ہفتہ، 5 مئی، 2018

نیشنلزم کیا ہے؟



نیشنلزم کیا ہے؟

تاریخ میں نیشنل ازم نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال ابھرتا ہے کیا اس کے نتائج مثبت ہوئے یا منفی ؟ نیشنلزم نے یورپ میں قومی ریاستوں کو پیدا کیا اس کے نتیجہ میں کالونیل ازم اور امپیرل ازم پھیلا ، جس کے ردعمل میں تسلط شدہ ملکوں میں نیشنلزم کے تحت تحریکیں اُٹھیں اور انہوں نے کالونیل کے تسلط سے آزادی حاصل کی ۔ آزادی کے بعد ان ملکوں میں اسی نیشنل ازم کو حکمران طبقوں نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اور یہ نو آزاد ریاستیں ٹوٹ پھوٹ ، انتشار اور فوجی آمرتوں کا نشانہ بنیں ۔ اب ایک بار پھر گلوبلائزیشن نو امپیرل ازم کی شکل میں پوری قوت اور طاقت سے آرہا ہے اس لیے یہ سوال کہ کیا اُسے نیشنل ازم کے ذریعے روکا جا سکے گا یا اب نیشنل ازم کا نظریہ فرسودہ اور بے کا ر ہو کر اپنی اہمیت کھو چکا ہے اور معاشرہ اس کی بے معنویت اور کھوکھلے پن سے آگاہ ہوچکی ہے ؟ اس مضمون میں ان سوالات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔

قوم کا تصور

آج ان معنوں اور مفہوم میں قوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں یہ ماضی میں نہیں تھا کیونکہ الفاظ کے معنی معاشرے کی ترقی اور تبدیلی کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ کوہن(Kuhn ) نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ یونانیوں اور یہودیوں میں ایک جماعت ہونے کا احساس اور گہرا شعور تھا یونانی اپنے علاوہ دوسروں کو باربیرین یا غیر مہذب کہتے تھے ۔ یہودی خود کو خدا کا پسندیدہ مخلوق اور باقی کو اپنے سے جدا سمجھتے تھے چونکہ ان کا تعلق ایک ہی نسل سے تھا ماضی بھی مشترک تھی اور خوش حال مستقبل کے لیے ایک مسیحا کا انتظار تھا کہ جن کی آمد کے امید میں وہ اذیتوں اور تکالیف کو برداشت کررہے تھے ، اس لیے ان میں ایک ہونے کی قدر گہرے طور پر موجود تھی۔
**لیکن ہم آج جن معنوں میں قوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں یہ یورپ میں انیسویں صدی میں سیاسی حالات اور تبدیلوں کی وجہ سے ابھرا ۔اس سے پہلے لوگ گاؤں اور دیہات میں علیحدہ علیحدہ حصوں میں بٹے ہوئے تھے ان کو آپس میں جوڑنے کے لیے کوئی قومی شعور نہیں تھا ۔ یہ قومی شعور جمہوری عمل کی وجہ سے آہستہ آہستہ ابھرا اور بکھرے لوگوں کو آپس میں ملایا۔ عہدِ وسطیٰ میں برطانوی یا فرانسیسی قوتیں تو تھیں مگر ان میں قومی شعور نہیں تھا ۔

 عہدِ وسطیٰ میں ہی معاشرہ امراء اور رعایا میں بٹا ہوا تھا لیکن جب قومی شعور آیا تو لوگ یا عوام ایک قوم بن گئے کہ جس میں امیر اور غریب سب ہی شامل تھے ۔
 یورپ کے دانشوروں نے قوم کی جو تعریف کی ہے اس کے مطابق فریڈریش لسٹ( LIST ) کا کہنا ہے ایک قوم کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس وسیع رقبہ ہو اور فطری ذرائع ہوں اس کے مقابلے میں اگر کسی قوم کے پاس کم رقبہ ہو اس کی زبان بھی کم اہلیت ہو اس کا ادب اور سماجی ادارے ناپختہ ہوں تو اس صورت میں چھوٹی قومیں کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گی ۔
اسی وجہ سے اسٹیوارٹ مل کا کہنا تھا کہ ویلز ، اسکاٹ لینڈ اور آئر لینڈ کا ضم ہونا ،ان کے لیے بہتر ہوا۔

قوم کے سلسلے میں عام طور پر اسٹالن کی تعریف کو ضرور بیان کیا جاتا ہے اس کے مطابق اس کا تعلق سرمایہ دار نظام کے ابھار سے ہے یہ ایک مضبوط اور مستحکم کمیونٹی ہوتی ہے جس میں کئی ایتھنک گروپس(نسلی گروہیں ) شامل ہوتی ہیں اور آپس میں مل کر ایک قوم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔ وہ اس کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ قوم کی ایک زبان ہوتی ہے اس کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے معاشی طور پر مختلف جماعتیں ایک دوسرے سے بندھی ہوئی ہوتی ہیں جو ایک قوم کردار اور خصوصیات کو پیدا کرتی ہیں ۔
لیکن اس تعریف پر اعتراض ہے کہ کئی قوموں میں ایک زبان سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں دوسری بات یہ ہے کہ کالونیل دور میں نوآبادیات پر معاشی طور پر مغربی طاقتوں کا قبضہ تھا مگر اس کے باوجود ان ملکوں میں قومی شعور ابھرا۔
اس لیے قوم کی تعریف کو کئی طرح سے وضح کیا جاتا ہے قوم کی تشکیل میں مشترک ادارے ،رسم و رواج اور ہم آہنگی کے احساس کو اہمیت دی جاتی ہے اب جب قوم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے تحت لوگ اور شہری آجاتے ہیں اب دساتیر میں اقتدار اعلیٰ قوم کے پاس ہے فرد، جماعت کے پاس نہیں ۔

 ہابس باؤم کے مطابق قوم تاریخی طور پر ریاست سے تعلق رکھتی ہے اس کے پس منظر میں ایک طویل ماضی ہوتا ہے جو حال کو تسلسل کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے اس کے پاس طبقہ اعلیٰ کا تحقیق کردہ کلچر ہوتا ہے اور آپس میں متحد کرنے کے لیے ایک زبان ہوتا ہے ۔
 بینے ڈیکٹ اینڈ رسن(benedeict andersion) نے قوم کی تشکیل میں چھاپہ خانہ کی ایجاد کو اہمیت دی ہے اس کے مطابق اس سے پہلے قوم کی شکل تصوراتی تھی کیونکہ مختلف جماعتیں اور برادریاں جو بعد میں ایک قوم بنیں وہ ایک دوسرے سے واقف نہیں تھیں یہ لوگ نہ ان سے ملے ہوتے تھے اور نہ ان کے بارے میں سنا ہوتا تھا لیکن ان کے بارے میں جن سے وہ واقف نہیں تھے تخیلاتی یا تصوراتی آگہی ضروری تھی ۔ لیکن پرنٹ میڈیا نے یورپ کے معاشرے میں زبردست انقلابی تبدیلی کی 1500 ء میں یورپ میں دو کروڑ کتابیں چھپیں ، اس وقت اس کی کل آبادی دس کروڑ تھی اس وقت لاطینی علمی زبان تھی اس کو ریفارمیشن نے چیلنج کیا اور مقامی زبانوں کو اس کے بعد فروغ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب علم مقامی زبانوں میں منتقل ہو کر لوگوں تک پہنچا تو ان میں قومی اور سیاسی شعور آیا اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ جب لوتھر نے 1517ء میں اپنے 99 نکات ،جو چرچ کے خلا ف تھے وہ جرمن زبان میں شائع کرائے تو یہ پوری جرمنی میں پھیل گئے اور اسے جرمن حکمرانوں کے ساتھ ساتھ جرمن عوام کی بھی حمایت مل گئی ۔جرمن زبان میں اس کے بائبل کے ترجمے کے 430 ایڈیشن شائع ہوئے ۔

چونکہ کیتھولک ممالک میں چرچ نے سنسر شپ عائدکر رکھی تھی تا کہ مخالفانہ نظریات کو روکا جاسکے اس مقصد کے لیے چرچ انڈیکس کے ذریعے ممنوع کتابوں کی فہرست شائع کرتا تھا جب کہ پروٹسٹنٹ ملکوں میں تیزی سے کتابوں کی اشاعت ہونے لگی ، چونکہ عوام کی اکثریت لاطینی زبان سے ناواقف تھی اس لیے مقامی زبانوں میں سستے ایڈیشن چھپتے تھے ، جس سے لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کیا اور اس سے سیاسی و مذہبی شعور آیا۔
شائع شدہ زبان میں جو لڑیچر پھیلا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جوزبان تو ایک ہی بولتے تھے لیکن ان کے لہجے مختلف تھے اس کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے واقف ہو گئے اس عمل میں ایک معیاری زبان کا ارتقاء ہوا جو تحریری تھی ۔ اس نے ایک زبان بولنے کے تصورسے ایک دوسرے سے ملایا جس نے آہستہ آہستہ قومی شعور کو اجاگر کیا لہٰذا قوم کی تشکیل میں چھاپے خانے کی ٹیکنالوجی کو بڑا دخل ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدیوں میں مقامی زبانوں میں ادب اور عملی تحقیق کی ابتداء ہوئی ۔ اخبارات ،کتابیں ،رسالے اور پمفلٹوں کی اشاعت نے زبانوں کو مقبول بنایا ۔ جس کی وجہ سے زبان سے لوگوں کا رشتہ مضبوط ہوا ۔

قوم کی تشکیل کے عمل کو تیز تر کرنے میں تاریخ ،یاداشتیں ، علامتیں ، رسم و رواج اور عادات کا دخل ہوتا ہے جو ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ان سے واقف کراتی ہے اور ان میں باہمی یگانگت کا احساس پیدا کرتی ہے ۔ابلاغ ہی ایک معیاری زبان بنانے میں مددگار ہوتا ہے اس کے ذریعے آرٹ،مجسمہ سازی ، موسیقی اور دوسرے علوم و فنون میں یک جہتی پیدا کرتی ہے اس کی ایک مثال سوئزرلینڈکی ہے جہاں چار زبانیں بولی جاتی ہیں مگر ابلاغ کی وجہ سے تاریخ، آرٹ اور علامتیں ایک ہوگئی ہیں ۔ حالانکہ دوسرے ممالک میں بھی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر وہ ایک دوسرے کے قریب نہیں ہیں کیونکہ ان میں ابلاغ کی کمی ہے۔

** موجودہ دور میں صورتحال بدل رہی ہے اب میڈیا کئی زبانیں بولنے والی جماعتوں کو آپس میں قریب لا رہی ہے موجودہ دور میں قوم ایک مقدس شکل اختیار کر چکی ہے ۔ اب لوگوں کی وفاداریاں قوم کے ساتھ ہوتی ہے ، اب قوم سے وفاداری بہت اہم ہوگئی ہے جو قوم سے غداری کرتے ہیں انہیں معاف نہیں کیا جاتا ہے یہ سب سے گھناؤنا جرم مانا جاتا ہے۔

(14) اگر اینڈرسن کی دلیل کو برصغیر ہندوستان پر اطلاق کیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہاں بیسویں صدی کی ابتدائی دہائی میں جب الہلال ،ابلاغ ، پیغام ،ہمدرد اور زمیندار اخبارات شائع ہونے شروع ہوئے تو انہوں نے پورے ملک میں بکھرے ہوئے مسلمانوں میں یکجہتی کے احساس کو پیدا کیا انہیں اخبارات نے جب بلقان کی جنگوں میں ترکی کی شکستوں اور بعد میں خلافت کے بارے میں خبریں اور مضامین چھاپے تو اس نے پان اسلام ازم کے جذبات کو ابھارا۔ اخباروں کی زبان چونکہ اردو تھی اس لیے اسلامی نیشنل ازم کے احساسات کو پیدا کرنے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔جو نفرتوں اور دہشت گردی کے اسباب بن رہے ہیں۔

نیشنل ازم کی تشکیل

نیشنل ازم کے بارے میں مفکرین اور دانشوروں کے مختلف نظریات ہیں لیکن ان سب میں انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی کی ہے کہ جو گروپوں ،جماعتوں اور برادریوں کو آپس میں ملاتے ہیں اور ایک قوم کی صورت میں متحد کر کے ان میں نیشنل ازم کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔ مان ٹسکواس عمل کو جغرافیہ اور آب و ہوا کی وجہ بتاتا ہے جب کہ جرمن مفکرین جن میں ہرڈراورفشٹے شامل ہیں اسے زبان کلچر اورتاریخ کا سبب قرار دیتے ہیں برک اور ماذنی اس عمل کو رضائے الہیٰ سے منسوب کرتے ہے جب کہ ٹراسٹشکے (Treitschke) لیباں وغیرہ اس اتحاد کے عمل میں نسلی عنصر کو اہم سمجھتے ہیں ان کے مقابلے میں دانشوروں کی ایک اکثریت ہے کہ جو نیشنل ازم کو صنعتی اور سرمایہ داری کے عروج کے ساتھ منسلک کر کے اسے ایک جدید نظریہ سمجھتے ہیں لیکن نیشنل ازم اہم تاریخی واقعات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے جیسے امریکہ کی جنگِ آزادی نے امریکی ریاستوں کو آپس میں ملادیا اور برطانیہ کی آزادی کی جنگ میں ان ریاست کی اکثریت شامل ہو گئی یہی صورت 1789 ء کے فرانسیسی انقلاب کے وقت پیش آئی کہ جب انقلاب نے لوگوں کو شہنشاہیت سے آزاد کیا اور یہ لوگ اپنے حقوق کے دفاع کی خاطر یورپ کی حملوں کے خلاف متحد ہوگئے ۔ اس پس منظر میں سب سے پہلے 1798 ء میں نیشنل ازم کا لفظ استعمال ہوا ۔ اس کے بعد 1830 کے یورپی انقلاب میں اس الفاظ کو دہرایا گیا ۔ اس سے پہلے لوگوں میں اس کا مطلب قوم سے وفاداری ہوتی تھی ، ریاست سے نہیں لیکن اب قوم اور ریاست دونوں سے وفاداری کا اظہار ہوا۔

کوہن نے نیشنل ازم کے ابھار کے بارے میں دو نقطہ ہائے نظر دیے ہیں اس کی دلیل کے مطابق جن لوگوں میں عوام یا عوام کے نمائندے طاقتور تھے جیسے امریکہ، برطانیہ ،فرانس وہاں نیشنل ازم سیاسی اور معاشی طاقت کے ساتھ ابھرا لیکن جہاں یہ کمزور تھے جیسے جرمنی،اٹلی اور مشرقی یورپ کے ممالک وہاں اس کا اظہار کلچر کے ذریعہ ہوا۔

**چونکہ اکثر ملک صنعتی عمل سے دوچار نہیں ہوئے تھے بلکہ سرمایہ دار ی عروج کے ساتھ جوکالونیل ازم اور امپیرل ازم ابھرا اس کے شکار ہوئے تھے اس لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں نیشنل ازم کلچر تاریخ کے ذریعہ وجود میں آیا ایسی صورتحال میں ماضی کی تلاش اس کا اہم حصہ ہوجاتا ہے کہ جس کا مقصد قدیم روایات اور اداروں کا احیا ء ہوتا ہے مثلاََ یورپ میں یونان اور روم ایک ماڈل کے طور پر ابھرے ۔ اسلامی معاشرے میں اسلامی تاریخ کے ابتدائی دورکے احیاء کی کوشش ہوئیں ، ہندؤوں میں ویدک دور کو ترقی کے لیے لازمی قرار دیا جانے لگا۔
تاریخ کے ابتدائی دورکے احیاء کی کوشش ہوئیں ، ہندؤوں میں ویدک دور کو ترقی کے لیے لازمی قرار دیا جانے لگا۔

چنانچہ اس کے زیر اثر تاریخ میں سُنہری دور کی تلاش شروع ہوگئی ۔اٹلی میں جب فاش ازم ابھرا تو مسولینی نے قدیم روم کی شان و شوکت کو جذباتی طور پر ابھارا۔ گاندھی جی نے ہندوستان میں رام راج کا نعرہ لگایا کہ جسے ہندستان کی تاریخ میں سُنہرا دور قرار دیا گیا۔مسلمانوں میں عباسیہ عہد اور اندلس سنہرے دور کے طور پر سامنے آئے کہ جن ادوار میں انہوں نے ترقی کی اور عروج پر پہنچے ، سنہری دور کو ایک طرف خالص روایات و قدروں کا عہد تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس دور کی سادگی پر زور دیا جاتا ہے تو دوسری فتوحات اور شان و شوکت فخر و عظمت سمجھا جاتاہے ۔لہٰذا ماضی فرار کا باعث بھی ہوتی ہے اورپناہ کا بھی۔

سُنہرے دور اور قدیم روایات کے احیاء کے سلسلے میں ترکوں کی مثال دی جاسکتی ہے کہ جنہوں نے اس نظریہ کو مقبول بنایا کہ وہ ابتدائی دور میں فیاض ،سخی اور روادار تھے ۔ ان کی یہ خوبیاں ایرانیوں اور بازنطینیوں کے ساتھ مل کر ختم ہوگئیں ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان روایات اور اوصاف کو دوبارہ سے واپس لایا جائے اور ترک قوم کے مستقبل کی تعمیر کی جائے۔
 اس دلیل کو عرب قوم پرست بھی دیتے ہیں کہ ان کی خالص اور سادہ روایات ایرانیوں کے زیر اثرآکر خراب ہوئیں۔
لیکن جب ماضی کے احیاء کی بات ہوتی ہے تو اس مرحلہ پر جو طبقات نیشنل ازم کے حامی ہوتے ہیں وہ اپنے مقاصد کے تحت ان روایات یا اداروں کا انتخاب کرتے ہیں کہ ان کے مفادات کو پورا کریں اس لیے اگر بورژواطبقہ سرگرم عمل ہوتا ہے تو اس کا انتخاب اس کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے لیکن اگر نچلے طبقے کے لوگ نیشنل ازم یا انقلاب کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ان کی علامتیں ان کے منصوبوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔

چونکہ نیشنل ازم کی بنیاد عقل کے بجائے جذبات پر ہوتی ہے اس لیے ان جذبات کو ابھارنے کے لیے اور ذہنوں کوفخر و عظمت سے متاثر کرنے کے لیے رسم و رواج اور تہواروں کو اہمیت دی جاتی ہے ان میں قومی دن کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، آتش بازی چھوڑی جاتی ہے ،پُرزور تقاریر کی جاتی ہیں ،ماضی کی رہنماؤں کی قربانیوں کا ذکر ہوتا ہے ، مستقبل کے منصوبے بیان کیے جاتے ہیں قومی یادگاروں پر حاضری دی جاتی ہے ، یوں اس ذریعے سے پوری قوم میں ہم آہنگی کے احساس کو پیدا کیا جاتا ہے ۔

نیشنل ازم کا اظہار پبلک عمارتوں کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے ، نو آزاد ملکوں نے اپنے شہر تعمیر کر کے ان کے ذریعے اپنے قومی جذبات کا اظہار کیا ۔ نئے ائیرپورٹس، پلازہ اور تجارتی سینٹروں کے ذریعے بھی ان کے جذبات کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ اکثر ملکوں میں قومی ہیروز کے مجسمے جگہ جگہ ایستادہ کیے جاتے ہیں اور ان کے مقبرے تعمیر کیے جاتے ہیں ۔ گمنام سپاہی کامقبرہ ،ایک علامتی یادگار بن جاتا ہے کہ جس پر غیر ملکی مہمان پھولوں کی چادر چڑھاتے ہیں ،قومی جھنڈا اور قومی ترانہ ،نیشنل ازم کے دو اہم عناصر ہیں کہ جنہیں تقدس کا درجہ دیا گیا ہے ۔
**نیشنل ازم کے جذبات اس وقت گہرے طور پر ڈرامائی انداز میں ابھرتے ہیں کہ جب ملک حالتِ جنگ میں ہو ،اس وقت دشمن سے نفرت اور انتقام کے جذبات لوگوں کو انسانی ہمدردی اور محبت سے دور لے جاتا ہے ،اس طرح دو ملکوں کے درمیان کھیلوں کے مقابلوں میں یہ جذبات شدت اختیار کرتے ہیں دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ اگر ملک کسی بحران کا شکار ہو ،زلزلہ ،طوفان یا وبا میں مبتلا ہوجائے تو لوگوں میں یہ جذبات ہمدردی کی شکل میں ابھرتے ہیں۔

لیکن نیشنل ازم کی ایک شکل نہیں ہے یہ مختلف شکلوں ، حالات میں ابھرتا ہے مقبول ہوتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کی تبدیل ہوتی شکلوں کا اظہار ،ہر ملک کے اپنے حالات،طبقاتی مفادات اور سیاست پر ہوتا ہے اس لیے یہ مذہبی ،قدامت پرست،آزاد خیال،فاشسٹ،کمیونسٹ،سیاسی ، کلچرل ، حفاظتی(Protectionist) ملانے والا ،علیحدہ کرنے والا ،ڈائیس پورا (Diaspora) اور قدیم تاریخی طور پر تعلق رکھنے والے علاقوں کی واپسی کے جذبہ کا مظہر ہوتا ہے ۔جس وجہ سے نیشنل ازم اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،اس کے تین عناصر ہیں خودمختاری،اتحاد اور شناخت یہ تین اہم کردار اسے آگے کی جانب بڑھاتے ہیں ۔ یہ معاشرے کو ذہنی طور پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد ملک و معاشرے کے لیے جدوجہد کریں اور اگر ضرورت پڑے تو اس کے لیے قربانی دینے سے گریز نہ کریں۔

ہابس باؤم نے ایم ہروش کے حوالے سے نیشنل ازم کے بارے میں لکھا ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں نیشنل ازم کی تحریک اٹھتی ہے تو اس کے نتیجے میں قومی شعور غیر مساوی طور پر ابھرتا ہے اس لیے اس جذبات میں طبقاتی،جماعتی اور علاقائی طور پر فرق ہوتا ہے یہ قومی شعور کسانوں ، مزدوروں اور نچلے طبقے میں سب سے آخر میں آتا ہے۔  لیکن بعض حالات میں یہ محض اوپر کے طبقوں میں محدود رہتاہے۔
ہابس باؤم کے نزدیک انیسویں صدی میں نیشنل ازم نے قومی ریاستیں قائم کر کے ایک مثبت کردار ادا کیا ،لیکن موجودہ دور میں اس کا کردار منفی ہے کیونکہ اس کے زیر اثر چھوٹی ریاستیں ابھر رہی ہیں جب کہ قومی ریاست کا ادارہ فرسودہ ہوچکا ہے ۔
اس کا منفی کردار یہ بھی ہے کہ یہ ایک کمیونٹی کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتا ہے مگر اس کا جائزہ نہیں لیتا ہے کہ اس میں ریاست کے وجود کو برقرار رکھنے اور انتظام کو چلانے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔

نیشنل ازم کے دو اہم خصوصیات کہ جنہوں نے یورپ میں اثر ڈالا اور جس سے آگے چل کر ایشیاء اور افریقہ کے آزاد ممالک متاثر ہوئے وہ فرانسیسی اور جرمن ماڈلزتھ کوہن(kuhn) ان میں سے ایک کو سیاسی کہتا ہے کہ جو عقلیت پر مبنی ہے اور دوسرے کو کلچرل کہ جس کی بنیاد تصوف یا روحانیت پر ہے ۔ سیاسی نیشنل ازم انگلستان ،فرانس،ہالینڈ،امریکہ اور سوئزرلینڈ میں ابھرا کہ جہاں متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ریناساں (نشاۃ ثانیہ) کے بعد طاقتور اور بااثر ہوا تھا ریاستوں کی سرحدیں متعین تھیں ۔ لہٰذا انہیں بادشاہتوں سے بدل کر عوامی اورقومی ریاستیں بنادیا گیا ۔ اس کے برعکس مشرقی یورپ کے ممالک کی سرحدیں بدلتی رہتی تھیں یہاں سیکولر مڈل کلاس نہیں تھیں ، زرعی معاشرہ تھا کسان اور زمیندار کے طبقات تھے چونکہ یہ سیاسی اور سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ تھے اس لیے انہوں نے سیاسی نیشنل ازم کو رد کر کے کلچر ازم کا سہارا لیا۔

یورپ میں جن دو نیشنل ازم کے درمیان تصادم ہوا وہ فرانسیسی اور جرمن تھے ریناں نے فرانسیسی نیشنل ازم کے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قوم باہمی ثقافتی روایات سے نہیں بنتی ہے بلکہ یہ حکمران خاندانوں کی فتوحات ،سرحدوں کی تبدیلی کہ جن کی وجہ سے مختلف جماعتیں ایک علاقہ میں آکر مل جاتی ہیں یہ ایک تاریخی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے فرانسیسی قوم اسی عمل کے نتیجہ میں بنی ہے قدیم جماعتوں کی علیحدہ شناخت ابھرتی ہے قوم کی ساخت مستقل نہیں ہوتی ہے اس میں برابر تبدیلی آتی رہتی ہے کیونکہ مختلف نسلی گروپ اور جماعت آتی جاتی رہتی ہیں قوم کی تشکیل میں زبان بھی اہم نہیں ہے اور نہ ہی اس میں جغرافیہ اور آب و ہوا کا دخل ہے ۔اس میں نئی جماعتوں کی شمولیت جبر سے نہیں بلکہ رضا مندی سے ہوتی ہے کوئی نسل خاص نہیں رہی ہے ۔ ریناں کی نیشنل ازم کا یہ تصور جمہوری اور لبرل ہے کیونکہ یہ تاریخی عمل کی پیداوار ہے اس لیے یہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

اس کے مقابلے میں جرمن نیشنل ازم نپولین کی فتوحات کے رد عمل میں پیدا ہوا چونکہ اس وقت جرمنی کئی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا اس لیے وہاں ایک جرمن ریاست مفقود تھی ۔جرمنی فرانس کی طرح ایک کالونیل طاقت بھی نہیں تھا کہ جو دوسرے قوموں کو اپنے میں ضم کر رہا ہو ۔اس لیے اس کی نیشنل ازم کی بنیاد زبان ،کلچر اور تاریخ پر رکھی گئی یہ ایک رومانوی تصور تھا کہ جس نے روشن خیالی کو رد کیا اس کا زور جرمن قوم کی روح (Geist) پر ہے فرانسیسی ماڈل میں قوم ریاست کے بغیر برقرار نہیں رکھ سکتی ہے جب کہ جرمن ماڈل میں قوم ایک کلچرل کمیونٹی ہے ۔ چونکہ جرمن نیشنل ازم کا مقصد ملک کی آزادی تھا اس لیے اس میں جمہوری عناصر کو نظر انداز کر دیا گیا ۔ مزید اس کی سرپرستی حکمران طبقوں نے کی اس لیے قدامت پرست روایات و قدروں کاا حیاء ہوا ۔ جن جرمن مفکرین نے اس کی تشکیل میں حصہ لیا ان میں ہرڈر(Herder) خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کی دلیل تھی کی انسانی تہذیب کی نشوونما آفاقی ماحول میں نہیں ہوتی ہے بلکہ قومی ماحول اس کے کردار کو بناتا ہے ۔ معاشرہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار مادری زبان کے تحت ہی کر سکتا ہے اس وجہ سے جرمن ادیبوں ،شاعروں اور محققوں نے جرمن زبان کو زرخیز بنایا ۔ لوگوں نے کہا نیوں اور داستانوں کو دریافت کر کے انہیں شائع کرایا ۔جرمن زبان کی اہمیت نے معاشرہ کی تحقیقی روح کو بیدار کیا اور لوگوں کو ملا کران میں شناخت کے احساس کو پیدا کیا ۔

**زبان کمیونٹی کے اندر رہ کر سیکھی جاتی ہے اس لیے اس کا تعلق کمیونٹی کے کلچراور فکر سے ہوتا ہے ہر زبان ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ ہر کمیونٹی کی فکر جدا ہوتی ہے زبان میں اگر چہ تبدیلی آتی ہے اس میں نئے الفاظ شامل ہوتے ہیں مگر اس کی فکر ایک سی رہتی ہے اس لحاظ سے کوئی زبان ادنیٰ یا بر تر نہیں ہوتی زبان کو ترجمہ کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا ہے اس کو صرف سیکھ کر اس کی روح تک پہنچا جا سکتا ہے۔

اس کے برعکس ہابس باؤم کا کہنا ہے کہ جہاں تک قومی زبان کا تعلق ہے یہ مصنوعی طور پر تشکیل کی جاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو مناسب ہوگا کہ اسے ایجاد کیا جاتا ہے تا کہ اسے قومی زبان بنایا جائے چونکہ نیشنل ازم کی اہم بنیاد زبان ہوتی ہے اس لیے تعلیم یافتہ طبقے کئی بولیوں اور لہجوں میں سے ایک کا انتخاب کر لیتے ہیں ۔ مثلاََ فرانس میں 1789 میں 50% لوگ فرانسیسی نہیں بولتے تھے اٹلی میں اتحاد کے وقت 1/2 2 اطالوی زبان روزمرہ کے استعمال کی حد تک جانتے تھے مگر دونوں ملکوں میں ایک معیاری زبان کو قومی زبان بنایا گیا۔

جرمن رومانویت نے دریاؤں اور گھنے جنگلوں کو قوم کے کردار سے لاد دیا کہ جس طرح دریا بہاؤ کے عالم میں رہتے ہیں اور زمین کو سیرآب کرتے ہیں اس طرح سے جرمن ذہن تخلیقی عمل میں مصروف رہتا ہے جس طرح گھنے جنگل خاموشی اور غور و فکر کا احساس پیداکرتے ہیں یہی عناصر جرمن قوم میں فلسفیانہ خیالات و افکار کی تخلیق کا باعث ہوتے ہیں ۔

جرمن نیشنل ازم میں فرد سے زیادہ ریاست کی اہمیت ہے جب کہ برطانیہ میں فرد کی آزادی کو اہمیت دی گئی دوسرا جرمن مفکر جس نے جرمن نیشنل ازم کو مزید طاقتور بنا دیا وہ نفشٹے تھااس نے جرمن زبان پر اور اس کی اہمیت پر زور دیا یہاں تک کہ جرمن کلچرغیر ملکی عناصر سے داغدار نہ ہو فرسڈمن لڈوں باں نے اس کو عملی تحریک کی شکل دیتے ہوئے محب وطن نوجوانوں کی فوجی جماعت بنائی ۔ ملبوس رضا کاروں کی فوج کو تیار کیا تاکہ ملک کا دفاع کیا جاسکے ۔ اس کے نظریہ کے مطابق جرمنی کو ایک طاقتور رہنما کی ضرورت ہے جو قوم کو آزاد کرائے اسے متحد کرے ۔ اس سے نیشنل ازم بہت زیادہ پُر اثر اور مقبول ہوتا ہے کیونکہ تشبیہات ، استعارے ، گیت ،داستانیں اور قصے کہانیاں احساسات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور انہیں متاثر بھی کرتے ہیں

** باصم طبی نے اپنی کتاب عرب نیشنل ازم میں تفصیل سے جائزہ لیا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے عرب دانشوروں نے فرانسیسی اور انگلش نیشنل ازم کے ماڈل کو رد کر دیا کیونکہ ان دونوں طاقتوں نے ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی تھی ان حا لات میں جرمن نیشنل ازم کا لسانی ماڈل موزوں تھا ۔ الحصری نے خاص طور سے نیشنل ازم میں زبان کے عنصر کو مقبول بنادیا اور دلیل دی کہ زبان کی اہمیت اس لیے ہے کہ اس کے ذریعے ہی مذہب کو سمجھا جا سکتا ہے اگر مذہب غیر زبان میں ہوتو وہ اتحاد کا باعث نہیں بن سکتا۔ یہودی چونکہ ایک قومی مذہب ہے اس لیے اس نے انہیں متحد کر دیا عربوں کا یہ لسانی نیشنل ازم سیکولرشکل میں ابھرا اور اس نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ایک قوم کی شکل دی۔ زبان جس قدر مضبوط ہوگی اس قدر نیشنل ازم کی جڑیں گہری ہونگی ۔

 ان دانشوروں نے تاریخ کو بھی سیکولر بنادیا فلپ کی کتاب کا ٹائیٹل ہے ہسٹری آف دی عرب اسی طرح البرٹ حورابی کی کتاب ہسٹری آف دی عرب پیپلز ۔ عربی زبان کی سرحدیں کسی ایک ریاست میں نہیں تھیں بلکہ یہ ماورائے ریاست تھا اس میں عربی زبان بولنے والے چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو قوم کا حصہ تھے۔

کالونیل دور میں ایشیاء و افریقہ کے ملکوں میںآزادی کی جو تحریکیں ابھریں ان کی بنیاد بھی کلچرل نیشنل ازم پر تھی ان قومی تحریکوں کے رہنما متوسط یورپ کے ترقی یافتہ افکار و خیالات کے لیے معاشرے میں جگہ نہیں تھی روشن خیال اور عقلیت پرستی ان کے ذہن کو بنانے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکی ۔ انہوں نے قومی تحریکوں کو کلچر ازم کی بنیادجس چیز پر رکھا وہ رومانویت تھی چونکہ ان تحریکوں کا مقصد کالونیل ازم سے آزادی تھی اس لیے انہوں نے مغربی افکار و نظریات کو چیلنج کیا اور ردعمل کے طور پر کالونیل سے کلچر کے احیاء کی تبلیغ کی کہ جس نے جاگیردارانہ روایات ، تاریخی ہیروز اور ماضی کے سُنہری دور کی خوبصورتی اور عظمت کو ذہنوں میں بٹھادیا۔

تیسری دنیا کے نیشنل ازم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پسماندہ ہے مغرب کے دانشوروں نے اس کی پسماندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے دلیل دی چونکہ یورپ کی اقوام میں ایک تسلسل ہے ان کے ہاں قوم کی شناخت ،تاریخی کلچر اورروایات سے ہے لہٰذا ان میں نیشنل ازم کی تخلیق سے قومی شعور اور شناخت موجود تھی جب کہ کالو نیل ازم سے آزاد ہونے والے ملکوں کی سرحدیں بدلی گئیں ایتھنک اور لسانی جماعتوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا گیا اس لیے ان کے ہاں قوم کی تشکیل کا مرحلہ آیا تو ان کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کی جڑیں تلاش کرنا مشکل تھااس وجہ سے کچھ دانشور اس نیشنل ازم کو محض انتظامی ضرورت کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں اس کو یورپ کے نیشنل ازم سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی ہے۔کیونکہ یہ کالونیل دور میں ابھرا ۔ اس کی تاریخی جڑیں نہیں ہیں اسے کالونیل ازم کے خلاف نیشنل ازم کہا جاسکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔

 ہندوستانی قوم پرستی پر جی ایلویسس نے اپنی کتابNationalism without a national in india,1997 اس کے اہم کرداروں میں اس کا طبقہ اشرافیہ جس میں جاگیر دار بورژوا دونوں شامل تھے ان کے مفادات کے تحت ہندوستان میں قوم پرستی وجود میں آئی ۔ جب ماضی کا احیاء کیا گیا تو یہ دراصل برہمن ازم کا احیاء تھا گپت دور ہندوستان کا سُنہرا دور کہلایا کیونکہ اس میں برہمنوں کا اقتدار بحال ہوا تھا ذات پات کا معاشرہ مستحکم ہوا تھا نیشنلزم کے اس پہلو پر نچلی ذات کے لوگوں نے احتجاج بلند کیا نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا کے ذات پات کے نظام کی تعریف کی ہے ان کے ہاں آریا تہذہب اور برہمن ازم ہندو کلچر کا حصہ ہیں اس لیے اس میں نچلی ذات کے لوگوں اور مذہب کے ماننے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے وہ ہندو معاشرے کے تسلسل پر زور دیتے ہیں تبدیلی پر نہیں 

ایلویسس گاندھی جی پر بھی تنقید کرتا ہے کیونکہ وہ بھی تاریخ کے اسی تسلسل کو برقرار رکھنے کے حامی تھے اور معاشرتی سماجی ڈھانچہ میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے تھے ۔ وہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ گاندھی نے مذہب کو سیاست کاحصہ بنا کر سیکولرازم کو کمزور کیا انہوں نے عوام کو مذہبی نعروں کے ذریعے اکھٹا کیا جن میں گائے کا تحفظ،ذات پات کا تحفظ اور قدیم روایات کا احیاء شامل تھا اس کی دلیل کے مطابق ہندوستان کو انقلاب یا تبدیلی کے عمل سے دور رکھنے کے لیے انہوں نے گاؤں کی زندگی کے احیاء کی مخالفت کی تھی۔

 اسی پس نظر میں گاندھی جی کی قوم پرستی،مساوات،صلاحیت،حرکت اور تبدیلی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد ایک ایسا نیشنل ازم ہے کہ جس میں ہندوؤں کے علاوہ دوسرے مذہب کے مانے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اسی وجہ سے اس کے زیر اثر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ ہوا، فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور ہندوستان کی سیکولر روایات و ادارے کمزور ہوئے۔اس تناظر میں اگر پاکستان میں نیشنل ازم کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں بہت زیادہ پیچیدگی نظر آئے گی کیونکہ دو قومی نظریے کی وجہ سے اس کی نیشنل ازم کی بنیاد مذہب پرتھی جب برطانیہ نے اپنی نئی کالونی کی وجہ رکھی تو اس کی یہی تعریف کی جاتی رہی تو اس نے بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے دائرے سے نکال دیا ۔ لیکن یہ مذہبی نیشنل ازم اپنی لفاظی اور جذبات کے باوجود پاکستانی قوم کی تشکیل نہیں کر سکا اس کے خلاف جو علاقائی یا حقیقی فطری نیشنل ازم پیدا ہوئے ان میں بنگال اور سندھ نے زبان کی بنیاد پر مرکزی نیشنل ازم کا مقابلہ کیا جبکہ بلوچ ننے تاریخی حقائق الگ ریاست، زبان،پہچان کی بنیاد پر اپنی نیشنل ازم کی بنیادوں کو مزید اُجاگر کیا جو آج تناور درخت کے طور پر دنیا کے سامنے الگ ریاست کی جستجو میں منظر عام پر ہے۔

کالونیل ازم سے آزادی میں نیشنل ازم کا اہم کردار رہا ہے مگر جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے چونکہ اس کی بنیاد کلچر پر تھی اس لیے اس نے احیاء کی بات کی ماضی کی طرف دیکھا ،مستقبل سے گریز کیا جن طبقات نے ان کی رہنمائی کی چونکہ ان کا تعلق مراعات یافتہ لوگوں سے تھا اس لیے انہوں نے عام لوگوں کے جذبات کو تو ابھارا مگر انہیں اقتدار میں شریک نہیں کیا اور اپنے اقتدار کومستحکم کر نے کی جدوجہد کی ، انہوں نے عوام کو سماجی اور معاشی بندھنوں سے آزاد نہیں کیا بلکہ ان کو کالونیل اداروں اور روایات میں برقرار رکھا جو ان کے اقتدار کو تحفظ دیتے تھے قومی شعور کے برعکس انہوں نے نسل پرستی، قبائلی تعصبات، مذہبی جھگڑوں اور فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھاوا دیا ۔ کیونکہ انہوں نے ماضی کی روایات کا احیاء کیا جس نے فوجی آمریت ،جاگیردارانہ تسلط اور بورژوا طبقہ کے مفادات کا تحفظ کیا۔

نو آزاد ملکوں میں حکمران طبقوں نے نیشنل ازم کو ریاست کی سرپرستی میں لوگوں پر مسلط کیا اور ایسے جذبات کے تحت ایک اسی طرح کا آمرانہ حکومت قائم کیا جس میں اختلاف کرنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔لوگوں کے ذہنوں پر نیشن یا قوم کو پوری طرح مسلط کر دیا یعنی قومی جھنڈا، قومی ترانہ اور قومی ہیروز سے لے کر قومی لباس ،قومی کھانا ،قومی کھیل ،قومی پھول ، قومی رنگ ،قومی کردار ،قومی شاعر،قومی دولت اور قومی زبان وغیرہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان قومیائے ہوئے ماحول میں تخلیق اور تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ سیاسی طور پر لوگوں کے احتجاج کو قومی مفادات  میں رد کیا جاتا ہے وہ تمام اصلاحات یا پالیسیاں جو حکمران طبقوں کے مفاد میں ہوتے ہیں وہ سب قومی منصوبے بن جاتے ہیں اس تناظر میں فرد کے مفادات سے مختلف ہوجاتے ہیں مگر اسے قومی مفادات کے نام پر اپنے مفادات کو قربان کرنا ہوتا ہے جب نیشنل ازم انتہا پسندی کی حدوں کو چھو کر فاشزم کی شکل اختیا رکر لیتا ہے تو یہ انسانیت سے کٹ جاتا ہے یہ ہٹلر کے جرمنی اور مسولینی کے اٹلی میں فاشسٹ آمریت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔

وہ یورپی دانشور ، جو اس وقت لبرل اور امپیرل ازم کے حامی ہیں وہ تیسری دنیا کے نیشنل ازم کو اور اس کی پسماندگی کو نشانہ بناتے ہیں ان کے نزدیک چونکہ یہ پسماندہ فرسودہ اور قدامت پرست ہیں اس لیے اس نے آزادی کے بعد اپنے ملکوں میں ترقی کے بجائے انہیں اور زیادہ پسماندہ بنایا۔

امپیریل طاقت نے جس اسٹرکچر کو بنایا تھا اسے توڑ کر معاشرے میں انتشار اور کنفیوژن کا شکار کردیا ان کے نزدیک یہ ایک وائرس ہے جو تیزی سے معاشرے کو بیمار کررہا ہے اس لیے ان کی دلیل ہے کہ لبرل امپیریل ازم ہی اس پسماندگی کا علاج ہے اب یہ تیسری دنیا کے ملکوں کے دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کا فریضہ ہے کہ وہ اس پر غور کریں کہ اس پسماندہ نیشنل ازم کو کیسے تبدیل کریں اور کیا اقدامات کریں کہ یہ معاشرہ پسماندگی سے نکل کر آگے کی جانب بڑھ سکیں ۔

نیشنل ازم کی ایک خصوصیات یہ ہے کہ اس کے ذریعے قومی ریاست وجود میں آتی ہے ۔ ریاست کا ادارہ وقت اور ماحول میں بدلتا ہے ۔ قدیم دور میں ہم شہری ریاست کی وجود کو دیکھتے ہیں عہد وسطیٰ میں ریاست کی شکل یونیورسل تھی جدید دور میں قوم کی حیثیت سے قومی ریاست ہوگئی ۔ ایک دوسرے مفہوم میں یہ عہد وسطیٰ میں علاقائی تھی۔ ویسٹ فیلیا (1648) کے معاہدے کے بعد خودمختار اقتدار اعلیٰ کی حامل ریاست کے طور پر ابھری ، فرانسیسی انقلاب نے قومی ریاست کو جنم دیا ۔

جدید دنیا میں ریاست کی اہمیت اس قدر ہوگئی کہ صرف اسے قوم سمجھا جاتاہے کہ جو ایک ریاست کی تشکیل کرتی ہے اب صرف قومی ریاست ہی عالمی اداروں کی رکن بن سکتی ہے قومی ریاست کے وجود میں آنے کے بعد دنیا کی تاریخ پر کیا اثرات مرتب ہوئے تو اس کا اندازہ اس عمل سے ہوتا ہے کہ جب 19ویں صدی میں یورپ میں قومی ریاستوں کا وجود عمل میں آیاتو اس نے جارحانہ امپیریل ازم ، نسل پرستی ، فاشزم اور حب الوطنی کی انتہا پسندی کو پیدا کیا ۔ چونکہ قومی ریاست کا وجود ابھرتے ہوئے سرمایہ دار نظام میں ہوا تھا ۔ اس لیے ان ریاستوں کو اپنے مال کی کھپت کے لیے منڈیاں چاہیے تھیں ۔ انہوں نے کالونیل ازم اور امپیریل ازم کو پیدا کیا ۔ ایشیاء اور افریقہ کے ملکوں کے قبضے کے لیے ہوس بڑھتی گئی اور ہر یورپی قومی ریاست کی خواہش تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ ممالک پر قبضہ کر کے ان کے ذرائع کو استعمال کرے۔ اس دوڑ میں یورپ کے دانشور وں نے بھی اپنی اپنی ریاستوں کی حمایت کی اور کالونیز پر قبضہ کو تہذیبی مشن کے طور پر پیش کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کالونیل طاقتوں نے اپنے مقبوضہ ممالک کے استحکام کلچر اور روایات کو توڑ کر وہاں اپنے کلچر اور زبان کو فروغ دیا۔ جس نے ان معاشروں میں جدید و قدیم کے درمیان تصادم کو پیدا کیا ، بلکہ ان کی شناخت کو بھی پیچیدہ بنادیا۔

قومی تحریکوں کے نتیجہ میں جب نئے ملک آزاد ہوئے تو ان کی قومی ریاستیں مصنوعی طور پر تشکیل دی گئیں ۔ ان کی سرحدوں کا تعین سیاسی مفادات کی خاطر کیا گیا ، ان کی آبادیوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ، ان کی زبان اور کلچر کو توڑکر علیحدہ علیحدہ خانوں میں بانٹ دیا گیا مثلاََ مشرقِ وسطیٰ میں اردن اور اسرائیل نئے ممالک بنائے گئے عراق ، لبنان اور ترکی کی سرحدوں کا دوبارہ سے تعین کیا گیا ۔ خلیج فارس میں عرب امارات کی تشکیل کی گئی برصغیر ہند کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا پاکستان کی صورت میں کالونی بنا کر مذہبی انتہا پسندی اور عالمی سامراج کے لئے ایک مورچہ تشکیل دیا گیا۔ یہی صورت افریقہ کی گئی ساؤتھ ایشیاء میں کوریا،ویتنام کو تقسیم کیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ اب ان کے بارے میں کہا جارہاہے کہ یہ قومی ریاستیں نہیں ہیں بلکہ انتظامی یونٹس ہیں ۔

اس وقت تیسری دنیا میں قومی ریاستوں پر یاتو فوجی آمروں کا قبضہ ہے یا مطلق العنان اور نام نہاد بادشاہتیں ہیں اور اگر کہیں جمہوریت ہے تو اس پر طبقہ اعلیٰ کی حکمراں طبقہ ریاستی حب الوطنی کا پرزور پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔اخبارات ،رسائل ،ریڈیواور ٹی وی کے علاوہ نصابی کتب کے ذریعے ریاستی وفاداری کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے اور ریاست عوام پر اپنے تسلط کو مضبوط کرتی ہے قومی ریاست کی وفاداری کو اس حد تک ذہنوں پر حاوی کردیا جاتا ہے کہ اس کی ذرا سی مخالفت غدار وطن بنا دیتی ہے اس لیے یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ قومی ریاستیں عوام کو آزادی دے رہی ہیں یا انہیں تنگ نظر اور انتہا پسند بنارہی ہیں ۔

لیکن موجودہ صورتحال میں یہ قومی ریاستیں گلوبلائزیشن اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پھیلاوے سے خطرے میں ہیں جو ان کی طاقت اور اختیارات کے دائرے کو محدود کررہی ہیں اس لیے یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا قومی ریاست ختم کر دیا جائے ۔ اگر یہ ہوتا ہے پھر لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا ؟ اگر قومی ریاست کو برقرار رکھا جائے تو پھر ضرورت ہے کہ اس کے اسٹرکچر (ساخت ) کی تشکیل نو ہو جو جدید حالات کے مطابق ہوا ور جس میں چند طبقوں کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ عوام کو ان کی حقوق ملنے کی ضمانت ہو ۔

نیشنل ازم کی تاریخ سے ہمارے سامنے جو نتائج آئے ہیں ان کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ اس نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ یہ ایک موثر طاقت کے طور پر ابھرا اور اپنی قوت سے اس نے ہیپس برگ امپائراور عثمانی خلافت کا خاتمہ کر کے ان کے آزاد علاقوں میں قومی ریاستیں قائم کیں اس کے زیر اثر یورپ میں کالونیل ازم اور امپیریل ازم ابھرا جنہوں نے کمزور ملکوں کو اپنی نو آبادیات بناکر وہاں حکومت کی ۔ لیکن اس کے زیر اثر مقبوضہ ملکوں میں قومی تحریکیں ابھریں کہ جنہوں نے اپنے ملکوں کو ان سے آزاد کرایا۔

نیشنل ازم آج بھی امریکی امپریل ازم کا بنیادی ستون ہے کہ جس کے سہارے وہ اپنے تسلط کو عالمی طور پر بڑھا رہا ہے نو آباد ملکوں میں اب بھی نیشنل ازم علیحدگی پسند جماعتوں کے لیے ایک نظریہ ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔
لیکن نیشنل ازم کے منفی پہلو بھی ہمارے سامنے ہیں جب اس کی بنیاد کلچر پر ہوتی ہے تو اس میں انتہا پسندی اور تعصب آجاتا ہے اپنے کلچر کی برتری اس قدر ذہنوں میں سما جاتی ہے کہ دوسری ثقافتوں سے سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی ہے یہ قوم پرستوں کو انسانیت سے کاٹ کر علیحدہ علیحدہ خانوں میں مقید کر دیتی ہے ۔

یورپ کے دانشوروں کا یہ کہنا کہ ایشیاء و افریقہ کا نیشنل ازم پسماندہ ہے جب کہ یورپی نیشنل ازم ترقی یافتہ۔ مگر یورپ کے ترقی یافتہ نیشنل ازم نے دنیا پر تسلط قائم کرکے ، جنگ قتل و غارت گری اور معاشی لوٹ مار کا بازار گرم کیا ، نسلی برتری کے ذریعے دوسری اقوام کو ادنیٰ درجہ قرار دیا اور آج بھی امریکی نیشنل ازم عالمی بربریت کا مظہر ہے اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کے پسماندہ نیشنل ازم نے عالمی استحصال کے بجائے اپنے لوگوں کا استحصال کیا ، لہٰذا اس صورت میں دونوں قسم کے نیشنل ازم نے انتہا پسندکو بڑھایا اور عالمی و ملکی طور پر لوگوں کو بحرانوں سے دوچار کیا ۔

**اس وقت جب کہ یورپ قومی ریاستوں کو ختم کر کے متحدہو رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا دوسرے جغرافیائی علاقے اس ماڈل کو اختیار کریں گے یا بدلتے حالات میں انہیں قدیم اور فرسودہ اداروں کو برقرار رکھیں گے ؟
آج بلوچ خالص نیشنلزم کی جدید جدوجہد میں ایک آزاد ریاست کی جستجو میں ہے جو قومی برابری کی بنیادوں پر ہوگا ۔امیر،سرمایہ دار میر و معتبر اسکی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کہ آزاد بلوچ ریاست جہاں برابری قومی برابری کے اصولوں بنیاد پر قائم ہوگا انکو اپنی موت نظر آ رہی ہے جسکی وجہ سے وہ اسکی مخالفت کر رہے ہیں،برطانوی کالونی پاکستان چونکہ سرمایہ دارانہ نظام پہ چل رہی ہے اسی میں یہ قبیل خود کی بقا اور پروش جان ہو کر پاکستانی نیشنلزم کی پر چار کر رہے ہیں جسکا نہ کو ئی سر ہے نہ پاؤں۔
................................
(یہ مضمون بی این ایم کے ترجمان زرمبش کے شمارہ نمبر 7مئی2012 سے لیا گیا ہے )


جمعرات، 26 اپریل، 2018

عورت کے سماجی حقوق - شاہ محمدمری



عورت کے سماجی حقوق 
یوسف عزیز مگسی کی نظر میں
 ڈاکٹر شاہ محمد مری 

بلوچوں میں بے شمار مدبر پیدا ہوئے ہیں۔ بہت روشن فکر، دوراندیش اور وژنری راہنما۔ اِن سب کا سرخیل یوسف عزیز مگسی تھا۔اُسے اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ بلوچستان کے اندر موجود آدھی آبادی کو انسانوں والے حقوق حاصل نہیں ہیں اور یہ 50فیصد آبادی اپاہج وناکارہ رکھی گئی ہے ۔وہ حیران تھا کہ ایک ایسی سرزمین کی ترقی کیسے ممکن ہو گی جہاں آبادی کا اتنا بڑا حصہ بے کارو بے فائدہ پڑا ہواہو۔
اُس نے دیکھا کہ بلوچ وبلوچستانی خاتون نہ صرف یہ نا کارہ کردی گئی ہے بلکہ اُس کو تو فیوڈل اور نیم فیوڈل نظام میں انسانوں میں ہی شمار نہیں کیا جاتا۔ وہ طبقاتی نظام اورپدرسری، ڈبل ظلم کی شکار ہے ۔ اُس کے حال سے تو اُس کا ماضی اچھا تھا جہاں ایک ابتدائی اور فرسودہ سا کمیونزم رائج تھا۔ مادرسری کے اُس نظام میں عورت کام کرتی تھی ۔ سماج اُسے عزت دیتا تھا۔ وہ انسانوں میں شمار تھی ۔ فیصلوں اجتماعوں اورجنگوں میں حصہ لیتی تھی، بطور سپاہی بھی اور بطور کمانڈر بھی ۔ وہ جنگیں رکوا دیتی تھی ۔خوراک و آمدن کی تقسیم کار تھی ۔ بلوچی کلاسیکی شاعری بھری پڑی ہے 
ایسے تذکروں سے ۔

بلوچی شاعری سے پتہ چلتا ہے کہ رسم سیاہ کاری(کاروکاری) کا بلوچ قبائل میں کوئی رواج نہ تھا لیکن جیسے ہی بلوچ قبائل جاگیرداری نظام کے زیر اثر آئے تو عورت ،جائیداد کی طرح مرد کی ملکیت قرار پائی۔ معمولی شک پہ، یا اُس سے چھٹکاراپانے کے لیے یا اُس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے ،اُس پر سیاہ کاری کا الزام لگا یاجاتارہا۔
ماضی قریب میں درجنوں عورتیں اس ظلم کی بھینٹ چڑھ گئیں بلکہ بلوچی دستور کے تحت اس ظلم سے بچنے کے لیے جب انہوں نے سرداروں کے ہاں پناہ لی تو ان خواتین کو بلوچی دستور کے خلاف سرداروں نے بیچ ڈالا۔
عورتوں کے حقوق کے بارے میں یوسف عزیز مگسی کی بے چینی اولین بار ہمیں بلوچ کانفرنس جیکب آبادمیں نظر آتی ہے ۔ یہ چار روزہ کانفرنس دسمبر1932کو منعقد ہوئی تھی۔ بلوچ تاریخ کی اس اولین آل انڈیا سطح کی بلوچ کانفرنس میں عورتوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی سے متعلق مندرجہ ذیل ٹکڑا پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

چنانچہ ورکنگ کمیٹی نے اپنی محترم ہمشیر گانِ وطن کی درخواست کا خیر مقدم کرتے ہوئے نہایت خوشی سے اُن کی استدعا کو منظور کرلیا۔اورمستورات کے لیے باقاعدہ پردہ کا انتظام کیا جائے اور بغیر فیس داخلہ کے شامل کیا جاوے ۔ ہم اپنی محترم خواتین کی خدمت میں التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنی بہنوں کو جو عموماً تعلیم سے بے بہرہ اور مردوں سے کئی گنا زیادہ جہالت میں ہیں، بیدار کریں اور اپنی جیکب آباد کی بہنوں کی تقلید کرتے ہوئے کانفرنس میں شمولیت فرماویں۔ اور دیگر بہنوں کوبھی اغراض و مقاصد سے واقف کرتے ہوئے مستقبل کے روشن پہلو سے آگاہ کریں۔

جنرل سیکریٹری آل انڈیا بلوچ کانفرنس جیکب آباد ،سندھ۔
صرف بلوچ نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لوگوں کے لیے آل انڈیا بلوچ کانفرنس ایک نعمت تھی ۔ یہ ہمارے قومی افتخارات میں شاید سب سے بڑا افتخار ہے۔ یہ ایک مہذب وشائستہ انسانی تحریک کا آغاز تھی ۔ اس میں وقتی معاملات کے ساتھ ساتھ عالمگیر ابدی سچائیوں کو ہمارے لیے جمع کردیا گیا تھا ۔مثلاً یہ ہمیشہ سے ایک اہم سوال رہا ہے کہ بلوچ قومی عوامی تحریک میں عورت کا سٹیٹس کیا ہو؟ ۔
ہماری پوری نسل اس بحث میں کھپتی رہی۔ تقریباًایک صدی گزر گئی یہ بحثیں کرتے کرتے۔ کاش ہماری قوم کو1932کی بلوچ کانفرنس کی روداد پہلے مل جاتی تو اس پوری بحث میں جانے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ ہمارے باصلاحیت اکابرین اُس زمانے میں ہمارے لیے ہمیشہ کے لیے یہ معاملہ طے کرگئے تھے۔

البلوچ کےدسمبر 1932کے شمارے میں ایک خاتون کی طرف سے دوسری خواتین کے لیے یہ اپیل شائع ہوئی ہے : میری محترم ہمشیرو ۔ آپ آل انڈیا بلوچ کانفرنس جیکب آباد کے انعقاد کی نسبت مختلف اخبارات میں اعلانات ملاحظہ فرما چکی ہو۔ اس وقت جبکہ ہم اس اصول تعاون کو جس پر کاربند رہنے کے لیے ہمارے پاک مذہب کے بانی بابرکت قبلہ دوجہاں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ، چھوڑ چکی ہیں ۔ اور تغافل میں رہ کر دائرہ تہذیب نسواں سے گر کر تنزل میں پڑ گئی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہمسایہ قوموں کی ترقی پر غور کریں اور اپنی بہبودی کی جدوجہد کرتے ہوئے دائرہ تہذیب میں رہ کر اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیویں۔ اس وقت جبکہ دنیا سے تاریکی کا پردہ اٹھ چکا ہے اور ہر جاروشنی کا علم ہے ۔ اور تمام قومیں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے میدانِ ترقی میں نہایت سرعت سے گامزن ہیں۔ ہمارے محترم برادران زعمائے بلوچستان نے اپنی قوم کا درد محسوس کرتے ہوئے مردہ قوم کی فلاح وبہبودی اور راہِ مستقیم سوچنے کے لیے آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا اعلان فرمایا ہے۔ اور ہماری استدعا پر محترم ہمشیرگانِ وطن کو بھی مدعو کیا ہے اور بغیر فیس داخلہ کے شمولیت منظور فرمائی ہے ۔ نیز پردہ کا خاطر خواہ انتظام کیا ہے ۔ ان کی اس فراخدلی کے لیے ہم ممنون ہیں۔ اس لیے میں اپنی ہمشیرگانِ وطن مسلم وغیر مسلم کو اپنی ان پستیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپیل کرتی ہوں کہ خدارا بیدار ہوجاؤ اور وقت کی قدر کرو۔ اس موقع کو غنیمت جان کر آل انڈیا بلوچ کانفرنس میں شمولیت فرما کر اپنی پستیوں کا علاج سوچ نکالو اور ہمسایہ قوم کی خواتین کی طرح اپنے بھائیوں کے دوش بہ دوش ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کرو۔

مسز غلام حیدر مغل ، جیکب آباد

27دسمبر کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی ۔ ہمیں اس میں کی جانے والی تقریریں تو نہ مل سکیں مگر اس میں منظور کردہ قرار دادیں ملیں۔
قرار دادیں کسی بھی جلسے اجلاس ، سمینار وغیرہ کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ سے لے کر کسی مقامی اجلاس تک یہی روایت ہے کہ قرار دادوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ چنانچہ خوش قسمتی ہے کہ ہماری قوم قرار دادوں جیسی بڑی دولت کی مالک ہے ۔ وہ بھی کسی عام اجلاس کی نہیں بلکہ 146146آل انڈیا بلوچ کانفرنس 145145 کی قراردادوں کی۔ مجھے یقین ہے کہ بلوچ کے قومی اعزازات میں 1932کی آل انڈیا کانفرنس کی قرار دادیں مہر گڑھ ، پرنسیس آف ہوپ، عظیم الشان بلوچ ساحل ، معدنی دولت اور آزادی کی جنگوں جتنی اہم ہیں۔اس چار روزہ کانفرنس کے اختتام پر جو 28قرار دادیں منظور ہوئی تھیں وہ سب کے سب مرد وزن دونوں کے لیے تھیں۔ البتہ اُن میں سے چھ تو الگ اور مخصوص طور پر عورتوں کے بارے میں تھیں ۔ ملا حظہ ہوں:

1۔یہ کانفرنس سیاہ کاری کے اس رواج کو بنظرِ نفرت دیکھتی ہے جس کے ذریعہ سے سیہ کار آدمی اور قاتل سے ان کی لڑکی یا بہن جبراً نکاح میں لی جاتی ہے۔لہذا یہ کانفرنس گورنمنٹ بلوچستان اور ریاستی کانفیڈریشن آف بلوچستان سے انسانیت کے مقدس نام پر اپیل کرتی ہے کہ آئندہ کسی معصوم لڑکی کو کسی فاحش آدمی کے جرائم کا شکارنہ بنایا جائے۔
2۔ یہ کانفرنس گورنمنٹ سے استدعا کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں قحبہ خانہ (چکلہ) کو جو شرعاً اور اخلاقاً ایک سنگین اور مجرمانہ رواج ہے ، بند کیا جائے ۔
3۔یہ کانفرنس رسمِ لب اور ولور کو نہایت ہی نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے بلوچ، افغان و بروہی وغیرہ اقوام بلوچستان سے امید کرتی ہے کہ اس حقیرو ذلیل رسم کو جتنی جلد ہوسکے منسوخ کردیں اور گورنمنٹ سے امید رکھتی ہے کہ وہ اس مذموم رسم کی انسداد کی تدابیر جلد از جلد عمل میں لائے گی۔
4۔ یہ کانفرنس گورنمنٹ برٹش بلوچستان اور ریاستی کنفیڈریشن آف بلوچستان سے التجا کرتی ہے کہ وہ مہر بانی کرکے تعلیمِ نسواں کو اپنے اپنے علاقوں میں ترقی دیں اور ساتھ ہی قوم سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اس طرف خاص توجہ مبذول فرمائے۔
5۔ یہ کانفرنس حکومت ہائے بلوچستان سے استدعا کرتی ہے کہ وہ عورتوں اور بیواؤں کو بطورِ ورثہ اشیائے خانگی کی طرح ایک شخص کی موت کے بعد اُس کے وارثوں کے حوالے کیے جانے کو قانوناً ممنوع قرار دے اور عورتوں کے حقوق زنا شوئی ، وراثت اور ترکہ بروئے شرعِ انور قائم کیے جائیں۔
6۔یہ کانفرنس ریاستہائے بلوچستان ، سندھ اور پنجاب سے درخواست کرتی ہے کہ بلوچوں کی اِس مذموم مراسم کو بند کرا دے جس کی رو سے لڑکیوں کی نسبت اُن کی پیدائش سے قبل قرار پائی ہے ۔

ٹھنڈے دل سے ذرا دوبارہ اِن قرار دادوں کو دیکھیے۔ اور پھر آپ بلوچوں کے آج کے کسی جلسے سمینار وغیرہ کی قرار دادیں بھی دیکھیے ۔ آپ حیران ہوں گے وہ لوگ ہم سے زیادہ روشن فکر اور جرات مند تھے ۔انہیں معروض کا کوئی بہانہ درپیش نہ تھا۔ وہ اپنے قومی فریضے کی ادائیگی میں کسی طرح کا پس وپیش نہیں کرتے تھے ۔

1932کانفرنس کے بعد بھی یوسف عزیز مگسی اور اُس کے ساتھی اپنے شعور کوارتقا دلاتے رہے ۔ یہ لوگ حتمی طور پر عورتوں کے انسانی جمہوری حقوق کے داعی تھے ۔ لندن سے اوائل 1935میںیوسف عزیز مگسی نے اپنے دوست اور سیاسی رفیق محمد امین کھوسہ کو ایک خط میں یوں لکھا:
۔۔۔تمہاری بربادی کا باعث انگریز نہیں بلکہ تمہارے دراز ریش مذہب فروش باشندے ہیں۔ کم بختوں نے مذہب جیسی بلند تخلیق کو دنیا کا بدترین کھلونا بنا کر انسانی آبادی کے ایک عظیم حصے کو برباد کرڈالا۔ خدا اُن سے سمجھے۔۔۔
حیران ہوتا ہوں جب بڑے بڑے دماغوں کو ان امتیازوں( یعنی مرد وزن کے درمیان )کا اسیر دیکھتا ہوں۔۔۔
مگر امین ۔ یورپ کے متعلق آپ کے علمائے دین کی تمام رائیں غلط ،بخدا کہ غلط۔ یورپ بہت آزاد ہے ۔ آپ سے بازار میں ریسٹورینٹوں میں ،پارٹیوں میں آزادانہ عورتیں ملیں گی، باتیں کریں گی، کھیلیں گی، سنائیں گی اور رشتہ دار کوئی بھی دخل نہیں دیں گے۔ مگر اخلاقی لحاظ سے وہ برائی جو آگے درازریش حضرات اُس سے منسوب کرتے ہیں، ایک فیصد ی پائی جائے گی۔ یہاں کی عورت اپنی عصمت کی حفاظت آپ کے رسم ورواج کے مطابق پردہ اور تلوار بندوق کے ڈر کے ذریعہ نہیں کرتی ۔ اُن کا معیار کچھ اور ہے ۔ کاش کہ اس خط میں تفصیلات لکھ سکتا۔یہاں کی کنواری عورتیں اور وہ عورتیں جو شادی شدہ ہیں، عصمت کے معاملہ میں انتہائی بلند معیار پر ہیں۔

یوسف عزیز مگسی اس تقابلی جائزہ کے بعد یہ مطالبہ کرتا نظر آتا ہے کہ عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کیے جائیں جو اُن کو بطورِ انسان ملنے چاہییں۔
 باقی رہا آپ کی ہندوستانی معاشرت کے مطابق وہ طبقہ جو ساز وسرود کے ساتھ اعلانیہ بازاروں میں عصمت فروشی کرتا ہے ، یہاں وہ ہے مگر مختلف رنگ میں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اُس رنگ میں جس سے دوسروں کو برائی کی ترغیب نہ مل سکے ۔ مگر بہت کم ، بہت کم ۔

 آپ حیران ہوں گے ، جب ایک کنواری یورپین لڑکی ایک دو بجے تک گھر سے باہر آپ کے ساتھ کسی پارک میں تنہا بیٹھی ہوئی ہے اور مختلف موضوعات پر بحث ہورہی ہے۔۔ ۔ ممکن ہے شعر و شاعری یا محبت وغیرہ پر ہی بحث ہو، ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اقرارِ محبت بھی کرے ۔ مگر کیا مجال ہے کہ ایسی رومانٹک فضا میں، یورپ کی زندہ کن فضامیں ، تنہائی ، نیم شب کا وقت، ایسے وقت میں بھی اس کا خیال ایک لمحے کے لیے بھی عصمت فروشی کی طرف منتقل ہو۔ اگر بیوقوفی سے آپ کا خیال اس طرف منتقل ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے اپنا وقار، اپنی اخلاقی حالت کو اس کی نظروں میں مجروح کردیا ۔ یہ ہے یہاں کی اخلاقی حالت ۔ آپ کے مولویوں کی بنائی ہوئی عورت پردے میں رہے گی ، مرد کی شکل نہ دیکھ کر محض نظر کی جبریت پر عامل ہوگی، وہ مذہبی ، دیندار، نمازن کہلائے گی، مگر معاف فرمائیے گا کہ پچاس فیصدی ، جب ورثا کی غیر حاضری میںآ نکھ کا کوئی اشارہ ملے گا ، تو ہمہ تن خون ہو کربہہ جائے گی:
نکو رو تابِ مستوری ندارد
چودر بندی سراز روزن برآرد
 یہ ہے نتیجہ پابندیوں کا۔ جذبات و خیالات ، جو رسم و رواج کی پابندی سے راہ نہیں پاتے ، وہ عورت کو باغی ، عیاشی کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ وہ Day Dreamingمیں اوقات بسر کرتی ہے اور یہ دماغی عیاشی اس کے کیر کٹر کو بہت نازک او رناپائیدار بنا دیتی ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ذرا سے اشارے کی، یا ذارا سی ترغیب کی دیر ہوتی ہے اور ورثا کی غیر حاضری کا موقع بس پھر آپ جانتے ہیں۔

یہاں کی عورتیں ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہیں۔ مردوں سے کھیلتی ہیں، ننگی ٹانگیں رکھتے ہوئے بازار میں پھرتی ہیں ، دریاؤں میں تیرتی ہیں ، جس چیز کو اچھا سمجھتی ہیں ، انہیں خوف نہیں ہوتا کہ والدین مزاحم ہوں گے ، آزادانہ تعارف پیدا کر کے سیر کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں دماغی عیاشی کی اُس بد ترین شکل سے واسطہ نہیں پڑتا جیسا آپ کے علاقے میں، سمجھتی ہیں۔ عصمت کو صرف اُس کے لیے سمجھتی ہیں جوکہ ان کی زندگی کارفیق ہو، وہ بھی باقاعدہ نکاح کے بعد، پہلے نہیں۔ شاذ ونادر۔۔۔ ہاں! میں نے شاذ ونادرکہا اس لیے کہ محض نا تجربہ کار، مردوں کے وعدہِ شادی میں آکر عصمت پہلے ضائع کرتی ہیں ، مگر یہ معاملہ بہت کم ہے اور کم ہو رہا ہے ۔(1) ۔
یہ محض زور بیاں ، خالی خولی تقریریں نہ تھیں بلکہ اپنے نظریات پہ مصمم و مستحکم یوسف عزیز مگسی نے توحتی کہ اپنے وصیت نامے میں لکھا:

میری تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا نصف حصہ مساوی طریق پر میرے بھائی والدہ، بیوی ،اور منے سیف اللہ پر تقسیم ہونا چاہیے (2)۔ مجھے اُس کے استعمال کردہ لفظ مساوی  پر زور دینا ہے۔۔۔اور مجھے یوسف عزیز مگسی کے 1935میں انتقال کے بعد سے آج تک اُن لوگوں کی لسٹ مرتب کرنی ہے جنہوں نے ایسی وصیت کی ہو۔ بھلا وہ کتنی طویل لسٹ ہوگی؟۔

حوالہ جات
۔1۔یوسف عزیز مگسی کے خطوط ۔ازیوسف عزیز مگسی چیئر 2017۔صفحہ 115تا118
۔2۔ یوسف عزیز مگسی کے خطوط ۔۔ صفحہ59

جمعرات، 19 اپریل، 2018

فلسفہ ِ جمالیات اور آرٹسٹ


فلسفہ ِ جمالیات اور آرٹسٹ  
تحریر  : ارشد نذیر

قدیم یونان میں ایک لفظ  ایستھا نومیا جو انگریزی میںایستھیٹکس ہو گیا  جس کا مطلب کسی چیز کو اپنےحواس کے ذریعے محسوس کرنا ہے بولا جاتا تھا۔ اردو ادب میں اسے ذوقِ جمال یا جمالیاتی ذوق سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

انسان کو خوبصورتی ، بد صورتی ، اچھائی اور برائی ہر دور میں متاثر کرتی رہی ہے۔ ہر دور میں انسان خوشی، غم، دکھ ، درد، رنج ، تکلیف جیسے جذبات سے متاثر ہوتا رہا ہے ۔ اُس کا موضوع انفرادی محسوسات بھی رہا ہے اور اجتماعی بھی۔ تاریخ کے ابتدائی ادوار میں انسان اجتماعی زندگی گزارتا تھا۔ لہٰذا اس کے ان محسوسات کا محور و مرکز اجتماعیت ہی تھا۔وہ اپنے ان جذبوں کا اظہار پینٹنگ، سنگ تراشی، مجسمہ سازی ، موسیقی ، شاعری اور رقص وغیرہ میں کرتا رہا ہے۔

ایک تخلیق کار کا ایسے جذبوں کا بیان کردہ کسی بھی شکل میں اظہار ہی دراصل ایستھیٹکس یا جمالیاتی ذوق کہلاتا ہے۔ آرٹسٹ کا یہ جمالیاتی ذوق کس طرح تربیت پاتا ہے اور وہ اپنے آرٹ میں کس چیز کا اظہار کرتا ہے۔ آرٹسٹ اور سماج کا آپس میں کیا رشتہ ہوتا ہے ۔ ایک آرٹسٹ اپنا شہ پارہ تخلیق کرنے کے لئے خام مواد کہاں سے حاصل کرتا ہے ۔ آرٹسٹ کا جمالیاتی ذوق عوامی سطح سے کس طرح بلند ہوتا ہے ۔ ان تمام سوالوں کے جواب خود آرٹسٹ اور فلسفی اپنے اپنے طور پر تلاش کرتے رہے ہیں۔

قرونِ وسطیٰ میں جمالیاتی ذوق کا منظم اندازمیں مطالعہ نہیں گیا لیکن حسن و جمال ، بد صورتی اور قبح، اچھائی اور برائی جیسے موضوعات اس دور کے فلسفیوں کے بھی زیرِ بحث رہے۔ تاہم اٹھارویں صدی کے جرمن فلسفیوں نے جمالیاتی فلسفے پر باقاعدہ اور منظم انداز میں کام کیا ۔

افلاطون اور ارسطو جیسے قرونِ وسطیٰ کے فلسفیوں نے اس بارے میں جو نظریات پیش کئے اُس سے آنے والے مفکرین کے نظریات کی راہ ہموار کی۔ ان مفکرین نے تناسب، روشنی اور علامات جیسے عنوانات پر کام کیا۔ وہ روشنی کی ماہیت اور اس کے اثرات کے بارے میں بہت متجسس رہے۔ اسی طرح رنگ بھی اُن کی کشش کا باعث بنے رہے۔

علامات کے بارے میں ان کا نظریہ تھا کہ خالق یعنی خدا کی پہچان ہی مخلوق کے ذریعے ہوئی ہے ۔ اس لئے علامتی تخلیق بھی معنی کا اظہار کا ذرئع ہو سکتی ہے۔ کوئی علامتی شہ پارہ بھی اپنی تفہیم پیدا کر سکتا ہے اور با لخصوص ان پڑھ افراد کے لئے۔ جہاں تک کسی چیز کے اندر  تناسب  کا پائے جانے کا تصور ہے ۔ یہ خوبصورتی کا ایک لازمی عنصر ہے۔ تناسب چرچ وغیرہ کی تعمیرات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ خیالات ان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا باعث بنتے رہے ہیں۔

سینٹ آگسٹائن، سیوڈو ڈاؤنیسیس اور سینٹ تھامس اکیوینس ایسے فلسفی تھے جو افلاطونی اور نیو افلاطونی نظریات کے پرچارک تھے۔ افلاطون نے فارم  یعنی صورت یا شکل کے تصور کو اجاگر کیا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ خوبصورتی کی ایک کامل شکل و صورت ہوتی ہے جس میں ہر عضو ایک خوبصورتی کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ یہی شکل و صورت کامل خوبصورتی کہلاتی ہے اور یہی خوبصورتی خدائی ذہین کا تصور گردانی جاتی ہے۔ یہ کائنات اسی خدائی تصور کا عکس گردانی جاتی ہے ۔

اس خیال کے مطابق تمام خوبصورت چیزیں تجریدی کائنات میں نہیں بلکہ خدا ئی خوبصورتی میں شامل ہوتی ہیں۔ افلاطون کا یہ نظریہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ چونکہ خوبصورتی دراصل خالق یعنی خدا کی خوبصورتی ہی کا عکس ہے اس لئے آرٹسٹ جب کسی خوبصورت شکل یا تصور کی نقالی کرتا ہے ، تو وہ دانشمندانہ نقالی تو ہو سکتی ہے ، تاہم حقیقت سے دوہرے طور پر دور ہوتی ہے۔

شاعری اور ڈرامے کے حوالے سے اُس کا خیال تھا کہ اس میں اگر بدکار انسان کو آخر میں خوش نصیب اور کامیاب دیکھا جائے ، تو اس سے نوجوانوں پر بڑے برے اثرات مرتب ہونگے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ شاعری اور ڈرامے کے بدکار کرداروں کو آخر میں ضرور سزا ملنی چاہئے۔ اس کے برعکس تھامس ارسطو کے خیالات سے متاثر تھا اور وہ اسے کی جمالیاتی نظریات پر یقین رکھتا تھا۔

ارسطو کا یہ نظریہ تھا کہ آرٹ صرف نقالی نہیں ہے بلکہ یہ فطرت کو مثالی بناتاہے اور آرٹ ہی اس میں موجود نقائص کو ختم کرتا ہے اور پھر اشیاء کو کاملیت اور تکمیل عطا کرتا ہے ۔ جب وہ اس طرح کا کوئی تصور قائم کر لیتا ہے ، وہ اپنی ہی اسی نقالی سے مسرت حاصل کرتا ہے جس انسان کا خاصاہے۔ فطرت ماسٹر آرٹسٹ ہے جس نے ہر چیز کو متوسط خوبصورتی کی حالت میں تخلیق کیا ہے ۔ اس طرح اُس کا کہنا ہے کہ ایک بیرونی صورت یا شکل میں حقیقی خیال یا تصور ہی کا سموناآرٹ ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ خوبصورت ہی مناسب ہوتا ہے۔ وہ ایک آرٹسٹ کو ایک مسافر آرٹسٹ گردانتا ہے اور فطرت کو ماسٹر آرٹسٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔

فلسفیوں کے ہاں یہ نظریات بھی گردش کرتے رہے کہ محض تعقلیت خوبصورتی کو بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ، تاہم خوبصورتی میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کی عقلی تشریح یا توضیح ممکن ہے۔ مثلاً ترتیب، ربط اور تناسب ایسے عناصر ہیں جو خوبصورتی کے بنیادی خصائص کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا مشاہدہ عقلِ محض نہیں کر سکتی بلکہ اس کو سمجھنے کے لئے وجدان کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسانی جذبات اور احساسات ہی ان کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ بس انسان کا جمالیاتی تجربہ خوشی، غصہ، رنج، غم اور دکھ جیسی کیفیات کا مرکب ہوتا ہے ۔

اٹھارویں صدی میں ایستھیٹکس یا جمالیاتی حس پر باقاعدہ اور منظم طور پر کا م کیا گیا اور اسے فلسفہ ہی کی ایک شاخ تصور کیا جانے لگا۔اس برانچ کے تحت آرٹ اوراس کے تجربات کا مطالعہ کیا جانے لگا ۔ یہ فلسفہ اٹھارویں صدیں کے یورپ میں ابھرا اور پھر اس نے انگلستان میں ترقی پاتے ہوئے شاعری، مجسمہ سازی ، موسیقی اور رقص جیسی اصناف پر اپنے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیئے۔ اسی صدی میں پہلی دفعہ ہی ان تمام فنون کو آرٹ کے تحت یکجا کر دیا گیا۔لہذا شاعری، مجسمہ سازی ، موسیقی اور رقص کو آرٹ ہی کی مختلف شکلیں تصور کیا جانے لگا۔

ایمینوئل کانٹ ہی پہلا فلسفی تھا جس نے جمالیات کو فلسفہ کا باقاعدہ موضوع بنایا اور اس پر منظم انداز سے بحث کی۔کانٹ کا خیال تھا کہ خوبصورتی چیز کے افعال سے آزاد ایک خاصیت کا نام ہے ۔ مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ گھوڑا خوبصورت جانور ہے ، تو اُس وقت اس بات کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں رہ جاتی آیاکہ یہ دوڑ میں جیتتا بھی ہے یا نہیں۔

اُس کایہ بھی خیال تھا کہ علم کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے حصول کے لئے صرف بیرونی ذرائع ہوتے ہیں بلکہ ہماری فطری تشکیلات بھی علم کی تخلیق میں کارآمد ہوتے ہیں۔ اس سے قرونِ وسطیٰ میں پائے جانے والے اس نظرئیے کہ خیال صرف وجدان کی پیداوار ہے میں ایک تبدیلی رونما ہو گئی۔
جمالیاتی ذوق پر فیصلہ صادر کرنے کے لئے کانٹ نے آٹھ خصوصیات بیان کی ہیں۔ اس فیصلہ میں خوشی اور کرب کی کیفیات ہونی چاہیں۔ ایک فن پارہ کیونکہ پیچیدہ بھی ہوتا ہے اور اس پر فیصلہ صادر کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے ۔ پہلی مرتبہ ذوق کا تصور وضاحت کے ساتھ پیش کیا۔ کوئی فن پارہ اپنے قاری یا سامع کو ایک جامد تصور سے آزاد کر کے نئے تصورات قائم کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے ۔ اس کے اندر ذاتی دلچسپیوں سے ماورا ایک کیفیت بھی ہوتی ہے ۔ پھر وہ جمالیات کا تصور : جمالیاتی چیز اور جمالیاتی محاکمہ، جمالیاتی رویہ اور جمالیاتی تجربہ جیسے تصورات بھی پیش کرتا ہے۔
پھر جدید دور میں علمِ نفسیات اور علمِ بشریات نے خاصی ترقی کی جس کے اثرات جمالیات اور جمالیاتی ذوق پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے انسان سے متعلق تمام فلسفوں کو ایک جست لگائی ۔ اب انسانی افعال ، اُس کی ترقی و ارتقاء اور اُس کے محسوسات کا جائزہ انسان کی اپنی نشوونما اور پرورش میں لیا جانے لگا۔ آفاقی اور ماورائی قوتوں کو انسانی زندگی سے تقریباً بے دخل کر دیا گیا۔

فرائڈ اور اُس کے شاگرد یونگ جیسے نفسیات دانوں نے انسان کے تمام جذبوں کو اس کے فطری اور جبلی جنسی محرکات کی پیداوار قرار دیا اور اپنے سائنسی تجربات سے اس حقیقت کو کافی حد تک ثابت کر دیا۔ اسی طرح علمِ بشریات میں اس بات پر تحقیق شروع ہو گئی کہ تاریخ اپنی ترقی اور ارتقاء کے سفر میں کچھ قوانین کی پیروی کرتی ہے۔

اس زمانے میں ہمیں مارکس اور اینگلز جسے فلسفی بھی ملتے ہیں جنہوں نے سماج کی ترقی اور ارتقا ء کا جدلیاتی انداز سے جائزہ لیا۔ مارکس اور اینگلز کے سماج کے مطالعے کی اس جدلیاتی سائنس نے آرٹ ، خوبصورتی اور جمالیات جیسے فلسفوں کو بھی متاثر کیا۔ مارکس اور اینگلز کا یہ ماننا ہے کہ معاشی اور سماجی حالات اور بالخصوص طبقاتی تعلقات جو انہیں معاشی اور سماجی حالات کے تحت جنم لیتے ہیں انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان حالات کے اثرات مذہب، قانون اور ثقافتی ڈھانچوں سب پر مرتب ہوتے ہیں۔

ان حالات میں ایک آرٹسٹ کا کام ان حالات کی صرف تصویر کشی کرنا نہیں ہے بلکہ ان کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے ۔ جدید صنعتی سماج میں انسان کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج میں جدید صنعتی پیداوار میں محنت کش کی زندگی کا کنٹرول اُس کے اپنے ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور وہ ایک مشینی پرزہ بن کر رہ جاتا ہے جس میں اس کے انسانی جذبات و احساسات کچل کر رہ جاتے ہیں۔

محنت کش سے جب اس طرح کام لیا جاتا ہے ، تو کچھ عرصے کے بعد وہ اس سارے نظام میں ایک مشینی پرزے کی طرح ردِعمل کرنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے انسانی جذبات کے حوالے سے سماج سے کٹ کر رہ جاتا ہے ۔ جس کو وہ فلسفہِ بیگانگی کہتا ہے۔ اس نظام میں نامیاتی خرابی ہے جو کہ منافع اور شرحِ منافع کی ہوس کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔ اس نامیاتی خرابی کی موجودگی میں انسان کی عظمت و وقار کی بحالی ایک ڈھکوسلا ہے ۔ انسان کو حقیقی آزادی حاصل ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس نظام کو سوشلزم سے نہیں بدل دیا جاتا۔

اس کے بعد ما بعد از جدیدیت کا دور شروع ہوتا ہے جس میں ناقدین نے آرٹ کے تصورات پرنئے سرے سے اعتراضات اٹھانا شروع کر دیئے اور یہ کہا جانے لگا کہ آرٹ جیسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے اگر کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو وہ صرف اور صرف آرٹسٹ ہوتا ہے ۔ آرٹ کے مورخین بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ آرٹ جیسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے اگر کسی چیز کا وجود ہے تو وہ صرف آرٹسٹ ہے۔ ما بعد از جدیدیت والوں نے یہ سوالات اٹھانا شروع کر دیئے کہ آیا آرٹ کو جامعات میں پڑھایا بھی جانا چاہئے یا نہیں۔

پھر کیا ہمارے پاس کوئی ایسا معیار اور پیمانہ ہے ، جس کی بنیاد پر ہم تمام تاریخی ادوار ، ان کی ثقافتوں اور تہذیبوں میں پیدا ہونے والے آرٹ پر محاکمہ کر سکیں؟ یہی وجہ ہے کہ وہ آرٹ کی جامعات میں تعلیم کے تصور کے خلاف ہیں۔ اس پر ان کے اپنے استدلال موجود ہیں۔ اُن کا پہلا استدلال یہ ہے کہ آرٹ کی بہت ساری اقسام ہیں جو ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ ان کی تفہیم کے لئے کوئی ایک تھیوری یا نظریہ کافی نہیں ہے۔

جمالیات  ، جمالیاتی ذوق اور آرٹ کا تاریخی جائزہ لینے کے بعداس کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔
آرٹسٹ کسی انسان یا سماج کے لطیف جذبوں اور اُس کی جذباتی اور ہیجانی کیفیات کا اظہار اپنے فن میں کرتا ہے ۔ فن اپنے اظہار کے ذرائع خود تخلیق کرتا ہے ۔ اظہار کا ذرئع خواہ کچھ ہی ہو لیکن اس میں ہمیشہ دوبنیادی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ آرٹ یا تخلیق کو مکالماتی یعنی کمیونیکیٹو ہونا ہوتا ہے۔ دوئم یہ کہ آرٹ اپنے اظہار کی کوئی سی شکل کیوں نہ اختیار کر لے ، وہ اپنا مواد ماضی سے حاصل کرے یا اپنے سماج سے یا پھر کوئی تصوراتی دنیا تخلیق کر ڈالے، لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ اُس میں اپنے سماج کے معیارات پر عدم اعتماد اور عدم اطمنان کا اظہار کر رہا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے سماج کے خوبصورتی ، بد صورتی ، اچھائی اور برائی کے معیارات کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔ اُس کی یہی بے چینی اور بے قراری اُسے ایک بڑا تخلیق کار بنا دیتی ہے۔

ہاں! البتہ آرٹسٹ سماج کے اجتماعی شعور اور لاشعور میں موجود سکون و اطمینان اور بے چینی و بے قراری کا ادراک عام آدمی کی نسبت زیادہ رکھتا ہے ۔ وہ سماج کے ثقاقتی عناصر کے قبیح اور حسین پہلوؤں سے بہت اچھی طرح واقف ہوتا ہے ۔ وہ اپنے جمالیاتی ذوق کی آبیاری کے لئے عام انسان سے قدرے زیادہ متجسس اور متحیر رہتا ہے ۔ اُس کا مطالعہ اور مشاہدہ سماج کی بے چینیوں کے درجہ حرارت کو محسوس کرنے والا تھرما میٹر ہوتا ہے۔ اس طرح ایک عام انسان ہونے کے باوجود بھی وہ پورے سماج کے اجتماعی شعور کا نمائندہ ہوتا ہے۔ سماج میں اس کا کردار انفرادی بھی ہوتا ہے اور بطور آرٹسٹ بھی۔ اُس کی تخلیق یا فن پارہ اس کے اجتماعی شعور کا اظہار ہوتا ہے۔ لہٰذا آرٹسٹ اور اس کی تخلیق دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں جن کا تجزیہ مختلف انداز سے کیا جانا چاہئے ۔

جہاں تک ما بعد از جدیدیت کے اس استدلال کا تعلق ہے کہ آرٹ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی صرف آرٹسٹ ہی کا وجود ہوتا ہے ، تو اس سلسلے میں یہ استدلال پیش کیا جا سکتا ہے کہ آرٹ بہرحال آرٹسٹ سے علیحدہ اپنا وجود رکھتا ہے۔ آرٹسٹ اپنی تمام تر مسرتوں اور خوشیوں ، رنج و آلام کے ساتھ فنا ہو جاتا ہے ۔ اُس کے فنا ہونے پر اُس کے تمام تر محسوسات اور جذبات بھی بے وقعت ہو کے رہ جاتے ہیں۔ پھر وہ کون سی چیز ہے جو اُس کی موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے ۔

بلاشبہ یہ اُس کا فن ہوتا ہے جو موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ۔ اگر اس میں آفاقی سچائیاں ، جن پر ہم ذیل میں مفصل گفتگو کریں گے ، موجود ہوں تو وہ ایک آرٹسٹ کو بھی امر کر جاتی ہیں۔ اب ہم آرٹ کی تعلیم کے امکانات پر بات کر لیتے ہیں ۔اس حد تک یہ با ت درست ہے کہ حقیقی آرٹ سماج کے لئے ، سماج کے ذریعے اور سماج کے اندر تخلیق ہوتا ہے ایک مصنوعی ماحول میں آرٹ سے متعلق پڑھایا تو جا سکتا ہے لیکن آرٹ تخلیق نہیں کرا یاجا سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ ہم جامعات میں آرٹ سے متعلق پڑھ اور سیکھ سکتے ہیں لیکن آرٹ تخلیق نہیں کر سکتے کیونکہ جامعات میں کسی شہ پارے اور اس کے خالق اور سماج کے درمیان جذباتی وابستگیوں جیسے جذبات کو محسوس کرایا جاسکتا ہے اور نہ اُن کے حسن و قبح کے معیارات کو سمجھا جا سکتا ہے۔
تاہم جدید علوم کی ترقی اور ارتقا ء کے بعد اس استدلال کے برعکس بھی استدلال اُٹھایا جا سکتا ہے۔ علمِ بشریات اور علمِ نفسیات کی ترقی کے بعد آج ہمارے حسن ، بد صورتی ، اچھائی اور برائی ، روحانی اور ماورائی قوتوں سے متعلق تصورات میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔ اب ہم نے خوشی، غمی ، رنج، دکھ ، درد، اذیت اور تکالیف جیسے جذبات کے بارے میں ماضی سے کہیں مختلف مگر منطقی انداز میں ردِعمل شروع کر دیا ہے۔

ذہنی امراض جو کبھی ماورائی بد روحوں کی کار ستانیاں سمجھی جاتی تھیں ، آج ہمارے احاطہِ علم میں ہیں۔ توہم پرستی کو بھی شدید ضرب لگی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے اجتماعی طور پر سیکھا ہے ، علم کی افضلیت کو دل سے مانا ہے ۔ اس پر عمل کیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ انسان اور سماجوں کا یہ سفر ایک تاریخی ورثہ ہے ۔ وہ اس کو پڑھ بھی سکتا ہے اور اس سے کچھ نہ کچھ سیکھ بھی سکتا ہے۔ وہ ماضی کے انسان اور اس کے آرٹسٹ کے فن پارے کے بارے میں ادراک کر سکتا ہے۔ آج کا قاری ماضی کے آرٹسٹ کی بے چینی اور بے قراری کا کسی حد تک اندازہ لگا سکتا ہے۔

لہٰذا اس تناظر میں وہ آرٹ ، اس کی آفاقیت، اُس کی زمان و مکاں سے آزاد معروضی حیثیت کے بارے میں جو سیکھتا ہے اور پھر اُسے اپنے تخلیقی کام میں منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے ، تو یہ نقالی بھی تخلیق ہی کے زمرے میں آئے گی کیونکہ اس تمام تر مطالعہ میں اُسے آرٹ اور آرٹسٹ کے درمیان معروضی تعلق قائم کرنے کی تربیت حاصل ہوتی ہے ۔ اگرچہ یہ بھی ایک قسم کی نقالی ہے ، تو اس قسم کی نقالی سے فطری سائنسز بھی مبرا نہیں ہیں۔ جامعات میں پڑھایا گیا یہ آرٹ ممکن بھی ہے اور اس سے آرٹسٹ پیدا بھی ہو سکتے ہیں۔

اب ہم آرٹ پر محاکمہ کرنے والے پیمانے یا معیار کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ یہ کہا جانا کہ تاریخ کے تمام ادوار ، نسلوں اور قوموں کی تہذیب و ثقافت کی جانچ کے لئے کوئی معیار اور پیمانہ نہیں ہے اس لئے آرٹ کے بارے میں فیصلہ ہی صادر نہیں کیا جاسکتا ۔ اِس کا کوئی معیار اور پیمانہ مقرر ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

اسی طرح یہ کہنا کہ کیونکہ آرٹ مختلف علاقوں اور قوموں میں مختلف انداز اور مختلف شکلوں میں جنم لیتا رہا ہے ، لہٰذا اس کے لئے کوئی تھیوری یا نظریہ ہو نا چاہئے ، جس کے معیار اور پیمانے پر دنیا میں پیدا ہونے والے تمام آرٹ کو بلاامتیاز ماپا جا سکے اور اُس پر فیصلہ صادر کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ چند ایک آفاقی سچیائیاں ہیں جن کو بلا امتیاز رنگ و نسل ، جنسی امتیاز، قوم، زبان ، ثقافت اور تہذیب کے امتیازات سے بالا ہو کر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ یہ سچائیاں پوری دنیا میں یکساں طور پر تسلیم بھی کی جاتی ہیں۔

زندگی کا حق، انسان کی شخصی ، شہری اور سیاسی آزادیوں کا حق ، آزادیِ اظہار کا حق، یہ ایسے حقوق ہیں جن کو انسان ، نسلوں اور قوموں کے لئے آفاقی سچائیں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اگر انسان کو حقیقی معنوں میں یہ آزادیاں نصیب ہو جائیں ، تو اُس کے ذوقِ جمال کی بھی تسکین ہو گی اور اُس کے اندر کا آرٹسٹ خوشی، مسرت ، لذت ، کیف و سرور کے بے پناہ نئے طریقے تراش لائے گا اور اُس کے لئے حسن و قبح کے معنی بھی بدل جائیں گے ۔

اگر کوئی آرٹسٹ معروضیت کے ساتھ اِن مقاصد کے حصول کا خواں ہے اور اُس کی تخلیق خواہ وہ کسی بھی میڈیم میں کیوں نہ ہو، انہی مقاصد کی طرف رواں دواں ہے ، تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اُس کی تخلیق آقاقی معیارات پر پوری اتر رہی ہے۔ نظری طور پر یہ بات بالکل درست ہے کہ اِن آزادیوں کو تمام مہذب ممالک بلاتفریق تسلیم بھی کرتے ہیں ۔ نظریاتی طور پر یہ بات بھی درست ہے کہ یہ انسان کی فطری آزادیاں ہیں اور انہیں بغیر کہے اور مانگے حاصل ہونا چاہئے تھا۔ پھر آخر یہ انسان کو کیوں حاصل نہیں ہیں، یا یہ کس طرح ، کب اور کیوں اُس سے چھین لی گئیں۔

یہ تمام سوالات محض ادبی نہیں ہیں ، یہ سب سوالات اپنی نوع میں سیاسی ہیں اور ان کے چھن جانے ، واپس نہ دیئے جانے اور آج تک ان کی بازیابی کے لئے جاری کشمکش سب سیاسی عمل ہے ۔ اس سیاست کے پیچھے طاقت ور ممالک جنہیں سامراج کہا جاتا ہے، بھی ہیں اورطاقتور طبقے بھی۔ ریاست اور ریاستی مشنری بشمول عدلیہ بھی ان حقوق کے غصب کئے جانے میں برابر کے حصہ دار ہیں۔

جدید دور میں آزاد منڈی کی معیشت میں تو ریاستوں سے بھی زیادہ طاقتور کارپوریٹ کلچر اور کارٹلز نے جنم لیا ہے جن کی منافع خوری کی حرص اور ہوس نے استحصال کی نئی شکلیں اختیار کی ہیں۔ اس طرح پوری دنیا کا سماج استحصالی اور استحصال زدہ طبقوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔ ایک طرف اشرافیہ کا ایک فیصد طبقہ ہے ، دوسری طرف پورا سماج ہے ۔ اس استحصالی طبقے نے انسان اور سماجوں میں محرومی ، غربت ، جہالت، بے بسی اور گمراہی کو جنم دیا ہے ۔

استحصالی طبقہ منافع خوری کی اس ہوس میں سماج کو قومی ، نسلی ، گروہی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے ، اُن کو جمہوریت اور انسانی حقوق کے خواب دکھاتا ہے ، اور اس آڑ میں اپنے منافع خوری کے مفادات حاصل کرتا ہے ۔ یہی استحصالی سرمایہ داری نظام جدید سائنسی ایجادات کی راہ میں رکاوٹ ڈالے کھڑا ہے۔ یہ نظام سائنسی ترقی کو بلاامتیاز سب انسانوں ، قوموں اور نسلوں تک نہیں پہنچنے دے رہا۔

بلکہ اس کے برعکس آج اسلحے کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس سیاسی عمل نے بڑے پُرفریب اور مکارانہ طریقے سے انسان سے اس کی عظمت و وقار کو چھین لیاہے۔ کوئی بھی حقیقی آرٹسٹ سماج میں اپنے حسن و قبح کے ذوق اور خوشی اور غم کے جذبات کے اس طرح چِھن جانے کے عمل سے غافل رہ سکتا ہے اور نہ ہی اس پر ردِعمل کئے بغیر رہ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ہر حساس ذہن پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج کوئی بھی آرٹسٹ دنیا میں ہونے والے اس ظلم و بربریت سے لاتعلق رہ کر محض جام و سبو، گل و بلبل اور مناظر کی خوبصورتیوں سے دل نہیں بہلا سکتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے ، تو یہ حقیقت سے فرار تو ہو سکتا ہے ، لیکن یہ حقیقت نگاری ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی آفاقی ہوتی ہے۔ اس طرح کی جمالیات ذوق وقتی اور لمحاتی ہو سکتا ہے ۔ اور ایسے فن پارے کی کوئی دیر پا تاثیر نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں اس طرح کے جمالیاتی ماحول کے اثرات بھوکے پیٹ اور بھرے ہوئے پیٹ کے شخص پر بیک وقت مختلف ہوتے ہیں۔
جہاں تک آرٹ میں جمالیاتی اظہار کا تعلق ہے ، توآرٹ ماضی میں بھی انسانی جذبات و احساسات اور تہذیب و تمدن کا اظہار کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی یہ ہر خطہ ، ملک اور چھوٹے بڑے علاقے میں جنم لیتا رہے گا۔ آرٹ اور جمالیات لازم و ملزوم ہیں۔ آرٹ کسی انسان اور سماج کی شعوری اور لا شعوری جذباتی کیفیات کا اظہار رہا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی رہے گا۔

آرٹ ماضی میں اپنے اظہار کے ذرائع تخلیق کرتا رہا ہے ۔ جدید علوم آرٹ کے ذرائع کو تیز ی سے بتدیل کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی گلوبل کلچر تخلیق پا جائے جس کی اپنی کوئی زبان ہو، اور اُس کے اظہار کے ذرائع بھی مکمل طور پر جدید دور کی الیکٹرانکس ڈیوائیسز پر مبنی ہوں ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے ، تو پھر بھی جب تک اس کرہِ ارض سے دکھ ، درد ، تکالیف کے پیدا ہونے کی وجو ہات ختم نہیں ہوتیں، اُس وقت تک آرٹ کا منبع و مرکز انسان اور سماجوں کے جذبات ہی رہیں گے۔

خوشی اور مسرت کے جذبات اپنی شکلیں بدل سکتے ہیں لیکن محسوسات وقت اور زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ قدیم دور میں بھی خوشی اور مسرت کے محسوسات ویسے ہی تھے جیسے یہ آج ہیں۔ دورِ حاضر میں بھی یہ ویسے ہی ہیں اور مستقبل میں بھی ویسے ہی رہیں گے۔ اگر گزشتہ صدیوں کے انسانی علم کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ انسانی علم نے شہری ثقافت کو بالخصوص اور دیہی ثقافت کو بالعموم کافی حد تک متاثر کیا ہے ۔ اس کے اثرات تمام قوموں، قبیلوں، نسلوں، اور گروہوں پر پڑے ہیں۔

لیکن علم و آگہی جو انسان کا مشترکہ ورثہ ہے کو تمام سماجوں میں یکساں اور بلا تفریق نہیں پھیلایا گیا۔ مختلف سماجوں اور ثقافتوں میں غیر مساوی اور ناہموار ترقی بھی انسان کی خوشیوں اور مسرتوں کی قاتل رہی ہے ۔ لیکن ان کے ماحول اور وسائل پر ہاتھ صاف کرنے اور انہیں پسماندہ رکھنے میں اس استحصالی نظام کا ہاتھ ہے ۔ کیا اسی صورتحال میں جمالیاتی ذوق اور جمالیات کو جِلا حاصل ہو سکتی ہے؟

ایسی صورتحال میں علم کو پھیلنے سے روکا جاتا ہے ۔ طرح طرح کی غلط فہمیوں اور سازشوں کو جنم دیا جاتا ہے ۔ سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم اور تعلم ایک بے ہودہ سیاست کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ پھر علم کو برائے ترقیِ انسانیت استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اسے سرمایہ کار کی لونڈی بنا دیا جاتا ہے ۔ جہان گزشتہ چار صدیوں میں سماج میں فلسفیانہ ، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے آرٹسٹ کو متاثر کیا ہے ۔ اُس نے انسان کے ذوقِ جمالیات کی آبیاری بھی کی ہے ۔ اُس نئی فکر اور سوچوں کے دریچے کھولے ہیں ، تاریخ گواہ ہے کہ انسان ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہا ہے

لیکن موجودہ حالات اور ماحول کا جائزہ لینے کے بعد آج ہمارے آرٹسٹ کے سامنے یہ سوال ہے کہ آیا وہ سماج کو کوئی نئی سوچ دے رہا ہے یا نہیں آیا وہ جمالیات کے اس تاریخی سفر میں ایک جست لگانے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں۔ جمالیات اور جمالیاتی فلسفے کو ایک نئی جست دینے کے لئے ہمارے آج کے آرٹسٹ کو موجودہ نظام میں انسانی عظمت و وقار کے حقیقی معنوں میں تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کا جواب آج کے ہر آرٹسٹ کو تلاش کرنا ہوگا۔

پیر، 9 اپریل، 2018

خدا حافظ واجہ !!!



خدا حافظ واجہ۔۔ 
انور ساجدی 


میرا بے رحم قلم زندگی کے کسی بھی مرحلے میں "گلو گیر "نہیں ہوا ،ہر بڑے واقعہ کو ہر سانحہ کو ہر شہادت کو اس نے پوری قوت کے ساتھ رقم کیا لیکن آج پہلا موقع ہے کہ یہ ڈگمگا رہا ہے عقل حیران ہے دل پریشان ہے اس لئے الفاظ اور قلم ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں ۔
اس سانحہ کو اس عظیم شہادت کو رقم کرنے کے لئے 
الفاظ نہیں ہیں اگر چہ یہ شہادتوں کے نہ رکنے والے
سلسلہ کا تسلسل ہے لیکن میرا دل کہہ رہا ہے کہ شہادتیں 
کچھ الگ سی ہیں ان کی شان کچھ جدا ہے اور یہ تاریخ 
میں کچھ الگ انداز سے رقم کرنے کی متقاضی ہیں۔
رندوں کی سر زمین مند جس نے ایسا بیٹا جنا کہ وہ اس پر صدیوں تک نازاں رہے گا ،حقیقت یہ ہے کہ چند سال قبل جب واجہ غلام محمد ہم سے بحث کرتا تھا ناراضگی کا اظہار کرتا تھا تو ہمیں یقین نہیں آتا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر عمل کر کے دکھائے گا اور جو اس کا عزم ہے وہ کر گزرے گا ،گذشتہ سال وہ مخصوص بلوچی"دزمال"(جو ایک ریشمی کپڑاہے اور جسے مغربی بلوچستان (ایرانی بلوچستان ) میں پہنے کا زیادہ رواج ہے ) پین کر تو میں نے اس کی وجہ پوچھی واجہ نے کہا کہ یہ کفن ہے اور اس میں خونی رنگ ہے وہ 3اپریل کو اسی کفن کے ساتھ اٹھائے گئے اور اسی کفن میں شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہو گئے اس کی مغفرت کی دعا اس لئے ٹھیک نہیں کہ شہید کی مغفرت پہلے سے ہو چکی ہوتی ہے ۔
واجہ غلام محمد نے مکران کے خطے مین وطن دوستی جد و جہد اور تحریک کو ایک نیا اسلوب دیا وہ گذشتہ پانچ سالون میں کئی بار جیل گیا بار بار تشدد اور اذیتیں برداشت کیں لیکن ان کے لبوں پر کوئی شکوہ نہیں تھا اسے معلوم تھا کہ جس راستہ کا انتخاب اس نے کیا ہے اس میں یہ سب کچھ تو ہو گا ۔خوشی کا مقام ہے کہ اس نے اپنا سر بلند رکھا جو کت تو گیا لیکن جھکا نہیں ،دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس شان کا مظاہرہ کرتے ہیں غلام محمد نے ایک بہت کھٹن مگر شاندار سنت قائم کی ہے جس پر عمل کرنا ہر کسی کا کام نہیں ۔
نواب شہباز اکبر نے جو روایت قائم کی غلامحمد نے نہ صرف اس کا تسلسل برقرار رکھا بلکہ اسے ایک نئی جہت عطاء کی،نواب نے ساحل و وسائل کا نعرہ لگا کر تراتانی کے پہاڑوں کو گلنار کر دیا لیکن غلام محمد کا سرخ لال خون بحرہ بلوچ کے پانیوں میں مل گیا جب تک یہ پانی ہیں جب تک بحرہ بلوچ سوکھ کر خشک نہیں ہو جاتا یہ لال خون اس کہ سطح پر تیرتا رہے گا ،اس شہادت کی گواہی دیتا رہے گا ،اتنا بہتر گواہی شاہد ہی کسی لیڈر کی قربانی کا ہو ،واجہ کے ساتھ لالہ منیر نے جس ثابت قدمی جوانمردی اور بہادری کے ساتھ دیا اس کے لئے "یار غار "کا لقب درست 
ہوگا،لالہ منیر پنجگور کا "عظیم سپوت"جس نے رخشان ڈیلٹا کو درخشندہ بنا کر اپنا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر کر دیا معلوم نہیں کہ منیر سے پہلے اس علاقہ کے کتنے لوگوں نے اپنی دھرتی پر خون نچھاور کیا لیکن یہ بات طے ہے کہ لالہ جیسی قربانی ایسی شہادت ایسی شان شائد کسی نے دکھائی ہو پنجگور کی خوبصورت وادیاں عظیم دریائے رخشان اس کے نخلستان اس کے مچھکدے اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لالہ منیر کے نام سے منسوب رہیں گے انہون نے دھرتی اور "بلوچیت"کا حق ادا کر دیا ۔
شیر محمد بلوچ تو تھا ہی شیر اس نے کئی سال 
قبل پہلے نواب اکبر خان کی جماعت میں شامل 
ہو کر اپنا راستہ جدا کرلیا شیر جان نے باقی 
سارے ساتھیوں سے زیادہ جیل کاٹی لیکن
اسے راستے سے نہ ہٹا سکے۔
شیر جان نے اپنے نام کی لاج رکھ لی اس نے ٹیپو سلطان کا یہ مقولہ سچ ثابت کر دکھایا کہ 
شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر
کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔
آج تاریخ میں دکن کے غدار میر قاسم کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے اس کی وطن فروچی پر سارا ہندوستان لعنت بھجتا ہے لیکن ٹیپو کو اس کی قربانی کو اس کی شجاعت کو تاریخ کھبی فرا موش نہیں نہیں کر سکتی۔
میں بہت بوجھل دل کے ساتھ تینوں شہداء کو خدا حافظ کہتا ہون لیکن تینوں شہداء ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہیں گے، ان کی قربانی روشنی کی ماندآنے والوں کی رہنمائی کرے گی۔ نواب اکبر خان ،خالد ،میر بالاچ اور اس کے بعد ان تین شہادتوں اور بے شمار شہادتوں کے بعد کہنے اور سننے کے لئے کیا رہ گیا ہے ۔انہوں نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑی آزمائش اور مشکل میں ڈال دیا ہے ان کے راستے پر چلنا جو سوئے دار کی طرف جاتا ہے ایک کھٹن کام ہے ان کی قربانی سے منہ موڑنا بے وفائی ہے یہ ایک مشکل صورتحال ہے ممکن ہے کہ وقت ان شہادتوں زخم مند مل کر دے یا یہ شہادتیں طوفان اور سونامی کی شکل اختیار کر لیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن جو لوگ تحریک کی قیادت کر رہے ہیں ان کے لئے غور و فکر کا مقام ہے کہ وہ کس طرح ایک بہتر اور کار گر حکمت عملی اپنا کر چلیں قومی تحریک میں شہادتیں اور قربانیاں کوئی نئی بات نہیں اور نہ ہی یہ دھرتی پر احسان ہے ان کا مسئلہ تو جاری رہے گالیکن اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اتنی بھاری قیمت کے بدلے میں کیا کچھ ملے گا کیا سودے باقی گنجائش ہے ، مفاہمت مصالحت درمیانی راستہ وغیرہ کی اصطلا میں استعمال ہویے رہیں گی، غلام محمد بلوچ ،شیر محمد بلوچ اور لالہ منیر کو جن لوگون نے اُٹھایا اور قتل کیا وہ کون تھے ....؟
اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے اگرچہ ان کی نشامدہی مشکل ہے لیکن اس پر سوچا جانا چاہئے۔
.................................
بشکریہ روزنامہ انتخاب کوئٹہ