جمعرات، 19 نومبر، 2015

پنجابی کے آگے سرینڈر کرنے والے بگھوڑوں کے نام :تحریر: نود بندگ بلوچ



میں کافی دن سے تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، آج موقع ہے تو کہہ دیتا ہوں۔

سنو! تم جو بھی ہو، جس قبیلے سے بھی تعلق رکھتے ہو، جس علاقے کے بھی باسی ہو، جس تنظیم کا بھی حصہ تھے، تْف ہے تم پر ، تم ایک بگھوڑے اور بزدل ہو۔ تم اس موت سے ڈر کر اپنے مادر وطن کا سودا کرنے نکلے جو موت ایک حادثے ، ایک بخار حتیٰ کے باتھ روم میں پھسل کر بھی آسکتی ہے؟ تم نے موت کے خوف سے اپنے عظیم ماں اپنے وطن کا سودا کیا ، اگر تم مادر وطن کا سودا کرسکتے ہو تو پھر تم کل کو اسی موت کے خوف سے اپنے سگی ماں کا سودا بھی اس پنجابی کتے فوج کے ہاتھوں کرسکتے ہو۔ تمہیں معلوم ہے اپنی ماں کا سودا کرتے وقت بھی تمہیں شرم نہیں آئے گا کیونکہ جس بزدل شخص کو اپنے مادر وطن کا سودا کرتے وقت غیرت نہیں آیا اسے اپنے سگی ماں بہن کا سودا کرتے وقت بھی غیرت نہیں آتا۔ تم وہ بد بخت انسان ہو جس نے چند سال زندگی اور چند پیسوں کیلئے عظمت بیچ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذلالت خرید لی ہے۔
سنو! تم میں سے اکثر اپنے بگائی اور بزدلی کی وجہ تحریک کی کمزوری کو بیان کرتے ہیں۔ میں مانتا ہوں تحریک میں کمزوریاں ہیں ، میں مانتا ہوں اختلافات ہیں ، میں مانتا ہوں ہمیں کمزور کرنے والے عناصر ہم میں گھسے ہوئے ہیں ، میں مانتا ہوں ہمارے اندر بیوقوفوں اور مفاد پرستوں نے ہمیں نقصانات دی ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کسی کی ماں بیمار ہو تو وہ اسکی تیمارداری کرتا ہے اسے فروخت نہیں کرتا۔ تمہیں کمزوریاں دِکھ رہی تھیں تو تم اختلاف رکھتے ، تنظیموں سے اختلاف رکھتے شخصیتوں سے اختلاف رکھتے لیکن انہیں بنانے کی کوشش کرتے۔ تحریک میں کیا ہماری شرکت کی شرط کامیابی ہی تھی؟ نہیں ہم تحریک کا حصہ اپنے قومی فرض اور قومی غیرت کی وجہ سے بنے ہیں ، ہم اس بات کو مان کر حصہ بنے کہ " غلامی کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے" ، ہم اس لیئے حصہ بنے تاکہ ہم آغاز کرسکیں جو تشکیل پاکر بالآخر آزادی پر منتج ہو۔ تم کو سب غلط بھی دِکھتے لیکن اگر تم میں غیرت ہوتی تو تم تنہا ہی جدوجہد کرتے لیکن قوم کا سودا نہیں کرتے لیکن نہیں یہ محض بہانے ہیں، اپنی بزدلی کو چھپانے کے بہانے ہیں حقیقت میں تم ایک خوفزدہ ، بزدل اور بکاو انسان ہو۔ جو شفو مینگل اور مالو خبیث اعلیٰ کی طرح بے نسل پنجابی فوجیوں کے جوتے چاٹ کر مراعات چاہتے ہو۔ کل تمہیں تحریک سے کچھ مِلنے کی امید تھی تو اسکے ساتھ تھے اب لونڈو پنجابیوں سے امید ہے تو وہاں دم ہِلا رہے ہو۔ تم اس کتے کی مثال ہو جو زبان نکالے ہر اس دروازے کی طرف دوڑتا ہے جہاں سے اسے ہڈی ملنے کی امید ہو۔
سنو! تمہیں پتہ ہے پیدا ہوتے ہی ہمارا ہر ایک سانس موت کے جانب ایک قدم ہوتا ہے۔ موت کو کوء نہیں ٹال سکتا ، تم آج ان پنجابیوں کے جتنی بھی تھالی چٹی کرو تمہیں موت ضرور آئے گا لیکن اس موت کے ساتھ تمہیں پتہ ہے تم اور تمہاری نسل تاریخ میں غدار ، بَگا ، بگھوڑے ، بکاو اور بزدل کے ناموں سے پہچانے جاو گے اور وہ جو حالات اور موت سے نہیں ڈرے وہ شہید کہلائیں گے۔ تمہیں پتہ ہے شہید کسے کہتے ہیں وہ جو سچاء کا گواہی دیتا ہے اور جب تک سچاء اس دنیا میں زندہ ہے وہ شہید اس دنیا میں زندہ رہیں گے اور تم صرف ایک ذلیل یاد بن کر رہ جاو گے۔ سوچو ، تم موت سے ڈر کر بھی مر جاو گے اور وہ جو موت سے نہیں ڈرے وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہیں گے۔ تمہیں لگتا ہے تم کم ذات
پنجابی فوج کیلئے دلال بن کر اپنے بچوں کی زندگی سنوارو گے ایسا سوچنا بھی نہیں ، تم رہو یا نا رہو بلوچستان آزاد ہر حال میں ہوگا اور تمہارے آنے والی نسلوں کی حیثیت آزاد بلوچستان میں پاکستان کا ساتھ دینے والے ان بہاریوں کی طرح ہوگا جو بنگلہ دیش میں ایک لیٹرین تک کیلئے ترستے ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ تمہارے نام سے شرمندہ رہیں گے اور شرمندگی کا یہ طوق اپنے گلوں میں لٹکائے وہ تم پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔
سنو! تمہیں پتہ ہے کچھ دن بعد 13 نومبر ہے ، یہ شہیدوں کا دن ہے ، یہ ان بہادروں اور نر مزاروں کا دن ہے جنہوں نے تمہاری طرح عزت اور غیرت کا سودا نہیں کیا، انہوں نے دشمن کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو ہنستے ہوئے گلے لگایا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھ سمیت دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے ہر ایک بلوچ کا سر اونچا کردیا، ان میں سے بہت سے شاید تم جیسے کسی دلال کی وجہ سے شہید ہوئے لیکن تم محض ایک ذلیل سی وجہ ہو ورنہ وہ شہادت کو تسلیم کرتے ہوئے ہی اس تحریک کا حصہ بنے تھے۔ ہم سب انہیں یاد کررہے ہیں ، انکی تصویریں دیکھ کر انکے نام پڑھ کر ہی ہمارے اندر عزت اور تعظیم پیدا ہوتی ہے۔ ہم فخر سے انکی تصویریں آویزاں کرتے ہیں، تمہیں پتہ ہے عزت صرف انہیں نصیب نہیں ہوء بلکہ انکے خاندان کے کسی بھی فرد کو بھی ہم دیکھتے ہیں اسے عزت دیتے ہیں۔ ذرا دیکھو آج اپنے لخت جگروں کو کھونے کے باوجود ان شہیدوں کے ماوں کے سر فخر سے اونچے ہیں اور حیف ہے تم پر اے بزدل انسان موت کے ڈر سے سرینڈر کرتے ہوئے ، تم نے زندہ رہ کر بھی اپنے ماں کے نظروں کو شرمندہ کرکے جھکا دیا۔

سنو! تم سے بات کرنے کے بعد میں نے اپنے لکھے کو دیکھا تو سوچا کہ اس میں کء ایسے الفاظ ہیں جو مجھے کسی بلوچ کے بارے میں نہیں کہنی چاہیئے لیکن پھر میں نے سوچا کہ نہیں کوء کچھ بھی کہے تم اس سے بدتر کے حقدار ہو کیونکہ " جو بلوچ ہے وہ پاکستانی نہیں اور جو پاکستانی ہے وہ بلوچ نہیں " پنجابی صرف وہ نہیں جس کا باپ پنجابی ہے بلکہ وہ بلوچ بھی پاکستانی بے نسل پنجابی ہے جو اپنے مادر وطن کی دلالی ان پنجابی فوجیوں کیلئے کرتا ہے۔

اتوار، 25 اکتوبر، 2015

بلوچستان، سب سے خونریز جنگ :تحریر : لارا سیکورن پیلیٹ


اگر آپ گوگل پر ’’پاکستان‘‘ لکھ کر سرچ کریں تو آپ کو دہشتگرد حملوں، ملالہ کی تصاویر یا ’ہوم لینڈ‘ کی اگلی اقساط کے ٹریلرز کے ایک سیلاب کا سامنا ہوگا۔ دراصل، مندرجہ بالا سب چیزیں آپکو ملیں گی۔ لیکن اس ملک کا ایک ایسا خطہ ہے جسکے بارے میں یقیناًآپکو نتائج کے پہلے چند درجن صفحات پر کچھ نظر نہیں آئیگا: وہ ہے بلوچستان۔
تقریباً جرمنی جتنا، یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور غریب ترین صوبہ ہے۔ اور یہ ایک طویل اور خونی خانہ جنگی کا مسکن بھی ہے جو کئی دہائیوں سے چل رہی ہے۔ ایک طرف پاکستان کی مرکزی حکومت ہے۔ دوسری طرف بلوچ قومپرست ہیں جو پاکستان کی پیدائش کے سال 1947ء کے بعد سے اپنی آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو بلوچستان لبریشن آرمی (بلوچ لبریشن آرمی) اور بلوچستان لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ جیسے باغی گروہوں کے ناموں کیساتھ منظم کیا ہوا ہے۔ حکومت بلوچ پر ’’دہشتگر‘‘ کا لیبل لگاتی ہے جبکہ بلوچ فوج پر نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹراٹیجک اسٹڈیز کے مطابق: اس بے یار و مددگار تنازعے کے آغاز کے بعد سے اب تک 11,375 افراد ہلاک اور دیگر ہزاروں لاپتہ ہو چکے ہیں۔
بلوچ اپنی زبان، روایات اور ثقافت کیساتھ ایک نسلی اقلیت ہیں۔ وہ ایران، پاکستان اور افغانستان میں بھی موجود ہیں لیکن اسلام آباد میں حکومت کی طرف اپنے آپ کو شدت کیساتھ محروم اور الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے تنازعے کی شدت کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد یہ دھیمی ہوئی، لیکن 2005 میں مبینہ طور پر ایک فوجی افسر کے ہاتھوں ایک بلوچ ڈاکٹر (غیر بلوچ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد) کی عصمت دری کے بعد یہ نئے سرے سے دوبارہ شروع ہوئی۔ اس سے دونوں اطراف میں تشدد اور جوابی حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، بلوچستان کے دوروں کے دوران اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو قتل کرنے کی دو کوششوں سمیت۔
بلوچ مرکزی حکومت سے کوئی وفاداری نہیں رکھتے۔ لندن میں اسکول آف اوریئنٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں مطالعہ پاکستان کے مرکز سے تعلق رکھنے والے بْرزین واغمر کہتے ہیں کہ، ’’پاکستان نے پہلے ہی سے بلوچستان کھو دیا ہے، لیکن وہ اسے جانے نہیں دیں گے۔‘‘ وہ اسلئے کہ ملک کا غریب ترین، سب سے زیادہ کم آبادی والا علاقہ ہونے کے باوجود یہ تیل، گیس اور دیگر معدنیات جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور تین سرحدوں، بحیرہ عرب کے ساحل اور گہرے سمندر کی بندرگاہ تک رسائی کیساتھ اسٹراٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔
تمام جنگوں کی طرح اس میں بھی دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر غیر انسانی کارروائیوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بلوچ کارکنوں کے اغواء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں رپورٹ کیا ہے۔ لاشیں اکثر خالی جگہوں یا گلیوں میں پھینک دی جاتی ہیں، 2013ء میں 116 لاشیں پھینکی گئیں، اور پاکستانی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کیخلاف بڑے پیمانے پر ماورائے عدالت قتل،
تشدد، جبری نقل مکانی اور مظاہرین کیخلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جنوری 2014ء4 میں بلوچستان میں تین اجتماعی قبریں پائی گئیں۔ ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کا دعویٰ ہے کہ وہاں سینکڑوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنکا تعلق بلوچ نواز تنظیموں کے اراکین سے ہے جنہیں پاکستانی فورسز کی طرف سے اغوا کیا گیا تھا۔ لیکن ایک عدالتی کمیشن نے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کسی بھی طرح کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دیا۔
یہ بات بھی یقینی ہے کہ مسلح عسکریت پسند گروہ (اسلام آباد جن پر نئی دہلی کی طرف سے مالی مدد کا الزام لگاتا ہے) اندھا دھند تشدد سے ناآشنا نہیں ہیں۔ اگرچہ امریکہ بلوچستان کے باغیوں پر دہشتگرد کا لیبل نہیں لگاتی ہے، تاہم ان پر بھی ہزارہا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے جیسا کہ سویلین پشتون ’’آبادکاروں‘‘ کا قتل، ڈاکٹروں سے لیکر تعمیراتی کارکنوں کا قتل، اور صحافیوں کو دھمکانہ اور یہاں تک کہ قتل کرنا۔ مگر پھر بھی اب تک اس طرح کے بیشتر الزامات کی صحیح معنوں میں توثیق کرنا مشکل ہے اسکی وجہ خاص طور پرسے اس علاقے میں رپورٹنگ کرنا کتنا خطرناک ہے۔
پاکستانی فوج بلوچستان میں کسی بھی غیر ملکی صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ 2006ء کے بعد سے نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر ڈیکلن والش اور کارلوٹا گیل سمیت کئی نامہ نگاروں کو بلوچستان میں خفیہ طور پر جاکر رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں ملک بدر کیا گیا ہے۔ اور مقامی نامہ نگار بھی ایسی کوشش کرنے سے بہت خوفزدہ ہیں: امریکہ میں جلاوطن ایک پاکستانی صحافی ملک سراج اکبر، جو بلوچستان میں ایک اخبار کے ایڈیٹر رہے ہیں ، کا کہنا ہے کہ، ’’وہاں ایک غیر تحریر شدہ اتفاق موجود ہے کہ جو بھی بلوچستان پر رپورٹنگ کر رہے ہیں وہ عظیم تر ’قومی مفاد‘ کیخلاف جا رہے ہیں۔‘‘
خواہ یہ کوئی حد مقرر کرے یا نہیں مگر اموات کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔ واغمر کہتے ہیں کہ امن کے قیام کیلئے نشانہ سادھنے کیلئے دونوں اطراف سے سیاسی رضامندی کی ضرورت پڑے گی اور اس تنازعے کے چھ سے زائد دہائیاں گزرنے کے بعد کسی کو بھی مذاکرات کی میز پر آنے کی جلدی نہیں ہے۔


بشکریہ: اوزی ڈاٹ کام، 15 اکتوبر 2015
http://www.ozy.com/acumen/balochistan۔the۔bloodiest۔war۔youve۔never۔heard۔of/63187 


ترجمہ: لطیف بلیدی
(نوٹ: راقم نے مضمون میں چند غلطیاں کی ہیں جن کی تصحیح بریکٹ میں دی گئی ہیں)


ہفتہ، 24 اکتوبر، 2015

نفسیات کے معمار ، اینا فرائڈ



نفسیات کے معمار  ، اینا فرائڈ  
(داستان حیات)
تحریر  : سید اقبال امروہوی

سگمنڈ فرائڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں   ہی اپنا جانشین مقرر کردینا چاہتا تھا۔ لیکن یہ اُس کی بدقسمتی تھی کہ جس کو اُس نے اس کام کے لیے منتخب کیا، وہی اُس کو چھوڑ کر چلا گیا اور اس نے اپنا الگ مکتبِ فکر قائم کرلیا۔ اب وہ چاہے کارل ژونگ ہو یا الفریڈ ایڈلر یا پھر کیرن ہارنائی۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ اُس کا جو بھی جانشین ہو، وہ صرف اس کے نظریات اور اس کے وضع کردہ اُصولوں کی ہی پابندی کرے اور ان حدود سے باہر جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ ظاہر ہے اس کی اس شرائط پر کوئی بھی اپنی زندگی وقف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ لیکن شاید فرائڈ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے کام کو نہایت جاں فشانی اور مکمل توجہ سے آگے بڑھانے میں خود اس کی بیٹی آگے آئے گی۔ اینا سگمنڈ فرائڈ کی آخری اولاد تھی۔
 
سگمنڈ فرائڈ کے کچھ قریبی دوستوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی ایک پوشیدہ اور نامعلوم بیماری کی وجہ سے نہیں چاہتا تھا کہ اس کے اب کوئی اولاد ہو، اور جب اس کو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی اُمید سے ہے تو اس نے چاہا کہ وہ حمل کو ضائع کرادے۔ لیکن اُس کی بیوی نے اُس کا ساتھ نہیں دیا اور 3 دسمبر 1895ء کو اینا پیدا ہوئی۔ اس کی پیدائش کے بعد فرائڈ نے اپنے دوست Dr. Fless کو خط لکھ کر اطلاع دی۔ اس نے خط میں لکھا کہ اگر یہ لڑکا ہوتا، جیسا کہ میری بیوی کو اُمید تھی، تو تمہیں بذریعہ تار اطلاع دیتا۔ لیکن چونکہ لڑکی ہوئی ہے، اس لیے تمہیں خط سے اطلاع دے رہا ہوں۔ فرائڈ کے اس خط سے اس کے میلانِ طبع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اینا کی پیدائش کے بعد فرائڈ کی بیوی بہت اداس اور غمزدہ رہتی تھی۔ اس نے اینا کو اپنا دودھ بھی نہیں پلایا۔ اتنا ہی نہیں، بلکہ وہ اینا کی کوئی خبر نہیں لی۔ یہ وہی آیا تھی جس نے اینا سے پہلے بھی دو بچوں کو دیکھ بھال کی تھی۔ شاید اینا کی یہ حالت دیکھ کر سگمنڈ کو اس پر رحم آیا اور اس نے یہ طے کرلیا کہ وہ اپنی تمام اولاد سے زیادہ اس کو محبت دے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اینا اپنے باپ سے زیادہ وابستگی کا اظہار کرتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اینا ابتداء سے ہی اپنے بہن بھائیوں میں گھل مل کر نہیں رہتی تھی۔ وہ اپنے آپ کو الگ تھلگ رکھتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اُس کو باپ کے علاوہ کسی اور سے اتنا لگاؤ نہیں تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ اُس نے اپنے باپ کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ جب تک وہ زندہ رہا، اس کی خدمت کرتی رہی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے انتھک کوششوں میں لگ گئی۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرائڈ کے بعد تحلیلِ نفسی کی تحریک کو زندہ رکھنے میں اینا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

اینا نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ ایک مرتبہ گھر کے تمام افراد سمندر میں کشتی کے ذریعہ تفریح کرنے کے لیے گئے تو اینا کو اکیلے ہی گھر چھوڑ گئے، اُس وقت اینا نے کچھ نہیں کہا اور اپنے باپ کے پاس رہنے سے مطمٔین ہوگئی۔ لیکن سگمنڈ فرائڈ کو یہ بات ناگوار گزری اور اس نے اینا کو سمجھایا اور اس کی زندہ دلی کی بہت تعریف کی۔ اینا کا بیان ہے کہ اُس دن مجھے اپنے باپ سے جو پیار اور دُلار ملا، وہ میرے لیے اس خوشی سے کہیں زیادہ تھا جو گھر والوں کے ساتھ تفریح پر جاکرملتی۔ اینا کی اس حالت کی وجہ سے اس کی آیا بھی اس کا بہت خیال رکھتی تھی اور اس کے بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ اس سے پیار کرتی تھی۔ اینا نے ایک جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ اس کو اپنی بڑی بہن سے کبھی کبھی رشک ہوتا تھا، کیونکہ وہ اس سے زیادہ خوبصورت تھی۔ لیکن سگمنڈ فرائڈ جب ایسا محسوس کرتا تو اینا سے کہا کرتا تھا کہ خوبصورتی سے زیادہ اہمیت ذہانت کی ہوتی ہے اور جو تمھارے پاس ہے، وہ تمھاری بہن کے پاس نہیں ہے۔
اینا نے اپنی تعلیم 1901ء میں شروع کی، لیکن اس نے اسکول میں کچھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ خود کہتی تھی کہ ۔۔۔۔۔
"اسکول میں میرا دل نہیں لگتا تھا جبکہ گھر پر میں اپنے آپ کو زیادہ پر سکون محسوس کرتی تھی۔"

وہ سگمنڈ فرائڈ کے پاس آنے والے مہمانوں سے بہت کچھ سیکھتی تھی۔ اُس نے ان لوگوں سے کئی زبانیں سیکھ لی تھیں۔ ابتداء میں وہ ان زبانوں میں صرف بات چیت کر سکتی تھی، بعد میں اس نے اطالوی، جرمن اور عبرانی زبانوں میں کافی مہارت حاصل کرلی تھی اور ان زبانوں کی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کیا کرتی تھی۔ 1908ء میں سگمنڈ فرائڈ کے گھریلو حالات ناخوشگوار ہوگئے۔ اُس کے دو بیٹے الگ ہوگئے۔ اس وقت اینا کی عمر 14 سال کی تھی۔ اُس کو اس بات کا احساس تھا کہ بھائیوں کے مستقبل کے بارے میں اس کا باپ فکر مند رہتا ہے اور اس کو اس بات کا افسوس ہے کہ بیٹوں نے اس کا پیشہ اختیار نہیں کیا، تاکہ اس کام کو آگے بڑھایا جاسکے۔ اس نے ایک دن اپنے باپ سے کہا کہ وہ اس تحریک میں دلچسپی لینا چاہتی ہے۔ اس نے تحلیلِ نفسی کے بارے میں تھوڑا بہت پڑھ رکھا تھا۔ شاید اِس طرح وہ اپنے باپ کے دُکھ دُور کرنا چاہتی تھی۔

ایک دن فرائڈ اینا کو لے کر چہل قدمی کررہا تھا۔ وہ ایک خوبصورت اور روح افزا مقام تھا۔ راستہ کے دونوں جانب خوبصورت بنگلے تھے۔ فرائڈ نے اینا سے کہا کہ یہ بنگلے باہر سے بہت خوبصورت دکھائی دے رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان مین رہنے والے بھی پُرسکون اور قابلِ رشک زندگی گزار رہے ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر ان بنگلوں کے اندر کے حالات معلوم کیے جائیں تو معلوم ہوگا کہ اِن کے مکین بھی تمہاری ہماری طرح پریشان ہیں۔ یہی حال انسان کا ہے کہ وہ باہر سے جو نظر آتا ہے وہ اندر نہیں ہوتا۔ اس کے اندر کے حالات اس سے مختلف ہوتے ہیں۔ فرائڈ کو احساس ہوگیا کہ اینا اس کی تحریک میں دلچسپی لے رہی ہے تو اُس نے اینا کو اجازت دے دی کہ وہ بدھ کے دن ہونے والی میٹنگوں میں شرکت کرسکتی ہے، لیکن اُس کو بحث میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اُس کے بعد اینا بدھ کے دِن فرائڈ کے گھر ہونے والی میٹنگوں میں شرکت کرنے لگی اور گھر میں سیڑھی پر بیٹھ کر وہ غور سے اُس تحریک کے بارے میں ہونے والی بحث کو سنا کرتی تھی۔

1912ء میں اینا نے گریجویشن مکمل کرلیا اور اس کے ساتھ ہی اس کے سامنے ایک سوال کھڑا ہوگیا کہ اب وہ کیا کرے اور اپنے مستقبل کے لیے کون سی راہ اختیار کرے؟ اسی دوران فرائڈ نے اُس کو اُس کی نانی کے پاس سسلی روانہ کردیا تاکہ وہ اپنی صحت کی طرف توجہ دے۔ فرائڈ کے اس فیصلہ کے پسِ پشت اصل وجہ یہ تھی کہ اس کی بڑی لڑکی صوفیہ نے اپنی شادی کا اعلان کردیا تھا اور وہ بھی ایک ایسے فرد کے ساتھ جس کو نہ وہ اچھی طرح جانتی تھی اور نہ اس کے والدین اس سے واقف تھے۔ اس نے یہ فیصلہ چند ملاقاتوں کے بعد ہی کرلیا تھا۔ سگمنڈ فرائڈ اپنی بیٹی کے اس فیصلہ سے خوش نہیں تھا۔ اتنا ہی نہیں، وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اینا اپنی بہن کی شادی میں شرکت کرے۔ وہ خط کے ذریعہ اینا کو گھر کی تمام خبریں دیتا رہتا تھا۔ اُس نے ایک خط میں لکھا کہ ۔۔۔۔۔

"مجھے افسوس ہے کہ تم اپنی بڑی بہن کی شادی میں شرکت نہیں کرسکتیں، لیکن اس سے زیادہ یہ اہم ہے کہ تم اپنی صحت کا خیال رکھو۔"
اپنا کو اس خط سے اپنی بہن کی شادی کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کو ایک صدمہ پہنچا، لیکن اس نے اس کا اظہار نہیں کیا۔
1914ء میں اینا نے ابتدائی اسکولوں میں تعلیم دینے کی تربیت حاصل کی اور یہ امتحان پاس کرنے کے بعد وہ برطانیہ چلی گئی جہاں اُس کو اپنے اتالیق لیوکان کے ساتھ رہنا تھا۔ لیوکان سگمنڈ فرائڈ کی مریضہ رہ چکی تھی اور اس کی بہت احسان مند تھی۔ جب اینا ریلوے سے اُتری تو اُس کے استقبال کے لیے اُس کی اتالیق کے علاوہ ایک اور شخص بھی پھولوں کا گلدستہ لے کر کھڑا تھا۔ اس کا نام Dr. Ernst Jonesتھا۔ اینا کے لیے یہ شخص اجنبی تھا لیکن سگمنڈ فرائڈ اُس کو جانتا تھا اور اُس نے لیوکان کو خاص طور پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر جونس اینا سے کوئی تعلق نہ رکھے۔ لیکن نہ جانے کس طرح اس کو اینا کی عمر 18 سال تھی اور جونس کی عمر 35 سال تھی۔ لیوکان نے اینا کو فرائد کے وہ خطوط دکھائے جن میں اس نے ڈاکٹر جونس سے دُور رہنے کی تاکید کی تھی۔ اینا نے اپنے باپ کے کہنے پر عمل کیا، جبکہ ڈاکٹر جونس ہر لمحہ اُس کے قریب آنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیوکان نے فرائڈ کو ان تمام حالات سے باخبر کیا تو فرائڈ نے اپنی پیاری بیٹی کو ایک خط لکھا۔۔۔

"مجھے معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر جونس تم سے تعلقات بڑھانے میں سنجیدہ ہے اور تمہاری زندگی میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی مرد تمہاری طرف کھنچتا چلا آرہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کچی عمر میں تم اُس کے جال میں پھنس سکتی ہو۔ اس لیے تم کو پہلے سے ہی متنبہ کرتا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہنا اور جوانی کو رو میں بہک نہ جانا۔ میرے خیال میں یہ بات صاف کردینا ضروری ہے کہ میں تمہاری بہنوں کی طرح تمہیں اِس سلسلہ میں آزادی دینے کے حق میں نہیں ہوں۔ اُن کی بات الگ تھی اور تمھاری بات الگ ہے۔ مجھے امید ہے کہ تم اپنی زندگی کے بارے میں اہم فیصلہ کرتے وقت ہمیں نظر انداز نہیں کرو گی اور ہمیں وہ خوشیاں دوگی جن پر ہمارا حق ہے۔"

اینا اپنے باپ سے اس قدر لگاؤ رکھتی تھی کہ اُس کی بات کو ردّ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی تھی۔ حالانکہ وہ ڈاکٹر جونس کی طرف مائل تھی، لیکن سگمنڈ فرائڈ کے اس خط کے بعد اُس نے ڈاکٹر جونس سے قطع تعلق کرلیا۔

1915ء میں اینا نے ٹیچرس ٹریننگ مکمل کرلی اور مقامی اسکول میں ابتدائی کلاسوں میں تعلیم دینے لگی، ساتھ ہی اُس نے سگمنڈ فرائڈ کی کتابوں کا جرمنی میں ترجمہ شروع کر دیا۔ کتابوں کے ترجمہ کے دوران وہ فرائڈ کے نظریات کو بہتر طریقہ پر سمجھنے کی کوشش کرتی تھی اور ضرورت پڑنے پر خط و کتابت کے ذریعہ اپنے باپ سے مشورہ بھی لیتی تھی۔ اُس نے اپنی کلاس کے بچوں پر نفسیات کا اطلاق کیا، اس نے اُن کا نفسیاتی جائزہ لینا شروع کیا اور ہر بچہ کا ایک ریکارڈ مرتب کیا۔ وہ ہر بچہ پر گہری نظر رکھتی، اُن کے کردار کا مشاہدہ کرتی اور اس طرح ان کی شخصیت کے خصائص جاننے کی کوشش کرتی۔ اینا کی ان کوششوں کے اچھے نتائج برآمد ہوئے اور اُس نے ان تجربات سے آگے جاکر بہت فائدہ اُٹھایا۔ 1917ء میں اس کا تپِ دق کا عارضہ لاحق ہوگیا، جس کی وجہ سے اُس کو اسکول سے طویل مدت کے لیے غیر حاضر رہنا پڑا۔ فرائڈ کے کچھ مخالفین کا یہ کہنا تھا کہ اینا اپنے اندر ایک گھٹن محسوس کرتی تھی کیونکہ وہ اپنے باپ کی جابرانہ طبیعت کی وجہ سے اپنے پسندیدہ فرد کو اپنا جیون ساتھی نہ بناسکی، اس لیے وہ ٹی۔ بی کا شکار ہوگئی۔ بہرحال اِس بات کو ہم مخالفین کا ایک حربہ سمجھ کر نظر انداز کرسکتے ہیں۔ چونکہ اس زمانے میں تپِ دق کا کوئی مؤثر علاج میسر نہیں تھا، اس لیے اس کی کمزوری میں اضافہ ہوتا رہا اور اس کی کمزوری کی وجہ سے اور دوسری بیماریوں نے بھی حملہ کر دیا۔ اس لیے وہ اسکول میں درس و تدریس کی ذمہ داریوں کو نہیں نبھا سکی۔

1918ء میں اُس نے ایک منصوبہ شروع کیا، جس کو اس نے Project Teaching کا نام دیا۔ اُس نے اس منصوبہ کی خبر سن کر ہنگری کی ایک تنظیم نے اُس کو مدعو کیا۔ حالانکہ اُس کی تقرری عارضی تھی، لیکن یہ منصوبہ اتنا کامیاب ہوا کہ اُس کے چلے آنے کے بعد بھی اس تنظیم نے اُس کو جاری رکھا، کیونکہ اِس منصوبے سے جڑے ہوئے طلباء میں ایک نئی لگن اور شوق پیدا ہوجاتا تھا۔ اسی دوران فرائڈ کا پورا خاندان انفلوئنزا کا شکار ہوا، اور یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اینا کی بڑی بہن کی موت واقع ہوگئی۔ اینا بھی اس بیماری میں مبتلا ہوئی۔ ایک تو پہلے سے ہی صحت کا خراب ہونا اور پھر جسمانی کمزوری میں اِس بیماری کا شدید حملہ، جس کی وجہ سے اینا ایک طویل عرصہ تک کسی کام کے قابل نہیں رہی اور اس نے درس و تدریس کا سلسلہ منقطع کردیا۔ اس نے کوشش کی کہ وہ خود اپنی تحلیلِ نفسی کرے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے باپ سے مشورہ کرتی رہی اور اس کی ہدایات کے مطابق کرتی رہی۔

پھر اس کی زندگی میں ایک اور شخص آیا جس کا نام ہنس تھا اور اینا کے بڑے بھائی مارٹن کا دوست تھا۔ پیشہ سے وہ ڈاکٹر تھا اور سگمنڈ فرائڈ کی تحلیلِ نفسی کا حامی تھا اور سی طریقہ سے وہ علاج کیا کرتا تھا۔ دونوں کی ملاقات ایک کانفرنس میں ہوئی اور پھر دونوں اکثر ملنے لگے۔ سگمنڈ کو جب ان ملاقات کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے ہنس کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اس سے ملاقات بھی کی۔ 1920ء میں ایک ایسا موقع آیا کہ ہیگ میں منعقد ہونے والی تحلیل نفسی کانفرنس میں فرائڈ، اینا اور ہنس، تینوں نے شرکت کی اور اس طرح سگمنڈ فرائڈ کو ہنس کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس سے تبادلہ خیالات کرکے اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد سگمنڈ فرائڈ کا ہنس کے بارے میں نظریہ بدل گیا اور اُس نے ہنس کو اینا کے لیے مناسب نہیں سمجھا۔ جب اینا کو اپنے باپ کے خیالات کا پتا چلا تو اس نے فرائڈ کو ایک خط لکھا اور ہنس سے اپنے تعلقات کے بارے میں اعتراف تو کیا، لیکن اس نے یہ بھی لکھ دیا کہ اپنے باپ کے فیصلہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اس نے ہنس سے شادی کرنے کا ارادہ چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے اس فیصلہ سے خوش نہیں تھی اور یہ فیصلہ صرف اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے کیا تھا۔



1920ء میں ہی وہ ایک ایسی تنظیم سے رضاکارانہ طور پر منسلک ہوگئی جو ایسے یہودی بچوں کی فلاح و بہبودی کے لیے کام کرتی تھی جو یتیم ہوگئے تھے یا جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوگئے تھے۔ اس تنظیم سے جڑ جانے کے بعد اُس کو بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کے اچھے مواقع ملے اور ان سے اس نے بہت فائدہ اُٹھایا۔ وہاں جب وہ بچوں سے گفتگو کرتی تھی تو وہ اُن کے ذہن میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتی تھی اور اس طرح ان کی جذباتی کیفیت اور نفسیاتی ردِ عمل کے بارے میں بہت کچھ جان گئی تھی۔ یہ تجربات آگے چل کر اس کے بہت کام آئے کیونکہ اس نے بعد میں بچوں کی تحلیلِ نفسی کا طریقہ ایجاد کیا تھا۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا کہ اینا نے خود اپنی تحلیلِ نفسی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس سلسلہ میں وہ سگمنڈ فرائڈ سے بھی تبادلہ خیالات کرتی رہتی تھی۔ سگمنڈ نے اس کام کے لیے چار سال کا وقفہ لیا اور 1922ء میں اُس نے اینا کی تحلیلِ نفسی مکمل کرلی۔ اس وقت فرائڈ کو اپنی بیٹی کے لاشعور میں دبی ہوئی کیفیات کا علم ہوا اور اُس جو احساس ہوا کہ دو مرتبہ اُس نے اپنی بیٹی کو اپنا گھر بسانے سے روکا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اینا نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب کبھی شادی نہیں کرے گی۔ اینا کی ذہنی اُلجھنوں کو جان لینے کے بعد اس کی جذباتی کیفیت سے واقف ہونے کے بعد سگمنڈ فرائڈ خود جذباتی ہوگیا اور اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ اینا کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور اس کی خواہشات اور تمناؤں کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور اس کے بعد اس نے ایسا ہی کیا اور اینا کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کی۔

1923ء میں اینا کو معلوم ہوا کہ سگمنڈ جبڑے کے کینسر کا شکار ہوگیا ہے اور ڈاکٹروں نے یہ بات صرف اینا کو ہی بتائی تھی۔ لیکن جب فرائڈ کے جبڑے کا پہلا آپریشن ہوا تو اُس کو بھی احساس ہوگیا کہ وہ کس جان لیوا بیماری میں مبتلا ہے۔ اُدھر اینا بھی اب اپنے باپ کی دیکھ بھال میں خاص خیال رکھتی تھی۔ فرائڈ کے دوستوں میں سے ایک کا خیال تھا کہ اُس وقت فرائڈ معاشی طور پھر بھی بہت کمزور ہوگیا تھا اور اکثر اپنے دوستوں سے قرض لے کر اپنا کام چلایا کرتا تھا۔ اینا کو اس بات کی بھی فکر تھی اور اس نے اپنے باپ کی اس سلسلہ میں بھی مدد کی اور وہ خود اس کے ساتھ اس کی کلینک میں موجود رہتی تھی۔

1925ء میں اینا ایک مریض کے علاج کے دوران اُس کی ماں سے ملی جو خاص طور پر فرائڈ سے علاج کرانے کے لیے امریکہ سے ویانا آئی تھی۔ اُس کے ساتھ کئی بچے تھے لیکن اس کا شوہر اس کے ساتھ نہیں تھا، کیونکہ وہ خود ذہنی بیماریوں کا شکار تھا اور گھر بھر کے لیے مسائل پیدا کرتا تھا۔ اُس خاتون کا نام ڈورتھی تھا۔ اینا اُس خاندان سے بہت متاثر ہوئی اور اُن دونوں مین ایک دوسرے کے لیے اتنی وابستگی تھی کہ کچھ لوگ اُن پر ہم جنسیت کا الزام لگانے لگے۔ لیکن اُن دونوں نے اس بات کا خیال نہیں کیا اور اپنی دوستی زندگی بھر نبھائی۔ اسی طرح ایک اور خاتون Evaاینا سے ملی وہ بھی اپنے لڑکے کا علاج کرانے ویانا آئی تھی اور اینا نے اُس کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیا۔ فرائڈ کے آپریشن کے بعد اینا نے اس کے زیادہ تر کام اپنے ذمہ لے لیے تھے اور ساتھ ہی وہ فرائڈ کی تخلیقات کا جرمن زبان میں ترجمہ بھی کررہی تھی، جس سے خاصی آمدنی ہوجاتی تھی۔ 1929ء کے بعد فرائڈ اپنے کلینک میں بہت کم آتا تھا۔ اس نے تحلیلِ نفسی کی تحریک کے ترجمان کی حیثیت سے ایک رسالہ بھی شروع کیا تھا جس کا نام Verlag تھا۔ اب اس کی ادارت کی ذمہ داری بھی اینا نے سنبھال لی تھی۔

اینا کی شخصیت نفسیات کے لیے صرف اس لیے اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ وہ سگمنڈ فرائڈ کی بیٹی تھی اور اس نے فرائڈ کے کام کو آگے بڑھایا، بلکہ وہ خود ایک ماہرِ نفسیات تھی اور نفسیات کے لیے اُس کی خدمات خاص طور پر اس لیے قابلِ ذِکر ہیں کیونکہ اُس نے بچوں کی نفسیات میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا اور بچوں کی تحلیلِ نفسی کا طریقہ ایجاد کیا۔ جبکہ اس کام کے لیے فرائڈ نے مجبوری جتائی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تلازم کے طریقہ سے تحلیلِ نفسی کے لیے یہ ضروری ہے کہ مریض تحلیل کار کے سوالات کے بغیر سوچے جواب دے اور جواب دینے میں وقفہ نہ لگائے۔ یہ بات بچوں کے ساتھ ممکن نہیں کیونکہ اُن کے لیے کسی بھی سوال کے جواب میں یقینی طور پر وقفہ ردِعمل طویل ہوگا جو تحلیلِ نفسی کے مقاصد کو حل نہیں کرسکتا۔ اس سلسلہ میں اینا جتنی مشق کی اتنی ہی مہارت حاصل کی اور ایک ایسا بھی موقع آیا کہ اُس کو اس بارے میں اپنے باپ سے پزیرائی ملی، کیونکہ فرائڈ جانتا تھا کہ بچوں کے مسائل الگ ہوتے ہیں اور بڑوں کے الگ، اور اسی طرح اُن کے امراض، کیفیات اور اُن کے سوچنے کے انداز بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن وجوہات سے بڑے افراد کا شکار ہوتے ہیں، وہ وجوہات بچوں کے امراض کا باعث نہ ہوتی ہوں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بڑے افراد نشونما کے آخری مراحل میں ہوتے ہیں۔ اینا نے اس سلسلہ میں بہت اہم کام انجام دیئے، کیونکہ وہ بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں درپیش آنے والے مسائل پر اہنی توجہ مرکوز رکھتی تھی اور بچوں کے والدین کی اس سلسلہ میں رہنمائی کرتی تھی۔

اینا نے محسوس کیا کہ وہ خود ایک نفسیاتی مریض ہوتی جارہی ہے کیونکہ اس کی زندگی اپنے والد کی تیمارداری اور اپنے کام میں مصروفیت تک ہی محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ سگمنڈ فرائڈ کی صحت کچھ بہتر ہوگئی تو 1927ء میں وہ اپنی دوست ڈورتھی کے ساتھ شمالی اٹلی کے سفر کے لیے نکل گئی تاکہ وہاں کے پُرفضا مقامات سے لطف اندوز ہوکر اپنی بوریت کو دُور کرسکے۔ اس سفر سے اس کی اور ڈورتھی کی دوستی کو اور زیادہ پائیداری ملی اور دونوں نے محسوس کیا جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتیں۔ اس سلسلہ میں خاص طور پر ڈورتھی۔، اینا اور اس کے باپ فرائڈ کی بہت احسان مند تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اینا کے سامنے وہ اپنی شخصیت کو دبا ہوا محسوس کرتی تھی۔ دونوں نے مل کر وہاں ایک چھوٹا سا بنگلہ بھی خریدلیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ سال میں ایک دو مرتبہ ضرور یہاں آیا کریں گی۔ اس پُر فضا ماحول کا اثر یہ ہوا کہ اینا نے اپنے باپ کو لکھ دیا کہ وہ یہاں بہت زیادہ پُرمسرت محسوس کررہی ہے اور وہ اس مقام پر دو تین ہفتہ اور رہنا چاہتی ہے۔ اس نے وہاں کے قیام کے دوران ایک کتاب بھی لکھی جس کا عنوان تھا۔ Psychoanalysis for Teachers and Parents ا اور جب واپس آنے پر اُس نے اس کتاب کا مسودہ فرائڈ کو دکھایا تو اس نے اس تخلیق کی تعریف کی ۔
1929ء کے بعد ملک میں انقلاب کے آثار نمودار ہونے لگے اور ہر جگہ افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔، جس کے ساتھ ہی ملک میں معاشی بحران کے آثار دکھائی دینے لگے۔ آسٹریا کے حکمران نے کوشش کی کہ وہ اپنے ملک کو جنگ کی ہولناکیوں سے دُور رکھے اور اُس نے اپنے آپ کو جرمنی سے الگ رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا اور 1931ء میں اُس کے ملک پر ہٹلر نے قبضہ کرلیا اور اس کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ان حالات کی وجہ سے اینا کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا اور اس کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوگئے۔ وہ جس رسالہ کی اشاعت سے کچھ آمدنی کر پاتی تھی، اُس کی فروخت بھی کم ہوگئی اور بند ہونے کی کگار پر پہنچ گیا۔

یہودیوں کو جس بات کا خطرہ تھا، وہ سامنے آگئی اور ہٹلر نے ویانا میں بھی ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا۔ اس نے احکامات جاری کیے کہ ہر یہودی کے گھر کی تلاشی لی جائے اور جہاں جہاں یہودی مل کر بیٹھتے ہیں، ایسے اداروں کو بند کردیا جائے اور ان کی جائیداد پر قبضہ کرلیا جائے۔ ایسی صورت میں اب فرائڈ کے گھر پر ہر بدھ کو ہونے والے اجلاس بھی بند ہوگئےاور اینا نے محسوس کیا کہ وہ اب اس تحریک کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے گی۔ کیونکہ فرائڈ کی صحت دن بہ دن گرتی جارہی تھی جس کی وجہ وہ اب زیادہ وقت اس کام کے لیے نہیں دے سکتا تھا۔ یہودیوں نے ویانا چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور جس کو جس طرح موقع ملا، اس نے اس ملک سے نکل جانا ہی بہتر سمجھا۔ ویانا کی تحلیل نفسی سوسائٹی کی مرکزی حیثیت تھی اور اینا اور سگمنڈ فرائڈ یہ چاہتے تھے کہ ویانا سائیکلو انا لائٹیکل سوسائٹی کمزور نہ وہنے پائے اور وہ دونوں اپنی اس کوشش میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ جونکہ تحلیلِ نفسی سے منسلک بہت سے لوگ ویانا چھوڑ چکے تھے، اس لیے اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ اینا اس سوسائٹی کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اس طرح اُس کو دو محاذوں پر کام کرنا تھا۔ ایک طرف وہ خود اپنی قائم کی ہوئی تنظیم Child Guidance Centre کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھی تو دوسری طرف ویانا کی تحلیلِ نفسی کی سوسائٹی کو واٗس چیرمین مقرر کر دی گئی تھی۔ پھر اپنے بیمار باپ کی تمارداری بھی اسی کے ذمہ تھی جس کو وہ پاقی تمام ذمہ داریوں سے اہم تصور کرتی تھی۔ 

بچوں کی تحلیل نفسی سے متعلق اس کی تحریک ذور پکڑنے لگی تھی اور دنیا کے مختلف ممالک نے اس طرف توجہ کی۔ خاص طور پر امریکہ میں اس سلسلہ میں زیادہ دلچسپی پائی جاتی تھی۔ امریکہ میں ایک رسالے کی اشاعت شروع کردی گئی تھی جس کا کام اس موضوع کی تشہیر کرنا تھا۔ اس رسالے کی مہمان مدیر کی حیثیت سے اینا کو مدعو کیا گیا۔ حالات سازگار نہ ہوتے ہوئے بھی اس نے اس جریدہ کے ادارتی بورڈ میں شرکت کی حامی بھرلی، ساتھ ہی اس نے مقالات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے ذریعہ اس نے بچوں کی تحلیل نفسی پر بہت کام انجام دیئے۔ اس موضوع کو عالمگیر بنانے میں اس کوشش ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اسی جریدہ کا 1935ء میں خصوصی نمبر جاری کیا گیا بچوں کی تحلیل نفسی کے لیے اینا کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتا تھا۔ اس شمارے کی اشاعت کے بعد اینا کے کام کی اہمیت پوری دنیا کے سامنے آئی اور اس کی شہرت میں اضافہ ہوتا رہا۔ اس شعبہ سے منسلک افراد دور دُور سے اُس سے ملنے آیا کرتے تھے۔

جیسا کہ سگمنڈ فرائڈ کے تذکرہ میں بیان کیا گیا ہے، ہٹلر نے 1933ء میں تحلیل نفسی پر ویانا میں پابندی عائد کردی تھی۔ اس لیے یہ زمانہ فرائڈ کے خاندان کے لیے کافی تکلیف دہ تھا۔ تازیوں کے ظلم سے یہودی بہت پریشان تھے اور ان کی طرح طرح سے ایزائیں دی جاتی تھیں اور پریشان کیا جاتا تھا۔ فرائڈ کی امریکہ میں کافی عزت کی جاتی تھی، اسی طرح برطانیہ میں بھی اس کے کام کی کافی قدر کی جاتی تھی۔ اس نے برطانیہ میں اپنے حامی اور ہمدرد افراد کے وسیلہ سے کسی طرح ویانا سے نکل جانے کی اجازت حاصل کرلی اور وہ 1936ء میں لندن چلا گیا۔ اس وقت تک اس کی بیماری کافی بڑھ چکی تھی اور اس کو سخت تکلیف کا سامنا تھا اور یہ بات اینا کو ہر وقت پریشان رکھتی تھی اور یہ پریشانی فرائڈ کی موت کے بعد ہی ختم ہوئی۔

اینا نے لندن میں آتے ہی اپنا کام شروع کردیا تھا اور وہاں اس کے کام کی قدر بھی کی جاتی تھی۔ لیکن وہاں اس کو کچھ مخالفین سے بھی واسطہ پڑا، یہ وہ لوگ تھے جو فرائڈ کے بھی مخالف رہ چکے تھے۔ اینا کے ساتھ اس کی دوست ڈورتھی بھی لندن آگئی تھی۔ اس نے اینا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مخالفین سے حراساں نہ ہو بلکہ اپنا کام جاری رکھے۔ ان دونوں نے مل کر لندن میں ایک ادارہ قائم کیا اور اس کے ذریعہ ایسے بچوں کا نفسیاتی مطالعہ کیا جاتا تھا جو جنگ کی وجہ سے بے سہارا ہوگئے تھے۔ ان بچوں کو مادرانہ شفقت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی نفسیاتی کیفیت پر گہرے اثرات پڑتے تھے۔ اینا نے اس سلسلہ میں بہت کام کیا اور ایک ایسی فلاحی تنظیم قائم کی جو ایسے بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اس تنظیم میں ایسی رضا کار خواتین کو مدعو کیا جاتا تھا جو اپنی اولاد سے محروم ہوچکی تھیں اور ان کو تربیت دی جاتی تھی کہ وہ اس تنظیم میں موجود بے سہارا بچوں کو مادرانہ شفقت دے کر ان سے ایک رشتہ قائم کریں اور ان سے وابستگی کا احساس دلائیں تاکہ بچے اپنے والدین کی کمی کو محسوس نہ کریں۔ اینا کی یہ کوشش بہت کامیاب ہوئی اور لندن کے عوام نے اس کی بہت ہمت افزائی کی۔ یہ تنظیم آج بھی قائم ہے اور اب ایک یتیم خانہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس تنظیم کے تحت جن بچوں کو رکھا گیا تھا ان کی ذہنی کیفیت کا مطالعہ کیا گیا اور اس موضوع پر اینا نے کئی مقالات لکھے جو کافی مقبول ہوئے۔

1947ء میں اینا نے بچوں کے نفسیاتی علاج کے لیے ایک کورس کی ابتداء کی جس کے تحت ایسے ڈاکٹروں کو تربیت دی جاتی تھی جو بچوں کے امراض میں مہارت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ تربیت گاہ مقبول ہوئی اور اس میں لوگوں نے کافی دلچسپی دکھائی۔ پانچ سال کے بعد اینا نے اسی تربیت گاہ سے منسلک ایک کلینک بھی قائم کردی، جہاں بچوں کا علاج کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تربیت پانے والے ڈاکٹروں کے تجربہ کے زرائع بھی دستیاب ہوگئے تھے۔ اینا کے اس قدم سے کافی اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ اینا نے بچوں کی نفسیات بھی ایک مضمون کی حیثیت سے شامل کردیا اور اس موضوع پر وہ خود لیکچر دیتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ ادارہ بچوں کی نفسیات کے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرگیا اور لندن میں کافی مقبولیت حاصل کرلی۔ اس تنظیم سے برطانیہ کے بہت سے ماہرینِ نفسیات بھی منسلک ہوگئے اور بچوں کی نفسیات پر کام کرنے لگے۔

1950ء تک اس ادارہ کی شہرت دنیا کے بہت سے ممالک تک پہنچ گئی تھی، خاص طور پر امریکہ میں اس سلسلہ میں کافی دلچسپی لی جارہی تھی اور 
اینا کو وہاں سال میں کئی بار لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ اینا نے بچوں کی ذہنی کیفیت اور نفسیاتی مسائل کے سلسلہ میں تقریباً بیس سال تک مختلف ممالک کا دورہ کیا اور وہاں ایسے بچوں کے علاج کے لیے ادارے قائم کیے جنھیں مادرانہ شفقت اور جزباتی وابستگی کی ضرورت تھی۔ اپنے موضوع سے اس کی والہانہ دلچسپی، جو دیوانگی کی حد تک پہنچ گئی تھی، اسے چین سے بیٹھے ہی نہیں دیتی تھی اور اس سلسلہ میں اس کی دوست ڈورتھی برابر اس کے شانہ بشانہ اس سے تعاون کرتی تھی۔ اینا کو "پرجوش فیض بخش معلمہ" کہا جاتا تھا۔ اس کی خدمات کو سراہنے کے لیے اس نے جو ادارہ لندن میں قائم کیا تھا، اس کا نام Anna Freud Centre رکھ دیا گیا۔ اینا فرائڈ اپنی شہرت کے ایک بلند مقام پر پہنچنے کے بعد 9 اکتوبر 1982ء کو انتقال کرگئی۔ جس گھر میں وہ رہتی تھی، اُس کو فرائڈ میوزیم میں تبدیل کردیا گیا، ساتھ ہی اسی جگہ تحلیل نفسی سے متعلق تحریک کا مرکز بھی قائم کردیا گیا۔

اینا فرائڈ نے زندگی بھر ایک فعال زندگی گزاری۔ بچوں کی نفسیات کے بارے میں اس کوششوں کا اوپر تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نفسیات میں اس کے دفائی میکانیہ سے متعلق نظریہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس نے اپنے باپ کے مفروضہ (اڈ) کو زیادہ اہمیت نہیں دی بلکہ اس کے خیال میں انا کی نشونما کی اہمیت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے فرد مسلسل جدوجہد کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ اس نے اپنے ساتھی دوسرے ماہرین نفسیات، خاص طور پر Erik Erikson, Edith Jacobson اور Margarate Mahler کے خیالات اور تجربات سے بھی استفادہ کیا۔ اس نے ایسے ماہرینِ نفسیات کا ایک گروپ تشکیل دیا تھا جو بچوں کی نفسیات سے دلچسپی رکھتے تھے اور اس گروپ میں بچوں کے مسائل پر بحث ہوا کرتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اینا کی ان کوششوں کی وجہ سے طفلانہ نشونما سے متعلق بعض نظریات وضع کیے گئے اور یہ بات واضح کی گئی کہ بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت ان کے نشونما پر اثر انداز ہوتی ہے اور ساتھ ہی ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی اپنے اثرات چھوڑ جاتی ہے۔ حالانکہ اب بچوں کی نفسیات کا شعبہ نفسیات نمو میں ضم ہوگیا ہے، لیکن اینا فرائڈ نے اس سلسلہ میں جو کام کیے ہیں، ان کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس نے بچوں میں پیدا ہونے والے نفسیاتی عارضوں کے علاج اور ان کی پہچان کی جو تکنیک ایجاد کی تھی، اس کی وجہ سے اینا فرائڈ کا نام نفسیات میں ہمیشہ باقی رہے گا۔ اینا فرائڈ کی تخلیقات The writings of Anna Freud کی شکل میں سات جلدوں میں دستیاب ہیں، جس میں اس کی تمام تخلیقات شامل ہیں اور اس میں اس کی شہرہ آفاق تخلیق The Ego and the Mechanism of Defense بھی شامل ہے۔ اینا نے اپنے باپ کی زندگی اور اس کے کام کو 24 جلدوں میں پیش کیا ہے، جس میں اس نے سگمنڈ فرائڈ کو پڑھنے کے بعد فرائڈ کو بہتر طریقہ پر سمجھا جاسکتا ہے اور اسی کام کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے اپنے باپ سے وابستگی کا حق ادا کردیا۔

جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

قانون میں ڈی این اے ٹیسٹ سے مجرم کی کیسے شناخت کی جاتی ہے


فورینزک سائنس وہ علم ہے جو قانونی مسائل حل کرنے میں عدالتوں کی مدد کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک وسیع موضوع ہے لیکن گزشتہ تیس سالوں کے دوران تفتیشی معاملات میں ڈی این اے کے نمونوں کے استعمال نے اس علم کو جدت اور تکمیل کی نئی بلندیوں سے روشناس کرایا ہے۔ ڈی این اے کی حیثیت جانداروں کیلئے ایک آئین کی سی ہوتی ہے جس میں لکھی ہوئی ہدایات پر اس جاندار کے تمام ظاہری خدوخال اور افعال کا دارومدار ہوتا ہے۔

یہ چار بنیادی اکائیوں، جنہیں نیوکلیوٹائیڈز کہتے ہیں، سے بنا ہوتا ہے۔ ان نیوکلیوٹائیڈز کو اختصار کی غرض سے انگریزی حروف اے، سی، جی اور ٹی کے طور پر لکھا جاتا ہے۔

چونکہ ہرجاندار میں ڈی این اے ہوتا ہے اور ڈی این اے کی ترتیب میں ایسا تنوع پایا جاتا ہے کہ اس کی مدد سے اس جاندار کو شناخت کرنا ممکن ہے، لہٰذا فوجداری نوعیت کے مقدمات میں اگر کوئی حیاتیاتی نمونہ بطور شہادت میسر ہو تو اس نمونے میں سے ڈی این اے حاصل کرکے اس کے ماخذ تک پہنچا جاسکتا ہے۔
ڈی این اے کو قانونی معاملات میں استعمال کرنے کا خیال برطانوی ماہرجینیات ڈاکٹر الیک جیفری نے پیش کیا۔ وہ موروثی بیماریوں پر تحقیق کے دوران ولدیت اور امیگریشن کے تنازعات کو جینیاتی بنیادوں پر حل کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
لیسٹر یونیورسٹی میں اپنی تحقیق کے دوران انہوں نے دریافت کیا کہ تمام انسانوں کے ڈی این اےمالیکیول میں مخصوص مقامات پر نیوکلیوٹائیڈز کی تنوع پزیر ترتیب پائی جاتی ہے تاہم اس ترتیب کی لمبائی ہر انسان کے ڈی این اے میں مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ایک انسان میں اس ترتیب کی لمبائی اسّی نیوکلیوٹائیڈز ہے تو دوسرے میں بیاسی یا چوراسی نیوکیوٹائیڈزہوگی یا ہوسکتاہے کہ اٹھہتر یا چھہتر نیوکلیوٹائیڈز ہو۔ یہ مخصوص مقامات جینیٹک مارکر کہلاتے ہیں۔
ڈاکٹر جیفری کو خیال آیا کہ جینیٹک مارکرز کے اس تنوع کو انسان کی شناخت کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس تکنیک کو جینیٹک فنگر پرنٹنگ کا نام دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ہر انسان کا جنیٹک فنگر پرنٹ منفرد ہوتا ہے اور سوائے ہمشکل جڑواں بھائیوں/بہنوں کے کوئی دو انسان ایک طرح کے جینیٹک فنگرپرنٹس کے حامل نہیں ہوتے۔ فوجداری معاملات میں ایک سے زیادہ )عموماً 10-13( مارکرز استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہ رہے۔ڈاکٹر جیفری کی دریافت کا فورنزکس میں استعمال سب سے پہلے اسی شہر کی پولیس نے کیا جب لیسٹر یونیورسٹی کا آس پاس کے علاقے ہی میں قتل کی دو وارداتیں ہوئیں۔ تاریخ میں پہلی دفعہ کسی کی بریت یا سزا کا فیصلہ جینیٹک فنگر پرنٹنگ کے ذریعے ہونا تھا۔
1983ء میں یونیورسٹی کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں پندرہ سالہ لنڈا مان کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ تین سال بعد ایک اور پندرہ سالہ لڑکی ڈان اشورتھ کوبھی جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ سترہ سالہ رچرڈ بکلینڈ پولیس کی حراست میں تھااور اس نے دوسری واردات کا اقبال جرم کر رکھا تھا۔ اس اقبال جرم نے تفتیش کاروں کے ذہن میں شکوک و شبہات کو جنم دیاتھا کیونکہ اگر دونوں قتل بکلینڈ نے کئے ہوتے تو پہلے جرم کے وقتاس کی عمر صرف 14 سال ہوتی۔ گتھی سلجھانے کیلئے سراغرسانوں کی ٹیم نے ڈاکٹر جیفری سے مدد طلب کی جنہوں نے دونوں لاشوں پر سے حاصل کئے گئے نطفے سے ڈی این اے کا بکلینڈ کے ڈی این اے کیساتھ موازنہ کرکے اسے بیگناہ قرار دیا۔ ڈی این اے کے موازنے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ دونوں جرائم کا ارتکاب ایک ہی شخص نے کیا ہے۔ ان شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے نے قاتل کو پکڑنے کیلئے ایک بےمثل کام کاعزم کیا۔ چونکہ قاتل کے خون کا گروپ 145اے146 تھا، اوروہ ایک انزائم 147پی جی ایم ون کیلئے پازیٹیو تھا، لہٰذا تین قصبوں سے کل 4582 مردوں کے خون کا گروپ اور ان میں مذکورہ انزائم کی موجودگی کو چیک کیا گیا۔ دس فیصد افراد ان کوائف پرپورے اترے۔ چنانچہ ان افراد کے خون سے ڈی این اے حاصل کرکے اسکا تجزیہ کیا گیا۔کولن پیچفورک نامی ایک مقامی نانبائی نے اپنا خون نہیں دیا تھا۔ اس نے اپنے دوست آئن کیلی کیساتھ ساز باز کی اور اس کی تصویر اپنے پاسپورٹ پر لگاکر اسے اپنی جگہ خون دینے بھیجا۔
کئی مہینے بعد یہاں کے ایک رہائشی نے مقامی شراب خانے میں کیلی کی گفتگو سنی جس میں اس نے پیچفورک سے رقم لیکر اسکی جگہ اپنا خون دینے کا اعتراف کیا۔ اس رہائشی نے پولیس کو مطلع کردیا جس پر پولیس نے ستائیس سالہ پیچفورک کو گرفتار کرلیا- اس کے ڈی این اے کا قاتل کے ڈی این اے سے موازنہ کرنے پر پتا چلا کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ پیچفورک نے کیس لڑنے کے بجائے دونوں لڑکیوں کی عصمت دری اور قتل کا اعتراف کرلیا۔ 1987ء میں پیچفورک ڈی این اے کی مدد سے شناخت کئے جانے والا پہلا مجرم بن گیا۔ اسے عمر قید کی سزا ہوئی جو کم از کم تیس سال تک کی ہوتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں ترقی یافتہ مملک سائنس اور ٹیکنالوجی کو انصاف کے حصول کیلئے بڑھ چڑھ کر استعمال کررہے ہیں، اور جہاں پر ڈی این اے کی بنیاد پر مجرموں تک پہنچنے کا کام لگ بھگ تیس سال پہلے شروع ہوگیا تھا، وہیں ہمارے ملک میں اس معاملے کو ملاء کی جہالت کی نظر کردیا گیا۔ کچھ سال قبل مزار قائد کے احاطے میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی جنسی زیادتی کا نشانہ بنی۔ لڑکی نے اپنے مجرموں کو پہچان لیا اور ان کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت بھی ہوگیا کہ مجرم وہی تھے لیکن پانچ سال بعد کراچی کی ایک عدالت نے یہ کہہ کر کہ چونکہ کسی نے ریپ ہوتے دیکھا نہیں اور ڈی این اے کا ثبوت قابل قبول نہیں ہے، ملزمان کو باعزت بری کردیا۔ اسی ہفتے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس کے اعلامیہ میں کہا کہ ڈی این اے کی 
شہادت کو ملزموں کو سزا دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔..!!
( بشکریہ سائنس کی دنیا)

منگل، 6 جنوری، 2015

محبوب کو صرف چاہا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا


محبوب کو صرف چاہا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا

وہ تنگ آکر مجھے کہتی، تم مجھے سمجھ کیوں نہیں رہے؟
تحریر : خزیمہ سلیمان
پگلی جانتی ہی نہیں تھی، محبوب کو چاہا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا۔ محبت کو سمجھنا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ اُس شاہکار کی طرح ہے جو سمجھ نہ بھی آئے تب بھی اس کا احترام واجب ہے، اس کی توصیف واجب ہے۔

میری جان! محبوب کو سمجھنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ اسے بس چاہتے ہیں اور ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ اسے جس چیز سے محبت ہو اس سے بھی محبت کرتے ہیں۔

تم جانتی ہو، میں فنکار ہوں اور چائے فنکار کے خون میں دوڑتی ہے۔ مگر یقین مانو، مجھے چائے کبھی اتنی پسند نہیں تھی پر جب سے پچھلی سردیوں میں، تم نے مجھے اسی باغیچے میں اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلائی، مجھے یہ امرت دھارا لگنے لگی ہے۔ تم جس چیز کو بھی پسند کرتی ہو وہ مجھ کو بھاتی ہے، تمہیں کالا رنگ بہت پسند ہے سو میں بھی اسے پسند کرتا ہوں، میں نے اس رنگ کے بے شمار جوڑے سلوا رکھے ہیں۔ دیکھو، میں نے کبھی یہ تو نہیں پوچھا نا کہ تمہیں یہ کیوں پسند ہے، میں نے کبھی تمہاری پسند کے معیار کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ محبوب کو صرف چاہا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا۔

تمہیں کھانے میں بریانی پسند ہے، سندھی بریانی اور مجھے جب جب تمہاری یاد آتی ہے میں یہی کھاتا ہوں، تم کئی بار میرے لیے بریانی بنا کر لائی اور یقین کرو تمہاری بنائی ڈش میرے لیے ڈش نہیں، تبرک ہوتا تھا تبرک۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اِسی سیکٹر کے اِسی پارک کے اِسی بینچ پر کیوں بیٹھتا ہوں، میں انہیں کیسے بتاؤں کہ یہی پارک تمہارا پسندیدہ تھا، یہ بینچ تمہارا پسندیدہ تھا، میں یہاں بیٹھ کر تمہیں اپنے افسانے سناتا تھا اور تم سنتے سنتے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھ لیتی تھی۔ میرے کندھوں نے میری ماں کے جنازے کے بعد کسی ایسی پاکیزہ اور مبارک شے کا وزن نہیں سہا جتنا تمہارے سر کا تھا۔ آج مجھے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ میں کیوں گھنٹوں اسی جگہ بیٹھا رہتا ہوں اور میں نے کبھی انہیں سمجھانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ محبوب کی باتوں کو سمجھایا نہیں جاتا، اس کی وضاحت بھی نہیں دی جاتی۔ صرف اپنایا جاتا ہے۔

شہر کے وسط میں ایک بہت بڑے اور معروف ہوٹل کے نیچے ایک چھوٹا سا غیر معروف کیفے ہے۔ یہ محبت کرنے والوں کی پسندیدہ جگہ ہے، یہ غیر معروف ہے مگر اہلیانِ محبت کا پسندیدہ اسپاٹ ہے۔ محض 7 میزوں والے اس چھوٹے سے کیفے کی کافی بہت لذیذ ہوتی ہے۔ مجھے تم پہلی دفعہ یہاں لے کر گئی تھی اور اس کے بعد اس کیفے نے ہماری بے شمار ملاقاتیں دیکھی ہیں۔ یہاں کی در و دیوار نے ہماری لا شمار باتیں اور باتوں میں ٹھہرتی باحجاب خاموشی سنی ہے۔ ہماری بہت سی شامیں اس کیفے کے ایک مخصوص میز پر بیٹھے گزری ہیں۔ تمہیں گیلری کے پاس والی نشست پسند تھی سو میں ہمیشہ ویٹر سے کہہ کر وہ تمہارے لیے رزیو کرا دیتا تھا۔

کئی دفعہ ہم یہاں بارش کے موسم میں بھی گئے، تم چپ چاپ گیلری کے شیشے پر پڑتے، لڑکتے پانی کے قطروں کو دیکھتی رہتی تھی اور میں تمہیں تکتا رہتا تھا۔ مجھے کافی بے حد کڑوی لگتی تھی اور تم ہمیشہ ویٹر کے سرو کرنے کے بعد اس میں میرے لیے چینی کے پیکٹ کھول کر ڈالتی تھی، ایک گھونٹ چکھتی تھی اور کہتی تھی، یہ اب پرفیکٹ ہے، پی لو اور اس کے بعد مجھے کافی کڑوی نہیں لگتی تھی۔

تمہارے چلے جانے کے بعد میں اب تک اس کیفے میں شام کو جاتا ہوں، گیلری والی کرسی پر بیٹھتا ہوں، شیشے سے باہر خلاء میں تکتا رہتا ہوں، وہی کافی منگواتا ہوں، خود اس میں دو، چار، پانچ پیکٹ چینی گھول لیتا ہوں مگر اب اس کی کڑواہٹ نہیں جاتی، اسے تمہارے لبوں کی چاشنی میسر نہیں آتی اور میں وہ کڑوا محلول اپنے اندر انڈیلتا رہتا ہوں۔ میرے پاس یہ بتانے کو اب کوئی نہیں مگر میں نے ایک بات کا مشاہدہ کیا ہے، کافی صرف 2 ہی صورتوں میں مزے دار ہوتی ہے، یا تو یہ آپ کے محبوب نے بنائی ہو یا پھر اسے آپ اپنے محبوب کے ساتھ پی رہے ہوں اور اب میں دونوں چیزوں سے محروم ہوں۔ میں نے آج تک اس کیفے کا کسی اور کو نہیں بتایا، میں آج تک اس میں کسی اور کے ساتھ نہیں گیا، اس کیفے سے مجھے محبت ہے کیونکہ یہ تمہاری پسندیدہ جگہ تھی۔

میں نے گٹار تمہارے لیے سیکھا تھا۔ میں تمہیں اس پر کئی دھنیں سناتا، گنگناتا اور تم دل کا عکس آنکھوں میں لیے مجھے سنتی رہتی تھی۔ میں نے تمہارے لیے گٹار سیکھا تھا مگر جب سے تم گئی ہو میں نے اسے ہاتھ نہیں لگایا۔ میں نے جس سے گٹار سیکھا تھا اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ بڑا علیٰ ظرف ساز ہے، لوگ اس کی تار کھینچتے ہیں، اسے تکلیف ہوتی ہے، یہ چیختا ہے مگر اس کی چیخ میں شکوہ نہیں ہوتا ہے، یہ اپنے درد کو سُروں میں ڈھال کر فضا میں بکھیر دیتا ہے، مگر اب اس کے تار ایک ایک کرکے ٹوٹ رہے ہیں اور ہر تار کے ٹوٹنے سے مجھے محسوس ہوتا ہے گویا میرے تمہارے دل کے جڑے تار ٹوٹ رہے ہوں۔

تکلیف ہوتی ہے مگر میں چیختا نہیں، میں اعلیٰ ظرف نہیں یا شاید مجھ میں ہمت نہیں۔ میں نے پڑھا تھا، جس غم پر چیخ لیا جائے، رو لیا جائے وہ بہت چھوٹا غم ہوتا ہے اور تمہارے جانے کا غم ہرگز چھوٹا نہیں ہے میری جان۔

آج سے 20 سے 30 سالوں کے بعد جب میں بوڑھا ہوجاؤں گا، میرے پاس اس وقت کچھ فخر کرنے کو رہے نہ رہے، مجھے اس بات پر فخر رہے گا کہ میں نے تمہیں چاہا ہے، تم سے، تمہاری یاد سے کبھی بے وفائی نہیں کی۔ میں نے زندگی میں انسانوں میں سب سے زیادہ وفادری تمہارے ساتھ کی ہے۔ تمہاری موجودگی میں بھی، تمہاری غیر موجودگی میں بھی۔

میں نے تم سے اور تم سے وابستہ ہر شے سے محبت کی ہے اور یہ بنا سوچے سمجھے کی ہے۔ سو تمہارے ان تمام سوالوں کا میرے پاس یہی جواب ہے کہ میں نے تمہیں کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ یہ میرے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ میں نے صرف تم کو چاہا ہے کیونکہ محبوب کو صرف چاہا جاتا ہے، سمجھنے میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔

پیر، 11 اگست، 2014

انڈین آفس لائبریری




تحریر : عاشق بٹالوی 

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انڈیا آفس لائبریری کب اور کیوں کر وجود میں آئی تھی اور اسے موجود ہ حالت تک پہنچنے میں کن کن مرحلوں سے گزرنا پڑا۔اس لائبریری کا تخیل پہلے پہل ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک ملازم رابرٹ اوم کے ذہن میں پیدا ہوا تھا۔اوم عرصہ دراز تک ہندوستان میں رہ چکا تھا اور اس نے دیکھا کہ مغلیہ حکومت کے زوال کی وجہ سے ہندوستان میں جو طوائف الملو کی بر پا تھی،اُس نے سب سے زیادہ علم وادب کو نقصان پہنچایا تھا۔شاہان وقت کی سر پرستی اُٹھ جانے سے فارسی اور عربی کی نئی کتابوں کی اشاعت بے حد محدود ہو گئی تھی۔اُدھر آئے دن کی خانہ جنگی سے اُمراواکابر کے کتب خانے بھی لُٹتے جا رہے تھے۔ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر کمپنی کے اکثر ملازم ،بڑی نایاب کتابیں کوڑیوں کے مول خرید کر انگلستان لے آتے تھے۔لیکن یہاں بھی چونکہ اُن کا کوئی قدردان نہیں تھا،اس لیے آہستہ آہستہ یہ ادبی نوادر ہندوستان اور انگلستان دونوں جگہ ختم ہوتے جا رہے تھے۔

اوم نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائر کٹروں کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ کمپنی کے مرکزی دفتر واقع لیڈن ہال سٹریٹ میں دوکمرے اِس قسم کی کتابوں کے لیے مخصوص کر دئیے جائیں ،تاکہ عربی ،فارسی اور سنسکرت کی وہ کتابیں جو کمپنی کے ملازم یہاں لا کر بے احتیاطی سے ضائع کر دیتے ہیں،ایک جگہ محفوظ ہو سکیں،یہ تجویز مئی 1798ء میں پیش ہوئی ۔ چارلس ولکنزنے لائبریرین کی حیثیت سے اپنی خدمات ڈائرکٹروں کے سامنے پیش کردیں۔ولکنز کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے مدت تک بنگال میں رہ چکا تھا اور بنگالی، فارسی اور سنسکرت تینوں زبانوں میں اچھی خاصی مہارت رکھتا تھا۔1785ء میں اُس نے گور نر جنرل وارن ہیسٹنگز کے ایماپر بھگوت گیتا کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔چارلس ولکنز کی ذہانت اور کوشش سے بنگلہ،ناگری اور فارسی حروف کے ٹائپ بھی تیار ہو گئے تھے۔چنانچہ اٹھارھویں صدی کے رُبع آخر میں بنگال میں ان تینوں زبانوں کی کتابیں ٹائپ میں چھپنا شروع ہو گئی تھیں۔


ولکنز نے اوم کی ابتدائی تجویز پر بہت کچھ اضافہ کر کے لائبریری کا گویا بالکل نیا خاکہ ڈائرکٹروں کے پا س بھیجا تھا۔اس خا کے میں ،مجوزہ کتب خانے کے علاوہ ایک میوزیم کانقشہ بھی درج تھا ،جس کے تین حصیّ تجویز کئے گئے تھے پہلے حصے میں ہندوستان کے تمام حیوانات ،نباتات اور معدنیات کے نمونے رکھے جائیں گے۔دوسرے حصّے میں ہر قسم کی مصنوعات ہوں گی۔اور تیسرے حصے میں عہد عتیق کے تاریخی نو ادر جمع کئے جائیں گے۔


آخر کار1801ء میں وارن ہیسٹنگز کی سفارش پر کمپنی کے ڈائرکٹروں نے چارلس ولکنز کو دو سو پونڈ سالانہ تنخواہ دے کر لائبریرین مقرر کر دیا۔لائبریری کا نام اورنٹیل ریپاز یٹری تجویز کیا گیا۔اور اُ س کی روز بروز کارروائی کی مکمل روئداد ڈے بک کے نام سے اس وقت بھی محفوظ ہے جس کے مطالعہ سے اس لائبریری کے تاریخی ارتقاء کی پُوری تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔


کتابوں میں آہستہ آہستہ اضافہ ہو نے لگا لیکن سب سے بڑی دقت یہ تھی کہ ہندوستان میں کمپنی کے حکام نے اسی قسم کے دو ادارے قائم کر رکھے تھے جو اورنٹیل ریپازیٹری کے سب سے بڑے حریف تھے۔ایک ایشیاٹک سو سائٹی بنگال اور دوسرا فورٹ ولیم کالج کلکتہ ۔ہندوستان کے مختلف حصّوں سے جتنی اچھی کتابیں ملتیں وہ لندن پہنچنے کی بجائے ان دونوں اداروں کی لائبریری میں چلی جاتیں تھیں۔کمپنی کے ڈائرکٹروں نے اِس نقصان کو محسوس کر کے5جون1805ء کو گورنر جنرل کے نام ایک خط لکھا کہ آئندہ تمام اچھی کتابیں مسودے پر انے سکے اور فنون لطیفہ کے نمونے کلکتہ میں رکھ لیے جانے کی بجائے لندن بھیجے جائیں۔اسی خط میں گورنر جنرل سے پوچھا گیا کہ سرنگاپٹم کی فتح کے بعد ٹیپو سلطان کا جو کتب خانہ ہاتھ آیا تھا،وہ اب تک لندن کیوں نہیں بھیجا گیا۔


لائبریری کی ڈے بک کا مطالعہ کیا جائے تو اس قسم کے اکثر اندراجات نظر آتے ہیں کہ آج فلاں شخص نے ہاتھی کا ایک سر پیش کیا۔آج فلاں شخص نے ہندوستان کے چند قدیم سکے پیش کئے۔آج فلاں شخص نے ہندودیوتا کا ایک سنگین مجسمہ پیش کیا چونکہ کتب خانے اور میوزیم کی عمارت ایک تھی،اس لیے جو کچھ دستیاب ہوتا ،اسی عمارت میں محفوظ کر لیا جاتا تھا۔تاہم لائبریری کے قیام کے بعد ،پہلے ہی سال میں جو قابل ذکر ذخیرہ کتب ہاتھ آیا ،وہ رابرٹ اوم کا ترکہ تھا جو مرتے وقت اُس نے اس لائبریری کو وصیت کیا تھا۔1804ء میں نووومب ول اور جان نیلر نے فارسی مخطوطات کا ایک ذخیرہ پیش کیا۔اسی سال کے آخر میں ڈیوڈلارنس نے چینی زبان کی بہت سی کتابیں پیش کیں آہستہ آہستہ ہندوستان کے علاوہ بغداد،استنبول اور بخارا تک سے عربی اور فارسی کے قلمی مسودے آنا شروع ہو گئے۔


لائبریری کے بارے میں کمپنی کارویہ کچھ اس قسم کا تھا کہ جہاں تک ممکن ہو کتابیں مفت مہیا کی جائیں۔قیمت ادا نہ کرنی پڑے۔چنانچہ لوگ جو کچھ عطا کرتے تھے محض اپنی خوشی سے دیتے تھے۔1807ء میں اس قاعدے میں تبدیلی کی گئی اور فیصلہ ہوا کہ اگر اچھی کتابوں کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے تو بخل نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ اس نئے قاعدے کے تحت جو قابل ذکر ذخائر حاصل کئے گئے،اُن میں رچرڈ جانسن کا کتب خانہ تھا ،جس کا معاوضہ تین ہزار گنی دیا گیا۔1809ء میںآٹھ سو پونڈ میں وارن ہیسٹنگز سے اور1824ء میں پانچ سو پونڈ کے بدلے میں لیڈن کی کتابیں خریدی گئیں۔


رچرڈ جانسن تقریباً تیس سال کمپنی کی ملازمت میں کام کر چکا تھا ۔1770ء میں وہ کلرک بھرتی ہو کر کلکتہ گیا تھا،پھر ترقی کرتے کرتے نظام حیدر آباد دربار میں ریذیڈنٹ کے عہدے تک پہنچ گیا تھا ۔جب واپس انگلستان آیا تو اس کے پاس فارسی اور عربی کی گیارہ سو کے قریب نہایت بیش قیمت کتابیں تھیں اور تیرہ سو کے لگ بھگ مصوری نقاشی کے گراں قدر نمونے بھی تھے۔وطن پہنچ کر جانسن کی صحت یکایک خراب ہو گئی اور بعض خانگی مصائب نے اُس کی مالی حالت کو بھی سخت مخدوش کر دیا۔مجبوری کے عالم میں اُس نے کتابوں اور تصویروں کا یہ سارا ذخیرہ لائبریری کے پاس فروخت کر دیا۔نقادوں کی رائے ہے کہ ذخیرہ تین ہزار گنی سے زیادہ مالیت کا تھا۔وارن ہیسٹنگز نے جو کتابیں فروخت کیں، ان کا بیشتر حصّہ فارسی شعرأ کے دواوین پر مشتمل تھا۔جن کی جلدیں بڑی مطلاومذہب تھیں۔ 


جان لیڈن پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا۔لیکن زبان دانی کے اعتبار سے ایک حیرت انگیز شخص تھا۔1803ء میں،جب اُس کی عمر اٹھائیس سال تھی۔اُس کا تقرر مدراس میں ہوا ہندوستان جانے سے پہلے اُس نے یورپ کی تمام زبانوں میں مہارت پیدا کرنے کے علاوہ عربی اور فارسی بھی سیکھ لی تھیں۔ جنوبی ہند کے قیا م نے اس کو تلگواور ملیام سے بھی آشنا کر دیا تھا۔1806ء میں اُسے فورٹ ولیم کالج میں ہندوستانی یعنی اُردو پڑھانے پر مامور کیا گیا۔وہیں اُس نے سنسکرت اور فارسی کے بہت سے انگریزی تراجم کئے ۔کلکتہ سے وہ جاوا اور سماٹرا کے دور ے پر چلا گیا ،جہاں اُس نے جاوی زبان بھی سیکھ لی جیسے وہ بڑی روانی سے بولنے اور لکھنے لگا تھا۔جان لیڈن کی زندگی اگر وفا کرتی تو کمالات زباندانی کی بنا پر وہ اُس دور کے مستشرقین میں غالباً سب سے نمایاں مقام حاصل کر لیتا۔لیکن افسوس کہ عین عالم شباب میں جب کہ اُس کی عمر صرف چھتیس سال تھی،یکایک اُس کا انتقال ہو گیا ۔انڈیا آفس لائبریری نے پانچ سو پونڈ ادا کر کے اُس کی کتابیں خریدلیں۔


سنہ 1876ء میں لائبریری نے سرولیم جونز کی عربی فارسی اور سنسکرت کی کتابوں کا ذخیرہ ایشیاٹک سوسائٹی سے حاصل کیا۔ ولیم جو نز کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس مختلف زبانیں جانتا تھا،جن میں تیرہ زبانوں پر تو اسے اُستاد انہ عبور تھا ۔اور ستائیس زبانوں میں وہ نوشت وخواند کا کام کر سکتا تھا۔ پینتیس سال کی عمر میں اُس نے سبعہ معلقہ کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔جونز ،1783ء سے1794ء تک کلکتہ ہائی کورٹ کا جج رہا۔یہیں اُس نے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی ۔سنسکرت میں جونز کو ایسا کمال حاصل تھا کہ اُس دور کے بڑے بڑے پنڈت اُس سے استفادہ کرنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔کالید اس کے بیشتر ڈراموں اور وید مقدس کے بعض حصوں کو جونز نے انگریزی میں منتقل کیا تھا۔مسلمانوں کے قانون وراثت اور ہندوؤں کے دھرم شاستر پر سب سے پہلے ولیم جونز نے دوبڑی بیش قیمت کتابیں تصنیف کی تھیں۔1794ء میں اس کا سینتالیس سال کی عمر میں کلکتہ ہی میں انتقال ہوا


لائبریرین چار لس دلکنز کے اختیارات کا حلقہ اب خاصا وسیع ہو گیا تھا ہرٹ فورڈ کالج کا وزیٹر اور ممتحن ہونے کے علاوہ کمپنی کے ہندوستانی رجسٹرارکا دفتر بھی اُس کے تحت کر دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ کمپنی کے وقائع نگار کا عہدہ بھی اُس کے سپرد ہو گیا تھا۔لائبریری کے سٹاف میں بھی تین نئی اسامیاں پیدا کی گئی تھیں۔اور پورے سٹاف کانگراں ولکنز ہی تھا۔ چنانچہ اس کی سالانہ تنخواہ بڑھتے بڑھتے اب سات سوپونڈ تک پہنچ گئی تھی۔


سنہ1809میں مہاراجہ بڑودہ نے فارسی اور سنسکرت کی کتابوں کی خاصی تعدادلائبریری کو نذر کی۔1819ء میں ہنری کول بروک نے سنسکرت کی دو ہزار کتابوں کا گراں بہا ہدیہ لائبریری کو پیش کیا جہاں تک لائبریری کے حصہّ سنسکرت کا تعلق ہے کول بروک کے اس عطیہ کو گویا لائبریری کا پشتیبان تصور کرنا چاہے۔


ہنری کول بروک کا باپ جارج کول بروک ،ایسٹ انڈیا کمپنی کے ڈائرکٹروں کے بورڈ کا صدر تھا ۔ہنری1782ء میں کمپنی کی ملازمت اختیار کر کے ہندوستان چلا گیا۔اکاؤنٹنٹ اور اسسٹنٹ کلکٹر کے ابتدائی عہدوں سے ترقی کرتے کرتے ،وہ جج اور سفیر کے منصب پر پہنچ گیا اور آخر کار1800ء میں اسے گورنر جنرل کی ایگزیکٹو کونسل کارُکن مقرر کیا گیا ،جس سے بڑا سرکاری اعزاز اُس زمانے میں کوئی نہیں تھا۔اسی دوران میں لارڈویلز لی کی درخواست پر ہنری کول بروک نے کچھ مدت فورٹ ولیم کالج میں درس وتدریس کا کام بھی کیا۔ہندوستان پہنچ کر کول بروک نے سنسکرت کی تحصیل میں بڑی محنت کی تھی چنانچہ1794ء تک اُسے سنسکرت میں فضیلت کا مرتبہ حاصل ہو گیا تھا ۔گورنر جنرل کے حکم سے،ایک برہمن، پنڈت جگن ناتھ نے مسلسل پندرہ سال کی محنت سے ہندودھرم شاستر کو جدید طرز پر مرتب کیا تھا،اب اس عظیم الشان کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام کول بروک کے سپرو ہوا،جیسے اُس نے بڑی خوش اسلوبی اور محنت شاقہ سے انجام دیا۔


کول بروک کو ویدوں پر فاضلانہ عبور تھا اور ان صحائف کے ایک ایک لفظ کا اس نے بغور مطالعہ کیا تھا۔چنانچہ سنسکرت کے نفادوں اور ہندودھرم کے عالموں کی رائے ہے کہ کول بروک نے ویدوں پر جو تنقید لکھی تھی وہ اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔سنسکرت کے علاوہ کول بروک کوریاضی،علم ہےئت ،علم النباتات علم الحیوانات اور معدنیات میں بھی فضیلت کا مرتبہ حاصل تھا۔ہندوستان میں بتیس سال ملازمت کرنے کے بعد وہ1815ء میں واپس انگلستان آگیا اور یہان پہنچ کر اُس نے سنسکرت کی تمام کتابیں جن کی تعداد دوہزار کے قریب تھی انڈیا آفس لائبریری کو مفت نذرکردیں۔لائبریری کے کارپردازوں نے اظہارِ تشکر کے طور پر کول بروک کا ایک مرمریں مجسمہ لائبریری کے برآمد ے میں نصب کیا جو آج تک وہاں موجود ہے۔


سنہ1870ء میں آرتھربرنل نے سنسکرت کی ساڑھے تین سو کتابیں لائبریری کو مفت نذرکیں اور برنل کے انتقال پر اُس کو بقیہ ساڑھے تین سو کتابیں لائبریری نے قیمت ادا کر کے خرید لیں۔ آرتھر برنل 1860ء میں جب کہ اُس کی عمر بمشکل بیس سال تھی،انڈین سول سروس میں بھرتی ہو کر ہندو ستان چلا گیا تھا اُس کی ملازمت کاپورا دور جنوبی ہند میں بسر ہوا ۔جہاں اُس نے محنت شاقہ اور زرکثیر خرچ کر کے سنسکرت کے بڑے نایاب نسخے حاصل کئے ۔سنسکرت کے علاوہ برنل کو عربی فارسی، تامل ،اُردو اور جاوی پر بھی پورا عبور حاصل تھا لیکن اُس کی علمی کاوشوں کا بیشتر حصہ سنسکرت پر صرف ہوا۔1878ء میں اُس نے حکومت مدراس کی درخواست پر مہاراجہ تبخور کے کتب خانے کے تمام مخطوطات کو ترتیب وارمرتب کر کے اُن کی ایک نہایت جامع فہرست تیار کی تھی۔ تنہا یہی کارنامہ برنل کے نام کوحیات جا وداں بخشنے کے لیے کافی ہے۔اس کے علاوہ اُس نے منو کے دھرم شاستر اور ہندوؤں کے قانونِ وراثت پر بھی کتابیں لکھیں۔1882ء میں بیالیس سال کی عمر میں اُس کا انتقال ہو گیا۔

سنہ 1896ء میں ایک جرمن فاضل بوہلر نے سنسکرت کی321کتابیں لائبریری کی نذرکیں۔بوہلر سنسکرت کا بہت بڑا عالم تھا،جسے اُس نے پیرس ،لندن اور آکسفورڈ میں مسلسل کئی سال مقیم رہ کر،طالب علمانہ حیثیت سے سیکھا تھا ابتدا میں اُس کا تقرربمبئی کے الفنسٹن کالج میں سنسکرت پڑھانے پر ہوا تھا لیکن بعد کو اُس کی خدمات حکومتِ ہند نے حاصل کر لی تھیں، عام طور پر کہا جاتا ہے کہ بوہلر کی کوشش سے سنسکرت کے پانچ ہزار مسودے حکومتِ ہند کو میسر آئے۔ہندوستان میں اپنی ملازمت کی معینہ میعاد ختم کر کے بوہلر کو ویانایونیورسٹی میں ہندوستانی زبانیں پڑھانے کا کام مل گیا تھا۔ وہیں1899ء میں اس کا انتقال ہوا۔


مخطوطات ومسودات کا ایک اور نادر مجموعہ ،سرآرل سٹامین کے توسل سے لائبریری کو حاصل ہوا تھا۔سر آرل سٹائین،وطنیت کے اعتبار سے ہنگری کے باشندے تھے۔ لیکن بعد کو انھوں نے برطانوی قومیت اختیار کر لی تھی۔اُن کا تقرر پہلے پہل لاہور میں اورنٹیل کالج کے پرنسپل کے عہدے پر ہوا تھا جہاں وہ 1888سے 1899ء تک پرنسپلی کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ لاہور ہی میں ان کے تعلقات سرٹامس آرنلڈ، پروفیسر پیایس ایلن،سر ایڈ ورڈڈگلس مکلیگن اور ہنری اینڈ ریوز سے استوار ہوئے جنھوں نے آگے چل کر مدت العمر کی دوستی کی صورت اختیار کر لی تھی۔پیایس ایلن گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے تھے۔ہنری اینڈ ریوز آرٹ سکول کے پرنسپل تھے اور ڈگلس مکلیگن سول سروس کے اہلکار تھے۔


آرل سٹائین طبعاً ایک صحرا نورد اور جہاں گرد قسم کے انسان تھے۔چنانچہ اُنھوں نے اپنی صحرا نور دی کے لیے وسط ایشیا کو منتخب کیا۔جہاں اُنھوں نے ایک بار نہیں بلکہ تین بار ہزاروں میل کا سفر پیدل کیا تھا۔اُنہی صحرا نوردیوں کے دوران میں اُنھوں نے قدیم تبتی اور چینی زبانوں کے بے شمار مسود ے حاصل کیے جو لکڑی کے تختوں اور پتھر کی سلوں کے علاوہ درختوں کی چھال اور پتوں پر مر قوم تھے سرآرل سٹائین نے یہ تمام مسودے انڈیا آفس لائبریری کو مفت پیش کر دئیے تھے۔


برائن ہا جسن نے دوہزار کے لگ بھگ قلمی مسودے انڈیا آفس لائبریری کو نذر کئے۔ان میں چار سو کے قریب مسودے سنسکرت کے تھے اور باقی نیپالی زبان کے۔ ہا جسن اٹھارہ سال کی عمر میں بھرتی ہو کر کلکتہ چلا گیا تھا۔جہاں اُس نے فورٹ ولیم کالج میں داخل ہو کر فارسی کی تحصیل کی ۔پھر اُس کا تقرر اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے کمایوں کے علاقے میں ہوا۔ وہیں سے اس کا تبادلہ نیپال ہو گیا۔نیپال پرانگریزوں کا قبضہ بالکل تازہ تھا ۔اور ہنوز اُن کے پاؤں اچھی طرح جمے نہیں تھے۔ہاجسن نے بہت جلد گورکھوں کی عسکری صلاحیت کو محسوس کر لیا تھا ۔چنانچہ اُسی کی سفارش پر ہندوستانی فوج میں گور کھوں کی بھرتی شروع کی گئی تھی۔ہاجسن ،لارڈ مکالے کی اس تجویز کا سخت مخالف تھا کہ ہندوستان میں انگریزی کو ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے اُس نے ہندوستان کی مقامی زبانوں کی حمایت میں بار بار آواز بلند کی۔لیکن لارڈ مکالے کی زبردست شخصیت کے سامنے اُس کی پیش نہ جا سکی۔


سنہ1820ء سے1843ء تک مسلسل تئیس سال ہاجسن نیپال میں رہا اور آخرمستعفی ہو کر واپس انگلستان آگیا۔لیکن سال بھر بعد،وہ پھر ہندوستان چلا گیا اور اب اُس نے نجی طور پر ایک عام باشندے کی حیثیت سے دارجیلنگ میں قیام کیا جہاں آئندہ تیرہ سال تک وہ تحقیق تفتیش کے کام میں مصروف رہا۔ نیپال کی سیاسی ،ادبی ،معاشرتی اور زرعی واقتصادی زندگی کے جملہ پہلوؤں پر جتنی کتابیں ہاجسن نے جمع کیں اور کوئی شخص نہیں کر سکا۔یہ سارا ذخیرہ اُس نے انڈیا آفس لائبریری کو مفت پیش کر دیا ۔مئی1894 میں ہاجسن کا لندن ہی میں انتقال ہوا۔سر ڈینی سن راس نے بھی تبت پر بہت سی قلمی کتابیں جمع کی تھیں جو 1907ء میں لائبریری نے حاصل کر لی تھیں۔


کالن میکنزی کا ذخیرۂ کُتب بھی انڈیا آفس لائبریری نے خرید لیا تھا۔میکنزی کا انتقال1821ء میں کلکتہ میں ہوا تھا ۔تیس سال کے قریب اُس نے ہندوستان میں بسر کئے تھے۔پانڈی چری کے محاصر ے اور سرنگاپٹم کی فتح کے وقت وہ برطانوی فوج میں شامل تھا۔ جاوا اور لنکا کو جو برطانوی مہمیں بھیجی گئی تھیں۔اُن میں بھی میکنزی کی موجودگی ثابت ہوتی ہے۔اُس نے سرکاری طور پر جنوبی ہندوستان کے تمام علاقوں کا سروے کیا تھا اور اسی سلسلہ میں اُسے جنوبی ہند کے ایک ایک گوشے سے واقفیت ہو گئی تھی۔موت سے پہلے میکنزی کو پورے ہندوستان کا سروئیر جنرل بنا دیا گیا تھا۔عربی فارسی اور سنسکرت کی تمام کتابیں ،جن کی تعداد دو ہزار سے کم نہ تھی،میکنزی کی وفات کے بعد اُس کی بیوہ نے لارڈ ہیسٹنگز کے پاس فروخت کر دی تھیں۔اور وہاں سے ذخیرہ انڈیا آفس لائبریری میں پہنچا ۔کتابوں کے علاوہ پُرانے سکے سنگ تراشی کے مجسمے اور نقاشی کے نمونے بھی میکنزی کے پاس جمع تھے وہ بھی لندن آگئے۔


سر فلپ فرانس کا ذخیرہ کتب بھی لائبریری نے خریدا۔ اس ذخیرے میں سب سے بیش قیمت چیز سر فلپ کی دستاویزات، رپورٹیں، شہادتیں،بیانات اور مطبوعہ و غیر مطبوعہ مضامین ہیں،جو پچاس جلدوں بند ہیں۔سر فلپ فرانس اور ہندوستان کے گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز کی باہمی نزاع پر،ان جلدوں کے مطالعہ سے نئی روشنی پڑتی ہے۔


سنہ1825میں انڈیا آفس لائبریری نے فرانسس بکانن کی کتابوں کا مجموعہ بھی خرید لیا۔بکانن1783ء سے 1815تک ہندوستان میں مقیم رہا تھا ابتدا میں وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں شامل ہوا تھا۔بعد کو اُسے میسورا اور مالا بار کی تاریخی ،تمدنی اور زرعی تحقیقات کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔کچھ عرصہ اُس نے نیپال میں بھی بسر کیا تھا۔پھر اُسے حلقہ بنگال کی نباتات پر تحقیق کرنے کا کام دے دیا گیا تھا۔اور ملازمت کے آخر ی دو برسوں میں وہ کلکتہ کے بوٹا نیکل گارڈن کا مہتمم مقرر ہو گیا تھا۔1799 ء جب سر نگاپٹم پرانگریزوں کا قبضہ ہوا ،تو ٹیپو سلطان کا کتب خانہ بھی انگریزی فوج کے ہاتھ آیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ اس کتب خانے میں عربی،فارسی ترکی ،دکنی وغیرہ مختلف زبانوں کے دوہزار نسخے تھے۔یہ کتب خانہ مسلسل کئی سال تک فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں پڑا رہا ۔ پھر ایشیاٹک لائبریری سے ہوتا ہوا 1838ء میں یہ کتب خانہ انڈیا آفس لائبریری میں منتقل کر دیا گیا تھا۔


سنہ1857ء کے ہنگامے کے بعد جب دہلی کے لال قلعہ پر انگریزوں نے قبضہ کیا تو شاہان مغلیہ کی عظمت رفتہ کے ساتھ اُن کا لٹا پٹا کتب خانہ بھی انگریزوں کے ہاتھ آیا،شاہجہاں کے وقت میں اس کتب خانے میں چوبیس ہزار نسخے تھے۔اٹلی کے مشہور سیاح سیبتسین منریکے نے شاہجہاں کے عہد میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ اُ س کے سفر نامے کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ ان چوبیس ہزار کتابوں کی جلدوں پر اس کثرت سے سونا چاندی منڈھا ہوا ہے کہ محض جلدوں کی مجموعی قیمت کا اندازہ کیا جائے تو یہ رقم چونسٹھ لاکھ تریسٹھ ہزار ،سات سو اکتیس روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

بہادر شاہ ظفر کے وقت اس حیرت انگیز کتب خانے کا بمشکل ایک چوتھائی حصہ باقی رہ گیا تھا۔اور اس چوتھائی حصّے میں بھی شاہجہاں کے عہد کی کتابوں کا عنصر ۵؍۱ سے زیادہ نہ تھا۔سونے چاندی کی جلدیں ،تخت طاؤس اور خزانہ شاہی کی طرح،ایرانیوں ابدالیوں،رہیلوں اور مرہٹوں کی ترکتازیوں کا شکار ہو چکی تھیں۔تاہم1857ء میں لال قلعہ کا جو بچاکھچا کتب خانہ انگریزوں کے ہاتھ آیا،اُس میں صرف تین ہزار چھ سو نسخے موجود تھے۔جن میں عربی کی1950،فارسی کی550۱اور اُردو کی صرف ایک سو کتابیں تھیں۔یہ مجموعہ1865 ء میں انڈیا آفس لائبریری میں شامل کیا گیا۔

اسی طرح جب برماپرانگریزوں کا قبضہ ہواتو برمی بادشاہ کا کتب خانہ بھی پہلے کلکتہ منتقل کیا گیا دو سال وہاں پڑا رہا۔پھر اُسے انڈیا آفس لائبریری میں شامل کر دیا گیا تھا۔میں نے اُوپر صرف چند ذخائر کا ذکر کیا ہے۔جو وقتاً فوقتاً انڈیا آفس لائبریری کی نذر ہوتے رہے ۔بعض مفت حاصل ہو ئے اور بعض کی قیمت ادا کی گئی۔اگر اسی طرح تمام ذخیروں کی تفصیل بیان کی جائے تو یہ داستان بہت طویل ہو جائے گی ۔انفرادی طور پر ،انگریز حکام نے لائبریری کو جو کچھ عطا کیا۔اُس کی تفصیل کے لیے بھی ایک دفتر درکار ہے۔انڈین سول سروس اور فوج کے انگریز افسرپنشن لینے کے بعد جب واپس انگلستان آتے تو اپنے مسودے ،یا وداشتیں ،خطوط اور قلم بند کئے ہوئے سیاسی و غیر سیاسی تاثرات بھی لائبریری کو نذر کر دیتے تھے۔ ان چیزوں کے مطالعہ سے ہماری معلو مات میں اُتنا ہی اضافہ ہوتا ہے جتنا مطبوعہ تصانیف دیکھنے سے۔


اسی سلسلہ میں گزشتہ چند مہینوں میں لائبریری کو جو کچھ ملا ہے۔اس میں اٹھارھویں صدی کے مسودات کا ایک مجموعہ ہے جسے لارڈ اومتھ ویٹ نے لائبریری کے حوالے کیا ہے۔اس مجموعہ میں کلایو کے بہت سے خطوط بھی موجود ہیں۔ لارڈنارتھ بروک نے اپنے جدا علیٰ کے تمام کاغذات لائبریری میں جمع کر دئیے ہیں۔لارڈنارتھ بروک اول ۱۸۷۲ء سے ۱۸۷۶ء تک ہندوستان کے وائسر ائے تھے لارڈ ہیلی 1898ء سے1933ء تک انڈین سول سروس میں منسلک رہے اور اس اثنا میں وہ چار سال تک پنجاب کے گورنر بھی تھے۔اُنھوں نے بھی اپنے تمام کاغذات لائبریری کے حوالے کر دئیے ہیں۔


مئی 1836ء میں چارلس ولکنز کا انتقال ہو گیااور لائبریرین کا عہدہ خالی ہو ا۔ چارلس ولکنز نے نہایت جانفشانی سے پینتیس سال تک لائبریری کی خدمت کی تھی۔وہ خود بھی عربی ،فارسی اور سنسکرت کا ایک منجھاہوا عالم تھا ۔مرنے سے تین سال پہلے اُسے نائٹ ہڈ کا اعزاز عطا ہوا تھا۔آکسفورڈ یونیورسٹی نے اُسے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی عطا کی تھی۔1878ء میں اُسے رائل سو سائٹی کا فیلو منتخب کیا گیا تھا۔ فرانس نے بھی اُسے اپنی انسٹی یٹوٹ کا ممبر مقرر کیا تھا۔ولکنز کی بیوہ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد عربی،فارسی اور سنسکرت کی تمام کتابیں انڈیا آفس لائبریری کو نذر کر دیں


چارلس ولکنز کے بعدپروفیسرہاریس ولسن کو لائبریرین مقرر کیا گیا۔ولسن پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھااور ایک ڈاکٹر ہی کی حیثیت سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم ہو کر ہندوستان گیا تھا۔وہیں اس نے اردو فارسی اور سنسکرت میں مہارت پیدا کی تھی۔ کالی داس کے دوڈراموں کو ازسرِ نوایڈٹ کر کے اُس نے شائع کیا۔اور1819ء میں اُس نے انگریزی اور سنسکرت کی لُغت مرتب کی،جسے اس کی زندگی کا ایک عظیم الشان کارنامہ سمجھنا چاہےۂ اور جب تک کہ 1875ء میں جرمنی سے لغت شائع نہیں ہوئی تھی۔پروفیسر ولسن کی یہ لغت اپنی نوعیت کی بہترین تالیف تسلیم کی جاتی تھی۔انڈیا آفس لائبریری کے تقرر سے پہلے ہاریس ولسن آکسفرڈ یونیورسٹی میں سنسکرت کا پروفیسر تھا۔ولسن کے زمانے میں لائبریری کی کتابوں میں قابلِ قدر اضافہ ہوا اس کے علاوہ ایک ضروری تبدیلی یہ بھی ہوئی کہ میوزیم ،جو ابتدائے کار میں لائبریری کا ایک حصہ تھا اب پھیلتے پھیلتے اور بڑھتے بڑھتے اتناوسیع ہو گیا تھا کہ اُس کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے ایک الگ آدمی رکھنا پڑا۔

سنہ1857ء میں جب ہندوستان میں غدر برپاہوا تو لائبریری کا انچارچ ہاریس ولسن ہی تھا۔غدر کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور دورہ ختم ہوا۔تو ہندوستان کی حکومت بھی براہِ راست پارلیمنٹ کے قبضے میں چلی گئی۔اب لائبریری کو لیڈن ہال سٹریٹ کی عمارت سے ہٹا کر کنین روکے ایک مکان میں منتقل کر دیا گیااور میوزیم کو لائبریری سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ کر دیا گیا۔یہ لائبریری،جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا جا چکا ہے اورینٹل ریپازیٹری کہلاتی تھی۔لیکن جب غدر کے بعد ہندوستان کے نظم ونسق کی نگرانی کے لیے لندن میں ایک الگ سر کاری دفتر انڈیا آفس کے نام سے کھولا گیا ،تو لائبریری بھی اُس دفتر کا ایک جزو قرار پائی۔اور آئندہ اس کا نام انڈیا آفس لائبریری تجویز کیا گیا۔انڈیا آفس کے دیگر شعبوں کی طرح یہ لائبریری بھی وزیر ہند کے تحت تھی۔


سنہ1869ء میں پروفیسر ہارلیس ولسن کا انتقال ہوا تو ڈاکٹر جیمزبیلسنٹائن کو لائبریرین مقرر کیا گیا ،جو اس سے قبل پندرہ سال تک گورنمنٹ سنسکرت کالج بنارس کے پرنسپل رہ چکے تھے۔اور اُن کا نام ہندوستان کے گوشے گوشے میں پہنچ گیا تھا۔موصوف نے بنارس کالج کی ترقی وتنظیم کے لیے جتنی کوششیں کیں اُن کے نتائج آج ہندویونیورسٹی کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر بیلسنٹائن، سنسکرت ،فارسی اور اُردو کے عالم تھے۔بالخصوص سنسکرت سے اُنھیں بے حد شغف تھا۔اُنھوں نے ایک طرف سنسکرت کی کتابوں کے انگریزی تراجم کر کے اہل انگلستان کو ہندو تہذیب اور ہندو دھرم سے آشنا کیااور دُوسری طرف مغربی سائنس اور فلسفہ کو سنسکرت میں منتقل کر کے ہندوؤں کو یورپ کی موجودہ علمی ترقی سے بھی روشناس ہونے کا موقع دیا۔ موصوف اُردو،فارسی اور سنسکرت کی کم سے کم سولہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ڈاکٹر بیلنسٹائن کی صحت خراب تھی۔اس لیے صرف یہ چار سال انڈیا آفس لائبریری میں کام کر سکے۔فروری 1864ء میں اُن کا انتقال ہو گیا تو نئے آدمی کی تلاش شروع ہوئی۔بالاآخر پروفیسر فٹز ڑور ڈہال کا انتخاب عمل میں آیا ۔جو ہارور ڈیونیورسٹی(امریکہ) کے تعلیم یافتہ اور اُردو فارسی اور سنسکرت سے بخوبی آشنا تھے۔1869ء تک اُنھوں نے لائبریرین کے عہدے پر کام کیا۔


ڈاکٹر بیل بنارس کالج کے علاوہ لندن کے کنگز کالج میں بھی اُردو اور سنسکرت پڑھاتے رہے تھے۔سول سروس کے امتحان میں وہ ہندی ،اُردو اور سنسکرت کے ممتحن بھی تھے۔ڈاکٹر بال کے بعد ڈاکٹر رائن ہو لڈروسٹ لائبریرین مقرر ہوئے۔قومیت کے اعتبار سے ڈاکٹر روسٹ جرمن تھے۔اور اُن کی تعلیم وتربیت بھی تمام تر جرمنی میں ہوئی تھی شروع میں وہ جرمن زبان کے معلم کی حیثیت سے انگلستان آئے تھے اور کنٹربری میں اُن کا تقرر ہوا تھا۔جن میں عربی ،فارسی ،سنسکرت ،اُردو ہندی تامل، تلگو،کے علاوہ افریقی ،جاوی،بتتی اور چینی زبانیں بھی شامل تھیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک ہمہ گیر زبان دان کی حیثیت سے صرف سر ولیم جونز کو اُن پر فوقیت دی جا سکتی ہے۔


ڈاکٹر روسٹ بہت سی کتابوں کے مصنف ،مولف اور مترجم ہیں۔لیکن اُن کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے مسلسل چونتیس سال انڈیا آفس لائبریری میں محنت سے کام کیا۔جس کے گہرے نقوش آج بھی لائبریری کے درودیوار پر نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر روسٹ کے عہد میں دو بڑی تبدیلیاں وقوع میں آئیں۔ایک یہ کہ لائبریری کو کینن رو سے اُٹھا کر،وائٹ ہال کی موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا اور دوسری یہ کہ1876ء میں ایک قانون وضع کیا گیا کہ آئندہ ہندوستان میں جو کتاب چھپے گی،اُس کا یک نسخہ انڈیا ،آفس لائبریری کو لازماً بھیجا جائے گا۔اس قانون کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان میں بیسیوں زبانوں کی جو چھوٹی بڑی اچھی بُری اور معمولی وغیر معمولی کتابیں چھپتی تھیں،اُن کی ایک ایک جلد باقاعدہ یہاں پہنچنے لگی۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا آفس لائبریری میں کتابوں کا ایک ایسا بوقلموں رنگارنگ اور نادر ذخیرہ جمع ہو گیا ،جس کی مثال شاید دُنیا کا اور کوئی کتب خانہ پیش نہیں کر سکتا۔یہ قانون 1947ء تک نافذ رہا۔ابتدا میں انڈیا آفس لائبریری کے ساتھ جو میوزیم قائم کیا گیا تھا ،اُس کے لیے بدقسمتی سے کوئی مستقل عمارت مہیا نہ ہو سکی۔وزیر ہند کی خواہش تھی کہ برطانوی حکومت اپنے خرچ سے ایسی عمارت بنوادے ،لیکن برطانوی حکومت نے انکار کر دیا چنانچہ میوزیم کی تمام چیزیں لندن کے متعدد عجائب گھروں میں تقسیم کر دی گئیں آج وہی نوادر ہمیں جیالوجیکل میوزیم وغیرہ میں بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 


ڈاکٹر روسٹ کے بعد پروفیسر چارلس ٹانے کا تقرر بطور لائبریرین کے ہوا پر وفیسر ٹانے ،کیمبرج کے تعلیم یافتہ اور سنسکرت کے عالم تھے،اس سے قبل پریذ یڈنسی کالج کلکتہ کے پرنسپل اور احاطہ بنگال کے سررشتہ تعلیمات کے ڈائرکٹر بھی رہ چکے تھے۔1903ء میں پروفیسر ٹانے لائبریری سے سبکدوش ہو گئے تو اُن کی جگہ ڈاکٹر ایف ڈبلیوٹامس کا تقرر ہوا۔اور اُن کے ساتھ سرٹامس آرنلڈ اسسٹنٹ لائبریرین مقرر ہوئے۔ سرٹامس آرنلڈوہی بزرگ ہیں جو لاہور کے گورنمنٹ کالج میں اقبال کے اُستاد تھے۔اور جن کی یاد میں اقبال نے اپنی مشہور نظم نالۂ فراق لکھی تھی۔آرنلڈ صرف چھ سال اسسٹنٹ لائبریرین رہے تھے لیکن اس مدت میں اُنھوں نے لائبریری میں عربی فارسی کی جتنی کتابوں کا اضافہ کیا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔


موجودہ لائبریرین کا نام ایس سی سٹن ہے ۔جو بہت ذی علم اور وسیع المعلومات شخص ہیں۔لائبریری میں کتابوں کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔لیکن نئی کتابوں کا اضافہ برابر جا ری ہے۔یورپین زبانوں کے تحت ستر ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں۔جن میں انگریزی،فرنچ،جرمن وغیرہ زبانوں کی مطبوعات شامل ہیں قلمی مسود ے علیحدہ ہیں جن کی صحیح تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے۔میرے اندازے کے مطابق ایک ہزار کے قریب بڑی بڑی جلدوں میں یہ مسودے بند ہیں ان کے علاوہ کئی ہزار مسودے غیر مجلد بھی ہیں۔


ایشیائی زبانوں کے تحت عربی ،فارسی ،سنسکرت،پالی، تبتی، گجراتی،بنگلہ، ہندی، کشمیری، بلوچی، آسامی، مراٹھی، ملتانی،نیپالی اور یائی،پنجابی ،سندھی اُردو، پشتو، کناڑی، تامل، تلگو، ملیالم، برمی، جاوی، ملائی، سیامی، رکی ہنلی وغیرہ کی کتابیں اور غیر مطبوعہ مسودے موجود ہیں۔ان مسودوں میں بعض سونے چاندی کے پتروں پر مرقوم ہیں۔بعض درختوں کی چھال اور پتوں پر۔بعض ہاتھی دانت اور لکڑی کے ٹکڑوں پراور بعض جانوروں کی کھال پر لکھے ہوئے ہیں۔مثلاً۱۶۹۱ء میں کالی کٹ کے راجہ زمو رن اور ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ ملیالم زبان میں سونے کے ایک پترے پر درج ہے جس کا وزن تقریباً چودہ اونس ہے۔اُردو کی مطبوعہ کتابوں کی تعداد بیس ہزار کے قریب ہے اور قلمی مسودے ۲۷۰ہیں،جو دینیات، تاریخ، سوانح، تذکرے، قصص وحکایات، شعروسخن، اخلاقیات، لُغت، علم الادویہ، موسیقی وغیرہ متعدد موضوعات پر مشتمل ہیں۔تذکروں میں قائم چاند پوری کا مخزنِ نکات ،میر قدرت اللہ خاں قاسم کا مجموعہ،نغز، مرزالطف علی کاگلشن ہند،غلام قطب الدین باطن کا گلشنِ بے خزاں ،خوب چندذکا کاعیارالشعرأموجودہیں۔


دواوین میں بعض نادر چیزیں بھی ملتی ہیں۔مثلاً سید عبدالوالی عزلتؔ سورتی کا دیوان جو ۱۷۵۹ء کے لگ بھگ لکھا گیا تھا،نواب آصف الدولہ والئی اودھ کا دیوان کلیات زٹلی کے چارنسخے ،حافظ الملک نواب حافظ رحمت خاں حاکم بریلی کے فرزند اکبر نواب محبت خاں کا دیوان،میرقدرت اللہ خاں قاسم دہلوی کے صاحب زادے میر عزت اللہ خاں عشق کا دیوان۔حیدرآباد کی مشہور مغنیہ ماہ لقا بیگم چندا کادیوان ، علاالدولہ،یمین الملک،سید محی الدین فقیر دہلوی ،خلف نواب اعظم الدولہ کا دیوان ،مرزامحمود بیگ شور،شاگرد انشاء کا دیوان۔کتابوں کے علاوہ انڈیا آفس لائبریری میں تصویروں کا بھی ایک لاجواب ذخیرہ موجود ہے۔جس میں فوٹو گرافی اور مصوری کے نمونے شامل ہیں۔بیشتر تصویریں دورمغلیہ سے تعلق رکھتی ہیں جن کی مجموعی تعداد ساڑھے تین ہزار کے قریب ہے۔ان میں داراشکوہ کا مشہور البم بھی ہے جو اُس نے اپنی محبوب بیوہ نادرہ بیگم کے لیے تیارکرایا تھا۔اور جس میں ایک سو چالیس تصویریں ہیں۔فوٹو گرافی کے ذخیرے میں کم وبیش پچیس ہزار کے قریب تصویریں ہیں جن میں ہندوستان کے باشندوں سے لے کر معدنیات ونباتات تک ہر چیز کی عکاسی کی گئی ہے۔ خطاطی وخوش نویسی کے بھی بعض بے مثال قطعے موجود ہیں اس کے علاوہ ہندوستان کی قدیم پار چہ بافی کے نمونے بھی ہیں۔مثلاً ڈھاکے کی ململ،بنارس کی زری، کشمیر کی شال،دلی کا گوٹا،لاہور کی سوسی ،مرزاپور کے قالین امرت سر کے دُھسے۔


اگست 1947ء میں تقسیم کے بعد وزیر ہند کا پرُانا دفتر یعنی انڈیا آفس بھی ٹوٹ گئے لیکن لائبریری کا نام بد ستور انڈیا آفس لائبریری رہا۔اس کا موجود ہ انتظام دفتر کامن ویلتھ کے سپرد ہے۔ لائبریر ی کی عمارت کا من ویلتھ آفس کی تیسری منزل پر ہے،جس کے عین وسط میں ریڈنگ روم ہے جہاں روزانہ صبح 9.30سے شام5.30بجے علم وادب کے شائقین لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے ہیں ،میں نے1953ء سے گاہے بگاہے یہاں آنا شروع کیا تھا۔اُس وقت سے اب تک ان لوگوں میں برابر اضافہ ہو رہا ہے چنانچہ1953ء میں یہ تعداد5905تھی۔ 1954ء میں6828ہوئی اور1960ء میں آٹھ ہزار کے لگ بھگ ہو گی ہے۔ 


اب میں خاتمۂ کلام پر یہ عرض کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس لائبریری کا یہیں لندن میں رہنا ہراعتبار سے مستحسن اور ضروری ہے اسے کسی قیمت ،کسی شرط اور کسی معاہدے پر یہاں سے ہٹا نا نہیں چاہےۂ ۔اگر علم وادب کا یہ گراں بہاخزانہ یہاں سے اُٹھا ،تو یقین کیجئے کہ سومیں سے نوے کتابیں ہندوستان چلی جائیں گی اور مشکل سے دس کتابیں پاکستان کے حصے میں آئیں گی۔پھر اس قسم کی نقل مکانی سے فائدہ۔


میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ پاکستان کے بعض لوگ آٹھ آٹھ دس دس سال سے لندن میں مقیم ہیں اور بحداستعداد اس لائبریری سے استفادہ کر رہے ہیں۔کوئی شخص ان سے تعرض نہیں کر سکتا ۔سال بہ سال بیسیوں طلبہ پاکستان سے یہاں آتے ہیں اور اس لائبریری کے دروازے ہر وقت اُن کے لیے کھلے رہتے ہیں۔لیکن دہلی کون جا سکے گااور جائے گا بھی تو کتنے دن ٹھہر سکے گا؟بلاشبہ آج لاہور سے لندن آجانا آسان ہے۔لیکن لاہور سے دہلی جانا مشکل ہے،تعجب ہے کہ پاکستان کے بہت سے اخبار اور سیاست دان حالات کا جائزہ لیے بغیر یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ انڈیا آفس لائبریری کو فوراً لندن سے منتقل کیا جائے۔یہ شوروغو غاجس قدر جلد بند ہو جائے اچھا ہے۔ لندن کے ہندوستانی ہائی کمیشن میں اس وقت ایک نہایت مفید اور بیش قیمت لائبریری موجود ہے۔جس کی تعمیر وترقی میں ہمارے گذشتہ پچاس سال صرف ہوئے تھے۔اُس لائبریری کی ایک کتاب بھی پاکستان کو نہیں مل سکی،حیدر آباد اور بمبئی سے لے کر کلکتہ ودلی تک بیسیوں کتب خانے موجود ہیں۔جن کا بٹوا رہ نہیں ہو سکا ۔تو پھر انڈ یا آفس لائبریری کو ہندوستان منتقل کرنے پر پاکستان کو کیا کچھ مل جائے گا؟۔۔ لندن 1960