ہفتہ، 5 دسمبر، 2015

عدم کا مارا ( افسانہ) : نود بندگ بلوچ


افسانہ
(1)
یہ تقریباً صبح پانچ بجے کا وقت تھا، ابھی تک سورج طلوع نہیں ہوا تھا ، شیہک پتھر اور گارے سے بنے ایک چھوٹے سے گھروندے میں سویا ہوا تھا ، یہ گھروندہ اتنا چھوٹا تھا کہ اس میں بمشکل دو لوگ ہی سوسکتے تھے اسکی اونچائی اتنی تھی کہ بیٹھا تو جاسکتا تھا لیکن کھڑا ہونا ممکن نہ تھا ، اس سے نکلنے کیلئے گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے دروازے تک پہنچنا پڑتا،ایک تو جگہ کی تنگی اس پر محال آس پاس رکھا ہوا سامان اور ساتھ میں بندوق رات کو پہلو بدلنا تک آفت تھی، کل رات کو ہی سونے سے پہلے شیہک اپنے بندوق کو غور سے دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اسکو سنبھال کر رکھنا کتنا مشکل کام ہے، سنتا تو ہمیشہ یہ آیا تھا کہ بندوق انسان کی حفاظت کرتا ہے لیکن اب بندوق ہاتھ میں لیکر ایسے لگ رہا ہے جیسے بندوق ہماری نہیں ہم اسکی حفاظت کرتے ہیں، پورا دن اس بندوق کو سینے سے لگا کر رکھنا پڑتا، ہر دوسرے دن اسے خود سے زیادہ صاف کرنا پڑتا ہے اور پھر رات کو اپنے اس تنگ سی جگہ میں خود سے بہتر جگہ پر اس بندوق کو لٹانا پڑتا، شاید ہم روز جو احسانات اس بندوق پر کرتے ہیں تبھی ایک دن یہ ہماری حفاظت کرے احسانوں کا بدلہ چکاتا ہے،کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ بندوق بھی انسانوں کی طرح ہوتا ہے ، برے صحبت میں رہیگا تو اپنے منہ سے برائی اگلے گی ، اچھی صحبت یا بڑے سوچ کے ساتھ رہے گا تو پھراسکے منہ سے اگلتی آگ اچھائی لائے گی۔ شیہک بالکل نیند سے جاگنا نہیں چاہتا تھا ابھی تک تو سورج تک نہیں نکلا ہے لیکن باہر سے آتی شور شرابے نے اسکو نیند میں تھوڑی بے چینی پیدا کردی لیکن پھر خود بخود ہی اسکی آنکھ لگ گئی۔ خوابیدگی کے عالم میں اسے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایک خواب دیکھ رہا ہے یا یہ حقیقت ہے کیونکہ ایک شخص چیخ چیخ کر سب کو اٹھنے کا کہہ رہا تھا ، وہ آواز اس سے قریب تر ہوتا جارہا تھا کوئی کہہ رہا تھا شیہک اٹھو ! شیہک اٹھو غنودگی کے عالم میں اسکا ذہن قبول نہیں کرپارہا تھا کہ کوئی اس سے مخاطب ہے کیونکہ یہ شیہک نام اس نے ایک ہفتے پہلے ہی اختیار کیا تھا اب تک اسے اس نام کی عادت بھی نہیں ہوئی تھی ، لیکن جب اسکے ساتھ سوئے ہوئے اسکے ایک ساتھی نے زور سے اسکو جھنجھوڑا تو وہ چونک کر اٹھ گیا اور اٹھ کر آنکھیں ملتے ہوئے بیٹھ گیا ، \” شیہک ہمت کرو اٹھو ہیلی آئیں ہیں \” اب وہ فوراً صورتحال سمجھ گیا انکے کیمپ پر آپریشن ہورہا ہے ، وہ گھبراہٹ کے عالم میں جلدی جلدی اپنا بندوق ڈھونڈنے لگا بندوق کو اٹھاتے ہی وہ گھٹنوں کے بل دروازے تک پہنچا اور اپنے جوتے پہننے لگا ، اسکا دوست اتنے میں اپنے بلوچی \”چَھوٹ\” پہن کر نکل چکا تھا ، وہ دل ہی دل میں اپنے جوتوں کو کوسنے لگا جنہیں پہلے تو ٹھونس کر اپنے پیروں میں ڈالنا پڑتا ہے پھر تسمے کھینچ کھینچ کر بند کرنا پڑتا ہے، کتنا وقت ضائع ہوجاتا ہے، یہاں آنے سے پہلے کتنا سوچ سمجھ کر اس نے سروس کی دکان سے یہ جوتے خریدے تھے ، دکاندار کو خاص طور پر اس نے کہا تھا کہ مجھے ایسے مضبوط جوتے دو جو پکنک کے دوران پانی اور پتھروں میں چل سکیں ، پورے تین ہزار ان جوتوں کیلئے بھرے لیکن پہلے دن ہی اسے احساس ہوگیا تھا کہ یہ جوتے اس جگہ کیلئے نہیں ہیں۔ کاش کہ اس نے آٹھ سو روپے والے بلوچی چھوٹ ہی لے لیئے ہوتے ، ایک ہفتے میں ہی یہ جوتے ایک جگہ سے پھٹ چکے تھے اور پہاڑوں پر چھڑنے اور اترنے کے دوران اسکی انگلیاں اس بے دردی سے جوتوں سے رگڑتے کہ اب ان میں چھالے پڑ چکے تھے ، کل ہی وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آئیندہ میری توبہ کہ میں کبھی یہاں نئے جوتے پہن کر آؤں ایک تو وہ پہلے سے ہی تنگ ہوتے ہیں کھلنے میں وقت لیتے ہیں اچھے خاصے سپاٹ سڑک پر ہی پیروں کا ستیاناس کردیتے ہیں لیکن یہاں ان پتھریلی راستوں پر تو یہ عذاب بن جاتے ہیں، لیکن اچھا ہوا کہ رات کو سردی کی وجہ سے اس نے اپنے موزے نہیں اتارے تھے اس وجہ سے اسکے چند سیکنڈ بچ گئے تھے، اس جلدی بازی میں یہ چند سیکنڈ بھی اسے نعمت سے کم نہیں لگے۔
جوتے پہنتے ہی وہ باہر نکلا تو اسے دور سے ایک بھاری آواز سنائی دینے لگی وہ سمجھ گیا یہی ہیلی ہیں اور انکے طرف بڑھ رہے ہیں ، وہ نیا نیا آیا تھا اسے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اب کرنا کیا ہے ہیلی پر فائرنگ کرنی ہے اسے مارنا ہے یا خود کو بچانا ہے، وہ اسی تذبذب کے عالم میں تھا کہ اچانک اسے اپنا کمانڈر گہرام نظر آگیا ، شیہک تیزی سے اسکی جانب بڑھا کیونکہ اس کے قریب رہ کر وہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتا تھا کہ اسے کرنا کیا ہے ، وہ ڈرا ہوا نہیں تھا لیکن پھر بھی اسکی دل کی دھڑکنیں اسکے سینے میں ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے اور پیر ٹھنڈے ہوئے جارہے تھے، اسے اپنے دل کی تیز دھڑکنوں پر بہت غصہ آرہا تھا ، وہ اس انجانے خوف میں گھِرا ہوا تھا کہ اس کی پھولتی سانسیں اور دھڑکنوں کی آواز کہیں باقیوں کو شیہک کی جانب متوجہ نہ کردیں جس کی وجہ سے اسے کہیں بزدل نا سمجھا جائے ، حالانکہ وہ بالکل بھی نہیں ڈر رہا تھا شاید کچھ نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ گھبرا گیا تھا لیکن پھر بھی اپنے زور سے دھڑکتے دل پر اسکا کوئی بس بھی نہیں چل رہا تھا ، کبھی کبھی تو ہمارا اپنا جسم ہی ہمارے قابو سے نکل کر ہمیں حیران کردیتا ہے۔ وہ جیسے ہی گہرام کے قریب پہنچا تو اسے باقی سب ساتھی بھی دِکھنے لگے ، اسے چند سیکنڈ پہلے تک ایسا لگ رہا تھا کہ چاروں طرف بھاگم بھاگ اور گھبراہٹ کی کیفیت ہوگی لیکن یہاں اسے سب کے چہرے پر اطمینان نظر آرہا تھا ، ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کچھ بھی غیر معمولی نہیں سب کو پتہ ہے کہ کیا کرنا ہے ، سب پر سکون تھے لیکن پھرتی کے عالم میں اپنا ضروری اسلحہ اور سامان اٹھا رہے تھے ، کچھ دوست تو باقاعدہ گدھوں پر سامان لاد رہے تھے۔ اسے پانچ یا چھ دوستوں کا ایک جھتہ تھوڑے فاصلے پر کیمپ سے نکلتے ہوئے نظر آرہا تھا۔ ہمیشہ ہنسنے اور ہنسانے والا مزار تو بیچ بیچ میں کوئی نہ کوئی مزاحیہ بات کردیتا تو سب زور سے ہنسنے لگتے۔ اتنے میں اسے پیچھے کی طرف سے بھی دوستوں کا ایک جھنڈ کیمپ سے نکلتے ہوئے نظر آگیا۔ وہ خود پہلے تو گھبرایا ہوا تھا اسے کچھ پتہ نہیں تھا کہ کرنا کیا ہے لیکن اب باقی سب کے چہرے پر اطمینان اور اعتماد دیکھ کر پتہ نہیں کیوں خود بخود ہی اسکی دھڑکنیں رام ہوگئیں اور پیروں میں بھی جان آگئی، باقیوں کے خود اعتمادی اور اطمینان نے اسکے اندر بھی اعتماد اور اطمینان پیداکردیا، شیہک خاموشی سے کھڑا سب کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اتنے میں گہرام کے آواز نے اسے چونکا دیا \”شیہک تم سامنے سے چاکر اور اسکے دوستوں کے پیچھے چلو وہ سامنے اس راستے سے نکل چکے ہیں، یہاں سے سیدھا چلو اور جیسے ہی پہاڑی ختم ہو تو پہلے بائیں چوٹ (موڑ) پر مڑ جانا وہ زیادہ دور نہیں گئے ہونگے تم تیز چلو تو پہنچ جاؤگے ، ہم یہ سامان اٹھا کر پیچھے آرہے ہیں ، ہاں یہ چادر لے لو اور جیسے ہی ہیلی کی آواز قریب سے سنائی دے تو کہیں چھپ جانا \” گہرام نے اپنے کندھے سے چادر اتار کر اسے تھماتے ہوئے کہا ، وہ گہرام کے ساتھ رکنا چاہ رہا تھا لیکن اس نے نہ ہاں کہاں اور نہ بس چادر تھام کر تیزی سے بتائے ہوئے رستے پر چل نکلا، لیکن وہ چلتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ جب جان پر بنی ہو تو پھر سامان کی کیا ضرورت پھر اسے یہ خیال آنے لگا کہ جب ہم پہاڑوں پر لڑنے کیلئے آتے ہیں تو پھر اب جان بچانے کیلئے بھاگ کیوں رہے ہیں؟
ایسا نہیں تھا کہ اسے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے ، وہ آج سے سات دن پہلے تربیت کے غرض سے بلوچستان کے وسط میں قائم اس کیمپ میں ایک دوست کے دوست کے توسط سے پہنچا تھا۔ صبح کے اوقات میں تربیت کرکے جب وہ کھانا کے بعد چائے کیلئے تین درختوں کے ساتھ باندھ کر بنائے گئے عارضی چبوترے کے نیچ بیٹھ جاتے تو خوش گپیاں شروع ہوجاتی ، کوئی تاش کی ڈبی نکال کر کھیلنے لگتا تو کوئی لڈو سے دل بہلاتا اور کوئی مزاحیہ قصے سنا کر سب کو ہنسا رہا ہوتا لیکن ہر بات گھوم پھر کر کسی نہ کسی آپریشن تک پہنچ ہی جاتا ، کوئی نہ کوئی کسی آپریشن کا قصہ شروع کردیتا اور اگر کوئی تجربہ کار دوست بھی بیٹھا ہوتا تو پھر بتانے لگ جاتے کہ ایسے صورت میں کرنا کیا چاہئے۔ ان تمام باتوں سے اسے اتنا اندازہ ہوگیا تھا کہ ہر تین چار ماہ میں ایک بار اچانک صبح سویرے دور سے بھاری آوازیں آتی ہیں پھر پانچ دس منٹ میں ہی بھاری آوازیں ہیلی کاپٹروں کی صورت میں کیمپ تک پہنچ جاتے ہیں ، یہاں آدھا گھنٹہ یا گھنٹہ بے تحاشہ بمباری اور شیلنگ کرکے واپس نکل جاتے ہیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہاں آنے سے پہلے دور دور ہی یہ ہیلی کاپٹر اپنے کمانڈو اتاردیتے ہیں جو چاروں طرف سے علاقے کو گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ہیلی آکر بیچ میں بمباری کرتے ہیں ایسے صورت میں بھی وہ چند گھنٹے ہی رک کر شام ہونے سے پہلے واپس چلے جاتے ہیں ، سب ہنس کر کہتے تھے کہ بلوچستان کے ان پہاڑوں میں وہ چند گھنٹے سے زیادہ رک ہی نہیں سکتے اگر وہ زیادہ رک جائیں تو تھکن انہیں مار دیتا ہے یا پھر رات کی تاریکی میں سرمچار انہیں مار دیتے ہیں ، ان سارے باتوں سے شیہک کے ذہن میں آپریشن کا ایک معمولی سا خاکہ بن چکا تھا۔ چلتے چلتے شیہک اپنا کلائی گھما کر گھڑی دیکھنے لگا تو حیران رہ گیا اسکے نیند سے جاگنے اور یہاں تک پہنچنے میں صرف 6 منٹ ہی لگے تھے ، اسے تو ایسا لگ رہا تھا کہ چھ گھنٹے گذرے ہونگے ، کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ انسان کبھی وقت کو سمجھ ہی نہیں پایا ہے ، ہم جسے وقت سمجھ کر گنتے رہتے ہیں وہ تو محض سورج کی روشنی اور اندھیرے کا پیمائش ہے،یہ گھڑیاں وقت کا پیمائش ہرگز نہیں ہوسکتے ورنہ یہ کیسے ممکن ہوتا کہ کبھی چند منٹ آپکو اتنے طویل لگیں اور کبھی گھنٹوں کے گذرنے کا پتہ تک نہ چلے۔
(2)
شیہک گھبراہٹ کے عالم میں مڑ کر تیزی سے واپس پیچھے کی طرف آرہا تھا، اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ رستہ بھٹک گیا ہے، اسے اچھی طرح یاد ہے گہرام نے کہاتھا کہ\”سیدھا چل کر بائیں جانب مڑجانا\” لیکن یہ تو شہر کا کوئی روڈ نہیں یہاں تو سب پہاڑ اور ندیاں ایک ہی جیسے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا ، اسے اتنا یاد ہے کہ وہ خشک برساتی ندی کے بیچوں بیچ چل رہا تھا اور بائیں جانب جب اسے ایک کشادہ رستہ ملا تو وہ اس جانب مڑ گیا تھا لیکن اسی رستے پر تھوڑا چلنے کے بعد اسکا سامنا ایک بند گھاٹی سے ہوگیا جس پر چھڑنا نہ ممکن سا تھا ، اسے فوراً احساس ہوگیا کہ شاید جہاں سے مڑنا تھا اندھیرے کی وجہ سے اس نے وہ رستہ نہیں دیکھا ہوگا اور وہ گذر چکا ہے، اسی لئے راستہ ڈھونڈنے وہ واپس مڑ گیا تھا اور مڑتے ہی اسے وہی بھاری آوازیں بہت قریب سے سنائی دینے لگے وہ جلدی سے ایک بڑے پتھر کے اوٹ میں سینے کے بل لیٹ گیا تھا اسے ہیلی تو دِکھائی نہیں دیئے لیکن اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اسکے اوپر ہی اڑ رہے ہوں اور تھوڑی ہی دیر میں فائرنگ اور دھماکوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو چند منٹ کے وقفے کے بعد بند ہوگیا ، اور بھاری آواز بھی دور ہو تی گئی ، \”لگتا ہے کیمپ پر شیلنگ ہوئی پتہ نہیں گہرام اور باقی بچے ہوئے دوست وہاں سے نکلے بھی تھے کہ نہیں ابھی تک سورج پوری طرح نہیں نکلی ہے شاید اس نیم اندھیرے کی وجہ سے وہ بچ گئے ہوں یا پہلے سے ہی نکل چکے ہوں یا خدا نخواستہ \” ہزاروں خدشات اسکے ذہن میں دوڑنے لگے لیکن وہ جلدی سے اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑے بغیر دوبارہ رستہ ڈھونڈنے میں لگ گیا لیکن اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا ، وہ یہاں نیا تھا اسے ابھی تک رستوں کا کچھ معلوم نہیں تھا ، ایک تو علاقے سے ناآشنائی اور اوپر سے شیلنگ اور بمباری کی آواز سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ نے تو اس کی حالت ایسی کردی کہ اسے ہر موڑ ، ہر پتھر اور ہر پہاڑ بالکل اجنبی لگنے لگے حتیٰ کے وہ جس رستے سے چل کر آیا تھا وہ بھی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ انہیں پہلی بار دیکھ رہا ہے یہاں کے رستے بھی عجیب ہوتے ہیں آتے ہوئے انکے خدو خال کچھ اور ہوتے ہیں اور جاتے ہوئے بالکل کچھ اور ، وہ خشک ندی کے بالکل بیچوں بیچ تیزی سے چل رہا تھا اسے احساس ہوا کہ اگر ہیلی دوبارہ پلٹ کر پہنچے تو اسکے پاس چھپنے تک کا کوئی جگہ نہیں ہوگا ، اسلئے وہ اور تیزی سے چلنے لگا تقریباً دوڑنے لگا تھا ، اتنے میں ایک بار پھر اسے ہیلی کاپٹروں کی بھاری آواز تھوڑی دور سے سنائی دینے لگی ، شاید اب وہ تھوڑی دور کسی جگہ پر بمباری کررہے تھے ، وہ یہاں وہاں دیکھ ہی رہا تھا کہ اسے پیچھے زور سے کسی کی آواز سنائی دی \”شیہک ! او شیہک! اس طرف آؤ \” اس نے موڑ کر پیچھے کی جانب دائیں طرف دیکھا تو ، گندمی رنگت، متوسط قد ، ہلکی سی نکلی توند اور چوڑے سینے کا مالک چاکر اپنا ہاتھ لہرا کر اسے بلا رہا تھا ، شیہک اسے دیکھ کر بہت خوش ہوگیا اور بھاگتے ہوئے اسکی طرف جانے لگا ، چاکر نے دوبارہ آواز لگائی \” جھک جھک کر آؤ \” یہ کہتے ہی چاکر قریب واقع ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا ، ابھی تک سورج مکمل طور پر نہیں نکلا تھا اسلئے درخت کا کوئی سایہ تو نہیں بنا تھا لیکن اس سرمئی صبح میں چاکر جیسے ہی درخت کے نیچے بیٹھ گیا تو وہ بالکل غائب ہی ہوگیا، شیہک کے پہنچتے ہی چاکر نے اسے سرد مہری کے ساتھ اپنے پیچھے چلنے کی تاکید کی،شیہک تیزی سے اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ، وہ ایک خشک برساتی نالے کے تنگ سے رستے پر چڑھائی چڑھ رہے تھے، شیہک سوچ رہا تھا کہ یہ رستہ تو دائیں جانب ہے اور مجھے گہرام نے کہا تھا بائیں جانب مڑنا ، کیا یہ واقعی دائیں جانب ہے یا بائیں ، اف خدایا میں دائیں اور بائیں کا فرق ہی بھول گیا ہوں لیکن میرا کوئی قصور نہیں ، جب میں کیمپ سے نکلا تھا تو اس وقت مکمل اندھیرا تھا اور مجھے تو خاص طور پر کچھ دن پہلے تربیت کے دوران کہا گیا تھا کہ آپریشن کے صورت میں اندھیرے میں کبھی ٹارچ نہیں جلایا جائے اب اگر میں رستہ بھول گیا تو اس میں میرا کیا قصور ، یہ دائیں جانب ہے یا بائیں مسئلہ نہیں شکر ہے چاکر نے اسے دیکھ لیا ورنہ وہ پتہ نہیں کس طرف نکل جاتا ، لیکن اف یہ چھڑائی اسکی سانسیں پھول رہی تھیں اور اسکے سینے سے اب سی سی کی آوازیں نکلنے شروع ہوگئے تھے ، کتنی بار سوچا تھا کہ سگریٹ پینا چھوڑ دوں گا ، لیکن اللہ غارت کرے حمید کا جس نے کالج کے ہاسٹل میں اس سگریٹ کی عادت ڈال دی اب چھوٹتی ہی نہیں ، ایک تو اسے کبھی پہاڑوں میں چلنے کا تجربہ اور مشق حاصل نہیں اور اوپر سے اس سگریٹ کے دھوئیں نے رہتی کسر نکال دی ہے ، ایک تو یہ سروس کے نئے جوتے انگلیوں کو اتنی بری طرح سے رگڑ اور دبا رہے تھے کہ اب پنڈلیوں میں درد شروع ہوگیا تھا ، شیہک کو اپنے موزے گیلے گیلے لگنے لگے تھے پتہ نہیں یہ
پسینہ تھا یا اسکے پیروں کے چھالے پٹھنے سے خون رس رہا تھا بہرحال جو بھی تھا ، اب اسکا سینہ جواب دے چکا تھا اور جیسے جیسے چڑھائی کی ڈھلان بڑھتی جارہی تھی اسکے گھٹنے بھی جواب دے رہے تھے ، اسکا دل کررہا تھا کہ چاکر کو بول دے کہ ایک منٹ رک جائے اور اسے سانس لینے دے لیکن چاکر تو اس سے بالکل بے نیاز تیزی سے اگے بڑھ رہا تھا ، اسے تو احساس بھی نہیں ہورہا تھا کہ اب ان دونوں کے بیچ فاصلہ کتنا بڑھ گیا ہے ، شیہک کو چاکر پر غصہ بھی آرہا تھا لیکن کچھ بول بھی نہیں پارہا تھا ، وہ جب سے آیا تھا اس نے محسوس کیا کہ سب سے زیادہ سنجیدہ چاکر رہتا ہے وہ دوسروں کے باتوں پر ہنستا ضرور ہے لیکن وہ خود کبھی کوئی مزاق نہیں کرتا ، ہمیشہ ایک سختی اسکے چہرے پر سجی ہوتی ہے ، ماتھے میں ہمیشہ ایک بل ہوتا ہے ، اب تو چہرے پر شکن ڈال ڈال کے اس کے ماتھے پر ہلکی سی تین لکیر نما جھریاں بھی پڑچکے تھے ، عجیب جاہل انسان ہے چاکر خود پتہ نہیں بچپن سے ان پہاڑوں میں بکریاں چرا رہا تھا اسکی تو مشق ہوچکی ہے لیکن اسے ساتھی کا تھوڑا بھی احساس نہیں ، آخر کار شیہک نے ہمت کرکے چڑھتے سانسوں کے ساتھ زور سے چاکر کو پکارا \”چاکر! اب مجھ سے ایک قدم بھی چلا نہیں جارہا، ایک منٹ ذرا رکو میں بیٹھ کر سانس لے لوں \” چاکر ایک دم پلٹ کر تیز لہجے میں تیز سانسوں میں درشتگی کے ساتھ ٹوٹتے الفاظوں میں بولنے لگا \” ہم اونچائی پر ہیں ، یہاں ایک سیکنڈ رکنا بھی موت ہے اگر ہیلی آگئے تو ہم بالکل ظاہر ہوجائیں گے ، بس چار گام اور اٹھاو اس چوٹی سے اس پار جائیں تو اترائی ہے پھر تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نیچے پہنچ کر تم سستا لینا ، شاباش ہمت کرو \” مرتا کیا نہ کرتا چاکر تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ، شیہک نے اپنے کندھے سے کلاشن اتار کر اسکے پٹھے کو اپنے سر کے اوپر سے گذارتے ہوئے گردن میں ڈال دیا جس سے وہ ایک کراس کی طرح اس کے گردن سے حائل ہوکر لٹکنے لگا، اب ایک ہاتھ سے اسے بندوق پکڑے رکھنے کی ضرورت نہیں تھی ، پھر اسنے دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ کو جھک کر پکڑ لیا اور پِیروں اور ہاتھوں کے قوت کو ایک جگہ مجتمع کرکے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا ، ہر قدم ایک کوہ گراں تھا اس نے جب آنکھیں اوپر اٹھا کر چاکر کی طرف دیکھا تو وہ چوٹی پر چڑھ چکا تھا اور وہاں بیٹھ کر اپنے دور بین سے اردگرد دیکھ رہا تھا ، اتنے میں اچانک وہ زور سے بولا \” جلدی کرو ہیلی واپس گھوم کر آرہے ہیں \” یہ سن کر شیہک نے اپنی پوری قوت جمع کرکے چوٹی کی طرف ایک دوڑ لگادی اسکے چوٹی پر پہنچتے ہی چاکر چوٹی کی دوسری جانب تیزی سے اترنے کیلئے دوڑنے لگا اور شیہک کو کہنے لگا کہ \” میرے قدموں کے نشان کو پکڑ کر میرے پیچھے پیچھے آؤ سنبھال سے ورنہ گِرجاؤ گے \” شیہک جیسے ہی چوٹی سے اترنے لگا تو اسکی پوری تھکن اچانک رفع ہوگئی ، اسے ایک پل ایسا لگا کہ وہ دنیا کا سب سے چست اور تیز انسان ہے وہ تو اب چاکر سے بھی تیز دوڑ سکتا تھا لیکن چاکر اسے بار بار کہہ رہا تھا \”آہستہ ورنہ گر جاؤ گے\” ، اسے چاکر پر غصہ بھی آرہا تھا کچھ دیر پہلے جو اسے تیز تیز چلنے کیلئے کہہ رہا تھا اب بار بار آہستگی کی تاکید کررہا ہے، لیکن بہت جلد شیہک کو احساس ہوگیا کہ پہاڑ سے اترنا بھی اتنا آسان نہیں ، چڑھتے ہوئے اسکے پیروں کے پھٹے بری طرح کھنچ چکے تھے اب اترتے اترتے اسے ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے اسکے پِیر بالکل باقی جسم سے آزاد ہیں وہ خود بخود تیزی کے ساتھ بے ترتیبی سے چل رہے تھے، اسے تو اب سنبھال کر چلنے اور اپنے رفتار کو قابو میں رکھنے کیلئے بھی محنت کرنی پڑ رہی تھی ، بار بار گھٹنوں پر زور دے کر خود کو لڑھکنے سے بچانا پڑ رہا تھا جسکی وجہ سے اب اسکے گھٹنوں میں درد شروع ہوگیا تھا ، اسے پہلی بار سمجھ آگیا کہ پرانے بلوچی محاورے میں اونٹ چھڑائی کے ساتھ اترائی پر بھی کیوں لعنت بھیج رہا تھا اور کیچڑ میں تو آج تک شیہک کو چلنے کا تجربہ ہی نہیں ہوا ہے لیکن اسے اندازہ ہورہا تھا کہ کیچڑ میں چلنا ایک الگ ہی طرح کا مشکل اور تھکن ہوگا۔
(3)
جب سے شیہک کیمپ آیا تھا اسکا ہر خیال اور ہر تصور بری طرح ٹوٹتا جا رہا تھا، چی گویرا ، کاسترو اور ماؤ کے قصے پڑھ کر دنیا کے مختلف انقلابی جنگوں کے بارے میں جان کر اسکے ذہن میں جنگ کا تصور ایک ایڈونچر فلم کی سی تھی ، اسے لگتا تھا وہ جیسے ہی یہاں پہنچے گا تو اسکے پاس امریکی فوجیوں کی طرح ایم 16 رائفل ہوگی اور وہ پہاڑوں پر مورچہ بند ہوکر اندھا دھند گولیاں چلا رہا ہوگا ، کوئی غیر ملکی اسے جنگ کی تربیت دے گا اور ایک مہینے کے اندر اسکی اتنی تربیت ہوجائے گی کہ وہ ایک کمانڈو کہلائے گا ، سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے لگتا تھا کہ وہ جیسے ہی اس جنگ اور تنظیم کا حصہ بنے گا وہ دوسرے انسانوں پر افضلیت اور خاصیت حاصل کرلے گا، وہ ایک خاص اور غیر معمولی انسان بن جائے گا اور دوسروں سے برتر سمجھا جائے گا ، لیکن یہاں تو صورتحال بالکل مختلف تھی ، یہاں کوئی خاص نہیں بنتا بلکہ سب اپنے خاصیت کو رضاکارانہ چھوڑ کر عام بنتے ہیں ، یہاں تو اس سے زیادہ پڑھے لکھے ، اس سے زیادہ وجیہہ اور اس سے زیادہ پیسے والے بھی بالکل عام تھے۔ باہر دنیا میں اگر کہیں آپ خود کو سب سے الگ اور برتر پیش کریں تو عزت ملتی ہے اور اگر یہاں آپ باقیوں سے زیادہ خاص بننے کی کوشش کریں تو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے، شیہک سوچ رہا تھا کہ یہاں آنے سے پہلے تو اسے لگتا تھا کہ بلوچ ہونے کے ناطے جنگ اسکے خون میں رچا بسا ہوا ہے لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ اسے تو صحیح معنوں میں ابتک بندوق کا پکڑنا تک نہیں آتا اور بوڑھا ماما مری ایک ہفتے سے اسے بندوق کو پکڑنا اور اسکے تین پوزیشن ہی سِکھا رہا ہے ، جو بار بار بتائے جانے کے باوجود کہیں نہ کہیں اس سے غلط ہوجاتے اور اسکا ٹرینر ماما مری اپنے پرانے بلوچی میں شفقت کے ساتھ اسکا ہاتھ پکڑ کر کہتا کہ ایسے نہیں ایسے پکڑو اور ہر بار شیہک کا احساس برتری مزیڈ ٹوٹ جاتا ، یہاں تو کوئی اسکے ایف ایس سی میں فرسٹ ڈویژن نمبروں سے متاثر ہی نہیں لگتے اس سے زیادہ اہمیت تو پاس والے گاؤں کے چرواہے کے بیٹے کی ہے کیونکہ وہ چلنے میں سب سے زیادہ تیز ہے جب بھی گدھوں کو لانا ہو یا بکریوں کو شام کے وقت جمع کرنا وہ فوراً یہ کام کردیتا ہے۔ شیہک نے جو بھی تصور پالے ہوئے تھے سب تاش کے گھروندے کی طرح بکھر رہا تھا ، دوسری طرف تین دن سے بے ذائقہ دال کھا کھا کر وہ اکتا ہی گیا تھا، ابتک ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا ہے لیکن اسے گھر کا کھانا یاد آنے لگا ہے ، وہ نرم بستر اور اس پر تیار ناشتہ ، بجلی کی روشنی ، پنکھے کی ہوا ، گاڑیوں کی آواز ، موبائل پر میسج کا بجنا ، ٹی وی پر فلمیں ، موبائل کا چارج ، ہوٹل پر شام کی چائے ،گرلز کالج کو جاتا رستہ حتیٰ کے باتھ روم میں نہانا تک جو کل تک معمول کی چیزیں تھی اب سب کے سب اسے نعمتیں لگنے لگی تھیں، انسان کتنا عجیب ہے اہم صرف وہ ہے جو نہیں ہے لیکن شیہک سوچتا رہتا کہ اتنا کچھ چھوڑنے کے باوجود وہ بدلے میں کیا پارہا ہے ؟ وہ جنگ کی سپنے لیکر یہاں آیا تھا اب ہیلی کاپٹروں کی آواز انکی شیلنگ ، بمباریوں کے گونج سے اسے احساس ہورہا تھا کہ جنگ کتنا بے رحم اور مشکل ہوتا ہے لڑائی تو ابھی تک آئی نہیں لیکن صرف جان بچانے کیلئے پیدل چلنے نے ہی اسکی جان لے لی ہے ، جیسے جیسے اسکے تصورات ٹوٹ رہے تھے ، اپنے بارے میں اسکا رائے بھی بدل رہا تھا ، اسکا غرور اور احساس برتری کب کا رخصت ہوگیاتھا، وہ آسمانوں کی اڑان سے نیچ گرکر زمین کو چھو رہا تھا ،وہ حقیقت سے جیسے جیسے روشناس ہورہا تھا ویسے ویسے وہ اپنے حقیقی خود کو سمجھ رہا تھا ، اپنی کمیاں بھی جان رہا تھا اور اپنے حقیقی صلاحیتیں بھی پہچان رہا تھا دوسری طرف باقی دنیا کو دیکھنے کا اسکا زاویہ نظر بھی بہت تیزی سے بدل رہا تھا ، اسکے صحیح و غلط ، عزت و احترام کے پیمانے بدل رہے تھے ، معلوم نہیں کیوں اسے زندگی میں پہلی بار اپنے ہمسائے سیٹھ حنیف سے زیادہ میلہ کچیلا چرواہے کا بیٹا قاسو زیادہ محترم اور اہم انسان لگ رہا تھا۔ حتمی کامیابی کی کبھی ضمانت نہیں دی جاسکتی وہ مل جائے تو خود ہی ایک حاصل ہے لیکن اس سے پہلے یہ داخلی تبدیلی کیا ایک حاصل ہے ؟ کیا وہ آسودگی کی قمیت پر حاصل ہونے والی خود آگہی کو ایک کامیابی کہہ سکتا ہے؟
کل ہی گھاٹ پر ڈیوٹی دیتے وقت شیہک سوچ رہا تھا کہ وہ تو خود کو زندگی میں پہلی بار سمجھ رہا ہے ، انسان کو سمجھ رہا ہے کیا تصوف اور فلسفے کا مقصد بھی یہی نہیں؟ ، کیا یہ اسی خودی کو جاننا نہیں جسے منصور حلاج سمجھ کر اناالحق کا نعرہ لگاتے ہوئے سولی پر چڑھتا ہے اور دیو جانس کلبی اسی خودی کو پاکر سکندر اعظم سے اتنا بے نیاز ہوجاتا ہے کہ جب سکندر اس سے ایک درخت کے چھاؤں میں ملنے آتا ہے اور اپنا تعارف کراتا ہے تو کلبی اسے گھور کر کہتا ہے تم جو بھی ہو مجھے پرواہ نہیں میرے سامنے سے ہٹ جاؤ، میں دھوپ سینک رہا ہوں اور تم نے دھوپ روکا ہوا ہے ۔کیا یہ صرف میں محسوس کررہا ہوں یا سب محسوس کرتے ہیں ، کیا یہ احساس اس عمل میں شریک ہونے کی وجہ سے ہے جو بھی اس عمل میں شریک ہے وہ یہی محسوس کرتے ہیں یا پھر اس اجتماعی سوچ کی وجہ سے ہے نہیں عمل سوچ کے اور سوچ عمل کے بغیر بیکار ہیں پھر شاید اسکی وجہ ذات سے نکل کر ایک سوچ کے تحت عمل کا حصہ ہونا ہوتا ہے ، ورنہ صرف جسمانی طور پر اس عمل میں شریک بہت سوں دِکھتے ہیں اور بغیر عمل کے اس سوچ کے مالک بھی ہزاروں ہیں داخلی تبدیلی کیا کبھی ان میں خارجی تبدیلی کی بھی شبیہہ نظر نہیں آتی لیکن پھر بھی یہ کتنا عجیب تضاد ہے ہم خود کو تب پاتے ہیں جب خودی قربان کرتے ہیں ، اصل سکون کا احساس تکلیفوں سے گذرنے کے بعد ہی ہوتا ہے اور جب آپ خاصیت کے جستجو کو کھو کر عام بننے کیلئے سرنڈر کرتے ہو تب اپنے اندر کے خاصیتوں کو پاتے ہو ، نہیں میں دوبارہ تصورات کی دنیا میں جارہا ہوں ، دوبارہ خود کو گھما پھرا کر خاص سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں ، تصورات خوبصورت ہوتے ہیں لیکن حقیقت سے دور ہوتے ہیں اور جب یہ حقیقت سے ملتے ہیں تو پھر بہت تکلیف پہنچاتے ہیں\”۔
وہ پہاڑ سے اترے ہی تھے کہ اچانک دو ہیلی کاپٹر ایک ساتھ اسی چوٹی سے نمودار ہوکر بالکل انکے اوپر آگئے تھے ، اس طرح اچانک انکے نمودار ہونے سے شیہک بالکل ہکا بکا رہ گیا ، لیکن چاکر نے اسے لیٹنے اور گہرام کا دیا ہوا خاکی چادر اپنے اوپر ڈالنے کو کہا اور خود بھی اسکے قریب ہی جھاڑیوں کے اندر لیٹ گیا ، شیہک کی آنکھیں ہیلی کاپٹروں کی طرف تھیں ، وہ دو ہیلی ایک ساتھ تھے \” چاکر کیا انہوں نے ہمیں دیکھ لیا \” شیہک نے گھبرائے ہوئے آواز میں استفسار کی \” چاکر نے لیٹے لیٹے ہی اسے بالکل خشک سا جواب دیا \” نہیں \” ، \” لیکن کیسے نہیں وہ تو بالکل ہمارے اوپر آگئے تھے \” ہیلی اب گذر چکے تھے چاکر اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوگیا اور شیہک کی طرف دیکھ کر بولنے لگا \”ہم بالکل پہاڑ کے اوٹ اور سائے میں تھے اور وہ بھی عین اوپر آگئے تھے ، ہیلی کاپٹر سے سامنے دیکھی جاسکتی ہے لیکن بالکل سیدھ میں نیچے دیکھنا مشکل ہے اور جب سائے میں انسان ساکن رہے تو دیکھنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے ، بالفرض وہ ہمیں دیکھ بھی لیتے تو وہ اتنا فوراً اور بالکل سیدھ میں نیچے شیلنگ نہیں کرسکتے ، ہاں اگر وہ ہمارے پیچھے کے بجائے آگے کی طرف سے آرہے ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی ، خیر اب اٹھو یہاں سے نکلتے ہیں وہ واپس گھوم کر آئیں گے \” شیہک بھی اپنے کپڑے اور چادر جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوگیا پتہ نہیں کیوں اسے موت کو اتنے قریب سے محسوس کرنے اور اس سے بچنے کے بعد عجیب سا جذبہ اور خوشی ملی تھی ، شاید یہ خود میں ہی ایک سبق تھا یا کامیابی۔ وہ ایک بار پھر چاکر کے پیچھے چلنے لگا تھوڑا ہی آگے چلنے کے بعد انہیں پہاڑوں کے بیچ ایک بڑا سا قدرتی تلار (شگاف) مل گیا وہ اتنا بڑا تھا کہ آرام سے وہاں پانچ آدمی بیٹھ سکتے تھے وہ دونوں جاکر اسی شگاف کے اندر بیٹھ گئے، شیہک کو ایسے لگ رہا تھا جیسے قدرت نے یہ پہاڑ ایسے تخلیق کی ہیں کہ انکا دفاع ہوسکے ، یہ شگاف کسی مسجد کے محراب کی طرح تھا اسکی چوڑائی تو کم تھی لیکن یہ تقریباً آٹھ فٹ لمبا تھا اسکی اونچائی بھی تقریباً 20 فٹ ہوگی ، اسکی اچھی بات یہ تھی کہ اوپر سے بند تھا یعنی ہیلی انہیں نہیں دیکھ سکتے تھے ، شیہک بھی اتنا تھکا ہوا تھا کہ جیسے ہی وہ اندر پہنچے تو فوراً اپنی ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا ، اتنا سکون شاید اس نے کبھی اپنے زندگی میں محسوس نہیں کیا تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ شدید پیاسا ہے لیکن چاکر کے کندھے پر لٹکتی ہوئی پانی کی بوتل اس نے دیکھ لی تھی اسے پریشانی بھی نہیں تھی۔
\” چاکر مجھے تھوڑا پانی مل سکتا ہے \” شیہک نے اپنی سانسیں بحال کرتے ہوئے پوچھا ، چاکر جو اب تک خاموش بیٹھا ہوا تھا اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولا \”نہیں پہلے سانس لے لو تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے اور اب اگر تم تھکن کے بعد فوراً پانی پیو گے تو پیٹ میں درد شروع ہوجائے گا شاید الٹیاں بھی آجائے لیکن تمہارا اپنا پانی کا بوتل کہاں ہے ؟ \” شیہک کو شروع سے ہی چاکر کی سرد مہری بالکل پسند نہیں تھی اب پانی پر اسکا یہ عجیب فلسفہ سن کر شیہک کو دل ہی دل میں چاکر پر دوبارہ غصہ آرہا تھا اور بھلا شیہک کو وحی تو نازل نہیں ہوا تھا کہ اسے پتہ ہو آج آپریشن ہونے والا ہے تاکہ وہ پانی کی بوتل بھر کر اپنے ساتھ رکھتا ، اس نے آنکھیں نیچے زمین پر گھاڑ کر بغیر دیکھے ہی آہستگی سے چاکر سے مخاطب ہوا \” مجھے پتہ نہیں تھا کہ پانی کا بوتل ساتھ اٹھانا ہے اور کسی نے بتایا بھی نہیں تھا اور نہ ہی تربیت کے دوران ماما مری نے سِکھایا تھا \” ، وہ بالآخر نظریں اٹھا کر چاکر کے سرد مہر چہرے کی طرف دیکھنے لگا \” ہر چیز تربیت میں نہیں سِکھائی جاتی ، غور کیا کرو سب سے بڑا تربیت خود عمل ہے ، یہ لو پانی لیکن آہستہ آہستہ تھوڑا سا پینا \” چاکر نے بوتل اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ، شیہک نے اس کے ہاتھ سے بوتل لیکر اس سے دو گھونٹ بھرنے کے بعد چاکر سے پوچھا \” ہم کب تک یہاں بیٹھے رہیں گے ، کیمپ واپس کب جانا ہے \” چاکر کی آنکھیں اور توجہ باہر کی طرف تھیں کیونکہ ایک بار پھر کہیں دور سے شیلنگ اور بمباری کی آواز آرہی تھی اس نے شیہک کی طرف دیکھے بغیر ہی جواب دیا \” یہاں ہم زیادہ رک نہیں سکتے ، یہ جگہ کیمپ کے نزدیک ہے اگر انہوں نے کمانڈو اتارے ہیں تو سمجھو ہم اس وقت گھیرے میں ہیں ، ہمیں دور نکلنا پڑے گا یا کوئی محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈنا پڑے گا ، یہاں سے تھوڑا آگے کچھ گھاٹیاں ہیں وہ جگہ اونچی ہے اگر جنگ کی نوبت آئی بھی تو وہاں ہم اچھے پوزیشن میں ہونگے ، ویسے ہمیں رات تک اسی طرح چھپتے پھرنا ہے ، ہمیشہ یاد رکھو گوریلہ کا سب سے بڑا دوست تاریکی ہے \” شیہک چاکر کی ہر بات ایسے غور سے سننے کی کوشش کررہا تھا جیسے کلاس میں کوئی پروفیسر لیکچر دے رہا ہو ، چاکر کوئی بڑا عالم نہیں تھا لیکن اسکی یہ معمولی معمولی باتیں زندگی اور موت کے بیچ کا فرق بن سکتے تھے \”چاکر ایک بات پوچھوں تمہیں کیسے پتہ چلا میں آرہا ہوں اور رستہ بھٹک گیا ہوں تم تو مجھ سے پہلے ہی نکل چکے تھے اور گہرام نے تو کہا تھا کہ بائیں جانب مڑنا ہے اور ہم دائیں جانب کیوں جارہے ہیں؟ \” آخر کار شیہک نے وہ بات پوچھ لی جو کب سے اسکے ذہن میں گھوم رہا تھا ، چاکر مڑ کر اسکی جانب دیکھنے لگا اور پہلی بار ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا \” مجھے گہرام نے مخابرے پر بتا دیا تھا کہ تم پیچھے آرہے ہو اس لیئے میں تمہیں لینے واپس مڑ گیا تھا ، ہمیں جانا واقعی بائیں طرف تھا باقی دوست اسی طرف ہی گئے ہیں لیکن ہمیں دیر ہوگئی
اور ہیلی پہنچ گئے تھے بائیں جانب رستہ کھلا تھا ہم نظر آجاتے اسی لیئے ہم اس طرف آگئے لیکن پریشان نہیں ہوجاؤ ہم بعد میں آگے سے گھوم کر وہیں دوستوں کی طرف جائیں گے کیونکہ اس طرف زیادہ خطرہ ہے \” شیہک کو اب سمجھ آگیا لیکن اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ذہن کی دوسری الجھن حل کرنے کیلئے فوراً چاکر سے دوبارہ پوچھا \” ہم بھاگ کیوں رہے ہیں لڑتے کیوں نہیں ؟ \” چاکر دوبارہ اسکی طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ ایک نابالغ بچہ ہے اور اپنے ہاتھوں کو ہلکی داڑھی پر پھیر کر دھول صاف کرتے ہوئے بولنے لگا \” گوریلہ لڑتا نہیں حملہ کرتا ہے ، جب تک نوبت نہیں آئے گوریلہ لڑائی سے بچتا ہے ، اسکا کام بے خبر حملے کرنا ہے یہی اسکی کامیابی ہوتی ہے اور دشمن کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ گوریلہ کو دو بدو لڑائی پر مجبور کرکے اپنے عددی اور عسکری برتری کے بدولت اسے شکست دے ،یاد رکھو یہ پوری بلوچ کی جنگ ہو یا یہ معمولی لڑائی جب دشمن آگے بڑھے تو تم پیچھے ہٹو ، جب وہ حملہ کرے تو تم جان بچاؤ اور جب وہ تھک جائے یا رک جائے تو پھر تم حملہ کرو \” یہ بات کہتے ہوئے چاکر کھڑا ہوگیا اور اس محراب نما شگاف کے بالکل دروازے پر جاکر بیٹھ گیا اور چاروں طرف دیکھنے لگا ، جیسے اسے کسی کا انتظار ہو پھر اپنے جھاٹے کے ایک جیب سے اس نے رومال میں بندھی وائر لیس نکال کر اس کا انٹینا ڈالنے لگا ، وائرلیس کو \” آن \” کرنے کے بعد اسکا \” کلچ \” دباتے ہوئے وہ زور سے بولنے لگا \” ہیلو گہرام ہیلو ، ہیلو برزین ہیلو ، ہیلو 88 ہیلو ، ہیلو گہرام ہیلو \” لیکن سامنے سے کوئی جواب نہیں آرہا تھا ، مخابرے کو چاکر نے وہیں ایک پتھر پر \”آن \” رکھدیا ، اور اپنے بندوق کو گود میں رکھتے ہوئے چار زانوں ہوکر بیٹھ گیا۔
(4)
سورج مکمل نکل چکا تھا ، اب بھی دور دور سے کبھی شیلنگ کی آواز آتی تو کبھی فائرنگ کی اور کبھی ہیلی کی ، شیہک آہستہ آہستہ چاکر کے پیچھے چل رہا تھا وہ تقریباً ایک گھنٹے سے بغیر رکے چل رہے تھے ، شیہک کو بالکل پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور کس طرف جارہے ہیں بس وہ چاکر کے پیچھے پیچھے خاموشی سے چل رہا تھا وہاں محراب نما شگاف میں تھوڑی دیر رکنے کے بعد چاکر نے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا حالانکہ شیہک کو وہ جگہ بہت محفوظ لگ رہا تھا لیکن وہ بغیر سوال کیئے چاکر کے پیچھے ہولیا ، یہ مارچ کا میہنہ تھا ،عجیب موسم تھا جب سورج نکلتی تو گرمی لگنے لگتی اور رات کو اتنی سردی پڑتی کے انہیں دو دو کمبلوں میں سونا پڑتا ، صبح سے نہ ناشتہ میسر تھا اور نہ ہی چائے اور اب اوپر سے سر پر چمکتا سورج مصائب میں اور اضافہ کررہا تھا۔ شیہک کو بھوک ، پیاس تھکن اور ہلکی سی سردرد چاروں کا ایک ساتھ سامنا تھا لیکن وہ اپنی کمزوری ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتا تھا ، ظایر کرتا بھی تو کیا ہوتا اسے اپنی جان بچانی تھی اور جان بچانے کیلئے اسے وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو چاکر کہے گا ، چلتے چلتے اسے سوچوں ہی سوچوں میں پہلی بار احساس ہوا کہ ایک لیڈر اور ایک رہنما کی کتنی اہمیت ہوتی ہے ، وہ انفرادی طور پر ہو یا پوری قوم سب تمام تکلیفیں اٹھانے کے باوجود صرف رہنما پر اعتماد کی وجہ سے آگے بڑھتے رہتے ہیں ، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ رہنما کو پتہ ہے کس طرف جانا ہے اور کس طرح جانا چاہئے لیکن اچانک شیہک کے ذہن میں ایک اور عجیب سا خیال آیا کہ اگر رہنما کو خود ہی پتہ نہ ہو کہ وہ کہاں جارہا ہے یا کہاں جانا چاہئے تو پھر کیا ہوگا ؟ اگر رہنما میں اتنی صلاحیت نہ ہو کہ وہ قوم کو پار کراسکے تو پھر وہیں یہی اندھا اعتماد ان کے سارے مصائب کے باوجود بھی انہیں ناکامی کی طرف دھکیل دے گا ، اگر رہنما بِکا ہوا ہو تو ؟ پھر اچانک چاکر پر جو وہ اندھا اعتماد کررہا تھا وہ شکوک کے بادل تلے غائب ہوگیا ، مجھے چاکر کے پیچھے چلنا چاہئے لیکن بہتر ہے میں اس سے پوچھتا رہوں کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ کم از کم مجھے یہ تو اندازہ ہو کہ ہم واقعی صحیح جارہے ہیں یا غلط۔ کافی دیر بعد پہلی بار شیہک نے خاموشی توڑتے ہوئے پوچھا \” چاکر ہم کس طرف جارہے ہیں ؟ \” چاکر بغیر رکے اور بغیر مڑے جواب دینے لگا \” ہم راستوں سے دور پہاڑی سلسلے کے مزید اندر جارہے ہیں ، بس اس چوٹ (موڑ) سے آگے ایک چھوٹا سا چشمہ ہے اور ساتھ میں \” گون \” کے درختوں کا جھنڈ ہے وہاں ہم تھوڑی دیر کیلئے رکتے ہیں تم پانی بھی پی لینا اور وہاں سے \” گون \” توڑ کر کھالینا تو جسم میں توانائی آجائے گی ، پھر وہیں سائے میں بیٹھیں گے \” یہ بات سن کر تھکن سے چور شیہک کی ڈھارس بندھی اور وہ مزید تیز تیز چلنے لگا ، دل ہی دل میں شیہک خود سے باتیں کررہا تھا \” اچھا ہوا میں نے پوچھ لیا اب کم از کم مجھے پتہ تو ہے کہ جا کہاں رہا ہوں پہلے تو بس صرف بغیر مقصد کے پیچھے چلا ہی جارہا تھا \” شیہک کو احساس ہوا کہ منزل کے واضح ہونے اور اس پر چلنے اور بغیر منزل کو جانے اس کیلئے چلنے میں کتنا بڑا فرق ہے۔
(5)
چشمے تک پہنچتے ہی انہوں نے اپنی اپنی بندوقیں ایک ایک کرکے تھوڑے سے فاصلے پر ایک پتھر پر ٹکا کر پانی پینا اور منہ ہاتھ دھونا شروع کردیا ، شیہک نے جب اپنے جوتے اتار کر پیروں پر ٹھنڈا پانی ڈالا تو اسے ایک ایسے سکون کا احساس ہوا جسے آج تک اس نے کبھی زندگی میں محسوس نہیں کیا تھا ، جیسے وہ ٹھنڈک اس کے روح تک کو پہنچ رہی تھی وہ تھوڑی دیر کیلئے اپنے پیروں کو ان جوتوں سے آزاد رکھنا چاہ رہا تھا لیکن چاکر نے سختی سے یہ کہہ کر مزہ کرکرا کردیا کہ وہ جوتے جلدی سے واپس پہن لے کیونکہ کسی بھی وقت دوبارہ انہیں یہاں سے بھاگنا پڑسکتا ہے۔ ابھی تک \” گون \” کچے تھے تھوڑا سا توڑنے کے بعد جب شیہک انہیں کھانے کی کوشش کی تو اسے انکی کڑواہٹ محسوس ہوئی اور وہ ہلک میں جیسے اٹک گئے ، اسے شدید بھوک لگ رہی تھی اور کوئی چارہ نہیں تھا لیکن کوشش کے باوجود وہ نہیں کھاسکا ، مجبوراً اسے \” گون \” ہلک سے اتارنے کیلئے دوبارہ پانی پینا پڑا ، لیکن وہی کچے اور بے ذائقہ گَون چاکر اس طرح آرام سے کھارہا تھا جیسے انگور کے دانے ہوں ، وہاں سے فارغ ہوکر چاکر \” گون \” کے درختوں کے سائے میں دو زانوں ہوکر بیٹھ گیا اور اپنا \” جاٹہ \” کندھوں سے اتارتے ہوئے اسکے پیچھے والے خانے کو ٹٹولنے لگا ، معلوم نہیں اسکے ہاتھوں کو کس چیز کی تلاش تھی لیکن کاغذ اور پلاسٹک کے \” چپر چپر \” کا شور شیہک کو صاف صاف سنائی دے رہی تھی، جب چاکر نے اپنا ہاتھ اس خانے سے نکالا تو اسکے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کی پرانی تھیلی تھی جس میں قسم قسم کے گولیوں کی پتیاں تھیں، ساتھ میں اسکے ہاتھ ایک سبز رنگ کی چھوٹی سی کنگھی بھی لگی تھی جس کے کئی دانت ٹوٹ چکے تھے لیکن وہ مطمئن نہیں ہوا اور اپنا ہاتھ دوبارہ اس خانے میں ڈال دیا پھر اچانک جب اس نے دوبارہ اپنا ہاتھ نکالا تو اسکے ہاتھ میں کچھ تہہ لگے ہوئے کاغذ اور نمکو کے دو چھوٹے پانچ روپے والے پیکٹ تھے ، ان میں سے ایک چاکر نے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے شیہک کی طرف پھینک دیا جو سیدھا شیہک کے گود میں گرگیا اور دوسرا پیکٹ کھول کر خود وہاں خاموشی کے ساتھ کھانے لگا ، شیہک نے فوراً نمکو کی تھیلی کھولنا شروع کردیا ، جلدبازی میں کھولتے ہوئے تھوڑا سا نمکو زمین پر بھی گِر گیا ، لیکن جو لذت اسے آج اس نمکو کے پانچ روپے والے پیکٹ سے میسر آرہی تھی وہ تو اس نے کبھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے کھانے میں بھی محسوس نہیں کیا تھا ، ایسا لگ رہا تھا کہ چاکر روز جنگ کیلئے تیار رہتا ہے ، اس وقت چاکر شیہک کی نظر میں کس مسیحا سے ہرگز کم نہیں لگ رہا تھا ، اسکے پاس تو پورا خزانہ تھا پانی نمکو اور رستوں کی پہچان، نمکو کھانے سے فارغ ہوکر چاکر اپنے دونوں ہاتھوں
جھاڑ کر اٹھ گیا اور اپنے بوتل کو دوبارہ پانی سے بھرنے لگا اور شیہک بھی دوبارہ پانی پینے کے بعد جاکر گون کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا لیکن جیسے ہی وہ درخت پر ٹیک لگانے ہی والا تھا کہ چاکر نے اسے زور سے مخاطب ہوکر کہا \” درخت پر ٹیک نہیں لگانا کپڑے خراب ہوجائیں گے اسکا رس کپڑوں پر چپک جاتا ہے اور کبھی کبھار لپڑ (الرجی) بھی کردیتا ہے\” شیہک جواب دیئے بغیر درخت کے تنے سے تھوڑا دور ہٹ گیا اور گہرام کا دیا ہوا چادر گول گول لپیٹ کر ایک پتھر کے اوپر رکھ کر اس پر ٹیک لگادیا اور چاکر بھی اس کے قریب ٹانگیں پھیلا کر اپنا بندوق ساتھ میں رکھتے ہوئے اپنے کہنی پر ٹیک لگاتے ہوئے سستانے لگا۔
وہ کافی دیر سے یونہی خاموش بیٹھے رہے، ایسا لگتا تھا جیسے ان کے پاس کوئی ایسا موضوع نہیں جو دونوں کے دلچسپی کا باعث ہوتا سوائے جان بچانے کے ، اس دوران چاکر نے اپنے قمیض کے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے جیب سے سگریٹ کی ڈبی اور ماچس نکال دی اور ایک سگریٹ ڈبی سے نکالتے ہوئے ہونٹوں کے بیچ میں دبا دیا اور ماچس کی تیلی جلاکر اسے سلگانے لگا پھر ایک بڑا کش مار کر سکون سے سگریٹ کا دھواں اپنے حلق سے خارج کرنے لگا، چاکر اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا اور شش و پنج کے عالم میں کچھ سوچ رہا تھا پھر وہ بغیر سوچے سمجھے بول اٹھا \” چاکر اگر آپکو بُرا نہ لگے تو کیا میں تمہارے ساتھ ایک سگریٹ پی سکتا ہوں ؟\” شیہک تین سال سے سگریٹ پیتا تھا لیکن یہاں وہ گہرام ، چاکر اور ماما مری کے سامنے از رائے احترام سگریٹ نہیں پیتا تھا ، اسے جب بھی سگریٹ پینا ہوتا وہ ان کے محفل سے نکل کر باقی دوستوں کے ساتھ دور بیٹھ کر پیا کرتا تھا ، شیہک کو صبح سے ہی سگریٹ کی طلب ہورہی تھی اور وہ جانتا تھا کہ چاکر سگریٹ پیتا ہے لیکن وہ مانگنے سے کترارہا تھا کہ کہیں چاکر کو اسکا سگریٹ مانگنا اور اسکے سامنے پینا بے ادبی نہ لگے لیکن اب وہ چاکر کو اپنے سامنے سگریٹ پیتے ہوئے دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکا، چاکر نے ماچس اور سگریٹ کی ڈبی دونوں ایک ہاتھ میں پکڑ کر شیہک کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا \” آپ لوگ شہر سے نئے آئے ہو گولڈ لیف پیتے ہو پتہ نہیں میرا یہ مارون تمہیں اچھا لگے گا بھی کہ نہیں اور اس میں بُرا لگنے والی کونسی بات ہے میں نے تمہیں کئی بار سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا ہے اور سعید کو اس دن میں نے ہی کہا تھا کہ تمہیں دورانِ گھاٹ سگریٹ پینے سے منع کرے \” شیہک نے اسکے ہاتھوں سے سگریٹ کی ڈبی لیتے ہوئے جلدی سے ایک سگریٹ سلگادیا پھر ڈبیا زمین پر رکھتے ہوئے چاکر کی طرف دیکھتے ہوئے بولنے لگا \”مجھے لگا آپ سینئر ہو آپکا احترام کرتے ہوئے مجھے آپکے سامنے سگریٹ نہیں پینی چاہئے آپکو بُرا لگ سکتا ہے لیکن اب میرے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا \” چاکر اپنے سر کو دائیں بائیں تیزی سے انکار کے اشاروں میں گھمانے لگا اور ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ڈالتے ہوئے بولنے لگا \”میں آج تک سمجھ نہیں پایا ہوں سینئر اور احترام کیا ہے اور سب کو انکی تلاش کیوں ہے ، حقیقت دیکھو تو سینارٹی یا خواہش احترام کسی نہ کسی طرح ایک انسان کا دوسرے انسان پر اپنا برتری قائم کرنے کی خواہش ہے ، انسانی فطرت عجیب ہے وہ ہمیشہ اپنے اردگرد کے انسانوں سے افضلیت کی جتن کرتا ہے اور یہ لفظ سینارٹی اسکا سب سے آسان طریقہ ہے ، یعنی ایک شعبے میں اگر میں آپ سے کچھ دن زیادہ رہا ہوں تو میں اپنے ان گذارے ہوئے دنوں کے بنیاد پر تم پر افضیلت چاہوں گا چاہے میری صلاحیت تم سے کتنی ہی کم کیوں نہ ہو ، کیا تجربہ سب کچھ ہے ؟ شاید تم صحیح ہو شاید سب صحیح ہیں لیکن میرے لئے تجربہ سے زیادہ اہم تخلیق ہے اور سب سے بڑا طنز تو یہ ہے کہ تجربہ تخلیق کی راہیں مسدود کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے کیونکہ تجربہ نام ہی ایک راستے سے بار بار گذرنے کا ہے جبکہ دوسری طرف اگر کسی شعبے میں
ایک ناتجربہ کارنیا شخص آتا ہے تو اس میں تخلیق کی گنجائش کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ، مثال کے طور پر میں تمہیں کہوں کے اس درخت پر چڑھو تمہیں پہلے کسی درخت پر چڑھنے کا تجربہ نہیں ہے تو تم کوشش کرو گے کے اپنے طور پر کوئی آسان سے آسان طریقہ نکال کر اس درخت پر چڑھ سکو جبکہ اگر میں چڑھنے کی کوشش کروں گا تو میں صرف اس طریقے سے ہی چڑھوں گا جو میں نے سیکھا ہوا ہے اور بار بار دہرایا ہوا ہے اس سیکھے ہوئے طریقے پر چل چل کر شاید میں نے کبھی توجہ ہی نہ دیا ہو کہ اس سے زیادہ بہتر اور طریقے ہوسکتے ہیں ، گوکہ تمہارے گرنے یا پھسلنے کی گنجائش مجھ سے زیادہ موجود رہے گی لیکن شاید تم اپنے نا تجربہ کاری کی وجہ سے ایک ایسا طریقہ دریافت کرلو جو میرے طریقے سے بہت آسان اور سہل ہو، اس طرح تو پھر تم اپنے تخلیق کی وجہ سے مجھ سے زیادہ افضل ہوگئے ، تجربہ تو ایک تسلیم شدہ اور ریاض شدہ حد ہوتا ہے اسکی حدود میں بندگی، بے ساختگی سے دوری اور طلبِ احترام کی وجہ سے کبھی کبھی مجھے اس سے گھِن آتی ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ تجربہ کار تخلیق نہیں کرسکتا اور یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ نوخیز ہمیشہ تخلیق کار ہوتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے تجربہ کار میں صحیح ہونے کی گنجائش زیادہ اور تخلیق کی کم ہوتی ہے اور نوخیز میں تخلیق کی گنجائش زیادہ اور صحیح ہونے کی کم ہوتی ہے لیکن ہم صرف تجربے کے پہلو کو دیکھتے ہیں اسی کے بنیاد پر افضلیت اور عزت کو معیار بناتے ہیں اور دوسرا پہلو نظر انداز کرتے ہیں، اسی طرح لوگ تو افضلیت ڈھونڈنے کیلئے کہیں اپنے عمر کو لیکر چھوٹوں سے احترام کا متقاضی ہیں تو کہیں مردانگی کو بنیاد پر کمزور عورت سے سیوا اور عزت کا مطالبہ کرتے ہیں، ویسے جہاں تک احترام اور عزت کی بات ہے تو ہم جن اختراعی پیمانوں کو لیکر کسی کی عزت اور احترام کرتے ہیں یا اپنے لئے عزت و احترام کا طلبگار ہوتے ہیں کیا وہ درست ہیں؟ درست کو چھوڑو کیا وہ عزت و ذلت کے پیمانہ جات تم نے یا میں نے بنائے ہیں ؟ کیا انہیں ہمارے باپ یا داد انے بنایا ہے ؟ یقین کرو ہمارے آباء کی حیثیت اپنے زماں میں کبھی ہم سے بہتر نہیں رہی ہوگی ، انکے مرضی پر بھی کوئی قدر یا پیمانہ نہیں بنا ہوگا ، یعنی جن پیمانوں یا سلیقوں پر کہی گئی بات کو ہم اپنا عزت و احترام یا بے عزتی سمجھتے ہیں وہ ہم نے خود بنائے ہی نہیں ہیں وہ معلوم نہیں باہر سے کس نے بناکر ہم پر مسلط کردیئے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ چیز یا بات تمہاری عزت و احترام ہے اور یہ چیز اور بات تمہاری بے عزتی ہے۔ کیا یہ احساسات اجتماعی ہوتے ہیں ؟ نہیں عزت محسوس کرنا یا بے عزتی کا احساس تو ہمارا داخلی ردعمل ہے پھر اسکا تعین باہر سے کیسے ہوسکتا ہے،تمہیں نہیں لگتا کہ احترام اور عزت کے پیمانے ہر زمان و مکاں میں اسکے مخصوص مراعات اور اختیار پسند طبقے کی تخلیق ہوتے ہیں جن کا مقصد ہمیشہ ایک حاصل شدہ مرتبے کو مستقل کرنا اور بہت سے غلط چھپانا ہوتا ہے یعنی ایک مسلمان ہونے کے حیثیت سے تم احترام کی وجہ سے یہ سوال نہیں کرسکتے کے نبی(ص) نے گیارہ شادیاں کیوں کی ورنہ یہ توہینِ رسالت ہوجائے گا، ایک بلوچ ہونے کے حیثیت سے تم خیربخش مری سے یہ سوال نہیں کرسکتے کے اسکے ہوتے ہوئے بی ایل اے تقسیم کیوں ہوا ؟ ورنہ یہ اسکے صلاحیتوں پر سوال بن کر اسکے بے عزتی کا موجب بن جائے گا اور شاید اسی طرح اس کیمپ میں بھی بہت سے عزت و احترام کے ایسے پیمانے متعین ہوں جو میرے اور گہرام کے غلط حرکات کو چھپا رہے ہوں ؟ اگر تمہارا
سگریٹ پینے جیسا کوئی عادتِ عمومیہ میرے یا گہرام کیلئے بے احترامی تصور کیا جاتا ہے تو اسکا مطلب یہاں درجات مقرر ہیں اور ہم درجہ اعلیٰ پر فائز ہیں اسلئے تمہاری عمومیت وہاں قابلِ قبول نہیں، بات محض سگریٹ نہیں اسکی اور بہت سی صورتیں دِکھتی ہیں جیسے ٹانگیں پھیلانا ، کھانے کیلئے پہلے ہاتھ دھونا ، دروازے سے پہلے باہر نکلنا وغیرہ، کبھی تم نے سوچا ہے کہ ہمیں
آخر کس نے بتایا ہے کہ پچھلے سال حج کرکے آنے والے محلے کے حاجی صاحب ، محلے کے بڑے بنگلے والے سیٹھ صاحب اور کسی کے کام سے کام نہ رکھنے والے خاموش سے کیبن والے چاچا کا احترام کریں؟ کس نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ حج کرنا ، کسی کو نقصان نہ دینا اور پیسے والا ہونا وغیرہ عزت اور احترام کا معیار ہیں؟ کم از کم نہ میں نے اور نہ ہی تم نے یہ معیار متعین کیئے ہے ، ذاتی طور پر میری نظر میں ان میں سے کوئی بھی عزت کا حقدار نہیں\”
چاکر مسلسل بولتے جارہا تھا ، معلوم نہیں وہ اسے سمجھا رہا تھا یا خود کو ، ایک معمولی سی بات کو انتہائی طول دے رہا تھا شیہک کو محسوس ہونے لگا کہ چاکر کے اس سپاٹ چہرے کے پیچھے الجھے ہوئے خیالات کا ایک لامتناہی سلسلہ چھپا ہوا ہے اور وہ بس موقع چاہتا ہے کہ کہیں سے اپنی بات شروع کردے، لیکن بیچ میں ہی اسکی بات کاٹتے ہوئے شیہک بولنے لگا \”لیکن پھر بھی اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ احساسِ احترام و عزت انسانی فطرت کا حصہ ہیں پھر آخر کون اسکا حقدار ہے؟ \”شیہک کی بات سننے کے بعد چاکر پھر اسی روانی سے بولنے لگا \”میں اس بات سے ہرگز انکار نہیں کرتا کہ احترام و عزت وجود رکھتے ہیں لیکن اسے داخلی ردعمل کا ماحصل ہونا چاہئے نا کہ یہ خارجی ہو میری نظر میں لائق احترام صرف سارتر کا بیان کردہ \” حیاتِ مصدقہ \” اور نطشے کا \” فوق البشر \” ہے یعنی وہ زندگی جو بامعنی ہو یا وہ انسان جو بامعنی زندگی گذارتی ہو ، سارتر کے نزدیک زندگی تب بامعنی بن سکتی ہے جب انسان اپنی آزادی قبول کرے ، اسکے لئے جتن کرے اور اسکے ساتھ ملنے والی ذمہ داریوں کو پورا کرے ، یہ آزادی انفرادی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی بھی لیکن دیکھا جائے تو ہر اجتماعی آزادی کا نتیجہ کہیں نا کہیں جاکر فرد کی آزادی کی صورت میں نکلتا ہے یعنی آزادی ایک سوچ سے ہو یا اپنے ذات سے ، ریت سے ہو یا رسم سے ، عقیدے سے ہو یا قبضہ گیر سے سامراج سے ہو یا خدا سے اسکا ماحصل فرد کی ہی آزادی ہے اور جو اس آزادی کی جتن کرے تو کوشش کا یہ فیصلہ خود ہی اپنے آزادی کو قبول کرکے اسکا استعمال ہے پھر جتن کرنے والا بھی آزاد سو فقط وہ قابلِ احترام ہے جو آزاد ہے لیکن پھر بھی یہ میرا ذاتی رائے ہے تم اسے قبول کرکے احترام و عزت کے پیمانے مقرر کرو گے تو یہ ایک بار پھر خارجی پیمانہ ہوگا\”۔ باتیں کرتے کرتے چاکر اچانک خاموش ہوگیا اور اٹھ کھڑا ہوا \”تم یہیں بیٹھو میں آتا ہوں\” یہ کہتے ہوئے چاکر کھڑا ہوگیا اور اپنے بندوق کو اٹھا کر بائیں کندھے سے لٹکا دیا دو قدم چلنے کے بعد اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے قریب ہی واقع چھوٹے سے پہاڑی پر چڑھنے لگا وہ آہستہ آہستہ اوپر چڑھا رہا تھا اور شیہک اپنی جگہ پر لیٹتے لیٹتے ہی گردن ٹیڑھی کرکے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ سوچ رہا تھا کہ \” میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ چاکر جو کچھ کہہ رہا تھا ہر بات سے میں اتفاق کرتا ہوں یا سب کچھ میں سمجھ سکا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ میں ایک خوشحال زندگی کے بجائے بامعنی زندگی گذارنا چاہوں گا چاکر کے زبان میں \” حیاتِ مصدقہ \” ہی چاہوں گا پھر یقیناً چاکر کے اقدار کے مطابق میں قابلِ احترام ٹہرتا ہوں ، اگر چاکر جیسا شخص جو خود کو بھی قابلِ احترام نہیں سمجھتا اسکے نزدیک میں قابلِ احترام ٹہروں تو پھر یہ یقیناً حقیقی احترام و عزت ہوگا\” وہ یہی سوچتے سوچتے اپنے آپ ہی مسکرانے لگا ، شیہک کو اس بات پر خوشگوار حیرت ہورہی تھی کہ محض دس منٹ کی گفتگو کی وجہ سے اب اسکی رائے چاکر کے بارے میں بدل رہا تھا، اسکی توجہ اچانک چاکر کی آواز کی طرف چلی گئی جو زور سے کچھ بول رہا تھا شیہک سننے کی کوشش کرنے لگا تو چاکر زور زور سے کہہ رہا تھا \” ہیلو گہرام ہیلو ، ہیلو برزین ہیلو ، ہیلو گہرام ہیلو\”
(6)
قدموں کی چاپ سن کر شیہک چونک کر نیند سے اٹھ گیا اور فوری اپنا بندوق اٹھا لیا ، مڑ کر دیکھا تو چاکر پہاڑی سے اتر کر اس کی جانب آرہا ہے ، پتھر پر سر رکھ کر لیٹے لیٹے جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی تھی اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا لیکن وہ خود کو ایسے تازہ دم ظاہر کرنے لگا جیسے وہ سویا ہی نہیں ہے ایسے جنگی حالت میں آنکھ کا لگ جانا یقیناً چاکر کو پسند نہیں آئیگا ، چاکر جب قریب پہنچا تو شیہک نے فوراً اس سے پوچھا \” کسی سے رابطہ ہوا؟ \” چاکر اسکے قریب بیٹھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا \” نہیں شاید سب نے مخابرے بند کیئے ہوئے ہیں ، ہیلیوں کی مزید آواز نہیں آرہی لیکن دور سے فائرنگ کی آواز آرہی ہے لگتا ہے ایس ایس جی اتارے گئے ہیں شاید کہیں دوستوں کی ان سے مڈبھیڑ ہوگئی ہو اسکا مطلب ہیلی مکمل گئے نہیں ہیں وہ جلد واپس آئیں گے \” یہ باتیں تو پریشان کن تھیں لیکن چاکر اتنے اطمینان سے بیان کررہا تھا کہ شہیک اس کے چہرے کے طمانیت دیکھ کر بالکل پریشان نہیں ہوا۔ \” تم لڑنے کیوں آئے ہو؟\” گہرام کے دیئے ہوئے چادر سے اپنے بندو ق پر لگے دھول کو صاف کرتے ہوئے چاکر نے شیہک کی طرف دیکھے بغیر ہی یہ سوال ایسے انداز میں پوچھا جیسے شیہک کسی تھانے میں بیٹھا ہوا ہو اور اسکی پوچھ گچھ ہورہی ہے \” جی ، کیا مطلب میں سمجھا نہیں\” اس بے محل سوال پر شیہک جیسے چونک سا گیا ، چاکر نے اب اپنی بندوق گود میں رکھتے ہوئے اسکی طرف دیکھ کر مزید وضاحت سے بولنا شروع کیا \” میرا مطلب اس آزادی کی جہد میں تم شامل کیوں ہوئے؟ تم کس لئے اسکا حصہ بننا چاہتے ہو ، کھل کر بولو ، سچ سچ بولو ؟\” یہ پوچھنے کے بعد چاکر زمین پر پڑے سگریٹ کی ڈبیا اٹھاتے ہوئے اس سے سگریٹ کے دو دانے نکال لیئے ایک اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور دوسرا شیہک کی طرف بڑھایا اور ماچس کی تیلی جلا کر تیلی کے جلتے شعلے کو اپنے ہتھیلیوں کے فانوس میں سنبھالتے ہوئے تھوڑا جھک کر پہلے شیہک کا سگریٹ سلگایا اور پھر شعلے کو اپنے ہونٹوں کے قریب لاکر ان میں دبے سگریٹ کو سلگانے لگا اور شیہک کے آنکھوں میں دیکھ کر مسکرانے لگا اس سگریٹ اور اس مسکراہٹ کا مطلب شیہک اور چاکر دونوں سمجھتے تھے یعنی چاکر روایتی احترام کے بندھنوں سے آزاد ہوکر شیہک کو سننا چاہ رہا تھا ، سوال سننے کے باوجود شیہک ابھی تک خاموش تھا شاید کچھ سوچ رہا تھا ، شاید اس نے کبھی خود بھی اس بارے میں گہرائی سے نہیں سوچا تھا۔
شیہک بالآخر اپنے خاموشی کو توڑتے ہوئے بولنے لگا \”میں نے کہیں پڑھا تھا سچائی تب سچی ہے جب اسکا تعلق ہمارے ذات سے بنے ورنہ سچائی موضوعی اور تصوراتی ہی رہے گی ، میں تمہارے اس سوال کو معلوم نہیں اپنے ذات سے کیسے جوڑ کر بیان کروں شاید میں مجبور ہوں کہ لڑوں ، میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ، میں بلوچستان پر جبری قبضے کی روایتی تاریخ کو نظر انداز کروں بھی تو مجھے غلامی اور نیم انسان پن اپنے روزمرہ میں نظر آتا ہے ، بالفرض میں اپنے قومی غلامی سے سمجھوتہ کر بھی لوں تو پھر بھی پاکستان جیسے ملک میں میں اپنی انفرادی آزادی نہیں پاسکتا ، بلوچستان میں کتنے باغی ہیں یا کتنے ایسے لوگ ہیں جو غلامی سے انکار کرتے ہوئے آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں بہت کم بہت ہی کم لیکن دوسری طرف غلامی سے سمجھوتہ کرنے والے اکثریت کی زندگی میں کونسی اچھی تبدیلی آئی ہے؟ یہاں سیاست ہو ، معیشت ہو یا سرداریت سب ایک غلام گردش ہیں ایک جاندار کو انسان بننے سے روکنے کی دیواریں ہیں، راہ فرار صرف خاموشی ہے لیکن خاموش بھی حل نہیں ، میں
آزاد زندگی پر خوشحالی کو ترجیح دیکر اپنی پوری قوت صرف کرکے ایک اچھی سی نوکری حاصل کر لوں بھی تو میری حیثیت کیا رہے گی یہی کہ میں ایک بڑے مشین کے ایک معمولی پرزے کی طرح ایک میکانکی زندگی گذاروں کسی اور کے متعین کردہ وقت اور مقدار کے مطابق کام کرتے ہوئے کسی شخص یا اسی ریاست کیلئے پیسے کماؤں جس نے مجھ سے میری آزادی چھینی ہے اور وہ میرے کمائے ہوئے پیسے کا ایک چھوٹا سا حصہ مجھے تنخواہ کی صورت میں واپس دیکر خوش کرے اور میں اسکا احسان مند بھی رہوں پھر اسی تنخواہ کی آدھے سے زیادہ وہ دوبارہ کسی اور طریقے سے ٹیکسوں کی صورت میں مجھ سے واپس لے ، یعنی میں اگر اپنے آزادی سے سمجھوتہ کرکے غلامی کو قبول کروں بلکہ اس غلامی کے زنجیر کو مضبوط کرنے کیلئے آقا کا کمک کار بنوں پھر بھی بدلے میں اگر خوش قسمت رہا تو ایک گھر گاڑی اور بیوی پاؤں اور ان کے ساتھ وقت گذارنے کیلئے چھٹی کا انتظار کروں کیا واقعی زندگی کا مقصد یہی ہوتا ہے؟ ایک بار میں زندگی کے مقصد پر کوئی کتاب پڑھ رہا تھا جس میں جرمن فلسفی شوپنہاور کہتا ہے کہ زندگی کا مقصد ماورائیت ہے جاویدانی ہے اور ماورائیت صرف جمالیات سے حاصل ہوتا ہے، لیکن میں کہتا ہوں جب تک میں اپنے انفرادی یا اجتماعی آزادی سے محروم ہوں تب تک جمالیات اندھی ہے ، چاکر تمہارے الفاظوں کے مطابق دیکھوں بھی تو زندگی کا مقصد مجھے \”حیات مصدقہ\” یا بامعنی زندگی کا حصول نظر آتا ہے اور اس کیلئے بھی تو شرط اول آزادی ہی ہے نا ، میں اگر تم سے سچ کہوں تو میں انسان سے مایوس ہوں ، میں اپنے زمین اور سماج سے باہر بھی انسان کو دیکھتا ہوں تو وہ ہر طرف مجھے اپنے آزادی سے بھاگتا اور اس سے سمجھوتا کرتا نظر آتا ہے ، کہیں انسان عقیدے کا غلام بن کر ، کہیں معیشت کا غلام بن کر ، کہیں مشین کا غلام بن کر ، کہیں کسی ملک کا غلام بن کر ، کہیں مراعات کا غلام بن کر اور کہیں کسی انسان کا غلام بن کر اپنی مرضی دوسروں کے حوالے کررہا ہے ، اپنے ذمہ داریوں سے بھاگ رہا ہے اور اپنے آزادی سے دستبردار ہورہا ہے۔ چاکر تم نے نطشے کا ذکر کیا تھا ، نطشے سے میں ایک اختلاف رکھتا ہوں وہ جہاں سامراجیت اور قبضہ گیریت کو انسان کو غلام بنانے کا ذمہ دار ٹہراتا ہے وہیں وہ قوم پرستی اور اشتمالیت کو بھی انسان کی انفرادی آزادی کو گروہ کے بھینٹ چڑھا کر سلب کرنے کا گنہگار قرار دیتا ہے لیکن وہ خود آزاد معاشرے کا باسی تھا شاید یہ سمجھ نہیں پایا کہ غلام معاشروں میں انفرادی آزادی تب تک ممکن نہیں جب تک اجتماعی آزادی حاصل نہ ہو، غلام معاشرے میں آزاد فرد پیدا ہو ہی نہیں سکتا ، میں فلسفی نہیں کہ انسان کی آزادی کا کوئی فلسفہ پیش کرسکوں، میں نیم تعلیم یافتہ ہوں بات سادہ کرکے پھر سمجھتا ہوں میں اتنا جانتا ہوں میری ماورائیت جمالیات اور تخلیق میں چھپی ہے اور اپنے انفردای آزادی کے بغیر میں کبھی تخلیق اور جمالیات تک نہیں پہنچ سکتا اور میری انفرادی آزادی کے حصول کا پہلا ذریعہ میری سماجی اور قومی آزادی ہے ، میں یہاں خود کو آزاد کرنے کی خاطر لڑنے آیا ہوں ، چاکر میں آپ جیسا بہادر نہیں ، ایک سچی بات بتاؤں میں صبح سے ہی خوفزدہ ہوں ، نا ہی مجھ میں اتنی برداشت ہے ، مجھے موت سے بھی ڈر لگتا ہے لیکن پھر بھی یہاں آنا اس جہد کا حصہ بننا میری مجبوری ہے میں صرف آپ کے ساتھ رہ کر ہی ایک آزاد انسان کہلایا جاسکتا ہوں ، حتمی آزادی پاسکتا ہوں سارتر کا \” حیات مصدقہ \” تک پہنچ سکتا ہوں نطشے کا \” فوق البشر \” بن سکتا ہوں۔ میری ذاتی اور انفرادی آزادی قوم کی آزادی سے منسلک ہے بلکہ قوم کی آزادی بھی تو یہی ہے کہ ہم ایک قوم کے لوگ مل کر ایک دوسرے کو آزاد کرنے کی کوشش کررہے ہیں\”۔
شیہک بات کرتے جارہا تھا اور چاکر اسے غور سے دیکھ اور سن رہا تھا چاکر اتنے طویل جواب کا بالکل امید نہیں رکھ رہا تھا ، جیسے ہی شیہک
خاموش ہوا تو ماحول میں ایک سکوت طاری ہوگیا دونوں مزید کچھ نہیں بول رہے تھے، چاکر نے پاس پڑے پانی کے بوتل کو اٹھایا اس کا ڈھکن کھولتے ہوئے اسے ہونٹوں سے لگادیا اور پانی کے تین چار بڑے گھونٹ حلق سے اتار دیئے بوتل کا ڈھکن دوبارہ بند کرکے اس نے آرام سے بوتل دوبارہ سائے میں رکھ دیا تاکہ پانی ٹھنڈا رہ سکے اور خاموشی کو توڑتے ہوئے بولنے لگا \”شیہک صرف تم خوفزدہ نہیں ، صرف تم ڈرتے نہیں بلکہ ہم سب ڈرتے ہیں ، آج ہم سب اپنے گھروں سے دور یہاں بیٹھے ہیں اسکی وجہ صرف ڈر ہے ، ختم ہونے کا ڈر۔ یہی ڈر انفرادی طور پر موت اور اجتماعی طور پر معدومیت ہے، کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ خوف اور ڈر کیا ہے؟ اور اس ڈر سے چھٹکارہ کیسے ملتا ہے؟ خوف اور ڈر کے اپنے سطحات ہیں جیسے جیسے تم اسکے اعلیٰ سطحات تک پہنچوگے ویسے ویسے وہ نچلی سطح سے ختم ہوتا جائے گا ، بنیادی ڈر ہمارا انفرادی ہے اپنے ذات کیلئے لیکن جب وہی ڈر اپنے اگلے اعلیٰ سطح ہمارے خاندان کیلئے پیدا ہوجائے تو پھر ہمارا اپنے ذات کیلئے ڈر ختم ہوجاتا ہے ہم خاندان کو بچانے کیلئے اپنی ذات بغیر خوف کے قربان کرسکتے ہیں ، اس سے اگلی سطح قوم کیلئے ڈر ہے جب ہم اپنی قومی خوف اور ڈر کو محسوس کرپائے تو پھر ہمارا اپنا ذاتی حتیٰ کے خاندانی ڈر بھی ختم ہوجاتا ہے ، سارتر اپنے فرانسیسی قوم کے بجائے الجزائریوں کی حمایت کرتا تھا کیونکہ وہ ڈر کے اگلے اعلیٰ سطح تک پہنچ چکا تھا انسانیت کیلئے ڈر اس لئے شاید اسے قوم کی پرواہ نہیں تھی۔ ڈر تو ہم سب رہے ہیں۔ اگر آج ہم اپنے قومی خوف اور ڈر کو محسوس کرپائے تو ہم باقی سب ڈر اور خوف سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔ خوف بالکل بُری چیز نہیں ہے ، یہی تو بقائے انسانیت ہے ، یہی تو تخلیق ہے ، یہی تو ہمیں زندہ رکھتا ہے۔ اگر انسان تاریک غاروں سے اس جدید دنیا تک پہنچا تو اسکی سب سے بڑی وجہ یہی ڈر تھا ، فطرت کا ڈر اپنے ماحول کا ڈر اس ڈر پر قابو پاتے پاتے ہم فطرت پر قابو حاصل کررہے ہیں ، اندھیرے اور جانوروں کے ڈر نے ہی آگ کا ایجاد ممکن بنایا۔ جہاں تک بات ہے موت کا تو اس سے کیا ڈرنا اسکا ہمارے زندگی سے تعلق ہی نہیں ، جب موت آتی ہے تو زندگی نہیں ہوتی اور جب تک زندگی ہے موت کبھی نہیں آسکتی ، بقولِ سارتر \”موت تو زندگی کی خارجی حد ہے اسکا زندگی کے اندر سے کوئی لینا دینا نہیں\” ، ویسے میں تو موت کو ایک نعمت سمجھتا ہوں یہ ایک بند باندھ کر ہمارے زندگی کو ترتیب اور معنویت بخشتا ہے ورنہ موت کے بغیر زندگی محض بے ترتیب واقعات کا مجموعہ ہوتا ، شیہک ایک بات پوچھوں تمہارا سب سے بڑا خوف کیا ہے ؟\”
چاکر کے اس سوال کے ساتھ ہی انہیں فائرنگ اور چھوٹے دھماکوں کی آواز سنائی دینے لگی وہ آوازیں زیادہ دور سے نہیں آرہے تھے چاکر اٹھ کھڑا ہوا اور شیہک سے بولنے لگا \”ہمیں یہاں سے نکلنا پڑے گا تھوڑا آگے ایک گھاٹی ہے وہ اونچائی پر ہے ، وہ چھپ کر رہنے اور ارگرد نظر
رکھنے کیلئے بہترین جگہ ہے ، ہمارے دوست بلا وجہ فائرنگ نہیں کرسکتے ضرور ایس ایس جی اتارے گئے ہیں اور وہ یہاں آسکتے ہیں \”شیہک نے جلدی سے اپنا کلاشن اور گہرام کا دیا ہوا چادر اٹھا لیا اور چاکر نے پانی کا بوتل اٹھا کر کم گہرے چشمے میں ڈبو دیا جو بلبلے بناتا ہوا بھرنے لگا ، پھر وہ تیزی سے وہاں سے نکلنے لگے ایک بار پھر قریب ہی کہیں بمباری کی بھی آوازیں آنی لگیں پتہ نہیں شیہک کو یہ دھماکے سننے کی عادت ہوگئی یا پتہ نہیں یہ چاکر کی باتیں تھیں کہ اسے اب پہلے کی طرح ڈر نہیں لگ رہا تھا۔
(7)
راستہ پتھریلہ تھا جگہ جگہ برساتی پانی کے تیز بہاو کے ساتھ آنے والے بڑے بڑے پتھر بکھرے ہوئے تھے ، کہیں کہیں تو انکے اوپر سے چلنا پڑا
تھا ، ایک جگہ پھسلنے کی وجہ سے شیہک کے کلاشن کا بٹ زور سے پتھر پر لگ گیا جس سے اس پر نشان بن گیا تھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد وہ اس گھاٹی کے قریب پہنچے تھے ، شیہک غور سے دیکھ رہا تھا کہ وہ چڑھے کیسے کیونکہ نوے کے زاویے کے ڈھلان پر چڑھ کر ہی اوپر پہنچا جاسکتا تھا ، چاکر مہارت کے ساتھ منٹوں میں اوپر چڑھ گیا اور شیہک کو کہنے لگا \”تم اپنی بندوق مجھے دے دو پھر دونوں ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اوپر آؤ\” چند گھنٹے قبل شیہک جس چاکر کیلئے سرد جذبات رکھتا تھا اب وہ خود کو اس سے اتنا قریب سمجھنے لگا کہ اسے اپنی کمزوری ظاہر کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں ہورہی تھی اس نے اپنا بندوق \”بٹ\” سے پکڑ کر ہاتھ لمبا کرتے ہوئے چاکر کو تھمادیا اور خود دونوں ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اوپر چڑھنے لگا جب وہ اونچائی کے قریب پہنچا تو چاکر نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اوپر کھینچ لیا اور تھوڑا آگے جاکر وہ ایسی جگہ پر بیٹھ گئے جہاں سے نیچے کا سارا منظر آسانی سے دِکھائی دے رہا تھا ، یہاں سے وہ دشمن پر نظر رکھ سکتے تھے اور اگر مڈ بھیڑ ہوجاتی تو وہ آسانی سے دشمن کو نشانہ بنا سکتے تھے اور خود بھی نظروں سے اوجھل رہتے پہاڑی لڑائیوں میں اکثر تعداد سے زیادہ اونچی پوزیشن کا اہمیت ہوتا ہے ، شیہک سر اوپر کرکے آسمان کی طرف دیکھ کر اندازہ لگانے لگا کہ اگر ہیلی مشرق یا مغرب کی طرف سے آتے ہوئے ہمارے اوپر سے گذریں گے تو وہ ہمیں نہیں دیکھ سکیں گے لیکن اگر وہ شمال اور جنوب کی طرف سے آئے تو پھر شاید انکی نظر ہم پر پڑجائے ، چاکر نے ایک بار پھر اپنا مخابرہ \” آن \” کیا اور پھر سے \”کلچ\” دباتے ہوئے وہی دہرانے لگا \” ہیلو گہرام ہیلو ، ہیلو برزین ہیلو ، ہیلو 88 ہیلو ، ہیلو گہرام ہیلو \” لیکن پھر سے وہی خاموشی ، اس نے اپنا مخابرہ بند کرنے کے بجائے کھلا چھوڑ کر ایک اونچی جگہ پر رکھ دیا اور شیہک کے قریبا بیٹھ گیا ، تقریباً شام کے چار بج رہے تھے سورج آہستہ آہستہ مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے مغربی اونچے پہاڑ کا سایہ بنتا جارہا تھا بس تھوڑی ہی دیر میں اتنا سایہ بن جائے گا کہ وہ دونوں اس سائے میں بیٹھ سکے ، بھوک کی شدت برقرار تھی لیکن بار بار بھوک مٹانے کیلئے شیہک پانی کے گھونٹ بھرتا جارہا تھا ، شیہک کو رات کا بے صبری سے انتظار تھا کیونکہ چاکر کہتا ہے کہ تاریکی گوریلہ کا سب سے بڑا ساتھی ہوتا ہے ، کافی دیر تک یونہی خاموشی رہی ہر کوئی اپنے خیالوں میں گم تھا ، چاکر کے ذہن میں محض اندیشے دوڑ رہے تھے کیونکہ ایک بار کیمپ سے نکلنے کے بعد ابتک اسکا رابطہ کسی سے نہیں ہوسکا تھا پتہ نہیں باقی کس حال میں تھے چاکر انہی خیالوں میں تھا کہ اچانک شیہک کے گلا صاف کرنے کی آواز نے اسے خیالوں سے نکال دیا اور خاموشی توڑتے ہوئے شیہک بولنے لگا \”میرا سب سے بڑا خوف موت نہیں اور نہ ہی خواری ہے بلکہ میرا خوف اپنے موت اور خواری کا ضائع ہونا ہے ، یہ خوف صرف اپنے لئے نہیں بلکہ سب زندوں اور سب شہیدوں کیلئے ہے کہ ہم نے جو قیمتی دوست اس رستے میں کھودیئے انکی شہادت کو کیا صحیح رخ دیا جائے گا ؟ یا کیا وہ واقعی میں صحیح رخ پر ہیں ، آج ہزاروں بلوچ اپنی زندگیاں لیڈرشپ کے حوالے کرکے اس جدوجہد میں شامل ہیں ، لیکن یہ خوف مجھے اکثر گھیرتا رہتا ہے کہ کیا واقعی یہ لیڈرشپ اتنی اہل ، باصلاحیت ، بے غرض ہے کہ ان قربانیوں اور قربان ہونے کو تیار زندگیوں کو ایک رخ دے سکیں ، حقیقت پوچھو تو ابتک قیادت اور رہنماوں کی سطح دیکھ کر یہ خوف مزید مستحکم ہوگیا ہے ، مجھے خون کے بہہ جانے کا خوف نہیں بلکہ میرا خوف یہ ہے کہ خون کا بہاؤ کسی غلط طرف نہ ہو ، چاکر کیا تم میرا یہ خوف دور کرسکتے ہو ؟ کیا تم مجھے یقین دلا سکتے ہو کہ اس خون کا بہاؤ درست جانب ہوگا ؟ تم تو دس سال سے اس جدوجہد میں ہو ہر تنظیم کو اور اسکے قیادت کو قریب سے جانتے ہو کیا یہ اتنے سارے سربراہ نظر آتے ہیں وہ رہنما اور لیڈر بھی ہیں؟ آج مجھے تم سے یہ جواب چاہئے کیا یہ لیڈرشپ عوام کو صحیح رخ دے سکیں گے؟\”چاکر اسکے باتوں کو غور سے سننے کے بعد خاموش ہوکر فضاؤں کو گھورنے لگا وہ اس سوچ میں پڑگیا کہ وہ کیا جواب دے ، جواب دے بھی کہ نہیں ، وہ اس بات کا جواب دینے کا اہل ہے بھی کہ نہیں پھر آخر کار اس نے خود اعتمادی سے عاری لہجے میں حلق سے بے ترتیب آواز نکالتے ہوئے بولنے لگا \” اف یہ لفظ عوام ، میں کبھی نہیں سمجھ سکا کون ہے ، کیا یہ خواص کا متضاد عوام ہے ؟ پھر خواص کون ہے؟ یہ میں کبھی جان نہیں سکا لیکن میں بس اتنا جانتا ہوں کہ لیڈر وہ ہے جو معاشرے میں عوام نہیں بلکہ لیڈر پیدا کرے ، لیڈر وہ ہے جو انبوہ کو جمہور بنائے ، ان میں فرق کیا ہے انبوہ محض بھِیڑ ہے اور جمہور صاحب رائے اجتماع ، ایک خشک بنجر زمین ہے اور دوسرا وہ زمین جس پر لیڈر کے افکار برسات کے پانی کی طرح برسے ہوں ، لیکن لیڈر ہے یا نہیں مجھے کچھ پتہ نہیں ،میں تو یہ مانتا ہوں کہ لیڈر ضروری نہیں ایک شخص ہو وہ ایک سوچ ، ایک اصول حتیٰ کے چند سطور بھی ہوسکتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ آگے لیجانا جانتا ہو ، لیڈر کی یہ \”عدم موجودیت\” کا خوف تمہارا بھی ہے اور میرا بھی شاید گروہوں کے لیڈر ہوں لیکن معلوم نہیں قوم کا کون ہے ، پتہ نہیں کوئی ہے یا کوئی بنے گا یا کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ \” نا ہونے اور عدم\” کا خوف محض تمہارا نہیں بلکہ میرا بھی ہے ، ویسے ہمارا تکلیف وہی ہے جو کسی اور صورت میں پورے نوع انسانی کا روز اول سے ہے ، ہم \” عدم \” کے شکار ہیں ، ہم عدم کے مارے ہیں اس نہ ہونے کا شکار ہیں ، انسان پہلے دن سے اس عدم کو پر کرنے کیلئے کبھی دیوتا تخلیق کرتا رہا ، تو کبھی بت تراشتا رہا اور کبھی ماتھا ٹیکتا رہا پھر سائنس کو گلے لگالیا لیکن اس عدم کو وہ ابتک پر نہ کرسکا وہ ابتک جواب نہ پاسکا ، اتنا وسیع کائنات اور ہمارا وجود اتنا چھوٹا شاید اس لئے ہم کبھی عدم کو ہستی میں بدل نہیں سکے ، ویل ڈیوارنٹ ہمارے اس انسانی خوف کو مزید بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ \”انسانیت حیوانیات کے بیچ ایک وقفہ ہے ، حیوانیات حیاتیات کے بیچ ایک وقفہ ، حیاتیات ارضیات کے بیچ ایک وقفہ ہے اور ارضیات فلکیات کے بیچ ایک وقفہ ہے \”، اب کاملیت کہاں ہے عدم کہاں ختم ہوگا ہم ابھی تک اسکے سمجھنے کے قریب نہیں پہنچے ، کرکیگارڈ اس \” عدمیت \” کو خدا سے دوری کہتا ہے ، سارتر اس \” عدمیت \” کو خدا کے نہ ہونے کا خلا سمجھتا ہے اور نطشے کی تو نظر میں اس \”عدمیت\” کی وجہ مرگ خدا ہے اور انسان اس عدم کو پر کرنے کیلئے پہلے دن سے آج تک کیا سے کیا جتن کرتا رہا ہے ، ہم بلوچ اسی طرح ایک اور ہی عدمیت کے شکار ہیں ایک اپنے ہی طرز کے عدم کے مارے ہیں ، شاید ہمارا عدمیت رہنمائی رہا ہے، رخ رہا ہے۔ ہم نے بھی اپنے اس خلاء کو پر کرنے کیلئے کتنے لیڈر بنا کر انکے سامنے سجدہ ریز ہوئے ، کتنے لیڈروں کے بت تراش کر اپنے ایمان ان کے حوالے کر بیٹھے اور کتنے درگاہوں پر اپنا جان سپرد کرکے اندھا یقین کر بیٹھے لیکن طریقہ اور رستہ حقیقی نہیں تھا اس لئے ہم کبھی اس عدمیت سے چھٹکارہ بھی نہ پاسکے ، اسی بارے میں میرا ہر دلعزیز تصوراتی دوست نطشے کہتا ہے کہ \”انسان نے عدمیت سے نجات حاصل کرنے کی تگ و دو میں مزید اسکی راہ ہموار کی اور یہی وہ افسوسناک سچائی ہے جسے زوال کہتے ہیں\” ، ہماری حقیقت بھی یہی ہے حقیقی رہنما کے جگہ کو پر کرنے کیلئے ہم نے اتنے جعلی رہنما بنانے کے دور ہوگئے لیڈشپ کے عدمیت سے نجات حاصل کرنے کے تگ دو میں ہم نے اسکی مزید راہ ہموار کی اور حقیقی رہنمائی سے دور چلتے گئے اور یہ ہمارا زوال ہے۔\”
شیہک اس جواب سے بالکل مطمئن نہیں ہوا اور نہ ہی وہ سمجھ سکا کہ چاکر بولنا کیا چاہ رہا ہے شاید چاکر کو خود پتہ نہیں ہے ، یا وہ بس اسے باتوں
میں گھما رہا ہے لیکن شیہک نے اپنی بات چاکر کے سامنے دوبارہ بے تکلفی سے رکھتے ہوئے کہا کہ\” چاکر تمہارے اس جواب سے میری تسلی نہیں ہوئی، مجھے کتابی اور خیالاتی باتوں میں نہیں گھماؤ آج صاف صاف دِکھ رہا ہے کہ اختلافات ہیں ، دوری ہے ، کوتاہیاں ہیں ، بیوقوفیاں ہیں ، ناسمجھیاں ہیں اور اوپر سے تنقید کا اودھم بھی مچا ہوا ہے ایسے عالم میں یہ ایک فطری سوال ہے کہ جو اپنا لہو بہانا چاہتا ہے وہ ضائع تو نہیں ہوگا؟\” بیچ میں ہی اسکی بات چاکر نے کاٹتے ہوئے تیز لہجے میں بولنے لگا \” یار ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں مجھے اور ہر کسی کو غلط جانے کا ڈر ہے ، اختلافات ، دوریاں ، کوتاہیاں ، بیوقوفیاں اور نا سمجھیاں دِکھ رہی ہیں تو پھر ہمیں ان پر سوال اٹھانے پر کیوں پریشانی ہے؟ اہم چیز یہ غلطیاں ہیں ان غلطیوں پر سوال اٹھانا اتنا اہم نہیں کہ ہم ان غلطیوں کو بھول کر بس اس سوال اور تنقید کے پیچھے پڑجائیں ، ہم نے اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنادیا ہے ، شیہک میرا یقین کرو فکری افلاس اور فکری زوال کی آخری حد تب شروع ہوتی ہے جب ہم اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم سمجھنے لگیں ، اتنا تو سوچو سوالات نے غلطیوں کو جنم نہیں دیا ہے بلکہ غلطیوں نے سوالات کو جنم دیا ہے، کسی کا تخت و تاج چار سوالوں سے چلا نہیں جائے گا سب مفت میں ہڑبڑائے ہوئے ہیں اور نا ہی کوئی اتنا کامل و پارسا یہاں موجود ہے کہ اسے سوال و تنقید سے مبرا قرار دیں حتیٰ کے ہم بھی نہیں غلط ہم سب ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ہمیں احساس ہے ، کیا تم نے کبھی زیر تعمیر سڑکوں پر یہ بورڈ پڑھا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ \”خبردار آگے راستہ خطرناک ہے\” تنقید بس وہی بورڈ ہے، بس بتاتا ہے کہ راستہ خطرناک ہے اس رستے پر چلنا یا نہ چلنا گاڑی چلانے والی کی مرضی ہوتی ہے ، تم پوچھ رہے ہو کہ بہتے خون کا رخ صحیح ہے یا نہیں؟ پھر بس منزل کو دیکھنے سے تمہیں پتہ نہیں چلے گا ، آنکھیں جھکا کر رستے کو بھی دیکھو کہ یہ صحیح راستہ ہے یا نہیں اگر صحیح نہیں بھی ہے تو پھر صحیح راستہ ڈھونڈ کر چلو کیونکہ اسکے سوا اور کوئی چارہ نہیں\” شیہک نے کمر بندھ باندھتے ہوئے دوبارہ چاکر کے منہ سے الفاظ چھینتے ہوئے کہا\” وہ تو صحیح ہے چاکر لیکن یہ گالیاں اور بدتمیزیاں تو راستہ ڈھونڈنا نا ہوئے نا\” یہ بات سن کر چاکر نے ایک دم ہنسنا شروع کردیا، شیہک آج صبح سے ابتک پہلی بار اسے ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا اور وہ بھی ساتھ آہستہ آہستہ ہنستے ہوئے چاکر کے گھٹنے پر خفت سے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھنے لگا\” کیوں ہنس رہے ہو یار \” چاکر نے ہنسی کو روکے بغیر شیہک کی طرف دیکھ کر بولنے لگا \”شیہک جان ہم بھی کرکیگارڈ بنیں کیا؟\” \” کیا مطلب \” شیہک نے دوبارہ استفسار کیا \” میں تم پر نہیں ہنس رہا مجھے ایک بات یاد آگئی جسے شہید زباد نے مجھے سنایا تھا بات تو اتنی بڑی نہیں تھی لیکن ہم بہت ہنسے تھے بس وہی ماحول بنتا دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی ، ڈنمارک میں کرکیگارڈ نام کا ایک فلسفی رہتا تھا، وہ جسمانی لحاظ سے بہت بدصورت تھا لیکن فکری لحاظ سے زرخیز ، ان دنوں فلسفے کی دنیا میں ہیگل کا کوئی ثانی نہیں تھا اور کوئی اس کے افکار سے ٹکر لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن کرکیگارڈ اس سے اختلاف رکھتا تھا اسلئے اس نے نا صرف ہیگل پر بلکہ چرچ پر بھی تنقیدی مضامین اور کتابوں کے لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا وہ اپنے دور میں عیسائی ہونے کے باوجود چرچ پر سب سے زیادہ تنقید کرنے والا شخص بن گیا ، اسے لگا میں دنیا کو ایک نئے خیال اور سوچ سے بہرہ آور کراوں گا لیکن شاید وہ اپنے وقت سے پہلے پیدا ہوا تھا اس لئے وہ ایک طرف فلسفے کی دنیا میں اور دوسری طرف چرچ پر تنقید کرنے کی وجہ سے ڈنمارک کے سڑکوں پر ایک تمسخر کی علامت بن گیا ، وہ جہاں سے گذرتا لوگ اسکی پتلی ٹانگوں اور طوطے جیسے ناک پر بھپتیاں کستے ، اسکے بدصورت چہرے پر ہنستے ، اسے گالیاں دیتے حتیٰ کے اخباروں میں اسکے بدصورت کارٹون بھی روز چھپنے لگے آخر کار وہ اتنا تنگ آگیا کہ گھر سے نکلنا ہی چھوڑدیا۔ اسے پہلے لگا تھا کہ اسکے افکار کے جواب میں سامنے سے بھی لکھا جائے گا اور ایک اچھے بحث کا آغاز ہوگا لیکن یہاں اسکی زندگی اجیرن ہوگئی پھر تنگ آکر اس نے ایک اور قلمی نام سے اپنے مضامین پر خود ہی تنقید کرنا شروع کردیا اور دوسری طرف اپنے اصلی نام سے اس تنقید کا جواب دینے لگا پھر دوسرے نام سے اس جواب کا جواب دیتا اسکے قلمی نام کا کسی کو پتہ نہیں تھا اسلئے دیکھتے ہی دیکھتے اخباروں میں ایک سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ، اس بحث نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی اور آج اسی کرکیگارڈ کو \” وجودیت پسندی \” کا باوہ اعظم کہا جاتا ہے جس کے افکار پر نطشے ، ہائیڈیگر اورسارتر جیسے بلند پائے کے دانشوروں نے اپنے فلسفے کی بنیاد رکھی۔ اسی بات پر شہید زباد نے کہا تھا کہ اب ہمیں گالیاں مل رہی ہیں تو کیا کریں ہم بھی کرکیگارڈ کی طرح اپنا جواب خود دیں کیا؟ پھر ہنستے ہوئے جب اس نے یہ کہا کہ ہم نا تو کرکیگارڈ کی طرح بدصورت ہیں اور نا ہی اتنا ذہین پھر ہم جائیں بھی تو کہاں جائیں اس بات پر ہم دونوں بہت ہنسے تھے آج بس وہی بات یاد آگئی\” اپنی بات پوری کرتے ہی چاکر دوبارہ سے ہنسنے لگا اور اسکے ساتھ شیہک بھی ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے شیہک نے کہا \”او چاکر ایک بات بولوں میں نے کرکیگارڈ کی تصویر دیکھی ہے قسم سے ڈنمارک والوں کا کوئی قصور نہیں تھا\” اس بات پر چاکر اور زور سے ہنسنے لگا۔ اسی ہنسی میں انہیں دوبارہ ہیلیوں کی آواز آنے لگی انکی آواز بہت دور نہیں تھی اور تیزی سے نزدیک سے نزدیک آرہی تھی ، \” شہیک جلدی سے لیٹ جاؤ ہیلی ہیں \” چاکر یہ کہتے ہی اٹھ کر بالکل کونے میں منہ کے بل لیٹ گئے اور اپنے جسم کو بالکل سکیڑ دیا ، پھر اچانک ہیلی کی آواز اتنی تیزی سے انکے سماعتوں سے ٹکرانے لگی کے انہیں اور کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اچانک گولیوں کی ایک بوچھاڑ شروع ہوگئی چٹانوں پر گولیاں لگنے سے پتھر ٹوٹ ٹوٹ کر چاکر کے اوپر گر رہے تھے اس نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے تاکہ پتھروں سے بچ سکے، فائرنگ کی آواز رکی اور ہیلی فائرنگ کرتے ہوئے گذر گیا ، چاکر وہیں لیٹا رہا جب شور کچھ کم ہوا تو اسنے زور سے بولا \” شہیک تم ٹھیک ہو نا ؟\” سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا شاید شور کی وجہ سے شیہک سن نہیں سکا ، چاکر لیٹے لیٹے زور سے بولا \” شہیک ؟\” پھر سے خاموشی اب اس خاموشی میں منحوسیت کا شبیہہ بھی تھا، چاکر مٹی سے غرق جلدی جلدی اٹھ گیا اور شیہک کی طرف دیکھنے لگا، پھر آہستہ آہستہ بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے شہیک کے قریب رک گیا۔ وہ منہ کے بل پڑا ہوا تھا اسکے قریب خون کا چھوٹا سا تالاب بنتا جارہا تھا، چاکر نے سر کے پچھلے حصے کو جسم سے دور اور باہر نکلتی ہوئی مغز کو دیکھنے کے بعد نبض پر انگلیاں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، ایک گولی سیدھا اسکے سر کو پھاڑ کر نکلا تھا۔ چاکر اسکے بالکل سامنے بیٹھ گیا اور پہلی بار اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا، اسے پہلی بار احساس ہوا کہ شیہک کی ہلکی داڑھی اسکے گورے رنگت پر بہت جچتا ہے ، اسکی عمر بیس بائیس سال سے زیادہ نہیں ہوگی ، سر کے بیچ سے مانگ نکالنے کی وجہ سے اسکے
بال اکثر اسکے چہرے پر آجاتے تھے اور وہ اپنے ہاتھوں سے انہیں پیچھے کردیتا تھا ، اب وہی بال اسکے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے ، چاکر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بکھرے بالوں کو اسکے چہرے سے ہٹانے لگا جس سے چاکر کے ہاتھوں پر اسکا خون لگ ، چاکر اپنے ہاتھ کو غور سے دیکھنے لگا خون ابھی تک گرم تھا پھر اسکے سر سے نکلتے ہوئے خون کو غور سے گھورنے لگا وہ اسکے سر سے بہتے ہوئے ایک چھوٹے سے گھڑے میں تالاب کی صورت میں جمع ہورہے تھے گھڑے کے بھر جانے کی وجہ سے اب وہ آہستہ آہستہ باہر بہنا بھی شروع ہوگئے تھے۔ چاکر بہت غور سے اس بہتے خون کے رخ کو دیکھ رہا تھا شاید اسے شیہک کا جواب مل جائے کیونکہ شہیک کو تو مرنے اور خون کے بہہ جانے سے ڈر نہیں لگتا تھا اسکا ڈر تو یہی تھا کہ خون کے بہاؤکا رخ کسی غلط جانب نا ہو ، وہ کافی غور سے خون سے بھرے گھڑے کو تکتا رہا پھر شیہک کی چہرے کو دیکھ کر زور سے بولنے لگا \”شیہک جان میں نے بہت غور کیا لیکن مجھے پتہ نہیں چل رہا ہے کہ خون کے بہاؤ کا رخ صحیح جانب ہے یا اسکا رخ غلط ہے، ہاں میں اتنا سمجھ پایا ہوں خون جمع ضرور ہورہا ہے تم ڈرو نہیں اسے بہنے کیلئے ضرور صحیح رخ مل جائے گا\” یہ کہنے کے بعد چاکر وہیں ساکن کافی دیر تک شیہک کو تکتا رہا پھر اٹھ کر دور پڑے گہرام کے دیئے ہوئے چادر کو اٹھایا اور شیہک کے اوپر ڈال کر دوبارہ خاموشی سے بیٹھ گیا ، اتنے میں ایک آواز نے یہ خاموشی توڑ دی اس نے دوبارہ سننے کی کوشش کی تو پتھروں کے نیچے سے مخابرے سے آواز آرہی تھی\”ہیلو چاکر ہیلو ، ہیلو چاکر ہیلو \” چاکر سوچ رہا تھا کہ کاش کے یہ آواز تھوڑی دیر پہلے آتی وہ کب سے یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ شیہک کو بھوک لگی ہے کسی دوست کے ہاتھوں کچھ کھانے کیلئے اسطرف بھیج دو ، وہ اٹھا اور پتھروں کے نیچے سے مخابرے کو نکال کر اسکا \” کلچ \” دباتے ہوئے زور سے بولا \” جی \” سامنے سے گہرام کی آواز تھی \”تم لوگ ٹھیک ہو اور شیہک تمہارے پاس ہے ؟ \”چاکر شیہک کی طرف دیکھ کر سوچنے لگا پتہ نہیں شیہک اسکے پاس ہے یا نہیں لیکن اسنے دوبارہ کلچ دباتے ہوئے کہا \”ہاں شیہک میرے ساتھ ہے\” سامنے سے دوبارہ گہرام کی آواز آئی جو کوڈ میں بول رہا تھا \”ہم بکریوں کے قریب والے پہاڑی پر ہیں تم دونوں ادھر آجاؤ\” چاکر نے دوبارہ کلچ دباتے ہوئے کہا \” نہیں، ہم گھٹ پر ہیں تم کچھ دوستوں کو بھیجو اور ساتھ کمبل بھی بھیجنا شیہک کو لانا ہے\” گہرام اسکی بات سمجھ گیا اور ایک ہی وقت میں دونوں طرف سے ایک ٹھنڈی آہ نکلی۔

کاغذی پھول / گابرئیل گارشیا مارکیز



صبح کاذب کے ملگجے اندھیرے میں مینا نے راستہ محسوس کرتے ہوئے اپنا وہ لباس پہنا جس کی آستینیں الگ ہو جاتی تھیں۔ پھر ٹرنک میں اس لباس کی آستینیں تلاش کرنے لگی۔ اُس نے کھونٹیوں پر اور دروازوں کے پیچھے تلاش کیا مگر بے سود۔ اُس کی کوشش تھی کہ سارے عمل کے دوران کمرے میں سوئی ہوئی اس کی نابینا دادی کی آنکھ نہ کھل جائے۔ لیکن جب وہ اندھیرے سے مانوس ہوئی تو اُس نے محسوس کیا کہ اس کی دادی جاگ چکی تھی اور باورچی خانے میں موجود تھی۔ وہ باورچی خانے میں دادی سے اپنی آستینوں کے بارے میں پوچھنے چل دی۔
’’وہ غسل خانے میں ہیں۔‘‘ اندھی دادی نے کہا۔ ’’میں نے انھیں دھو ڈالاتھا۔‘‘
دُھلی آستینیں لکڑی کی کھونٹیوں سے لٹکی ہوی تھیں اور ابھی تک گیلی تھیں۔ مینا دوبارہ باورچی خانے میں گئی اور آتشدان کے پتھروں پر انھیں پھیلا دیا۔
نابینا خاتون کافی کو ہلا رہی تھی اور اُس کی بے جان پُتلیاں برآمدے کے پتھریلے کناروں پر ٹکی ہوئی تھیں، جہاں ادویات کی جڑی بوٹیوں کے گملے قطار میں رکھے ہوئے تھے۔
’’میری چیزوں کو مت چھیڑا کرو۔ آجکل سورج کا کوئی بھروسہ نہیں۔‘‘ مینا نے کہا۔
اندھی عورت نے آواز کی سمت اپنا رُخ موڑا اور کہا، ’’میں بھول گئی تھی کہ آج پہلا جمعہ ہے۔‘‘
ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اندھی عورت نے اندازہ لگایا کہ کافی تیار ہو چکی ہے۔ اس نے کافی کا برتن چولہے سے ہٹا لیا۔
’’نیچے کاغذ کا ایک ٹکڑا رکھ لینا کیوں کہ پتھر گندے ہیں۔‘‘ اُس نے مینا سے کہا۔
مینا نے انگلی پتھر کے کناروں پر پھیری۔ وہ گندے تھے لیکن گرد اتنی جم چلی تھی کہ آستینیں اُن سے رگڑ نہ کھاتیں تو گندی نہ ہوتیں۔
’’اگر پتھر گندے ہیں تو اس کی ذمہ دار تم ہو۔‘‘ اس نے کہا۔
اندھی عورت کپ میں کافی ڈال چکی تھی۔
’’تم ناراض ہو؟‘‘ کرسی برآمدے میں کھینچتے ہوئے وہ مینا سے مخاطب ہوئی۔ ’’ناراضی میں مقدس دعا میں جانا گناہ ہے۔‘‘
وہ کافی پینے کے لیے صحن میں گلابوں کے پھولوں کے سامنے بیٹھ گئی۔ جب دعا کے لیے تیسری گھنٹی بجی تو مینا نے آتش دان سے آستینیں اتار لیں۔ وہ ابھی بھی گیلی تھیں، لیکن مینا نے انھیں پہن لیا۔ فادر اینجل اسے برہنہ کندھوں میں دیکھ کر کبھی درس نہیں دیں گے، (اُس نے سوچا)۔
اس نے منہ نہیں دھوایا لیکن گیلے تولیے سے غازے کے نشانات رگڑ کر صاف کر لیے، دعاؤں کی کتاب اور شال کمرے سے اٹھائی اور باہر گلی میں نکل گئی۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد واپس گھر آ گئی اور سیدھی غسل خانے کی طرف چل دی۔
’’تم وہاں انجیل مقدس پڑھے جانے کے بعد جاؤ گی!‘‘
صحن میں گلابوں کی مخالف سمت بیٹھی ہوئی اندھی عورت نے کہا۔
’’میں دعا میں نہیں جاسکتی، آستینیں گیلی ہیں اور میرے سارے لباس پر سلوٹیں پڑی ہیں۔‘‘
اُس نے محسوس کیا کہ ایک جانکاری والی نگاہ اس کے تعاقب میں ہے۔
’’پہلا جمعہ ہے اور تم دعا میں نہیں جا رہی!‘‘ اندھی عورت بول اٹھی۔
غسل خانے سے واپس آ کر مینا نے اپنے لیے ایک کپ میں کافی ڈالی اور سفید روغن شدہ داخلی راستے کے سامنے اندھی عورت کے پاس بیٹھ گئی لیکن وہ کافی نہ پی سکی۔
’’تمہارا ہی قصور ہے۔‘‘ وہ دبے ہوئے غصے میں بڑبڑائی۔ اُسے محسوس ہوا جیسے وہ آنسوؤں میں ڈوب رہی ہے۔
’’تم رو رہی ہو؟‘‘ بوڑھی عورت بولی۔
اُس نے پانی دینے والا فوارہ آرگینو کے گملوں کے پاس رکھا اور باہر صحن میں نکل گئی۔
مینا نے اپنا کپ زمین پر رکھ دیا، ’’میں غصے سے رو رہی ہوں۔‘‘ اور جیسے ہی وہ اپنی دادی کے پاس سے گزری اُس نے مزید کہا۔
’’تمہیں اعترافِ گناہ کے لیے لازماً جانا چاہیے کیوں کہ میں صرف تمہاری غلطی کی وجہ سے پہلے جمعے کی دعا میں نہیں جا سکی۔‘‘
اندھی خاتون بے حس و حرکت اس انتظار میں بیٹھی رہی کہ مینا خواب گاہ کا دروازہ بند کر دے۔
پھر وہ خود برآمدے کے دوسرے سرے تک چلی گئی اور رُکتے ہوئے جھکی تاکہ کافی کا کپ اٹھا لے جو مینا نے ویسے کا ویسا پڑا رہنے دیا تھا۔ جب وہ کافی مٹی کے پیالے میں واپس اُنڈیل رہی تھی تو اُس نے اپنی بڑبڑاہٹ جاری رکھی، ’’خدا جانتا ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے۔‘‘
مینا کی ماں خواب گاہ سے باہر آئی۔
’’تم کس سے بات کر رہی ہو؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
’’کسی سے بھی نہیں۔ میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں خبطی ہوتی جا رہی ہوں۔‘‘
اپنے کمرے میں بند ہو کر مینا نے اپنے لباس کے بٹن کھولے اور تین چھوٹی چھوٹی چابیوں والا گچھا نکالا، جو اُس نے ایک سیفٹی پِن سے اپنے زیریں لباس کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ ایک چابی سے اس نے نچلا دراز کھولا اور اُس میں سے ایک ننھا سا صندوق نکالا، پھر ایک اور چابی سے اس صندوق کو کھولا۔ اندر رنگین کاغذوں پر لکھے ہوئے کچھ خطوط تھے جن کو ایک ربڑ بینڈ سے اکھٹے باندھا ہوا تھا۔ مینا نے ان خطوط کو اپنی زیریں بنیان کے اندر چھُپا لیا۔ چھوٹے سے صندوق کو واپس اس کی جگہ پر رکھا اور دراز مقفّل کر دیا۔پھر وہ غسل خانے میں گئی اور خطوط اس کے اندر پھینک دیے۔
مینا باورچی خانے میں آئی تو اُس کی ماں نے کہا، ’’میرا خیال تھا کہ تم چرچ گئی ہو گی۔‘‘
’’وہ نہیں جا سکی۔‘‘ اندھی عورت نے مداخلت کی۔ ’’میں بھول گئی تھی کہ یہ پہلا جمعہ تھا اور میں نے کل سہ پہر آستینیں دھو ڈالی تھیں۔‘‘
’’وہ ابھی بھی گیلی ہیں۔‘‘ مینا بڑبڑائی۔
’’مجھے ان دنوں بہت زیادہ کام کرنا پڑا۔‘‘ اندھی عورت نے وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
’’مجھے ایسٹر کے لیے پچاس درجن پھول دینے ہیں۔‘‘ مینانے کہا۔
اس روز سورج کی تمازت جلد شروع ہو گئی۔ سات بجنے سے پہلے ہی مینا نے اپنی مصنوعی گلابوں کی دکان سیٹ کر لی تھی۔ ایک بالٹی پتیوں اور لوہے کی تاروں سے بھری تھی۔ کریپ پیپروں کا ایک صندوق، دو قینچیاں، دھاگے کا ایک گچھا اور ایک گوند کا ڈبہ بھی وہاں رکھا تھا۔ کچھ دیر کے بعد ٹرینڈیڈ (Trinidad) وہاں پہنچ گئی۔ ا س نے بغل میں پھول چپکانے والا تختہ دبایا ہوا تھا۔ اس نے بھی مینا سے پوچھا کہ وہ دعا میں کیوں نہیں گئی۔
’’میرے پاس آستینیں نہیں تھیں۔‘‘ مینا نے جواب دیا۔
’’تمہیں کوئی ادھار دے سکتا تھا۔‘‘ ٹرینڈیڈ نے کہا۔
اُس نے ایک کرسی کھینچی اور پتیوں والی ٹوکری کے پاس بیٹھ گئی۔
’’مجھے دیر ہو چکی تھی۔‘‘
اس نے ایک گلاب بنا لیا تو ٹوکری مزید قریب کر لی تاکہ وہ پتیوں کو تراش سکے۔ٹرینڈیڈنے تختہ فرش پر رکھا اور کام میں شریک ہو گئی۔مینا نے صندوق کو دیکھا۔
’’کیا تم نے جوتے خریدے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’وہ مردہ چوہے جیسے ہیں۔‘‘ ٹرینڈیڈ نے کہا۔
چونکہ ٹرینڈیڈ پتیوں کی تراش خراش میں ماہر تھی اس لیے مینا تاروں پر سبز کاغذ لپیٹ کر شاخیں بنانے لگ گئی۔ وہ دونوں خاموشی سے کام میں مشغول رہیں اور انھیں احساس بھی نہیں ہوا کہ سورج کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔ مینا ٹرینڈیڈ کی طرف مڑی تو اُس کا چہرہ غیرمرئی سا محسوس ہو رہا تھا۔ ٹرینڈیڈ بے حد نفاست سے پتیاں تراش رہی تھی اور پتیوں کی حرکت اُس کی انگلیوں میں محسوس تک نہیں ہو رہی تھی۔
مینا نے اس کے مردانہ قسم کے جوتوں کا مشاہدہ کیا۔ ٹرینڈیڈ اس کی نظروں سے گریز کر رہی تھی۔ اس نے اپنے پاؤں پیچھے سمیٹتے ہوئے سر اُٹھائے بغیر پوچھا، ’’کیا بات ہے؟‘‘
مینا اُس کی جانب جھک کر بولی، ’’وہ چلا گیا۔‘‘
ٹرینڈیڈ کے ہاتھوں سے قینچی چھوٹ کر اُس کی گود میں جا گری۔
’’نہیں!‘‘
’’ہاں! وہ چلا گیا۔‘‘ مینا نے دہرایا۔
فرینڈیڈ بغیر پلک چھپکے اس کی طرف دیکھتی رہی۔ اس کے دونوں ابروؤں کے درمیان عمودی لکیر میں گہری جھُری پڑ گئی تھی۔
’’اور اب؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
مینا نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’اب کچھ بھی نہیں۔‘‘
ٹرینڈیڈ نے دس بجے سے پہلے اسے خدا حافظ کہہ دیا۔
شناسائی کے بوجھ سے آزاد ہو کر مینا نے ایک لمحہ کے لیے اُسے روکا، تاکہ وہ اس کے چوہے جیسے جوتوں کو غسل خانے میں پھینک سکے۔
اندھی خاتون گلاب کی پتیاں تراش رہی تھی۔
’’میں شرط لگا سکتی ہوں کہ تم نہیں جانتیں اس صندوق میں کیا ہے؟‘‘ مینا نے اس سے کہا جب وہ پاس سے گزری۔
اس نے صندوق کو ہلایا لیکن اندھی عورت شناخت نہ کر سکی۔
’’اس کو دوبارہ ہلاؤ۔‘‘
مینا نے اس حرکت کو دہرایا لیکن اندھی عورت پھر بھی شناخت نہ کر سکی۔ اس کے تیسری مرتبہ ہلانے پر بھی اندھی عورت شناخت میں ناکام رہی۔
’’یہ وہ چوہے ہیں جو ہم چرچ کے چوہے دان میں پکڑتے تھے۔‘‘
جب وہ واپس آئی تو اندھی عورت کے قریب سے بِنا بولے گزر گئی، لیکن بوڑھی عورت اس کے تعاقب میں گئی۔ جب وہ کمرے میں پہنچی تو مینا بند کھڑکی کے پاس اکیلی کھڑی مصنوعی گلاب تراش رہی تھی۔
’’مینا! اگر تم خوش ہونا چاہتی ہو تو اجنبیوں کے ساتھ اقرار مت کرو۔‘‘
مینا کچھ کہے بغیر اُسے دیکھتی رہی۔ اندھی عورت اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی اور کام میں اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنے لگی، لیکن مینا نے اسے منع کر دیا۔
’’تم پریشان ہو؟‘‘ اندھی عورت نے کہا۔، ’’تم دعا میں کیوں نہیں گئیں؟‘‘
’’تم خوب جانتی ہو کہ کیوں۔‘‘ مینا نے کہا۔
’’اگر یہ آستینوں کی وجہ سے ہوتا تو تم گھر سے نکلنے کی ہی زحمت نہ کرتیں۔ کوئی راستے میں تمہارا منتظر تھا جس نے تمہیں مایوس کر دیا۔‘‘
مینا نے اپنا ہاتھ نابینا خاتون کی آنکھوں کے سامنے اس طرح لہرایا جیسے کسی اَن دیکھی دھند کو صاف کر رہی ہو۔
’’تم ایک جادوگرنی ہو۔‘‘ مینا نے کہا۔
’’تم آج صبح دو مرتبہ غسل خانے میں گئی۔‘‘ اندھی خاتون بولی۔ ’’تم ایک مرتبہ سے زیادہ کبھی نہیں جاتیں۔‘‘
مینا بدستور پھول بنانے میں مشغول رہی۔
’’کیا تم مجھے وہ دکھاؤ گی جو دروازوں میں چھپا رہی تھی؟‘‘ اندھی عورت نے کہا۔
مینا نے پھولوں کو بلاتاخیر کھڑکی میں رکھا اور اپنے کپڑوں سے تین چابیوں کا گچھا نکال کر اندھی خاتون کے ہاتھ میں تھما دیا، ’’تم خود دیکھ سکتی ہو۔‘‘
بوڑھی خاتون نے چابیوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کیا، ’’میری آنکھیں غسل خانے میں نیچے تک نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘
مینا نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور ایک عجیب سنسنی محسوس کی۔ اس نے محسوس کیا جیسے اندھی عورت جانتی ہو کہ وہ اس کی جانب دیکھ رہی ہے۔
’’اگر تمہیں میرے سارے کاموں سے اتنی ہی دل چسپی ہے تو تم خود کو غسل خانے کے اندر گِرا کر دیکھ لو۔‘‘
اندھی عورت نے قطع کلامی کو نظرانداز کر دیا۔
’’تم بستر میں صبح تک لکھتی رہتی ہو۔‘‘ اس نے کہا۔
’’تمھی لائٹ بند کرتی ہو۔‘‘ مینانے کہا۔
’’اور تم فوراً ہی فلیش لائٹ استعمال کرنا شروع کر دیتی ہو ا ور مجھے معلوم ہے کہ تم اپنی ہر سانس کے ساتھ لکھتی رہتی ہو۔‘‘
مینا نے خاموش رہنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اپنا سر اوپر اٹھائے بغیر وہ بولی، ’’ٹھیک ہے، فرض کر لو ایسا ہی ہے تو اِس میں کیا خاص بات ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ اندھی عورت نے جواب دیا۔ ’’صرف یہ کہ اس کی وجہ سے تمہارے پہلے جمعہ کی دعا رہ گئی۔‘‘
دونوں ہاتھوں سے مینا نے دھاگے کا گچھا، قینچی، ٹہنیاں اور گلاب اٹھائے، یہ سب ایک ٹوکری میں رکھا اور اندھی عورت کے سامنے بیٹھ گئی۔
’’کیا تم یہ جاننا چاہو گی کہ میں غسل خانے میں کیا کرنے گئی تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
دونوں تجسّس میں تھیں، تب مینا نے اپنے سوال کا جواب خود ہی دے دیا۔
’’میں گندگی لینے کے لیے گئی تھی۔‘‘
اندھی عورت نے چابیاں ٹوکری میں پھینک دیں۔
’’یہ ایک اچھا بہانہ ہے۔‘‘ وہ باورچی خانے میں جاتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’میں یقین کر لیتی اگر تمہاری زندگی میں یہ پہلی مرتبہ ہوتا، تم ہمیشہ ایسا کرتی ہو۔‘‘
مینا کی ماں اپنے بازوؤں میں کانٹے دار گلاب سمیٹے برآمدے میں آ رہی تھی۔
’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میں پاگل ہو گئی ہوں۔‘‘اندھی عورت نے کہا۔ ’’مگر بظاہر تم مجھے پاگل خانے بھیجنے کا نہیں سوچ رہیں کیوں کہ میں نے ابھی لوگوں پر پتھر پھینکنا شروع نہیں کیے۔

جمعرات، 3 دسمبر، 2015

امریکا : خاتون حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے



امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں معذور افراد کے سینٹر پر حملہ کرنے والوں میں ایک خاتون کا تعلق مبینہ طور پر پاکستان سے تھا۔خیال رہے کہ کیلیفورنیا میں سان رنرڈنیو میں سینٹر میں ہونے والے حملے 14 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ایک خاتون سمیت 2 حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ہلاک ہونے والے حملہ آوروں 28 سالہ سید محمد فاروق اور 27 سالہ تاشفین ملک کے نام سامنے آئے تھے۔
کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز (سی اے آئی آر) کے لوس انجلس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حسام ایلوش کا کہنا تھا کہ حملہ آور خاتون کا تعلق پاکستان سے تھا۔فاروق اور تاشفین کے حوالے سے ان کا دعویٰ تھا کہ ان دونوں کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی جبکہ ان کی ایک 6 ماہ کی بیٹی بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں اپنی بیٹی کو فاروق کی والدہ کے پاس چھوڑ کر گئے تھے جبکہ وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کا کہہ کر گئے تھے۔دوسری جانب پولیس نے بتایا ہے کہ اس جوڑے نے حملہ کرنے والے کپڑے پہنے ہوئے تھے جبکہ ان کے پاس رائفلز بھی تھیں، انہوں نے سان برنرڈینو میں سرکاری ملازمین کی ایک پارٹی کو نشانہ بنایا جس میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ سید رضوان فاروق امریکا میں ہی پیدا ہوئے تھے جبکہ تاشفین کی شہریت فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی تھی۔سید رضوان فاروق ماحولیاتی ماہر تھے اور سان برنرڈینو کاؤنٹی میں ہی سرکاری ملازم تھے۔سینٹر میں فائرنگ سے قبل سید رضوان فاروق بھی وہاں ہونے والی پارٹی میں شریک تھے لیکن کچھ دیر کے لیے باہر گئے اور واپسی پر اسلحہ اور اپنی مبینہ بیوی تاشفین ملک کے ساتھ واپس آئے۔سان برنرڈینو کاؤنٹی کے پولیس چیف جارڈ برگن کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حملے کی پہلے سے منصوبہ بنی کی گئی تھی اس لیے مشتبہ افراد اپنے بعد بارودی ڈﺅاسز چھوڑ گئے جن کو مزید قتل عام کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حسام ایلوش نے بتایا کہ رضوان فاروق کا خاندان بنیادی طور پر جنوبی ایشیا سے ہے۔تاشفین کا تعلق پاکستان سے بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہوہ سعودی عرب میں رہتی تھی جہاں سے وہ امریکا آئی تھی۔رضوان فاروق کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کا ایک بڑا بھائی بھی ہے جو کہ امریکا کی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے۔

منگل، 1 دسمبر، 2015

شام کے 70ہزار اعتدال پسند جنگجو


شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کی تعداد کتنی؟
مائیکل سٹیفنز
ریسرچ فیلو، مڈل ایسٹ سٹڈیز
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں فضائی کارروائی کرنے کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ہدف بنانے کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی کی جائیں جس میں شام میں حکومت مخالف گروہ شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں اور انتقال اقتدار کا طریقہ وضع کریں۔
انھوں نے کہا کہ شام میں 70 ہزار جنگجو ایسے ہیں جو انتہا پسند گروہوں سے تعلق نہیں رکھتے اور وہ شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے دی جانے والی اس تعداد میں کافی لوگ چونکے کیونکہ اس بارے میں وضاحت نہیں دی گئی کہ یہ جنگجو کون ہیں، کہاں لڑ رہے ہیں اور ان اعتدال پسند گروہوں کا القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے ساتھ کس قسم کے روابط ہیں ایک ہفتے میں کئی تجزیہ کاروں نے کوشش کی ہے کہ ان جنگجوؤں کی نشاندہی کی جائے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے چارلز لسٹر نے اہم گروہوں میں جنگجوؤں کی تعداد 65 ہزار بتائی ہے جبکہ مزید دس ہزار جنگجو چھوٹے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ جنگجو چھ محاذوں پر لڑ رہے ہیں جو حلب سے دمشق اور اردن کے ساتھ سرحد تک ہیں۔
اگرچہ 65 سے 75 ہزار جنگجوں کی نشاندہی کرنا ممکن ہے جو شامی حکومت اور دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگجو خاص طور پر شام کے شمالی علاقوں میں موجود جنگجو اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ وہ القاعدہ یا دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑ سکیں۔
مثال کے طور پر سات مختلف گروہوں کا اتحاد جیش الفتح میں القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے سلفی جہادیوں کے ساتھ احرار الشام اور جند الاقصیٰ کے ناقابل قبول جنگجو ہیں۔
اسی اتحاد میں اجند سالشام اور فیلق الشام کے جنگجو کی یہ سوچ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جیش الفتح میں عددی لحاظ سے اعتدال پسند جنگجو سخت گیر جنگجوؤں کے سامنے بے بس ہیں۔
بکھرے مخالفین
مشرقی دمشق اور ملک کے جنوبی علاقوں میں صورتحال زیادہ واضح ہے۔ اردن اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجو کو بشار الاسد کی فوجوں کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں اور جب بھی ان کا سامنا دولت اسلامیہ سے ہوتا ہے تو وہ بے رحمی سے ان سے ٹکراتے ہیں۔
جیش الاسلام اس علاقے میں رہنے والے شامی شہریوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور یہ جہادی گروہ بھی نہیں ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ باغی ایک یکجا فوجی قوت نہیں ہیں لیکن یہ ایک ساتھ کسی منظم فوج کی مانند حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ مختلف گروہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں سماجی اور سیاسی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
کرد جنگجو
70 ہزار جنگجوؤں کی واضح نشاندہی سے قطع نظر ان میں کرد جنگجو شامل نہیں ہیں۔
کرد جنگجوؤں پر مبنی پاپولر پروٹیکشن یونٹس بڑی تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کا حصہ ہے۔ یہ گروہ 900 کلومیٹر کے محاذ پر دولت اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ کرد آبادی ہے۔
یاد رہے کہ مغربی ممالک کی فضائیہ کرد جنگجوؤں کی مدد ایک سال سے کر رہی ہے اور کرد جنگجو مغربی ممالک کی دولت اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی کا حصہ ہے چاہے وہ بشار الاسد کے خلاف لڑیں یا نہیں۔
اس لیے نشار الاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دولت اسلامیہ کو شکست دینے کی مغرب کی دوہری پالیسی کے حامی جنگجوؤں کی اصل تعداد ایک لاکھ اسے ایک لاکھ 20 ہزار کے درمیان ہے نہ کہ 70 ہزار۔

اسلامی دہشت گردی : تحریر ہربیر سنگھ


پیرس حملوں کے بعد ایک بار پھر میڈیا میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ اسلامسٹ کی طرف سے یہ حملے دراصل ردعمل ہیں مغربی ممالک کی سامراجی پالیسیوں کا۔ اگر مغربی سامراج ہی ان حملوں کا ردعمل ہوتے تو پھر کوریااور ویت نام کے دہشت گرد سب سے پہلے یہ کاروائیاں کرتے۔ مغربی ممالک کی طرف سے لاطینی امریکہ اور افریقہ میں کی گئی زیادتیوں کا ردعمل دہشت گردی کی صورت میں کیوں نہ نکلا۔ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی کیوں ردعمل آرہا ہے؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو جہاد کے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔کیونکہ ملکوں کی سیاست اور سلامتی تیل کی سپلائی کے گرد گھومتی تھی۔ کچھ ملکوں نے اپنی معیشت کو ترقی دی اور کچھ نے اپنی افواج کو بڑھایا۔ دنیا میں تیل کی سیاست ہورہی تھی کہ کیسے اپنے تیل کے ذخائر کو ا ستعمال کرنا ہے یاان کے ذریعے بلیک میل کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن صرف مشرق وسطیٰ کا تیل ہی کیوں دنیا میں جہاد کے فروغ کا باعث بن رہا ہے؟
اس کا ذمہ دار صرف سعودی عرب ہے جس نے اپنی تیل کی دولت کو دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا ۔ مسلمان ممالک میں مساجد اور مدارس کے لیے بے دریغ فنڈز دیئے اور یہ مساجد اور ادارے سعودی عرب کی بنیاد پرستی اورنفرت پر مبنی نظریات کو فروغ دینے کا باعث بنے۔ دنیا کی ہربڑی دہشت گرد تنظیم کسی نہ کسی طریقے سے سعودی عرب سے جڑی ہوئی ہے۔
تیل کی دولت سے مالا مال وہابی آئیڈیالوجی نے مسلم معاشرے کی تشکیل نو کی ہے اور یہ اتنی کامیاب ہے کہ مغربی ممالک کاروشن خیال یا بائیں بازو کے نظریات کا حاملطبقہ بھی اپنی حکومتوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قراردیتا ہے۔
ایران عراق جنگ میں ہزاروں مسلمان ہلاک ہوئے ۔ مسلمان جب مسلمان کا قتل کرتا ہے تو چومسکی اینڈ کمپنی اور لیفٹسٹکو یہ قتل و غارت نظر نہیں آتی الٹا وہ امریکہ کو اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ عرب عسکریت پسندوں نے سوڈان میں تین لاکھ افراد کو قتل کیا لیکن کوئی روشن خیال دانشور ان کا تذکرہ نہیں کرتا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بنگلہ دیش میں قتل عام کیا جس میں محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور آج کل بلوچستان میں یہ قتل عام جاری ہے۔لیکن دنیا میں ان مظالم کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔عراق پر دوسرے امریکی حملے کے بعد امریکی افواج کے ہاتھوں اتنے افراد قتل نہیں ہوئے جتنے شیعہ اور سنی نے ایک دوسرے کو قتل کیا ہے لیکن ہم امریکہ کو اس کا الزام دیتے ہیں۔
ہر اس واقعے پر جس پر مغرب کو مورودِ الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے ،اس کی وحشت و بربریت کا تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن جب مسلمان یہ سب کچھ کریں جیسا کہ سوڈان اور بنگلہ دیش میں ہواتو یہ خاموش ہو جاتے ہیں اور مغرب کو اسلامی انتہا پسندی کے فروغ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وگرنہ مسلم تاریخ کا تھوڑا سا بھی مطالعہ کر لیا جائے تو انہیں علم ہو گا کہ مسلم حکمران کیسے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں پر مظالم ڈھاتے تھے۔
یہ درست ہے کہ مغربی ممالک نے مظالم ڈھائے ہیں لیکن یہ کہنا بددیانتی ہے کہ اسلامی دہشت گردی کا ذمہ دار مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں ۔ اس کی ذمہ دار تیل کی دولت سے مالامال اسلامی بنیاد پرستی ہے۔
انتہا پسند مسلمانوں کی طرف سے قتل عام کے بعد مغرب ہی یہ کہتا ہے کہ عام مسلمان کو اس قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ یہ مغرب ہی ہے جو مسلمان مہاجروں کو اپنے ہاں پناہ دیتا ہے اور وہ وہاں بغیر خوف و خطر کے زندگی گذار سکتے ہیں۔ یہ مغرب ہی ہے جو اپنے سابقہ دشمنوں کی طرف امن و دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے ۔ جرمنی، جاپان ، اٹلی، ویت نام اور جنوبی کوریا کے ساتھ امریکہ کے بہترین تعلقات ہیں۔ یہ مغرب ہی ہے جو اپنے دشمن ممالک سے آئے ہوئے افراد کو پناہ دیتا ہے ۔ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد بے شمار روسی شہری امریکہ میں آئے ۔ اس کے علاوہ ہزاروں ایرانی طالب علم امریکہ پڑھنے آئے۔
یہ مغرب ہی ہے جو مسلمانوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل عام کے بعد اپنے ہاں پناہ دیتا ہے ۔جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات نے ان مسلمان مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں نہیں کھولیں۔ مشرق وسطیٰ میں کوئی یہ نہیں کہتا کہ مغربی ممالک اور غیر مسلموں کے ساتھ تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔کسی مسلمان ملک سے یہ آواز نہیں اٹھتی کہ مغربی ممالک اور غیر مسلموں کے خلاف نفرت انگیز رویوں اور پراپیگنڈے کو ختم کیا جائے۔بلکہ الٹا مغربی ممالک سے ہمدردی کی بات کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، مارا پیٹا جاتا ہے یا پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔
مسلمان ، کافروںغیر مسلموں کے لیے تضحیک آمیز لفظکو کبھی بھی اپنے برابر سمجھنے کو تیار نہیں۔حتیٰ کہ غیر مسلموں کے خلاف ہر قسم کا نفرت انگیز پراپیگنڈہ کیا جائے گا اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق ان کو کمتر (ذمیسمجھا جائے گا۔اور اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی مغرب کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ سلمان تاثیر کا قتل ہو یا چارلی ہیبڈو کے کارٹونسٹ کا قتل عام کا ذمہ دار ہم قتل ہونے والوں کو قرار دیتے ہیں نہ کہ قتل کرنے والوں کو ذمہ دار ٹھہراتیہیں۔ان کے نزدیک ’ ’ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کے لیے وہ موت کے مستحق ہیں‘‘اور مسلم دنیااس انتہا پسندی کا عملی اظہار ہے ۔ یہ سوچ واضح کرتی ہے کہ اسلامی دہشت گردی کا ذمہ دار مغربی سامراج نہیں ہے۔
بے شک یہ صورتحال یکطرفہ نہیں ۔ مغرب کی کئی پالیسیاں درست حالات کا ادراک کرنے میں ناکام ہوئیں اور تباہ کن ثابت ہوئیں ۔ یہ بھی درست ہے کہ توانائی کے مسئلے پر کسی نہ کسی کی مجبوریاں ہیں۔لیکن مسلمان دنیا کے آمروں اور مُلاؤں کی کمینگیاں اور بدمعاشیاں بھی ایک حقیقت ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان سے لے کر شمالی بحراقیانوس تک اور برطانیہ میں مسلمان کے علاقے، یہ سب بغیر کسی وجہ کے غیر مسلموں سے نفرت تعصب کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں غیر انسانی سلوک کا مستحق سمجھتے ہیں ۔ یہ رویہ مسلمان رہنماؤں، کمیونٹی آرگنائزیشن اور عوامی جذبات میں پایا جاتا ہے۔
ان حقائق کو نظر انداز کرکے یہ کہنا مسلمانوں کی دہشت گردی ’’ مغربی سامراج‘‘ کا ردعمل ہے سراسر جاہلیت اور بددیانتی ہے۔بھارت میں بھی مسلمانوں کے خلاف بنیاد پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں مسلم حملہ آوروں نے یہاں مقامی آبادی سے جو سلوک کیا اس کا ذکر کوئی کرنے کو تیار نہیں۔اس کے برعکس ہندوستان میں ہندو مسلم منافرت کا ذمہ دارانگریز کو ٹھہرایا جاتا ہے ۔ یہ بہت مایوس کن سوچ ہے ۔
اس کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے سیکولرازم۔ مغربی دنیا کو آپس کی قتل و غارت کے بعد مل جل کر رہنے کا طریقہ سیکولر ازم کی صورت میں دریافت کر لیا ہے لیکن مسلمان اسے اپنانے کو تیار نہیں۔جب تک مسلمان ممالک میں سیکولر ازم اور جمہوریت کو اپنایا نہیں جائے گاان میں سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

پیر، 30 نومبر، 2015

’’ آئی ایس آئی ایس‘‘ سے’’ آئی ایس آئی‘‘ تک تحریر : ذولفقار بلوچ



نائین الیون کے بعد بہت سے دانشوروں نے پیشن گوئی کی تھی کے آنے والے دس سالوں تک امریکی پالیسیز
 دہشتگردی کے گرد ہی گھومتی رہیں گے لیکن آج اگر عالمی حالات پر طائرانہ نگاہ ڈال کر جانچا جائے تو بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے دس سال مزید امریکی پالیسیاں اور ترجیحات دہشتگردی اور مذہبی جنونیت کے خاتمے کے گرت ہی گھومتی رہیں گے ۔ 2001 سے ابتک امریکہ نے جتنے معرکے سر کیئے ، جہاں جہاں فتح کے جھنڈے گاڑھے ان سب کا حاصل و حصول مذہبی شدت پسندی کے مزید بڑھوتری کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ عراق سے امریکی فوج کی انخلاء کے بعد وہاں ایک طرف تو شیعہ سنی فسادات نے عراق کے وحدت پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے تو دوسری طرف سے سنی انتہاء پسند جماعت آئی ایس آئی ایس جسے عرب داعش کہہ کر پکارتے ہیں شام کے بعد عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرکے اپنے خلافت کا اعلان کردیا ہے ۔ آنے والے دنوں میں مشرق وسطی ٰ سمیت جنوبی ایشیاء اور خاص طور پر بلوچستان پر اس بدلتے عالمی منظر نامے کا کیا اثر ہوگا یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے ، کیونکہ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد تحریکِ طالبان افغانستان داعش جنگجووں کی طرح افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کریں گے ، اسی طرح شمالی و جنوبی وزیرستان، سوات ، وانا وغیرہ اور ان سے منسلک علاقوں میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان خاص طور پر ملا فضل اللہ گروپ ، سجنا گروپ ، منگل باغ گروپ ، حافظ گل بہادر گروپ ، اعظم طارق گروپ ، شہریار محسود گروپ ، ازبکستان اسلامک موومنٹ اور ایسٹ ترکستان موومنٹ اپنا محفوظ جنت بنا چکے ہیں وہ بھی پیش قدمی کرنے اور اپنے علاقوں میں خلافت طرز کا کوئی ریاست بنانے کیلئے کوشش کرسکتے ہیں ۔ عراق میں آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمیوں اور فتوحات کا افغانستان و پاکستان میں موجود گروہوں پر کیا اثر ہوگا یہ سوال اسی خطے میں ایک آزاد ریاست کے جدوجہد میں مصروف بلوچوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ، کیونکہ اگر مستقبل میں یہاں بھی امریکی انخلاء کے بعد مذہبی شدت پسند گروہ پیش قدمی کرکے خلافت قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر کیا بلوچوں میں کردوں کی طرح اتنی طاقت ہے کہ وہ لڑ کر ان مذہبی شدت پسندوں کو اپنے علاقوں میں داخل ہونے سے روک سکیں گے ؟ کردوں نے اپنے خطے کے اس بدلتے صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آزادی کا اعلان کیا ہے ، اور بہت جلد وہ اس پر ریفرنڈم بھی کرانے کی تیاریاں کر رہے ہیں ، لیکن اس سے پہلے کردوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ اس مذہبی شدت پسندی سے خود کو محفوظ رکھنے کی قابلیت رکھتے ہیں بلکہ بوقتِ ضرورت وہ ان سے مقابلہ بھی کرسکتے ہیں ، تادم تحریر YPG کے کرد جنگجو اپنے علاقے ’’ کوبانے ‘‘ کی حفاظت کیلئے آئی ایس آئی ایس سے لڑرہے ہیں ، کردوں کو آزادی پلیٹ میں سجی نہیں مل رہی بلکہ اس کے پیچھے انکی نا صرف سو سالہ قربانیوں اور جدوجہد کی تاریخ ہے بلکہ صحیح موقعوں پر صحیح فیصلے کرنا بھی اس میں شامل ہے ، میرے خیال میں عالمی صورتحال کی پرکھ اور سیاسی بالیدگی کی جتنی ضرورت بلوچ قوم تحریک کو آ ج ہے شاید کبھی نہیں تھی ، اسلئے ہر بدلتے صورتحال کا تجزیہ اور اس پر غور اور اس کے اثرات کا بلوچ کاز پر اثرات کی جانچ ہی صحیح معنوں میں بلوچ سیاسی کارکنوں کا کام ہے تاکہ بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے مستقبل کیلئے موزوں حکمت عملیوں پر عمل پیر ا ہوا جاسکے ۔ ہم اپنے ار گرد کسی بھی وقوع پذیر واقعے سے چشم پوشی کے متحمل نہیں ہوسکتے ، یہاں تو پورے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ ہی بدلنے والا ہے بلکہ کافی حد تک بدل چکا ہے ، آئی ایس آئی ایس نے خلافت کا اعلان کردیا ہے کرد اپنے آزادی کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ اس حوالے سے بلوچ سیاست کیا رخ اختیار کرسکتی ہے اور کونسا رخ اختیار کرنا چاہئے ایک انتہائی اہم موضوعِ بحث ہے ، اسی موضوع کو مدنظر رکھ کر میں موجودہ حالات کا ایک مختصر خاکہ اپنے محدود علم و دانست کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کرنا چاہوں تو بحث کا آغا ز عراق اور آئی ایس آئی ایس سے ہی ہوگا۔ 
آئی ایس آئی ایس جس کا انگریزی مخفف Islamic state in Iraq and Syria ہے عرب دنیا میں داعش کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ یہ القاعدہ سے ٹوٹ کر بننے والی ایک سنی مذہبی انتہاء پسند جماعت ہے ۔ یہ اپنے نام کی حد تک محدود ایک ریاست نہیں بلکہ اب یہ ایک عملی ریاست کا شکل اختیار کرچکا ہے ( گوکہ ناجائز) یہ شام کے شہر الرقع سے لیکر عراقی شہر فلوجہ تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ اپنے زیر قبضہ علاقوں پر ناصرف مکمل کنٹرول رکھتا ہے بلکہ وہاں پورے نظامِ زندگی کو چلا رہا ہے ، انکی عدالتیں ، اسکولیں حتیٰ کے میونسپل کمیٹی بھی کام کر رہے ہیں ، یہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تیل کے کنووں سے پورا ٹیکس وصول کر رہے ہیں اور کافی حد تک عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی مہیا کر رہے ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس اصل میں 2006 کے دوران سامنے آنے والی سیاسی جماعت اسلامک اسٹیٹ آف عراق سے نکلی ہوئی مسلح جماعت ہے ، اس کا پہلا امیر امریکی حملے میں مارے جانے والے زرقاوی کو کہا جاتا ہے ۔ زرقاوی پہلے افغانستان میں ایک گروپ کو لیڈ کر رہے تھے لیکن بعد میں انہیں عراق بھیجا گیا جہاں انہوں نے القاعدہ سے منسلک مسلح تنظیم بنائی ۔ آئی ایس آئی ایس کے نام سے یہ جماعت 2013 میں سامنے آئی اور بہت جلد عراق اور شام میں حکومتوں کے خلاف لڑنے والے مسلح تنظیموں میں اسکا نام سر فہرست آنے لگا ۔ اس کے امیر کا نام ابو بکر البغدادی ہے ۔ شام میں باتھسٹ اسد حکومت کے خلاف مذہبی جنونیوں کے بغاوت کے آغاز کے وقت یہ سب القاعدہ سے منسلک جماعت ’’ جبہت النصریٰ ‘‘ کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے تھے ، لیکن بغدادی یہ چاہتے تھے کہ جبہت النصریٰ کے امیر ابو محمد الگولانی انہیں امیر تسلیم کریں اور اس کے حکمت عملیوں کے مطابق چلے ، لیکن الگولانی نے اس سے انکار کردیا جس کی وجہ سے بغدادی نے آئی ایس آئی ایس قائم کرکے خود کو الگ کردیا ، اس کے اعلان کے ساتھ ہی کہا جاتا ہے کہ جبہت النصریٰ کے آدھے سے زیادہ جنگجوو ں نے آئی ایس آئی ایس میں شمولیت اختیار کرلی ۔اس کے فوراً بعد القاعدہ نے داعش جنگجووں سے قطع تعلقی کا اعلان کردیا اور اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق القاعدہ کے اندر یہ اختلافات 1999 میں سامنے آئے تھے جب زرقاوی نے اسامہ بن لادن سے اختلاف رکھنا شروع کیا تھا ان اختلافات کے دو بنیادی وجوہات تھے زرقاوی کو لگتا تھا کہ القائد ہ شیعوں کے خلاف اتنی شدت سے کاروائی نہیں کر رہا جتنا کرنا چاہئے ، زرقاوی شیعہ فرقے کے خلاف ایک مکمل جنگ چھیڑنا چاہتے تھے وہ اپنے گروپ کی مدد سے عراق میں کئی شیعہ تاریخی مقامات کومنہدم کرچکے تھے لیکن القائدہ اپنی توجہ شیعہ فرقے سے زیادہ مغرب کی طرف کرنا چاہتا تھا دوسرا اختلاف انکے طریقہ کار پر تھا زرقاوی ایک اسلامی ریاست اور خلافت چاہتے تھے تاکہ وہیں سے وہ پوری دنیا پر اپنے حملوں کی تیاری کریں لیکن اسامہ اس کے خلاف تھے ۔اسی اختلاف نے 15 سال بعد آئی ایس آئی ایس کو جنم دیا جو زرقاوی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے پیش قدمی کر رہے ہیں ۔ شام میں آئی ایس آئی ایس ، جبہت النصریٰ سمیت کئی اور مذہبی شدت پسند تنظیمیں النصریٰ فرنٹ کے نام سے اسد حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے،ابتداء میں آئی ایس آئی ایس قائم ہونے کے بعد بھی القائدہ سے جڑا ہوا تھا لیکن شام میں دوران جنگ ان کے ایمن الظواہری سے اختلافات شروع ہوگئے ۔ ابوبکر البغدادی چاہتے تھے کہ ایک طرف سے اسد حکومت کے خلاف لڑی جائے تو دوسری طرف سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں حکومت کا اعلان کرکے یہاں اسلامی ریاست بنائی جائے لیکن ایمن الظواہری آئی ایس آئی ایس کے طریقہ کار سے نالاں تھے انہوں نے ان کے طریقہ کار جس میں عام آبادیوں پر بلا امتیاز حملے شامل تھے کو القائدہ کیلئے نقصاندہ قرار دیا اور بغدادی کو حکم دیا کے وہ شام چھوڑ کر اپنی توجہ صرف عراق پر مرکوز کریں اور شام کی ذمہ داری القاعدہ سے دوسری منسلک جماعت النصریٰ فرنٹ کے ہاتھوں میں دے دی، یہاں سے اختلافات نے شدت اختیار کی اور آئی ایس آئی ایس مکمل الگ ہوگیا ۔ اسکے بعد انہوں نے پیش قدمی کرکے نا صرف عراق کے کئی مرکزی شہروں پر قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ شام کے اہم علاقوں پر بھی ان کا قبضہ ہے ۔اسکے بعد کچھ علاقوں پر کنٹرول کیلئے آئی ایس آئی ایس او النصریٰ فرنٹ کے بیچ کئی جھڑپیں ہوچکی ہیں جن میں ان کے کئی جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک انتہائی قلیل مدت میں آئی ایس آئی ایس کا ابھر کر سامنے آنا اور اتنی بڑی طاقت بننے کے پیچھے ان کے کرشماتی لیڈر ابوبکر البغدادی جو ابو دعا کے نام سے بھی مشہور ہیں کا ہاتھ ہے جن کے حکمت عملیوں کے بدولت نا صرف آج آئی ایس آئی ایس ایک وسیع رقبے پر قابض ہے بلکہ اس سے متاثر ہوکر آج مغربی ممالک سے بھی کثیر تعداد میں مسلمان آئی ایس آئی ایس کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے ہیں۔43 سالہ بغدادی عراق کے شہر سمارہ میں پیدا ہوئے،وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسلامک اسٹیڈیز ، شاعری اور تاریخ میں گریجویشن کی ہے ۔وہ 2005 سے لیکر 2009 تک امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار رہے تھے ۔ رہائی کے بعد انہوں نے دوبارہ اپنی تنظیم اسلامک اسٹیٹ ان عراق میں کام شروع کیا اور 2010 میں اس کے امیر بن گئے ، لیکن دوسری طرف بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بغدادی کے کردار سے زیادہ داعشوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کے بعث پارٹی سے الحاق کیا ہے آج بعث پارٹی کے کئی سابق کارکن اور صدام حسین کے کئی وفادار سابق جنرلز اور فوجی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ نورالمالکی کے شیعہ حکومت کے آنے کے بعد سنی باتھسٹ خود کو نظام سے الگ تھلگ پاتے تھے ۔ ماہرین کے مطابق عراقی شہروں پر حملوں کے سارے منصوبے صدام حسین کے سابق جنرلز تیار کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ داعشوں کے کامیابی کے پیچھے سب بڑا راز ان کامالی طور پر بے انتہاء امیر ہونا ہے ایک طرف سے عرب دنیا کے امراء بشار الاسد کے خلاف لڑنے کیلئے انہیں بے تحاشا پیسہ فراہم کر رہے ہیں تو دوسری طرف سے وہ تیل کے کنووں سے بھی کمائی کر رہے ہیں بہت سے تیل کے کنویں قبضے کے بعد انہوں نے شامی حکومت کو دوبارہ مہنگے داموں بیچیں جہاں سے انہوں خطیر رقم ملی ہے۔ اس کے علاوہ شام کے علاقے النبوک پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کے قدیم جگہوں سے نوادرات نکال کر بیچی گئی ہے، جن کی مالیت 36 ملین ڈالر ہوتی ہے ، جن میں 8000 سال پرانے نوادرات شامل ہیں ۔امریکی خفیہ اداروں کے ایک رپورٹ کے مطابق عراق کے شہر موصل پر قبضہ کرنے سے پہلے ان کے پاس 875 ملین ڈالر تھے لیکن موصل پر قبضہ کرنے کے بعد داعشوں نے وہاں کے تمام بینکوں کو لوٹا جس سے ان کا بجٹ اب 2بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دوسری طرف موصل کے فوجی چھاونی پر قبضے کے دوران ہاتھ آنے والے جدید ہتھیاروں سے انکے عسکری قوت میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے ۔
آئی ایس آئی ایس کے قیام سے لیکر ان کے مضبوط ہونے تک جو بھی وجوہات ہوں لیکن آج یہ ایک حقیقت بن چکی ہے کہ وہ ایک بہت بڑے طاقت کی صورت میں سامنے آئیں ہیں انہوں نے نا صرف عراق کے زیادہ تر سنی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے بلکہ اب وہ نا صرف مغربی ممالک بلکہ سعودی عرب ، ایران اور ترکی کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں ۔ انہوں نے اپنے مستقبل کے حوالے سے ایک نقشہ بھی شائع کیا ہے جس میں ان تمام علاقوں کو ظاھر کیا گیا ہے جہاں وہ پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں اور اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں ۔اس نقشے میں بلوچستان بھی شامل ہے ۔ اب ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ پاکستان و افغانستان میں موجود مذہبی شدت پسند گروہوں کے ساتھ ملکر اس خطے میں پیش قدمی کریں گے سب سے اہم کیا اس پیش قدمی میں بلوچستان شامل ہوگا ؟ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود شدت پسند گروہوں کے شام کے شدت پسندوں سے گہرا تعلق ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ابتک تحریک طالبان اپنے کئی جنگجو شام بھیج چکا ہے ، جو پاکستان اور ترکی کے حکومتوں کی معاونت سے کراچی سے خاص طور پر ترکی کے طیاروں میں ہوتے ہوئے شام پہنچے ہیں ۔جس سے شامی باغیوں اور تحریک طالبان کا تعلق ظاھر ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود دو اہم وجوہات ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ داعش جنگجو اس خطے میں خاص طور پر بلوچستان کی طرف مستقبل قریب میں پیش قدمی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔
۱۔پاکستان و افغانستان میں موجود طالبان القاعدہ سے منسلک ہیں ۔ ان کے قیام سے لیکر ابتک القاعدہ انہیں مکمل طور پر مالی ، عسکری اور عددی لحاظ سے کمک کرتا رہا ہے، اس وجہ سے یہ ہمیشہ سے اپنا امیر اعلیٰ اسامہ بن لادن کو سمجھتے رہے ہیں اور اسامہ کے بعد یہ سب ایمن الظواہری کے پابند ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ کے بیچ اختلافات اور بعد میں علیحدگی کی وجہ سے پاکستانی شدت پسندوں کے تعلقات داعش جنگجووں سے بگڑ گئے ہیں ۔ القاعدہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے تحریکِ طالبان ابتک اپنے تمام جنگجو النصریٰ فرنٹ کے مدد کیلئے بھیجتا رہا ہے جو شام میں داعشوں کا سب سے بڑا حریف ہے جن کے بیچ علاقوں کے کنٹرول کے حصول پر لڑائیاں ہوچکے ہیں ۔ دوسری طرف سے ابوبکر البغدادی نے خود کو خلیفہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلمانوں کو بیعت اور اطاعت کا کہا ہے لیکن القاعدہ اور طالبان یہاں پہلے سے ہی خلیفہ ملا عمر کو مانتے ہیں ، جس کے وجہ سے اب انکے بیچ نیا تنازعہ کھڑا ہوچکا ہے ۔
۲۔ دوسری اہم وجہ بلوچ زمینی حقائق ہیں ۔ اگر دیکھا جائے تو داعشوں نے عراق کے تمام ان علاقوں پر حملہ اور قبضہ کیا ہے جہاں سنی اکثریت میں رہتے ہیں کیونکہ صدام حسین کے بعد امریکا نے عراق کی حکومت نورالمالکی کے سربراہی میں شیعہ فرقے کے ہاتھوں میں دے دی جس کی وجہ سے وہاں کے سنی حکومت سے خائف ہیں ۔ نورالمالکی نے بھی تمام وزارتیں اور اہم عہدے شیعوں کو دے کر سنی مسلک کو الگ تھلگ کردیا ہے جس کی وجہ سے سنی دوبارہ اقتدار کے طلبگار ہیں ۔ اس حوالے سے پہلے ہی داعشوں کی سیاسی جماعت سابقہ اسلامک اسٹیٹ آف عراق نے کئی شیعہ مخالف سنی احتجاج بھی کروائے کئی جلسے بھی منعقد کرکے عوامی رائے اپنے حق میں ہموار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب داعش ان سنی اکثریتی شہروں میں داخل ہوئے تو انہیں کوئی خاص مزاحمت کا سامنا کرنا نہیں پڑا۔ایک تو طویل شیعہ سنی فسادات اور اختلافات کی وجہ سے سنیوں میں شیعہ مخالف اور مذہبی جنونی جذبات بھی غالب تھے جو آئی ایس آئی ایس کو ان علاقوں میں نظریاتی گراونڈ بھی فراہم کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے عراق کے دارلحکومت بغداد سے چند کلومیٹر دور ہونے کے باوجود وہ بغداد پر حملہ نہیں کر رہے کیونکہ وہاں انہیں وہ نظریاتی گراونڈ نظر نہیں آرہی ۔ اگر بلوچ سماج کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات صاف عیاں ہوتی ہے کہ بلوچ سیکیولر روایات کی وجہ سے بلوچ مذہبی طور پر معتدل ہیں اور کسی بھی مذہب، فرقے یا مسلک کو جذب و برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بلوچ اکثریت اعتدال پسند ہیں اور مذہبی جنونیت کی نفی کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ہمیشہ سے بلوچستان میں ترقی پسند قوم پرست نظریات کو پذیرائی تو حاصل رہی ہے لیکن مذہبی جنونیت کبھی اتنا جڑ نہیں پکڑ سکا ہے ۔ داعش کے علاوہ اگر کبھی تحریک طالبان پاکستان یا افغانستان بھی کبھی یہاں علاقوں پر کنٹرول حاصل کرکے خلافت قائم کرنا چاہیں بھی تو انہیں کبھی بلوچستان میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ چھوٹی افرادی قوت کے باوجود بڑے شہروں اور علاقوں پر قبضہ کرنے اور قبضے کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ان علاقوں میں آپ کو عوامی حمایت حاصل ہو آپ کیلئے نظریاتی گراونڈ موجود ہو ۔ طالبان کئی دہائیوں سے فاٹا وغیرہ میں بآسانی اس لیئے رہ رہے ہیں کیونکہ وہاں انہیں کسی نا کسی حد تک نظریاتی گراونڈ میسر ہے وہاں لوگ زیادہ تر مذہبی کٹر پن کا شکا ر ہیں جو ان مذہبی جنونیوں کو اپنے تئیں جگہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
ان سب عوامل کے باوجود یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر ایک طرف سے دنیا کیلئے آئی ایس آئی ایس خطرہ بنا ہوا ہے اور اپنے مذہبی جنونیت کے ساتھ علاقوں پر قبضہ کرکے وہاں کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے تو دوسری طرف آئی ایس آئی ایس کے ایجنڈے کے طرز پر بلوچستان میں آئی ایس آئی اپنے مذہبی شدت پسندوں کو بلوچ سماج میں داخل کر رہا ہے اور مذہبی جنونیت کو بڑھوا دینے کی سعی کر رہا ہے ۔ بلوچستان پر قبضہ کے بعد سے ابتک پاکستان یہاں کئی بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کرچکا ہے جن میں ہزاروں بلوچوں کو شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کیا جاچکا ہے ۔ اپنی اس بربریت کی وجہ سے پاکستان 4 بڑے بلوچ مزاحمتی تحریک کچل چکا ہے لیکن ہر بار کچل دینے کے باوجود بلوچ تحریک نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور پہلے سے بھی زیادہ شدت اور جدت کے ساتھ بلوچ تحریک آزادی کے کاروان کو آگا بڑھاتا رہا ہے ۔اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ مذہبی شدت پسندی سے دور ہونے کی وجہ سے بلوچ سماج میں ترقی پسند خمیر موجود ہے اور یہ ترقی پسند سوچ ہی پاکستان کے اس ناجائز رشتے جو مذہب کے نام سے جڑا ہے کو مسترد کرکے قوم پرستی کو وہ نظریاتی گراونڈ میسر کرتی ہے جو کسی بھی تحریک کا اساس ہوتا ہے ۔ گذشتہ دس سالوں کا اگر ہم جائزہ لیں تو پاکستان نے یہاں ظلم و بربریت کے ہر حربے کو استعمال کیا ہے ۔ فضائی بمباری ہو یا لوگوں کے گھر جلانا ، لاپتہ کرنا ہو یا مسخ شدہ لاشیں پھینکنا پاکستان ہر طرح سے اس تحریک کو دبانا یا کچلنا چاہتا ہے لیکن ان تمام مظالم کے باوجود تحریک ایک جگہ سے تھوڑا معدوم ہوکر دوسری جگہ زور پکڑتا ہے پھر اسی طرح دوسری جگہ سے تیسری جگہ شہروں میں زیادہ سختی ہو تو پہاڑوں میں تحریک شدت پکڑتی ہے پہاڑوں میں اگر سختی ہو تو پھر شہروں میں تحریک زور پکڑتا ہے ۔ پاکستان گذشتہ 10 سالوں کے دوران عملاً 20000 سے زائد بلوچوں کو شہید یا لاپتہ کرچکا ہے جن میں کئی سرکردہ لیڈر بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود تحریک کے وقعت و وسعت پر کوئی اثر نہیں آرہا دوبارہ اس کی سب سے بڑی وجہ بلوچ سماج میں قوم پرستی و ترقی پسند رجحانات کا ہونا ہے جو بلوچ تحریک کو خام مال مہیا کرنے اور تسلسل سے مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اب پاکستان بلوچ قومی تحریک کے اس بنیاد پر نظریاتی حملہ کرنا چاہتا ہے ۔ قابض یہاں ایک سلسلہ وار منصوبے کے تحت اپنے مذہبی شدت پسند اور شدت پسند نظریات کو بنیادی سطح سے لانا چاہتا ہے۔ جس کا آغاز بلوچستان کے کونے کونے میں مدارس قائم کرنے سے ہوا، اس وقت بلوچستان میں سرکاری فنڈ سے چلنے والے سینکڑوں مدارس قائم ہیں جنہیں مکمل طور پر ریاست کی طرف سے اسپانسر کیا جاتا ہے دوسرے مرحلے میں پاکستان نے تبلیغی جماعتوں کی صورت میں اپنے پروپگینڈے کا آغاز کیا ، ہر جگہ تبلیغی مرکز قائم کیئے گئے ، بلوچستان کے ہر کونے میں تبدیلی جماعتیں بھیجیں گئی ، ہر سال کئی بڑے بڑے تبلیغی اجتماعات منعقد کی جاتی ہے ۔اب پاکستان کے اسی منصوبے کا تیسرا مرحلہ آچکا ہے جہاں پاکستان لشکرے جھنگوی طرز کے مذہبی شدت پسند عسکری جماعتوں کو بلوچستان میں داخل کر رہا ہے ۔ ایک طرف سے ان مذہبی جنونیوں کو پنجاب سے لاکر آئی ایس آئی یہاں منتقل کرکے انہیں کھلی چھوٹ دے رہی ہے تو دوسری طرف سے اپنے گماشتے اور جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ڈیتھ اسکواڈز کو مذہبی رنگ دیکر ان سے کاروائیاں کراکے یہ تاثر بھی ابھار رہا ہے کہ بلوچ سماج میں مذہبی شدت پسندی وجود رکھتی ہے ۔ بلوچستان میں شیعہ مسلک پر حملے ، عورتوں پر تیزاب پھینکنا ، پنجگور میں تعلیمی اداروں میں بچیوں کے تعلیم پر پابندی لگانا اور حملے کرنا سب اسی منصوبے کے شاخسانے ہیں ۔ اس کے پاکستان دو فوری فائدے حاصل کرنا چاہ رہا ہے ایک تو عالمی سطح پر یہ ظاھر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بلوچ سماج اصل میں افغانستان کی طرح مذہبی جنونیت اپنے اندر رکھتا ہے تاکہ دنیا بھر میں بلوچ کا جو سیکیولر چہرہ ظاھر ہے اسے مسخ کیا جائے اور مستقبل میں اس خطے میں ہونے والے کسی بھی تبدیلی کے وقت رائے عامہ بلوچ کے حق میں نہیں جا پائے تو دوسری طرف ان کاروائیوں سے پاکستان بلوچ خاموش اکثریت کو طاقت سے مرعوب کرکے مذہبی شدت پسند گروہوں کی طرف مائل کرنا چاہتا ہے وہ ایسا تاثر قائم کرنا چاہتا ہے کہ جو شخص بھی اگر ان مذہبی شدت پسندوں کی طرف ہوگا تو وہ محفوظ رہے گا تاکہ بلوچ سماج کے مذہبی اعتدال پسند اقتدار پر نظریاتی حملہ کرکے مذہبی جنونیت کی جڑیں یہاں قائم کی جائیں جس سے بلوچ ترقی پسند و قوم پرست نظریات کو کوئی گراونڈ نا مل سکے اور وہ بار بار سر نا اٹھا سکیں ۔ مستقبل میں وہ مزید شدت کے ساتھ ایسی کاروائیاں کریں گے اور گاہے بگاہے شاید ایسے بہت سے اقدامات سامنے آئیں جن سے مذہبی جنونیت کو یہاں فروغ اور بڑھاوا ملے ۔
ان سارے عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بآسانی کہی جاسکتی ہے کہ عراق میں دنیا کا سر درد بنے آئی ایس آئی ایس ہو یا پھر بلوچ نسل کشی کا مرتکب بلوچستان میں آئی ایس آئی ہو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں دونوں اپنے اپنے طریقے سے ایک مخصوص علاقے میں مذہبی جنونیت اور شدت پسندی کو بڑھاوا دے رہے ہیں ۔ دونوں کے اعمال سے نا صرف متاثرہ خطے بربادی کا شکار ہونگے بلکہ یہ عالمی امن و آتشی کیلئے ایک خطرہ بنے رہیں گے ۔ میرے خیال میں جہاں دنیا آئی ایس آئی ایس کے جنگجووں کے خلاف صف بندی کر رہا ہے اور عراقی حکومت کی ہر ممکن مدد کر رہا وہیں دنیا کو آئی ایس آئی کے خلاف بھی ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ آنا ہوگا اور بلوچوں کی ہر ممکن مدد کرنی پڑے گی تاکہ مذہبی شدت پسندی اور عدم رواداری کے سامنے بند باندھا جائے ، جس طرح کرد آج ایک طرف سے ان مذہبی شدت پسندوں کے سامنے بہت بڑی دیوار بن چکے ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود ہماری لیڈر شپ اور سیاسی جماعتوں و کارکنوں کو وہ سیاسی بالیدگی اور حکمت عملی دکھانے کی ضرورت ہے جو کردوں نے عراق میں دکھائی ۔ ہمیں ایک طرف سے بلوچستان میں پاکستان کی طرف سے پھیلائے جانے والے مذہبی جنونی پروپگینڈہ اور کاروائیوں کا اب مقابلہ کرنا ہوگا تو دوسری طرف سے ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ بلوچ عوام سے جڑ کر اسے اس مذہبی جنونیت کے لہر کے خلاف تیار کرنا ہوگا اور اپنے اس نظریاتی گراونڈ کا حفاظت کرنا ہوگا جو ہمیشہ سے بلوچ قومی تحریک کو ایندھن و خام مال فراہم کرتا رہا ہے ۔آج بلوچ صرف ایک دشمن سے مد مقابل نہیں ہے بلکہ تین دشمنوں سے ایک ساتھ لڑ رہا ہے ایک پاکستان کی صورت میں قابض ہے دوسری سرمایہ دارانہ سامراجیت و کمرشلائزیشن کا غلبہ ہے تو تیسری طرف سے سعودی عرب ، ایران ،پاکستان کی طرف سے اسپانسرڈ مذہبی شدت پسندی ہے اب ان تین دشمنوں کے بیچ میں سے کہا ں مقابلہ کرنا ہے کہاں توازن برقرار رکھ کر چلنا ہے اور کہاں سمجھوتہ کرنا ہے بے انتہاء سیاسی بالیدگی ، عاقبت اندیشی اور وسیع النظری کا متقاضی ہے ۔ یہ جنگ بہت وسیع ہے اور جب جنگ وسعت اختیار کرلے پھر تنگ نظرانہ سیاست ، محدودیت اور گروہیت اپنے ہی زوال کا باعث بن جاتا ہے اس وسیع جنگ میں ان تین دشمنوں سے نمٹنے کیلئے موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے تئیں موجود تنگ نظرانہ سیاست ، محدودیت اور گروہیت کو ختم کرنا اتنا ہی ضروری بن چکا ہے جتنا کہ یہ جنگ بذاتِ خود جتنی ضروری ہے ۔ 
(نوٹ : یہ مضمون اگست 2014میں لکھی گئی ہے ) 

جمعہ، 27 نومبر، 2015

بلوچ قومی تحریک انتہاء پسندی کا مکمل ضد ہے،: بی ایل اے کمانڈر بلوچ خان -

بلوچ قومی تحریک انتہاء پسندی کا مکمل ضد ہے، بی ایل اے کمانڈر بلوچ خان 
انٹرویو۔ کارلوس زرتوزا
ذرائع ابلاغ بلوچستان کو محض ایک شورش زدہ علاقہ ظاہر کرنے پر تکیہ کئے ہوئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اس حصے میں ایک حقیقی جنگ چل رہی ہے۔ بلوچستان بلوچوں کی سرزمین ہے جسے آج وہ تین ملکوں پاکستان ، ایران اور افغانستان میں منقسم پاتے ہیں ، اسکا وسیع رقبہ فرانس جتنا ہے جو قدرتی معدنیات گیس ، سونا ، تانبا ، تیل اور یورنیم وغیرہ کے ذخائر سے مالا مال ہونے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے بالکل منہ پر ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحل کے بھی مالک ہیں ۔پاکستان کے زیرقبضہ بلوچستان نے اگست 1947 میں برطانوی راج سے اپنی آزادی کا اعلان کیا لیکن محض نو ماہ بعد پاکستانی آرمی نے بلوچستان پر چڑھائی کرکے اسے بزور قوت اپنے ساتھ شامل کیا جس سے اس مزاحمت کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اب تجربہ کار باغی کمانڈروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان داعش کے جنگجووں کو بلوچ سرزمین پر اڈے فراہم کرکے ان کی تربیت کررہا ہے۔ آئی پی ایس نے پاکستان اور افغانستان کے سرحد ی علاقے سر لٹ کے علاقے میں ایک خفیہ مقام پر بلوچ جہد کاروں سے ملاقات کی ۔یہ علاقہ طالبان کا افغانستان کے جنوب مشرقی مضبوط گڑھ قندھار اور پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ سے مساوی فاصلے پر واقع ہے ۔ جنگجووں نے دعویٰ کیا کہ وہ آئی پی ایس کے رپورٹروں سے ملاقات کرنے کیلئے 12 گھنٹے کا مسافت طے کرکے آئیں ہیں ۔وہ چار تھے جن میں بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر بلوچ خان ، ماما ، حیدر اور محمد شامل تھے جو اپنی اصل شناخت ظاہرنہیں کرنا چاہتے تھے ۔ کمانڈر بلوچ خان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  اس علاقے میں طالبان کی کثیر تعداد ہے لیکن وہ اپنے رستے پر ہوتے ہیں اور ہم اپنے رستے پر ہمارا بمشکل ہی کبھی ایک دوسر ے سے سامنا ہوتا ہے انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ  میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بلوچ قومی تحریک انتہاء پسندی کا مکمل ضد ہے ،آج ہم بلوچوں کے سات مختلف مزاحمتی تنظیموں کا ذکر کرتے ہیں جو بلوچستان کے آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں لیکن ان سب کے ہدف ایک، مکمل قومی آزادی ہے  سالہ بلوچ کمانڈر نے اپنی آدھی سے زیادہ زندگی ایک بلوچ گوریلا جنگجو کے حیثیت سے گزاری ہے انکا کہنا ہے کہ انہوں نے زمانہ طالبعلمی میں ہی اس محاذ کا چناو کیا تھا ۔سینئر بلوچ کمانڈر بلوچ خان نے جنگجووں کی تعداد ظاہر کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ محض پاکستان کے زیر قبضہ مشرقی بلوچستان میں انکے 25 کیمپ ہیں۔ کمانڈر بلوچ خان نے اپنے تنظیم اور کردستان ورکرز پارٹی PKK کے مشترکہ اقدارکو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ  ہم خود کو کردوں سے بہت قریب سمجھتے ہیں ، آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے کزن ہیں ہماری طرح انکی سرزمین پر بھی انکے ہمسایوں نے قبضہ جمایا ہوا ہے  انہوں نے بلوچوں اور کردوں کو یک نسلی ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ آخرالذکر کا چار ریاستوں ایران ، عراق ، شام اور ترکی میں بٹ جانے پر بھی روشنی ڈالی ۔ تاریخی طور پر خانہ بدوش قوم بلوچ اسلام کے بارے میں ایک معتدل نظریہ رکھتے ہیں لیکن بلوچ خان نے الزام لگایا کہ اسلام آباد اب یہاں ایک منصوبے کے تحت فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنا چاہتا ہے ۔  سال 2000 تک بلوچستان میں ایک بھی شیعہ قتل نہیں ہوا تھا، لیکن آج پاکستان ہر طرح کے مذہبی شدت پسندوں کا رخ بلوچستان کی جانب موڑ رہا ہے جن میں سے بہت سوں کا تعلق بلاواسطہ طالبان کے ساتھ ہے  بلوچ جنگجو نے اس دعویٰ کے ساتھ مزید اضافہ کیا کہ  لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جبری گمشدیاں اب ہماری سرزمین پر عام ہوچکی ہیں  گمشدہ بلوچوں کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ مسنز جو پر امن طریقہ سے لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے جدوجہد کررہا ہے وہ بلوچستان میں سنہ 2000سے جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے بلوچوں کی تعداد 19000 بتاتی ہے حالانکہ بالکل درست تعداد بتانا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ آج تک کوئی بھی آزاد تحقیق اس بابت نہیں ہوئی ہے ، لیکن اس سال اگست میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی حکومت فوری طور پر اپنے خفیہ اداروں کے ان بہیمانہ کاروائیوں کو روکے جن میں وہ ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو بغیر بتائے اغواء کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرتے ہیں تاہم بلوچ مسلح تنظیموں پر بھی عام شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات ہیں ، اگست 2013 میں بلوچ لبریشن آرمی نے 13 لوگوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی جنہیں بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر دورمچھ کے مقام پر جنگجووں نے بسوں سے اتار کر قتل کیا تھا ۔ پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ بے گناہ شہری تھے جو پنجاب اپنے گھروں کو رمضان کی چھٹیاں منانے جارہے تھے لیکن کمانڈر بلوچ خان تصویر کا دوسرا رخ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  وہاں دو بسوں میں 40 افراد سوار تھے ان میں سے 25 کو ہم نے گرفتار کرکے ان سے تحقیقات کی پھر آخر میں ان میں سے 13 کو سزائے موت دی گئی کیونکہ ان سب کا تعلق پاکستان کے فوج سے تھا  انہوں نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا مکمل طور پر پاکستانی حکومت کے بیانات پر انحصار کرتی ہے اسلئے حقائق سے آگاہ نہیں ۔ جب پوچھا گیا کہ  کیا اسکاٹ لینڈ طرز کا کوئی بھی ریفرنڈم بلوچستان کے مسئلے کو حل کی جانب لے جاسکتا ہے ؟ تو کمانڈر بلوچ خان نے تشکیک آمیز جواب دیتے ہوئے کہا کہ  اگر ایسا کوئی بھی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس سے پہلے ہمیں اپنے قومی اور جغرافیائی سرحدوں کا دوبارہ تعین کرنا ہوگا کیونکہ ہمارے زمین کا ایک بڑا حصہ سندھ اور پنجاب میں تقسیم کی گئی ہے ، اسکے علاوہ بلوچستان میں آبادکاروں کی کثیر تعداد آباد کی گئی ہے اور پورا بلوچستان بشمول انتخابی نظام مکمل طور پر آرمی کے ہاتھوں میں ہے ، صرف حمایت کے بجائے اقوام عالم سے مکمل اخلاقی ، عسکری اور معاشی مدد اور مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے بلوچ خان نے کہا کہ  مہذب اقوام عالم کو پاکستان کے بجائے ہماری مدد کرنی چاہئے ، اس ملک کی آخر کیوں پرورش کی جائے جو شدت پسندوں کی پوری دنیا میں پرورش کررہا ہے یہ مطالبہ کرنے کے بعد کمانڈر بلوچ خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے کیمپ کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز کردیا ۔ بلوچستان اور اس سے آگے :۔ بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر سے ملاقات صرف افغانستان کے ذریعے ہی ممکن تھی کیونکہ پاکستان نے اس جنوب مغربی صوبے کو ایک  نوگو ایریا بنادیا ہے ۔ احمد راشد جو پاکستان کے ایک اعلیٰ پایے کے دانشور اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے معروف مبصر ہیں ، جو اپنے نوجوانی میں بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے ایک متحرک کارکن رہے ہیں نے آئی پی ایس کو بتایا  پاکستان میں صحافیوں کے حوالے سے سب سے خطرناک خطہ بلوچستان ہے ،یہاں بہت سے صحافی قتل ہوئے اس لیئے یہاں کے مقامی صحافی جیل ، دھمکی اور قتل سے بچنے کیلئے خبروں کو سینسر کردیتے ہیں ، دریں اثناء عالمی صحافیوں کو بلوچستان میں جانے کی کوشش کی صورت میں فوری طور پر ملک سے بیدخلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس رپورٹر پر ویزہ پابندیوں کے باوجود انہوں نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر انچیف ڈاکٹر اللہ نظر سے ان کا نقطہ نظر سیٹلائٹ فون پر معلوم کی ۔ اس سابقہ میڈیکل ڈاکٹر نے کمانڈر بلوچ خان کے موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ  پوری بلوچ قومی تحریک کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے  مزید انہوں نے اسلام آباد کا شدت پسندوں کی پشت پناہی کے تجزیے پر بی ایل اے کے کمانڈر کی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کیلئے شدت پسندوں کی پرورش کررہا ہے لیکن وہ اس میں مکمل طور پر ناکام ہورہا ہے ، اب وہ مذہبی کو ایک آلہ استعمال کرکے دنیا کی توجہ بلوچ قومی تحریک سے ہٹانا چاہتا ہے  ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اللہ نظر نے مکران کے ایک نامعلوم مقام سے کیا جسے بی ایل ایف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔اس سربراہ کے مطابق شدت پسندی کا یہ خطرہ بلوچستان کے سرحدوں سے باہر جاسکتا ہے ، کمانڈر نظر نے چار ایسے ٹریننگ کیمپوں کا محل وقوع بیان کیا جہاں پاکستانی فوج کے پشت پناہی میں داعش کے جنگجووں کو تربیت دے کر مشرق وسطیٰ روانہ کیا جاتا ہے ، انہوں نے کہا  ایک کیمپ یہاں مکران میں ہے اور دوسرا وڈھ میں ہے جو کوئٹہ سے بالترتیب 990 اور 315 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، تیسرا زہری کے علاقے مِشک میں ہے جو کوئٹہ کے جنوب میں 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے یہاں سو سے زیادہ مسلح لوگ ہیں جن میں زیادہ تر عرب ، پشتون اور پنجابی ہیں جنہیں وہاں کے مقامی سردار اور پاکستانی وزیر ثنا ء اللہ زہری کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اور چوتھا کیمپ کوئٹہ کے علاقے چلتن میں واقع ہے  ڈاکٹر نظر نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی نا صرف داعش کو متحرک کررہی ہے بلکہ انکی مدد بھی کرتی ہے ، داعش یہاں بالکل موجود ہے حتیٰ کے وہ ہمارے گلی کوچوں میں اپنے پمفلٹ بھی پھینکتے ہیں تاکہ یہاں سے بھرتیاں کرسکیں  اکتوبر 2014 میں پاکستانی طالبان کے چھ کمانڈروں جن میں تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان بھی شامل تھے نے داعش کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعلان کیا تھا ، انسانی حقوق کے کارکن میر محمد علی تالپور نے آئی پی ایس کو بتایا کہ  داعش طالبان کی ترقی یافتہ شکل ہے جو فطری طور پر پاکستانی اسٹبلشمنٹ سے ہمدردی حاصل کررہی ہے، تالپور جنہیں سچ لکھنے کی پاداش میں مسلسل حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے طالبان کے قیام کے بارے میں کہتے ہیں کہ  یہ اس ریاست کا بنیادی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ پوری دنیا پر اسلام کی حکومت دیکھتے ہیں  تواتر کے ساتھ پاکستانی حکام کو کال اور ای میل کرنے کے باوجود انہوں نے آئی پی ایس سے بات کرنے سے انکار کیا تاہم پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار کے پارلیمنٹ میں اس بیان کہ بعد یہ ایک کھلا راز بن چکا ہے جس میں انہوں کہا تھا کہ  حتیٰ کے پاکستان کے کراچی نیول بیس میں بھی مذہبی شدت پسند گروہوں کے کاروائیوں کیلئے ہمدردی پائی جاتی ہے