الاقوامیت پسند انسان تھا ۔ اس کی تصانیف چھ جلدوں کی صورت میں موجود ہیں۔ اس کی نشانی ہمارے درمیان موجود ہے اور وہ نشانی ہے؛ کمیونسٹ عوامی جمہوریہ کوریا۔ ہم اس عظیم لیڈر کی اس نشانی کی بقا ، خوشحالی اور ترقی کے خواہاں ہیں۔


جمعہ، 13 ستمبر، 2013

تحریکیں ، اور ناکامی کے اسباب



معلوم دنیا کی تاریخ کا اگر تجزیہ و مطالعہ کیا جائے تو اس تجزیے کی بنیاد پر انسانی تہذیب کی چند ایسی خامیاں اور کمزوریاں نظر آتی ہے جس کی وجہ سے بڑی بڑی سلطنتیں ، بادشاہتیں، اور تحریکیں زوال پذیر ہوئیں ، سب سے بڑی خامی جو اوپری سطح پر نظر آتا ہے وہ ہے ایک ہی خاندان کا قبضہ ، باپ کے بعد بیٹا، بیٹے کے بعد پوتے یا نواسے کو بطور وراثت اقتدار یا تحریک کی بھاگ دوڑ منتقل کی جاتی ہے ۔

دوسری خامی جو تحریکوں یا ملکوں کی زوال کی وجہ بنی ہے وہ ہے چند مخصوص لوگوں کو’’ مقدس گائے‘‘ بنا کر انہیں مکمل استثنی دینا ، ان پر کوئی تنقید برداشت نہیں کی جاتی ، ان کی غلطیوں اور کمزوریوں کو درگزر کیا جاتا ہے اور جب کوئی درمیان سے اٹھ کر سوال اٹھانے کی کوشش کرئے گا تو اسے یہ کہہ کر چپ کرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے کہ تمہاری اوقات ہی کیا کہ تم وژنری اور قومی لیڈراں پہ تنقید کرتے ہو ۔
اس کے علاوہ جو خامی تحریکوں کی بربادی کا سبب بنا ہے وہ ہے صلاحیتوں کی نا قدری ، ایک مخصوص ٹولے اور خوشامدی مشیروں کے علاوہ جب تحریک یا ممالک کے سربراہ کے نزدیک صلاحیت ، علم و زانت کی قدر نہ ہو تو ایسے سربراہوں کے فیصلے بھی تبا ہ کن ہوتے ہیں جو ملکوں اور تحریکوں کو تاریکی میں لے ڈوبتے ہیں ۔جب صلاحیت پر قبائلیت ،علمی بحث و مباحثے پر بے ہودہ الزام تراشی،تعمیری تنقید پر تعریف و ثناء، حقیقت بنانی پر طنز و شغان ، صلاح مشورے پر yes boss ، غلطی تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی کو ترجیح دی جائے تو ایسی جگہوں پہ تاریکی ہی قوموں کا مقدر بنے گا


بدھ، 11 ستمبر، 2013

حمایت یا حماقت


تحریر ۔۔۔ اسلم بلوچ
تنقیدی شعور کو لیکر جو قیاس آرائیاں آج بلوچ سماج میں بے بنیاد خدشات کا سبب بن رہے ہیں اگر باریک بینی سے غور ہو تو یہ انہی خیالات کا تسلسل ہے جو انسانی سماجی زندگی کے تاریخ میں ہمیشہ سے پیوست رہے ہیں، ماضی میں بھی تنقیدی شعور ی بیداری کو خطرہ سمجھا جاتا رہا ہے، پاولوفریرے مظلوموں کی ترقی نامی کتاب کے پیش لفظ میں یہ اقرار کرتے نظر آتے ہیں کہ کچھ کے نزدیک تنقیدی شعور انارکی (طوائف الملوکی) کا باعث بنتا ہے اور دوسروں کے نزدیک تنقیدی شعور انتشار کی طرف لے جاتا ہے تاہم کچھ لوگ اقرار کرتے ہیں کہ تنقیدی شعور کی اہمیت سے کیوں انکار کیا جائے ، میں پہلے آزادی سے خوف ذدہ تھا اب بالکل نہیں ہوں، تنقیدی شعور ی بیداری کے ممکنہ اثرات کے بارے میں شکوک و شہبات کا اظہار ایسے مقدمے کے ذریعے لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں شک کرنے والاہمیشہ وضاحت نہیں کرتا یعنی وہ چاہتے ہیں کہ غیر منصفانہ نظام کے شکار ہونے والے اپنے آپ کو پہچان نہ سکیں ۔ 
تنقیدی جذبے سے بھرپور انقلابیت ہمیشہ تخلیقی ہوتی ہے فرقہ بندی ماورائی جھوٹ (Myth) بناتی ہے اور بیگانگی پیدا کرتی ہے ، جب کہ انقلابیت تنقیدی ہوتی ہے اور آزادی دلاتی ہے انقلابی انتہاپسندی ایک شخص کی اپنی حالت کے ساتھ کمنٹ منٹ بڑھاتی اور ٹھوس حقیقت اور معروضی حقیقت کو تبد یل کرنے کیلئے دلی وابستگی کا تقاضا کرتی ہے اس کے برعکس فرقہ بندی اپنے غیر استدلالی اور ماورائی جھوٹ کی وجہ سے حقیقت کو بھی جھوٹی حقیقت میں تبد یل کر دیتی ہے ( حقیقت جو کہ ناقابل تبدیل ہوتی ہے)
میری ناقص رائے کے مطابق اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے ، اس بحث کو بلوچ قومی سیاست کے تناظر میں ماضی اور حال کو جوڑ کر زمینی حقائق تجربات ، ناکامیوں اور کامیابیوں کے بیچ حقائق کے بنیاد پہ آگے لے جایا سکتا ہے مگر بدقسمتی گذشتہ تھوڑے سے عرصے میں سیاسی بحث مباحثوں کو لیکر ہمارے سیاسی منظر نامے میں حقیقت کے بدلے مجھے جن باتوں کا تاثر کچھ زیادہ ہی گہرا نظر آرہا ہے وہ سیاسی رویوں کے بدلے غیر سیاسی انفرادی رویے ہیں ، زمینی حقائق سے ہٹ کر افواء سازی پہ تکیہ کیا جارہا ہے کسی بھی شخص کے اعمال کا سیاسی حوالے سے تجزیے کی بجائے اس کے کردار کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
حقیقی اور بنیادی اسباب جو ہمارے قومی اجتماعی تشکیل کے راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان سے ہٹ کر جھوٹے اور بے بنیاد قصے اور کہانیوں کے ذریعے الجھاؤ پیدا کیا جارہا ہے ، تنظیم ، گروہ ،شخصیات کی سرزد منفی یا مثبت عمال پر تنقیدی تجزیے کے بجائے الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں ، بے بنیاد قصے کہانیاں گھڑے جارہے ہیں ، میں انفرادی حوالے سے بذات خود وجوہات پہ غور کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے کچھ باتیں واضح طور پر نظر آتے ہیں مگر ان میں سے کسی ایک کیلئے فیصلہ شاید میرے بس کی بات نہیں۔غور کیا جائے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے قومی سیاست میں مجموعی حوالے سے شعور اور سیاسی پختگی کی سطح کو لیکر ان کی نیم پختگی کی نشاندہی تو نہیں کررہے ہیں ؟؟
یا پھر قومی جدوجہد کے حوالے سے حقیقی انقلابی اجزاء اور روایتی سیاسی ، قبائلی گروہی تمام اجزاء کو باہمی گڈمڈ کرکے ایک غیر حقیقی بڑھوتری والی دوڈ شروع کی گئی ہے( روایتی و علاقائی پارٹیوں کے عمل اور دائرہ کار سے صرف نظر کرکے ان کیلئے انقلابی اور قومی پارٹیوں کا مصنوعی منظر کشی و نعرہ بازی گروپ لیڈروں علاقائی اور قبائلی لیڈروں کیلئے ان کے عمل و کردار اور صلاحیت و قابلیت سب سے صرف نظر کرکے ان بارے وژنری لیڈر ، انقلابی اور قومی لیڈروں کے مقام کیلئے اخباری بیان بازی اور نعرہ بازی وغیرہ زیر غور ہو) اس غیر حقیقی دوڑ دھوپ کی شعوری تنقیدی مخالفت اور ساتھ ہی ساتھ انقلابی عمل کے تحت حقیقی اور غیر حقیقی اجزاء ترکیبی کے حوالے سے نشاندہی اور حد بندی کا مطالبہ جب زور پکڑتا گیا تو حقیقت کے آشکار اور مصنوعیت کے ڈھیر جانے کے خوف نے بوکھلاہٹ میں یہ طریقہ اپنانے پر مجبور کیا ؟؟ کیا جو نادانیاں پچھلے ایک عشرے میں ہم سے سرزد ہوئیں جنکی وجہ سے ہماری اجتماعی جدوجہد پر منفی اور برُے اثرات پڑے ان اعمال کے عوامی سطح پر تنقیدی تجزیے پر بوکھلاہٹ نے ہمیں اس طرح کی غیر سیاسی اور غیر اخلاقی اودھم بازی کروائی ؟؟یا یہ بالکل سیدھا سادہ ارتقاء کی دین ہے کہ اب تک قبائلیت اور قبائلی مزاج ہمارے انقلاب پر حاوی ہے ایک مرتبہ روسی کمینسٹوں کے بارے میں نواب خیر بخش مری سے یہ سننے کو ملا کہ وہ’’ اسکریچ رشین‘‘ کے محاورے کو لیکر شہرت رکھتے تھیں، ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ جتنا بھی کمیو نسٹ اور انقلابی بنیں ، ان کو ذاتی طور پہ ایک چھوٹا سا رگڑا دو تو اندر سے ایک پختہ رشین ہی نکلے گا ، تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم جتنا بھی سیاسی بنیں ، انقلابی بنیں ، کتابوں کے بوجھ سے ہمارے کندھے جھک جائیں ، یا پھر ذمہ داریوں کے بوجھ سے ، تجربے اور لمبی عمرو بزرگی کی وجہ سے ۔ مگر بھر بھی جب بات ہمارے ذات کی ہوگی تو ہم ایک مکمل آڑ جانے والا قبائلی ہی نکلیں گے یہاں بھی میرا مطالبہ غور و تحقیق کا ہے کہ اصل وجوہات کیا ہیں یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم ترقی کے سفر و جدوجہد کا دعوی کررہے ہیں ہمیں درپیش تمام مسائل کا اگر ہم باریک بینی سے تجزیہ نہیں کریں گے ان مسائل کے حقیقی بنیادی اسباب و وجوہات کو سمجھ نہیں سکیں گے تو وہ مسائل ہمیں بار بار متاثر کرینگے اور ہر بار ہمارے اجتماعی مقصد میں رکاوٹ بنیں گے۔
بلوچ قومی سیاست کے تناظر میں تنقیدی شعور کو لیکر سیاسی معمولات پر تنقیدی رائے رکھنا تخلیقی عمل کا سبب ہوگا یا انتشار کا ، اس پر بحث شروع ہونے سے پہلے اور کسی بھی انجام پر پہنچنے سے پہلے ہی تنقیدی رائے پر چڑچڑاپن ایسے عروج پر ہے جسکو دیکھ کر یہ تاثر قائم ہونے میں دیر ہی نہیں لگتی کہ تنقیدی نقطہ نظر کوئی جرم ہے مجھے یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ ایسا کیوں ہے ؟؟ اب بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ جو کچھ اس وقت میں سمجھ چکا ہوں وہ بالکل صحیح ہوگا لیکن ساتھیوں کی اکثریت میرے اس خیال سے کم ہی اختلاف کرینگے کہ ہمارے ہاں قومی سیاست کے حوالے سے قومی سیاست اور اس سے جڑے تمام کے تمام اجزاء کی علمی حدبندی کی وضاحت اور تشریح کرنا ابھی باقی ہے ، یعنی سیاست و سیاسی طریقہ کار کی وضاحت ، پارٹی و تنظیم کے مقصد دائرہ کار کے حوالے سے ان کی شناخت اور کردار کو لیکر پھر اس پارٹی یا تنظیم کیلئے قومی پارٹی یا انقلابی پارٹی یا پھر روایتی ،گروہی ،علاقائی یا شخصی پارٹی ہونے کی علمی حد بندی اور وضاحت اس کے بعد وقت و حالات کو مد نظر رکھ کر کسی بھی قسم کی پالیساں طریقہ کار اور حکمت عملی اپنانے یا نا اپنانے کی وجوہات کو شعوری طور پر سمجھنے کے متعلق اگاہی کیلئے ان تمام کی الگ الگ حد بندی اور وضاحت ہو ، اسی طرح لیڈر ، ذمہ داراں ، کارکناں ، کمانڈر ، سپاہی و ہمدرد ان تمام کے بیچ ان کے حقیقی کردار کو لیکر ان کی اہمیت و حیثیت کی الگ الگ حقیقی پہچان کیلئے علمی حد بندی اور وضاحت ہواور اس کے بعد صرف اور صرف قومی جدوجہد کو مد نظر رکھ کر ان کے دائرہ اختیار ان کے فرائض ، اختیارات اور ان سے تجاوز کرنے کی نشاندہی اجتماعی نظم و ضبط وغیرہ کی وضاحت و تشریح ہو( ایسا نہ ہو کہ کوئی کمانڈر سپاہیوں کو پابند رکھنے کیلئے ذاتی اصول و ضابطے وضع کریں اور خود کو خود ساختہ آزادی کا مالک سمجھے، لیڈر صاحباں کارکناں و ذمہ داراں کیلئے اصول و ضابطے بیان کرتے پھریں، اور خود کو خود ساختہ مقام و حیثیت کا حق دار سمجھ کر اپنے کسی بھی عمل کے متعلق تنقید کو گناہ قرار دیں) ہمارے لئے یہ ضروری ہوچکا ہے کہ اول ہم لیڈر قومی لیڈر ، انقلابی لیڈر ، گروہی و علاقائی و قبائلی لیڈر، روایتی سیاسی لیڈر، سپاہی و کمانڈر ان سب کی حقیقی عملی حیثیت کی حد بندی کی وضاحت کریں پھر ہم میں سے ہر ایک کے کردار، قابلیت، و صلاحیت سے از خود اس کے مقام کا تعین ہوگا( نہ کہ ثناء خوانی سے) یہ سب کچھ ہونے کے بعد شاید ہمارے لئے تنقید کی پہچان، اور اس میں تعمیری یا تخریبی ، مثبت تنقید یا منفی تنقید کی پہچان کرنا زیادہ مشکل اور پیچیدہ نہ ہو، پروپنگنڈہ کے ذریعے سازشوں کو سمجھنا مشکل نہ ہو ، اور سیاسی حوالے سے ان تمام کی پہچان و مقام اور حدود کی وضاحت ہر قسم کے حالات میں ہم اپنے ہر عمل سے حقیقی طور پر شاید آسانی سے کر سکیں ، جس میں جھوٹ اور بے بنیاد قصے کہانیوں کا عمل دخل نہ ہو، ،تنقید ، منفی یا مثبت، تعمیری یا تخریبی ،سازشیں پروپنگنڈہ وغیرہ کی علمی پہچان و اہمیت کو لیکر معروضی حقیقت کے تحت وضاحت اور حد بندی، ان تمام کی تشریح اور وضاحت سے پہلے لازمی طور پر ہمیں یہ اچھی طرح سمجھنا ہوگا کہ ہمارا مقصد کیا ہے،جب تک ہم اپنے مقصد کو اس کے پورے عجم اور بنیادی تقاضوں سمیت نہیں سمجھیں گے اس وقت تک چھوٹے او ر معمولی مسائل بھی پیچیدگیوں کا طو فان بن کر ہمارا راستہ روکتے رہیں گے ، کیونکہ نقطہ آغاز کے طور پر متحرک ہونے کیلئے یہ خیال کہ ہمارا مقصد آزادی ہے بالکل ایک سیدھا سادہ خیال ہوگا ، قابض ریاست سے آزادی کا ابتدائی خیال اپنے اندر ظاہری طور پر جتناسیدھا سادہ ہے اس کیلئے جدوجہد اپنے اندر اس سے کئی گناہ زیادہ پیچیدگیاں لئے بیٹھا ہے تو میری ناقص رائے کے مطابق اس جدوجہد کا اہم اور بنیادی پہلو ان پیچیدگیوں کی شناخت ، ان کی وضاحت ، تشریح اور حل کرنے سے تعلق رکھتے ہیں، جو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیے جا سکتے ہیں ، میرے نقطہ نظر کے مطابق بلوچ سیاست کو اگر قومی جدوجہد کے تناظر میں دیکھا جائے تو تین اہم پہلو نمایاں نظر آتے ہیں جس سے باقی ماندہ سب کچھ وابسطہ ہیں 
اول بذات خود بلوچ ہے تو یہاں گہرائی اور باریک بینی سے مشاہدے کی ضرورت اس لئے بھی ہے کیونکہ بلوچ ہی اس جدوجہد کا بنیادی ستون ہے تو بحیثیت قوم بلوچ کا تاریخی اور سیاسی سفر، سماجی ڈھانچہ، رسم و رواج ، لین دین، مجموعی علمی و شعوری سطح، قومی وحدت و قوت کو لیکر منظم اور غیر منظم صورت حال ، بلوچ جغرافیہ کی فطری اور تاریخی حقیقت اور موجودہ صورت حال یہ سب کچھ قومی جدوجہد سے برائے راست متاثر ہوتے آرہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ہمہ وقت قومی جدوجہد کو متاثر بھی کررہے ہیں تو کوئی حضرت اس اہم اور بنیادی پہلو کو کیسے نظر انداز کرکے اس جدوجہد کو حقیقی خطوط پر استوار کرکے کامیابی سے ہمکنار کرنے کا دعوی کرسکتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو قابض غیر قوت اسکی قبضہ گیری ، لوٹ مار ، پالیساں، عزائم ہیں جن سے ہم برائے راست ظاہر اََ متاثر ہورہے ہیں، اب اس کی وضاحت اور تشریح ہم اس لئے بھی بہتر اور واضح انداز میں کر سکتے ہیں یا کررہے ہیں کیونکہ یہ غیر قوت ہے جو بلوچ کے ذات سے تعلق نہیں رکھتا ، خونی رشتوں ، قبائلی علاقائی تعلق و مفادات ، لین دین، رسم ورواج سب سے باہر ہے ۔
تیسرا جو نسبتاََ زیادہ پیچیدہ نہیں ہے وہ ہے باہری دنیا ، بین الاقوامی قوتیں ان کے عزائم پالیساں اور ان کی مفادات سے جڑے بین الاقوامی قوانین ہیں کیونکہ بلوچ صدیوں سے سامراجی سازشوں کا شکار رہا ہے اور آج بھی برائے راست ان سے متاثر ہورہا ہے،( چالیس کے
عشرے میں فرنگی سامراج کے سازشوں سے اب تک جوج رہے ہیں خالی خولی لفاظی سے سامراج مخالفت کی بنیاد پر لیڈری کے شوق پورا کرنا کرنا زیر بحث نہیں۔
تو یہاں قابل غور یہ ہے کہ قابض سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی جدوجہد ہو یا بین الاقوامی منظرنامے میں اپنا قومی تاریخی جغرافائی حیثیت کی بحالی کیلئے سیاسی سفارتی کوششیں، ان دونوں کے بیچ کامیابی کا انحصار بحیثیت قوم ،بلوچ پر اور اس کے قومی وحدت و قوت پر ہوتا ہے، تو یہ امر حقیقی ہے کہ اس جدوجہد کا اہم اور بنیادی ستوں بلوچ ہی ہر زاویے سے اس جدوجہد کا مرکزی کردار ہے، تو اس بنیادی ستون اور مرکزی کردار کے قومی وحدت و قوت کے تشکیل کے بنیادی اسباب کیا ہیں یا قومی وحدت و قوت کے تشکیل میں رکاوٹ بننے کے اسباب کیا ہیں یا پھر تھوڑی سی حاصل قوت کو تحلیل کرنے کے اسباب کیا ہیں، یہ سب جانے بغیر آزادی کو اپنا نصب العین قرار دے کر اس کے لئے جدوجہد کرنا شاید اندھوں کے دوڈ میں حصہ لینے کے برابر ہے ۔تو یہاں سماجی تبدیلی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تو یہ بنیادی اور اہم پورے کا پورا پہلو بلوچ سے ہی تعلق رکھتا ہے ۔
دوسری طرف مکمل دباؤ کو لیکر بھی سارے کا سارا ملبہ بلوچ کے سر گرتا ہے یعنی قابض ریاست کے عزائم کو لیکر اس کے غیر انسانی پالیسوں کے تحت بے رحمانہ طاقت کا سامنا بھی بلوچ کو کرنا ہے اور بین الاقوامی قوتوں کے مفادات کو لیکر انکے عزائم سے جڑے پس پردہ سازشوں سے متاثر بھی بلوچ کو ہونا ہے ، ایسے حالات میں ہر طرح سے جبر کا شکار بلوچ اپنے قومی وحدت و قوت کے تشکیل سے بے نیاز گروہیت، پارٹی سیاست، روایتی فرسودہ سیاست اور اس بارے قبائلیت وعلاقائیت کا شکار ہو تو اس بد قسمتی کی نشاندہی اور اسکے وجوہات و اسباب بارے آگاہی ان پہ تنقید یا ان کے راہ میں رکاوٹ کی کوششیں کس قسم کے انتشار کا سبب بنیں گے، اس کی وضات اور تشریح ہونا ابھی باقی ہے، موجودہ سیاسی ڈھانچے میں بھونجال تو ضرور پیدا ہوا ہے لیکن اس بھونجال کے بنیادی وجوہات پر غور ضرور کیا جائے کہ وہ کیا ہیں اور آگے چل کر وہ تخلیقی نتائج دینگے یا تخریبی ۔
آپ اس بات پر ضرور غور کریں کہ ہمارے مقصد کے بنیادی اور اہم پہلو (بلوچ) کے تعمیر و ترقی کے عمل سے ہمیں روکا جا رہا ہے، اور دباؤ اس کو مکمل نظر انداز کرنے کی ہے، جب بات بلوچ کی اندرونی تعمیر و ترقی یا کمزوریوں و تخریب کی ہوتی ہے تو ہمیں دوسرے پہلو یعنی قابض ریاست سے ڈرا کر چپ کرانے کی کوششیں کی جاتی ہے کہ وہ سر پہ بیٹھا ہے اس کو فی الحال چھوڑ دو ، تو بنیادی اور اہم سوال ہی یہی ہے کہ جب یہ (بلوچ ) اندرونی طور پہ ترقی کے منازل طے کرتا ہوا ترقی نہیں کرئے گا۔سماجی ، سیاسی ، معاشی حوالے سے مضبوط نہیں ہوگا تو وہ کیسے اپنے وجود کو ان طوفانوں میں برقرار رکھ سکے گا ، تنقیدی شعوری حوالے سے ان تمام کا تجزیہ انتشار کا سبب بنے گا ، اس کیلئے اطمینان بخش بحث و مباحثوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں ، یہ میرا ذاتی رائے ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ، ایک گھریلو ڈھانچے ، خاندانی یا علاقائی ڈھانچے میں فکری حوالے سے پیدا ہونے والے انتشار کا ہی پیداوار ہے ہیں ، آج جب ہم اپنے آس پاس نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں قریبی فکری ساتھیوں کا جو جھرمٹ نظر آتا ہے، وہ تمام کے تمام کسی ایک خا ندان ، شہر، گاؤں کے روایتی ڈھانچے سے ٹوٹ پھوٹ کے دین ہیں، وجوہات کی بنیا د فکری حوالے سے آزادی ہے ، لیکن آزادی کا وہ سیدھا سادہ خیال نہیں جس میں صرف اور صرف قابض سے آزادی ہے بلکہ انسانی آزادی کے مقدس مقصد کو مد نظر رکھ کر اپنے مقصد کے پورے حجم اور تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ہی قدم بڑھانا ہے۔
قابض قوت کا ہمارے ترقی کی راہ میں مکمل جبراََ رکاوٹ اور بین الاقوامی سامراجی قوتوں کا قابض کوآشیر باد سے قطع نظر بلوچ از خود تاریخی قبائلی زند و گزران بابت اپنے رسم و رواج ، لین دین، خونی و قبائلی رشتوں ، قبائلی علاقائی مفادات، گروہی اور روایتی سیاسی انداز و مفادات کو لیکر قومی تشکیل و قومی وحدت و قوت کے حصول میں کتنی بڑی رکاوٹ ہے ، شاید اس کا اندازہ اور شعور ہمارے اکثریت کو نہیں ہے۔
ان حالات میں اس بات پہ شدت کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اتنے قربانیوں کے باوجود ہم کس کی خدمت کررہے ہیں؟؟ انقلاب کی یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اسی روایتی فرسودہ سوچ رکھنے والی ذہنیت کی جو اب بھی ہمارے قومی پسماندگی کے اسباب میں مکمل پیوست ہے، ایک چھوٹا سی مثال دوں ، جو شاید ہم میں سے اکثریت پہ گراں گزرے،
آزادی کے دعوے دار ہم میں سے ہر ایک صرف اپنے آپ پہ ذاتی حوالے سے نظر دوڑایں کہ انسانی آزادی کو لیکر ہم میں سے ہر ایک انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی زندگی میں عورتوں کو لیکر بچیوں کی پرورش، تعلیم، شادی بیاہ اور معاشی و مالی حوالے سے ان کے جائز حق و مقام بابت جو اختیار ہم رکھتے ہیں ، اس کے تحت ان کی حقوق کی کیا پاسداری کررہے ہیں ، شادی بیاہ کو لیکر انکی زندگی کے متعلق ، ان کی مرضی و منشاء کے بغیر اپنے فیصلے مسلط کرنا ، لب کے نام پہ ان کی واپاری، کم عمری کی شادی وغیرہ ، تو کیا یہاں مظلوم خود جابر نہیں؟؟؟
ایسے بہت سے فرسودہ اور انسانی آزادی کے مقدس مقصد سے متصادم رسم و رواج جن کی آج بھی ہم چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے پاسداری کررہے ہیں آج تک بلوچ عوام میں شعوری حوالے سے ان کے خلاف کس نے کتنا کام کیا ؟؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے میں نے جو محسوس کیا ان مسائل پہ کام کرنا دور کی بات ،ان کے بارے میں بات کرنے سے ہم خوف ذدہ ہوجاتے ہیں 
میرے کہنے کا مقصد اس تسلسل کی نشاندہی ہے جو آج ہمارے قومی سیاست میں بھی بالکل اسی ذہنیت کی عکاسی کررہا ہے، باریک بینی سے غور ہو تو قبائلی زند و گذراں میں سردار، مقدم ، میر کردار کے حوالے سے جیسے بھی ہوں ان کا احترام لازمی قرار دیا جا چکا تھا دوسری طرف اگر انقلابی جد وجہد کے تقاضوں کو لیا جائے تو اس میں انقلاب دشمن جو بھی ہو جس حیثیت و مقام کا مالک ہو اس کا محاسبہ ضروری ہوتا ہے، ایمانداری سے اگر یہاں بھی ہم نظر دوڑایں تو ہمیں انقلاب کے خدمتگار کم اور روایات کے پاسدار زیادہ ملیں گے، بد قسمتی کچھ تو دونوں کو ہاتھ میں سجائیں آزادی کی نوید لئے پھرتے ہیں ، اب یہی روایتی ذہنیت ہمیں بلوچ سیاست میں قومی جہد کو لیکر انقلابی تقاضوں کی پاسداری سے ڈرا دھمکا کر خاموش کرانے کی بے ہودہ کوششوں میں لگی ہوئی ہے ، خاندانی، قبائلی رشتے ، قبائلی و علاقائی تعلق داری، گروہی و پارٹی مفادات ، علاقائی قبائلی مفادات، گروہیت کو لیکر نمود و نمائش کا خمار ذاتی تعلقات ، کیا یہ سب بلوچ قومی تشکیل کو لیکر قومی وحدت و قوت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ؟؟
اور جب قومی وحدت و قوت کے حصول کیلئے برائے راست رکاوٹیں دور کرنے کی جہد ہو تو کیا ان تمام کا متاثر ہونا یا ان کا خاتمہ لازمی نہیں ؟
اگر یہ ہمارے قومی جد وجہد کیلئے حقیقی امر بن چکے ہیں تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ آپ اپنے مقصد کو لیکر قومی حوالے سے جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ درج بالا ذکر کئے گئے تمام کو رد کرکے دو قدم آگے کی طرف نکل جانے سے حاصل ہوگا۔
کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اوپر بیان کئے گئے تمام روایتی اجزاء کو تقویت فراہم کرکے ہم قومی تشکیل کو لیکر قومی وحدت و قوت حاصل کرسکیں گے؟
میرے حواس کے گرفت میں جس کو میں قومی بدبختی سے تعبیر کروں تو کم نہیں ہوگا پھنس چکا ہے وہ یہ ہے کہ اس جدوجہد کے طفیل بلوچ سماج میں جو بیداری پیدا ہوئی ہے اور بلوچ کی وابستگی ذہنی حوالے سے جس طرح آہستہ آہستہ عملی وابستگی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کو قومی حوالے سے اجتماعی طور پر یکجہتی کی طرف لے جانے کے بجائے جس بے ہودہ انداز میں گروہیت کی طرف لے جایا جا رہا ہے شاید غور کرنے والوں سے ہرگز پوشیدہ نہ ہو ، انقلابی تقاضوں کو لیکر زمینی حقائق کو مد نظر رکھکر ایسے تمام اسباب جو ہمارے قومی جدوجہد کی راہ میں قومی تشکیل ، اجتماعی قوت و مرکزکی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں ان کی نشاندہی ، ان پرتنقید ،ان کے متعلق بحث و مباحثہ یہ ایک سیاسی اور انقلابی حق ہے ، ایسا ضرور ہو کہ ان نشان ذدہ عوامل جن پر تنقید یا بحث مباحثے زور پکڑ رہے ہیں ان کی بنیادیں جھوٹ یا بے بنیاد قصے کہانیوں پر مبنی نہ ہو ۔
اب اتنا شعور تو سیاسی کارکناں ضرور رکھتے ہونگے کہ من گھڑت قصے کہانیوں اور زمینی حقائق میں فرق کر سکیں ، مگر پھر بھی پچھلے تھوڑے سے عرصے میں ا ندورں خانہ کمزوریوں کولیکر فرسودہ خیالات پہ یا اعمال پہ جو تنقیدی سلسلہ شروع ہوا ہے اس کو جان بوجھ کر بد مزگی کے گرد میں ایسا آلودہ کررہے ہیں تاکہ ان کمزوریوں سے تعلق رکھنے والے حقائق آشکار ہی نہ ہو، جن دوستوں نے قومی سیاست کے نام پہ اپنی اپنی چھوٹی سی دنیا بنا رکھی ہیں ان سے قطع نظر اجتماعی قومی فکر رکھنے والے کارکناں اجتماعیت میں نقب زنی کیسے برداشت کرہینگے کیونکہ کوئی بھی پارٹی تنظیم قومی سیاست کو لیکر بلوچ سماج میں جد وجہد کررہا ہے اگر اس کی پالیساں اور افعال و اعمال قومی جہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہونگے تو ان پہ سوال ضرور اٹھیں گے، ایسے حالات میں ایک سوال بہت خوبصورتی سے میک اپ کرکے اڑایا جاتا ہے کہ یہ ہمارے پارٹی معاملات میں مداخلت ہے ، اور آگے چل کر زرا تبدیلی کے ساتھ یہ سوال کہ آپس میں مل بیٹھ کے ان مسائل کو حل کیا جائے ، عوامی سطح پر ان کا ذکر یا بحث قومی انتشار کا باعث ہوگا ۔
قومی جہد کے تقاضوں کو اگر مد نظر رکھ کر ان سوالات کی حقیقت کو موجودہ زمینی حقائق میں تلاش کریں تو یہ واضح ہے کہ کوئی بھی پارٹی برائے مقصد ہے ناکہ پارٹی ، از خود مقصد ہے ( مقصد کے بارے جو ذکر اوپر ہوا اسکو آپ مد نظر رکھیں) پارٹی کی وضاحت اس کے دائرہ کار ، اداروں کے سیاسی ، نیم سیاسی ہونے پارٹی کیلئے قومی ، انقلابی یاگروہی ہونے سے قطع نظر یہ دیکھتے ہیں کہ کیا جب آپ کے پارٹی کے ادارے بن رہے تھے تو ان میں مداخلت ہو رہی تھی ؟؟ اب تک اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ، کیا جب آپ اپنے پارٹی کیلئے پالیساں بنا رہے تھے تب مداخلت ہورہی تھی؟؟ میری ناقص رائے کے مطابق اس بارے بھی کوئی وضاحت نہیں ۔
کیا جب آپ ان پالیسوں کو عملی جامہ پہنا رہے تھے تب مداخلت ہورہی تھی؟ اس کی بھی کوئی وضاحت نہیں ، اصل حقیقت تویہ ہے کہ جب وہ پالیساں عمل کے دور سے گزر کر سرزد ہوچکے ہوتے ہیں اور اپنے اندر موجود بہت سے تضادات کی نشاندہی کرتے ہیں تو ان پہ سوال یا تنقید پارٹی کے اندرونی معاملات میں کیسے مداخلت ہو سکتا ہے؟؟ مجھے یاد نہیں کہ اس بارے میں بھی کوئی وضاحت ہوئی ہو
کیا ا ب اس کی وضاحت کسی پارٹی کی طرف سے ہوگی،؟؟ اس کیلئے بھی میرے ہاں کوئی آس و امید نہیں۔
بحث عوامی سطح پہ پہ ہو یا محدود سطح پہ اداروں میں ہوں یا شخصیات کے بیچ، انکے تخلیقی اور ثمر آور ہونے کیلئے بحث مباحثوں کو پایہ تکمیل تک لے جانے والوں کے سوچ اور رویوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے تو اس سوال کی حقیقت پر غور کرنے کیلئے ہمیں اپنا مقصدکو اس کے پورے حجم و تقاضوں کے ساتھ مدنظر رکھنا ہوگا قبائلیت سے قومی تشکیل کے سفر اور قومی وحدت و قوت کے حصول سے متضاد خیالات و اعمال جن کی متعدد بار نشاندہی ہوچکی ہے، ان کی حقیقت ہونے کا موجودہ سیاسی منظر نامہ ازخود ایک ثبوت ہے باریک بینی سے غور کریں تو پچھلے تمام عرصے میں قومی جہد سے منسلک تمام کے تمام شخصیات، تنظیمیں اور پارٹیاں جو اپنے حوالے سے متحرک رہے ہیں ان کے اعمال کے نتائج کو لیکر آج جو کچھ بھی ہمارے سامنے ہیں تعمیری حوالے سے یا پھر تخریبی حوالے سے یہ سب کچھ ان ہی کا حاصل حصول ہیں ، اس کیلئے تو کوئی اور ذمہ دار ہو ہی نہیں سکتا ، کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے حقیقی اسباب و وجوہات بھی ان ہی حضرات کے بیچ موجود ہیں، تو ان حقیقی اسباب کے پہچان اور تدارک کیلئے ٹٹولنا بھی ان ہی حضرات کو پڑے گا ، کیونکہ اس میں کوئی شک ہی نہیں رہا کہ موجودہ تمام پیچیدہ مسائل اور ان کے اسباب ہمارے جدوجہد کے بیرونی پہلو یعنی قابض سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان تعلق اندرونی اہم اور بنیادی ستون بلوچ سے ہے ، بد قسمتی سے وہ انقلابی اور سیاسی اخلاقی جرات بھی نا پید ہے جس کا مظاہرہ ( اپنے طور حقائق کو تسلیم کرتے اور ا ز سر نو تمام معاملات کا تشکیل نو کی کوششیں کرتے ) کرکے حقیقی رخ کی طرف اپنے سمت کی درستگی کی جاتی یا تو اخلاقی جرات کے بجائے سیاسی منظر نامے کو ایسے شرم ناک کردیا گیا کہ وہ ہر مخلص بلوچ جہد کار کیلئے باعث شرم لگنے لگا ہے۔ہر مثبت اور بہتر خیال جو پالیسی بن کر افراد گروہ یا پارٹیوں کے ذریعے عمل سے گزر کر ناکام یا زوا ل پذیر ہوتا ہے اس کے ناکامی کے اسباب و وجوہات کی پہچان کیلئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر ان افراد گروہ یا پارٹی و تنظیم کے بیچ تنقیدی شعوری حوالے سے تجزیاتی جائزے سے حقائق تک رسائی حاصل کی جاتی ہے تاکہ آئندہ کیلئے ان کی کامیابی کو ممکن بنایا جا سکے، اس عمل کو اپنے لئے شغان سمجھنے والے یا پھر اپنے خلاف پر و پنگنڈہ سے تعبیر کرنے والے یا پھر اپنے خلاف منظم سازش سمجھنے والوں سے معذرت ہی ہو سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ 

پیر، 9 ستمبر، 2013

ٹارچر



(چند عمومی اور نفسیاتی پہلو )

تحریر۔۔۔ فرنانڈوزاچیرسن
............................................................




اس مضمون میں ریاستی سیاسی ایذارسانی کے کچھ عمومی اور خصوصی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے جن کا استعمال کئی لاطینی امریکی ممالک میں کیا جاتا ہے تاکہ آمرانہ تسلط کو قائم اور تبدیلی کو روکا جاسکے۔نیز ایسی ایذا رسانی کے مقاصد،طریقہ کار اور اثرات پر بھی بحث کی گئی ہے۔مضمون میں اُن چند عوامل کی بھی وضاحت کی گئی ہے جو ایک شخص کو ایذارساں بنانے میں مدد دیتے ہیں۔خود ایک ایذارساں کن تضادات کا شکار ہوتا ہے اور ان تضادات کو حل کرنے کے لئے وہ کن نفسیاتی حربوں کو استعمالکرتا ہے ۔ان امور کا بھی اس مطالعۃ میں جائزہ لیا گیا ہے دوسرے لفظوں میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حقیقتاً ایذارساں کون ہے؟
ہم ایذارسانی کی تعریف یوں کرسکتے ہیں کہ یہ تشدد کی وہ شدید اور سوچھی سمجھی صورت ہے،جس میں سے گزرنے والا شخص اُسے شعوری طور پر محسوس کرتا ہے۔مگر اس کا تشدد کے اس تجربے کی نہ تو نوعیت پراور نہ ہی دورانیے پر کوئی کنٹرول ہوتا ہے۔اس سے تکلیفدر اور ذہنی و نفسیاتی دباؤSTESSپیدا ہوتا ہے جس کا مقصد اُس شخص کی قوت ارادی کو توڑنا ہوتا ہے تاکہ قوت و اختیار کے نظام کے متعین کردہ تعلقات کا تسلسل یقینی بنایا جاسکے۔جب یہی طریقے ایک ریاست قوم کے افراد کو مغلوب کرنے کے لئے اختیار کرتی ہے تو اسے ریاستی ایذارسانی کہا جاسکتا ہے۔لیکن جب ان ہتھکنڈوں کا بنیادی نشانہ وہ شہری ہوں جو ریاست کی جانب سے بنائے ہوئے رشتوں کے نظام کے مخالف ہوں یا جن پر مخالفت کا شک ہو تو ہم اس طریقہ کار کو ریاستی سیاسی ایذارسانی قراردے سکتے ہیں۔ براعظم امریکہ کے کئی ممالک میں ایذارسانی کا استعمال انتظامی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے لیکن چلّی، یوروگوائے،ارجنٹائن ،پیراگوئے،ایل سلواڈور اور گوئٹے مالا پچھلے دس سال میں خصوصی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ان ممالک میں ہزاروں شہریوں کو جو اپنی حکومتوں کے مخالف ہیں،ایذارسانی کے نیم خفیہ مراکز میں ایذادی جاتی رہی ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔یہاں اذیت کے تقریباً ایک جیسے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ایذارسانی کے لئے لوگں کی شناخت اور چناؤ فوج کے مختلف شعبے کرتے ہیں اور پھر انہیں سادہ لباس میں ملبوس مسلح افراد اغواء کرلیتے ہیں،جن پر کسی قسم کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ان افراد کو خفیہ جیلوں میں لیجایا جاتا ہے جہاں سے بہت کم لوگ زندہ باہر آتے ہیں کہ اپنی کہانی سناسکیں۔
اس ایذا رسانی کا مقصد کیا ہے؟ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کا مقصد معلومات حاصل کرنا ہو لیکن اگر ہم ایذا کے طریقہ کار کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان ممالک میں ایذا رسانی کس طرح ریاست کے ایک نیم خفیہ ادارہ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے تو پھر ہمارے لئے یہ باور کرنا مشکل ہوگا کہ اس کا مقصد محض معلومات حاصل کرنا یایا اقرار جرم کرانا ہے۔ہم کس طرح اس بات کا یقین کرسکتے ہیں کہ معلومات کے حصول کے لئے کسی حاملہ عورت کی چھاتیاں اور جنسی اعضاء جلائے جاسکتے ہیں۔اس کی بچہ دانی پر بجلی کے جھٹکے دیئے جاسکتے ہیں۔تاکہ بچہ ضائع ہوجائے یا بچہ کے دماغیں چوٹ آجائے۔یا کان کے پردے میں تیز دھاری ٹکڑے ڈالے جاسکتے ہیں پھر ان تشدد آمیز کاروائیوں کے ظالمانہ پہلو سے قطع نظر،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ طریقوں یا دواؤں کے استعمال کے ذریعہ کرلیا جانے والا اقرار جرم خود کتنا قابل اعتبار ہوسکتا ہے دراصل اس سفاکی کا خاص مقصد فرد کی انسانیت کو ختم کرنا نظر آتا ہے جبکہ عمومی مقصد مخالفت کی روک تھام کی کوشش ہے۔تاکہ خوف کے ذریعے اقتدار کو جاری رکھا جاسکے۔
تعریف کی رو سے ایذا رسانی میں کم از کم دو افراد کوملوث ہونا ضروری ہے،ایک اذیت رساں جو اپنی جگرانی اور قبضے میں آنے والے فرد پر ایذا رسانی کے طریقے استعمال کرتاہے تاکہ اس کو ہر ممکنہ حد تک اطاعت پر مجبور کرسکے اور دوسرا وہ شخص جس کو اذیت دی جاتی ہے اور جو اس حالت میں ہوتا ہے کہ فوری طور پر تشدد کی مزاحمت سے بھی معزور موتا ہے۔ذیل کے حصوں میں ہم ایذارسانی کے طریقوں اور اذیت رساں اور اس کے عمل کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔
ایذا رسانی کی طریقے:
جب ایذارسانی ریاستی پالیسی کا حصہ ہوتو پھر افراد کے مورال اور جسمانی سالمیت کو ختم کرنے کے بہت سے طریقے وجود میں آجاتے ہیں،فردکو توڑنے کے لئے پرانے اور جدید دونوں طرح کے طریقوں اور تکنیک کا ستعمال کیا جاتا ہے چاہئے وہ جسمانی خرابی کے ذریعے ذہنی افعال کو ضرر پہچانا ہو یا ذہنی دباؤ میں اضافہ کرنا ہو۔
ایذاکب اور کیسے دی جائے،یہ ایسی چیز ہے جو مقامی اور بین الاقوامی تجربات سے طے پوچکی ہے کبھی کبھی اس کی مدد جدید طب اور ریسرچ کے نتائج سے بھی کیجاتی ہے جس میں ڈاکٹر بھی براہ راست شامل ہوتے ہیں۔ایسی تصدیق شدہ رپورٹیں موجود ہیں جن کی رو سے ایذارسانی کے وقت ڈاکٹروں نے اس پورے عمل کی نگرانی کی اور اس نگرانی کا مقصد یہ ہے کہ ایذارسیدہ شخص بے ہوش نہ ہو اور نہ ہی تشدد کی سختی کی بناء موت کے منہ میں چلاجائے ایسے ڈاکٹروں کا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ایذارسیدہ فرد پر زیادہ سے زیادہ ذہنی دباؤ ڈالا جائے اور اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جائیں۔
ایذارسانی کے لئے سائنسی نکتہ نظر کو کئی لوگوں نے بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔حال ہی میں’’ جرنل آف میڈیکل ایتھکس‘‘ میں ایک مضمون’’ایذارسانی کی اجازت پر‘‘ چھپا جس میں جی او جونز نے ایذارسانی کی حمایت میں دلائل دیئے ہیں۔نظریہ ضرورت کی بنیاد پر اس کا دفاع کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے: 
’’ اس سے(ایذارسانی ) موت واقع نہیں ہونی چائیے اور جدید ترین دستیاب میڈیکل تکنیک کو ضرور استعمال کرنا چاہئے تاکہ غیر ضروری نفسیاتی جسمانی نقصان نہ ہو صرف اتنی تکلیف دینے کی ضرورت ہے جس سے معلومات اخذ کی جاسکیں۔‘‘اور پھر مزید واضع بنیاد ذہنیت کے ساتھ جب وہ ایذارسانی کی مناسب قیمت و منافع COST BENEFIT RATIOبحث کرتا ہے(جس کا وہ شمسی توانائی سے مقابلہ کرتا ہے جو لمبی مدت میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے) اور جسے وہ انسانیHUMANEایذارسانی کہتا ہے،وہ مزید لکھتا ہے:
’’ٹیکنالوجی اتنی اعلیٰ سطح پر ہے کہ ہم دماغ کے کچھ مرکزوں کو اس طرح چھیڑ سکتے ہیں کہ اُسے جودرد پیدا ہوگا اس سے کوئی جسمانی خرابی یا برے جسمانی اثرات نہیں پیدا ہوں گے۔‘‘
جونزا ایذارسانی کے جس طریقے کی بات کرتا ہے اُس میں بظاہر بجلی کے جھٹکے یا مائیکروسرجری سے دماغی مرکزوں کو چھڑنا شامل ہیں۔وہ جان بوجھ کر یہ نظر انداز کرجاتا ہے کہ صرف اس کے نظر آنے والے نتائج ہی نہیں بلکہ ایذا رسانی بذات خود ایک خوفناک تجربہ ہے۔جونز جس بات پر پریشان ہے وہ ہیں عوام یا ایذارسانی کے مشاہداتی ثبوت،نہ کہ اس سے کہ وہ کس چیز کی نمائندگی کرتی ہے اور نہ ہی اُسے ٹوٹی ہوئی خودی اور ایذیت زدہ افراد پر مسلط کردہ نئے تعلقات کی پرواہ ہے ایذارسانی ایک ٹوٹ پھوٹ کا تجربہ ہے جو بچ نکلنے والے کے ساتھ ساری عمر رہتاہے اور اُسے جسمانی یا افعالی پہلوؤں سے زیادہ متاثر کرتا ہے جس کی وضاحت ہم بعد میں کریں گے جونز کا یہ کہنا ہے کہ صرف اتنی تکلیف دی جائے کہ معلومات حاصل کی جاسکیں بہت بھولپن کی نشاندہی کرتا ہے۔کیا کوئی اذیت رساں کبھی یہ بات ماننے کو تیار ہوگا کہ اُس نے اپنے زیر تشدد شخص پر اس کی برداشت سے زیادہ تشددکیا؟
ایذارسانی کی مختلف طریقوں سے پیدا کی جانے والی تکلیف اور دباؤ کی کیفیات مختلف النوع اور غیر متوقع ہوتی ہیں۔اس طرح اذیت زدہ کی یکساں انداز یا مختلف شخصی رویے اپناکر تکلیف کو بہتر طور پر برداشت کرنے کی کوشش ناکام ہوجاتی ہے۔لاطینی اوروسطی امریکہ کے چھ ممالک میں ایذارسانی کے طریقے اور تکنیک اکثر ایک جیسی ہی ہوتی ہیں یہاں تک کہ ایذارسانی کی اشکال کے نام بھی وہی ہیں۔ بین الاقوامی امداد باہمی کی اس صورتحال کا اندازہ مندرجہ ذیل جدول سے ہوسکتا ہے۔
ایذارسانی کے طریقے : 
-1ماحولیاتی حربے: سماجی محرومی (خاندان اور دوستوں سے علیحدگی) ۔تنہائی (رفاقت،جنس ،کام سکون اور کھانے میں کمی)۔
حسیاتی محرومی یا زیادتی(قید تنہائی،شور ،انعکاسی شیشے وغیرہ)۔
نیند سے محرومی۔
-2ادویات کے حربے:
خمار والی دوائیاں اور باربی چوریٹ کے انجکشن۔
ایل ایس ڈی یا ایسی ہی دوائیں۔
ایپومارفین(مافیا کا توڑ کرنے والی دوا)۔
سائیکلو فاسفے سائیڈ(جلادینے والے کیمیکل)۔
پٹھوں کو اکڑادینے والی دوائیاں۔
-3جابرانہ حربے:
دوسرے لوگوں پر ایذا رسانی کومجبوراً دیکھنا یا سننا (دوست ،رشتہ دار ،بیوی / شوہر ،بچے)جھوٹے الزامات۔
کبھی کبھار غیر معمولی طور پر انتہائی شفقت آمیز رویہ اختیار کرنا اور پھر دوبارہ تشدد کا آغاز کردینا۔
-4جسمانی طریقے:
جبری طور پر کھڑے رکھنا ،ایک مخصوص پوزیشن میں دیر تک اور عموماً بغٖیر کپڑوں کے کھڑے رکھنا) ٹھنڈا پانی ڈالنا یا اس میں ڈبودینا۔
لوئے کے سلاخوں ،ربڑ کے کوڑوں ڈنڈو سے مارنا اور پیٹنا۔
فاقہ زدگی۔غذا اور پانی سے محرومی۔
قاطع اعضاء جسم کے مختلف حصوں کو علیحدہ کردینا،ہڈیاں توڑدینا۔
جنسی ایذا۔کپڑے پھاڑنا،جسم کو محسوس کرنا،آبروریزی کی کوشش۔
آبروریزی،ایذارسیدہ فرد کی آبروریزی یا اسے ہم جسنی پر مجبور کرنا۔
بجلی۔انکھوں ،دانت،سرجنسی اعضاء،مقعد پر بجلی کے جھٹکے لگانا،الیکٹرک بسترپر لٹانا۔
آگ۔مثلاً ویلڈنگ کرنے والی ٹارچ کو آنکھ ،سرجنسی اعضاء پر استعمال کرنا۔
-5نفسیاتی حربے:
بے عزتی کرنا،جھوٹے الزامات،گندی اور دھمکانے والی زبان،پھانسی کی دھمکیاں نمائشی پھانسی۔
اذیت زدہ کے سامنے اُس کے خاندان یا دوستوں کو ماردینا۔
دوسرے لوگوں کی ایذا رسانی کی وڈیو یا آڈیوٹیپ جس میں رشتہ داروں، بیوی، شوہر اور بچوں پر ایذا بھی شامل ہے،اذیت زدہ کو سنوانا۔
اپنے دوستوں،بیوی/شوہر،رشتہ داروں کی آبروریزی ہوتے دیکھنا۔
مخصوص طریقے:
’’آب وند‘‘ یا علاج زیر آب‘‘ ایذا رسیدہ شخص کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنا سر کسی حوض یا بالٹی میں ڈالے جو فضلے،پیشاب اور پانی سے بھری ہوتی ہے۔
’’کلاہ‘‘ بندے کے سرپر زبردستی ایک پلاسٹک کا تھیلا چڑھادیا جاتا ہے جس میں اکثر کیڑے ماردوائی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔
’’ٹیلی فون‘‘ پیچھے سے دونوں کانوں پر ایک ساتھ پٹائی کرنا۔
’’طوطے کی شاخ پہ بیٹھنا‘‘ایذا رسیدہ شخص کی کلائیاں اور ٹخنے ایک ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر جسم گھٹنوں کے نیچے ایک لوہے کے تار کے ذریعے لٹکادیا جاتا ہے جس سے سارا جسم اوندھا اور ناقابل مدافعت ہوجاتا ہے۔اس پوزیشن میں بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ہیں اور گندہ پانی منہ میں ٹھنسا جاتا ہے۔
’’کتے کا کھتنہ‘‘زیر تشدد شخص کو زمین سے کچھ فٹ اوپر بازوؤں کے ذریعے لٹکادیا جاتا ہے جو کمرکے پیچھے بندھے ہوتے ہیں۔
’’کنٹا یالٹکایا‘‘ زیر تشدد فرد کو کمرے کے گرد ایک رسے سے باندھ کر لٹکا دیا جاتاہے جبکہ اس کے ہاتھ کے پیچھے بندھے ہوتے ہیں۔
’’مٹریوں کی صدی‘‘ اس صدری کو آہستہ آہستہ پھلایا جاتا ہے یہاں تک زیر تشدد شخص کی سینے کی ھڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں اور سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔
’’پی کاڈا‘‘ ایک لمبی سوئی کو عموماً ایذا رسیدہ شخص کے ناخنوں کے نیچے گھسادیا جاتا ہے۔
ایذا رسانی کے اثرات:
کتنی انسانیت 
اب درد ،دہشت اور خوف میں ہے۔
ہم چھ تھے
جوخلاء میں ستاروں میں کھوگئے۔
ایک مرگیا،ایک کو اتنا مارا گیا کہ مجھے یقین نہیں آتا۔
کہ انسان کو اتنا مارا پیٹا جاسکتا ہے۔
باقی چار خوفوں سے بھاگنا چاہتے ہیں
ایک خلاء میں چھلانگیں لگاتا ہے
اور باقی دیواروں سے اپنا سرپھوڑتے ہیں
سب کی نظروں میں موت منجمد ہے۔
فوج اپنا کام بہت تیکھے پن سے کرتی ہے۔
خون اُن کے لئے تمغہ ہے۔
اور قتل عام،مردانگی وبہادری کا نشان 
وکٹر حارا کا نغمہ
اذیت زدہ کے لئے ایذا رسانی وجود کی بہیمانہ تباہی کی علامت ہوتی ہے جو یقیناًبچ نکلنے والے اور اس کے سماجی حلقے میں دائمی نشان چھوڑ جاتی ہے۔خوف ،شرمندگی،بے عزتی کا خیال اور جسمانی اذیت کیسے اور کس حد تک اذیت زدہ پر اپنا نشان چھوڑدیں گی ،ایسی بات ہے جسے عمومی انداز میں نہیں دیکھا جاسکتا۔اذیت کا شکار ہونے والے کی شخصیت کی ساختی خصوصیت بہت اہم ہیں۔ اذیت زدہ کا اپنا واضع پن اور حوصلے کی مضبوطی،مقصد کا اداراک کو مٹ منٹ اور نظام کے خلاف نفرت بھی جو تکلیف کا باعث بنتی ہے لیکن ایسے شخص پر ایذا رسانی کے اثرات اس بات پر بھی منحصر ہوتے ہیں کہ اُس پر کتنا دباؤ ڈالا گیا ہے یعنی اس کی شدت اور دورانیہ کیا تھا۔
تکلیف کا اندازہ صرف جسمانی نقص ،کمی یا خرابی سے نہیں کیا جانا چاہئے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اس تجربے کی جذباتی اہمیت کیا ہے جس سے تشدد کا نشانہ بننے والے کی باقی ماندہ زندگی میں بڑی تبدیلی آجاتی ہے۔ ایذا رسانی سے گھبراہٹ و بے چینی،سوچنے میں مشکل،اپنی نظر میں گرنا ،سماجی میل جول میں کمی،پیداواری صلاحیت میں کمی اور مقاصد سے دستبرداری پیدا ہوتی ہے۔وہ لوگ جو مزاحمت نہیں کرپاتے اور ٹوٹ جاتے ہیں،مزید خطاداری اور مایوسی اُن کا انتظار کرتی ہے۔
امراض نفسیاتی کی نکتہ نظر سے ایذا رسانی شدید دباؤ کی صورتحال کو پیش کرتی ہے جو واضح طور پر گھبراہٹ وبے چینی کو جم دیتی ہے جو صرف درد اور شرم و ذلت سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اُس میں بے یقینی کو جتم دیتی ہے جو صرف درد اور شرم و ذلت سے نہیں پیدا ہوتی بلکہ اُس میں بے یقینی کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ ایذا رسانی کے زیر اثر فنا ہوجانے کا خطرہ سر پر منڈلاتے ممکنہ امکان سے زیادہ ہوتا ہے،بلکہ شروع ہوچکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اذیت زدہ کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کیسے اور کب اور کیا واقعی فنا کرنے کا عمل مکمل ہوگا۔امراض نفسیات کی زبان میں، ایذا رسانی کے بعد ازاثرات کی علامتوں بشمول غیر معمولی نوعیت اور عمومی انسانی تجربے سے باہر کے نفسیاتی حادثاتی واقعات کو بعد ازحادثاتی دباؤ کے عوارض کا نام دیا جاتا ہے۔مختصراً یہ عوارض ایک ایسی صورتحال کو پیش کرتے ہیں جس سے خودی میں تخریف اور انتشار پیدا ہوتا ہے اور اس طرح فوری یا پرانی علامات کا مجموعہ بنتا ہے جس کی خصوصیات یہ ہوتی ہیں۔
۱۔حادثاتی واقعہ کی بے جاتکرار اور خوفناک خواب جس میں واقعہ دوبارہ ہوتا محسوس ہوتا ہے۔
۲۔تحلیلی حالتDISSOCIATIVE STATEجومنٹوں سے دنوں پر محیط ہوسکتی ہے جس میں وہ شخص ایسے برتاؤ کرتا ہے جیسے حادثہ رونما ہورہا ہو۔
یہ ایسے وقت ہوتا ہے جب ماحول میں یا کسی خیالی محرک نے پرانے واقعہ سے کوئی نسبت جوڑدی ہو۔
۳۔جذبات میں کھنچاؤ،گردوپیش کے حالات پر ردعمل میں کمی اور دوسروں سے بیگانہ محسوس کرنا۔
۴۔غیر ضروری چوکنا پن،حد سے بڑا ہو بدحواسی ردعمل،بے چین نیند کمزور یادداشت وغیرہ۔پھر بھی جیساکہ مشاہدہ کیا گیا ہے،انسان کی پیدا کردہ تباہی سے مثلاً ایذا رسانی سے پیدا کردہ علامات دوسرے دباؤ کے مقابلے میں شدید اور نتائج کے اعتبار سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں اور قبل از موت کو جنم دے سکتی ہے۔
اگرچہ سارے محقق اس بات پر متفق نہیں ہیں لیکن کچھ تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ایذا رسانی سے پیدا ہونے والے نفسیاتی اثرات کو بذات خود ایذا رسانی علامتی مجموعہTORTURE SYNDROMEکہا جاسکتا ہے۔ ایذا رسانی کے نتیجے میں انسانی جسم اور ذہن پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں ہمارا علم بڑی حد تک محدود ہے کیونکہ تشدد کے نتیجے میں ہونے والی نفسیاتی اور جسمانی تبدیلیوں کے بارے ابھی بہت کچھ تفصیلات واضع نہیں ہوئی ہیں۔ ایذا رسانی کے طویل المدت اثرات پر تحقیقات بھی تقریباً ناپید ہیں۔اگرچہ ڈنمارک کے ایک حالیہ مطالعہ نے جو ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایما پر کیا گیا تھا کچھ خیالات اُبھارے ہیں۔اس مطالعہ میں135اذیت زدہ افراد کا طبی اور ذہنی معائنہ کیا گیا۔تحقیق کے مطابق معائنہ کے وقت جو ایذا رسانی کے چھ ماہ سے ایک سال بعد کیا گیا،90فیصد افراد نے مختلف علامتوں کا اظہار کیا جو ایذا رسانی کے ساتھ یا بعد میں شروع ہوئیں ۔ان میں 75فیصد نے نفساتی امرا ض کی علامات پیش کی ہیں جن میں کمزور یادداشت،توجہ مرکوز کرنے میں خلل، ذہنی تبدیلیاں،نیند میں جنسی افعال میں خرابی شامل ہیں۔تمام افراد گرفتاری سے پہلے بالکل ٹھیک تھے۔دوسری طرف آلوڈی اورکاؤگل نے ایذا رسانی کے 41معاملات کی تفتیش کی اس تفتیش کا محور اُن ہزاروں پناہ گزینوں میں سے منتخب افراد کو بنایا گیا ہے جو ایک مخصوص لاطینی امریکی ملک سے تعلق رکھتے تھے اور جنہوں نے کینیڈا میں سکونٹ اختیار کی تھی۔تحقیق میں ایذا رسانی کے شکار32مرد اور 9عورتیں تھیں جن کی عمر دس سال سے کم سے لیکر 46سال تک تھیں (اوسط عمر 26-9سال،ان میں سے 25فیصد کو یونیورسٹی ٹریننگ تھی ماسوائے دو عورتوں کی جنہوں نے کل 112مرتبہ جیل کاٹی تھی جومہینوں سے سالوں پر محیط تھی۔ایک شخص پانچ سالوں میں 11مرتبہ جیل ہوا تھا۔ان تمام افراد کو جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی سے گزرنا پڑا۔آلوڈی اور کاؤگل نے نتیجہ اخذ کیا کہ وہ سب ایک ہی جیسے نفسیاتی عارضے میں مبتلا تھی جس کی علامت شدید گھبراہٹ و چینی،نیند میں کمی،جبرے متعلق خواب یا اُن کا اپنا ایذا رسانی کا تجربہ،جسمانی علامات،بے جا خوف شک اور ڈر ہیں۔اپنے تجزئیے میں انہوں نے یہ اخذ کیا کہ شخص نظریاتی تیاری ،لگاؤ اور گروپ کا سہاراایذا رسانی سے نفسیاتی صحت یابی کے لئے مثبت نسبتی تعلق رکھتے ہیں۔
بعض اوقات باقی باندہ علامتیں SEQUALعضو یا افعال میں ایسی خرابی پیدا کرسکتی ہیں جو ایذا رسانی کا براہ راست نتیجہ نہیں ہوتی۔مثلاً لنڈی،امردوں کے جنسی افعال کا مطالعہ کیا۔انہوں نے دیکھا کہ سریا جنسی اعضاء پر چوٹ یا ایذا رسانی کی شدت سے آزاد 19فیصد لوگوں نے جنسی افعال میں گڑبڑ کی شکایت کی جو خواہش میں کمی یا خیزش میں خلل پر مشتمل تھی جبکہ دماغی یا جنسی کی ہارمون میں کوئی کمی نہ تھی۔ایک اور مطالعہ میں جنسن،حنسیفکی اور دوسروں نے پانچ افراد میں جن کی عمریں چوبیس سے انتیس سال کے درمیان تھیں جو شرابی نہ تھے اور پہلے بالکل مند تھے، دماغ اورپری جھلی یا مرکزی حصے میں ناکارہ پCORTIACALORCENTALکمپیوٹرائزڈ ایکذئیل ٹوموگرافیCOMPUTRISED AXIAL TOMOGRATHYکے ذریعے دیکھا۔
یہ افراد شدید اور لمبے درد،گھبراہٹ ،اُداسی ،کمزوری،نیند کی گڑبڑ ،ذہنی تھکن آنکھوں میں درداور کمزوری جنسی افعال میں گڑبڑ کی علامتیں کئی سال تک موجود ہیں۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ ناکارہ پن کی تبدیلیاں سر پر چوٹ کی وجہ سے نہیں ہوتیں،ایک ممکنہ طریقہ کار جس سے یہ علامتیں ہوسکتی ہیں وہ ہے شدید اور طویل المدت ایذا رسانی کے نتیجے میں کورتی سول CORTISOLہارمون کی زیادتی۔
ایذیت رساں:
’’ہم نے اُن تمام(سیاسی قیدیوں)کی قتل کرنے کی جسارت نہ کی جبکہ ہم یہ کرسکتے تھے اور ایک دن تو ہمیں انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔لیکن ہمیں اس دستیاب وقت کا فائدہ اُٹھانا ہے تاکہ انہیں پاگل بناسکیں۔‘‘
میجر آگومیڈس میچل ڈائریکٹر آف لیبر ٹاؤجیل،یوروگوائے۔
جب ایسے انسانی رویے سے سابق پیش آئے خصوصاً جب کہ وہ بہت منفی خصوصیت کا حامل ہوتا ماہرین نفسیات اور اس میدان سے تعلق رکھنے والے دوسرے لوگ اس کی جڑیں بنیادی طور سے فرد میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں یا بہت ہوا تواس کے آس پاس کے ماحول میں اس تنگ نکتہ نظر سے اذیت پسند ،معاشرت دشمن طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔جو والدین کی ناقص تربیت ،اپنی جذباتی محرومی پر ناراضگی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یا مزید تخفیفی REDUCTIONISTکے حوالے سے جنسیاتی GENETICکمی یا دماغ میں کچھ کیمیائی توازن میں گڑبڑ کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس اندرونی نظام فہم INTRESYSTEMATIC OFRIENTATONک امسئلہ یہ ہے کہ یہ سییت یا علیتCASUALITYکو کسی ایک یا کچھ عناصر سے جوڑتی ہے جبکہ معاشرتی ومعاشی حالات کو یا تو بالکل خاطر میں نہیں لاتی یا انہیں صرف اکثیرالوجوہات سبیبتMULTIDETERMINED CASUALITYمیں عناصر کا مجموعہAGGREGATE FACTORSقرار دیتی ہے۔معاشرتی و معاشی نظام اور اس سے بننے والی کلچر ایک بنیادی عنصر ہے جو تاریخ کو بنایا(اور اس سے بنتا بھی) ہے۔جو ترجیحات طے کرنا ہے اور ماحول میں تبدیلیاں لاتا ہے۔
جارحیتAGGRESSIONکا ماخذ فرد یا اُس کے قریبی خاندان میں تلاش کرنے کا نظریہ دراصل مسئلہ کے تنقیدی جائزے سے پہلو تہی کرتا ہے یہ نظریہ اُن معاشروں کی تاریخ کو نظر انداز کرتا ہے جہاں جارحانہ رویوں کو پسندیدہ تصور کیا جاتا ہے ،جنگی ہیروں کی مدح ہوتی ہے اور جہاں تباہی وبربادی کی قوتوں کی موجودگی کو امن کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں جس شخص کا ہم مطالعہ کرنا چاہتے ہیں اُس کے لئے ہمیں فرد اور اُ س کے قریبی خاندان سے باہر بھی جانا ہوگا اور ان حالات کا جائزہ لینا ہوگا جو معاشرے میں عمومی طور پر پائے جاتے ہیں اور جن کو تشدد آمیز کاروائیوں سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔سیاسی اذیت رساں دراصل معاشرے ،فوج اور قوم کے فائدے کے نام ہی پر تشدد کرتا ہے۔وہ اکیلا مجرم نہیں ہے جیسا کہ ہمارا ضمیر یقین کرنا چاہتاہے،وہ ایک منظم گروپ کا ممبر ہے جو نیم خودمختارانہ طور پر عمل کرتا ہے لیکن حکومت کی مختلف شاخوں کی رہنمائی میں وہ ایک بڑے جال کا حصہ ہے جو طاقت کو قائم رکھنے اور تسلط کو جاری رکھنے کے لئے بنایا گیا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی اذیت رساں بن سکتا ہے۔جواب سیدھا سادہ سا دانہیں ہے۔شاید مندرجہ ذیل کلاسیکی تجربہ اس گومگوکی کیفیت کو بہتر طور پر بیان کرسکے۔چند سال پہلے ایس میلگرم نے ییل YALEیونیورسٹی کی تجربہ گاہ میں تابعداری کر کرداری مطالعہ BEHAVIORAL STUDY OF OBEDIENCYکے نام سے ایک تجربہ کیا۔تجربے سے 40رضاکار شامل تھے جنہیں یقین دلایا گیا کہ وہ ایک ایسے تجرباتی مطالعے میں حصہ لے رہے ہیں جو یادداشت اور سیکھنے کے عمل LEARNINGسے متعلق ہے۔
ہر رضاکار کو کہا گیا کہ وہ سیکھنے والے کے غلط جواب پر اُسے بجلی کا جھٹکا دے۔اگرچہ کسی کو حقیقی کرنٹ نہیں دیا گیا لیکن انہیں کہا گیا کہ وہ ایسا ظاہر کریں کہ انہیں جھٹکا لگا ہے تجربہ اس طرح سے بنایا گیا تھا ،سزاکا کرنٹ ایک خاص وولٹیج تک پہنچ جائے تو استاد رضاکار اور طالب علم رضاکار اس طریقے کو ختم کرسکتے ہیں۔لیکن زبانی طور سے اس بات پر ہمت بڑھائی جاتی اور بعض اوقات سختی سے حکم دیا جا تا ہے کہ اگر طالبعلم رضاکار اپنا کام صحیح نہ کرے تو زیادہ وولٹیج کے جھٹکے دئیے جائیں۔4رضاکاروں میں کسی نے بھی تجربے کو اس وقت تک نہ روکا جب تک کہ کرنٹ کی سطح 300وولٹیج تک نہ پہنچ گئی جس پر طالبعلم رضاکار دیواروں پر پیرمارنے لگتے تھے اور کثیر الجواب سوالات کے جواب بالکل نہ دے پاتے۔تجربے کے آخر تک 40سے 26رضاکار 520وولٹ کی حد تک پہنچ چکے تھے۔
یہ تجربہ ہمیں انسانی امکانات کے بارے میں بتاتا ہے اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کس طرح متغیراتVARIABLEکی تبدیلی سے اپنی خواہشات کے برخلاف کام کرتا چلا جاتا ہے۔یقیناًتجربے کے بہت سے پہلو ہیں جن پر سوال کئے جاسکتے ہیں مثلاً حقیقی اذیت زدہ کون تھے؟ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ یہ تجربے کے ماحول کے بارے میں ایک اوسط آدمی شاید یہی یہ سوچ سکے کہ یہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔اس تجربے میں حصہ لینے والے بہت سے کردار اپنے ساتھیوں کو درد اور دباؤ کے باوجود جھٹکے دیتے رہے اور اپنے تضادات سے لڑتے ہوئے سائنس دانوں کی سفارشات کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
اس تجربے سے یہ نکتہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ انفرادی اذیت رساں کو ایک خاص نفسیاتی فتورPSYCHO PATHOLOGYکا نام دے دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ اس قسم کے مشق کو اگر جاری نہ رکھا جائے تو وہ خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔الایہ کہ تشدد کرنے پر فائز شخص خود بھی کوئی سماج دشمن اور مجرم ہو۔
اذیت دینے والا اذیت رسانی کو پیشہ کے طور پر کیونکہ اختیار کرلیتا ہے۔پہلے بات تو یہ اس کے پس منظر میں ایسے معاشرتی اور مادی حالات کا ہونا لازمی ہے جو اس بدمعاشی کے کام کو آسانی سے سہارسکیں دوسرے اس کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ وہ کام کو بہترین اور عزم کے ساتھ کرسکے۔یہ تعلیم اذیت رسانی کے اسکولوں اور بعض اوقات غیر ملکی ماہرین کے ذریعے دی جاتی ہے۔جس کا مطلب نہ صرف اذیت کی تکنیک سے آگاہ کرنا ہوتا ہے بلکہ اُسے نفسیاتی اور نظریاتی طور پر کام کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے۔یہ ذہنی تیاری کیسے حاصل کی جاتی ہے؟سب سے پہلے تشدد کا ہدف بننے والے شخص یا گروپ کو غیر انسانی باور کرایا جاتا ہے۔اس تربیت میں اذیت زدہ کو ایک شے کے طورپر دیکھنا ضروری ہوتا ہے جوکہ ریاست،شماجی طبقے جس کی وہ خدمت کرتا ہے،کا مخالف ہے اور سماج کے لئے اُسے سزادینا ضروری ہے۔اس ضمن میں دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ اذیت دینے کے کام پر فائز افراد کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ جو کھ کر رہے ہیں یا اُس سے جو کچھ کروایا جارہا ہے وہ ملک اور قوم کے فائدے میں ہے۔اس طرح اُن کے بدترین افعال بھی،اخلاقی اصولوں کی شدید خلاف ورزی نہیں کرتے تیسری اہم بات یہ ہے کہ ان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ خود ان کی کاروائیاں ہمیشہ خفیہ رہیں گی۔اس یقین دہانی کے نتیجے میں انفرادی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے البتہ انفرادی خواہش کو تنظیم کے تابع کرنا پڑتا ہے۔تربیت کے ضمن میں چوتھا اہم پہلو یہ ہے کہ انسٹرکٹر پر اسراریت کی فضاء کو پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ طویل المدت لگاؤ اور گروپ کی جذبندی میں مدد ملے۔
اذیت رساں کو اکثر اوقات جھوٹے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔جس سے اُس کی شخصی خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے اور چند کو قائدہ ڈاکٹر کہا جاتا ہے۔اس تربیت کے باوجود،یہ ممکن ہے کہ اذیت رساں اپنے عمل کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہواور یہ محسوس کرے کہ وہ بھی استحصال کا نشانہ بنے وہ عموماً کم درجے کا عہدیدار ہوتا ہے جوکہ اُس سماجی طبقے سے تعل رکھتا ہے جس کا وہ خود استحصال کرتے ہیں جن کی وہ خدمت انجام دیتا ہے اور نتائج کے فوائد بھی حقیقتاً اُس کے لئے نہیں ہوتے۔یہ صورتحال اُسے شدید تضاد کا شکار بنادیتی ہے جو اُس کے عمل میں بھی منعکس ہوتا ہے اور اس سے تقاضہ کرتا ہے کہ ذاتی سطح پر اُس کو سُلجھائے۔


ہفتہ، 31 اگست، 2013

پروپیگنڈہ



ایک معمولی سچی خبر اگر ڈھنگ کے ساتھ پیش کی جائے 

تو وہ کئی من گھڑت خوبصورت خبروں سے زیادہ موثر ہے

............................................................................

انقلابی نظریات کے مکمل فروغ اور اشاعت کا بندوبست کیا جائے۔ پروپیگنڈہ کوششیں سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت سر انجام دی جائیں اور دو الگ الگ عملہ مقرر کیا جائے۔ ایک پوری قوم اور عوام کے لئے اور دوسرا صرف گوریلا سپاہیوں کے لئے۔ اس شعبے کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ دونوں حصوں میں مضبوط ربط اور تعلق قائم رکھے۔ ملکی اور قومی سطح پر یہ پروپیگنڈہ مجلوں، اخباروں، ریڈیو ، کسانوں اور مزدوروں، دشمن کے سپاہیوں کے لئے تیار کردہ کتابچوں وغیرہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ گوریلا حقائق وغیرہ کے متعلق بحث مباحثہ کیا جائے۔ اپنے نصب العین اور مقاصد کی تشریح کریں ،ملنے والی امداد کا ذکر کریں ،سبوتاژ کی کارروائیوں کی خبریں سنائیں، دشمن کے جرائم اور ان مجرموں کا تفصیل سے ذکر کریں۔
گوریلا علاقے میں بہترین پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے۔ ریڈیو اور تحریری اطلاعات کے ساتھ ساتھ ہوائی حملوں سے تحفظ اور دشمن کی چالوں کے متعلق زبانی ہدایات دیتے رہیں۔ غیر ملکی خبررساں اداروں کو جو خبریں مہیا کی جائیں ،ان میں صرف جنگ کے متعلق اطلاعات فراہم کی گئی ہوں۔
ریڈیو پرچار کا بہترین ذریعہ ہے،جس کے ذریعے پورے ملک میں اپیلیں نشر کی جا سکتی ہیں۔ حالات اور واقعات کے متعلق وضاحتیں کی جا سکتی ہیں،سیاسی تعلیم دی جا سکتی ہے اور اس طرح آبادی پر گہرا اثر ڈالا جا سکتا ہے۔
اس کے متعلق ہمیشہ سچ بولیں اور یاد رکھیں کہ ایک معمولی سچی خبر اگر ڈھنگ کے ساتھ پیش کی جائے تو وہ کئی من گھڑت خوبصورت خبروں سے زیادہ موثر ہے۔ تمام تر جھڑپوں کی زیادہ تر خبریں ، دشمن کے ظلم و ستم کے حقائق ، گوریلا اصولوں اور گوریلا طرز کی جنگ سے متعلق ہدایات اور گوریلا رہنماؤں کی تقاریر نشر کریں۔
(ڈاکٹر چی گویرا)

بدھ، 28 اگست، 2013

یوسف عزیز مگسی کا انقلابی ورثہ


ڈاکٹر عنایت اللہ بلوچبیسویں صدی مشرق کی اقوام کی قومی بیداری، آزادی کی تحریکات اورمزاحمت سے بھر پورصدی ہے۔ اس سلسلہ میں بلوچستان کی سامراج دشمن تحریک آزادی جنوب مغربی ایشیا میں اہم اور ممتاز نظر آتی ہے۔ یہ بلوچ عوام کی تحریک نہ صرف سامراج دشمن تھی بلکہ ترقی پسند اور انسانی حقوق کی علمبر دار تھی۔ اس جدید تحریک کی بنیاد اور قیادت کا سہرا میر محمد یوسف علی خان عزیزؔ کے سر ہے۔ قبل اس کے کہ ہم یوسف عزیزؔ کا تعارف کرائیں یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم یوسف عزیزؔ کے وطن بلوچستان کا اوائل بیسویں صدی میں سیاسی جغرافیہ مختصراََ بیان کر دیں تاکہ ان کی سیاست اور ان کے نظریات کو سمجھنے میں مدد ملے۔جغرافیائی طور پر بلوچستان جنوب مغربی ایشیاء یعنی مشرق وسطیٰ کا حصہ ہے اس کی ثقافت و تمدن پر وسطی اور جنوبی ایشیاء کے اثرات بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس علاقہ میں بولی جانے والی بڑی زبانوں کا تعلق ایرانی زبانوں کے خاندان سے ہے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی سامراج کا اس علاقہ میں عمل دخل شروع ہوا بلوچ عوام کی مسلح جدوجہد آزادی کودبانے میں ناکامی کے بعد برطانوی حکومت نے سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے ذریعہ اس خطہ کو انتظامی وحدت سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا جس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی ہوئی یوں سر زمین بلوچستان کو متعدد سیاسی آئینی حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ کچھ حصے ایرانی و افغانی شاہوں کو دیئے گئے تاکہ ان کی وفاداریوں کو تاج برطانیہ کے ساتھ پختہ کیا جاسکے۔ مشرقی بلوچستان کو مزید حصوں میں تقسیم کیا گیا تاکہ بلوچ اتحاد اور ان کی سیاسی مزاحمت کو کچلا جاسکے۔ مختصراََ مشرقی حصہ کو مندرمیں بانٹا گیا۔
۱۔ ریاست قلات:
درحقیقت یہی مرکزی بلوچستان ہے جہاں دارلسلطنت قلات (بلوچی)تھا۔ اس ریاست میں آئینی طور مندرجہ ذیل علاقہ جات تھے۔ قلات ،خاران، مکران،نوشکی، چاغی، مری،بگٹی وکھیتران قبائلی علاقہ جات، نیابت کوئٹہ و بولان اور کوہ سیلمان میں واقع بلوچ قبائلی علاقے اس ریاست کا حکمران خان قلات ہوا کرتا تھا۔
۲۔ برطانوی بلوچستان:
یہ چمن، ژوب، لورالائی ، دُکی اور دیگر پشتون قبائل علاقوں پر مشتمل تھا۔ یہ اضلاع برطانیہ نے معاہدہ گنڈمک کے تحت افغان حکمرانوں سے حاصل کیے اور یوں یہ اضلاع برطانوی ہند کا آئینی حصہ بن گئے(یاد رہے کہ ریاست قلات آئینی طور پر برطانوی ہند کا حصہ نہ تھی اوائل بیسویں صدی میں اصطلاح’’بلوچستان‘‘ کا اطلاق صرف برطانوی ہند کے صوبہ ’’برطانوی بلوچستان‘‘ پر ہوتا تھا۔ اس برطانوی بلوچستان میں متعدد بلوچ علاقوں کو ریاست قلات سے معاہدات کے تحت اجارہ پر حاصل کرکے برطانوی بلوچستان کی انتظامیہ کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔ ان علاقوں میں بلوچ قبائل علاقہ جات ، کوئٹہ، نوشکی،چاغی، بولان اور نصیر آباد کے علاقے شمار ہوتے تھے مگر آئینی طو ر یہ قلات کا حصہ شمار ہوتے تھے۔ یوں برطانوی سیاسی و انتطامی اصطلاح میں’’بلوچستان‘‘ سے صرف برطانوی بلوچستان مراد لیا جاتا تھا۔ جغرافیائی و معاشی و اقتصادی طور پر یہ دونوں خطے آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ اس لئے یہاں دخل سے قبل آئین قلات کے تحت یہاں کا آئینی و سیاسی ڈھانچہ وفاق اور کانفیڈریسی کے اصولوں پر قائم تھا۔ یہاں کی اکثر آبادی قبائل ڈھانچہ پر استوار تھی۔ تبیلہ یا تمن(ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ۱۰ ہزار کے ہیں یعنی۱۰ پر مشتمل افراد کا قبیلہ لیکن یہ اصطلاح بعد میں۱۰ ہزار سے زائد یا کم قبیلہ پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے) اور ان کا راہنما(سردار یا تمندار) قومی اور ملکی امور میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔
سردار کا انتخاب قبائل کے جرگہ یا مجلس میں کیا جاتا تھا لیکن برطانوی عمل دخل میں سردار کا عہدہ موروثی بنا دیا گیا اور وفادار سرداروں کو زمینیں عطا کرکے برطانوی عمل وخل میں سردار کو عہدہ موروثی بنا دیا گیا اور وفادار سرداروں کا جاگیریں عطا کرکے برطانوی عہد کے جاگیرداروں کے برابر مرتبہ دیا گیا۔ یوں بلوچ قوم کے صدیوں کی جمہوری اقدار پر چھاپہ مارا گیا۔ جس کے باعث بلوچ تمنات و قبائل نے برطانوی استعماراور سرداریت کے خلاف مسلح جدوجہد کی روایت قائم کی جس کا مقصود آزادی اور جمہوری انسانی حقوق کا تحفظ تھا۔ آزادی کی مسلح جدوجہد کو استعمار نے سازشوں، اسلحہ کی برتری، قبائلی تضادات اور معاشی پسماندگی کی بنا پر ناکام بنا دیا تھا(جنگ عظیم اوّل میں اکثر و بیشتر قبائل نے خلافت عثمانیہ کی حمایت اور اپنی مکمل آزادی کے حصول کے لئے مسلح جہاد میں شرکت کی تھی لیکن یہ جدوجہد بھی معاشی، سیاسی و دفاعی عوامل کے سازگار نہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تھی۔ اس جدوجہد میں لاکھوں بلوچ شہید ہوئے یا قید کی سختیوں سے گزرے۔ ہزاروں افراد نے سویت یونین، عرب خلیج کے علاقوں، برطانوی ہند اور مشرقی افریقا کی طرف ہجرت کی تھی جس کا بلوچستان کی سیاسی و معاشی زندگی پر منفی اثر پڑا۔
ان حالات میں بلوچستان کے چند نوجوانوں نے ایک خفیہ تنظیم کا آغاز ۱۹۲۰ء میں کیا تھا۔ یہ تنظیم۱۹۲۹ء میں ایک سیاسی جماعت کی شکل میں ’’انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان‘‘ کے نام پر ابھری جس کی قیادت کے لئے میر محمد یوسف علی خان عزیز مگسی کا انتخاب عمل میں آیا۔ میریوسف علی خان عزیزؔ مگسی کی قیادت کا دور مئی ۱۹۳۵ ء تک محیط ہے جب وہ زلزلہ میں۳۰/۳۱ مئی کی شب شہادت سے ہمکنار ہو کر کوئٹہ میں دفن ہوئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔
یوسف عزیزؔ کی شہادت نے بلوچستان اور عالم اسلام کو ایک ایسے فرزند سے محروم کر دیا جو مفکر بھی تھا اور مردمیدان(مجاہد)بھی۔ آج بھی اہل بلوچستان ان کی وفات پر نوحہ خواں ہیں۔ ان کے بے لوث خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے کردار و افکار پر عمل پیرا ہوں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ہم مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات ڈھونڈیں:
۱۔ محمد یوسف علی خان عزیزؔ کون تھے؟
۲۔ ان کے عملی زندگی کیسی تھی؟
۳۔ان کے افکار و نظریات کیا تھے؟
میر محمد یوسف علی خان بمقام جھل مگسی جنوری۱۹۰۸ء میں مگسی قبیلہ کے سردار و تمندار نواب قیصر خان کے ہاں متولد ہوئے(مگسی تُمن لدشار بلوچ قبیلہ کی شاخ ہے) محمد یوسف علی خان کی والدہ زہری قبیلہ کے سردار رسول بخش زرکزئی کی دختر نیک اختر تھیں۔زہری قبیلہ نے جنگ عظیم اوّل میں دیگر بلوچ قبائل کی طرح خلافت عثمانیہ کی حمایت میں مسلح جدوجہد میں حصہ لیا۔(سچ تو یہ ہے کہ بلوچ قبائل کی مسلح جدوجہد نے برطانوی ہند کی افواج کو عراق میں فوجی کاروائیوں کو غیر مؤثر بنا دیا تھا جس کا عثمانی افواج نے خاطر خواہ فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ کے ہزاروں مسلح سپاہیوں مع برطانوی جنرل کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا) جھالاوان کے ان مجاہدین کی نواب قیصر خان مگسی نے خفیہ مدد کی تھی۔
جنگ عظیم اوّل کے خاتمہ کے بعد برطانوی انتظامیہ نے اس جرم کی پاداش میں نواب قیصر خان مگسی کوبمعہ اہل خاندان برطانوی ہند کے شہر ملتان میں نظر بند کر دیا تھا۔ یوسف علی خان کی اوّلین علمی تربیت جھل مگسی میں پرائیوٹ طور پر کی گئی تھی۔ عربی و فارسی کے اساتذہ نے نہ صرف زبان و ادب بلکہ مسلم تاریخ وتمدن سے بھی ان کو آگاہی بخشی۔ انہی اساتذہ سے انہوں نے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ قیام ملتان میں نوابزادہ محمد یوسف علی خان نے برطانوی ہند کی اور سیاسی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی سامراج اور اس کی حکمت عملی کا مطالعہ کیا تھا نیزآپ نے برطانوی ہند کی تحریکات عدم تعاون، خلافت تحریک کے محرکات کے ساتھ ساتھ، مولانا ابوالکلام آزادو غیرہ کے افکار کا گہرامطالعہ کیا تھا جس کے اثرات نوجوان عزیز مگسیؔ کی تحرویروں اور تعلیمات میں عیاں ہیں۔
خلافت عثمانیہ کی تباہی و بربادی اور مسلح جہاد کی عارضی ناکامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاست قلات اور اس سے منسلک علاقوں میں برطانوی استعمار نے ظلم و جبر کو تیز تر کر دیا تھا تاکہ یہاں آزادی کے تصور کا گزر بھی نہ ہونے پائے۔ اسی جبر و بربریت کے خلاف نوجوان مجاہد میر محمد یوسف علی خان نے آواز اٹھائی اور اس کا آغاز ایک اخباری مضمون بعنوان’’فریاد بلوچستان‘‘ میں کیا۔ یہ مضمون لاہور کے اخبار ’’مساوات‘‘ میں۱۹۲۹ء میں شائع ہوا تھا۔ یوسف عزیزؔ نے لکھا تھا:’’آج ساری دنیا شاہراہ ترقی پر گامزن ہے مگر بلوچ ایسے سوئے ہوئے ہیں کہ جاگناناممکن معلوم ہوتا ہے۔ بلوچوں سے ہماری مخلصانہ درخواست ہے کہ خدا کے لئے ساری دنیا کو ہنسنے کو موقع نہ دیجیے۔ یہی وقت ہے اگر اسلاف کو خون آپ میں اب تک موجزن ہے تو اٹھیے جس طرح آپ کے اسلاف اٹھا کرتے تھے۔ سیاسی غلامی کی زنجیروں کو ایک نعرہ حریت لگا کر توڑ ڈالیے اور قوموں کے لئے مشعل راہ بن جائیے۔ باہمی حسد ورقابت اور ان لغویات کی بیخ کئی کیجیئے اور صرف آتش رقابت سے اپنے سینوں کو مشتعل کیجئے کہ جنگ آزادی میں تم سے زیادہ کوئی بہادر نہ نکلے اور تم سے پہلے کوئی جام شہادت نوش نہ کرے۔ خدا کے لئے بزدلانہ اور رجعت پسندانہ ذہنیت کو مٹائیے اور دیکھے تاریخ کیا کہتی ہے۔ مادروطن کی قربانیوں سے سبق حاصل کیجئے۔‘‘
میر یوسف علی کے اس آتش بیان و انقلابی پیام نے جہاں بلوچوں میں ایک نئی روح پھونکی وہاں استعمار اور اس کے گماشتوں کو خوف اور انتقام و جبر کی طرف مائل کر دیا تھا۔ برطانوی ایجنٹ برائے گورنر جنرل و ریز یڈنٹ (AGG & Resident)نے وزیراعظم قلات(سرشمس شاہ جن کا تعلق گجرات (پنجاب) سے تھا) کو اسی نئی انقلابی صورت حال کو بروقت کچلنے کا حکم دیا۔ یوں استعمار نواز قبائلی سرداروں کی ملی بھگت سے نوابزادہ محمد یوسف علی خان پر’’تخریب کاری‘‘اور بغاوت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا۔ اس مضمون کو پڑھنا اور بلوچستان میں تقسیم کرنا خلاف قانون قرار پایا۔ نوابزادہ مگسی کو ایک سال کی قید اور دس ہزار نو سو روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی کا باعث ہوگی کہ سرداری و سرکاری جرگہ نے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ یوسف علی خان نے غلط، خلل انداز اور فتنہ انگیز نظریات پھیلائے ہیں اور ان جرائم کی تمام تر ذمہ داری اس کے جدید نظریات اور تعلیمات پر عائد ہوتی ہے۔ بہر حال یوسف علی نے اس سزا کا کچھ حصہ جیل اور کچھ حصہ نظر بندی کی صورت میں بمقام گٹ زہری اپنے ماموں سردار میر رسول بخش زرکزئی(زہری) کی نگرانی میں گزارا۔
اس مختصرسے مضمون پر اتنی بھاری ظالمانہ سزا سے ان مشکلات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جو بلوچ قومی تحریک کے اولین راہنما کو درپیش تھے۔ انہی ایام میں زیر زمین سامراج دشمن تحریک’’ینگ بلوچ پارٹی‘‘ کے راہنما میر عبدالعزیز کردنے آپ سے جیل میں رابطہ قائم کیا اور گزارش کی کہ آپ بلوچ قومی تحریک کی قیادت کریں اور اس کی راہِ عمل متعین کریں جس پر بلوچ قومی تحریک عمل پیرا ہوا۔ آپ نے آزادی کے ان متوالوں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے ایک متحدہ تنظیم اور ایک نصب العین پر یکجا ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور یوں بلوچستان کی تاریخ اوّلین سیاسی جماعت’’انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آپ کو صدر منتخب کیا گیا۔
آپ بلوچی ، اردو اور فارسی میں شاعری کیا کرتے تھے۔ انقلابی شاعروں کی مانند آپ نے شاعری کو اپنے استعمار دشمن نظریات، آزادی وطن، سماجی ومعاشی انصاف، نمائندہ حکومت اور اسلام کے نظریہ عدل کے پرچار کا ذریعہ بنایا تھا۔ اتحاد پارٹی کے جنرل سیکریٹری میرعبدالعزیز کرد اور نائب صدر نوابزادہ عبدالرحمن خان بگٹی منتخب ہوئے۔ نوابزادہ بگٹی، یوسف عزیز کے قومی و اسلامی نظریات سے بے حد متاثر تھے جس کی پاداش میں ان کو اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے عہدہ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ ان کے والد نواب محراب خان بگٹی نے ان کو اپنی جانشینی سے معزول کر دیا ۔ انقلابی نظریات کی بدولت ان کو بمقام رانچی(انڈیا) اور جیکب آباد میں قیدو نظربند کیا گیا۔ ان کی بجائے ان کے چھوٹے بھائی نواب محمد اکبر خان کو بگٹی قبیلہ کا سردار مقرر کیا گیا تھا۔ اتحاد پارٹی نے اپنے اولین جلسہ بمقام کوئٹہ۱۹۳۱ء میں مندرجہ ذیل لائحہ عمل کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
۱۔ سرداری نظام کا خاتمہ
۲۔ بلوچستان کے مختلف حصوں کا اتحاد اور آئینی و جمہوری نظام کا اجراء
۳۔ بلوچستان میں تعلیم کا پھیلاؤ
۴۔ جمہوری و آئینی ذرائع کے حصول میں ناکامی کی صورت میں مسلح جدوجہد کی تیاری
۵۔ غیر استحصالی نظریات پر مبنی اسلامی معاشرہ کا قیام
ان مقاصد کے حصول کے لئے یوسف عزیز مگسی اور ان کے ساتھیوں نے برطانوی بلوچستان میں محدود قانونی رعایتوں اور ریاست قلات کے قدیم دستور میں دی گئی آئینی رعایتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بلوچوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ آپ کی قیادت میں اتحاد پارٹی نے جیکب آباد(اصل نام خان گڑھ) میں اور حیدر آباد (سندھ) میں۱۹۳۲ء اور ۱۹۳۳ء میں’’بلوچ و بلوچستان کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا تھا۔ ان کانفرسوں میں بلوچستان اور ریاست قلات سے مختلف قومیتوں اور برطانوی ہند کے صوبہ جات(سندھ۔پنجاب وسرحد) کے بلوچ نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ ان اجلاسوں میں مندرجہ ذیل قرار داد منظور کی گئیں:
۱۔ بلوچستان کے متعدد حصوں کا اتحاد اور مکمل سیاسی آزادی کا مطالبہ
۲۔ سرداریت کا خاتمہ
۳۔ عورتوں کو اسلامی طریقہ سے میراث میں حصہ
۴۔ ڈیرہ جات و جیکب آباد کی بلوچستان میں شمولیت
۵۔ برطانوی بلوچستان کو صوبائی درجہ اور اصلاحات دیے جانے کا مطالبہ
۶۔ بلوچستان میں مفت تعلیم کا اجراء۔نئے سکولوں او ر کالج کے قیام کا مطالعہ
۷۔ ذرائع آمدورفت کی ترقی
۸۔ چھوٹی صنعتوں کا قیام
۹۔ قبائلی رسومات مثلا ولوّر اور لب پرپابندی اور کالا کالی کا خاتمہ
اس آخری مطالبہ سے مقصود عورتوں کے وقار کی بحالی اور ان کو اسلامی قوانین کے تحت حقوق و برابری دلانا مقصود تھا۔
ان قرار دادوں نے بلوچ شرکاء کانفرنس کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا یوں دو واضع گروہ یا مکاتیب فکر سامنے آئے۔ایک گروہ جو بلوچ سرداروں اور جاگیرداروں پر مشتمل تھا مذکورہ بالا قرار دادوں کو حکومت وقت سے محاذ آرائی سمجھتا تھا۔ اس لئے برطانوی استعمار اور اس کی انتظامیہ سے ٹکراؤ کی بجائے وفاداری اور مراعات میں یقین رکھتا تھا۔ دوسرا گروہ جو جدید نظریات کے زیر اثر تھا وہ سامراج اور سامراج دوست عناصر سے مراعات (بھیک) مانگنے کی بجائے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرتا تھا۔ اس دوسرے گروہ کی قیادت یوسف عزیز مگسی اور ان کے ساتھی کر رہے تھے۔ ان کو خفیہ طور پر میر احمد یار خان(بعدازاں خانِ قلات) کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
مکمل آزادی کے حصول کی خاطر یوسف عزیز کی قیادت میں پارٹی نے سرداریت کے خلاف عملاََ جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ انہی کے ایما پر رئیسانی ، رند، بگٹی قبائل میں سرداریت کے خلاف پر امن تحریکوں اور ہجرت کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس محاذ کو مزید طاقتور بنانے کے لئے نوابزادہ یوسف عزیز مگسی نے محمد اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد اور ظفر علی خان ایڈیٹر، زمیندار، لاہور سے ملاقاتیں کیں اور ان کی امداد کے طالب ہوئے تھے ۔ آپ نے برطانوی ہند کی تنظیم’’آل انڈیا مسلم کانفرنس‘‘ انجمن حمایت اسلام لاہور ، جامعہ ،دہلی سے بھی فکری رابطے استوار کیے۔ نیز آپ نے بلوچستان کے قومی پریس کی ابتدااپنے مالی وسائل سے کی۔ متعدد نوجوان(جو مدارس میں استاد ومعلم رہے تھے)نے اخبارات، البلوچ، بلوچستان اور بلوچستان جدید، الخیف وغیرہ کی ادارت سنبھال کر علمی و فکری جدوجہدکی بنیادیں رکھیں۔ یہ اخبارات یکے بعد دیگرے ضبط ہوتے رہے اور اس کے عملہ کو خوف و ہراس، مالی پریشانیوں اور سزا و عقوبت سے بھی گزرنا پڑا لیکن یوسف عزیز اور ان کے رفقاء سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔ یوسف عزیز نے متعدد نوجوانوں کو اپنے مکاتیب کے ذریعہ اس علمی، فکری اور عملی جدوجہد میں شرکت کی دعوت دی۔ برطانوی ہند کے اخبارات میں مضامین کا ایک سلسلہ بھی جاری رکھا ان کے مکاتیب اور مضامین میں اسلامی نظام عدل، عورتوں کے حقوق اور اشتراکیت وغیرہ جیسے موضوعات ہوتے تھے۔
ان اخبارات کا داخلہ بلوچستان میں اکثر و بیشتر ممنوع ہی رہا کرتا تھا۔ ان کے پڑھنے والوں کو محکمہ خفیہ اداروں کے اہلکار خوف و مصائب کا نشانہ بناتے اور نوبت جیلوں تک بھی جا پہنچتی۔ درحقیقت اس صورت حال کا اندازہ برطانوی ہند کے سیاسی کارکن نہیں کر سکتے تھے جہاں آئینی اصلاحات کے نتیجہ میں لولی و لنگڑی جمہوریت کی طرف پیش رفت جاری رہتی تھی قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی کا باعث ہوگی کہ بلوچ کانفرنس(۱۹۳۲ء) منعقدہ جیکب آباد کے لئے نواب محراب خان تمندار بگٹی قبیلہ نے گرانقدر چندہ یوسف عزیز کو دیا تھا لیکن جب بگٹی قبیلہ کے ایک وفد نے نواب کے مظالم کے خلاف یوسف عزیز کو اپنی فریاد پہنچائی تو یوسف عزیز نے سردارانہ تعلقات کی پرواہ کیے بغیر مظلوم بگٹی قبائلیوں کی عملی حمایت کا اعلان کیا اور نواب محراب خان بگٹی کو ان کا عطا کردہ عطیہ بھی واپس کر دیا اور کہا کہ نواب بگٹی کی طرف سے یہ چندہ درحقیقت رشوت ہے تاکہ میں اور میری تنظیم مظلوم بگٹیوں کی مدد نہ کر پائیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ یوسف عزیزؔ نے بلوچ قوم کی حقوق کے تحفظ و بازیابی کے لئے اپنے طبقہ(سردارو سردارخیل) سے عملاََ علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ آپ کی قیادت میں اتحا د پارٹی نے سرداروں اور سرداریت کے خلاف عملاََ جدوجہدکیا۔ یوسف عزیز کے مجاہدانہ کارناموں نے اہل بلوچستان کو یہ پیغام دیا تھا کہ جو سردارقومی مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دے سکتے وہ عوام کے ہرگز دوست نہیں اس لئے وہ ا س قابل نہیں کہ وہ ان کے(بلوچ قوم کے) قائد و رہنما بنیں۔
یوسف عزیز جہاں جدید اسلامی تعلیمات کے حامی اور بلوچستان کی آزادی کے دلدادہ تھے وہاں وہ اس امر سے بھی واقف تھے کہ غیر طبقاتی نظریات پر مبنی اسلامی ڈھانچہ تعلیم اور سیاسی تنظیم سرداریت کے خاتمے کے بغیر ناممکن ہے۔ وہ ریاستی بلوچستان میں سرداروں کے اختیارات کم کرنے اورجمہوری قدروں کے فروغ کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ جب میراحمد یارخان،خان قلات بنے تو وہ چاہتے تھے کہ ریاست میں تعلیمی و سماجی اصلاحات کی جائیں۔ خان قلات، سید جمال الدین افغانی کے افکار سے نہ صرف متاثر تھے بلکہ ان کی بیگم کا تعلق افغانی کے خاندان ہی سے تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سرداروں کو اپنے دارالحکومت قلات مدعو کیا اور میر محمد یوسف عزیزؔ کو بھی بحیثیت تمندار مگسی قبیلہ کے بلایا گیا۔ میر یوسف عزیز کے بقول جب وہ پاییہ تخت قلات پہنچے تو انہوں نے ریاستی بلوچستان میں جمہوریت ، تعلیم، آئین سازی وغیرہ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ اس پر خان قلات میر احمد یار خان نے آپ سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات کو ایک قرارداد کی صورت میں سرداری کونسل میں پیش کریں۔ یوسف عزیز نے محمد امین کھوسہ کو ایک خط میں بتاتے ہیں کہ :
’’چنانچہ بندہ نے دس پندرہ منٹ کی تقریر کے اندر اپنی تحریک کو پیش کیا۔ ختم کرتے ہی زرکزئی سردار (میر رسول بخش، جو کہ آپ کے سگے ماموں بھی تھے) اور وڈیرہ بنگلزئی(سردار نور محمد) نے بغیر کسی دلیل و حجت کے جاہلانہ طریقہ پر مخالفت کی اور پھر لہڑی سردار(نواب بہرام خان) نے تو سرے سے اسٹیٹ کونسل کی ہی مخالفت کی۔ مگر بنگلزئی سردار کی مخالفت بالکل جاہلانہ اور زور دار طریق پر تھی۔۔۔۔۔مجلس کا رنگ دیکھ کر نواب رئیسانی اور سردار شہوانی نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔‘‘
یوسف عزیز اپنے خط میں آگے چل کر اپنے دوست محمد امین خان کھوسہ بلوچ (جیکب آباد) کو لکھتے ہیں:’’ تاہم شکر ہے کہ میں اپنے ضمیر، اپنی قوم اور غرباء کی ترجمانی کے فرض سے غافل نہیں ہوا اور وقت آئے گا کہ آپ اور آپ کی نسلیں پشیمان ہوں گی۔‘‘
ان حالات میں یوسف عزیز دل برداشتہ ہونے کی بجائے ایک مجاہدانہ عزم کے ساتھ ان نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کا عزم جری کرتے نظر آتے ہیں اور سرداریت کے خلاف ایک لا متناہی جنگ لڑنے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں اور اپنے عزیز دوست میر محمد امین کھوسہ(جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم تھے) کو لکھتے ہیں کہ ان کی آئندہ حکمت عملی سرداری نظام اور سرداروں کے خلاف ہوگی۔ وہ میر احمد یار خان (حکمران قلات)کی سرداریت کے خلاف آئینی اصلاحات کا ساتھ دیں گے اپنے طویل خط کے آخر میں وہ بلوچ و بلوچستان کے باشعورطبقہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ:
’’ اب سرداروں کو کچلنا چاہیے ان کے سُدھر نے کی امید فضول ہے۔‘‘
اب تقریباََ ایک صدی گزرجانے کے بعد بلوچستان کی سیاست یہ بتاتی ہے کہ جو لوگ سرداروں سے سماجی و تعلیمی اصلاحات اور فکر کی امید رکھتے ہیں وہ یا تو تاریخِ بلوچستان سے نابلد ہیں یا خوش فہمیوں کا شکار چلے آرہے ہیں۔ اس گزشتہ صدی نے سردار ان بلوچستان کو اقتدار کی سربلندیوں پر دیکھا ہے لیکن ان کی قوم دشمنی بلوچ قوم پر عیاں ہے۔ میر محمد یوسف عزیز کا مذکورہ پیغام آج بھی نوجوانوں کے لئے دعوتِ عمل ہے۔ اس خط میں ایک عظیم علمی سماجی، معاشی اور سیاسی انقلاب کے لئے سرداریت کو کچلنا لازمی ہوگا۔ان کوشکست فاش دینے کا ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ تعلیمی اور معاشی اصلاحات کا بھرپور نفاذ ہے۔ یوسف عزیز کے انقلابی نظریات:
بلوچستان میں مروجہ سیاسی و معاشی ڈھانچہ برطانوی استعمار اور ان کے نمائندگان (سررابرٹ سنڈیمن۔ جنرل جان جیکب سر مرویدر وغیرہ) کا مرہون منت ہے۔ یہ نظام عرف عام میں سنڈیمن سسٹم یا سرداری و تمنداری نظام یا سرداریت کے نام سے موسوم چلا آرہاہے۔ استعماری دور میں بلوچستان کے روایتی و آئینی ڈھانچہ(وفاقیت و نیم وفاقیت پرمبنی) کو معطل کرکے نیم قبائلی و نیم جاگیر داری نظام کا اجراء کیا گیا جس کا مرکزی کردار سردار یا تمنداررہا ہے۔ اس نئے نظام میں حکومت قلات اور بلوچ عوام کے اختیارات اور حقوق غصب کرنا تھا نیز بلوچ وبلوچستان کو قبائل اکائیوں میں تقسیم کرکے ان کو غلامی کی نئی بیڑیوں میں جکڑ دینا مقصود تھا تاکہ بلوچ قوم میں آزادی اور مساوات کی امنگوں کا خاتمہ اور اتحاد پارہ پارہ کر دینا تھا۔ سنڈیمن نظام نے سرداروں پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی تھی کہ وہ جدید نظریات(اسلام کے معاشی اور جمہوری نظریات وغیرہ) کو بلوچستان میں داخل نہ ہونے دیں۔ یہی وجہ تھی کہ جدید نظریات اسلامی اقدار کی سرداروں نے بھرپور مخالفت کی تھی۔
یوسف عزیز مگسی نے جب سیاسی شعور پایا تو بلوچستان و بلوچ قبائل کا سیاسی و معاشی ڈھانچہ جس کی بنیادیں حکمران بلوچستان پر نصیر خان نوری (۱۷۹۴وفات) نے استوارکی تھیں سرداروں اور استعمار کی ملی بھگت سے تباہ کردیا تھا۔ یوسف عزیز سامراجیت اور سرداریت کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ سماجی و معاشی انقلاب کے بغیر سیاسی آزادی بے معنی ہو کررہ جائے گی اس لئے انہوں نے اسلام کی معاشی مساوات اور استعمار دشمنی کا نعرہ بلندکیا۔ان کی نظریں دیکھ رہی تھیں کہ وطن کی سیاسی آزادی کا تمام تر فائدہ قبائلی سرداروں، جاگیرداروں اور نئی ابھرتی ہوئی پیٹی بورژواژی کو پہنچے گا اور بلوچستان کے کچلے ہوئے طبقات(ماہی گیر، کسان، خانہ بدوش اور قبائل وغیرہ بلوچستان کے اقتدار اعلیٰ کے اصل مالک ہیں) سے محروم کر دیے جائیں گے۔ اس لئے یوسف عزیز نے اسلامی اشتراکیت کو بلوچستان میں انقلاب کی اساس و منزل قرار دیا تھا۔یقینایوسف کا نظریہ، اسلام کے اشتراکی اصولوں پر مبنی تھا۔ یوسف عزیز قرآنی تعلیمات اور محبت رسولؐ میں سرشار تھے۔ وہ الہندکی بورژوا قوم پرستی، ذات پات کا نظام اور مذہبی فرقہ واریت سے ازحد متنفرتھے۔
کانگریس کی جمہوری تحریک کو ہندوستان کے بالائی طبقات کے لئے سودمند دیکھتے تھے۔ آپ نے بلوچ قوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
’’ ہمیں اصلاحات، کونسل، گورنری صوبہ کیا فائدہ دیں گے۔ علاوہ اس کے کہ غیر ملکی سرمایہ داروں کی جگہ ملکی سرمایہ دارہوں گے۔ ۹۰ فیصد بلوچستان کی غریب آبادی کے لئے سوراج(آزادی) تب ہوگا جب وہ لوٹ سے بچیں گے۔‘‘
اپنی وفات سے چند ماہ قبل اپنے ایک دوست (جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم پار ہے تھے) محمد امین کھوسہ کو لکھا تھا کہ اشتراکیت ہی کچلے ہوئے طبقات کے مسائل کاحل ہے۔ وہ اشتراکیت کے جدید مفکرین کارل مارکس اور لینن کے افکار کی تعریف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امین کھوسہ کولکھتے ہیں:
’’پیارے وطن کے نوجوان بھائی۔ اللہ آپ کو جلدی(تعلیم سے) فارغ کر کے اچھے کام (یعنی قومی تحریک) میں مصروف کرے۔ میں اپ کو ذیل کا ایک مشورہ ضرور غرض کروں گا۔ اگر آپ نے مانا تو میں بہت مشکور ہوں گا۔ کارل مارکس کی تصنیفThe Capitalاور ’’دنیا کے دس ہلاکت آفرین دن‘‘جو انگریزی میں ہے اور ایک سیاح کے قلم کی لکھی ہوئی ہے۔ ان کو ضرور دیکھیں۔ اگرچہ مجھے احساس ہے کہ آپ میں فطر تا بغیر کسی تقلید کے ایک مادہ اشتراکیت ہے اور غریبوں ، کسانوں، مزدوروں کے لئے لڑنے والا دل بھی۔‘‘
آپ کی ایک فارسی نظم’’ آہ افغان سرداران بنام سرکارِ برطانیہ‘‘ ہے۔ اس نظم میں سرداران بلوچستان، برطانوی ایجنٹ ٹو گورنر جنرل(A.G.G)اور ریزیڈنٹ برائے بلوچستان کیڑ کے حضور فریاد رساں ہیں اور یوسف عزیز مگسی پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص(یوسف مگسی ) آقاوغلام کی تمیز روا نہیں رکھتابلکہ آقا و بندہ کے درمیان مساوات کا حامی ہے۔ ایسا شخص جو کہ ہمارے حقوق(سرداریت) کا جانی دشمن ہے وہ یقیناًبرطانیہ کا بھی دوست نہیں۔ ہم برطانوی سرکار کے دست و بازو ہیں اس لئے ہمارا وقار اور سرکار انگلیسہ کی شان و شوکت لازم و ملزم ہیں ۔آپ سب کے منصف ہیں اور انصاف کا تقاضایہ ہے کہ آپ یوسف سے سرداری کا منصب چھین لیں اور اس کی خوفناک جماعت (انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان) کو منتشر کر دیں۔ وہ اس ملک میں اصول اشتراکیت کا نقیب ہے۔ اس نے اپنے طبقہ سے ناطہ توڑ کرکے مفلوک الحال بلوچ عوام سے ناطہ قائم کر لیا ہے۔ یہ فریاد ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے۔
’’یہ انہی کا مقلد ہے۔ اس کے نظریات کی نشر و اشاعت بلوچ نوجوانوں میں کرتا ہے اگر یہ شخص(یوسف عزیز) آزاد چھوڑ دیا گیا تو نہ صرف یہ اور اس کا گروہ ہمارے اقتدار(سرداری نظام)کا خاتمہ کردے گا بلکہ اس کا گروہ (انجمن اتحاد.....) برطانوی اقتدار کا بھی خاتمہ کر دے گا۔‘‘
کسانوں اور مزدوروں کے لئے یوسف عزیز نے احباب کو متوجہ کیا اور اپنے ایک دوست کو ’’بلوچستان مزدور پارٹی‘‘ کے قیام کی تجویز دی۔حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اقبال کی طرح کارل مارکس اور لینن کے اقتصادی و سیاسی انقلاب سے متاثر تھا(یادرہے کہ حضرت عمرؓ تک ارضیات اُمہ کی ملکیت کی پیداوارہے جس کی ابتداء اموی جاگیردارانہ خلافت سے شروع ہوئی تھی جس نے اسلام کے نظام عدل کو مختلف تا ویلات کی مدد سے ذبح کر دیا تھا) اقبال کی طرح مگسی اسلام کے عادلانہ معاشی و سماجی انصاف کی تلاش میں نظر آتاہے۔ اس موضوع پر مگسی نے اپنے دوست و احباب کو خطوط لکھے اور اپنے نقطہ نظر کی ترویج کے لئے مضامین بھی لکھے جن کواس مختصر مضمون میں پیش کرناازحد مشکل کام ہے۔
اس مضمون کے آخر میں حقوق نسواں کے حوالہ سے یوسف مگسی کے نظریات کو جاننا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ یوسف عزیز اس بات سے کما حقہ واقف تھے کہ عورت کے حقوق تسلیم کیے بغیر بلوچستان میں سماجی و معاشی انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا۔ یاد رہے کہ بلوچ خاتون بہت ہی بے کس اور مجبور خاتون ہے وہ نیم جاگیرداری اور نیم قبائلی نظام کے ظلم کا شکار چلی آرہی ہے۔ ا س مظلوم عورت کو جو حقوق اسلام اور قدیم بلوچی دستور نے عطا کیے تھے وہ عرصہ دو صدی سے رواج کے نام پر چھین لیے گئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تاریخ بلوچستان میں احترام نسواں کا یہ عالم رہا ہے کہ اگر کوئی مظلوم یا مسافر ایک عورت سے پناہ مانگ لیتا تھا تو وہ تمام قبیلہ یا قوم کی سماجی ذمہ داری میں آجاتا تھا ۔ اسی طرح خانہ جنگیوں میں اگر عورت گزارش لے کر اپنے دشمن قبیلہ کے پاس جاتی تو اس کو بلوچی آئین کے تحت رد کرنا نا ممکن تھا۔ قدیم بلوچی شاعری سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچ خواتین نے اہم فیصلوں کے لئے ’’ بلوچ مجلس یا جرگہ‘‘ میں مردوں کے برابر اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح میدان جنگ میں بلوچ خواتین قائد بھی نظر آتی ہیں۔ مثلاََ بلوچی شاعری سے پتہ چلتا ہے کہ رسم کالاکالی(کاراکاری) کا بلوچ قبائل میں کوئی رواج نہ تھا لیکن جیسے ہی بلوچ قبائل جاگیر داری نظام کے زیر اثر آئے تو عورت، مرد کی ملکیت قرار پائی۔ معمولی شک یا اس سے چھٹکارا پانے کے لئے یا اس کی جائیداد ہتھیانے کے لئے اس پر سیاہ کاری کا الزام لگا کر نجات پائی جانے لگی۔
ماضی قریب میں درجنوں عورتیں اس ظلم کی بھینٹ چڑھ گئیں بلکہ بلوچی دستور کے تحت اس ظلم سے بچنے کے لئے جب انہوں نے سرداروں کے ہاں پناہ لی تو ان خواتین کو بلوچی دستور کے خلاف سرداروں نے بیچ ڈالا۔ اس طرح کے واقعات سن کر یوسف عزیز سرداریت و ملائیت کے خلاف سراپااحتجاج بن گئے۔ وہ ملائیت، قبائلیت اور ظالمانہ رسم رواج کے مخالف اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حقوق نسواں کے داعی تھے۔ لندن سے اوائل ۱۹۳۵ء میں اپنے ذاتی دوست اور سیاسی رفیق محمد امین کھوسہ کو لکھتے ہیں:
’’........تمھاری بربادی کا باعث انگریز نہیں بلکہ تمہارے دراز ری مذہب فروش باشندے ہیں۔ کم بختوں نے مذہب جیسی بلند تخلیق کو دنیا کا بدترین کھلونا بنا کر انسانی آبادی کے ایک عظیم حصے کو برباد کر ڈالا۔ خدا ان سے سمجھے۔ حیران ہوتا ہوں جب بڑے بڑے دماغوں کو ان امتیازوں یعنی مردوزن کے درمیان کا اسیر دیکھتا ہوں.......مگر امین۔ یورپ کے متعلق آپ کے علمایان دین کی تمام رائیں غلط بخدا کہ غلط۔ یورپ بہت آزاد ہے ۔ آپ سے بازار میں رسٹورینٹوں میں پارٹیوں میں آزادانہ عورتیں ملیں گی ، باتیں کریں گی، کھیلیں گی، منائیں گی اور رشتہ دارکوئی بھی دخل نہیں دیں گے مگر اخلاقی لحاظ سے وہ برائی جو آپ کے دراز ریش حضرات اس سے منسوب کرتے ہیں ۔ ایک فیصدی پائی جائے گی۔ یہاں کی عورت اپنی عصمت کی حفاظت آپ کے رسم و رواج کے مطابق پردہ اور تلوار و بندوق کے ڈر کے ذریعہ نہیں کرتی۔ ان کا معیار کچھ اور ہے۔ کاش کہ اس خط میں تفصیلات لکھ سکتا۔ یہاں کی کنواری عورتیں جو شادی شدہ ہیں۔ عصمت کے معاملہ میں انتہائی بلند معیار پر ہیں۔‘‘
یوسف عزیز مگسی اس تقابلی جائزہ کے بعد یہ مطالبہ کرتا نظر آتا ہے کہ عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کیے جائیں جو ان کو اسلام نے عطا کیے ہیں۔ یوسف عزیز براہِ راست قرآن مجید اور سنت رسول کریم کی طرف رجوع کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ محض تقلید پر تکیہ گوارانہ کرتے تھے بلکہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں بلوچ و بلوچستان کے مسائل کا حل ڈھونڈھتے ہیں۔ اپنے ایک اور رفیق میر تاج محمد ڈومبکی کولکھتے ہیں:
’’ خدائے قدوس کے نزدیک انفرادی زندگی کی صلاحیت جماعتی منفعت کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں ہمیں طریق استدعا بتایاگیا ہے وہ جماعت کی طرف سے ہے۔ سورۃ فاتحہ کو ہی دیکھے.....اھد نا الصراط المستقیم نہیں۔ انعمت علیھم غیرالمغضوب علیھم یہ سب جمع کے صیغہ جات ہیں۔‘‘
ایک دوسرے خط مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۲ء میں ان مقاصد کے حصول کے لئے عملی اقدامات کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے:
’’قریبی عرصہ سے میرا ارادہ ہے۔ سندھ، بالخصوص جیکب آباد( جو مرکز ہے بلوچوں کا ) آنے اور بلوچ بھائیوں کی امداد سے فی الحال ایک انجمن’’حزب اللہ ‘‘ یعنی خدائی فوج کی بنیاد ڈالنے کا۔ جس کے اغراض ومقاصد واضح ہیں یعنی دین الٰہی و قیام بردین الٰہی کی تبلیغ۔‘‘
ان خطوط سے واضع ہوتا ہے کہ وہ بلوچ عوام اور بلوچستان میں ایک اسلامی انقلاب کی تیاروں میں کوشاں تھے۔اپنے ایک مضمون میں انہی مقاصد کے حصول کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:’’مقام حمد وثنا اور موقع فخر و مباہات ہے کہ بلوچ بھی جاگے۔ نہ صرف بستروں پر اللہ تعالیٰ کا نام جپنے کے لئے بلکہ میدان عمل میں آئے ہیں اور ایک ایسے عزم کا مل اور یقین واثق کے ساتھ آئے ہیں جس کا اعتراف خود قوائے باطلہ کو بھی ہے اگر چہ ان کا اعتراف و اظہار دبی زبان سے کیا جارہاہے۔ نیشنلزم بلکہ اس سے بھی اعلیٰ وارفع تخیل یعنی اسلام ازم جس کی وسعت میں قومی، وطنی، لسانی معتقدات سے سب خائف و پریشان ہو کررہ جاتے ہیں جس کا معیار انسانیت کامل کا حصول اور نوع انسان کی نجات ہیں۔ اتحاد ویگا نگت کی روح پھیلاتا ہے، دلوں سے محوشدہ یاد کو پھر دہرانے کے لئے ایک جماعت حق کا پیشوا ہونا اور اپنے ہم مذہب اور ہم وطن رہنمایاں قوم کی مخالفت اور حکومت کی شکوک افزا روش کے باوجود شراب عشق سے مست موافع و مہالک سے بے نیاز اپنے مسلک پر ثابت اور صراط مستقیم پر چلا جانا اگر کوئی دلفریب حقیقت رکھتا ہے تو مستقبل کے لئے پر امید ہوں کہ انشا اللہ یہ سہرا بلوچوں کے سر ہوگا۔‘‘
لیکن فرنگی سامراج آپ کے ارادوں و عزائم سے خوف زدہ تھا۔ ۱۹۳۴ء میں آپ کے رفقاء کر لئے گئے۔ اے ۔جی۔ جی بلوچستان اور برطانوی نژاد وزیراعظم نے مجبور کیا کہ آپ بلوچستان چھوڑ کر لندن روانہ ہو جائیں۔ یہ حکم جبری تھا۔ اسی دوران برطانوی انتظامیہ نے مگسی مرحوم کی مالی امدادسے چلنے والے متعدد اخبارات’البلوچ‘، کراچی۔ ’’بلوچستان جدید‘‘ ،کراچی کو یکے بعد دیگرے ضبط کر لیا تاکہ انجمن اتحاد اور یوسف عزیز کے افکار و عمل کا پرچارروکا جاسکے۔آپ کے اشارہ پر آپ کے اخبار نویس ساتھی محمد حسین عنقا نے تیسرا اخبار’’ینگ بلوچستان‘‘ کراچی سے جاری کیا۔ اس نئے اخبار کے شمارۂ اوّل کے لئے یوسف عزیز نے لندن سے دس صفحات پر مشتمل ایک یادگار مضمون ارسا ل کیا:
’’جلے جلوس، جماعت بندی، اخبار نویسی یہ سب جمہوریت کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ فرنگی استبداد کا یہ حال ہے کہ ہمارے رفقا کوقیدو بند میں ڈال دیا گیا ہے اور ہمارے ہمدردوں کو بے روزگار کیا گیا ہے دربارسبی سے خطاب کیا جاتا ہے۔ کہ چند شورش پسند اٹھے ہیں جو بلوچستان کی پر امن فضا کو مکدراور اس کے سکون کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔ آؤ مل کران کا استقبال کریں۔‘‘
یوسف عزیز نے ان دھمکیوں اور غیر انسانی پالیسیوں پر برطانوی استعمار کو ان لفظوں میں للکارا:
’’ایسی آمریت کے دورمیں اس کے سوا اور کوئی چارہ کا ر باقی نہیں رہتا کہ آزاد بلوچستان کا جھنڈا بلوچستان کے سرحدی علاقہ گرم سیل میں گاڑ کر اپنی پرانی تاریخی بلوچ روایات کے تحت بلوچی لشکر لے کر فرنگی استعمار پرہلہ بول دیا جائے۔‘‘
اس پیغام نے بلوچستان کی سیاست میں ہیجانی صورت پیدا کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان افکار اور اعمال میں سید جمال الدین افغانی سے بھرپور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ان کے افکار پر علامہ محمد اقبال کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ ان کے متعدد خطوط میں علامہ اقبال کے اشعار ملتے ہیں مثلاََ ایک خط کے آخر میں یہ اشعار درج ہیں ’’ لوکار میڈ:
تیر و سنان خنجر و شمشیرم ارزوست
با من بیا کہ مسلک شبرم ارزوست
(اقبال)
بلوچ و شجاعت، بلوچوم ارزوست
خیزد! باز نعرۂ اسلام آرزو است
(عزیز)
ایک دوسرے خط کے شروع میں یہ شعر ہے:
خردی نہ ہم جس کو اپنے لہو سے
مسلمان کو ہے ننگ وہ پادشاہی
اپنے مقصد کی ترویج کے لئے انہوں نے جھل مگسی قصبہ میں ’’جامعہ عزیزیہ‘‘ کے نام سے ہائی اسکول بھی قائم کیا تھا۔ جہاں پر طلباء کو مفت تعلیم ، لباس اور خوارک مہیا کی جاتی تھی۔ انہوں نے دیگردیہاتوں میں پرائمری سکول قائم کیے۔ ان کا ارادہ تھا کہ لندن میں بلوچ طلباء کے لئے ایک ہاسٹل قائم کیا جائے جس کے اخراجات انہوں نے خود براداشت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔’’جامعہ یوسفیہ‘‘ کے کورسز کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انجمن حمایت اسلام، لاہور اور جامعہ ملیہ، دہلی کے نصاب سے بہت متاثر تھے نیز جامعہ عزیز یہ جھل میں بلوچستان کے جغرافیہ ، تاریخ و ثقافت کے مضامین کو بھی شامل نصاب کیا ہوا تھا۔
یوسف عزیز نے تعلیم کے علاوہ سماجی برائیاں(شراب اور بھنگ)پر پابندی عائد کی تھی۔ ان کو اپنے مقاصد میں از حدکامیابیاں ہوئیں۔ بلوچ اور اہل بلوچستان ان سے والہانہ پیا رکرتے تھے۔ جلا وطنی سے واپسی کے بعد ان کا ارادہ تھا کہ وہ متعدد محاذوں پر جدوجہدکریں گے جن میں آئینی و تعلیمی اصلاحات، سردای نظام کا خاتمہ، اسلامی تعلیمات کی ترویج۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ سوویت یونین کی مدد سے آزادی کی مسلح جدوجہد کا ارادہ بھی رکھتے تھے لیکن بلوچ اور بلوچستان کی یہ انتہائی بد قسمتی تھی کہ یوسف عزیز کوئٹہ میں ۳۰/۳۱مئی۱۹۳۵ء کی درمیانی رات میں زلزلہ میں شہید ہوگئے یوں بلوچ اور اہل بلوچستان ایک عظیم دانشور، قائد، ساتھی اورعظیم راہنما سے محروم ہوگئے۔
یوسف عزیز مگسی کی وفات کا نوحہ ہر طبقۂ فکر نے کیا ہے۔ اس مضمون کے آخر میں میر گل خان مرحوم(بلوچی زبان کے شاعر، ادیب، مورخ اور سابق وزیر تعلیم بلوچستان) کا غیرمطبوعہ خط(مورخہ۳۱اگست۱۹۳۵ء) کا وہ حصہ پیش کرتا ہوں جو انہوں نے نوابزادہ میر شہباز خان نوشیروانی(نواب خاران کے چھوٹے بھائی اور بلوچ قومی تحریک کے سرگرم رکن) کو محمد یوسف عزیز کی زلزلہ میں شہادت پر لکھا تھا:
’’وہ کون سا دل ہے جس میں نوجوان یوسف کی ناگہانی موت کا سن کر رنج والم کے بادل نہ امنڈ آئے ہوں۔ وہ کو ن سی آنکھ ہے۔ جو بلوچستان کے اس مایہ ناز فرزند کی یا دمیں خون کے آنسو نہیں بہاتا ہو۔ یوسف ! ہم گم کردہ راہ بلوچوں کے لئے خضر کی طرح نمودار ہوا اور بھولے بھٹکے بلوچوں کو راستے پر لگا کر یکایک غائب ہوگیا۔ یوسف کو خداوندنے مسیحا ء بلوچ بناکر بھیجا جو مردہ بلوچوں میں حیات جاوید پھونک کر خود آسمان کی جانب پرواز کر گیا۔‘‘
1. Inayatullah BALOCH. The problem of " Greater Balochistan". A study of Baloch Nationalism (Published under the auspices of South Asia Institute, University of Heidelberg, Germany), 1987.
2. Inayatullah Baloch. Resistence and Libration in Balochi Poetry, in: South Asia Digest of Regional Writing, vol. II (1985)
۳۔ میر گل خان نصیر ، تاریخ بلوچستان۔ جلددوم۔ کوئٹہ۱۹۵۶ء۔
۴۔ سوانح حیات میر عبدالعزیز خان کرد، بلوچی دنیا، ملتان ، جون و جولائی۱۹۶۸ء۔
۵۔ مکاتیب و مضامین از محمد یوسف علی خان عزیز مگسی، الحنیف، جیکب آباد(سالنامہ۱۹۳۸+۱۹۳۷ء)
۶۔ نوکین دور(بلوچی) ، کوئٹہ،۲۱۔اکتوبر۱۹۶۶ء۔
۷۔ ہفتہ وار، بلوچستان جدید، کراچی، ۲۴۔ مئی ۱۹۳۴ء۔
۸۔ زمیندار، لاہور۷۔ستمبر۱۹۳۲ء۔
۹۔ میراحمد یار خان، بلوچ(خانِ قلات) مختصر تاریخ قوم بلوچ و خواتین بلوچ، کراچی۹۷۲۔
۱۰۔ ماہنامہ بلوچی دنیا،ملتان،مئی۱۹۷۱ء ، جولائی۱۹۷۳ء۔
۱۱۔ غیر مطبوعہ خط از میر گل خان نصیر بنام نوابزادہ میر شہباز خان بلوچ نوشیرانی(فاران) مورخہ۳۔ اگست۱۹۳۵ء۔