ہفتہ، 11 جنوری، 2014

مسئلوں کا تعین ..تنقید و تحقیق کی بنیاد پر


۔۔تحریر۔۔۔زامر بلوچ
بلوچستان میں بلوچ قومی آزادی کے سیاست کے حوالے سے دعوے ،ردوخلاف اور تردید و تشریح کا جو سلسلہ چل پڑا ہے یہ بلوچ سیاسی و سماجی حوالوں سے کوئی تاریخی پس منظر نہیں رکھتا بلکہ جو کچھ ہورہا ہے وہ بالکل ایک نئی ریت ہے، سوال اٹھانے کا عمل اور انحراف کو بھانپ کر اسے پیشگی طور پر نپٹنے کا عمل اس حوالے سے بھی یکتا ہے کہ اب لیڈر شپ کی دامن پکڑ کر چلنے کی روایت دم توڑ رہی ہے،اب ہاتھ دامن پکڑنے کے بجائے گریبانوں کی طرف بڑھ رہے سامراج کی غلامی سے باخبر قوم اب اپنی ذہنی و فکری غلامی سے گلوخلاصی کے لئے پر تول رہی ہے اور امر اطمینان بخش ہے کہ اب سوال اٹھانے اور جواب مانگنے جرات پروان چڑھ رہی ہے، اس کو لیکر عام لوگ تو خیر مگر بڑے بڑے عقل دانش کے دعویدار بھی اپنی دامن بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں بنیادی طور پر انہیں سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ بحث کہاں جاکر اختتام پذیر ہوگی اور اسکے نتائج کیا نکلیں گے اور اچھے اور برے نتائج کی ذمہ داری کس کی گردن پہ ہوگی۔
پہلے مسئلے کا تعین ہونا لازمی ہے۔۔۔
اگر ہم ہر چیز پر مطمئن ہیں اور ہمارے درمیان اور ہماری عقلی حدود کے مطابق کوئی بھی ایسا نقطہ موجود نہیں کہ جس کو لے کر ہمیں کوئی پریشانی ہو، تو پھر یہ بات کرنا کہ یہ کام غلط ہے یہ طریقہ ناقص ہے وہ ہونا چاہیے اور وہ نہیں ہونا چاہیے ،کیونکہ بذاتِ خود ہم مطمئن ہیں اور ایک مطمئن انسان کو مسائل کی فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوگی،لیکن اگر کہیں سے کوئی اور آکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ جی نہیں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے بلکہ خامیاں اور کوتاہیاں موجود ہیں اور وہ ان تمام امور کی نشاندہی بھی کروالے پھر تو بات ٹھن جاتی ہے، کیونکہ لازمی بات ہوگی کہ وہ شخص باقی تمام لوگوں کے برعکس معاملات کے بارے میں ایک الگ نقطہ نظر رکھتا ہے اور اسکی رائے باقیوں سے یکسر مختلف ہے، مطلب یہ کہ منفی یا مثبت سے برعکس وہ ان تمام لوگوں کی عقلی دائروں سے کہیں باہر نکل کر سوچ رہا ہے، اب لازمی بات ہے اس چیز پر دو رائے ہونگے اور چیزوں میں موجود یکسانیت کا عنصر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگا، اب مسئلہ یہ ہوگا کہ بحث و تکرار کی ایک کیفیت جنم لے گی اور اس میں یا تو وہ قائل ہوگا یا پھر قائل کرے گا، کوئی دو متضاد سوچ طویل دورانیہ تک ایک ہی نقطے پر اٹک کر نہیں رہیں گے۔
اگر دونوں اپنی اس بات پر قائم رہیں کہ جی میں ٹھیک ہوں اور تم غلط ہو تو پھر دو متضاد نظریات کا جنم اور ان پر بھر پور انداز میں کام کرنے سے کوئی ایک فریق دوسرے کو روک نہیں سکتا اور اسکے بعد یہ لازمی امر ہے کہ بات ان مخصوص دائروں سے نکل کر عام عوام یا ارد گرد موجود لوگوں تک پہنچ جائے کیونکہ حقیقت شناسی کا لازمی طلب یہ ہوگا کہ آپکی اس رائے کو عمومیت کی بنیادوں پر پذیرائی ملے اور مخالف کا نقطہ نظر مسترد کردیا جائے، یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوگی کہ چیزیں کیوں سرِ عام بحث کی جارہی ہیں بلکہ چیزوں کا باہر نکلنا خود اسی اختلافی تسلسل اور اسکی وجودکا ایک کھڑی ہے، کیونکہ اختلاف ان سطحوں یا نقاط پر ہوئے ہیں کہ جن کو حل کرنے کے لئے وہ اندرونی روایتی سوچ کسی بھی حالت میں تیار نہیں ہے۔پہلے ہر کوئی اپنے دعوے کی استرداد و قبولیت کے لیئے اسے عام کردے گا اس کی حق میں مطلوبہ دلائل بھی فراہم کرے گا، اور اسی بنا پر یہ دیکھا جائے گا کہ کیا میں اور میرے ساتھی جو اختلافی نقطہ نگاہ رکھتے ہیں واقعی عام لوگوں کی ذہنوں میں اور زمینی حقائق کی بنیاد پر وہ تمام باتیں مسترد یا قبول کی جاتی ہیں کہ نہیں، سب سے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ تم کہتے ہو کوئی مسئلہ موجود نہیں اور میں کہتا مسئلے موجود ہیں اور انکی حل بھی نکالا جاسکتا ہے اسی قبولیت و استرداد کے دوران ہم سب سے اولین جو کام کرتے ہیں یہ کہ ہم کسی چیز کی وجود کو ثابت یا رد کرنے کوشش کرتے ہیں اور اسمیں شامل دونوں فریق اپنا اپنا پھر پور طاقت استعمال کریں گے، چونکہ انسانی سماجی زندگی کا ارتقائی عمل اسی مسئلے کی تعین اور اسکی حل ڈھونڈنے میں مضمر ہے،اگر ہمارے پیش روؤں نے یہ سوچا ہی نہیں ہوتا کہ فطرت کے ان تمام مہیاشدہ عوامل میں انسان کو اجتماعی حیثیت سے کوئی اہم مسئلہ درپیش ہی نہیں تو ہم کیوں نہ اسی پتھر کے زمانے میں جی رہے ہوتے،مسئلے کا تعین دراصل جدت کی جانب سفر کرنے کا اولین قدم ہے۔۔۔
تجاہلِ عارفانہ cogniitive dissonance
تجاہلِ عارفانہ کا جو تصور ہے وہ 1950میں Leon Festingerنے پیش کی تھی اور اسکو تجرباتی بنیادوں پر ثابت کردیا کہ لوگ کس طرح اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو جان بوجھ کر رد کرتے ہیں اور اسے ایک زریعہ بناتے ہیں خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیئے، کو ئی بھی انسان ایسا نہیں جسکا عمل کسی محرک سے وابستہ نہ ہو اگر وہ محرک شعوری یا جسمانی طور پر موجود نہ تو اس کام سر انجام پانا بذاتِ خود ایک عبث بات ہوگی ہر کام اورہر بات کے پیچھے ایک محرک کار فرما ہے جو ہمیں اکساتا ہے عمل کرنے کے لیئے، اب اگر میں غلط کررہاہوں اور کوئی آکر مجھے سمجھانے کی کوشش کرے اول تو میں مانوں گا ہی نہیں کیونکہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ غلط ہے تو میں ارادہ وہ کام ہی کیوں کرتا اور اگر میں ارادی طور پر اس کام میں مشغول ہوں تو مجھے پہلے سے پتہ ہے کہ میں غلط سمت میں جارہاہوں اور غلط کام کررہاہوں تو میں کسی اور کہ کہنے سے کیوں مانوں بلکہ میں وہ عمل کسی اور مقصد سے انجام دے رہا ہوں جو کہ کسی دوسرے کو معلوم نہیں اور میں اپنے اس عمل کا دفاع کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر کرنے کو تیار رہوں گا۔
کیونکہ بسا اوقات انسان اپنے اعمال کی انجام دہی میں بہت ساری غلطیوں،کوتاہیوں اورکمزوریوں کو درگزر کردیتا ہے کیونکہ اسکے مطابق یا تو وہ غلطی کے زمرے میں ہی نہیں آتے یا پھر وہ جو کام کررہاہے اس کام کے مقابلے میں یہ غلطیاں اسکی عشرِعشیر تک نہیں ہیں،اس حوالے سے ہمیں بچپن میں پڑھی ہوئی وہ کہانی یاد ہے کہ انگور کٹھے ہیں، ’’کیونکہ لومڑی ان تک پہنچ نہیں سکتا اور وہ یہ قبول کرنے سے انکاری ہے میں پہنچ نہیں سکتا بلکہ وہ اس حوالے اپنے دل کو تسکین دیتا ہے کہ انگور مجھے واقعی میں نہیں چاہیءں کیونکہ انگور کٹھے ہیں‘‘ یہی چیز تجاہل عارفانہ(جان بوجھ کر غلطی کرنا)کی بنیادی اسباب ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکاری ہیں اور تجاہل عارفانہ سماجی و سیاسی حوالوں سے تباہ کن ہے کیونکہ سیاست میں دراصل جذباتی پن کا بہت زیادہ عمل دخل ہے اور یہ عمل دخل بہت سارے دیگر لوگوں کے لیئے ان تمام باتوں کی حقیقت ہونے کی دلیل ہوگی کہ فلاں شخص نے یہ باتیں کی ہیں لہذا وہ سند کا درجہ رکھتی ہیں،اور وہ اس تجاہل عارفانہ کی روش کو باآسانی سمجھنے سے قاصر ہیں اور نتیجتاَ وہ اسکے پیچھے ہو لیتے ہیں،
اس روش کی بنیاد پراصل میں حقیقی مسائل کو لے کر لوگوں کا دھیان بانٹنے کا یہ عمل ایک منظم بنیادوں پر کی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ لوگ جو مسائل سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہوئے بھی مسائل کو اس انداز اور سلیقے کے ساتھ گھما پھرا دیتے ہیں کہ جیسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ اصل میں موجود ہی نہیں ہے،وہ بحث بھی کرتے ہیں دلیل و حجت سے کام لیتے ہوئے وہ غلبہ پانے کی ضرور کوشش کرتے ہیں مگر نادم ہوکر اور کئی دیگر طریقے بھی آزماتے ہیں، انکا صرف ایک متعین مقصد ہوتا ہے کہ اصل بات تک لوگوں کی سوچ کسی بھی صورت نہ پہنچے،کیونکہ لوگوں کی سوچ اگر اس مدار تک پہنچ گئی تو پھر الٹ پلٹ کرنے کا کوئی خاص امکان بھی باقی نہیں رہے گا اور اسکا سب سے بہترین حل تو یہ ہوگا کہ اصل میں اسی بات کو حل کئیے بغیر اسکو دبایا جائے، مگر طویل مدت تک یہ امر ممکن نہیں۔ 
کیا مسئلے کی جستجو و تلاش نقصان دہ ہےجستجو اور تلاش اس چیز کا لازمی ہے کہ جو موجود تو ہے مگر زہنوں اور آنکھوں سے شاید اوجھل ہے، مثلاَ انقلابی جنگوں،سیاسی و عسکری عملداریوں سمیت دنیا کے بہت سارے تزویراتی فیصلوں میں تقریباَ تمام تر چیزیں راز داری سے سرانجام پاتی ہیں اور ان میں اگر کوئی مسئلہ بھی موجود ہو تو اسے اندرونی تہہ خانوں میں نمٹا کر صلح صفائی کی جاتی ہے مگر جب چیزیں اندرونی سطحوں سے ابھر کر باہر آنا شروع ہوجائیں تو جستجو اور تلاش فرض بن جاتا ہے،اور ایسے معاملات عام طور پر باہر نہیں لائے جاتے اور اگر کبھی انکو عام حوالوں سے آشکار کیا گیا تو اسکے پیچھے چھپے محرکات کا سمجھنا بھی لازمی ہے،کیا سر بستہ رازوں کو طشت از بام کرکے وہ لوگ کوئی مراعات یا مادی فوائد کا حصول چاہتے ہیں؟ کیا ان رازوں کو افشاں کرنے کے ساتھ ان لوگوں نے اپنی ذمہ داریاں بھی چھوڑ دی ہیں؟کیا وہ لوگ اس دورانیے میں اپنے نصب العین سے منحرف ہوئے ہیں؟ کیا انہوں نے ان تما م سوالات کی نشاندہی کرتے ہوئے انکی مجوزہ حل کو اپنی ذاتی پسند نا پسند تک محدود کردیا ہے ؟ یہ اور ان جیسے بہت سارے دیگر سوالوں کے جوابات ہمیں ہرحال میں حاصل کرنے ہونگے، اطلاعات کی حصول اور اسکو چھان بین نقصاندہ امر نہیں ہے بلکہ اطلاعات کو من و عن قبول کرنایا پھر اسے آنکھیں بند کرکے مسترد کردینا تباہی کی علامات ہیں، مسئلے کی وجود، معیار اور دعوے کی جامعیت کے لیئے ہم چیزوں کو انکو پس منظر اور تاریخ وردات کی شکل میں جانچ سکتے ہیں، کوئی بھی دعوی یا الزام خلا سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہم جیسے انسانوں کی مادی و دنیائی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، اور اسی دنیا میں ہمارے سماج کے صفوں کے اندر ہونے والے ان سرگرمیوں سے متعلق الزامات کی باتیں کی جاتی ہیں جنہیں ہم شب و روز اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، اور ان کی تجربات سے ہم براہ راست استفادہ کررہے ہوتے ہیں۔لہذا ان تمام حقیقتوں اور ان کے پس پردہ محرکات و عوامل کو غور و خوض کے بعد سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔مسئلے کے بارے میں تحقیق نقصاندہ امر نہیں ہے مگر ان لوگوں کے لیئے جو پہلے سے یہ سمجھ چکے ہیں کہ مسئلہ اگر واضح ہوگیا تو ان کے کرتوت واضح ہوجائیں گے لہذا ان کے لیئے اس مسئلے کو لے کر بات کرنا بہرصورت نقصاندہ امر ہوگی لیکن بحیثیت قوم ہم نقصانات کو مجموعی اعتبار سے دیکھتے ہیں نہ انفرادی حوالوں سے، البتہ غور و تحقیق سے ملزمان کا تعین اور مستقبل میں ان غلطیوں کے دہرانے کا سدباب ضرور ہوگا۔
کیا تعمیری اختلافات دشمن کے مفاد میں ہونگے۔
اگر اختلافات و انحرافات اس قدر بڑھ جائیں کہ رسمی و تنظیمی سطحوں پر انکا حل ہونا نا ممکن ہو تو اختلافات کو سمجھنے اور انہیں دوسروں کو سمجھانے کے لیئے عوام کے سامنے رکھنا لازمی امر بن جاتا ہے کیونکہ دیگر تمام اختیاری تدابیر ختم ہوجاتے ہیں اور مسائل اپنی سطح پر باقی رہ جاتے ہیں، لیکن اس امر کو سمجھنا لازمی ہے کہ اختلاف پر تنقید و غور فکر کرنے سے دشمن کو عارضی طور پر تو شاید نقصان نہ ہو مگر طویل دورانیے میں قومی سیاسی اداروں کی ساخت اس طرح مضبوط بن کر ابھری گی کہ دشمن کا ان پر وار کرکے انہیں شکست سے دوچار کرنا مشکل بن جاتا ہے، دشمن کو بلواسطہ یا بلاواسطہ فائدہ اس صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ کسی طرح کی تنقید اور اختلاف کو ابھارنے میں دشمن خود ملوث ہو، مگر اس طرح کہ تنقید و تحقیق کا عمل ایک آزاد حیثیت میں شروع ہوکر بغیر کسی دباؤ کے محض معروضی حقائق کا تجزیہ کرتے ہوئے انکو ایک منطقی انجام تک پہچانے کی کوشش کرے اور اس عمل میں بد نیتی کا شائبہ تک موجود نہ ہو تو پھر دشمن کس طرح فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔
تنقید و تحقیق کا جو نچوڑہوگا وہی قومی اداروں کی تشکیل کی راہیں کھول دے گا، تنقید سے ڈر نے والے وہ ہونگے جو اسکے زد میں آنے کی خوف سے منہ پر تالے لگائے ہوئے ہوتے ہیں، اگر بغیر غور و تحقیق کے قومی ادارے تشکیل پاتے اور اس طرح راتوں رات انقلابی عمل کی آبیاری ہوتی تو ہم بحیثیت ایک قوم پچھلے کئی سالوں سے گرتے پرتے مگر لڑتے ہوئے آرہے ہیں تو آج حالت کیا ہے، وہی قومی تنظیم اور پارٹیاں جنہیں ہم بہ زعم خود ادارے سمجھتے تھے آج انکی کیا حالت ہوچکی ہے، اگر سیاسی میدان کی بات کریں یا پھر جنگی محاز کی ہمیں جس شدت سے آج ادارہ سازی کی ضرورت محصوص ہو رہی ہے وہ شاید پہلے کبھی نہ تھی اور یہی سبب ہیکہ ہم بغیرغور وتحقیق کے عمل کرتے رہے اور محض چند کوتاہیوں نے آج پوری جنگ اور سیاست کی بساط ہمارے سامنے واضح کردی ہے، اس تنقیدی عمل کو منطقی انجام تک چلنا پڑے گا کہ جہاں پہنچ کر سیاہ و سفید کا فیصلہ کن مرحلہ آئے، اس سے دشمن کو کامیابی کچھ نہیں مل سکتی ہاں دشمن یہ ضرور چاہے گا کہ کسی طرح اس غور و فکر اور خامیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی و سدباب کے عمل کو بند کیا جائے کیونکہ دشمن سمیت ہم سب کو معلوم ہے کہ جب احتساب کا عمل ہوگا تو اسمیں سردار و نواب سے لیکر ایک عام بلوچ تک سب کی اچھائیوں اور برائیوں کا فیصلہ بھی ہوگا اور اس عمل سے ایک نئی رجحان اور روایت جنم لے گا جو آئندہ کی ممکنہ کوتاہیوں اور خامیوں کی تدارک کے لیئے ایک تسدیدی حیثیت کا حامل ہوگا۔۔۔۔۔۔تنقید و تحقیق انقلابی عمل کا اساس ہیں۔۔۔

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

پارٹی میں تنقید کی اہمیت


ماؤزے تنگ

انقلابی پارٹی تنقید سے خوفزدہ نہیں ہوتی کیونکہ ہم مارکسی ہیں اور سچائی، عوام، مزدور اور ہاری ہمارے ساتھ ہیں۔ ایسے سائنسی انقلابی ہرخوف سے عاری ( نڈر ) ہوتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ جدوجہد کے میدان پرقائم ہمارے تمام ساتھی بہادری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور بیشتر مشکلات پر قابو پالیں گے۔ وہ بغیر کسی گھبراہٹ اور بغیر پریشانی کے ہم پر تنقید کریں گے اور ہمیں تجاویز بھی دیں گے۔جوہزارزخموں کے باوجود موت سے نہیں ڈرتا ‘ وہی شہنشاہ کو ہاتھ سے پکڑ کر گھوڑے سے اتار سکتا ہے۔ انقلابی جدوجہد میں اسی ناقابل شکست جذبے کی ضرورت ہے ۔ہمارے پاس مارکسی‘ لیننی تنقید اور ذاتی تنقید کا ہتھیار ہے ۔ان کی مدد سے ہم غلطیوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں اور اچھے طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں ۔ذاتی تنقید پر عمل ہی ایک ایسی نمایاں چیز ہے جو ہماری پارٹی کو دیگر سیاسی پارٹیوں سے منفرد بناتی ہے۔جس طرح کسی کمرے کو اچھی طرح سے صاف نہ کیا جائے تو اس میں گند بھر جاتا ہے اسی طرح اگر ہم اپنے چہروں کو باقاعدگی سے دھوتے نہ رہیں تو وہ گندے ہوجاتے ہیں ۔ہمارے کامریڈوں کے اذہان اور ہماری پارٹی کے کام میں بھی گند جمع ہوسکتا ہے۔
اپنے کام کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرنا اور اس عمل میں جمہوری طریقہ اپنانا‘ناہی تنقید اور ذاتی تنقید سے گھبرانا ’ہربات بنا کسی خوف کے کہہ دینا ‘غلطی کی نشاندہی کرنے والے کو الزام دینے کی بجائے اس کے کہے ہوئے الفاظ کا احترام کرنا‘ کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسے درست کرنا اور اگر غلطی نہ ہوئی ہو تو بھی اس سے بچنے کی کوشش کرنا ‘یہی وہ موثر طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے کارکنوں کے اذہان اور پارٹی کے بدن سے ہرقسم کے سیاسی جراثیم اور گندگی کو جمع ہونے سے روک سکتے ہیں ۔
پارٹی میں مخالف اور مختلف قسم کے خیالات کے مابین تکرار ہوتی رہتی ہے۔ یہ پارٹی کے اندر مختلف طبقہ ہائے فکر کے درمیان اور معاشرے میں نئے اور پرانے ( خیالات ) کے درمیان تضادات کا ایک عکس ہے۔ اگر پارٹی میں تضادات نہ ہوں اور انہیں حل کرنے کے لئے نظریاتی جدوجہد نہ ہو تو پارٹی کی جدوجہد ختم ہوجاتی ۔ ہم بھر پور نظریاتی جدوجہد کے حامی ہیں کیونکہ ہماری جدوجہد کے مفاد میں پارٹی اور انقلابی اداروں کے اندر اتحاد قائم کرنے کا یہی موثر ہتھیار ہے۔ ہر انقلابی کو اس ہتھیار سے لیس ہونا چاہئے۔ لیکن آزادخیالی نظریاتی جدوجہد کو رد کرتی ہے اور یہ بے اصول امن کی علمبردار ہے، جس سے ایک منفی نظریہ جنم لیتا ہے اور پارٹی کے اندر مختلف یونٹوں ،افراد اور انقلابی اداروں میں سیاسی تباہی اور بربادی کا باعث بنتی ہے۔ اندرونی گروپ بندی اور پارٹی میں انقلاب دشمن فکر کی مخالفت کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں دومقصد ہونے چاہئیں ؛اول یہ کہ مستقبل میں غلطیوں سے بچنے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور دوم یہ کہ مریض کو بچانے کیلئے اس کا علاج کریں۔ کسی کی مخالفت کا خیال کئے بغیر ماضی کی غلطیوں کا آئینہ دکھایا جائے ۔
ایک سیاسی نقطہ نظر کے تحت ماضی کی برائیوں کا تجزیہ اور احتساب ضروری ہے تاکہ مستقبل کا کام مزید احتیاط اور بہتر انداز میں کیا جاسکے ۔مستقبل میں غلطیوں سے بچنے کیلئے ماضی کی غلطیوں کو ظاہر کرنا اور اپنی خامیوں پر تنقید کرنے سے ہمارا مقصد ایک ڈاکٹر جیسا ہے جو مریض کو مارنے کی بجائے اسے صحت یاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور زخم اگر بڑھ جائیں تو اسے بچانے کیلئے اس کا آپریشن کرکے فالتو غدود نکال دیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص علاج کے خوف سے اپنی بیماری کو چھپا نا چھوڑ دے اور اس کا مرض لاعلاج نہ ہوچکا ہو تو ہمیں بھی اسے ایک اچھا کارکن بنانے کیلئے اس کا علاج کرنا چاہئے۔ اسے ( محض ) برا کہنے سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ کسی سیاسی نظریاتی بیماری کا علاج کرتے ہوئے ہمیں ایسے شخص پر غصہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ ایسے مریض کی جان بچانے کیلئے اس کا علاج کرنا چاہئے کہ یہی صحیح اور موثر طریقہ ہے ۔
پارٹی میں تنقید کے سلسلے میں ایک ضروری بات یہ ہے کہ کارکن تنقید کرتے وقت بڑے مسائل کو نظر انداز کرکے اکثر چھوٹے مسائل پر ساری توجہ خرچ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ تنقید کا بڑا مقصد سیاسی اور تنظیمی غلطیوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ جہاں تک ذاتی خامیوں کا تعلق ہے بشرطیکہ وہ سیاسی اور تنظیمی غلطیوں سے وابستہ نہ ہوں، ان پر ضرورت سے زیادہ تنقید کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری صورت میں ہمارے کامریڈ جھنجھٹ کا شکار ہوجائیں گے اور انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ وہ کیا کریں۔ اس کے علاوہ اگر ایک بار اس قسم کی نکتہ چینی کا پارٹی کے اندررواج پڑگیا تو پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر زیادہ توجہ دینے کا چلن عام ہوجائے گا اور ہر کوئی ضرورت سے زیادہ محتاط ہوکر پارٹی کے سیاسی معاملات سے کنارہ کش ہوجائے گا ۔
پارٹی کے اندر تنقید کا معیار سطحی اور حاسدانہ نہیں ہوناچاہئے ۔ بات سچائی اور حقیقت پر مشتمل ہو اور تنقید زیادہ تر سیاسی پہلوؤں سے ہونی چاہئے ۔پارٹی کے اندر تنقید ایک ایسا ہتھیار ہے جو پارٹی کی تنظیم سازی کو منظم کرتا ہے اور اس سے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ سرخ فوج کی پارٹی تنظیم میں تنقید کی نوعیت ہمیشہ اس قسم کی نہیں ہوتی اور کبھی کبھار یہ ذاتی حملوں میں بدل جاتی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی تنقید سے پارٹی کے علاوہ افراد( کی ساکھ ) کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔یہ چھوٹی سرمایہ دارانہ ذہنیت ہے۔ اس صورتحال کو اصلاح کے مطمع نظر سے پارٹی کے کارکنوں کو یہ سمجھانا ہے کہ تنقید کا مقصد طبقاتی جدوجہد میں فتح حاصل کرنے کیلئے پارٹی کی جدوجہد کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے نہ کہ اسے ذاتی حملوں کے طور پر استعمال کرنا۔ ہمارے اندر اگر خامیاں ہیں تو ہمیں تنقید سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ہمیں عوام کی خدمت کرنی ہے ۔خواہ کوئی بھی ہو‘ا سے ہماری خامیوں پر انگلی اٹھانے دیں ( اگر ) وہ صحیح کہتا ہے تو ہم اپنی خامیوں کو دور کریں گے، اگر اس کی تجاویز سے عوام کو فائدہ پہنچتا ہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا پڑے گا۔

اتوار، 8 دسمبر، 2013

جنگ......تحریر, چی گویرا


جنگ،گوریلا زندگی کے عروج کا نقطہ ہے۔ ہر ایک جھڑپ چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، گوریلا سپاہی کے لئے ایک گہرا جذباتی تجربہ رکھتی ہے۔
حملہ کا مقصد ہمیشہ فتح ہونا چاہئے۔ گوریلا کشمکش کے ابتدائی دور میں جب جنگ کا میدا ن ہموار اور قاعدہ کے مطابق نہیں ہوتا تو دشمن کے دستے باغی علاقوں میں کافی اندر تک چلے آتے ہیں۔اس سلسلے میں دشمن کے ہر اول دستے پر چھپ کر شکاری کی طرح حملہ کرنا اور اس کے اسلحہ،گولہ بارود اور دوسرے سازو سامان پر قبضہ کرنا کچھ مشکل کام نہیں ہے۔ اس دوران دشمن کی باقی اصل فوج کو وقتی طور پر مصروف رکھیں اور اسے بے بس کر دیں۔ اگر گوریلا فوج کی پوزیشن اچھی خاصی مضبوط ہے تو پھر پیش قدمی کرتی ہوئی پوری فوج کو گھیرے میں لیا جا سکتا ہے۔ اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ پیش قدمی کرتے کرتے دشمن کیسامنے آپ کی فوج کے مورچے مضبوطی سے قائم ہیں ،پھر دشمن پر عقب سے حملہ کریں۔ اگر علاقہ موزوں ہے تو اس طریقے سے کام لیتے ہوئے اپنے سے دس گنا بڑی اور بہترین فوج کو بھی تباہ کیا جا سکتا ہے ۔لیکن اگر حالات ناموزوں ہوں تو پھر ’’ضرب لگاؤ اور بھاگ جاؤ‘‘ پر عمل کریں۔اس طرح اگرچہ آپ دشمن کے ساز و سامان پر تو قبضہ نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود اسے اس قدر کمزور کر دیں کہ دوبارہ کسی مناسب حملہ میں اس کا خاتمہ ہو سکے۔
کسی باقاعدہ فوج یا اس کی پوزیشن پر حملہ کرتے وقت اس کی پیش چوکیوں کو منتخب کریں اور رات کے وقت ان پر غیر متوقع اور اچانک حملہ کریں اور دل لگاکر لڑ یں۔ اپنے فرار اور کمک کے راستوں کی حفاظت کریں ۔ 
دشمن کے اسلحہ اور جنگی سامان میں توپیں،مارٹر،ہوائی جہازاور ٹینک شامل ہوتے ہیں۔غیرموزوں اور غیرہموار علاقے میں ٹینک آزادانہ حرکت نہیں کر سکتے۔ اس لئے وہ زیادہ خطرناک نہیں ہوتے ہیں ۔بارود سرنگیں اور خفیہ گہرے کھڈے ان ٹینکوں کے خلاف بہترین ہتھیار ہیں ۔دوبدو لڑائی میں پیٹرول سے بھری بوتلیں جنہیں ہم مذاقاََ ’’مولوٹوف کی شراب‘‘ کہتے تھے، بہترین ہتھیار ہیں۔ (ہم یہاں گولہ داغنے والی بندوق کا ذکر کر رہے ہیں جو ان حالات میں بہترین ہتھیار ہے، لیکن گوریلا جنگ کے ابتدائی دور میں اس کااستعمال کچھ مشکل ہے) توپ خانے یا مارٹر سے گولہ باری ان دشمنوں کے خلاف پہلا حربہ ہے جو نرغے کی شکل میں جمع کئے گئے ہوں۔ لیکن وہ دشمن سپاہی جو گھیرے سے باہر نکل کر منتشر ہو جائیں ،زیر زمین پناہ گاہوں میں بیٹھے ہوں ، ان کے خلاف یہ حربہ موثر نہیں ہے۔ طاقت ور بموں اور نیپام بموں کے باوجود ہوئی جہاز گوریلا فوج کے لئے زیادہ خطرناک نہیں ہیں ،کیونکہ گوریلا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہو کر منتشر ہوتے ہوئے دشمن کے بالکل قریب اور اپنے مورچوں میں ہوتے ہیں۔
دور سے کنٹرول کی جانے والی بارود سرنگیں زیادہ کارگر ہوسکتی ہیں۔لیکن ان کا بنانا ، تیار کرنا انتہائی بڑا پیشہ ورانہ فنی مہارت کا کام ہے جو گوریلوں کو اکثر دستیاب نہیں ہوتا ہے۔ دباؤ کے تحت پھٹنے والی بارود ی سرنگیں، فیوز والے بم اور برقی رو سے پھٹنے والی سرنگیں بہت کارآمد ہوتی ہیں۔ بالخصوص پہاڑی علاقوں میں جہاں دشمن ان کا پتہ آسانی سے نہیں لگا سکتا۔ ٹینکوں کو روکنے والے ، یہ اور اس طرح کے اور حربے دشمن کے خلاف بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان ہتھیاروں کے لئے جن کی حرکت ٹرکوں اورجیپوں کی محتاج ہو جبکہ وہ گاڑیاں رات کے وقت استعمال ہوتی ہوں۔ 
دشمن اکثر اپنی حرکت کے لئے کھلے ٹینک استعمال نہیں کرتا ہے ،جن کے آگے آرمڈ گاڑیاں چلتی ہیں۔ اس انداز سے سفر کرتے ہوئے دشمن کے سارے پلاٹون کو محاصرے میں رکھ کر اچھی طرح ملیامیٹ کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہاتھ آ سکیں تو دستی بم اور سولہ گیج کا شاٹ گن جن کے بک شاٹ(Buck Shot) چلائے جائیں،جو اس مقصد کے لئے لاجواب ہیں۔ کامیاب حملہ کے بعد پھر گوریلا فوج کو دشمن کا سازو سامان جمع کر کے فوراََ فرار ہو جانا چاہئے۔
مدافعتی جنگ یا دشمن کا راستہ روکنے کے لئے اسے غیر متوقع حملوں سے اس قدر پریشان کریں کہ اسے آپ کے حفاظتی اقدامات اور ڈیفنس لائن کا پتہ بالکل چلنے نہ پائے اور نہ ہی وہ یہ جان سکے کہ کب اس پر حملہ ہوگا۔ علاقے کے کسان چونکہ راز نہیں رکھ سکتے اور وہ فوج سے خوف زدہ ہوتے ہیں نتیجتاََ ان میں سے کوئی دشمن کو آگاہ کر سکتا ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ رات کے وقت کام کیا جائے اور انتہائی قابلِ بھروسہ اور وفادار ساتھیوں کے علاوہ کسی بھی شخص پر اعتبار نہ کیا جائے۔ خوراک کا اچھا خاصا ذخیرہ ساتھ ہونا چاہئے جو کئی دنوں تک چل سکے۔ جس جگہ پر حملہ کرنا ہو،وہ گوریلا پڑاؤ سے کم از کم ایک دن کی مسافت پر ہونا چاہئے۔ کیونکہ دوسرے حالت میں دشمن کو آپ کے پڑاؤ کا پتہ چل جائے گا۔
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ دشمن کی فائرنگ سے ہی اس کے متعلق اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بھاری اسلحہ سے لیس شدہ سپاہی فطری طور پر بے تحاشا اور اکثر وبیشتر بغیر نشانہ لئے فائرنگ کریں گے ۔گوریلا فوج اسلحہ کی کمی کے باعث ایک گولی بھی فالتو نہیں چلائے گی ۔اس کے برعکس یہ بھی پاگل پن ہوگا کہ محاصرے میں یا بھٹک کر آئے دشمن کو صرف بارود بچانے کے بہانے پر چھوڑ دیا جائے یا نکلنے کا موقع دیا جائے۔ یہ فیصلہ پہلے ہی کر لینا چاہئے کہ اس طرح کے حالات میں کس قدر گولہ بارود کو ایک مکمل پابندی کے تحت خرچ کرنا چاہئے۔
کوئی بھی اچھا گوریلا کبھی اپنے دستے کی منظم اور باقاعدہ پسپائی سے غفلت نہیں کرتا۔ پسپائی مناسب وقت اور مدت کے اندر انتہائی تیزی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ اور تمام زخمیوں معہ سازو سامان اورگولہ بارودکے لوٹنا چاہئے۔پسپا ہوتے وقت گوریلا فوج پر کسی متوقع حملہ یا دشمن کی طرف سے محاصرہ کئے جانے کی کوشش کے امکان کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ اس ضمن میں اِدھر سے اُدھر تک پیغامات پہنچانے کا انتظام ہونا چاہئے۔
لڑائی کے دوران کچھ افراد غیر مسلح رہیں اور باقاعدہ جنگ میں حصہ نہ لیں۔ ہر دس لڑاکا سپاہیوں کے ساتھ دو یا تین ایسے ہو ں جو مردہ ساتھیوں اور دشمن سپاہیوں کے اسلحہ پر قبضہ کرنے کاکام کریں ۔ قیدیوں کو اپنی حراست میں رکھنے، زخمیوں کو پیچھے لے جانے اور پیغا م پہنچانے کا کام سر انجام دیں۔
مدافعتی جنگ میں آپ کی اور دشمن کی پوزیشن اور جائے واردات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے باوجود غیر متوقع اقدامات کے ذریعے دشمن کو تنگ کرناانتہائی ضروری ہے۔ مورچے بنانے یا دوسرے دفاعی اقدامات اٹھاتے وقت اگر علاقے کے لوگ آپ کو دیکھ
لیں تو پھر ایسا معقول و مناسب بندوبست کیا جائے کہ وہ لوگ آپ کے اثر والے علاقے سے باہر نکل نہ سکیں۔دشمن کبھی کبھی گوریلوں کے زیر اثر علاقوں کی ناکہ بندی کر لیا کرتا ہے اور مقامی آبادی کو اپنی ضروریا ت کی چیزوں کے لئے دور دور کے علاقوں تک جانا پڑتا ہے۔ایسے حالا ت میں ’’جلا کر راکھ کر دو‘‘ کی حکمتِ عملی پر عمل کرنا لازمی ہے۔
ایک دفاعی حربہ یہ بھی ہے کہ آمدو رفت کے رستے وغیرہ اس طرح بنائے اور مٹائے جائیں کہ دشمن کا ہر اول دستہ آپ کے چھپے سپاہیوں کے قریب سے گزرے اور شکار ہوجائے۔ اس کا زبردست نفسیاتی اثر یہ ہوگا کہ دشمن کا کوئی بھی سپاہی ہر اول دستے میں شامل ہونے پر تیار نہ ہوگا اور فوج ہر اول دستے کے بغیر پیش قد می نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ دشمن کو محاصرے میں لیا جا سکتا ہے۔ لیکن اطراف و اکناف کی تمام تر جگہوں پر توجہ دینا،ان پر نظر رکھنا لازمی ہے کہ جہاں سے دشمن فوج کا کوئی حصہ مڑ کر آگے بڑھ سکے اور آپ کے آگے یا سامنے سے گزر سکے۔ اپنی پوزیشن کے تحفظ کے لئے زیادہ آدمی استعمال نہ کئے جائیں اور سپاہیوں کو حکم دیا جائے کہ وہ آخری حکم تک اپنی پوزیشن نہ چھوڑیں۔
اردگرد کے دفاع کا جائزہ لینے والی خندق یا مورچے کو جتنا چھپایا جا سکے،بہتر ہے۔ اور مارٹر حملوں سے تحفظ کے لئے ان پر شیلٹر بنایا جائے۔عموماََا کثر استعمال ہونے والے مارٹر کے گولے جو 60یا65میٹر کے ہوتے ہیں ،وہ مورچوں اور خندقوں کے اوپر مٹی کے گارے اور پتھروں سے بنی مضبوط چھت کو پار نہیں کر سکتے۔ ہر مورچہ اور خندق کے اندر بھاگ جانے کے لئے ایک خفیہ راستہ ہونا لازمی
ہے۔
گوریلا طر ز کی فوج میں جنگ کے وقت کے علاوہ قلعہ بندی اور دفاعی قطاروں وغیرہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ علاقے پر دن کے وقت دشمن کا اور رات کے وقت گوریلوں کا راج ہوتا ہے۔ اسی علاقے سے رسد ،کمک اور دوسرا سامان گزر کر گوریلوں تک پہنچتا ہے۔ نئے رضاکار آتے ہیں ،وہ آس پاس کی اطلاعات وصول کرتے ہیں ۔اس لئے مقامی آبادی کے ساتھ خوشگوار اور اچھے تعلقات بنانا اور قائم رکھنا لازمی ہے۔ 
اس طرز کی جنگ میں ان لوگوں کا کام جو باقاعدہ لڑائی میں شریک نہیں ہوتے،بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دشمن کے روزانہ حالات کی سہی سہی خبر گوریلوں کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ دشمن کی جاسوسی کے لئے مقرر ہونے والے اشخاص کا انتخاب انتہائی احتیاط اور خبرداری سے کیا جائے ۔ اس میں دشمن کے جاسوسوں کا خطرہ بھی مستقل طور پرموجود رہتا ہے۔لیکن غلط اعلاعات چاہے وہ مبالغہ آمیزی کے باعث ہوں یا غلط فہمی کا نتیجہ ہوں ، بے حد خطرنا ک ہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑائی میں شامل لوگ اپنی مشکلات اور خطرات کا ذکر بڑھا چڑھا کر کرتے ہیں۔لوگوں کو دشمن کی جاسوسی کرنے پر آمادہ کرنا اس قدر مشکل کام نہیں ہے ،جیسا کہ سمجھا جاتاہے۔
کاروباری لوگ،پیشہ ور افراد یہاں تک کہ مذہبی رہنما بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔اور مطلوبہ اطلاعات دے سکتے ہیں۔
گوریلا جنگ کی عجیب خاصیت کا یہی فرق ہے جو دشمن کی حاصل کردہ اطلاعات اور گوریلا فوج کی حاصل کردہ اطلاعات میں ہوتا ہے۔
دشمن کے سپاہی جس علاقے سے گزرتے ہیں وہاں کے عوام ان کے خلاف ہوتے ہیں اور وہ ہربات میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ۔باغی گوریلا فوج ان دوستوں اور رشتے داروں پر اعتماد کر سکتی ہے جو گوریلا علاقے اور دشمن کے علاقے کے درمیان سفر کرتے رہتے ہیں ۔لیکن جب دشمن درجہ ب درجہ آپ کے علاقے میں پیش قدمی کرتا آگے آئے تو پھر اس ضمن میں محتا ط رہنا چاہئے۔ اکثر مرد بھاگ کر گوریلا دستوں میں شامل ہو جائیں گے لیکن دشمن ان کی املاک اور بچوں پر قبضہ کرے گا۔ایسے لوگوں سے بہترین دوستانہ مراسم رکھیں ،ان کی مدد کریں چاہے اس کی نتیجے میں کوراک کی کمی کے مسائل یا اور مشکلات کیوں نہ حائل ہوں ۔ اس طرح وہ ہمیشہ دشمن کو قابلِ نفرت سمجھتے رہیں گے۔
گوریلا اپنی عددی قلت کے باعث ریزرو(Reserve)فوج نہیں رکھ سکتے،لیکن غیرمتوقع،ناقابلِ اعتبار مخالف حالات ،مشکل اور دشوار لمحات کے لئے ایک گوریلا ریزرو کا ہونا لازمی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ منتخب بہادر لوگوں پر مشتمل ایک خاص پلاٹون قائم کی جائے اور اس کا نام ’’جانبازوں کی پلاٹون‘‘ وغیرہ جیسارکھاجائے۔اور بہادری اور شجاعت کے لئے اس پلاٹون کی شہرت اور ساکھ اس طرح قائم کی جائے کہ اسے انتہائی مشکل مہمات پر بھیجا جائے۔

ہفتہ، 23 نومبر، 2013

میرا تخلیقی عمل ۔۔ تحریر اے آر داد



ایک تخلیق کار تخلیقی عمل کے دوران جن کیفیات سے گزرتا ہے،وہ بلاشبہ اس کی تخلیق پر اثرنداز ہوتی ہیں،اس لئے تخلیق کو جانچنے کے لئے تخلیق کار کے تخلیقی عمل سے تعلق کو جاننا خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔ ہماری خواہش ہو گی کہ اس سلسلے کے تحت ہم بالخصوص بلوچستان کے نامور تخلیق کاروں کے خیالات جان سکیں۔ اے ۔آر۔دادؔ ، بلوچی زبان کے نامور ادیب اور نقاد ہیں۔وہ ان چند ادبا میں شامل ہیں جو معاصر تنقیدی تھیوری پر انتہائی گہری نظر رکھتے ہیں۔ جامعہ بلوچستان کے شعبہ بلوچی سے وابستہ ہیں۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون ان کے زورِ قلم کا نتیجہ ہے۔



میں کیوں لکھتا ہوں یا میرا تخلیقی عمل کیا ہے،اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ہر کسی نے اپنی دکھ بھری کہانی سنائی ہے کہ یہ ہے میرا تخلیقی عمل یا میں ایسے لکھتا ہوں ۔مجھے یہ اچھا لگتا ہے، مجھے یہ اچھا نہیں لگتا۔لکھتے وقت میرا کوئی نظریہ نہیں تھا یا میں اس لئے لکھتا ہوں کہ اپنا کتھارسس کر سکوں یا پھر بیمار ہو جاؤں۔
اب اگر میں اس سلسلے میں کچھ کہوں بھی تو کیا کہوں۔ میرے لئے تخلیقی عمل سے زیادہ تخلیق کی اہمیت ہے ۔تخلیقی عمل سے یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ لکھتے وقت لکھاری کی اندرونی کیفیت کیا تھی ۔اس لئے تو آج کل آمد اور آورد کی صورتِ حال مشکوک ہو چکی ہے ۔ تخلیق میں دونوں کیفیتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔لکھت کی اہمیت اب لکھاری سے زیادہ ہو چکی ہے ۔ ’نئی تنقید‘ جو کہ امریکہ کی ادبی سوغات ہے ،آئی اے رچرڈ نے پہلی دفعہ نظم کو اہمیت دی۔ نظم نگار کو صیغہ راز میں رکھا تاکہ تبصرہ کرتے وقت نظم ان کی شخصیت پہ بھاری نہ پڑ جائے ۔ نئی تنقید،تاثراتی تنقید سے متاثرہ چیز تھی ۔اس میں ہمارے ٹی ایس ایلیٹ صاحب بھی شامل تھے جو ادب کو شخصیت سے فرار سمجھتے تھے ۔دیکھنے اور محسوس کرنے والے کے درمیان فرق ہے ۔ادب کوئی سوانح عمری نہیں ہے کہ اس میں ادیب صرف اپنی کہانی لکھتا رہے ۔حالات بدلتے ہیں۔ فکر و خیال میں تبدیلی آئے گی ۔ویسے بھی ادب فکر و خیال سے زیادہ زبان کے تخلیقی عمل سے تعلق رکھتا ہے ۔تو پھر فنکار کی شخصیت کو ہم کہاں رکھیں؟ ویسے بھی ہماری تہذیب میں لباس کی قیمت آدمی سے زیادہ ہے ۔ اس تہذیب میں آرٹ و فن سے زیادہ فنکار، قبیلہ اور خاندان کی بالا دستی چلتی ہے ۔اس جیسی تہذیب میں نئی تنقید اور فن کی آبیاری ایک بڑی تبدیلی ہے۔
اس تبدیلی سے فن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ اب آپ کہیں ،میں اپنی کہانی کیا بیان کروں جو فن کے لئے بس ایک وسیلہ یا میڈیم کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ بس جو کچھ کہیں سے مل جائے، پڑھ لینا۔ یہ مت سوچنا ،فنکار کا چہرہ کیسا ہو گا۔ کس برانڈ کی سگریٹ پیتا ہو گا۔ ایک زمانے میں لوگ ان باتوں میں دلچسپی ضرور لیتے تھے ۔مگر عرصہ گزر جانے کے بعد پتہ چلا کہ فنکار یکتا پسند تو ہے مگر اس کے فن میں کوئی خاص انفرادیت نہیں ۔ فیض احمد فیضؔ نے لکھا ہے کہ جب میں نے سارتر کو دیکھا تو وہ مجھے کوئی فلاسفر نہیں لگا، وہ سیٹھ یا دکاندار نظر آ رہا تھا۔ تحلیلِ نفسی کے لئے نفسیاتی ادب کو فنکار کے خطوط و ڈائری یا نجی زندگی کے گوشوارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔مگر اس سے فنکار کے بارے میں کچھ ہاتھ لگنے والا نہیں ۔ وہ اس لئے کہ ادب اور نفسیات کے اشارے و علامات کے درمیان بڑا تفاوت ہوتا ہے ۔نفسیات کے اشارات پہلے سے متعین ہیں ،مگر ادب میں ایسا نہیں ہوتا۔
میں نے بس پڑھا۔ پڑھنے کی کوشش کی۔ بڑے لوگوں کو پڑھنے کی کوشش کی تاکہ ان سے کچھ سیکھوں۔ میں اب بھی پڑھتا ہوں۔ یہی ایک کام ہے بس۔روسی، لاطینی، فارسی، عربی پڑھ کر ان پر بولنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر یہ بھی سوچتا ہوں کہ ان کی اپنی زبان میں کیا اہمیت ہو گی ۔جب بڑی زبانوں کو پڑھ کر اپنی طرف دیکھنے کی کوشش کرتاہوں توکچھ اچھا نہیں لگتا۔ مطمئن نہیں ہوتا ہوں۔ دل چاہتا تو ہے کہ ہمارے ہاں بھی اس قسم کی چیزیں تخلیق ہوں مگر شاید آنے والی نسل کچھ مزید کرب و شدت سے گزر کر یہ راز پا لے کہ صرف تجربے کو بیان کرنا کوئی کمال کی بات نہیں ۔ادب ،صحافت سے اس لئے مختلف ہوتا ہے کہ صحافت میں سوچنے اور فکر کرنے کی گنجائش کم نکلتی ہے ۔وہ اس لیے کہ صحافت میں جانب داری شامل ہوتی ہے ۔ادب میں مصنف خود کسی چیز سے محبت اور نفرت نہیں کر سکتا۔ اس لئے ادب ہمیشہ پڑھنے والوں کے لئے ہوتا ہے ۔میں لکھنے سے زیادہ پڑھنے کو اہمیت دیتا ہوں ۔میں جب اسکول میں پڑھتا تھا تو رضیہ بٹ اور سلمیٰ کنول کو بھی پڑھتا تھا ۔ساحر ؔ اور ساغرؔ صدیقی بھی اچھے لگتے تھے ۔مگر اب میں کسی کو بھی یہ بری نصیحت نہیں کرتا کہ انہیں پڑھیں۔اب تو میں کسی بھی دوست کو یہی کہوں گا کہ اگر اردو فکشن پڑھنا ہے تو انتظار حسین کو پڑھیں۔ ان سے اساطیر اور استعارات کو برتنے کا فن سیکھیں ۔ انور سجاد سے یہ سیکھیں کہ موسیقی اور کہانی کے درمیان نازک فرق کیا ہے۔ لفظوں سے آہنگ اور موسیقی کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔ سریندر پرکاش اور بلراج مین را کو پڑھیں تب آپ کو پتہ لگے گا کہ اچھا لکھنے کے لئے کتنی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بڑ ے لکھاریوں کی یہی بڑی خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کو پڑھنے کے بعد لگتا ہے کہ اچھا لکھنا محنت طلب کام ہے ۔ ورنہ مڈ ویک، عام میگزین اور پرچوں کے لکھاریوں سے متاثر ہونا اور ان کا مقابلہ کرنا کہ میں بھی ایسا لکھ سکتا ہوں ،مشکل کام نہیں ہے۔اس لئے ہمارے ہاں بُرے لکھاریوں کی تعداد زیادہ ہے کہ وہ اپنے سے کم تر لوگوں کو پڑھ کر لکھنا شروع کر دیتے ہیں ۔بلوچی میں میری ایک دو کتابیں ضرور آ چکی ہیں مگر میں ان سے خوش نہیں ہوں اور نہ خوش ہونا چاہتا ہوں ۔ ایک کام جسے کرنے کی آرزو ہے وہ یہ کہ بلوچی قدیم شاعری کی شعریات کو مرتب کروں۔ یہ دیکھوں کہ ہمارے یہاں شاعری میں مضمون کی اہمیت زیادہ تھی یا استعارے کی، یاہمارے ادبی معاشرے میں شعر کی قدر ومنزلت کا تعین کرنے کے لئے کون سی چیزیں ضروری تھیں۔ میں ادب کی ’ادبیت‘ کو پسند کرتا ہوں ۔ مجھے نئی تنقید اور روسی فارملزم والوں کی باتیں اچھی لگتی ہیں ۔ اس لئے میں ژاک دریدا کی ردِ تشکیل کو بھی پسند کرتا ہوں ۔ جہاں معنی آفرینی ہوگی،وہاں فن ہوگا،ادبیت ہو گی۔ وہ تخلیق ہمیشہ زندہ رہے گی۔ میں روز نیا اور اچھا پڑھنے کی حسرت لئے نکلتا ہوں ۔مجھے تخلیق کار کی انفرادیت سے ان کی فنی انفرادیت زیادہ
پسند ہے۔
ادب نہ تاریخ ہے ، نہ نظریہ ،نہ پروپیگنڈا و تبلیغ۔ یہ وقتی چیزیں ہیں ۔ ان میں ادب کو زندہ رکھنے کی آب و تاب نہیں ہوتی ۔ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو تخلیقی سطح پر بانجھ ہوتے ہیں ۔کسی نظریے کا سہارا لے کر ٹائم پاسی کا نعرہ مستانہ بلند کرتے نظرآتے ہیں۔بوڑھے لوگ فائدے کا زیادہ سوچتے ہیں۔
میرا تخلیقی عمل کچھ اس طرح کا ہے ۔اسی سے مجھے تحریک ملتی ہے ۔انہی سے میں اپنی کہانیاں بُنتا ہوں اور نظمیں لکھتا ہوں۔ میں جب اپنے شہر میں ہوتا تھا تو اپنے بیٹے،جو اس وقت دس سال کا ہو گا، کو لے کر والدین کی قبر پہ فاتحہ پڑھنے جاتا تھا۔ایک روز ہم فاتحہ پڑھ کر کسی تنگ گلی سے واپس گھر کی طرف لوٹ رہے تھے ۔ہمارے درمیان خاموشی تھی ۔میرے بیٹے نے کہا؛ ’’ابو ،جب آپ مر جائیں گے تو میں فاتحہ پڑھنے قبرستان آیا کروں گا۔‘‘
اس بات کو دو سال گزر جانے کے بعد بھی میں اپنے اندر محسوس کرتا رہتا ہوں ۔مجھے یوں لگتا ہے کہ آج ہم کسی تنگ گلی سے ہو کر گھر کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں اور خوشحال (میرا بیٹا)کہہ رہا ہے؛’’ابو،جب آپ مر جائیں گے میں فاتحہ پڑھنے آیا کروں گا۔‘‘
یہی چیز مجھے کہانی اور نظم لکھنے پر اکساتی ہے ۔ میں انہی باتوں ،مناظر،چہروں، کھڑکیوں حتیٰ کہ خاموشی میں ذرا سی آہٹ سے متاثرہو کر لکھتا ہوں ۔میں کبھی بھی بڑے حادثے سے متاثر نہیں ہوا۔اگر ہوا بھی تو اس حادثے کی بجاے ایک ایسے مختصرواقعے سے جس کی لوگوں کی نگاہوں میں کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔
مجھے جنگ کی روداد سے زیادہ ایک سپاہی کا اپنے آپ سے محوِ گفتگو ہونا یا خود کلامی کرنا اچھا لگتا ہے۔ یہ بات میں نے جیمس جوائس سے سیکھی تھی کہ ادب لکھنے کے لئے بڑے واقعے کی ضرورت نہیں ہوتی،بلکہ بڑا فنکار وہ ہے جو ادنیٰ سے واقعے میں سے بڑی بات نکال لے۔ پرانے مضمون میں سے نئی بات نکالنا ایک مشکل کام ہے۔ یہی مضمون آفرینی ہے ۔ یہی بین المتنیت ہے۔

جمعہ، 8 نومبر، 2013

آہ ! سنگت بالاچ مری..... تحریر: اسلم بلوچ



خوبصورت آنکھیں کسی بھی چیز پر جماکر ذہن میں گہرائی سے کسی کے متعلق مشاہدہ کرنے والی ادا کا مالک، لاشعور کے خوبصورت تصورات سے نکل کر تلخ حقائق کا سامنا بڑے صبر اور دلیری سے کرنے والا سنگت بالاچ مری بدقسمتی سے آج ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ زندگی اور موت کا فطری واسطہ کسی بھی طاقتور یا کمزور کی خواہشات کے مطابق تکمیل پذیر نہیں ہوتا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جن میں کچھ حادثاتی، کچھ طبعی اور کچھ سوچ و فکر کے برعکس۔تضادات اور حق اور باطل کے بیچ پیدا ہونے والے حالات میں اپنے لیے آپ تعین کرنے سے متعلق رکھتے ہیں یہاں منتخب راہ پر انجام کا یقین پختہ ہوتا ہے۔ مجھے اور میرے جیسے لاکھوں بلوچ فرزندوں کو شہید سنگت بالاچ مری پر فخر ہے کہ اس نے جس راستے کا انتخاب پورے ہوش و حواس سے کیا وہی حقیقی بلوچ نجات کا ذریعہ ہے۔ویسے تو مختصر ملاقاتیں مختلف اوقات میں 1997ء سے 1999ء تک شہید سنگت بالاچ مری سے ہوچکی تھیں، جسٹس نواز قتل کیس کے بعد جلاوطنی میں ایک دو مرتبہ فون پر صرف حال احوال ہوا۔ساتھیوں کے مشورے سے جب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور پھر کوہستان مری کے ہیڈ کوارٹر کاہان تشریف لائے۔ مجھے یاد ہے کہ میں ان دنوں کسی کے سلسلے میں کرموڑھ، تراتانی سے ہوتے ہوئے سیاہ گری پہنچا تو پتہ چلاکہ شہید سنگت بالاچ مری کاہان میں موجود ہیں۔ ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت لے کر میں چند ساتھیوں سمیت کاہان پہنچا۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد تفصیل سے بات چیت ہوئی تب میں نے پایا کہ شہید سنگت بالاچ مری ایک پختہ ارادے اور عزم کے ساتھ قومی کاروان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ طاقتور قبضہ گیر دشمن کے مقابلے میں کمزور اور بے پناہ فوجی اور دنیا کے نقشے پر تسلیم شدہ غیر فطری ریاست کے مقابلے میں ایک گروہ کی حیثیت سے اور ایک طرف مکمل تربیت یافتہ، تعداد میں کم ساتھیوں کے ساتھ اس جذبے کے ساتھ میدان میں اُتراکہ ہم بدل سکتے ہیں۔ہم ضرور بدلیں گے اور ہم نے ہی بدلنا ہے، چاہے ہماری جان جائے، گھر،بچے، خاندان، عیش و آرام سب کچھ قربان کرکے اگر ہم کامیاب نہ ہوئے تو بھی مجھے پرواہ نہیں کیونکہ ہم اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے وہ راہ نجات واضح کرکے جارہے ہیں اور تاریخ میں اپنے فرض کی بابت کسی بھی خوف و لالچ میں آئے بغیر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے شہداء اور اکابرین کے نقش قدم پر چل کر سرخروہوں گے۔یہ جذبہ و الفاظ تھے شہید سنگت بالاچ مری کے اس تمام عرصے میں وہ عسکری محاذ پر برسرپیکار ساتھیوں کے ساتھ رہے اور بہت سے موا قع پر ساتھیوں کی بہترین رہنمائی کی۔ شہید سنگت بالاچ مری کے عسکری محاذ پر موجودگی نے تنظیمی ساتھیوں کو اور زیادہ حوصلہ دیا۔ شہید سنگت بالاچ مری کے ساتھ اکثر و بیشتر ملاقات کا سلسلہ چلتا رہا ہم جب بھی کسی تنظیمی کام کے سلسلے میں سیاہ گری یا کرمووڑھ جاتے تو سنگت بالاچ مری سے نشست ضرور ہوتی جس میں سب سے زیادہ جو مسئلے زیر بحث آتے ان میں سیاسی محاذ پر قابض علی بابا اور چالیس ٹھگوں کا ذکر ضرور ہوتا جو نہ تجربہ، نہ دلیل اور بغیر منطق کے بلوچ کی قومی کمزوری اور تعلیم کو جواز بناکر قابض کی قبضہ گیری کو جائز قرار دیتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتے اور جو بلوچ کی قومی حیثیت اور جغرافیائی قومی وحدت کو قبضہ گیر اور صوبہ میں ضم مراعات اور رائلٹی کا ناروا مطالبہ کرکے اپنے لیے پس پردہ مراعات حاصل کرتے ہوئے ذرابرابر بھی خوف و عار محسوس نہیں کرتے۔ کوہستان مری اور ڈیرہ بگٹی میں فوجی حملے کے وقت میں بولان کے محاذ پر تھا، شہید سنگت بالاچ مری سے ہمارا رابطہ رہتا تھا۔بدقسمتی سے فوج کشی کے بعد ہماری روبرو ملاقات نہیں ہوئی، قابض دشمن کی طرف سے تین ریڈ ٹارگٹ: شہید نواب اکبر خان بگٹی، شہید بالاچ مری اور اللہ سلامت رکھے نوابزادہ براہمدغ بنائے جانے کے بعد دشمن کی توجہ کی مرکز ڈیرہ بگٹی اور بھمبورسمیت مری علاقہ رہا ۔ اس تمام محاصرے اور حملے میں شہید سنگت بالاچ مری اور ساتھی اپنی بہترین حکمت عملی کی وجہ سے علاقے میں موجود رہے، شہید نواب اکبر خان بگٹی کا سانحہ بھی گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کی مثل رہا۔ اس ساری جنگ میں دشمن کی کامیابی اور رسائی نواب شہید کی قابلیت اور ہنر‘ اس حد تک رہا کہ وہ ہمارے اندر موجود جعفر و صادق تک پہنچ سکا ورنہ تو یہ خواہش بھی ایک خواب رہ جاتا۔اس تمام عرصے میں شہید سنگت بالاچ مری اور نوابزادہ براہمدغ بگٹی جنگی حکمت عملی کے تحت بلوچ سرزمین کے علاقے بدلتے رہتے اور ساتھیوں کی قیادت کرتے رہتے اور کبھی ایک لمحے کے لئے بلوچوں کی نا اتفاقی، تعلیم سے دوری،کمزوری،کم تعداد ،سیاسی اور عسکری محاز کو جواز بنا کر اپنی ذ مہ داریوں سے رو گردانی نہیں کی،ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ اس جنگ کو جاری رکھ کر ہی ہم اپنی تمام قومی خامیوں اور کمزوریوں پر قابو پاہیں گے اور جنگ ہی ہمارا کھرا اور کھوٹا الگ الگ کرے گا۔

میرا آخری رابطہ شہید سنگت بالاچ مری کی شہادت سے شاید دو گھنٹے پہلے ہوا،وہ آواز جو ، اب شاید میں زندگی بھرنہ سن سکوں وہ مہربان دوست ،جو ہم سے جدا ہوا کو ہم میں سے ہر ایک نے شدت سے محسوس کیا اور ہمارے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے کہ یہ وقت تو جانے کانہیں تھا۔خیروہ قومی فکر جو تیمور، مغل، عرب، انگریز قبضہ گیروں اور حملہ آوروں کے خلاف بلوچ فرزندوں نے اپناکر سرزمین اور قوم کی پاسبانی کی ، جنہوں نے غلامی کی زندگی سے شہادت کو ترجیح دی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بن گئے خوش قسمتی سے شہید سنگت بالاچ مری بھی اسی فکر کا پاسدار رہا جس نے اپنا سب کچھ قوم و وطن کی بابت فرائض کی ادائیگی پر قربان کرکے یہ ثابت کردیا کہ وطن کے مخلص سپوت کے لیے جدوجہد اور اس بابت موت ہی کامیابی ہے اور ناکامی اور تذلیل ہیں فرائض سے روگردانی، قربانی سے کترانا ، مصلحت پسندی اور بزدلی۔نوجوانوں، شہید نواب اکبر اور شہید سنگت بالاچ مری کی شہادت نے ہم سب کے لیے ایک واضح پیغام چھوڑا ہے کہ ذاتی اور انفرادی فکر چھوڑدو، اپنا وقومی فکر اور کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہوجاؤ،تاکہ حاصل کرسکو اپنی آزادی جو تمہارا اور ہمارا سب کا فطری حق ہے۔
************************
(نوٹ۔۔ یہ کالم جنوری2008کو  شائع ہوچکا ہے۔)

منگل، 5 نومبر، 2013

تنقید کا استعمال اور قرآن کریم و حدیث نبوی


نوٹ۔۔۔۔ یہ تحریر کس کی مجھے نہیں معلوم ۔۔۔
 مجھے ایک دوست نے فیس بک پہ یہ بھیج دیا تھا ۔۔۔
بغیر حوالہ دیئے ۔۔۔۔
.....................................................
مفيد تنقيد کا اصول

سوال: تنقید کے مفید یا غیر مفید ہونے کا تعلق کن امور سے ہے ، کیونکہ تعمیری تنقید تقریباً ہر مسئلےمیں سب سے اچھی اور افضل بات تک پہنچنے کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی ہے؟ وہ کون سے اخلاق ہیں جن کا تنقید کرنے والے یا تنقید کا نشانہ بننے والے کو خیال رکھنا چاہئے؟
جواب : تنقید کے معانی میں سے ایک معنی یہ ہے کہ کسی بھی لفظ ، فعل یا برتاؤ کو پرکھ کر اس کے مثبت ومنفی پہلؤوں کو آشکارا اور جو چیز موجود ہے اور جو ہونی چاہئے، ان میں موازنہ کیا جائے۔ تنقید ان اہم علمی اصولوں میں سے ایک ہے جو کسی بھی شے میں مثالی کے درجے تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس رخ سے اس کا استعمال سلف صالحین کے زمانے سے ہو رہا ہے۔مثال کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات کی صحت تک رسائی کے لئے ان کی سند اور متن پر تنقید کی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کا استعمال صرف حدیث نبوی کے میدان میں ہی نہیں ہوا بلکہ یہ عصر اول سے ہی قرآنی آیات کی تفسیر اور احادیث کی شرح جیسے بہت سےمیدانوں میں حقیقت کے اظہار کے لئے ایک اہم نظام بن گئی تھی، اور اسی علمی نظام کے تحت ان اجنبی افکار کا مقابلہ ممکن ہوسکا جن کو اسلام میں ملانے کا ارادہ کیا گیا۔ اسی طرح افکار میں تصادم کی صورت حال میں مختلف تفسیروں اور اجتہادات کی صحت اور سقم کو پرکھا گیا اور علم مناظرہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان پر بحث ہوئی۔ چنانچہ ان افکارکو تنقید اور مراجعت کی بھٹی سے گزارا گیا اور اس طرح حق کی کرن ظاہر ہوئی۔
اس طرح خصوصی طور پر سند حدیث پر تنقید کے بارے میں ایک عظیم میراث وجود میں آئی اوررواۃحدیث پر جرح وتعدیل اور تنقید کے رخ سے کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں لکھی گئیں اور یوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات کی صحت کو معلوم کر لیا گیا۔ اس کے باوجود علماء کرام انتہائی درجے تک اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ تنقید کے مطلوبہ ہدف سے ہٹ کر کوئی بھی لفظ ان کی زبان سے نہ نکل جائے اگرچہ وہ تنقید کے اہم موضوع کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ اس باب میں انہوں نے نہایت حساسیت اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ۔ مثلاً حضرت شعبہ بن الحجاج(جو علم علم جرح وتعدیل کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک ہیں) کو یہ کہتے دیکھتے ہیں:”چلو اللہ کی خاطر غیبت کریں!‘‘ اس سے ان کی مراد شیوخ حدیث کے بارے میں بات ہے۔ (الذہبی، سیر اعلام النبلاء: 6/616) ان الفاظ سے آپ اس کام یعنی رواۃ حدیث پر تنقید کی ضرورت اور اس کے ساتھ ہی اس بات کی ضرورت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے ہونا چاہئے۔
جی ہاں، ہمارے اس عالم میں تنقید کو زیادہ اچھی بات تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے خواہ وہ دینی میدان میں ہو یا تطبیقی علوم کے بارے میں خصوصاً پہلی پانچ ہجری صدیوں میں ۔ اس کے نتیجے میں موجودہ حالات میں بھی اس علمی نظرئے کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ تنقید کے موضوع پر بے انصافی نہ کی جائے اور پاس ادب رکھا جائے اور مسئلے کو پورے اہتمام اور حساسیت کے ساتھ لیا جائے۔ اس بارے میں کچھ ایسے نظریات موجود ہیں جن کو ہم تنقید کے آداب یا اصول کہہ سکتے ہیں۔ ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:
بہت سے تالے انصاف اور نرم اسلوب کے ذریعے کھولے جا سکتے ہیں:
تنقید کا اسلوب سنجیدہ اور اسے پیش کرتے وقت انسانی کلام کے سب سے اچھے اسلوب کا انتہائی درجے تک خیال رکھنا ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تنقید ایسے طریقے سے ہو کہ سامنے والا اسے خوشدلی سے قبول کر لے اور اس کی وجہ سےمخاطب کسی رد عمل پر نہ اتر آئے۔ اس لئے اگر آپ اپنی معقول اور منطقی آراءاور خاص مشکلات سے تعلق رکھنے والے متبادل افکار کو انسانی اسلوب میں نرمی اور انصاف سے پیش کریں تو تمہیں دوسروں کی جانب سے احترام ملے گا اور آپ کے افکار کو شرف قبولیت۔ مثال کے طور پر آپ کسی موضوع سے متعلق اپنی رائے کی وضاحت کرتے ہیں مگر آپ کا مخاطب اس کے بالکل بر عکس سوچتا ہے تو اگر آپ اس کو یوں مخاطب کریں کہ: ’’جناب میں اس مسئلے کو یوں سمجھتا ہوں لیکن جب میں نےآپ کے الفاظ پر غور کیاتومجھے اس کا ایک اور مختلف پہلو نظر آیا‘‘ تو ہو سکتاہے کہ کچھ وقت کے بعد وہ شخص دوبارہ آ کر آپ سے کہنے لگے کہ: ’’مجھے معلوم ہو گیا کہ جس مسئلے کے بارے میں ہم نے پہلے بات کی تھی وہ اسی طرح تھا جس طرح آپ نے کہا‘‘۔ اس وقت آپ کو یہ جواب دینا چاہئے کہ :’’میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کس قدر انصاف پسند ہیں!‘‘ اس رخ سے انسان کو چاہئے کہ وہ بعض اوقات اپنے خاص تجربات، علمی معلومات اور انانیت کو اس وقت ہیچ سمجھے جب حقیقت کے احترام اور اس کے دل میں اترنے کا تقاضا ہو اور اس پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ حق کا پرچم بلند کرے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر معقول بات کو معقول انداز میں قبول کرانا مقصود ہو تو پھر دوسروں کے افکار کو بھی معقول انداز سے پرکھنا چاہئے(خواہ وہ غیر معقول ہی کیوں نہ ہوں) اور ہمیشہ کھلے دل سے ان کا سامنا کرنا اور سچائی اور اخلاص کا ایسا ماحول تشکیل دینا چاہئے جس سے وہ حق اور حقیقت کو قبول کر سکیں۔
عمومی بات اور پردہ پوشی کا اہتمام:
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو شخص دوسروں کی آراء کااحترام نہیں کرتا (خواہ وہ کسی بھی میدان میں ہو) اوران کو ہمیشہ کھوٹے سکوں کی طرح نظر انداز کر دیتا ہے اور ان کو فضول سمجھتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ (غیر محسوس طور پر) ایسی بہت سی ”قیمتی “چیزوں سے محروم ہو جائے جو اس کو فائدہ دے سکتی تھیں۔ اس رخ سے یہ بات لازم ٹھہری ہے کہ تمام افکار کو ایک خاص حد کے اندر احترام کے ساتھ دیکھنا چاہئے اگرچہ وہ کھوٹے سکے یا پیتل، یا لوہا یا تانباہی کیوں نہ ہوں۔اگر ہم اس طریقے پر چلیں گے تو ہم اپنےمخاطبین کو حقائق پر قائل کرنے کا بہترین درست طریقہ پالیں گے، ورنہ وہ الفاظ جو تکلیف دہ شکل میں ذکر کئے جاتے ہیں گویا دوسروں کے سروں پر برسنے والے ہتھوڑے ہیں وہ حسن قبول کی مستحق نہیں ہوں گے خواہ وہ کیسے ہی خوبصورت افکار یا منصوبے کیوں نہ ہوں بلکہ اگر تنقید کے اسلوب پر غور نہ کیاجائے تو اس کے رد عمل سے بچنے کا بھی کوئی طریقہ نہیں، یہاں تک کہ اگر کسی شرعی مسئلے میں کوئی غلطی ہو تو اسے بھی شرعی دلائل کے ذریعے معین کیا جائے گا۔ مثلا اگرآپ اپنے کسی دوست کو دیکھتے ہیں کہ وہ حرام کو دیکھ رہا ہے تو اگر آپ اس سے ایسے اسلوب سے پیش آئیں جس سے وہ پردہ ختم ہوجائے جو تمہارے درمیان ہے اور اس سے یوں کہیں کہ ”تم یوں یوں کر رہے ہو۔ اپنی آنکھ کو تھوڑا نیچے کرو ۔حرام کے قریب نہ جاؤ۔“ تو ہو سکتا ہے کہ آپ کی یہ تنقید (اللہ تعالی محفوظ رکھے) اسے شیطان کا وکیل بنا سکتی ہے، خاسوقت جب مخاطب اپنے تصرفات اور برتاؤ پر آپ کی تنقید کے لئے تیار ہو نہ تنقید کو اچھا سمجھتا ہو اور نہ اس کو قبول کرتا ہو تو ایسی میں آپ کی ہر تنقید اس کے رد عمل کا سبب بنے گی اور اس کے اندر حق کا احترام نہ کرنے کاجذبہ پیدا ہوگا اور یہ تنقید اسے ہمارے ذاتی اقدار کا دشمن بنا دے گی، یہاں تک کہ اگر وہ اس بات کا یقین بھی کرلے کہ جو کچھ کہا جا رہاہے وہ حق ہےتو وہی اس کے ذہن میں بہت سے ایسے فلسفے ہو سکتے ہیں جو حق کو باطل بنا کر دکھائیں اور یہ سب کچھ ان روحانی ضربوں کی وجہ سے ہوگا جو اس  کی سر پر پڑی ہیں بلکہ (جب وہ رات کو اپنے بستر پر دراز ہوگا یا وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب سوچے گا۔
اس وجہ سے ضروری ہے کہ کسی بات کو تنقید کے ذریعے حل کرنے کے لئے بالواسطہ خطاب کو ترجیح دی جائے کیونکہ نبی کریم ﷺ جب کسی شخص کی کوئی غلطی یا کوتاہی ملاحظہ فرماتے تھے تو براہ راست اسے مخاطب نہیں فرماتے تھے بکلہ لوگوں کو جمع فرما کر سب سے مخاطب ہوتے، اس طرح غلطی کرنے والے کو اس خطاب سے عبرت اور نصحیت حاصل کرنے کا موقع مل جاتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو زکاة جمع کرنے پر ما مور کیا جب وہ واپس آیا تو کہنے لگا: یہ آپ کا ہے اور یہ مجھے تحفہ ملا ہے"۔ چنانچہ یہ سن کر آپ علیہ السلام منبر پر کھڑے ہوئے ، اللہ تعالی کی حمد وثناء کی اور اس کے بعد فرمایا: "مَا بَالُ العَامِلِ نَبْعَثُهُ فَيَأْتِي يَقُولُ: هَذَا لَكَ وَهَذَا لِي، فَهَلَّا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَيَنْظُرُ أَيُهْدَى لَهُ أَمْ لَا" ( اس عامل کو کیا ہوا ہے جس کو ہم بھیجتے ہیں اور وہ واپس آکر کہتا ہے کہ یہ آپ کا ہے اور یہ میرا ہے (اگر ایسا ہے ) تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا تاکہ وہ دیکھتا کہ اس کو تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ (البخاری،الاحکام : 24، مسلم، الامارة: 26)
اب ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ تنقید اور رہنمائی کون کرے گا۔اگر ہمیں کسی شخص پر تنقید کرنے کی ضرورت پیش آجائے، تو کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ کام خود کرنے پر اصرار کرے بلکہ اس کام کو کسی ایسے آدمی کے لئے چھوڑ دے جس کو مخاطب پسند کرتا ہے، کیونکہ محبوب کی تنقید کو بھی مدارات اور تعریف سمجھا جاتا ہے۔
جی ہاں، اگر آپ دیکھیں کہ آپ کے کلام سے مخاطب کے ذہن میں نفرت پیدا ہوگی تو اس بات کو چھوڑ دیں اور کسی اورکو بات کرنے کا موقع دیں کیونکہ حقیقت کو بیان کرنے والا اہم نہیں بلکہ اہم بات یہ ہےکہ اس حقیقت کو دل قبول کریں۔
یہ بات خالی از فائدہ نہ ہوگی کہ میں آپ کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین کا ایک واقعہ بیان کروں۔ اگرچہ یہ واقعہ صحیح احادیث کی کتابوں میں مذکور نہیں مگر اس کے باوجود عبرت اور نصیحت سے بھر پور اسباق پر مشتمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ دونوں کا گزر ایک بوڑھے شخص پر ہوا، جو وضو کر رہا تھا مگر اس نے اچھی طرح وضو نہ کیا تو نادر فطرت وفراست کے مالک ان دونوں حضرات نے اس شخص کو نصیحت کرنے اور وضو کا طریقہ سکھانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ دونوں اس کے پاس کھڑے ہوکر کہنے لگے: "چچا جان، ذرا دیکھیئے ہم دونوں میں سے کون اچھی طرح وضو کرتا ہے"۔ اس کی بعد دونوں نے اس طرح وضو کیا جس طرح اپنے نانا سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو وضو کرتے دیکھا تھا۔ اس طرح وہ شخص کسی اعتراض کا نشانہ بنا اور نہ صریح تنقید کااور نہ براہ راست اس کی غلطی کی جانب اشارہ ہوا۔ وہ ضمیر کے اطمینان کے ساتھ کہنے لگا : "آپ دونوں نے اچھی طرح وضو کیا جبکہ میں اچھی طرح نہ کر سکا"۔
اس لئے میں دوبارہ اس جانب توجہ دلاؤں گا کہ کسی بھی مسئلے کے بارے میں تنقید ایسے مناسب اسلوب کے بغیر قابل قبول نہیں ہو سکتی جس کا مقصد غلطی کی تصحیح اور درست بات کا اظہار ہو اور اسے اچھے انداز اور تیاری کے ساتھ پیش کیا جائے۔
مخاطب کی ایسی تربیت کہ وہ تنقید برداشت کرسکے
اس مسئلے کا ایک اور رخ یہ بھی ہے کہ مخاطبین کو اس درجے تک پہنچا دیا جائے جہاں وہ تنقید کو قبول کرسکیں اور ان میں حق کےاحترام کا شعور بیدار کیا جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس مرتبے تک پہنچے ہوئے تھے۔ اس لئے ایک دوسرے کی غلطیوں کا مقابلہ بڑی خوشنودی اور مکمل سکون سے کرتے تھے اور اس بات سے کبھی ان میں کوئی اختلاف نہ پیدا ہوتا تھا۔ ایک روز حضرت عمر منبر پر تشریف فرما ہوئے او ربعض ایسے طریقوں کے متعلق بات کی جن کا مقصد شادی میں آسانیاں پیدا کرنا تھا اور اس جانب اشارہ فرمایا کہ مہر اتنا ہونا چاہئے جتنا سب کے لئے قابل برداشت ہواور مہر زیادہ رکھنے سے باز رہنے کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ یقینا یہ بات استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے کسی حد تک ایک اچھا حل تھا، ایسے ہی اس مسئلے کا احساس اور اس میں آسانی کرنے سے اس دور کی ایک بہت بڑی معاشرتی مشکل حل ہوسکتی ہے۔
مگر ان الفاظ کے مقابلے میں خواتین کے چبوترے سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی:امیر المؤمنین، یہ بات آپ کے ہاتھ میں نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ (النساء : 20) (اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟)
اس وقت حضرت عمر ایک ایسی سلطنت کا انتظام چلا رہے تھے جو ترکی سے بیس گنا بڑی تھی اور انہوں نےہی اس زمانے میں دو عظیم قوتوں کو جھکایا او ران کو اپنی اطاعت اور قلمرو میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا، مگر اس سب کے باوجود یہ الفاظ سن کر فورا رک گئے اور آپ کے لبوں سے یہ الفاظ نکلے: "اے اللہ تو معاف کردے! عمر تم سے تو سارے لوگ زیادہ سمجھ رکھتے ہیں"۔ (تفسیر ابن کثیر در تفسیر آیت بالا)حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس انتہائی حساسیت کی وجہ سے آپ کو "وقاف عند کتاب اللہ"( اللہ کی کتاب کے سامنے بہت زیادہ کھڑا رہنے والا کے) لقب سے پکارا جاتا تھا۔ (ابن الاثیر، اسد الغابۃ : 4/318)اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ جب چاہتے اور جہاں چاہتے اپنے جذبات پر قابو پا سکتے تھے۔
اسی طرح ضروری ہے کہ سب کے پاس یہ احساس اور شعور ہو یہاں تک کہ ہم کسی سے بھائی چارہ قائم کرسکیں اس سے مناسبت پیدا ہوجائے اور اسے یہ صلاحیت دے دیں کہ وہ بڑی سہولت کے ساتھ ہم میں اور ہمارے برتاؤ میں نظر آنے والے ہر قصور پر تنقید کرسکے یہاں تک ہم خود اپنے اوپر ہونے والی ہر تنقید کو قبول کرسکیں۔
آخر میں جو شخص کسی مسئلے پر تنقید کرنا چاہئے(جبکہ زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کی تصحیح کرنا چاہے) تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ ان مسائل پر غور کرے اور ان کے بارے میں درست بات کرنے کی پوری کوشش کرے اور دوسرے نمبر پر جب اس مسئلے پر تنقید یا اس کی تحلیل کرنا چاہے تو فریق دوم کی حساسیت کاخیال رکھے اور ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھے کہ مخاطب کس حد تک اس تنقید کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔ پس اگر اس بات کی توقع ہو کہ اس کے کلام پر مخاطب کسی ردفعل کا اظہار کرے گا تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ بذات خود اس حقیقت کے اظہار پر اصرار کرے بلکہ یہ کام اس شخص کے لئے چھوڑ دے جس کا دلوں پر زیادہ اثر ہو سکتا ہے۔
ہمارے اس زمانے میں ان خصوصیات کا خیال رکھنے کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ انانیت حد سے بڑھ گئی ہے اور دل تنقید کو برداشت کرنےکے قابل نہیں رہے۔
دوسری جانب تنقید سننے والے پرلازم ہے کہ وہ کسی بھی شے سے زیادہ حق کی شان کو بلند کرے اور تنقید پر اعتراض کی بجائے شکریہ ادا کرے جیسے کہ حضرت بدیع الزمان فرماتے ہیں: ”ہم ایسے شخص کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہماری کوتاہیوں کو دیکھے اور ہمیں دکھائے (بشرطیکہ وہ حقیقت ہوں) اور اس سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے ، ہم اس کا اسی طرح شکریہ ادا کرتے ہیں جیسے اس شخص کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہماری گردن سے چمٹے بچھو کو ہمیں تکلیف دینے سے قبل دور کر دے اور اس سے رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے ہی ہم اس کے شکر گزار اور ممنون رہتے ہیں جو ہماری کوتاہی اور تقصیرات ہمیں دکھائے"۔ (بدیع الزمان سعید نورسی، الملا حق:251) یہ پختگی اور کمال ہے۔

جمعہ، 18 اکتوبر، 2013