منگل، 29 اگست، 2017

گمشدہ رجمنٹ : تحریر : اٹالوکالوینو



ایک طاقتور فوج کی ایک رجمنٹ کو شہر کی گلیوں میں پریڈ کرنا تھی۔ دستے صبح ہی سے بیرک کے احاطے میں پریڈ کی ترتیب میں کھڑے ہونا
 شروع ہو گئے۔
سورج بلند ہوتا گیا اور اب سایے احاطے میں اگنے والے نوخیز پودوں کے قدموں تلے مختصر ہونے لگے۔ اپنے تازہ پالش کردہ ہیلمٹوں کے اندر فوجی اور حکام پسینے سے شرابور ہونے لگے۔ سفید گھوڑے پر سوار کرنل نے اشارہ کیا، نقاروں پر ضربیں پڑیں، بینڈ نے مل کر ساز بجانا شروع کر دیے اور بیرک کے دروازے اپنی چُولوں پر آہستگی سے ہلنے لگے۔
اب آپ دور کہیں کہیں نرم بادلوں کی دھاریوں والےنیلے آسمان کے تلے شہر دیکھ سکتے تھے جس کی چمنیاں دھویں کے لچھے چھوڑ رہی تھیں، اس کی بالکونیاں جہاں کپڑے سکھانے والی چٹکیوں سے اٹی تاریں، سنگھار میزوں کے آئینوں میں منعکس ہوتی سورج کی جگمگ کرنیں، مکھیاں دور رکھنے والے جالی دار پردوں میں خریداری کے سامان سے لدی خواتین کی الجھتی بالیاں، ایک چھتری والی آئس کریم گاڑی کے اندر کون رکھنے والا شیشے کا بکس، اور ایک لمبی ڈور کے سرے پر بچوں کا ایک گروہ سرخ کاغذی چھلوں پر مشتمل دم والی پتنگ کھینچتے ہوئے جو زمین کو چھوتے ہوئے ڈگمگاتی ہے، پھر جھٹکوں جھٹکوں میں اٹھ کر آسمان کے نرم بادلوں کے مقابل بلند ہو جاتی ہے۔
رجمنٹ نے نقاروں کی تھاپ میں پیش قدمی شروع کی، سڑکوں پر بوٹ بجنے لگے اور توپ خانے کی گھرگھراہٹ گونجنے لگی، لیکن اپنے سامنے خاموش، شریف طبع اور اپنے کام سے کام رکھنے والا شہر دیکھ کر فوجی خود کو تھوڑا بدلحاظ اور دخل انداز محسوس کرنے لگے، اور دفعتاً پریڈ بےمحل لگنے لگی۔ جیسے کوئی ساز کا غلط تار چھیڑ دے۔ جیسے اس کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔
پری جیو باتا نامی ایک نقارچی نے ظاہر کیا جیسے وہ اسی تاب سے نقارہ بجا رہا ہے حالانکہ وہ صرف نقارے کی سطح کو چھو رہا تھا۔ اس سے جو آواز نکل رہی تھی وہ ایک مغلوب سی دھم دھم تھی، لیکن وہ اکیلا نہیں تھا۔ کیوں کہ عین اسی لمحے دوسرے تمام نقارچی اسی کی پیروی کررہے تھے۔ پھر بگل والے گزرے لیکن ان کے بگلوں سے محض ایک آہ نکل رہی تھی کیوں کہ کوئی بھی ان میں زور سے نہیں پھونک رہا تھا۔ سپاہی اور حکام بےچینی سے ادھر ادھر دیکھ کر ایک ٹانگ ہوا میں اٹھاتے، پھر اسے بہت نرمی سے نیچے رکھ دیتے اور یہ پریڈ گویا پنجوں کے بل آگے بڑھتی گئی۔
سو کسی کے حکم دیے بغیر ایک لمبی، بہت لمبی قطار پھونک پھونک کر قدم رکھتی، پنجوں کے بل دبی دبی چال سے چلی۔ شہر کے اندر توپیں اس قدر بےجوڑ لگنے لگیں کہ ان کے ساتھ چلنے والے توپچیوں پر یکایک خجالت طاری ہو گئی۔ بعض نے بےاعتنائی کا وطیرہ اپنایا اور توپوں کی طرف دیکھے بغیر چلتے گئے، جیسے وہ وہاں محض اتفاق سے آ گئی ہوں۔ دوسرے توپوں سے لگ کر چلنے لگے، جیسے وہ انھیں چھپانا چاہتے ہوں، تاکہ لوگوں کے ان کے اکھڑ اور ناگوار نظارے سے بچایا جا سکے۔ کچھ نے ان پر غلاف ڈال دیے تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے، یا کم از کم وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف نہ کھینچیں۔ کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے توپوں کی نال یا توپ گاڑی پر ہاتھ مار کر یا ہونٹوں پر نیم مسکراہٹ لا کر کچھ ایسے شفقت آمیز تمسخر کا رویہ اختیار کیا گویا یہ دکھانا چاہتے ہوں کہ ان کا ان چیزوں کو مہلک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بس ذراہوا لگانا مقصود ہے۔
یہ پریشان کن احساس کرنل کلیلیو لیون تومینی کے دماغ میں بھی سرایت کر نے لگا جنھوں نے بےاختیار سر اپنے گھوڑے کی طرف جھکا دیا، جب کہ خود گھوڑے نےبھی ہر قدم کے درمیان وقفہ ڈالنا شروع کر دیا اور اب وہ کسی ریڑھے والے گھوڑے کی سی احتیاط سے چل رہا تھا۔ لیکن کرنل اور ان کے گھوڑے کو دوبارہ جنگی چال اختیار کرنے میں بس ایک لمحے کا غور و فکر ہی کافی تھا۔ صورتِ حال کا تیزی سے جائزہ لے چکنے کے بعد کرنل نے تیز حکم دیا:
پریڈ چال!
نقارے متوازن تال پر بجنا شروع ہوئے۔ رجمنٹ نے تیزی سے اپنی دلجمعی دوبارہ حاصل کی اور اب وہ جارحانہ خوداعتمادی سے آگے قدم بڑھانے لگی۔
یہ ہوئی نا بات، کرنل نے صفوں پر تیزی سے نظریں دوڑاتے ہوئے خود سے کہا، اس کو کہتے ہیں مارچ کرتی ہوئی اصل رجمنٹ۔
چند راہگیر سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر قطار بنا کر کھڑے ہو گئے اور ایسے لوگوں کے انداز سے پریڈ دیکھنے لگے جو اس قدر طاقت کی صف آرائی میں دلچسپی رکھتے ہوں اور شاید انھیں اس میں مزا بھی آتا ہو، لیکن کوئی ناقبلِ تفہیم احساس انھیں ستا رہا ہو۔ ایک مبہم خطرے کا احساس۔ اور ویسے بھی ان کے ذہنوں میں پہلے ہی سے کئی اہم چیزیں گردش کر رہی تھی کہ وہ تلواروں اور توپوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے۔
خود پر نظریں جمی دیکھ کر سپاہی اور حکام ایک بار پھر ناقابلِ توجیہہ گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے۔ وہ پریڈ چال کے بےلچک قدموں سے چلتے تو گئے، لیکن انھیں اس خیال سے دامن چھڑا پانا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ ان بھلے شہریوں کے ساتھ کوئی زیادتی کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی کےباعث بدحواسی سے بچنے کے لیے سپاہی مارانگون ریمیگیو نے نظریں جھکائے رکھیں۔ جب آپ صفوں میں مارچ کرتے ہیں تو آپ کو صرف سیدھی لکیر میں رہنے اور قدم ملانے کی فکر ہوتی ہے، دستہ باقی ہر چیز کا خیال خود رکھتا ہے۔ لیکن سینکڑوں سپاہی وہی کچھ کر رہے تھے جو سپاہی مارانگون کر رہا تھا۔ درحقیقت آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ سب، حکام، پرچم بردار، خود کرنل اپنی نظریں زمین سے اٹھائے بغیر، صف کا پیچھا کرتے چلے جا رہے تھے۔ بینڈ کے پیچھے پریڈ چال چلتے چلتے رجمنٹ ایک طرف کو کنی کھا گئی اور پارک کے اندر پھولوں کے تختے میں جا گھسی، اور پھر استقامت سے گلِ اشرفی اور بنفشے کے پھول روندتی چلی گئی۔
باغبان گھاس کو پانی دے رہے تھے اور انھوں نے کیا دیکھا؟ ایک رجمنٹ آنکھیں بند کیے، نازک گھاس میں ایڑیاں پٹختے ان پر چڑھی چلی آ رہی ہے۔ ان بیچاروں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اپنے فوارے کس طرح تھامیں کہ پانی کہیں سپاہیوں پر چھڑکاؤ نہ کر دے۔ آخرکار ہوا یہ کہ انھوں نے اپنے فوارے سیدھے اوپر کر لیے، لیکن طویل دھاریں دوبارہ بےقابو سمتوں میں آ آکر نیچے گرنے لگیں۔ ایک نے آنکھیں میچے کمر سیدھی رکھے مارچ کرتے ہوئے کرنل کلیلیو لیون تومینی کو سر سے پاؤں تک شرابور کر دیا۔
پانی سے نچڑ کر کرنل اچھل کر پکارے:
سیلاب! سیلاب! بچاؤ کی کارروائی شروع کی جائے! پھر انھوں نے فوری طور پر خود پر قابو پایا اور رجمنٹ کی کمان سنبھال کر اسے باغات سے باہر لے گئے۔
تاہم وہ تھوڑے سے بےدل ہو گئے تھے۔ سیلاب! سیلاب! کی پکار نے ایک راز اور ایک لاشعوری تمنا کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا کہ قدرتی آفت اچانک آ سکتی ہے، اور کسی کو ہلاک کیے بغیر اس قدر خطرناک ہو سکتی ہے کہ پریڈ منسوخ کرا دے اور رجمنٹ کو لوگوں کے لیے ہر قسم کے مفید کام کرنے کا موقع مل سکے، مثلاً پلوں کی تعمیر یا بچاؤ کی کارروائیوں میں حصہ لینا۔ صرف اسی بات سے ان کا ضمیر مطمئن ہو سکتا تھا۔
پارک سے نکلنے کے بعد رجمنٹ شہر کے ایک مختلف حصے میں داخل ہو گئی تھی۔ یہ وہ کھلی سڑکیں نہیں تھیں جہاں انھیں پریڈ کرنا تھی، بلکہ یہ علاقہ تنگ، خاموش اور بل کھاتی ہوئی گلیوں پر مشتمل تھا۔ کرنل نے فیصلہ کیا کہ وہ ان گلیوں کو عبور کر کے سیدھا چوک تک جا پہنچیں گے تاکہ مزید وقت ضائع نہ ہو۔
اس علاقے میں ایک انوکھا جوش و خروش بیدار ہو گیا۔ الیکٹریشن لمبی سیڑھیوں پر چڑھے گلی کے بلب ٹھیک کر رہے تھے اور ٹیلی فون کی تاریں اوپر نیچے کر رہے تھے۔ سول انجینیئرنگ کے سرویئر آلات اور فیتوں سے سڑکیں ناپ رہے تھے۔ گیس والے فٹ پاتھ پر بڑے گڑھے کھود رہے تھے۔ سکول کے بچے ایک طرف قطار میں چلے جا رہے تھے۔ راج مزدور کام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرفیہ لو! یہ لو! کہتے ہوئے اینٹیں اچھال رہے تھے۔ سائیکل سوار اپنے کندھوں پر لکڑی کی گھوڑیاں اٹھائے، تیز آواز میں سیٹیاں بجاتے گزرے۔ ہر کھڑکی میں ایک ایک لڑکی برتن دھو رہی تھی اور بڑی بالٹیوں میں کپڑے نچوڑ رہی تھی۔
چنانچہ رجمنٹ کو ان بل کھاتی گلیوں میں ٹیلی فون کی تاروں کے گچھوں، فیتوں، لکڑی کی گھوڑیوں، سڑک میں گڑھوں، پرشباب لڑکیوں اور ہوا میں اڑتی اینٹیں یہ لو! یہ لو! پکڑ کر اور ہیجان زدہ لڑکیوں کے چوتھی منزل سے گرائے ہوئے بھیگے کپڑوں اور بالٹیوں سے بچ بچا کر اپنی پریڈ جاری رکھنا پڑی۔
کرنل کلیلیو لیون تومینی کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ انھوں نے اپنے گھوڑے سے نیچے جھک کر ایک راہگیر سے پوچھا:
معاف کیجیے گا، کیا آپ جانتے ہیں کہ مرکزی چوک کو جانے والا سب سے مختصر راستہ کون سا ہے؟ 
راہگیر، جو ایک معنک اور دبلا پتلا شخص تھا، تھوڑی دیر سوچتا رہا۔
راستہ پیچیدہ ہے۔ لیکن اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو ایک احاطے سے ایک اور گلی کے راستے لے جاؤں گا جس سے آپ کا کم از کم چوتھائی گھنٹہ بچ جائے گا۔
کیا تمام رجمنٹ اس احاطے سے گزر پائے گی؟ کرنل نے پوچھا۔
آدمی نے رجمنٹ پر ایک نظر دوڑائی اور ہچکچاتے ہوئے کہا:
خیر، کوشش کی جا سکتی ہے، اور انھیں ایک بڑے دروازے سے گزرنے کا اشارہ کیا۔
عمارت کے تمام خاندان بالکونیوں کے زنگ آلود جنگلوں کے پیچھے کھڑے ہو کر احاطے میں سے توپ خانے اور گھوڑوں سمیت گزرنے کی کوشش کرتی رجمنٹ کو دیکھنے کے لیے جھک گئے۔
باہر نکلنے کا دروازہ کہاں ہے؟ کرنل سے دبلے آدمی سے پوچھا۔
دروازہ؟ آدمی نے کہا۔ شاید میں اپنی بات واضح نہیں کر سکا۔ آپ کو اوپری منزل تک چڑھنا پڑے گا، وہاں سے آپ سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے دوسری عمارت میں داخل ہو جائیں گے اور اُس عمارت کا دروازہ گلی میں کھلتا ہے۔
کرنل ان تنگ سیڑھیوں میں بھی اپنے گھوڑے پر سوار رہنا چاہتے تھے لیکن دو تین منزلوں کے بعد انھوں نے گھوڑے کو جنگلے سے باندھ کر پیدل آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ توپوں کو بھی احاطے میں چھوڑ دیا جائے جہاں ایک موچی نے وعدہ کیا کہ وہ ان پر نظر رکھے گا۔ سپاہی ایک قطار میں چلتے گئے اور ہر منزل پر دروازے کھلتے اور بچے چلاتے:
اماں، جلدی آؤ، دیکھو۔ سپاہی گزر رہے ہیں۔ فوج پریڈ کر رہی ہے!
پانچویں منزل پر ان سیڑھیوں سے بالاخانے کو جانے والی سیڑھیوں تک پہنچنے کے لیے انھیں باہر کی طرف بالکونی کے اوپر چلنا پڑا۔ ہر کھلی کھڑکی میں سے سادہ کمرے نظر آتے جن میں جھلنگا چارپائیاں بچھی ہوتیں جہاں بچوں سے بھرے خاندان مقیم تھے۔
اندر آؤ، اندر آؤ، باپ اور مائیں سپاہیوں سے کہتے۔ تھوڑا آرام کرو، تم لوگ بہت تھکے ہوئے ہو گے! ادھر سے آؤ، یہ راستہ چھوٹا ہے! لیکن اپنی بندوقیں باہر رکھ دو۔ اندر بچے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں نا۔۔۔
سو راہداریوں اور گزرگاہوں میں رجمنٹ کی ترتیب ٹوٹ گئی۔ اور اس افراتفری میں وہ دبلا شخص کہیں ادھر ادھر ہو گیا جس نے کہا تھا کہ وہ راستہ جانتا ہے۔
شام پڑ گئی اور رسالے اور پلٹنیں اب بھی سیڑھیوں اور بالکونیوں میں بھٹکتی پھر رہی تھیں۔ سب سے اوپر، چھت کے چھجے پر کرنل لیون تومینی بیٹھے تھے۔ انھیں نیچے بکھرا ہوا شہر دکھائی دے رہا تھا، وسیع و عریض اورتند و تیز، سڑکیں شطرنج کی بساط کی مانند اور خالی چوک۔ ان کے ساتھ ہی رنگین جھنڈیوں، پیغام رسانی والے پستولوں اور رنگ برنگے پردوں سے مسلح دستہ کھپریل پر ہاتھ اور گھٹنے ٹکائے بیٹھا تھا۔
پیغام بھیجو، کرنل نے کہا۔ جلدی، پیغام بھیجو: علاقہ ناقابلِ عبور۔۔۔ آگے بڑھنے سے قاصر۔۔۔ حکم کا انتظار۔۔۔

انگریزی سےترجمہ: ظفر سید

منگل، 22 اگست، 2017

جنوبی ایشیا میں برقعہ کا رواج کیوں بڑھ رہا ہے ؟

کچھ افراد کی رائے میں برقعہ ایک پدرانہ معاشرے میں عورتوں کی کم تر حیثیت کا عکاس ہے لیکن کچھ افراد برقعہ اوڑھنے
کو عورت کا ایک ذاتی فیصلہ ٹہراتے ہیں۔ جنوبی ایشاء میں برقعہ کا رواج کیوں بڑھ رہا ہے
جناح یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک مشتاق غادی کی رائے میں برقعہ ہندو مت اور اسلام دونوں مذاہب میں اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک پدرانہ معاشرے کا عکاس ہے۔ ان کی رائے میں، پدرانہ معاشروں میں عورت کی عزت اس کے لباس اور اس کی جنسیت سے جڑی ہوتی ہے، اسی عزت کو بچانے کی خاطر کئی مرد عورتوں کو اجنبی افراد کو اپنا چہرہ دکھانے کی اجازت نہیں دیتے۔
مشتاق غادی سمجھتے ہیں کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک میں خواتین میں اپنا چہرہ ڈھانپ کر رکھنے کا رواج سیاسی اسلام کے بڑھتے اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے۔
تاریخ دان مبارک علی کہتے ہیں کہ ،جنوبی ایشیا میں برقعہ پہننے کا رواج سعودی عرب کے بڑھتے اثر ورسوخ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے بھی یہ تاثر عام کیا ہے کہ برقعہ اور تقویٰ کا گہرا تعلق ہے۔ مبارک علی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہابیت نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں سیاسی نظام بلکہ ایک تکثیری معاشرے کو بھی تباہ کیا ہے۔ ان کی رائے میں،وہابیت کے پیروکار کسی بھی ثقافتی آزادی کے خلاف ہیں اس لیے وہ مزار، موسیقی کے میلوں اور دیگر ثقافتی مراکز کو نشانہ بناتے ہیں کیوں کہ وہ اس سب کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔
علی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وہابیت کا اثر صرف خواتین کے لباس تک محدود نہیں ہے بلکہ اس نے جنوبی ایشیائی باشندوں کے ذہنوں میں گھر کر لیا ہے جس نے اس خطے میں کئی عرب روایات کو جنم دیا ہے۔
مبارک علی کہتے ہیں کہ ،پدارانہ نظام اور مذہب عورت کو مرد سے کم تر یا اس پر حکم چلانے کا پرچار کرتے ہیں، وہ مرد جو سخت نظریات رکھتے ہیں وہ عورتوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ انہیں کوئی اور دیکھے۔ بھارت کی روشن خیال اقدار کے باوجود عورتوں پر مردوں کا تسلط اس خطے میں ایک عام بات ہے۔
ماہرین کی رائے میں اعدادو شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں نقاب یا برقعے کا استعمال گزشتہ تین دہائیوں میں خاصہ بڑھ گیا ہے۔
امریکا میں قیام پذیر اسلامی امور کے ماہر عارف جمال کا خیال ہے کہ، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں خواتین نے مذہبی لباس کے خلاف بغاوت کی تھی اورانہوں نے مغربی لباس پہننا شروع کر دیا تھا، اس دوران کابل میں خواتین منی اسکرٹس بھی پہنتی تھیں تاہم اسی کی دہائی میں وہابیت نے جنوبی ایشیا میں نقاب اور حجاب کا رواج عام کیا۔ عارف جمال کہتے ہیں کہ نقاب سے زیادہ حجاب کام کرنے والی خواتین میں زیادہ مقبول ہوا جو مذہبی اور جدید دونوں طرح سے دکھنا چاہتی تھیں۔
مبارک علی نےمزید کہا کہ، پاکستان جہاں عورتوں کے خلاف جرائم عام ہیں وہاں بہت سی عورتیں برقعہ پہننے سے محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ عارف جمال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، میری نظر میں برقعہ یا برقینی پہننا عورتوں کا فیصلہ نہیں ہے، ہم اکثر اپنے والدین کا مذہب ہی اپناتے ہیں، اگر ایک عورت اپنا مذہب تبدیل کرے اور پھر برقعہ یا برقینی پہننے کا فیصلہ کرے تو میں کہوں گا کہ اس نے اپنی مرضی سے فیصلہ کیا ہے۔
اوڑھنےبشکریہ : ڈی ڈبلیو

اتوار، 6 اگست، 2017

یورپ کی تاریخ



یورپ کی تاریخ

سید نصیر شاہ
۔تاریخ کا عام تعارف
۔یونان کی قیادت
۔یہودیوں کی مدد کا حصہ
۔روم میں عیسائیت
۔روم کا تنزل
۔جاگیردارانہ نظام
۔نشاۃثانیہ
۔فرانس اور انگلینڈ
۔سلطنتِ بر طانیہ کا ظہور
تاریخ کا عام تعارف
تاریخ محض اپنے طرز اسلوب اور خیالات کی بنا پر قاری کو مصنف سے بالا رکھتی ہے جب کہ مورخ کم و بیش ہی اپنی ذہنی تنگ نظر ی کو عبور کر سکے ہیں۔ تاریخ کا کم سے کم مواد بھی،اپنے قاری پر نئی راہیں اور تخیلات کے پر دے کھولتا ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ سے مراد وہ چیز ہے جوانسان سے متعلق ہے اور ماضی میں گزری ہے ۔صرف سیاست ہی نہیں فن ِسائنس ، موسیقی اس کا ارتقا اور نشو ونما کا عمل صرف ادارے ہی نہیں داستانیں اور ورثے، ادبی شہ پارے آدمی کی درجہ بندیاں اور اسکے مسائل سے پر دہ ہٹاتے ہیں۔ اس کا انحصار قاری پر ہے کہ وہ کہاں تک لطف اندوز ہوتا ہے۔ اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں ہوتیں کہ وہ کسی دستوری امریکی ڈھانچے کے سامنے جھک جائے ۔ وہ پر سکون ضمیر کے ساتھ پہلو بدل کر مرتے ہوئے رولینڈ کے بگل کی گونج Gorge of Roncevaux میں سُن سکتا ہے یا Cnut کے ساتھ انتظار کر تا ہے کہ شمالی سمندر کا مد و جزر جو پرانے Dane کے قدموں سے ہم آغوش ہو جاتا ہے ۔ تمام سمتوں میں ، تقریبا ً ادب کی ہر صنف میں تاریخ نے دریافتیں سامنے لائی ہیں مگر ابھی تک مکمل تاریخی پس منظر اور ہیت نامکمل اور ادھوری ہے ۔ کسی نے بھی آج تک انسانیت اور انسان کا ریکارڈ مرتب نہیں کیا اور نہ کوئی بھی کر سکے گا کیونکہ یہ انسانی قوت سے ماور أ عمل ہے Macaulay کی تاریخ چالیس سالوں کا احاطہ کرتی ہے جو Thuchydides کی Pelepennuesion جنگ کی نذر ہے اور دس صدیاں جدیدیت کے رواج کو اپنانے میں صر ف ہوئی ہیں جن پر چلنے والا کوئی نہ مل سکا حقیقت یہ ہے کہ فلکیات جیسے علم پر جو تعارف نصابی کتب میں ملتا ہے ۔وہ مصنوعی تاریخ کی مثال ہے جو اسقدر نا قص ہے کہ طلبا کو صحیح تعارف تک بھی نہیں کر اسکتا ۔
اس وجہ سے محض یہ کوشش ہی ہونی چاہئے کہ موجودہ دور کو عہد قدیم سے مر بوط کیا جائے ۔ تاریخ کی عملی حد تقریبا ً تین ہزار سال پر محیط ہے جو کہ باالفاظ دیگر ،C 1000 B قبل مسیح کہلاتا ہے جو کہ صرف آثار قدیمہ کی شہادت پتھروں پر کندہ تصاویر ہیں جو عہد قدیم کا پتہ دیتی ہیں اور مصرمیں قدیم بادشاہی نظام کی شاہد ہیں ۔یہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے بعد میں آنے والے ادوار پر ان مٹ نقوش چھوڑے ۔یہ شاید وہ گمنام آرئینزقبائل تھے جو اپنی راہوں پر گامزن تھے جو Dnceper , volga اور Dunube کے میدانوں سے گزرتے ہوئے آخر کار بلقان اور اٹلی کے جزیروں میں جانے پر مجبور ہوگئے۔ سمندر اُنکے مزید سفر اور ترقی میں حائل ہوا ۔وہاں انہوں نے اپنی طرز، عادات و اطوار اپنا ئے۔ اس قدیم عہد کے شہر Athens اور Rome ہیں جو ایک خاص خصوصیت اور اہمیت سے ابھرے اور تقریباً 1000قبل مسیح یا اسکے کچھ بعد یونان Homer کے ساتھ مبہم ہوگیا ۔ Joshua کی کتاب میں وہ اپنی نسل کا دھند لا تعارف یہود کی ترقی فلسطین کی فتح اور بارہ خانہ بدوش قبائل کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے بائبل کی پہلی پانچ مقدس کتابیں اپنا مذہب اور قانون کا ریکارڈ مرتب کیا ۔Homer اور Joshua کا مطالعہ کرنے سے قبل بحیرہ روم اور مغرب کی تاریخ سے آگہی ضروری ہے ۔
یونان کی قیادت
پہلے دو بڑے دریا نیل اور فرات ,دوم سمندری جزیرہ جو مغرب کی سمت ہے، بحر الکائل ،کیطرف پھیلا ہوا ہے۔ شاہراہ تجارت ، تہذیب و آسائش Carthege, Phocaea , Tyre اور پہلے تاجر تھے Marseillers جوصرف آریا ملٹری اور مغرب و مشرق کا سامان ہی نہ لائے بلکہ زبان اور حروف تہجی بھی ساتھ لائے اس کے علاوہ مغرب کیلئے اور بڑا تحفہ کیا ہوسکتا تھا جس نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ ابتدائی داستانوں اور ادب پر دسترس کے بعد وہ تاریخ اور فلاسفی کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اول الذکر میں انہوں کمال درجہ کے شہہ پارے مرتب کئے جبکہ موخرا لذکر میںانہوں نے اہم نتائج نکالے ۔ یونانی فلاسفی انسانیت کیلئے ایک گراں قدر سرمایہ ہے ۔یونانیوں سے قبل کسی دیگر تہذیب نے ، خیالات، وقت ، ادارہ ، فضا ، خوبصورتی ، سچ اور دیگر چیزوں کا تجریدی پہلو سے پردہ نہ اٹھا یا تھا ۔ یونان کے یہی طاقتور اور پر اسرار خیالات ،فلاطون ، ارسطو اور Zeno کی صورت میں نمودار ہوئے لیکن چوتھی صدی قبل مسیح کے اختتام پر ارسطو اور اسکے شاگرد سکندر اعظم کے دور میں یونان اپنا عروج اور عظمت کھونے لگا اور روبہ زوال ہونا شروع ہوگیا ۔ سیاسی اہمیت او ر زوال کے اسباب ایک ساتھ چلے ۔ سکندر کی یونانی سلطنت بحیرہ روم سے سندھ تک پھیل گئی ۔ اسکی وفات کے بعد یہ سلطنت کئی بادشاہوں اور حکومتوں میں بٹ گئی ۔ سکندر اعظم کی Darus at Arbela پرفتح کے تین سوسال بعد 31 قبل مسیح میں زوال اس وقت سامنے آیا جب Augustus نے cleopatra کو شکست دی ۔
روم کا غلبہ (حکومت)
ان تین سوسالوں کے دوران آہستہ آہستہ روم کو مستقل غلبہ (حکومت) نصیب ہوا اور دو صدیوں سے کم عرصہ میں انہوں نے Asia , Balkans مصر اور بحیرہ روم پر حکومت قائم کر لی ، حالانکہ 500 قبل مسیح میں دیکھا جاسکتا ہے کہ روم کی زبان اور تہذیب ،بو دوباش سب یونان کے مر ہون تھے۔ اس کے بعد روم کے ادب، تہذیب ،قانون سازی اوردیگر سیاسی امور نے یونانی نموسے افزائش پائی ۔لاطینی اور یونانی کی دو عام زبانیں تھیں جو بادشاہت کی طرف مائل ہوئیں اور اسطرح یہودیوں کا سیاسی نظام منظم ہوا ۔
یہودیوں کی مدد کاحصہ
یہودیوں کی جدوجہد 200 صدیوں میں Hames, Heros اور سکندر اعظم تک دیکھی جاسکتی ہے۔ جس وقت انکی سلطنت محض ایک شہر یا چند شہروں کا مرکب تھی ، جنگ ناگزیر تھی جو تباہی اور غلامی کا سبب بنی تھی ۔ صدیا ں گزریں ان کا معیار بلند ہوا۔ انہوں نے نوآبادیاتی سلطنت قائم کر لی جو Macedous اور روم تھیں، آخری صدی قبل مسیح یا اس سے کچھ پہلے انہوں نے خاصی ترقی کر لی اور انکی اہمیت مسلم ہوئی ۔ سماجی ناہمواری پرانی دنیا کا بنیادی اصول تھا ، جنگیں غلاموں کی قیمت پر لڑی جاتی تھی ، مغرب اورمشرق کے کچھ حصوں میں یہودی تاجروں نے نمایاں طبقات قائم کئے ۔مادہ پرستی اور بسیار خوری، معاشی خوشحالی کی اہم وجہ تھی۔ مذہبی اور اخلاقی صورت حال دگرگوںتھی ۔تقربیاً تین صدیوں کا عرصہ 312 AD تک روم میں عیسائیت متعارف نہ ہوئی تھی ۔ اس دوران ماحول ،بادشاہت اور حکومت لئے موزوں تھا ۔ سلطنت کا کمزور آئین ان خوبیوں کا حامل نہ تھاکہ جس پر شاندار معاشرتی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ بادشاہ بادشاہوں کو شکست دیتے ۔تباہی کا عمل جاری رہتا اور ان تبدیلوں سے آخر انسانیت دو چار تھی اورا کتساب کر رہی تھی اس دور میں فوج کا رجحان ناگزیر اور اہم تھا ۔
روم میں عیسائیت
312 AD میں متصادم دھڑوں کا ایک مقابل Coustantine اپنے آپ کو مضبوط کرنے کے لئے عیسائیت کی طرف راغب ہوا اور صلیب کے نیچے پنا ہ لی۔ اس کے عقائد کے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس کا قدم بلاشبہ سیاسی تھا لیکن ان کے رسم و رواج ملحدانہ ہی تھے ۔ تاہم انتظامیہ ، تاجر اور شرفانے عیسائیت قبول کر لی تھی۔ Coustantiue کو ان کی مدد کی ضرورت تھی اور ان لوگوںکی مدد عیسائیت قبول کیے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی تھی آخر عیسائیت مملکت کا سر کاری مذہب بن گیا ۔ لیکن بادشاہ ہی مذہب کا امین اور سربراہ ٹھہرا ۔ عیسائی بننے کیلئے بھاری مسیحیت چکانی پڑتی تھی۔ عوام ابھی تک پرانے رسم و رواج اور عقائد میں جکڑے ہوئے تھے ۔مبلغ ، عبارت گاہیں، رسم و رواج اور قانون اپنی اصل ماہیت میں پرانا ہی تھا۔اسے صرف عیسائیت کانام دیا گیا تھا ۔ صرف شکلی ہیت کی تبدیلی اونچی ہوئی جسے آج بھی ذہین سیاح محسوس کرسکتے ہیں۔
روم کا تنزل
عیسائیت کا قیام روم کی گرتی ہوئی سلطنت کا سہارانہ بن سکا ۔ Coustantine نے خود روم اور یونان کو توڑ کر ایک نیا دار لخلافہ Caustantepole بنایا لیکن سر حد پر Teutons کا بڑا دبائو موجود تھا جسے دیر تک برداشت نہ کیا جا سکا ۔ بتدریج یہ عمل جاری رہا جرمن فوجیں تھک گئی اور انہوں نے Rhine اور Danube کی مقدس لائین میں زمین پر قبضہ کی ضرورت درپیش ہوئی ۔ اسطرح جرمن کی مداخلت سے رومن کا انتشار ہوا ۔375 ء میں جرمنوں کی ہجرت ہوئی اور روم میں جرمن سلطنتوں کا قیام عمل میں آیا اور رومی بادشاہت کا اثر رسوخ دب گیا ۔
جاگیر دار انہ نظام
تقریباً دو صدیاں یورپ انتہائی کرب اور دکھ سے گزرا۔شمال مغرب کی طرف سے Danes اور Scandinavan کی یورش اور یلغار نے تباہی مچائی ، جنوب میں Rhine اور Danubeنے Teutonie نے تہذیب کوبرباد کیا اورCarlouingian سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ جہاں جاگیر دارانہ نظام نے قوت پکڑی تاہم جاگیر دارانہ نظام نے حالات بحال کئے۔ شمالی اور جنوبی سمندرمیں ڈاکوئوں سے نجات ملی اسی دوران چرچ بھی بہت نشیب و فراز سے گزرا او ر خواہشات کا لبادہ اوڑ ھنا پڑا ۔ جبکہ Frankish تحفظ کے تحت روم نے 20 ستمبر1870 تک اسی جاگیر درانہ حیثیت میں رہا جب تک کر وہاں اٹلی کی حکومت قائم ہوئی جسکے ردعمل میں جاگرداروں کی جماعتیں عمل میں آئیں ۔چرچ کا دائرہ کار وسیع ہوا جاگیر دار انہ فہم چر چ کے جذبے سے سر شار ہوئی مذہب شجاعت ، معیشت اور صلیبی جنگوں کا جحان ہوا۔ متبرک مقامات کی باز یابی کی تدبیریں ہوئیں ۔ صلیبی جنگوں نے Genoua اور Venice کی جمہوریہ کو تجارت کے ذرائع اور راستوں سے آشناکیا۔ مشرق مذہب کی نسبت بادشاہت میں ابھرا معاشی سرگرمی اور بادشاہی اہم پہلو تھے ۔ نئی زبانوں نے جنم لیا اور نشاہ ثانیہ کے حصول کی راہیں کھلیں ۔
نشاۃ ثانیہ
کچھ دورانیہ کیلئے، یارویں اور بارویں صدی میں پاپائیت نے بڑی کو ششیں کیں۔ لاطینی خیالات اپنی بنیاد کھو بیٹھے ۔Daute نے اٹلی کی زبان پیدا کی اور اگلی دو صدیوں کے عمل میں فرانسیسی ، انگریزی اور جرمن ادب اپنی پختہ حالت میں ظاہر ہوا ۔ جس سے صرف لاطینی اصطلاحات کا نقصان ہی نہیں ہوا بلکہ مذہبی فلاسفی کو بھی نئی زبان کے طریقوں سے آہم آہنگ کیا گیا۔ مادری اور ملکی زبان میں مقدس بائبل مرتب ہوئی ۔ ایک بڑے نظریاتی حملے سے پرانی فلاسفی میں نئی روح پھونکنے کیلئے مشرق وسطی کی جامعات سے رجوع کیا گیا اسطرح اسکندریہ کے عقائد کو نئی اور تازہ روح ملی بلاشبہ یورپ نے نئی زندگی محسوس کی ۔ سمندری سفروں کے طفیل ہندوستان اور امریکہ دریافت ہوئے جہاں انہیں بے پناہ سپاہ ، فنکار اور سونے کے بڑے ذخائر ملے۔ دنیا کی نبض تیزی سے دھڑکی Coustanituepale کو ہزاروں سال بعد ترکوں کے ہاتھوں استحکام ملا ۔ یہاں سے فن اور فنکار اٹلی لائے گے اوردنیا جدید یت کی طرف حائل ہوئی ۔ یورپ ایک دفعہ پھر اختلافات میں پڑگیا ۔ عقائد کی اور خیالات کی جنگ چھڑی جو 1684 تک جاری رہی جس کے نتیجہ میں شمالی یورپ Protestant اور جنوبی یورپ Catholic ہوگیا ۔
فرانس اور انگلینڈ
Louis xiv کے آغاز میں فرانس کی حالت دو صدیوں کے دوران یورپ میں بہت بہتر رہی۔ جاگیر دارانہ نظام کادور تیزی سے گزر رہا تھا ۔ آخری بڑی جاگیرداری مذہب کی جنگ میں تھک گئی تھی ۔ شہنشائیت نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو وہ کھو چکی تھی شان و شوکت کو بحال کیا گیا اور شاہی مصائب کو علاقوں میں نیم خود مختاری دی گئی ۔ Bourbons بڑے حصے پر کامیاب ہوئے وہ فرانس میںمطلق العنان شمار کئے جاتے ہیں اشرافیہ اور پادریوں پر انہوں نے امتیاز حاصل تھا ، اور حکومت کی طرف سے بھی ان پر کوئی باز پر س نہ تھی۔ اس کا مکمل تنزل فرانس کے انقلاب 1789 سے ہوا ۔ ان واقعات کے نتائج آہستہ مگر ضروری تھے ۔ جن سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں۔ پر خوف ماحول میں انتظامی صورت حال دیگر گوں تھی ۔ معیشت کمزور اور خوراک کی قلت کا سامنا تھا ۔تعلیم یافتہ اور متوسط عوام بے چین اور محروم تھے۔ اس محروم جماعت نے کنٹرول حاصل کر لیا اور National Assembly کا قیام عمل میں آیا ۔نے ان کا نعرہ آزادی مساوات اور اخوت تھا ۔ مگر اسمبلی کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اور انصاف کی عدم فراہمی سے ملک جنگ کا شکار ہوا ۔ out Republican قائم ہوئی۔ فوجی حکومت اور شہنشا ئیت پھر بحال ہوگی ۔Napolean Bonapate نے تاریخ میں اہم جگہ لی اور فرانس پندرہ سال تک ان کی مقنطیسی کشش اور گرفت میں رہا۔ ان دنوں یورپ کا کوئی بھی ملک اتنا منظم نہ تھا جتنا کہ فرانس اور اس کا کنٹرول گرم ترین مصر سے لیکر سرد اوس تک تھا ۔بالفاظ دیگر یہ کہا جاتا ہے کہ Bourbons کا دور واپس آگیا تھا انہوںنے تمام یورپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ رو س نے ان کے ہاتھوں تباہ کن زخم کھایا۔ واحد انگلینڈ ہی تھا جو مضبوط اڑیل اور فتح یاب دشمن مانا گیا ۔ کچھ عرصہ duke willam نے 1066 میں انگلینڈ فتح کر لیا تھا اور وہاں بادشاہت کو فروغ دیا۔ Angle o Norman بادشاہوں نے ہمسایہ ممالک سے جنگوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو 1815 تک جاری رہا ۔ پہلے پہلے یہ مرحلہ علاقائی حدود پر قبضہ اور دوم ترجیہات میں معیشت تھی Napolian کی سر براہی میں یہ مہم سمندر پار نو آبادیاتی حکومتوں پر ہوئی
سپین اور ہاوس آف ہیپس برگ
سولویںصدی میںHouse of Tudor کی انگلینڈ کے تحت و اقتدار کی سدا بہار کوشش ۔فرانس کے خلاف نئی براعظمی طاقت کے ظہور سے سخت ہوگی اور اس موقع پر جس نے پرانے دشمن کا ساتھ دیا وہ Spain ہی تھا ۔ 732 سے جو انہیں Franks at tours سے شکست ہوئی، عرب قابض آہستہ آہستہ زمین چھوڑنے لگے۔ اگرچہ کے انہوں نے سپین میں سینکڑوں سال حکومت کی تھی اور ترقی کی راہیں کھولی تھیں۔ فنون لطیفہ کو شاندار کامیابی ملی جبکہ اس وقت عیسائی یورپ گھٹاٹوپ اندھیرے میں تھا مگراب Austurian اورPyrenues پہاڑوں پر جاگیر دارانہ اصولوں کے سائے منڈلانے لگے اور انہیں جگہ ملنی شروع ہوئی ۔ آخر کار پندرویں صدی کے اختتام پر بادشاہت نے آخر ی عرب حکومت کو فتح کر لیا اورجدید سپین متعارف ہوا ۔ ان کی حکومت 1806 قائم رہی جب تک کہ جرمن سلطنت نے ان کے ایام ختم کردیئے۔ طاقت کا یہ ارتقاء 1519-1556 Charles v کے دور میں اصلاحات کے طور پر ابھرا فرانس Cathlic رہا ۔انگلینڈ Pratestant ہوگیا۔یورپ کا توازن Hapsburgs کے غلبہ سے افراط کا شکار ہوا ۔اب فرانس اور سپین انگلینڈ کے خلاف متحد ہوگئے ۔ انگلینڈ میں مذہبی جوش قوت Henery VIII تک ہی بمشکل رہی جو آخر میں Cromwell تک ختم ہوگئی۔ اس کی وجہ Churh کے Auglican کا قیام تھا ۔ نئے انگلینڈ میں فرقہ Protestant کی ترویج مضبوط نو آباد کاروں سے عمل میں آئی ۔
سلطنتِ برطانیہ کا ظہور
مذہب کی جنگوں کے دوران انگلینڈ نے Hapsburg spanish power سے بڑی محنت اور کوشش کی۔ یہGreat Armada کی سمندری کہانیوں کا طویل ڈرامائی سلسلہ ہے ۔اس سمندری دریافت نے وہ کاغذی دیوار پھاڑدی جو Spain نے جنوبی سمندروں کے اردگرد بنانے کی کوشش کی تھی ۔ اب انہیں وسیع سمندر سونے کی چڑیا (انڈیا) چین کے پودے (گندم) تمباکو اور کوفی (Coffee) اور نئی دنیا پر پھیلے ہوئے ممالک ملے۔ سات سالہ جنگ 1756-تا1763 انگلینڈ نے دنیا پر اپنی برتری قائم کر لی ۔ اگرچہ اگلی جنگ میں اسے امریکہ کی نو آبادیاں چھوڑنی پڑیں۔ 1893 میں اسے فرانس کے خلاف یورپی اتحاد میں شامل ہونا پڑا اور اسے دو مختصر وقفوں سے 42 سال کیلئے میدان میں Watirloo تک رہنا پڑا۔ Wallugton اور Bucher نے آخر کار Napelean کو حتمی شکست سے دوچار کیا ۔ان بڑی محنتوں میں فرانس کو دو مسائل درپیش تھے ۔انگلینڈ کا سمندر اور آسٹریاا Russia اور Prussia جو ملڑی کی قوت کے مخزن تھے۔
جدید یورپ
ردعمل کا عرصہ Napolean کی تنزلی کے تعاقب میں رہا ۔لیکن 1848 میں یہ انقلاب سے ہمکنار ہوا آبادی بڑھ گئی۔ مواصلاتی نظام ہے بڑی ترقی کی ذہانت نمودار ہوئی۔ معیشت نے استحکام پکڑا ۔ سیاسی استحقاق ممنوع قرار پائے حکومتیں پرانی طرز کی تھیں ۔ اٹلی اور جرمنی میں جہاں پرانی سلطنتیں 1806 میں تباہ ہوگیں تھیں یہ قومیت کے نئے بیج تھے۔Palermo سے Paris اور پیرس سے Vienna انقلاب کی تباہ کن گاڑی چل بڑی جس سے دوسال تک یورپ مفلوج رہا ۔ فرانس میں نئی Bonaparte سلطنت ابھری جرمنی میں قومیت کا تصور اجاگر ہوا ۔اگر چہ وہ تکمیل کو نہ پہنچا تھا ۔ اسے مزید42 سالوں کی ضرورت تھی اور اسے Napalean 150 iii کی پیچیدہ خواہشات کی بھر پور مدد چاہئے تھی ۔ 1859 میں فرانس نے Austria کو P.O وادی سے باہر نکالنے کیلئے House of Sanoy کی مدد کی ۔اسطرح آزادی کی راہ صاف کی اور اٹلی تمام قوتوں کو Cavour اورCaribald سے پگھلایا ۔ 1866 میں Russia نےHouse of Hapsburg کو جرمن سے نکال باہر کیا اور چار سال بعد پیرس کی دیواروں تک قدم بڑھائے جہاں متحدہ جرمن کے سر براہ نے بطور میزبان William Hohenzallern جرمنی کی نئی سلطنت کے سربراہ کو خوش آمدید کہا۔ اب تک کیا ہوا ۔ خاصی طور پر نو آبادیاتی ملکوں کی طرف گھنٹوں کے بل چل کر جانا پڑا ۔ یا معاشی فرامانروائی کے قیام و استحکام کی طرف چلنا پڑا۔ یہ سب آج کی سیاسی تاریخ سے متعلق ہے اس کی وجوہ چھوٹ دنیا تنگ نظری ہوگی ۔ یہاں قاری چشم دید تماشائی ہے جو ٹھنڈے دل سے فیصلہ کر سکتا ہے۔ وہ بلا تعصب برا بھلا کیے بغیر امتیاز کر سکتا ہے اسی بہتی ندی کے بدلتے رنگوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے لیکن ذہن کو انسانی افعال ، مقاصد اور خیالات کے مطالعہ کیلئے وسیع اور کشادہ رکھنا ہوگا ۔ دل کو تیار رکھنا ہوگا کہ بے شمار امرہائے دلیرانہ کی داد دے جن سے وہ معزر انسانوں اور نسلوں کی صف میں کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ تمام انسانیت بھی ۔

ہفتہ، 22 جولائی، 2017

کردار، حیثیت و فرائض:تحریر :اسلم بلوچ


 
تقابلی مطالعے و تجزیے کا مثبت اور حقیقی پہلو دوسروں کے تجربات اور کارکردگی کو اپنے اندر جانچنا ہوتا ہے تاکہ انکے کامیابیوں سے استفادہ اور ناکامیوں سے سبق حاصل کیا جائے، ایسے تجزیوں سے خامیوں،کمزوریوں،خرابیوں کی نشاندہی کرکے ان سے کیسے نمٹا جائے یہ دیکھنا ہوتا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ ایسے تجزیاتی مواد کو کسی کے بھی نفی کیلئے تراش خراش کر جواز بنایاجاتا ہو، پوری دنیا میں علم سیاسیات اس بنیادی نقطے کے گرد گھومتا ہے کہ طاقت کو کیسے حاصل کیا جائے اسکو کیسے برقرار رکھا جائے اور کیسے استعمال کیا جائے، آج بنیادی سوال جس کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے کیسے طاقت حاصل کی یا کررہے ہیں پچھلے تمام عرصے میں ہم نے اسکو کیسے استعمال کی یا کررہے ہیں اور کیا ہم حاصل کی گئی یا رہی سہی طاقت کو برقرار رکھ رہے ہیں یا رکھ سکتے ہیں؟؟؟؟؟
ان سوالات کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہماری طاقت ہے کیا؟؟سماج انسانی تعلقات انکی نوعیت و ضرورتوں کا نام ہے ،یہ انسانی آبادی کا مجموعہ ہوتا ضرور ہے لیکن یہ مشترکہ مقصد کیلئے وجود میں آتا ہے سماج کو بے آہنگم و بے ربط اور متضاد رویوں و اقدار و روایات و رسم و رواج کا نام ہرگز نہیں دیا جاسکتا اور سیاست سماج میں رہنے والوں کو منظم رکھنے کا علم ہے یہ دونوں ایک ہی مقصد کی تکمیل کرتے ہیں جو انسانوں کی بہتر زندگی کیلئے ہوتی ہے ،کیونکہ سماجی مفکرین سماج میں بسنے والوں کے تعلق کو پیچیدہ رشتوں سے تعبیر کرتے ہیں میکیور(Maciver) کے مطابق سماج بدلتے پیچیدہ رشتوں کا ایک جال ہے جو عادات اور طریقہ کار وباہمی مدد کا ایک نظام رکھتا ہے صرف اور صرف مقصد کی ہم آہنگی ہی سماج کا امتیازی وصف ہے ورنہ سماج علیحدہ ذہن ،فکر و نظریات رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہے لاسکی کے الفاظ میں سماج کوئی سادہ تنظیم نہیں یہ انسانوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے اور یہ انسانوں کے متضاد فطرت کی نمائندگی کرتا ہے دستیاب تاریخ میں انسانوں میں مشترکہ مقصد سے ہم آہنگی ہی سیاست اور ریاست کی بنیاد بنتی آرہی ہے تو بلوچ سماج اور سیاست میں بھی مشترکہ مقصد(قومی آزادی کا حصول) ہی ہم آہنگی اورطاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اگر بلوچ مزاحمتی تاریخ پر نظر دوڑائیں توماضی کے مقابلے حالیہ لہر مشترکہ مقصد(قومی آزادی) کی بلوچ سماج میں ضرورت و مقبولیت کا اندازہ لگانامشکل نہیں ہوگا، کیونکہ مشترکہ مقصد کیلئے بلوچ سماج سے طاقت کا حصول توقعات سے زیادہ رہا ہے اور ہر طرح کے مشکل حالات میں بھی جاری و ساری ہے ،لیکن جب دوسرے نمبر پر بات اسکو منظم رکھنے اور صحیح استعمال کرنے کی آتی ہے تو بات سیاست اور اسکے معیار پر رکتی ہے وہ اس لئے کہ منظم رکھنے کا ذمہ سیاست کے سر ہوتا ہے تو یہاں بنیادی سوال جو سر اٹھاتا ہے کہ کیا پچھلے تمام عرصے میں حاصل ہونے والی طاقت بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر اے،ایل بی، سیاسی پارٹیاں بی ایس او و دیگر انجمنیں و افراد یا علاقائی شخصیات کو ہماری سیاست منظم رکھنے اور بہتر طور کام میں لانے میں کامیاب ہوچکی ہے؟؟؟
شاہد کہنے لکھنے سے زیادہ موجودہ صورتحال ہی سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
کیا ہمیں کچھ سمجھ آرہا ہے یا ہم سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں؟؟؟
کیا ہم صحیح طور پراپنی جدوجہد کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ،وہ تلخ تجربات کو پوری طرح ٹٹول چکے ہیں جو ہمارے طاقت کو منظم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ بنتے آرہے ہیں، مثلا ماضی کے ناکامیوں کو اگر چند افراد کے سر ڈال کرایسے سوچ کے تحت ایک ذہنی کیفیت کی پرورش کی جائے کہ ماضی کے جہدکار سب بیکار و فضول تھے توایسی ذہنی کیفیت کی بنیاد ہی نفی کے قانون پر استوار ہوگا۔ 
بات سیدھی طرح سے یہ ہے کہ ہم کچھ بنیادی عوامل کو بھول کر جست لگانے کی چکر میں ایسے الجھ چکے ہیں کہ اب ہمارے پاس الزام تراشیوں اور زبانی کلامی تعریفات کے علاوہ کچھ رہا نہیں ،کسی کو نفی کرکے اپنے وجود کا احساس دلانا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے، یہ سب کچھ دن رات ہوتاآرہا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم سب مل بیٹھ کر باہمی احترام کے ساتھ صحیح خطوط پر اپنے کام اور تحریک کو استوار کرتے مگر بدقسمتی ان حالات میں بھی ہم اپنے حقیقی جمع پونجی کے نفی میں لگے ہیں، دیکھنا ہے کہ ہمارے عملی جدوجہد سے کیا قومی تحریک کی ضروریات پوری ہورہے ہیں اورہم تحریک کی حقیقی شکل کے تشکیلی مراحل کو آگے بڑھاتے ہوئے اسکو اقوام عالم میں ایک قومی تحریک کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب ہورہے ہیں ،کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور دنیا میں جاری جنگوں نے انسانی مسائل کو عالمی مسائل بنادیا ہے ایسے حالات میں دیکھنے والوں کو ہمارا تحریک مسائل و پیچیدگیوں کا ڈھیر تو نظر نہیں آرہا ہے؟؟
تسلسل سے گر دش کرتے کچھ سوالات اور مخصوص غیر متوقع رویوں نے مجھے کتابیں ٹٹولنے پر مجبور کردیا جس کے تحت اس تحریر سے جوڑنا پڑا اگر ہمارے دانشور اور سیاسی سنگت اس بحث میں مزید دوستوں کی رہنمائی کریں تو یہ وقت و حالات کے تحت ایک موثر عمل ہوگا کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے جن سوالات اور عمل کو میرا ذہن قبول نہیں کرپارہا ہے ،میں انکے پیچھے کے سوچ کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں، اختلاف،تنقید،تقابلی جائزے،شکوک و شکایت کا تعلق ہوتا ہی عمل سے ہے اور یہ سب کچھ تعمیری عمل کا حصہ کہلاتے ہیں تصورات، نظریے،خیالات اور ان پر تنقیدی بحث مباحثے بھی علمی جانداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن انکے مثبت اور منفی پہلو کا تعلق انکے پیچھے کے مقاصد سے جوڑا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ا یسے تمام عمل میں زور نفی کے قانون پر رہتا ہے ،عمل میں حد بندی کرداروں میں درجہ بندی اور اختیارات کی نشاندہی و تقسیم کی وضاحت مسائل کی نشاندہی ان کی نوعیت کو سمجھنے اور انکے حل سے زیادہ شکوک شہبات کا اظہار لازمی سمجھا جاتا ہے آخر کیوں؟؟؟
کمزوری،خامی، خرابیوں کی نوعیت سے زیادہ واقعات جواز بنائے جاتے ہیں اور انکے بنیاد پر تحریک کے بہت سے کرداروں پر ناروا طریقے سے ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جن میں انکے کردار کومشکوک بناکر انکی حیثیت کی مکمل نفی کی کوشش کی جاتی ہے 
اگر دیکھا جائے توہر کردار کے ساتھ ایک حیثیت ضرور ہوتی ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کردار اور حیثیت لازم و ملزم ہوتے ہیں دراصل حیثیت وہ سماجی پوزیشن ہے جسکا دارومدار مکمل کردار پر ہوتا ہے اور جب کردار کسی حیثیت (پوزیشن) کاحامل ہوجاتا ہے تو معاشرہ، سماج میں اعتبار کے حوالے سے اس سے ویسے ہی توقعات وابستہ کئے جاتے ہیں ۔ 
اسی طرح جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے وابسطہ تمام ذمہ داریوں کو سمجھ کر فرائض کی انجام دہی سے جوڑ جاتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا کردار(رول) ادا کررہا ہے حیثیت اور کردار کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے ان میں صرف علمی تعریف کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔
وہ چاہئے کسی سماجی تنظیم میں ہو یا سیاسی و عسکری یا کسی تحریک میں یا مختلف مخصوص حالات میں ویسے تو حیثیت کے دو واضح نوعیت سامنے آتے ہیں مگر اسکے بہت سے اشکال انہی دو کے گرد گھومتی ہیں۔
علمی تعریف کے حوالے سے ایک کو انتسابی یعنی وراثتی حیثیت کہتے ہیں جو وراثت میں ملتی ہے، 
دوئم اکتسابی یعنی محنت، صلاحیت،مقابلے و کوششوں کے بل بوتے پرحاصل کی جانے والی حیثیت ہوتی ہے، غرض ہر حیثیت کے ساتھ لازمی طور پر ذمہ داریاں اور فرائض ہی وابستہ ہوتے ہیں، یہ فرائض اور ذمہ داریوں سے خالی کوئی مراعاتی عنایت نہیں ہوتا جسکو حاصل کرنے یا عنایت کرنے کا طریقہ کار ذاتی تعلقات و خواہشات یا مفادات پر یا پھر بعض، حسد، خوف جیسے منفی سوچ پر مبنی ہو، کسی بھی مثالی نظام،انقلابی تحریک، سیاسی تنظیم یا پارٹی میں بہترین صلاحیتیں زیادہ محنت اورخلوص کے بل بوتے پر جب ہرمتعلقہ حیثیت کو اپنے کردار(رول)کا صحیح اندازہ یا علم ہوجاتا ہے تب ہی تمام توجہ ذمہ داریوں اور فرائض پر مرکوز ہوجاتے ہیں۔بصورت دیگر کسی بھی تحریک، تنظیم،پارٹی یا نظام سے وابسطہ افراد میں اس وقت تک ہم آہنگی اور یکسوئی پیدا ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے جب تک وہ اپنے اپنے حیثیت کے مطابق اپنے کردار پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔
انتسابی یعنی وراثتی حیثیت میں بادشاہت میں جیسے، بادشاہ کے مرنے پر شہزادہ بادشاہ بنتاہے ولی عہد کو طرز حکمرانی کی تربیت دیکر مسند پر بیٹھایا جاتا ہے ہمارے ہاں قبائلی نظام میں سردار کا بیٹا سردار یا کسی سیاستدان کا بیٹا سیاست دان بنتا ہے یہ حیثیت موروثی ہونے کی وجہ سے پیدائشی نوعیت کی ہوتی ہے اسمیں ذاتی صلاحیتوں کا عمل دخل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس حیثیت کے مطابق کردار(رول)ادا نہیں کیا جاتا۔یعنی پیدائشی حیثیت جو بنے بنائے وراثت میں ملتی ہے تو اس حیثیت کی اہلیت کو ثابت کرنے کیلئے اسکے مطابق توقعات پر پورا اُتر نہیں جاتا، یہاں اوپر سے نیچے اور اس سے اوپر کی حیثیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے اور اسکی بنیاد کردار پر منحصر ہوتا ہے جتنا بڑا حیثیت ہوگا اتنا ہی زیادہ ذمہ داری اور فرائض کو نبھانے کا تقاضا کرئیگا، ہمارے ہاں اسکی مثال سنگت حیربیارمری،براہمدغ بگٹی،جاوید مینگل،زامران مری ہیں 
اور اکتسابی حیثیت جو کہ صلاحیت، محنت، ذہنیت اور خلوص اور مقابلے کی بنیاد پر بنتی ہے وہ صفر سے شروع ہوتا ہے وہ نیچے سے اوپر کا سفر طے کرتا ہے اسکو کسی ستون(پلر) کا سہارا نہیں ہوتا ہمارے ہاں اگر دیکھا جائے تو چیرمین غلام محمد ،میر عبدالنبی بنگلزئی، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر، کامریڈ بشیرزیب، گلزار امام ماسڑ سیلم وغیرہ اس حیثیت کے مثال ہیں کسی بھی تنظیم یا پارٹی سے تعلق و عہدے یا تنظیمی حیثیت سے قطع نظر بلوچ سماج میں ان حضرات کا اکتسابی حیثیت انکے کردار سے متعلق ہے لہذا ان حضرات پر توقعات اور انکی ذمہ داریاں اور فرائض بھی اسی نسبت سے ہونگے۔کیونکہ ہم قومی جدوجہد کے دعویدار ہیں تو قومی نظریہ کے حوالے سے ہم میں یہ دونوں حیثیتں بشمول علاقائی، علمی و ادبی حیثیتوں کے موجودگی قابل تسلیم و قابل قدر ہیں بشرطیکہ کہ وہ قومی مفادات و قومی نظریے کے مطابق ہوں۔
کسی بھی تحریک میں ہم افراد کے کردارکا سرسری جائزہ لیں تو اس تحریک سے وابسطہ تنظیمیں یا پارٹیاں بالکل ایسے ہوتے ہیں جیسے تدریسی ادارے یعنی سکول کے بچوں کی طرح اگر وہ افراد کو منظم اور نظم و ضبط میں رکھنا چاہتے ہیں تو انکے پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے بروئے کار لانا بھی انکا فرض بنتا ہے کیونکہ تمام انسان ذہانت، ایمانداری، طاقت، محنت کے حوالے سے برابر نہیں ہوتے کچھ زیادہ محنتی ذہن اور باصلاحیت ہوتے ہیں اور کچھ کم کچھ جسمانی اور ذہنی مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ اتنے مضبوط نہیں ہوتے وہ ماحول اور حالات جہاں سے تحریک کو بہتر افرادی قوت میسر ہو پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمہ آتی ہے۔
ہمارے ہاں ہو کیا رہا ہے شعوری یا لاشعوری طور پر کچھ بے بنیاد اور گمراہ کن خیالات کی تشہیر دبے دبے الفاظ میں یا غیر ذمہ دارانہ انداز میں کروائے جارہے ہیں کہ لیڈر ایک ہوتا ہے باقی سب پیروکار ہوتے ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ تحریکیں ایسے لاتعداد کیڈر و لیڈر جنم دیتے ہیں جو تحریک سے وابسطہ ہزاروں افراد کی قیادت کرکے انکو منظم رکھتے ہیں اور انہی میں سے وہ تحریک کے لیڈرکی شکل میں سامنے آتا ہے جو اسی حلقے میں سب سے زیادہ قابل احترام و قابل اعتبار ہوتا ہے مگرہمارے ہاں کسی بھی سیاسی یا عسکری حیثیت کے نفی کیلئے نئے اصطلاح سیلفی سرمچاری یا شوق لیڈری متعارف کرائے جارہے ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ جو تحریک قیادت پیدا نہ کرسکے وہ تحریک ہی نہیں کہلاتا اور کبھی کبھی سماجی مسائل،روایات،انقلاب، جدوجہد آزادی اور قومی سیاست اور قومی ریاست کو پولیٹیکل سائنس کے کسی ایک باب(چیپٹر) سے مو ازنہ کرکے گراونڈ پر جاری ایک پوری عمل کی نفی کی جاتی ہے۔لیکن بلوچ سماج،بلوچی روایات، جدوجہدکے تاریخی تسلسل موجود وقت و حالات کے تحت درپیش حقیقی مسائل کا سیاسیات میں حل اور انکے طویل سفر کا نہ تو کوئی ذکر پایا جاتا ہے اور نہ ہی بنیادی تجزیہ، زور ایک ہی بات پر رہتاہے جس میں چند واقعات کو بنیاد بناکر چند کرداروں کو تسلیم کرتے ہوئے انکے حیثیت کی نفی یاانکو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ سیدھی طرح سے تحریک سے وابسطہ پارٹیوں اور تنظیموں کی اس پیداواری صلاحیت اور پیداوار پر 
ضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے جو تحریک کو قیادت فراہم کرسکتی ہے یا کررہی ہے کبھی ڈسپلن تو کبھی اصول پرستی کے نام پرتو کبھی جنگی حالات میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کو جواز بناکر ایک مرحلہ وار عملی پیداواری سلسلے کی نفی کی جارہی ہے اسکے پیچھے کے مقاصد کو سمجھنا اسلئے بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ ڈھونڈنے پر تاریخی حوالے سے یہ عمل ہمیں دنیا کے کسی بھی تحریک میں نظر نہیں آتا تو یہ بلوچ قومی تحریک کیلئے کیوں اور کیسے ضروری ہوچکا اس کیلئے آج تک کوئی دلیل، وضاحت،حوالہ و ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ویسے پوری دنیا میں مفکرین میں ابھی تک یہ بات زیر بحث ہے کہ سیاست فن ہے یا سائنس یا دونوں کا مجموعہ۔
میٹلینڈ(MaitLand) نے کہا تھا کہ جب میں امتحانی سوالات کے ایک اچھے مجموعے کو دیکھتا ہوں جن پر علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)کی سرخی لگی ہوتو مجھے سوالات پر نہیں بلکہ اس عنوان(ٹائیٹل)پر افسوس ہوتا ہے۔
فرانسیسی سیاسی مفکر جین بودن(Jean Bodin)1596 میں پہلی بار اس علم کو علم سیاسیات کہا تھا دراصل علم سیاسیات پولیٹیکل سائنس مجموعی طور پر ریاست و حکومت سے انسانی تعلق کا مطالعہ ہے ۔
فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ(Paul Janet)کے الفاظ میں علم سیاسیات سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے۔
سوئیز اسکالر بلونشکلی(Bluntschli) کے الفاظ میں سیاست علم سے زیادہ ایک فن ہے جسکا تعلق عملی معاملات یا مملکت کی رہنمائی ہے جبکہ علم سیاسیات کا تعلق مملکت کی بنیادوں اسکی لازمی نوعیت اسکی شکلوں یا مظاہر اور تبدیلیوں و ارتقاء سے ہے 
گارنر(Garner)کے مطابق علم سیاسیات مملکت سے شروع ہوتا ہے اور مملکت پر ختم ہوتا ہے۔
یہاں ان مفکرین کے حوالے سے اس بات کی نشاندہی مقصود ہے کہ ہمارا درد سر موجودہ حالات میں طرز حکمرانی کا درس نہیں میرے نزدیک سب سے اہمیت کا حامل فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ کے الفاظ ہیں جس میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کہ علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے تو میرابنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم مملکت کے تشکیل اور حکومت سازی کے مراحلے سے گذر رہے ہیں؟؟؟؟؟
اس وقت بلوچ قوم جو ایک وسیع و عریض جغرافیہ پر پھیلا ہوا ہے اور ایران و پاکستان کے مقبوضہ کہلاتے ہوئے مختلف قبائلی و علاقائی رشتوں اور سیاسی اور مذہبی نظریات و عقائد کے بنیاد پر تقسیم ہیں ان کے بیچ آزادوطن کو لیکر حب الوطنی اور مشترکہ مفادات معاشی، اخلاقی روایات رسم و رواج زبان کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرکے متحدہ قومی قوت کی تشکیل اور اسکے بنیاد پر قومی آزادی کے حصول کو ممکن بناکر آخری مرحلے میں قومی ریاست یا قومی اقتدار اعلی کی تشکیل تک پہنچنا ہے کہتے ہیں کہ سماجی نظم و ضبط سماجی مسائل کا حل سماجی قوانین سے ہی علم سیاسیات کو خام مواد اور رہنمائی حاصل ہوتا ہے، لہذا سماجیات کے بنیادی و ابتدائی اصولوں کو نہ جاننے والوں کو نظریہ مملکت پڑھانا ایسا ہی ہے جیسے نیوٹن کے قوانین حرکت کو نہ جاننے والوں کو فلکیات یا حرکیات پڑھانا قوانین ہمیشہ سماجی ضرورتوں کے تحت بنائے جاتے ہیں، نقالی نہیں ہوتے چاہے جتنے بھی مثالی ہوں بلوچ سماج سے رجوع اور جوڑت کے سواء کوئی چارہ نہیں اس حقیقت کا اسوقت تک بہتر مظہر بلوچ جہدکار ہیں جو دشمن سے برسرپیکا ہونے کے ساتھ ہی ساتھ سماجی مسائل سے نمٹنے کے عمل سے بھی دوچار ہیں ہاں روایات و رسم و رواج میں تبدیلی کا عمل رائے عامہ کے بغیر نقصاندہ ہوتا ہے اسکو سمجھنے کی اہلیت شاہد سب میں نہ ہو مگر اکثریت اس حقیقت کو مان کر چل رہے ہیں اور یہ حقیقت بھی قابل تسلیم ہے کہ انہی جہدکاروں کی شعوری اور فکری کاوشیں ہی فرسودہ روایات اور غیرمنصفانہ رسم و رواج میں شعوری حوالے سے تبدیلی کا باعث بنیں گے۔ 
میرے خیال سے اگر ساتھی اس مقام اور حالات کے نوعیت کے مطابق نظم و ضبط(ڈسپلن)کوسمجھنے کے لئے بھی علمی خزانوں کو ٹٹولیں تو بہتر ہوگا۔
حقیقتاََ کوئی بھی تنظیم اور پارٹی بغیر نظم و ضبط کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نظم و ضبط ہی ایک تنظیم کی جان ہوتی ہے یا یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مقصد، پالیسی، نظم و ضبط اور افراد کے کردار کا مجموعہ تنظیم کہلاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ نظم و ضبط ہوتا کیا ہے یا اسکی حقیقت اور ضروریات کی وضاحت کیسے کی جائے۔ 
دراصل تمام ضابطے، اصول، نظم تنظیم سے منسلک افراد کے خارجی افعال کو آپس میں مربوط کرتے ہوئے تنظیم سے منسلک افراد کے درمیان اور تنظیم اور تنظیمی مقاصد کے بیچ اختیارات فرائض اور حقوق کا تعین کرتے ہیں اس عمل کے مکمل ہونے کے و نظم و ضبط(ڈسپلن) کہتے ہیں ایک طرح سے یہ سیاسی اقتدار کو بنیادی ابتدائی شکل فراہم کرتے ہیں نظم و ضبط کو ابتدائی قانون قرار دینا غلط نہیں ہوگا .جو طاقت و مقاصد کے حصول کے ساتھ مستقبل میں قومی اقتدار اعلیٰ یا قومی ریاست کے وسیع قانون کی شکل اختیار کرسکتا ہے یا یوں کہیں کہ کرلیتا ہے۔
سماجی زندگی میں قبائلی اور خاندانی تنظیم روایات کے بنیاد پر لوگوں کو منظم رکھتا ہے لیکن ذرا وسیع پیمانے پر اگر سیاسی تنظیم کے تناظر میں اسکا جائزہ لیا جائے تواصول، نظم و ضبط ،تنظیمی مقاصد، تنظیمی پالیسیوں اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے فرائض،اختیارات،حقوق کے ساتھ ہی ساتھ انکے سماجی تعلقات میں توازن کا نام ہیں۔
یہ انہی تعلقات میں توازن رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور بنائے جاتے ہیں ہمارے ہاں شاہد انکو جرائم اور قانونی پابندیوں کے تناظر میں دیکھا یا لیاجاتا ہے۔ نظم و ضبط کی ضرورت و حقیقی تعریف کی وضاحت و تشریح اسلئے بھی ان حالات میں ضروری ہوچکا ہے کیونکہ نظم و ضبط کے نام پر بہت سے غلط فہمیاں پیدا ہوچکے ہیں یا پھرکی جارہی ہیں اور بہت سے غیر مناسب غیر موزوں پابندیوں کو بھی جواز فراہم کیا جارہا ہے لوگوں کو منظم رکھنے والی ٹیم یا گروہ کا اس بات سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ عوامی حمایت و محنت کے حصول اور اسکو بروئے کا ر لانے کا انکے پاس متفقہ فارمولا کیا ہے؟؟؟
ایسا ہو نہیں سکتا کہ ایک ہی طرح کے عمل پر آپ دو طرح کے الگ الگ اصول لاگو کریں اور شک یا سوال کا حق بھی ڈسپلن کے نام پرجرم قرار دیں آپ کے پاس متفقہ طور پر ذمہ داریاں اختیارات تقسیم کرنے کا فارمولا بھی نہ ہو اور آپ اختیارات کے تقسیم و سلب کرنے میں بھی بااختیار ہوں ثبوت،وجہ،جواز،شک کا فائدہ کچھ بھی پیش کرنے سے قاصر یابری الذمہ بھی ہوں جب اتنے تضادات کے ساتھ آپ لوگوں کا بھروسہ و اعتماد حاصل کرنا چائیں گے تو آپ کیلئے بہت مشکل ہوگا۔
جہاں تک بات قانون، اصول اور نظم و ضبط کو یکجا کرکے دیکھنے کا ہے تو ان تمام کا مقصد انسانی تعلقات میں توازن قائم کرنے سے ہے جسکی بنیاد عدل و انصاف پر قائم ہوتی ہے فطری قوانین کے بعد اخلاقی قوانین ہی بہتر و اعلیٰ کہلائے جاتے ہیں، کیونکہ اخلاق کا تعلق خارجی نہیں داخلی طور ضمیر سے ہوتا ہے اور اس کا انحصار مکمل رائے عامہ پر ہوتا ہے کسی کمزور پر ظلم دھوکہ دہی، چوری، قتل، جھوٹ، کسی کی حق تلفی سازش وغیرہ کسی بھی سماج میں ناپسندیدہ عمل جانے جاتے ہیں،اسی مناسبت سے اگر دیکھا جائے تو بعد کے جتنے بھی قوانین آتے ہیں انکا اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے کسی بھی قانون کو جہاں بھی لاگو کیا جاتا ہے اسکو وہاں کی اکثریت کی اخلاقی حمایت حاصل ہو تب وہ آسانی سے نافذ اور قابل عمل ہوسکتا ہے اور اسکے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسلئے تمام انسانی تعلقات میں سب سے اہم اور لازمی بات اخلاقی برتری شمار کی جاتی ہے جو تعلقات کو بہت ہی مضبوط اور دیرپاء بناتی ہے لیکن بدقسمتی سے کسی بھی قسم کے تعلقات کسی بھی وجہ سے اپنے اخلاقی برتری کے جواز کو کھو دیتے ہیں تو پھروہاں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے وقت و حالات اور تعلقات کی نوعیت کے مطابق متفقہ اصولوں اور قانون کا سہارا جس میں نظم و ضبط کو قائم رکھا جاسکے۔ورنہ انسانی تعلقات میں اگر خاندان کاسربراہ قبائلی نظام میں قبائل کے بیچ کوئی طاقتوار قبیلہ یا ایک قبیلے کا سردار روایات کے خلاف من مانی کریں یا کسی پارٹی یا تنظیم کا سربراہ سیاسی تعلقات میں کسی بھی وجہ سے من مانی شروع کردیں تو اسکے نتائج سیدھی طرح سے بے چینی، بداعتمادی اور بغاوت کا سبب بن جاتے ہیں۔
تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسئلے کو سمجھنے کے لئے اسکے وجوہات و اسباب کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اور اسکے بعد اسکے حل کیلئے کوششیں کئے جاتے ہیں اگر کسی بھی نوعیت کے مسئلے سے جوڑے کسی بھی کردار کی نفی کی جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ایک اور مسئلہ سر اٹھائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ تحریر :: 21 جولائی 2017

پیر، 17 جولائی، 2017

پاوندہ تہذیب کا ارتقاء اور ادب قدیم اشتمالیت اور کوچی زندگی میں مماثلت


پائند خان خروٹی
دنیا کے مختلف علاقوں میں خانہ بدوشی کی روایت اب بھی موجود ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں کوچ کرنے والے خانہ بدوشوں نے قدیم اشتمالی معاشرے کی اقدار اور رویوں کو آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ خانہ بدوش جس کو پشتوزبان میں کوچی یا پاوندہ بھی کہا جاتا ہے کی معاشرتی زندگی اور قدیم اشتمالی سماج میں خوشگوار مماثلت حیرت انگیز بھی ہے لیکن ایک نئے ترقی یافتہ اشتمالی معاشرے کی جانب سفر کرنے میں اعتماد اور حوصلہ بخشنے کا باعث بھی ۔ خانہ بدوشی کی زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی اشکال میں فرق ہو سکتا ہے لیکن مجموعی حالت کے اعتبار سے کوچی لوگ آج بھی ابتدائی انسانی زندگی کی اقدار، رسم و رواج اور روایات کے پاسدار نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک میں خانہ بدوشو ں کی اجتماعی زندگی آج بھی برابری ، اخوت ، بے غرضی اور مہر و محبت میں پیوست ہے ۔ اس کا ذکر پشتو اولسی فوالکلور کی مقبول ترین صنف ’’ٹپے‘‘ میں کچھ یوں ہے کہ دنیا کی زیب و زینت انسانوں سے وابستہ ہے اور انسانوں کے بغیر دنیا بیابان کے مترادف ہے۔ انسانی تاریخ میں قدیم اشتمالی معاشرہ کی نشاندہی کرنے والا سب سے پہلا معتبر نام کارل مارکس کا ہے جنہوں نے انسانی تاریخ کے مختلف ارتقائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انسان پیدائشی طور پر خودغرض، لالچی اور ایک دوسرے کا دشمن نہیں ہے بلکہ تاریخ کے ابتدائی ادوار میں بے غرضی ،مساوات ، بھائی چارہ اور یکجہتی پر مشتمل ایک اشتمالی معاشرے میں رہتا رہا ہے۔ بعدازاں کارل مارکس کے قریبی ساتھی اور مبارز فریڈرک اینگلزنے لیوس ہنری مارگن کے حوالے سے مارکس کے اس نقطے کو وضاحت کے ساتھ مدلل اندا زمیں آگے بڑھایا۔’’انہوں نے تجزیہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ سماج اور سماجی اداروں کی ترقی سب سے زیادہ جس چیز پرمنحصر ہے وہ مادی پیدوار کاطریقہ ہے‘‘۔(1) قدیم اشتمالی سماج سے آگے بڑھ کر انسان نے مختلف پیداواری طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے مختلف قسم کی معاشروں کو اختیار کیا۔ تاہم طویل عرصے کے اس سفر کے باوجود پرانے اشتمالی معاشرے کے اثرات اب بھی انسانی آبادی کے مختلف حصوں میں نظر آتے ہیں۔ 
دنیا پہ خلقو شائستہ دہ ۔ چی خلق نہ وی کنڈوالے شکاری کورونہ 
پشتو خلقی فوالکلور کے ایک اور صنف ’’غاڑہ‘‘میں کوئی عورت جو اپنے محبوب کی مجبوری اور مشکل کے وقت اس کی ضرورت کے مطابق نقد رقم فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی لیکن اپنے خلوص اور سچائی کا بھرپور مظاہرہ اپنے ذاتی استعمال کے کنگن دے کر کرتی ہے۔
وس مونشتہ دپیسو ۔ پہ گران کنگڑ ژدم دلاسو 


خانہ بدوش آج بھی سادگی اور اعتماد کا وہ معیار رکھتے ہیں جو سرمائے کی بنیاد پر ترقی کرتے معاشرے میں معدوم ہوتا جارہا ہے۔ایک محبوبہ ایک ٹپے میں اپنی سچائی کا اظہار یو ں کررہی ہے جس کا ترجمہ ہے میرے محبوب نے سفر پر جانے سے پہلے مجھے اللہ کی حفاظت میں دیا ہے۔میں اس وقت اللہ کی پناہ میں ہوں میرے چہرے کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہِ بد رکھنے والا شخص کافر ہوجاتاہے ۔
مخ تہ می مہ گورہ کافر شوے۔ زہ مسافر جانان پہ خدائے سپارلے یمہ
مختلف مذاہب میں بھی مال مویشی اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کو نہ صرف پسندیدہ قرار دیا گیا ہے بلکہ خود انبیاء کرام حتیٰ کہ آخری نبی ؐ تک مال مویشی پالنے سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے خانہ بدوشوں نے اسی طریقہ زندگی و تجارت کو برقرار رکھا ہے ۔ خانہ بدوشوں نے اپنی گزر اوقات کیلئے جن ذرائع کو اختیار کیا ہے وہ آج کے جدید دور میں بھی انسانیت کیلئے منافع بخش ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مال مویشیوں کی افزائش اور پرورش ، تازہ دودھ ، گوشت اور متعلقہ مصنوعات (اون، مکھن، پنیر، خشک دودھ، پوشاک اور چمڑے کا سامان وغیرہنہ صرف وابستہ افراد کیلئے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ کئی ممالک کیلئے زر مبادلہ کے حصول کا وسیلہ بھی ہے۔ خاص کر پاکستان جیسے زرعی ممالک میں مالداری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ بلوچستان میں مال مویشی پالنے کااہم پہلو یہ ہے کہ اس سے نسبتاً پسماندہ اور دیہی علاقوں میں پشتون بلوچ معاشی طورپر ناآسودہ خواتین کی بڑی تعداد وابستہ ہے جو اس کی آمدنی سے عام طور پر اپنی گھریلو ضروریات اور بچوں کی تعلیم ونشو ونما کے اخراجات پورا کرتی ہیں ۔
فریڈرک اینگلز کے خیال میں انسانی تاریخ میں گلہ بانی کاآغاز دریائے آمو کے قریب سے ہوا ہے ۔ آریائی اقوام نے پہلی بار جانور کو پالتو بنایا اورگھریلو ضروریات کے لئے استعمال کیا۔ گوشت اور دودھ کے عام استعمال کی وجہ سے ہی آر یا ئی ا قوام کے افراددیگر اقوام کے مقابلے میں جسمانی طو رپر مضبوط تھے اور انہوں نے سماجی ترقی کی۔ انسانی تہذیب کے ابتدائی آثار متعلقہ خطہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔اینگلز کے تحقیق کے مطابق اس زمانے میں کرنسی کی عدم موجودگی کے بارے باعث اشیاء کے تبادلے کے ساتھ ساتھ خرید وفروخت کیلئے جانور کو معیار تصور کیاجاتا تھا ۔ ایک پشتو روایت کے مطابق جانور کو پشتو زبان میں پسہ کہاجا تا ہے اور پیسے کالفظ اسی سے نکالا ہے ۔آر یائی تہذیب کے اثرات کوچی خاندانوں میں کے رسم ورواج ،تقریبات اور تہواروں میں آج بھی نمایاں نظر آتے ہیں جن میں سواس تیکا نشان ، دلہن کو سندور لگانا ، بالوں کامانگ نکالنا اور آگ کااحترام کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔
پشتون خانہ بدوش دنیا کے دیگر خانہ بدوشوں کے مقابلے میں اس اعتبار سے ممتاز اور منفرد حیثیت کے حامل ہے کہ وہ اپنی خانہ بدوشی کی زندگی میں تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ماضی میں وسط ایشیاء کے ممالک سے ہندوستان تک سفر کرنے والے خانہ بدوش وسط ایشیاء اور افغانستان سے خشک میوہ جات ،تیار قالین،اون ،رخت،سیاہ زیرہ،ریشم اور جڑی بوٹیاں ہندوستان لے جاتے تھے اور وہاں سے مصالحہ جات ،گڑ،چینی،الائچی اور سپاری وغیرہ لے آتے تھے۔ ان میں سے بعض خاندان پیمنٹ کے کاروبار کرتے تھے اور ان کے مرد حضرات پنجاب میں محنت مزدوری کے لئے بھی جاتے تھے ۔ تیسری اینگلو افغان جنگ(1919) کے بعد ان کے دریائے سندھ عبور کرنے پر پابندی لگ گئی اس طرح پشتون خانہ بدوش موسم گرما میں کابل پغمان ، غزنی جبکہ موسم سرما میں پشاور ،سوات،ڈیرہ اسماعیل خان، کاکڑ خراسان ، لورالائی اور سبی تک محدود ہوگئے۔تقسیم ہند کے بعد ان کی آمدورفت اور نقل و حمل مزید محدود ہوئی جبکہ ایوبی دور فروری 1962ء میں پاک افغان سرحد کو مستحکم کرنے کے نتیجے میں وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گئے۔
یہاں اس دلچسپ تاریخی واقعے کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ’’پہلی اینگلو افغان جنگ (1839) کے بعد انگریزوں نے پشتون خانہ بدوش قبائل میں سے چھ ہزار افراد کو ان کے اونٹوں کے ہمراہ سونے کے ذخائر ،معدنیات ،ٹیلی فون اور ریلوے کے شعبے میں کام کے غرض سے اپنے ہمراہ لے گئے۔مذکورہ چھ ہزار افراد کو واپس آنے کی اجازت نہ ملی اور ہمیشہ کیلئے وہیں کے ہو گئے‘‘۔(2)واضح رہے کہ اس دو رمیں اونٹ کو ریگستانی جہاز کی حیثیت سے خاص اہمیت حاصل تھی یعنی چھ ہزار افراد کو اونٹوں کے ساتھ لے جانے کا مطلب یہ ہوا چھ ہزار افراد بمعہ اس وقت کے جہاز(اونٹمقامی خانہ بدوشوں کو افرادی قوت اور مالی اعتبار سے نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
خانہ بدوش خاندانوں کی زندگی ہماری معمول کی معاشرتی زندگی سے مختلف ڈھانچہ رکھتی ہے ۔ خاندانی رشتوں کی بات ہو یاگھر سے باہر محنت ومشقت کا معاملہ ہو صنفی امتیاز کاسلسلہ آج بھی ان کے ہاں موجود نہیں۔ روایتی برقعے کی پابندیوں سے آزاد لیکن فطری شرم وحیا او رعزت وقار ان کی آنکھوں اور رویوں میں شہری خواتین سے زیادہ موجود ہیں ۔ ان میں تمام افراد مرد و زن ضروریات زندگی پورا کرنے کیلئے مل جل کر محنت کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے ہیں ۔ تیار خوروں کی طرح دوسروں کی خیرات ،زکوٰۃ ، عطیات اور بیرونی امداد پرانحصار کرنے کی بجائے مکمل طورپر وہ اپنی محنت وہمت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ زیارکش طبقہ کی محنت کی بنیاد پر قائم معاشرتی ڈھانچے میں منطقی طورپر اونچ نیچ اور طبقات سے پاک جمہوریت میں کسی قسم کے استحصال کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ خود انحصاری کی معیشت نے انہیں بیکاری ، بیگاری اور تیار خوری کے تصور سے نجات دے رکھی ہے ۔ خو د کفالت حاصل کرنے کیلئے نت نئے طریقے اختیار کرنے والے جدید دنیا کو خانہ بدوشوں کی اپنی ہمت و محنت سے حاصل کردہ خود کفالت سے سیکھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں ۔
فطرت کے ہم رکاب زندگی گزارنے کے باعث خانہ بدوش پیداواری ذرائع تبدیل ہونے کے ساتھ پیدا ہونے والی منافقت ، مکاری ، جسم فروشی اور دوغلا پن سے آج بھی آزاد ہے اور فطرت کے مختلف مظاہر کی نغمگی اور مو سیقیت سے براہ راست لطف اندوز ہوتے ہیں اور انہیں اپنے اندر جذب کرکے خوبصورت ٹنگ ٹکور سے دنیا کو مستفید کرتے ہیں ۔ ایک چرواء شپونکےجب قدرتی چراہ گاہوں میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دنیا کاپہلا موسیقی آلہ بانسری/شپیلی کی دلکش آواز سے پوری فضا کو نغمہ زن کردیتا ہے تو سننے والے پر خوشی ومسرت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ایک روایت کے مطابق موسیقی کے اس نرالہ انداز سے متاثر ہوکر سانپ بھی جھوم اٹھتے ہیں ۔ فطرت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی وجہ سے وہ نام نہاد ترقی سے پیدا ہونے والی علتوں موٹا پا، بلڈ پریشر ، ٹینشن اور ڈپریشن سے نابلد ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں موجود اطمینان وسکون دیدنی ہوتا ہے ۔ کوچی خاندانوں کے افراد آج بھی بد ہضمی اور بے خوابی وغیرہ جیسی بیماریوں سے آزاد جسمانی قوت اور حسن کانمونہ ہے ۔ ان کے مردوزن کو آج بھی مصنوعی بناؤ سنگھار، زیورات ، کاسمیٹک اور پلاسٹک سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
کوچیانی ادب اور اس کی مختلف اصناف ٹپے ، کہاوتیں ، اتن نارے ، پہیلیاں ، لطیفے ، فالونہ ، غاڑی اور اولسی نکلونہ(داستانوغیرہ کی تخلیقات کااصل جوہر عوام الناس کی ا جتماعی تخلیقی صلاحیت ہے ۔ اس طرح کوچی اد ب اجتماعی دانش کانمائندہ ہے اور ان میں سے ہر شخص خود کو بجا طو رپر اس خلقی ادب کاخالق محسوس کرتا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خانہ بدوشوں کی ملکیت کاتصور آج بھی اجتماعی ہے انفرادی نہیں ۔ گویا کوچیوں کے سفید اجسام کینسرزدہ ا ستحصالی نظام یعنی جاگیر داری اور سرمایہ داری کے سیاہ داغ لگنے سے محفوظ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوچی نہ صرف جدید عالمی قصابوں اور قصاب خانوں کے ظلم و استحصال سے ناواقف ہیں بلکہ منبرپر بیٹھ کر حسین دنیا کو عارضی اور فانی قرار دینے والوں کے کئی منزلہ شاندار بنگلوں اور عیش وعشرت کی زندگی سے بھی ناآشنا ہیں ۔
جدید دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے کوچی کو خاندانوں میں اپنے بچوں کے نام رکھتے ہوئے بھی وسیع النظری اور فراغ دلی کامظاہرہ کیاجاتا ہے ۔ وہ مخصوص حکمرانوں ، مذاہب اورمعاشی غنڈوں سے متاثر ہوکر اپنے بچوں کے نام نہیں رکھتے بلکہ فطری مناظر ، دیگر جانداروں ، خوبصورت پرندوں ، پہاڑوں ، آبشاروں ، دریاؤں اور دیگر قدرتی مناظر کے حوالے سے اپنے نام رکھتے ہیں ۔ مثلاً سورگل(پھول کا نام بریشنا(آسمانی بجلی، زرکہچکور،پلوشہ(کرن،تاترہ(پہاڑ کانام )،وژمہ(باد نسیم)،چنار(درخت کانام )،پاغوندہ(پودا کے نام)،آباسین (دریا کانام)، پامیر (پہاڑ کانام)، باز(پرندے کانام)، میوندعلاقے کانام)،پغمانعلاقے کانام)وغیرہ
کوچیانی (خانہ بدوش ادب وثقافت اشتراک واجتماعیت کی بہترین مثال ہے ۔ ا ن کے ادبی ذخائر(پانگےکسی خاص شخص سے متعلق نہیں اور نہ ہی کسی خاص شخص کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے ۔ کوچیانی ادب کے ہیرو بھی انفرادیت کی بنیاد کی بجائے اجتماعی اوصاف کی بنیاد پر تراشے جاتے ہیں ۔ اس لئے ان کے گھریلو معاملات سے متعلق فیصلے اور جرگوں میں شرکت عمر اوروراثت کی بجائے عقل، اہلیت ، ننگ اور غیرت کے معیار پر ہوتا ہے ۔
معاشی اور معاشرتی ترقی کے سفر میں ہم نے علم ودانش کی دنیا میں بھی اجتماعیت کو ترک کرکے انفرادی ملکیت اور اس کے احساس کوفروغ دیا جس کے نتیجے میں ہمار اادب اور فن کچھ دربار اوربادار کے حدود میں مقید ہوگیا ۔ اس کے مقابلے میں کوچیانی ادب آج بھی ان حدوداور پابندیوں سے آزاد ، عوام کی اجتماعی دکھ اور سکھ کابھرپور ترجمان ہے ۔ آج کے معاشرے میں سرمایہ بٹورنے ، سستی شہرت ، شارٹ کٹ اور مختلف لالچ کے تحت علمی وادبی سر گرمیاں عام ہیں ۔ ہمارے اکثر شعراء وادیب سیلف پروجیکشن او رذاتی مفاد کے حصول کیلئے تخلیقی سرگرمیوں سے زیادہ شاہ اور شاہ پرستوں یعنی خواص کے ساتھ ربط وتعلق بنانے پر توجہ دیتے ہیں جن کی وجہ سے ادیب وشاعر معاشرے کے کسی حصے میں بھی آئیڈیل کے طور پر قبول نہیں کئے جاتے حتیٰ کہ ان کے اپنے بچے بھی انہیں ہیرو تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کوچیانی ادب اپنے اجتماعیت اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کی روش کے باعث آفاقیت اور اعلیٰ اقدار کامظہر ہے اور تمام دنیا کیلئے بیک وقت کشش اور دلچسپی کاحامل ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خلقی یا اولسی فوالکلور کو عالمی ادب کا سنہرا بچپن قرار دیا جاتا ہے ۔ 
عالمی میڈیا اور جرنلزم آج بھی مختلف زبانوں میں اپنے اسٹاف کی بھرتی کے بعد اسے درست اور خالص زبان سے شعور وآگاہی حاصل کرنے کیلئے خانہ بدوشوں کے پاس بھیجتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبا ن کی اور یجنلیٹی سے آشنا ہوسکیں اور ان الفاظ سے بھی آگاہ ہوں جنہیں عام طو رپر شہروں میں متروک کردیاگیا ہے جو خانہ بدوشوں کے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ واضح رہے کہ پشتون خانہ بدوشوں کی قدیم ٹیکنالوجی طرز علاج ، خوراک ، پوشاک ، کشیدہ کاری ، کھیل، مختلف مواقعوں پر اجتماعی تقریبات ، موسیقی اور دیگر مظاہر کامکمل ریکارڈ خان خادم کو چی کی شاہکار پشتو تحقیقی کتاب ’’کوچیانی پانگہ‘‘ میں موجود ہے ۔
’’پشتون خانہ بدوش قبائل دیگر لوگوں کی طرح پیروں اور ملاؤں کا احترام کرتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کے عمل و کردار سے واقف نہیں وہ ان کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود ان کے آباؤ اجداد کے احترام او رعزت کے حوالے سے خود ان کے قول و فعل میں تضاد بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ‘‘۔ (3)ان زیار کش خانہ بدوشوں میں یہ پشتوٹپہ مشہور ہے کہ فقیر یا ملنگ ہمارے لئے دعا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنی حالت بہتر بنانے کی دعا کیوں نہیں مانگتے او ر خود گھر گھر خیرات مانگنے پر کیوں مجبور ہے؟
تاریخی طو رپر خانہ بدوشوں کااہم مرکز صدیوں سے سبی ہے جہاں مال مویشی ، خشک میوہ جات ، ریشم ، سپاری اور رخت یعنی کپڑے کے کاروبار کامرکز رہا ہے۔ تاہم مالداری سے متعلق ماہرین کاخیال ہے کہ ضلع موسیٰ خیل ، ژوب اور بارکھان مالداری اور خانہ بدوشوں کی سرگرمیوں کیلئے وسیع امکانات رکھتا ہے اور اگر ان علاقوں کومنصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ پورے عرب جزائربشمول پاکستان کے گوشت ،اون، چمڑے اور دودھ وغیرہ کی ضروریات پوری کرسکتا ہے ۔ہر سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے لاکھوں حجاج کرام کو قربانی کیلئے جانوروں کی فراہمی بھی یہیں سے میسر ہو سکتی ہے۔
فلکیات اور موسم کی پیشگوئی کے حوالے سے کوچی افراد غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ وہ سردی ، گرمی اور بارش وغیرہ کے حوالے سے اتنی درستگی کے ساتھ پیشگوئی کرتے ہیں کہ دور جدید کے پڑھے لکھے افراد خاص طورپر ماہرین موسمیات اور متعلقہ شعبہ کے پروفیسر حضرات بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ کوچی حضرات گھڑی اور کیلینڈر کے بغیر اوقات اور فطری مظاہر کی بنیاد پرفاصلے (سفرکاتعین کرتے ہیں ، وہ گزرے ہوئے قافلے یاکاررواں کا جانوروں کی تھکاوٹ، پاؤں کے نشانات ، میڑہبیناڑی(پچیکی نمی سے وقت کا اندازہ لگاتے ہیں اور موسمی ضروریات کے مطابق ہجرت کرتے ہیں جو حیران کن حد تک درست ہوتا ہے ۔ گویا مادی ضرورت اور موسمی ہجرت ان کو مسلسل سفر و حرکت پر مجبور کرتے ہیں۔رات کے دوران گھپ اندھیرے میں کوچی اپنے ساتھیوں کو اپنی بات سے آگاہ کر نے کیلئے مخصوص آواز نکالتے ہیں جس کامطلب وہ آپس میں اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں ۔
معاشرے بے زبان لوگوں کی موثر آواز بننے کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ کے اس اہم حصے کو نظر انداز کرنے کی بجائے چلتی پھرتی تاریخ کوجدید زندگی کی سہولتوں سے آراستہ کرکے محفوظ بنایاجائے ۔ شاید افغانستان دنیا میں واحد ملک ہے جس کی پارلیمنٹ میں دس لاکھ موجودکوچیوں کا ایک خصوصی نمائندہ ہوتا ہے ۔ لہذاان لوگوں کو ڈیری پروڈکٹس ، دودھ ، گوشت ، چمڑے ، اون اور دیگر مصنوعات کی تجارت کے حوالے سے جدید سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنا معیار زندگی بلند کرکے معاشرے کی تعمیر وترقی میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر بھرپور کردار ادا کریں ۔
حوالہ جات۔1۔فریڈرک اینگلس،خاندان، ذاتی ملکیت اورریاست کاآغاز ، مارگن کی تحقیقات کی ضمن میں ص نمبر7، ماسکو،سوویت یونین۔
۔2۔ عدنان علیزئی ،تحقیقی مقالہ،پشتون خانہ بدوش قبائل کاجنوبی آسٹریلیا کی ترقی میں کردار2013ء 
۔3۔ خان خادم ، کوچیانی پانگہ، دکوچیانوژوند ،ژواک اوکڑنی2000۔ ص نمبر4،ناشر دانش خپرندو یہ ٹولنہ قصہ خوانی بازار پشارو۔
کتابیات۔1۔نویں غلام حیدر علی ، شمالی پاکستان ، تاریخ وثقافت ،2015 فکشن ہاؤس لاہور۔
۔2۔سحر گل کتوزئی، پشتو ادب پوھنہ ،خیبر پبلشر پشاور2009 ء