اتوار، 3 جون، 2018

صدام حسین کی بابل کے آثار سے محبت



عراق میں سورج کی تیز روشنی میں صدام حسین کے محل پر نگاہ نہیں ٹکتی تھی۔ ان میں چاروں جانب اور ہر زاویے سے بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں۔
آپ خم دار اور ڈھلان سڑک سے اوپر کی جانب چڑھ سکتے ہیں۔ یہاں زیتون اور کھجور کے درخت جنگل کی طرح اگے ہوئے تھے لیکن ایک دن یہ ایک وسیع و عریض پارک میں تبدیل کر دیے گئے۔ یہ صدام حسین کا سب سے شاندار محل تھا۔
محل کے اندر، اس کی چمک اورپر شکوہ باقیات کو ابھی بھی محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کا احساس محل کے صدر دروازے سے ہی ہونے لگتا ہے۔
صدام کا محل اب خاص و عام کے لیے
اب اس کی دیواروں پر داغ نظر آتے ہیں اور اس کے آس پاس بچے فٹبال کھیلتے نظر آتے ہیں۔ محل کے باہر سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اب اس میں صدام حسین نہیں رہتے۔ اگر آپ بیڈروم سے بالکنی کی جانب جائیں تو اس محل کا ماضی و حال دونوں روشن ہو جاتا ہے۔

بابل سے صدام کی محبت

یہ 2500 قبل مسیح کے قدیمی بابل کا وہ علاقہ ہے جس کا دبدبہ ایک زمانے میں پوری دنیا میں قائم تھا۔ جب آپ بابل کے کھنڈروں کو دیکھتے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہزاروں سال سے ایک عظیم مملکت کی وراثت موجود ہے۔
درحقیقت صدام حسین پہلے حکمران نہیں تھے جنھوں نے اپنی طرح سے ان قدیم کھنڈروں کا استعمال کیا۔ تاریخ میں مطلق العنان حکمرانوں اور قدیمی باقیات کے استعمال کی ایک طویل روایت ملتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کھنڈر جس طرح نظر آتے ہیں وہ بالکل ویسے ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ یادوں اور عقیدوں کا خزینہ ہوتے ہیں۔ ان سے کسی بھی بادشاہ کو ماضی کی عظمت کا لبادہ اوڑھنے میں مدد ملتی ہے اور وہ عظمت پارینہ کو از سر نو قائم کرنے کا دم بھرتے ہیں۔
کھنڈروں کے اس قسم کے استعمال کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ شام اور عراق میں برسرپیکار نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے حملوں میں کئی قدیم عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صدام حسین کے ساتھ ساتھ، مسولینی اور ہٹلر نے بھی اس طرح کی وراثت کو بچانے کی کوشش کی تھی۔
اس وقت آثار قدیمہ کے ورثے کے لحاظ سے عراق بہت مالامال ہے۔ دجلہ اور فرات دریا عراق کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ عراق میں ورکاء، اُر، بابل اور نینوہ کے کھنڈرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
عراق کی تاریخی وراثت کو نوآبادیاتی قوتوں نے چوری بھی کی ہیں۔ عراق نے غیر ملکی عجائب گھروں میں موجود اپنی باقیات پر اپنے مالکانہ حقوق کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ 19 ویں صدی میں لندن کے برٹش میوزیم میں اس قسم کی کچھ باقیات موجود تھے۔ اسی طرح برلن کے میوزیم میں بابل کے باب عیشتار کے ٹائلز ملے تھے۔
صدام حسین نے جب عنان صدارت سنبھالی تو انھوں نے ان کا باقیات کا دوسرے کاموں مین استعمال کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے اپنی قیادت میں عراقی عظمت قائم کرنے کی کوشش کی۔
ان کے اس فیصلے سے عراق میں آثار قدیمہ کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ صدام حسین کا کہنا تھا کہ قدیم اشیا عراقیوں کا بیش قیمتی اثاثہ ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا یہ دیکھے کہ ان کی قدیم تہذیب و تمدن نے انسانی زندگی کی ترقی میں کس حد تک مدد کی ہے۔
صدام حسین اور ان کی پارٹی کی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ عراق کے آثار قدیمہ کے بجٹ میں 80 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ بابل سدا صدام حسین کے دل کے مرکز میں رہا۔

دیوار بنانے کا حکم

18 ویں صدی سے چھٹی صدی قبل مسیح کا یہ شہر دنیا کا سب سے اہم تاریخی ورثہ ہے۔ شاید یہ تہذیب و تمدن کا پہلا مرکز ہے جہاں دولاکھ سے زائد افراد رہتے تھے۔ چوتھی صدی عیسوی قبل مسیح میں یہ شہر سکندر کے زیر نگیں آیا اور اس کی حمکرانی کے بعد خالی ہونے سے قبل تھوڑی دیل کے لیے پھلا پھولا تھا۔
لیکن ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی فتح کے ساتھ یہاں آنے والے سیاح بتاتے ہیں کہ اس وقت یہاں صرف کھنڈرات تھے۔
صدام حسین کے لیے بابل کے یہ کھنڈرات ہمیشہ بڑی دلچسپی کا سبب رہے۔ صدام حسین نے اس کی دیواروں کی از سر نو تعمیر کا حوصلہ مند پروجیکٹ تیار کیا۔
ایران کے ساتھ جنگ کے دوران انھوں نے اس پروجیکٹ میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس کی دیواریں 11 میٹر سے زیادہ بلند تعمیر کی گئیں۔ صدام حسين کے ان اقدام کی آثار قدیمہ کے ماہرین کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔
اس وقت ان کی یہ کہہ کر تنقید کی گئی تھی کہ ایک آمر حکمران اس جگہ ڈزنی لینڈ بنا رہا ہے۔
بالآخر اس جگہ پر صدام حسین نے رومن طرز تعمیر کا ایک تھیٹر تعمیر کروایا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے انھیں بتایا کہ ماضی کے حکمرانوں نے بابل کی عمارتوں کی اینٹوں پر اپنے نام کندہ کروائے تھے تو صدام حسین نے اپنے نام بھی اینٹوں پر کندہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ان کی ان کوششوں کو امریکی سفارتکار پال برینر نے 'مذاق اور خود پسندی میں کی جانے والی کوشش' قرار دیا۔ سنہ 2003 کے بعد عراق سے صدام کو بے دخل کیے جانے کے بعد برینر نے وہاں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایران پر حملے کا جشن

سنہ 1981 میں ایران پر عراقی حملے کی پہلی سالگرہ پر بابل میں بڑا جشن منایا گیا جس میں یہ نعرہ لگایا گیا 'کل نیبوچندنزار (بخت نصر) اور آج صدام حسین145۔
بخت نصر بابل کے حکمران تھے جبکہ صدام حسین نے خود کو بابل کا جانشین ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ بغداد میں بابِ عیشتار کے بالکل سامنے صدام حسین نے اپنا مجسمہ بنوایا۔
یہ 1988 میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا جس میں ایک اداکار نے بخت نصر کا کردار ادا کیا اور اپنے وزیر ثقافت کو ایک بینر سونپا جس میں صدام حسین کو قدیم بادشاہوں کا پوتا اور دونوں قدیم دریاؤں کا جانشین قرار دیا گیا۔

مسولنی اور ہٹلر کے راستے پر صدام

صدام نے جو کچھ کیا وہ مسولینی کی تقلید سے زیادہ نہیں تھا۔ 20 ویں صدی کی ابتدا میں مسولینی نے خود کو 'دی لیڈر' قرار دیا تھا۔ اس سے قبل بھی بہت سی حکومتوں نے خود کو قدیم روم کا وارث کہا تھا فاشسٹ مسولینی اسے ایک نئی سطح پر لے گئے۔
مسولینی اپنی مہم میں خود کو جدید آگسٹس کہتے تھے۔ سنہ 1922 میں اپنی سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے انھوں نے روم کی اہمیت پر زور دیا۔
مسولینی نے کہا تھا: 'یہ ہمارا نشان امتیاز ہے یا آپ اسے اساطیر کہ لیں۔ ہمارا ایک رومن اٹلی کا خواب ہے جو عقل مند اور مضبوط ہو، جو ڈسپلن والا اور شاہانہ ہو جو کہ روم کی روح تھی اور اس کی تعبیر فاشزم میں پنہا ہے۔'
ایسے خواب دیکھنے والے مسولینی کو تاریخ میں اس کے ظلم اور بربریت کے لیے جانا جاتا ہے۔ جہاں آگسٹس کی قبر تھی وہاں مسولینی نے بھی ایک تعمیر کروائی تھی۔
مئی سنہ 1938 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہونے سے تقریبا 16 ماہ قبل ہٹلر اٹلی کے دارالحکومت پہنچے تھے اور مسولینی نے ہٹلر کو اپنی تعمیرات دکھائی تھیں۔
ہٹلر ان کی عمارتوں کے دورے پر رات میں گئے تھے اور مسولینی کے لوگوں نے ان عمارتوں کو سرخ روشنی سے سجایا تھا۔
ہٹلر نے بھی تاریخی باقیات سے بہت متاثر تھے۔ ہٹلر کے دفتر میں فرانسیسی فنکار ہیوبرٹ رابرٹ کی ایک پینٹنگ لگی رہتی تھی۔ ہٹلر نے بھی اپنی زندگی میں کئی پینٹنگز بنائی تھیں۔
ہٹلر نے کئی بار جدید فن تعمیر سے اپنی نفرت ظاہر کی تھی۔ انھیں قدیم طرز تعمیر میں دلکشی نظر آتی تھی۔
ہٹلر کے لیے یہ تاریخی باقیات ایک عظیم سماج کا پتہ دیتے تھے اور وہ اس کے دوبارہ قیام پر کام کرنے کے حق میں تھے۔
ہٹلر کے مطابق ایسی عمارتیں تعمیر کی جانی چاہیے جو کھنڈرات میں تبدیل ہوجانے کے بعد بھی آنے والی نسلوں کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔
بہر حال نازیوں کی تعمیر کردرہ عمارتیں اپنے پیچھے عظیم کھنڈرات نہیں چھوڑ سکیں۔ بابل میں صدام کے محل کی طرح جب نازیوں کی تعمیرات منہدم کی گئیں تو جو انھیں جو ڈر تھا وہی ہوا یعنی وہ ٹوٹے ہوئے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔
BBC

جمعرات، 31 مئی، 2018

ایران : سفاک جیل میں عورتوں سے غیر انسانی سلوک



1979ء میں ایران میں انقلاب کے وقت ہزاروں عورتیں سڑکوں پر نکلی تھیں اور وہ بھی اپنے مردو ں کی طرح محمد رضا شاہ پہلوی کی آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ چاہتی تھیں۔

لیکن جب آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ملک کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا اور گرد بیٹھ گئی ،تو آزادی کے لیے لڑنے والے بہت سے لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ ان کے نئے سپریم لیڈر بھی وہی آمرانہ مطلق العنانیت پیش کررہے تھے جو رضا پہلوی کا خاصہ تھی اور پھر خواتین کے حقو ق کو فوری طور پر محدود کردیا گیا تھا۔

خواتین کو جب ایران کی نئی مذہبی قیادت سے التباس نظر کا سامنا ہوا تو ان میں کی اکثریت نے حزب ِاختلاف کے گروپوں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وہ ایک مرتبہ پھر شاہراہوں پرتھیں اور آیت اللہ خمینی کے اقتدار کے خلاف مظاہرے کررہی تھیں۔چنانچہ خمینی نظام نے بڑھتی ہوئی بے امنی اور گڑ بڑ پر قابو پانے کے لیے حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا، بہت سی خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔پھر انھیں ایک سے ایک سفاک جیل میں گھمایا جانے لگا۔

ان ابتدائی ایام کے بعد سے ایرانی نظام نے سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایسا ہی ناروا سلوک کیا ہے۔جیلوں میں ہزاروں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔لاتعداد زیر حراست افراد کو ان کی صنف سے قطع نظر جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے پیش نظر خواتین کارکنان کی اکثریت نے حکومت سے اختلاف کرنا ہی چھوڑ دیا اور آزادی کے حصول کی اس جدوجہد میں ان کی ایک بڑی تعداد ملک سے راہ فرار اختیار کر گئی۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو اس کے جیلوں کے نظام میں خواتین سے ہونے والے ناروا سلوک سے نازیوں کے تاریک ایام کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔تب جیلوں میں قیدیوں سے روزانہ ہر طرح کا انسانیت سوز سلوک کیا جاتا تھا۔ان سے ناروا سلوک کا ہر حربہ آزمایا جاتا تھا۔

جب آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی مطلق العنان حکمرانی قائم کر لی تو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے محمد رضا پہلوی کے دور میں نافذ کردہ قوانین کو بھی بیک جنبشِ قلم منسوخ کردیا تھا۔رضا شاہ نے ملک میں 1967ء اور 1973ء میں خاندانی تحفظ کا قانون متعارف کرایا تھا۔ مذہبی قائدین کی اس نئی حکومت نے اس کو پہلوی کے جدیدیت پر مبنی نظریے سے تعبیر کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے چند گھنٹوں کے بعد ہی ایسے قوانین کو منسوخ کردیا تھا۔

شاہ نے جو قوانین متعارف کرائے تھے،ان میں ایک یہ تھا کہ لڑکیوں کی پندرہ سال سے کم عمر میں شادی نہیں کی جائے گی لیکن خمینی نے اس قانون میں ترمیم کرکے بچیوں کی شادی کی حد عمر نو سال کردی تھی۔ موجودہ جدید دور میں جب ایرانی خواتین کو انٹر نیٹ کے ذریعے بیرونی دنیا تک رسائی حاصل ہے تو وہ یہ دیکھ سکتی ہیں کہ بیرونی دنیا میں تو خواتین کو ان سے کہیں زیادہ آزادیاں حاصل ہیں۔

ایران میں حکومت کی اتھارٹی کو کھلے عام چیلنج کرنے والی خواتین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ وہ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کررہی ہیں۔ اگر بسیج ملیشیا کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ان کے چہروں پر تیزاب نہیں بھی پھینکا جاتا ہے تو پھر انھیں جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے مدافعین

خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی کارکنان کو اکثر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔بہت سی ایسی خواتین جنھوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مہم چلائی تھی ، انھیں انجام کار جیل جانا پڑا۔ان میں سے بیشتر نے تو پُرامن اجتماعات میں حصہ لیا ،بعض نے پارکوں میں خاموش احتجاج کیا یا پھر وہ خاموش تماشائی بنی رہیں۔ان میں سے بیشتر کو اگرچہ تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد رہا کردیا جاتا رہا ہے لیکن بعض کو کوڑے مارنے یا قید کی سزا سنا دی گئی۔

ایران میں اس وقت خواتین کے حقوق کی صورت حال پست ترین سطح پر ہے۔اس ملک میں کسی عورت کو اپنی عصمت ریزی کرنے والے درندے سے لڑنے کی کوشش پر پھانسی دی جاسکتی ہے ۔اس ملک کے جیل نظام میں آپ کو ظلم وزیادتی کی ہرقسم اور شکل ملے گی۔عورتوں اور مردوں دونوں ہی سے جسمانی طور پر ناروا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ایران کی بدنام زمانہ انتظامیہ سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔

جیل کے محافظوں کے ہاتھوں اپنی عزتیں لٹانے والی بیشتر متاثرہ عورتوں کی آخری منزل پھانسی کا پھندا ہوتی ہے۔ایسے واقعات کے عینی شاہدین کے بیانات بڑے چشم کشا ہیں۔جنسی عصمت ریزی سے متعلق بیشتر واقعات متاثرین کی جیل کوٹھڑیوں کے ان ساتھیوں نے بیان کیے ہیں، جو بچ جانے میں کامیاب ہوگئے اور اپنی جیل کی مدت پوری ہونے کے بعد رہائی میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ان میں سے بعض نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان ہوشربا تفصیلات سے آگاہ کیا۔

جب سے دُہری شہریت کی حامل نازنین زغری ریٹکلف ایران کی بدنام زمانہ ایوین جیل میں قید ہیں ،اس وقت سے یہ عقوبت خانہ اہل ِمغرب کی نظروں میں ہے۔ایک عورت کے لیے ایوین جیل میں جانا ہی ایک شرمناک اور اذیت ناک تجربہ ہوسکتا ہے۔

اس کا خوف ناک ڈھانچا تہران میں البرز کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔اس کی بلند وبالا دیواریں ہیں اور ان کے اوپر خار دار تار لگائے گئے ہیں۔اس کے درمیان میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر واچ ٹاورز ہیں حالانکہ ایوین جیل ہمہ وقت مسلح محافظوں کے پہرے میں ہوتی ہے۔

اس جیل میں قید عورتوں سے ایک نرمی یہ برتی جاتی ہے کہ انھیں قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وہاں سے روزانہ ایسی قیدی عورتوں کو تفتیش کے لیے لے جایا جاتا ہے اور اس عمل کے دوران میں اکثر تشدد کے حربے آزمائے جاتے ہیں ،سوالات کے دوران میں گالم گلوچ کو ایک معمول سمجھا جاتا ہے۔

موسم گرما کے انتہائی درجہ حرارت والے مہینوں میں ان جیلوں میں سڑاہند عام دنوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔قیدیوں سے کھچا کھچ بھری جیل کوٹھڑیوں میں کیڑے پتنگے اور کاکروچ عام ہوتے ہیں اور وہ قیدیوں کی اذیت وتکالیف میں اور بھی اضافہ کردیتے ہیں۔20 مربع میٹر کی ایک کوٹھڑی میں 28 تک قیدیوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے،حفظان صحت کا کچھ خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ 200 تک قیدیوں کے لیے صرف ایک غسل خانہ ہوتا ہے۔پھر ان قیدیوں کو تو سونے کے لیے بھی کہیں جگہ نہیں ملتی ہوگی۔

تشدد کی مختلف شکلیں

ایران کے جیل نظام میں تشدد کی مختلف شکلیں ہیں۔قیدیوں کو مارا پیٹا جاسکتا ہے،انھیں لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انھیں ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔وہ یوں کہ انھیں دوسرے قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے جعلی مناظر دکھائے جاتے ہیں،انھیں جگائے رکھا جاتا ہے۔ان کے قید تنہائی کے دورانیے کو طویل کردیا جاتا ہے۔

بعض اوقات انھیں یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کو گرفتار کر لیا جائے گا یا انھیں نقصان پہنچائے گا۔انھیں خاندان کے افراد سے ملوایا نہیں جاتا ،ٹیلی فون پر خاندان کے افراد سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔بعض قیدیوں پر یخ ٹھنڈا پانی انڈیل دیا جاتا ہے یا پھر کڑی دھوپ میں انھیں کئی کئی گھنٹے کھڑا رکھا جاتا ہے۔بیشتر قیدیوں کو حفظان ِ صحت سے محروم رکھا جاتا ہے ، انھیں غسل خانے ایسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

ایرانی جیل نظام میں جنسی تشدد تو ایک روایت بن چکا ہے۔اس کو تشدد کے کسی بھی دوسرے حربے کی طرح قیدیوں پر آزمایا جاتا ہے۔جیلوں اور حراستی مراکز میں عورتوں پر یہ حربہ آزمایا جاتا ہے اور وہاں وہ اپنا دفاع بالکل بھی نہیں کرسکتی ہیں۔

ایران میں تو 13 سال کی عمر تک کی لڑکیوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جاتا ہے۔انھیں ایک خوب صورت نام والے اقامتی یونٹوںمیں رکھا جاتا ہے جہاں وہ محافظوں کے رحم وکرم پر ہوتی ہیں۔ان یونٹوں کو دراصل  ریپ کیمپیا پھر  عدم واپسی کی جگہ قرار دیا جاتا ہے۔یہاں ان لڑکیوں کو شرمناک طریقے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔پھر انھیں پھندے پر لٹکا دیا جاتا اور جو کسی طرح بچ نکلتی ہیں تو وہ ذہنی مریض بن جاتی ہیں۔

جب عورتوں کو عصمت ریزی ایسے خوف ناک تجربے سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور اس کے بعد وہ پھانسی کے پھندے سے بھی بچ نکلتی ہیں تو وہ اپنے ساتھ روا رکھے گئے اس شرم ناک سلوک کے بارے میں مزید سبکی سے بچنے کے لیے کسی سے بات نہیں کرتی ہیں اور خاموش رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتی ہیں۔بعض اپنے خاندان کے افراد سے ناروا سلوک کی دھمکی پر خاموش رہتی ہیں۔ان کی عصمت ریزی کے مرتکبین اکثر یہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے کچھ بولا تو ان کے خاندان سے بھی ایسا سلوک کیا جاسکتا ہے یا پھر پورے خاندان ہی کو موت کی نیند سلایا جاسکتا ہے۔

مرد کے برعکس جیل میں وقت گزارنے والی عورتوں کو رہائی کی صورت میں سماجی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ دباؤ یہی ہوتا ہے کہ وہ جیل میں قید رہ چکی ہوتی ہیں ۔یوں ان کی شہرت ، عزت سب کچھ تباہ ہوجا تا ہے۔جب ان کی عصمت ریزی کی خبر ان کے خاندان تک پہنچتی ہے تو بعض صورتوں میں خاندان کے افراد بھی غیرت کے نام پر انھیں موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔المختصر یہ کہ ایک مرتبہ جیل کی ہوا کھانے والی ایرانی عورت کے مصائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔

منگل، 29 مئی، 2018

اپنے عاشقوں کو زندہ نذر آتش کرنے والی افریقی ملکہ



تاریخ کی کتابوں میں کئی حیرت انگیز واقعات درج ہیں اور ان میں افریقی ملک انگولا کی ملکہ اینجنگا ایمباندی بھی ہیں جو ایک ہوشیار اور بہادر جنگجو کے طور پر نظر آتی ہیں۔
انھوں نے 17 ویں صدی میں افریقہ میں یورپی استعماریت کے خلاف جنگ کا طبل بجایا تھا لیکن بعض تاریخ نویس انھیں ظالم خاتون کے طور پر بیان کرتے ہیں جنھوں نے اقتدار کے لیے اپنے بھائی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اتنا ہی نہیں ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے حرم میں رہنے والے مردوں کے ساتھ ایک بار جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد انھیں زندہ نذر آتش کروا دیا کرتی تھیں۔
تاہم تاریخ دانوں میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ افریقہ کی سب سے مقبول خواتین میں سے ایک تھیں۔


ملکہ یا اینگولا

ایمباندو قبیلے کی رہنما اینجنگا جنوب مغربی افریقی علاقے اینڈونگو اور متامبا کی ملکہ تھیں۔

لیکن مقامی زبان میں کمباندو میں اینڈونگو کو انگولا کہا جاتا تھا اور اسی نام سے پرتگالی اس علاقے کا ذکر کرتے تھے۔
اور بالآخر اس علاقے کو دنیا بھر انگولا کے نام سے ہی جانا گیا۔
اس علاقے کو یہ نام اس وقت دیا گیا جب پرتگال کے فوجیوں نے سونے اور چاندی کی تلاش میں اینڈونگو پر حملہ کر دیا۔

لیکن جب انھیں سونے اور چاندی کی کانیں نہیں ملیں تو انھوں نے اپنی نئی کالونی برازیل میں یہاں سے مزدور بھیجنے شروع کر دیے۔

اینجنگا پرتگالی حملے کے آٹھ سال بعد پیدا ہوئیں اور انھوں نے اپنے والد بادشاہ ایمباندی کیلنجی کے ساتھ بچپن سے ہی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد میں شرکت کی۔


سنہ 1617 میں بادشاہ ایمباندی کی موت کے بعد ان کے بیٹے اینگولا ایمباندی نے حکومت سنبھالی لیکن ان میں نہ اپنے والد کا کرشمہ تھا اور نہ ہی اپنی بہن جیسی ہوشیاری۔

اینگولا ایمباندی کو یہ ڈر ستانے لگا کہ ان کے وفادار ہی ان کے خلاف اور ان کی بہن کے حق میں سازش کر رہے ہیں۔
اور اسی خوف کے سبب اینگولا ایمباندی نے اینجنگا کے بیٹے کو سزائے موت سنا دی۔
لیکن جب نئے بادشاہ کو یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ یورپی حملہ آوروں کا سامنا کرنے میں ناکام ہیں اور یورپی فوج رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہی ہے اور بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے تو ایسے میں انھوں نے اپنے ایک معتمد کا مشورہ مانتے ہوئے اپنی بہن کے ساتھ اقتدار کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔


پرتگالی مشنریوں سے پرتگالی زبان سیکھنے والی اینجنگا بہت ہی با صلاحیت اور جنگی حمکت عملی بنانے والی خاتون تھیں۔

اس صورت حال میں جب وہ مذاکرات کے لیے لوانڈا پہنچیں تو انھوں نے وہاں کالے گورے اور مختلف قبائلیوں کو دیکھا۔
اینجنگا نے ایسا منظر پہلی بار دیکھا تھا تاہم وہ ایک دوسری چیز دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئیں۔
انھوں نے دیکھا کہ غلاموں کو قطار در قطار بڑے بڑے جہازوں پر لے جایا جا رہا تھا اور چند ہی سالوں میں لوانڈا افریقہ میں غلاموں کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔

لیکن جب وہ پرتگالی گورنر جواؤ كوریے ڈے سوؤسا کے ساتھ امن مذاکرات کرنے ان دفتر پہنچیں تو ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا ذکر مورخين نے تفصیل سے کیا ہے۔

وہ جب وہاں پہنچیں تو انھوں نے دیکھا کہ پرتگالی اہلکار تو آرام دہ کرسیوں پر بیٹھے تھے جبکہ ان کے لیے زمین پر بیٹھنے کے انتظامات کیے گئے تھے۔
اس سلوک پر اینجنگا نے ایک لفظ نہیں کہا جبکہ ان کے اشارے پر ان کا ایک ملازم کرسی بن کر ان کے سامنے بیٹھ گیا۔


پھر وہ اس ملازم کی پیٹھ پر بیٹھ گئیں اور اس طرح وہ پرتگالی گورنر کے رو برو ان کے برابر پہنچ گئیں۔

اینجنگا نے اس طرح یہ واضح کر دیا کہ وہ مساوی بنیادوں پر مذاکرات کرنے کے لیے آئی ہیں۔
مذاکرات کے طویل دور کے بعد طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پرتگالی فوج اینڈینگو سے نکل جائے گی اور ان کی حاکمیت قبول کرے گی۔
اور اس کے بدلے میں اینجنگا نے اس علاقے کے کاروباری راستے کی تعمیر کے لیے رضامندی دی۔

پرتگال کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے اینجنگا نے مسیحی مذہب اختیار کیا اور اپنا نیا نام اینا ڈی سوزا اختیار کیا۔ اس وقت ان کی عمر 40 سال تھی۔

لیکن دونوں کے درمیان تعلقات زیادہ دنوں تک بہتر نہیں رہے اور پھر نئی جنگ شروع ہو گئی۔


سنہ 1624 میں ان کے بھائی ایک چھوٹے سے جزیرے پر رہنے لگے جہاں ان کی موت واقع ہو گئی جس کے متعلق مختلف قسم کی کہانیاں رائج
 ہیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اینجنگا نے اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے اپنے بھائی کو زہر دیا۔
جبکہ بعض دوسرے ان کی موت کو خود کشی قرار دیتے ہیں۔

لیکن ان سب قیاس آرائیوں کے درمیان میں اینجنگا ایمباندے نے پرتگاليوں اور چند اپنے لوگوں کی جانب سے کھڑے ہونے والے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے ایندونگو کی پہلی ملکہ بننے کا افتخار حاصل کیا۔

انگولا کی نیشنل لائبریری کے ڈائریکٹر جاؤ پیڈرو لارینکو کا کہنا ہے کہ 'افریقہ میں قدیم زمانے سے جاری خواتین کے استحصال کے خلاف اینجنگا ایمباندے ایک بلند آواز کی طرح ہیں۔'


'انھی کی طرح کئی دوسری شخصیات ہیں جو ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ افریقہ میں اقتدار کے ڈھانچے میں فٹ نہ ہونے کے باوجود ان خواتین نے اس براعظم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔'

بعض مورخین کا کہنا ہے کہ ایک ملکہ کی حیثیت سے اینجنگا کا انداز ظالمانہ تھا۔
مثال کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ان کا ریاست کی سرحد پر رہنے والے امبانگالا جنگجوؤں کی مدد حاصل کرنا تاکہ وہ اپنے حریفوں کو خوفزدہ کر سکیں۔
کئی سالوں تک اپنی سلطنت پر حکومت کرنے کے بعد انھوں نے اپنی پڑوسی ریاست پر قبضہ کر لیا۔
اس کے علاوہ انھوں نے اپنی سلطنت کی سرحدوں کو بخوبی محفوظ کیا۔


برازیل کے پرتگالی مصنف جوز ایڈوارڈو اگوالوسا کہتے ہیں کہ ملکہ اینجنگا میدان جنگ میں صرف ایک عظیم جنگجو نہیں بلکہ ایک عظیم حکمت عملی بنانے والی اور سیاست داں تھیں۔



انھوں نے پرتگالیوں کے خلاف جنگ کی اور دوسری طرح ڈچ کے ساتھ دوستی کی۔ اور جب ان کی پڑوسی سلطنتوں سے جنگ ہوتی تھی تو وہ پرتگالیوں سے مدد حاصل کرتی تھیں۔



جنسی غلام کے متعلق کہانی

فرانسیسی فلسفی مارکس دے سادے نے اطالوی مشنری جیوانی کاویز کی کہانیوں پر مبنی ایک کتاب 'دا فلاسفی آف دا ڈریسنگ ٹیبل' تصنیف کی ہے۔

کاویز کی کہانیوں میں یہ کہا گیا ہے اینجنگا اپنے عاشقوں کے ساتھ سیکس کرنے کے بعد انھیں جلاکر مار دیتی تھیں۔
ملکہ اینجنگا کے حرم کو 'چبدوس' کہا جاتا تھا اور اس میں رہنے والے مردوں کو خواتین کے کپڑے پہنائے جاتے تھے۔


اتنا ہی نہیں جب ملکہ کو اپنے حرم میں موجود کسی مرد کے ساتھ سیکس کرنا ہوتا تھا تو اس کے لیے حرم کے لڑکے مرتے دم تک آپس میں لڑتے اور پھر ان میں جو فاتح ہوتا اس کے ساتھ ملکہ ہم بستری کرتی۔

تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ جیتنے والے کے ساتھ زیادہ خطرناک سلوک ہوتا تھا۔ دراصل ان کے ساتھ سیکس کے بعد انھیں جلا کر مار ڈالا جاتا تھا۔
اس بارے میں دوسرا خیال یہ ہے کہ کاویز کی کہانیاں دوسرے لوگوں کے دعووں پر مبنی ہیں جبکہ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کے مختلف ورژن موجود ہیں۔

جمعرات، 24 مئی، 2018

کہانی انسانی تاریخ کو کیسے بدلتی ہے؟



یونانی بادشاہ الیگزینڈر یا سکندر کو دنیا سکندر اعظم کہتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بہت ہی کم عمر میں یورپ سے ایشیا تک اپنی سلطنت قائم
 کر لی تھی۔
محض 32 سال کی عمر میں مرنے سے پہلے سکندر نے یونان کے صدیوں پرانے دشمن فارس کو گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کر دیا تھا اور تہذیبوں کا مرکز کہلائے جانے والے مشرق وسطیٰ پر حکومت قائم کر لی تھی۔
سکندر کے عظیم بننے اور کامیابی حاصل کرنے میں ان کے استاد ارسطو کی تعلیم کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ارسطو نے سکندر کو کیا سکھایا؟

ارسطو نے سکندر کو ایک کہانی سنائی تھی اور یہ کہانی حقیقت اور فسانے کے امتزاج سے بنی تھی۔
یہ کہانی ٹرائے کی جنگ کی کہانی تھی جس کا یونانی شاعر ہومر نے اپنی رزمیہ الیڈ میں مفصل ذکر کیا ہے۔
یہ کہانی انسانی جذبات کا نچوڑ ہے۔ اس میں عشق و محبت ہے، نفرت ہے، یہ رزم کی داستان بھی ہے اور بزم کی بھی۔ اس میں انسانوں کے کارناموں کا بیان بھی ہے اور ان کی ناکامیوں کا ماجرا بھی۔

ایلیڈ ایک ایسا رزمیہ ہے جس نے سکندر کو جیت کے جذبے سے سرشار کر دیا۔ انھوں نے ٹرائے کی جنگ سے یونانی بادشاہوں کی یک جہتی اور جنگی حکمت عملی سیکھی اور پھر دنیا پر فتح حاصل کی۔

کہانیاں ہماری تہذیب و ثقافت میں پیوست ہوتی ہیں۔ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کے ہر گوشے میں اور انسانی تہذیب کی ترقی کے ہر دور میں قصہ گوئی موجود رہی ہے۔

ہر کہانی سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ اس کے علاوہ الفاظ کے ذریعہ اس دور کا خاکہ کھینچا جاتا ہے تاکہ اس دور کے رسم و رواج، عادات و اطوار اور ديگر چیزوں کی معلومات ملے۔

قصہ گوئی کا رواج ہر دور میں رہا ہے۔ عرب ممالک میں الف لیلہ کی کہانیاں رہی ہیں تو انڈیا میں پنچ تنتر اور بھی مہا بھارت اور راماین جیسی رزمیہ داستانیں ہیں۔
کہانیاں صرف کتابوں کی زینت نہیں بلکہ ان کی انسانی زندگی میں بھی قدر و قیمت رہی ہے۔
ارسطو کا کہنا تھا کہ ادب اور کہانیاں صرف انسانوں کی تفریح کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کا سبق سکھانے اور قا‏‏عدے قانون بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ان کے علاوہ شاعری انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہے اور ہمیں بہتر انسان بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
یہ نہیں ہے کہ دنیا بھر میں ادب کی ابتدا رزمیہ سے یا اس دور کے بادشاہوں کی شکست و فتح کی کہانیوں سے ہوئی ہے۔ بہت سی جگہوں پر ادب کا آغاز نظم و شعر سے ہوا۔

مثلاً چین میں ادب کی ابتدا میں شعر کہنے کا کام صرف شاعروں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اعلیٰ عہدوں کے لیے شعر گوئی کا امتحان دینا ہوتا تھا، اور تمام بڑے حکومتی عہدیداروں کے لیے شعر کہنے اور شعر فہمی کی صلاحیت لازمی تصور کی جاتی تھی۔
چین سے متاثر ہو کر جاپان میں بھی شاعری کو خوب عروج حاصل ہوا۔
قدیم زمانے میں جاپان میں خواتین کو ادب پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن یہاں جہاں چاہ وہاں راہ کے مصداق پابندی کے باوجود دنیا کا سب سے پہلا ناول ٹیل آف گینجی وہیں لکھا گیا اور اس کی ناول نگار مراساکی شیکیبو ایک خاتون تھیں۔

اس خاتون نے اپنے بھائی کو پڑھتے دیکھ کر لکھنا سیکھا تھا، پھر انھوں نے تقریباً ایک ہزار صفحات کا شاہکار ناول لکھا۔ اسے کلاسیکی ادب بنانے کے لیے انھوں نے اپنے ناول میں 800 کے لگ بھگ نظمیں بھی شامل کیں۔
ادب یا قصے کہانیوں کی دنیا میں انقلاب لانے کا سہرا عرب ممالک کو جاتا ہے جنھوں نے چین سے کاغذ بنانے کی تکنیک سیکھ کر اسے ایک بہت کامیاب کاروبار کے طور پر آگے بڑھایا۔
کاغذ کی ایجاد سے پہلے کہانیاں نسل در نسل زبانی ادب کے روپ میں پہنچ رہی تھی۔

جب انسان نے لکھنا شروع کیا تو اس نے اپنے خیالات درختوں کی چھالوں اور پتوں پر درج کرنے شروع کیے، پتھروں پر کندہ کیے۔ کاغذ کی دریافت کے بعد سارا منظر ہی بدل گيا اور عرب میں الف لیلہ کی کہانیاں اسی طرح یکجا کی گئيں۔

کہانیاں ہوں یا نظمیں یا پھر رزمیہ داستان یہ سب انسانی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ بہشت اور جہنم کا تصور بالکل مذہبی ہے۔ لیکن اطالوی شاعر دانتے نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی تصنیف ڈیوائن کامیڈی میں پیش کیا ہے۔
کاغذ کی ایجاد نے ادب کو تحفظ فراہم کیا اور اسے یکجا کرنے کا کام کیا۔ پرنٹنگ کی ایجاد اسے گھر گھر پہنچایا۔ پرنٹنگ کے بعد ناول لکھنے کا رواج پروان چڑھا۔

خاص طور پر خواتین کے لیے ناول بڑے پیمانے پر لکھے جانے لگے۔
نئے ابھرتے ہوئے ممالک نے اپنی آزادی کے لیے جدید ناول کا استعمال کیا۔ دراصل سیاسی آزادی کے لیے ثقافتی آزادی بہت اہم ہے اور ناول اس کی مکمل آزادی دیتا ہے۔

جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی، لوگوں تک ادب تک رسائی بھی بڑھ گئی۔ اس میں تعلیم کی بڑھتی ہوئی سطح نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ زیادہ قارئین پیدا ہونے لگے تو زیادہ کہانیاں لکھنے والے بھی آنے لگے۔ آج مختلف قسم کی کہانیاں لکھنے اور پڑھنے والے موجود ہیں۔

آج ہم انٹرنیٹ دور میں رہ رہے ہیں۔ ایک کلک پر دنیا بھر کا ادب ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اگرچہ تمام چیزوں کی آن لائن دستیابی کا کتابوں کی اشاعت پر برا اثر پڑا ہے لیکن اس سے کہانیاں سننے اور سنانے والوں کے جنون میں کوئی کمی نہیں آئی۔

خواہ کوئی ہاتھ میں کتاب لیے پڑھتا نظر نہ آتا ہو لیکن سب کے پاس ایسے گیجٹس ہیں جس کے ذریعے جب چاہے پڑھ سن سکتا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈیجیٹل ورلڈ میں ہم ادب لکھنے کا ایک نئی آغاز کر رہے ہیں۔

زمانہ خواہ کتنا ہی کیوں نہ بدل گیا ہو، راجہ رانی تبدیل ہو گئے ہوںت لیکن قصے کہانی کا دور جاری ہے اور کہانی کی حکومت ہمارے دلوں پر قائم ہے۔
(بی بی سی )

پیر، 21 مئی، 2018

ماہین بلوچ — تعلیم کا شعور اجاگر کرنے کی ایک کرن




اٹھارہ سالہ ماہین بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے، جنہوں نے کم عمر میں اپنے علاقے کے بچوں کو جرائم اور منشیات سے بچا کر ان کا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش شروع کی۔

ماہین بلوچ نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں 4 بچوں کو پڑھانے سے یہ کام شروع کیا، پھر آہستہ آہستہ تعداد بڑھتی گئی۔ وہ اب لیاری میں ایک انجمن سے لی گئی جگہ پر اسکول میں بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔

لیاری کی یہ لڑکی محدود وسائل میں 100 بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی سامنے لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ماہین اپنے اس مشن کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جب وہ میٹرک میں تھیں، تب سے انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے علاقے میں بچے اسکول نہیں جاتے، اسی لیے والد سے بات کرکے انہیں خود پڑھانا شروع کیا۔

انہیں اس کام میں والد اور بڑی بہن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔


خود کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ماہین کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مسئلہ ان کی اپنی تعلیم کا تھا، کیونکہ ان بچوں کو پڑھانے کے لیے کوئی علیحدہ سے اساتذہ موجود نہیں، دوسرا مسئلہ جگہ کا تھا، کیونکہ ان کا گھر چھوٹا ہے اور اتنی زیادہ تعداد میں ایک ساتھ بچوں کو بیٹھانے کی گنجائش موجود نہیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ بچوں کو بنیادی تعلیم دینے کے بعد اسکول میں داخل بھی کروایا گیا، جس سے وہ اپنی آگے کی تعلیم مکمل کرسکیں۔


ماہین کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کو آرٹ کے ذریعے بھی تعلیم دیتی ہیں، اس طرح سے بچے پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں اور وہ کبھی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ کام ہمیں خود کرنا ہوگا، کیونکہ ہمیں اس ملک سے ان اندھیروں کو ختم کرنا ہے اور میں چاہتی ہوں ناصرف لیاری، بلکہ پورے ملک میں ایسے اسکولز قائم کیے جائیں جہاں بچوں میں موجود ٹیلنٹ کو بھی اجاگر کیا جاتا ہو جو یقیناً بہت ضروری عمل ہے'۔

ماہین اس کام کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ہفتہ، 19 مئی، 2018

ہر سال لاکھوں پرندے ہجرت کیوں کرتے ہیں ؟



کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ ہر سال کیوں لاکھوں پرندے سردیاں شروع ہوتے ہی برفانی علاقوں سے میدانی خطوں کی طرف پرواز شروع کر دیتے ہیں اور پھر جیسے ہی موسم بدلنا شروع ہوتا ہے، تو ان میں سے وہ خوش قسمت پرندے واپسی کی اڑان بھر لیتے ہیں جو شکاریوں کا نشانہ بننے سے بچ جاتے ہیں۔

اس کا ایک سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ وہ خوراک کی تلاش کے لیے ہزاروں میل کی پرواز کرتے ہیں۔ اپنے منتخب ٹھکانوں پر پہنچنے کے لیے انہیں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے پرندے پاکستان بھی آتے ہیں اور وہ دریاؤں اور جوہڑوں کے کنارے ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔ ان مسافر پرندوں میں کونج بھی شامل ہوتی ہے جو پاکستان کی کئی علاقائی زبانوں کے لوگ گیتوں کا خاص موضوع ہے۔

اب تک یہ ماہرین یہی قیاس کرتے رہے ہیں کہ سائبیریا اور دوسرے برف پوش علاقوں سے پرندے موسم سرما کے آغاز پر خوراک کی تلاش میں ہجرت کرتے ہیں، خاص طور پر اپنے ان بچوں کو پالنے کے لیے سردیوں میں جن کی خوراک کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر نسبتاً معتدل میدانی علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور جب موسم گرم ہونے لگتا ہے تو نئے بچے پیدا کرنے کے لیے اپنے آبائی وطن کی جانب پر پھیلا دیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب ہزاروں میل کی کھٹن اور تھکا دینے والی پرواز کے بعد انہیں خوراک مل جاتی ہے تو پھر وہ چند مہینوں کے بعد واپس کیوں چلے جاتے ہیں اور ان جگہوں پر مستقل سکونت کیوں اختیار نہیں کر لیتے جہاں خوراک موجود ہو تی ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاںآج ایسے بہت سے ایسے پرندے اور جانور موجود ہیں، جن کا یہ وطن نہیں ہے۔ وہ دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے ، مگر انہیں یہ علاقے اتنے بھائے کہ انہوں نے واپس جانے کی بجائے مقامی موسمی اور جغرافیائی حالات سے مطابقت پیدا کر لی اور یہی کے ہو رہے۔

لیکن ہزاروں برسوں کی نسل در نسل پروازوں کے باوجود مسافر پرندوں اپنے لیے یہ راستہ کیوں نہیں چن رہے۔یہ سوال بہت عرصے سے سائنس دانوں کے ذہنوں میں کلبلا رہا تھااور وہ اس بارے میں تحقیق کر رہے تھے ، بالآخر وہ اس راز سے پردہ اٹحانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

سائنسی جریدے نیجر اکالوجی اینڈ ایولوشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ میدانی علاقوں میں مختلف اقسام کے پرندوں کی بہتات ہوتی ہے اور خوراک کا حصول آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ہجرت کرنے والے پرندوں کو کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے جب کہ برفانی موسم میں ان کے اپنے آبائی وطن میں کھانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔

خوراک کے لیے لڑنا جھگڑنا اور زیادہ تگ و دو کرنا غالباً ہجرت کرنے والے پرندوں کے مزاج میں ہوتا، اس لیے موسم بدلنے پر وہ اپنے آبائی وطن واپسی کو ترجیج دیتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ زولوجی کے سائنس دان مارس سومول جو اس تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں ، کہتے ہیں کہ مسافر پرندے سردیاں ختم ہونے پر گرم علاقوں سے اپنے وطن شمالی نصف کرے کی جانب اس لیے پرواز کر جاتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں خوراک کے حاصل کرنے کے لیے مسابقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ان برفانی اور چٹانی علاقوں میں پرندوں کی نسلیں اور ان کی تعداد بھی میدانی علاقوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس لحاظ سے گرمیوں میں انہیں اپنے وطن میں خوراک کی وافر مقدار دستیاب ہوتی ہے۔

یہ تازہ تحقیق اس قدیم سوال کا جواب فراہم کرتی ہے کہ برف پوش شمالی نصف کرے میں رہنے والے پرندوں نے ہزاروں برسوں سے خانہ بدوشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔

اچھی نیند کے نسخے



ماہرین کے مطابق کئی ایسے کام ہیں جو ہم انجانے میں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ ہماری نیند کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔
نیند پوری نہ ہونے یا ہمارے جسم کے اندر کی گھڑی یعنی باڈی کلاک متاثر ہونے سے ہم ڈیپریشن اور بائی پولر ڈس آرڈر جیسے امراض کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے اچھی نیند کی ضرورت کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ نیند میں خلل نہ پڑے۔


شام کو روشنی کی حد مقرر کیجیے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا استعمال ان دنوں نشے کی طرح عام ہو رہا ہے۔ متعدد افراد تو لیپ ٹاپ پر گھنٹوں ڈرامے اور فلمیں دیکھتے رہتے ہیں لیکن کم ہی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہماری نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

یہ الیکٹرانک آلات ایک خاص طرح کی طاقتور نیلی روشنی چھوڑتے ہیں۔ اس روشنی کی وجہ سے جسم میں میلاٹونن ہارمون ٹھیک سے نہیں چھوٹ پاتا ہے۔ یہ وہ ہارمون ہے جو نیند کے لیے ذمہ دار ہے۔


سرے یونیورسٹی کے پروفیسر میلکم فون شانتز کا مشورہ ہے کہ سونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ان آلات کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔

نیلی روشنی کے علاوہ شام کو گھر میں، خاص طور پر سونے والے کمرے میں روشنی کے دیگر ذرائع بھی کم کر دینے چاہییں. ایسا لیمپ کی مدد سے کیا جا سکتا ہے۔ سونے کے کمرے میں اندھیرا کرنے کے لیے گہرے رنگ والے پردے بھی لگائے جا سکتے ہیں۔


وقت کے پابند رہیے
ـــــــــــــــــــــــــ


ختتامِ ہفتہ سے پہلے والی رات دیر تک جاگنے کا دل تو بہت کرتا ہے لیکن اچھی نیند برقرار رکھنے کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے۔

ہر روز ایک ہی وقت پر سونا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روز سونے کے وقت میں جتنی زیادہ تبدیلی ہو گی صحت کو اتنا ہی زیادہ خطرہ ہو گا۔



خواب گاہ آرام دہ ہو
ـــــــــــــــــــــــــــــ

بستر کے ارد گرد لیپ ٹاپ اور چارجر کے علاوہ دیگر سامان کا بکھرا رہنا کئی لوگوں کے لیے عام بات ہے لیکن اگر ہم اچھی نیند سونا چاہتے ہیں تو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کا سونے کا کمرا جتنا آرام دہ ہوگا نیند اتنی ہی اچھی آئے گی۔

بہتر یہ ہوتا ہے کہ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک عالات دوسرے کمرے میں رکھے جائیں۔ فون میں الارم لگانے کی بجائے ایک الارم والی گھڑی خرید لینی چاہیے۔

کمرے میں ٹھنڈک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گرم کے مقابلے ٹھنڈے ماحول میں سونا جسم کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے۔



دن کی روشنی
ـــــــــــــــــــــــ

ہماری باڈی کلاک سورج کے اگنے اور ڈھلنے کے اوقات کے مطابق کام کرتی ہے۔ لیکن ہم میں سے کئی لوگ صبح دیر تک سونے کی وجہ سے دن کی روشنی سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں۔

صبح گھر کے پردے کھول دینے سے آپ دن کی زیادہ روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر ہو سکے تہ صبح کا وقت ورزش میں لگانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے رات کو نیند اچھی آتی ہے۔ .

سونے سے پہلے کرنے والے کام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سونے سے پہلے کرنے والے کچھ کام اگر آپ ہر روز کیا کریں تو جسم کو پتا چل جاتا ہے کہ اب یہ سونے کا وقت ہے۔

کتابیں پڑھنا، گانے سننا، نہانا کچھ ایسے ہی کام ہیں۔

جیسے ہی آپ انھیں کرنا شروع کریں گے جسم خود ہی سونے کے لیے تیار ہونے لگے گا۔


بیشتر والدین بچوں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کئی والدین بچوں کو سلانے سے پہلے انہیں دودھ پلاتے ہیں یا انھیں نہلاتے ہیں۔ انھیں اکثر سونے سے پہلے کہانیاں بھی سناتے ہیں۔

ایسا ہر روز کرنے سے بچے کے جسم کو اس کی عادت ہو جاتی ہے اور جسم سمجھ لیتا ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے۔



کیفین سے دور رہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــ

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ دیر رات کافی پینے سے نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہوتی ہے۔

لیکن کیفین صرف کافی میں ہی نہیں ہوتی بلکہ چائے اور کئی ٹھنڈے مشروبات میں بھی ہوتی ہے۔

شام کو پی جانے والی چائے یا کافی بھی آپ کی نیند کو متاثر کر سکتی ہے کیوں کہ کیفین کا اثر ہمارے جسم پر پانچ سے نو گھنٹے تک رہتا ہے۔