ہفتہ، 11 جون، 2016

بلوچستان اور ملا اختر منصور کی ہلاکت




بلوچستان اور ملا اختر منصور کی ہلاکت

تحریر: محمد اکبر نوتیزئی 

یہ ڈرون حملہ، جس میں طالبان رہنماء کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے سب سے بڑی صوبے کیلئے ایک پریشان کن مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔جولائی 2015 میں، جب افغان انٹیلی جنس نے یہ خبر دی کہ در حقیقت طالبان رہنماء ملا عمر دو سال قبل وفات پاگئے ہیں، طالبان نے ملا اختر منصور کو اپنے نئے لیڈر کے طور پر منتخب کیا۔ اس انتخاب نے افغان طالبان میں دراڑیں پیدا کیں۔ حالیہ مہینوں میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ملا منصور کچلاک، کوئٹہ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور زیادہ تر افغان مہاجرین پر مشتمل پانچ لاکھ نفوس کا ایک شہر، میں ایک مخالف دھڑے کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔ ان افواہوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں طالبان کی طرف سے ایک آڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں ملا منصور نے اپنے مارے جانے کی تردید کی۔
تاہم، مئی میں ان کی قسمت جواب دے گئی۔ طالبان رہنما تفتان، کوئٹہ سے تقریبا 600 کلومیٹر دور بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک سرحدی شہر، سے سفر کر رہے تھے۔ سفر میں ملوث ایک شخص نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’جب ہم نے ان سے بس میں سیٹ مخصوص کرنے کا پوچھا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے ایک کار کرایہ پر لینے کا کہا، اور ہم نے محمد اعظم کو بلایا کہ انہیں کوئٹہ لے جاؤ۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ طالبان کے امیر تھے؛ ہم نے سوچا کہ وہ ایک مقامی پشتون ہے جو ایران کا دورہ کرکے پاکستان پاس واپس لوٹا ہے۔‘‘
ملا منصور کوئٹہ کی طرف جارہے تھے جب ان کی گاڑی کو ایک ڈرون سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہ اور بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والا ان کا ڈرائیور محمد اعظم ہلاک ہوگئے۔ ابتدائی طور پر مقامی حکام نے کہا تھا کہ گاڑی میں دھماکہ خیز مواد لیجایا جارہا تھا جس میں آگ لگ گئی تھی۔ لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ’’ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز‘‘، جس سے ان کی مراد ڈرون تھی، دیکھا جو حملے کے بعد گاڑی کے اوپر منڈلا رہا تھا۔ بعض مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ زمینی انٹیلی جنس کے بغیر ملا منصور کو نشانہ بنانا ممکن نہ ہوتا۔ وہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔ تو لہٰذا اس صورت وہ یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ شاید پاکستان نے خاموشی سے تعاون کیا ہو۔ سرکاری حکام ایسے کسی بھی دعوے کی سختی سے تردید کررہے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے حملے کی مذمت کی اور اسے پاکستان کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے میانمار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصور ’’افغانستان میں تعینات امریکی اہلکاروں، افغان شہریوں، افغان سیکورٹی فورسز، اور ملک بھر میں تعینات ریزولوٹ سپورٹ کولیشن کے اراکین کیلئے ایک مسلسل اور واضح خطرہ تھے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ منصور پر فضائی حملے نے ’’دنیا کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ ہم اپنے افغان ساتھیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘‘
کیری نے کہا کہ، ’’ہم امن چاہتے ہیں۔ منصور اس کوشش کیلئے ایک خطرہ تھا۔ انہوں نے امن مذاکرات اور مصالحتی عمل کی بھی براہ راست مخالفت کی تھی۔ افغانوں کیلئے اب وقت آگیا ہے کہ وہ لڑائی بند کردیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک حقیقی مستقبل کی تعمیر شروع کردیں۔‘‘
کیری نے کہا کہ انہوں نے اس فضائی حملے کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو مطلع کرنے کیلئے فون کیا تھا البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کب۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ’’مکمل طور پر غیر قانونی، ناقابل قبول اور ملک کی خودمختاری اور سالِمیت کے خلاف ہے۔‘‘ انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’وہ افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو سبوتاژ کررہے ہیں۔‘‘
ڈرائیور محمد اعظم کے بھائی نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’میرے بھائی کو پتہ نہیں تھا کہ وہ افغان طالبان کے بڑے سربراہ تھے، اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کی شناخت کرے یا اسے روکے۔ ان کا کام صرف یہ تھا کہ کسی مسافر کو اس کی منزل تک پہنچائے، اور وہ یہی کام سرانجام دے رہے تھے۔‘‘ انہوں نے حکومت سے اپنے مرحوم بھائی کیلئے معاوضہ دینے کی اپیل کی ہے جسکے چار بچے تھے۔
سینئر پاکستانی صحافی زاہد حسین نے ڈان میں لکھا: ’’ملا اختر منصور کی ہلاکت ایک زیادہ جارحانہ امریکی پالیسی اور موقف کی طرف اشارہ کرتا ہے چونکہ اب افغان طالبان کے مذاکرات کی میز پر آنے کی امیدیں دھندلا چکی ہیں۔ حال ہی میں منتخب طالبان رہنماء کی موت، جنہوں نے ابھی ابھی اس گروہ پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی منظم کوششیں کی تھیں، نے پہلے سے بگڑے ہوئے افغان بحران کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ یہ کہ حملہ پاکستان کی حدود کے کافی اندر کیا گیا جس سے یہ خطرناک صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، اس سے پاکستان کی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنا اتحاد قائم رکھنے اور افغان طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے توازن میں پاکستان کی کمزوریاں بے نقاب ہوئی ہیں۔‘‘
خبر کے مطابق راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ڈرون حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ، ’’خود مختاری کی خلاف ورزی کی اس طرح کی کارروائیاں دونوں ممالک (امریکہ اور پاکستان) کے درمیان تعلقات کے لئے نقصان دہ ہیں اور علاقائی استحکام کیلئے جاری امن عمل کیلئے بارآور نہیں ہیں۔‘‘
پالیسی میں ڈرامائی تبدیلی
واشنگٹن میں قائم وڈرو ولسن سینٹر برائے اسکالرز میں جنوبی ایشیا کے ایک ماہر مائیکل کگلمین نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’منصور پر ڈرون حملہ واشنگٹن کیلئے پالیسی میں ایک ڈرامائی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسکا لب لباب یہ ہے کہ امریکی حکومت کا پاکستان کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور یہ کہ اب اس نے معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ منصور کو نشانہ بنا کر، واشنگٹن پاکستان کیلئے ایک بہت ہی واضح پیغام بھیج رہا ہے: اگر آپ اپنی سرزمین پر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے اور امریکی فوجیوں کیلئے خطرہ بننے والے عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتے تو ہم کریں گے۔‘‘
’’اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ یہ پاکستان میں یا تو کوئٹہ شوریٰ یا حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند رہنماؤں کے خلاف مزید امریکی حملوں کیلئے ایک نمونہ ہو سکتی ہے۔ یا پھر امریکہ مزید حملوں سے باز رہے گا اور یہ امید کرے گا پاکستان کو پیغام موصول ہوچکا ہے اور اسکے بعد وہ اپنے طور پر کارروائیاں کرے گا۔‘‘
ایک آزاد صحافی شہزاد بلوچ، جو کوئٹہ میں مقیم ہیں، نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’یہ امریکہ کی طرف سے ایک واضح پیغام ہے کہ جہاں کہیں بھی انہیں اپنے اہداف ملیں گے وہ انہیں ماریں گے، پاکستان کی مرضی کے بغیر، حتیٰ کہ پاکستانی سرزمین پر بھی۔ بلوچستان ایک بلوچ اکثریتی صوبہ ہے جو انتہا پسندی کی مخالفت کرتا ہے لیکن اس کے چند اضلاع افغانستان کی سرحد سے ملتے ہیں اور پاکستان کے لاقانون قبائلی علاقے جہاں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کی جاری ہے۔ لہٰذا اب طالبان کے اہم رہنماوں کی (بلوچ سرزمین )پر نقل و حرکت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی بھی رپورٹیں ہیں کہ وہ بلوچستان کے شمالی علاقوں کی پشتون پٹی میں بھی موجود ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ، ’’یہ بلوچستان میں پہلا امریکی ڈرون حملہ تھا، اور لگتا ہے کہ مزید حملے ہونگے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ملا منصور کی لاش کوئٹہ اسپتال لائے جانے کے بعد پاکستان کی طرف سے کوئی تحقیقات نہیں کی گئی۔ شناخت کی تصدیق کرنے کیلئے پوسٹ مارٹم ہونا چاہیے تھا۔‘‘
ایرانی تعلق؟
وال اسٹریٹ جرنل نے یہ خبر دی تھی کہ ایران میں اپنے خاندان سے ملاقات کے دوران امریکی خفیہ اداروں نے ملا منصور کا کھوج لگالیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نگرانی کرنے والے امریکی ڈرون ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں پروازیں نہیں کرتے، لیکن مواصلات اور دیگر معلومات سے انٹیلی جنس ایجنسیاں اس قابل ہوئیں کہ انہوں نے منصور کا کھوج لگا لیا اور انہیں پھانسنے کیلئے دام بچھا دیا۔
ملا منصور اکثر ہوائی سفر کرتے رہتے تھے، اور مبینہ طور انہوں نے گزشتہ نو سال کے دوران بیرون ملک دوروں کیلئے دو پاکستانی ہوائی اڈوں کا استعمال کیا۔ ان کی لاش کے قریب محمد ولی کے نام سے ایک پاسپورٹ اور ایک پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ملے۔ بعض اطلاعات کے مطابق منصور نے تفتان بارڈر کراسنگ کے ذریعے دو مرتبہ ایران کا سفر کیا تھا۔
ایران نے یہ اطلاعات مسترد کر دیں کہ حملے سے قبل منصور اسلامی جمہوریہ سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری کا حوالہ دیا تھا کہ انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ منصور حملے سے قبل ان کے ملک میں تھے۔لیکن مبصرین کا کہنا ہے وہاں تین وجوہات ہیں جن کی بناء پر منصور ایران میں ہو سکتے تھے: اول، 2015ء کے اوائل کے بعد سے داعش افغانستان میں قدم جماتا جا رہا تھا، خاص طور پر ایران کی سرحد سے ملحق شہروں میں۔ افغان طالبان ان جگہوں پر داعش کیخلاف برسرپیکار رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اسی تناظر میں تہران نے ملا منصور کو ایران آنے کی دعوت دی ہو۔
دوئم، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ملا منصور سنی بلوچ اسلام پسندوں، جو کئی دہائیوں سے ایران کی شیعہ ریاست سے لڑ رہے ہیں، سے ملنے کیلئے ایران گئے تھے۔
سوئم، مشرقی ایران میں افغان مہاجرین، جیسا کہ مشہد اور زاہدان میں، رہتے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان رہنما ان سے ملنے گئے تھے۔بعض اطلاعات میں حتیٰ کہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ نومبر میں ملا منصور نے ایران میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کی تھی جس نے امریکی حکام کو طیش دلایا تھا۔
خواہ اسکی رفتار کتنی بھی ہو، شہزاد بلوچ کے مطابق: ’’اس سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل قریب میں بلوچستان میں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہونے والا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بہت سے ممالک کے جاسوس بلوچستان میں موجود ہیں۔‘‘
افغانستان میں پاکستان اور ایران روایتی طور پر شدید حریف رہے ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں ایران اور پاکستان پراکسی جنگوں میں ملوث تھے۔ 1996ء میں جب طالبان نے افغانستان میں اپنی حکمرانی شروع کی تھی، ایران کی طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ 1998ء میں افغان شہر مزار شریف میں طالبان کے ہاتھوں 10 ایرانیوں کے قتل کے بعد تعلقات مزید بگڑ گئے تھے۔
بلوچستان کی طالبانائزیشن
بلوچستان، جو پاکستان کی زمین کے 43 فیصد پر مشتمل ہے، شورش زدہ رہا ہے۔ یہ پرتشدد حملوں کی لپیٹ میں رہتا ہے: بلوچ عسکریت پسندوں کے علاوہ مذہبی انتہاپسند گروہ بھی صوبے میں کام کررہے ہیں۔
سن 1979ء میں افغانستان پر سوویت حملے کے بعد افغان مجاہدین کو مبینہ طور پر پاکستان کے بلوچستان، صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں تربیت دی گئی تھی، وہ تمام علاقے جنکی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ بعد ازاں امریکی حملے کے بعد افغان طالبان انہی مقامات کو لوٹ گئے۔ چونکہ بلوچستان افغانستان کے دہانے پر واقع ہے، اس نے افغان مہاجرین کے ایک جم غفیر کی میزبانی کی ہے، ان میں طالبان کے ارکان بھی شامل ہیں۔ امریکہ پاکستان پر کئی عرصے سے یہ الزام عائد کرتا آرہا ہے کہ اس نے افغان طالبان بالخصوص اسکی اعلیٰ قیادت کو کوئٹہ میں پناہ فراہم کی ہے۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے، تاہم 2009ء کے اوائل تک، نیو یارک ٹائمز یہ رپورٹنگ کر رہا تھا کہ اوباما انتظامیہ طالبان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کیلئے ڈرون حملوں کو بلوچستان میں وسعت دینے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔
کوئٹہ میں مقیم ایک تجزیہ کار، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’ہاں، میں بلوچستان میں طالبانائزیشن کو مستقبل میں ایک خطرے کے طور پر دیکھتا ہوں چونکہ کوئٹہ میں طالبان نے اپنے نیٹ ورک کو کافی وسعت دی ہے۔‘‘ تجزیہ کار نے مزید کہا کہ بلوچستان میں طالبانائزیشن مقامی بلوچوں کی اس گروہ میں شمولیت کیساتھ نظریاتی اور علاقائی حصول کیساتھ طاقت حاصل کر رہی ہے۔
مائیکل کگلمین نے کہا: ’’اس مرحلے پر، ہم محض یہ جانتے ہیں کہ پاکستان مشکل حالت میں ہے۔ اب یہ بلوچستان میں افغان طالبان رہنماوں کی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتا، اگرچہ ان کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی بہت زیادہ امکان نہیں ہے۔ بلوچستان کے لئے مضمرات پریشان کن تو ہیں البتہ واضح نہیں ہیں۔ علیحدگی پسند بغاوت اور پاکستان فوج کی سخت گیر پکڑ دھکڑ اور وہاں پر لاگو دیگر سفاکانہ پالیسیوں کے سبب بلوچستان پہلے سے ہی زبردست دباؤ میں ہے۔ پریشان حال مقامی آبادی کبھی بھی ڈرون حملوں کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہے گی۔ ایک اور خدشہ یہ بھی ہے کہ پاکستان بلوچستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون کے بہانے مقامی آبادی کی پکڑ دھکڑ میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔‘‘افغانستان کے بلوچستان کی پشتون پٹی پر علاقائی دعوے ہیں اور یقیناًپاکستان کے دیگر پشتون علاقوں پر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے کابل کا پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کیلئے ایک نرم گوشہ رہا ہے۔ دریں اثنا، پاکستان بھارت پر الزام لگاتا آ رہا ہے کہ وہ افغانستان کے ذریعے بلوچ شورش کو ہوا دے رہا ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہ پاکستان کو بلوچستان میں افغان طالبان کو پناہ فراہم کرنے کیلئے مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ ان تمام الزامات اور جوابی الزامات نے اس بات کو یقینی بنایا ہوا ہے کہ علاقائی تعلقات زیادہ سے زیادہ متزلزل رہیں۔
پاکستانی شناخت
بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ افغان مہاجرین کی 80 فیصد سے زائد پاکستانی قومی شناختی کارڈ کی حامل ہے اور وہ پاکستان کے شہری بن چکے ہیں۔ خود ملا منصور کے پاس ایک پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تھا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حال ہی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رفیق ترین کو محمد ولی، طالبان رہنما ملا منصور کا مشتبہ شناختی نام، کی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔معروف پاکستانی قومی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کی خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مقامی حکام کو غیر قانونی طور غیر ملکیوں کی پاکستانی شہریوں کے کارڈ جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک بھر میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کا حکم دیا ہے۔کِیّا قادر بلوچ، اسلام آباد میں مقیم صحافی جو بلوچستان کا احاطہ کرتے ہیں، نے دی ڈپلومیٹ کو بتایا کہ، ’’میرا ماننا ہے کہ اس ہلاکت نے نہ صرف دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے موقف کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں بلکہ اس نے یہ شکوک بھی پیدا کیے ہیں کہ طالبان تحریک کے اور بھی رہنماء یہاں ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا امریکہ اور اس کے اتحادی ان کو نشانہ بنانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بلوچستان میں پہلا ڈرون حملہ تھا لیکن آخری نہیں۔‘‘
کگلمین کے مطابق: ’’اگر یہاں امید کی کوئی کرن ہے بھی تو وہ یہ ہے کہ بلوچستان اور اس کے عوام کی نہایت پریشان کن حالت زار پر زیادہ
توجہ مرکوز کی جائے گی۔ بلوچستان کے بارے میں بہت کم سنا جاتا ہے، کیونکہ وہاں تک رسائی انتہائی کم ہے۔ شاید اب ہم زیادہ سننا شروع کریں گے۔‘‘کِیّا قادر بلوچ نے ایک زیادہ تشویشناک نقطہء نظرپیش کیا: ’’بلوچستان ہمیشہ سے افغان عسکریت پسندوں کیلئے ایک محفوظ ٹھکانے کے طور پر جانا جاتا ہے اور میرے خیال میں حالیہ حملہ ان دعووں کے حق میں ایک ثبوت ہے۔ یہ پہلا ڈرون حملہ بلوچستان میں ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
محمد اکبر نوتیزئی لاہور میں مقیم ایک صحافی اور دی ڈپلومیٹ کے نامہ نگار ہیں۔ انہوں نے ڈیلی ٹائمز، فرائڈے ٹائمز، دی نیشن، ویو پوائنٹ آن لائن اور دی نیوز آن سنڈے سمیت کئی پاکستانی قومی اخبارات اور میگزینوں کیلئے درجنوں مضامین لکھے ہیں۔ ان کی تحریریں اور انٹرویو پاکستان اور چین کے تعلقات، پاکستان کے خارجہ تعلقات، اندرونی سیاست، گوادر پورٹ، اور مذہبی انتہا پسندی پر مرکوز ہیں۔

نیشنلزم ابھر رہی ہے نہ کہ فاشزم



نیشنلزم ابھر رہی ہے نہ کہ فاشزم 
تحریر : جان فریڈمین
یورپ اور امریکہ میں فاشزم میں اضافے کے دعوے اس اصطلاح کی غلط فہمی سے اخذ کردہ ہیں۔
حال ہی میں کئی مضامین اور بیانات کی ایک بڑی تعداد میں یہ زور دیا گیا ہے کہ یورپ میں فاشزم میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ڈونالڈ ٹرمپ فاشزم کی ایک امریکی مثال ہیں۔ یہ ایک نہایت حقیقی رجحان کی بابت غلط بیانی ہے۔ قومی ریاست سیاسی زندگی کے بنیادی محرک کے طور پر خود کو دوبارہ منوارہی ہے۔ یورپی یونین جیسے کثیر القومی اداروں اور کثیر الجہتی تجارتی معاہدوں کوچیلنج کیا جا رہا ہے کیونکہ کچھ لوگ انہیں قومی مفاد کے برخلاف سمجھتے ہیں۔ فاشزم میں اضافے کا الزام فاشزم کی اصلیت کے بارے ایک گہری غلط فہمی سے ماخوذ ہے۔ یہ نیشنلزم کے دوبارہ ابھار کو بدنام کرنے اور کثیر القومی نظام، جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مغرب میں غالب رہی ہے، کا بھی دفاع کرنے کی ایک کوشش ہے۔
نیشنلزم لبرل جمہوریت کی روشن خیالی کے تصور کی اساس ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ ان کثیر القومی خاندانوں، جنہوں نے جابرانہ طور پر حکومت کی، نے عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ ان میں قومی خود ارادیت کا حق اور قومی مفاد میں جو بہتر ہے، اس حوالے سے شہریوں کو فیصلہ کرنے کا حق بھی شامل تھیں۔ روشن خیالی کو جبر کا خدشہ تھا اور یورپ پر کثیر القومی سلطنتوں کے غلبے کو وہ جبر کے لب لباب کے طور پر دیکھتا تھا۔ ان کو ختم کرنے سے مراد ان کی جگہ قومی ریاستوں کا قیام تھا۔ امریکی اور فرانسیسی انقلابات دونوں قوم پرستانہ بغاوتیں تھیں، اسی طرح سے وہ بھی قوم پرستانہ بغاوتیں تھیں جو 1848ء میں یورپ بھر میں پھیلیں۔ معنوی اعتبار سے لبرل انقلابات قوم پرستانہ تھیں کیونکہ وہ کثیرالقومی سلطنتوں کے خلاف بغاوتیں تھیں۔
فاشزم دو لحاظ سے قوم پرستی سے بالکل مختلف شے ہے۔ اول، فاشسٹوں کی طرف سے خود ارادیت کو ایک آفاقی حق نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر تین واضح فاشسٹوں کا ذکر کیا جائے تو ایڈولف ہٹلر، بینیتو موسولینی اور فرانسسکو فرانکو نے صرف جرمنی، اٹلی اور اسپین کیلئے ہی قوم پرستی کی منظوری دی تھی۔ فاشسٹوں کے پاس دیگر اقوام کیلئے اپنی ایک قومی ریاست کے حقوق انتہائی حد تک غیرواضح رہی ہے۔ ہٹلر اور مسولینی حقیقی معنوں میں کثیرالقوم پرستی پر یقین رکھتے تھے ہر چند کہ اگر دیگر اقوام ان کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کرلیتے۔ فاشزم اپنی تاریخی شکل میں قوموں کے ذاتی مفاد کے حصول کے حق پر حملہ تھا اور فاشسٹوں کی طرف سے اس کے حصول کے حق کا ارتفاء اس دعوے کی بنیاد پر تھا کہ ان کی قوموں کو موروثی فوقیت اور حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔
لیکن زیادہ گہرا فرق اندرونی حکمرانی کا تصور تھا۔ لبرل نیشنلزم نے یہ بات قبول کی تھی کہ اقتدار میں رہنے کا حق عوام کی طرف سے رہنماؤں کے واضح اور متواتر انتخاب سے مشروط ہو۔ جس طرح سے اسے عملی جامہ پہنایا گیا وہ ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ امریکی نظام برطانوی نظام سے کافی مختلف ہے لیکن بنیادی اصول ایک ہی رہے ہیں۔ اس میں یہ بھی ضروری تھا کہ منتخب نمائندوں کے مخالفین کو ان کے خلاف بات کرنے اور مستقبل میں ان کو چیلنج کرنے کیلئے جماعتیں منظم کرنے کا حق حاصل ہے۔ سب سے اہم یہ کہ اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان طریق کار کے ذریعے خود عوام کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہے اور یہ امر ضروری ہے کہ عوام کی قیادت کرنے کیلئے منتخب ہونے والے لوگ عوام کے نام پر ان پر حکومت کریں۔ رہنماؤں کو حکومت کرنے کی اجازت ہونا ضروری ہے اور حکومت کو مفلوج کرنے کیلئے کسی بھی طرح کے ماورائے قانون ذرائع استعمال نہیں کیے جاسکتے ماسوائے اس کے کہ حکومت کو اختلاف رائے کو دبانے کا حق حاصل ہے۔
فاشزم میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ہٹلر یا مسولینی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان کو جوابدہ نہیں ہیں۔ فاشزم کی بنیاد کسی آمر کا تصور ہوتا ہے جو اپنی ہی منشاء سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔ عوام کو دغا دیے بغیر اس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، آزادی اظہار اور حزب اختلاف کی جماعتوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور وہ لوگ جو حکومت کی مخالفت کرنے کی کوشش کریں ان سے مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ فاشزم، جو ایک آمر کے بغیر ہو، انتخابات کے خاتمے کے بغیر ہو، ایک جگہ جمع ہونے کے حق اور آزادی اظہار کو دبائے بغیر ہو، وہ فاشزم نہیں ہے۔
یہ دلیل دینا کہ یورپی یونین کا حصہ بننا برطانوی مفاد میں نہیں ہے، نیٹو اپنی افادیت کھو چکی ہے، تحفظیت کی پالیسیاں یا تارکین وطن مخالف پالیسیاں فاشسٹ پالیسیاں نہیں ہیں بلکہ ضروری ہیں۔ ان خیالات کا فاشزم سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بجائے اس کے وہ روایتی لبرل جمہوریت سے کہیں زیادہ قریبی طور پر منسلک ہیں۔ وہ لبرل جمہوریت کی بنیاد کے دعویٰ ء نو کی نمائندگی کرتی ہیں، جو ایک خود حکومتی قومی ریاست ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی اساس ہے جس کے ارکان قومی ریاستیں ہیں، اور جہاں قومی خود ارادیت کا حق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
لبرل جمہوریت اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ آیا کسی قوم کو ایک کثیر القومی تنظیم کا رکن ہونا چاہئے، وہ آزاد تجارتی پالیسیاں اپنائے یا تحفظیت کی، وہ تارکین وطن کا استقبال کرے یا انہیں نکال باہر کردے۔ یہ وہ فیصلے ہیں جنہیں لوگوں کی طرف سے کیا جائے، خاص طور پر ان منتخب نمائندوں کی طرف سے جنہیں لوگوں نے اپنی نمائندگی کیلئے چنا ہے۔ وہ فیصلے دانشمندانہ یا غیر دانشمندانہ یا حتیٰ کہ غیرمنصفانہ بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم، ایک لبرل جمہوریت میں ان فیصلوں کو کرنے کی طاقت شہریوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔
جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ کثیر القومی اداروں اور معاہدوں کی منشاء کیخلاف قومی ریاست کی بغاوت ہے۔ یہ یورپی یونین، نیٹو اور تجارتی معاہدوں میں رکنیت کے بارے میں سنگین سوالات ہیں، اور یکساں طور پر سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے حق کے بارے میں بھی۔ سمجھدار لوگ اختلاف کر سکتے ہیں، اور یہ ہر قوم کا سیاسی عمل ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کے تعین کرنے کی اپنی طاقت کو برقرار رکھے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ شہری طبقہ دانا ہوگا لیکن اس کے اچھے اور برے اثرات ہوتے ہیں اور یہ ہر سمت میں اثر انداز ہوتے ہیں۔
یورپ میں قوم پرستی کا موجودہ ابھار یورپی اداروں کی مؤثر طریقے سے کام کرنے میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ 2008ء کے آٹھ سال کے بعد، یورپ نے اب تک اپنے اقتصادی مسائل حل نہیں کیے ہیں۔ یورپ میں پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کے ایک سال بعد بھی اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کوئی مربوط اور مؤثر پالیسی نہیں بنی ہے۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے، یہ بات شہریوں اور رہنماؤں کیلئے غیر ذمہ دارانہ ہوگی کہ وہ اس معاملے پر سوالات نہ اٹھائیں کہ آیا یورپی یونین میں رہنا یا اس کے احکامات پر عمل کرنا چاہئے یا نہیں۔ اسی طرح سے ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ آزاد تجارت کے ہمیشہ فائدہ مند ہونے کے خیال کو چیلنج نہ کرے، یا نیٹو پر سوال نہ اٹھائے۔ ان کا اسٹائل چاہے جتنا بھی قابل نفرت ہو اور ان کا اظہار چاہے جتنا بھی گمراہ کن ہو، لیکن یہ شخص وہ سوالات کو پوچھ رہا ہے جنہیں پوچھا جانا چاہیے۔
سن 1950 کی دہائی میں، میکارتھیائیٹس نے ہر اس شخص پر الزامات عائد کیے جنکا وہ کمیونسٹوں کیساتھ ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ آج، وہ لوگ جو موجودہ نظام کے چیلنجوں کو قابل اعتراض سمجھتے ہیں انہیں فاشسٹ کہتے ہیں۔ اسوقت یورپی یونین یا امیگریشن کے مخالفین میں سے کچھ واقعی فاشسٹ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک فاشسٹ ہونے کیلئے رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔ فاشزم نسل پرستی، عدلیہ کیساتھ چھیڑ چھاڑ، یا کوئی پر تشدد مظاہرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی شے ہے۔ حقیقی فاشزم نازی جرمنی کا ’’اصولِ رہنماء‘‘ تھا جس میں جابر رہنماء کی مکمل اطاعت لازم و ملزوم تھی اور اسکے اختیارات قانون سے بالاتر سمجھے جاتے تھے۔
ہم یورپ اور امریکہ میں قوم پرستی کی واپسی کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ بہت سے لوگوں پر یہ بات واضح نہیں ہے کہ بین الاقوامیت، جسکی دوسری جنگ عظیم کے بعد سے تقلید کی جارہی ہے، اب ان کیلئے فائدہ مند نہیں رہی۔ وہ صحیح یا غلط ہو سکتے ہیں، لیکن یہ دعویٰ کہ یورپ اور امریکہ میں فاشزم پھیل رہی ہے، اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ جو لوگ یہ بات کہہ رہے ہیں آیا وہ فاشزم کے بنیادی اصولوں یا قوم پرستی اور لبرل جمہوریت کے درمیان قریبی تعلق کو سمجھتے بھی ہیں یا نہیں۔
جارج فریڈمین بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی امور کے جغرافیائی سیاسی پیش بین اور اسٹراٹجسٹ ہیں۔ وہ جیو پولیٹیکل فیوچرز کے بانی اور چیئرمین ہیں، یہ ایک نیا آن لائن جریدہ ہے جو عالمی واقعات کی رو سے ان کی وضاحت اور پیشنگوئی کیلئے وقف ہے۔
بشکریہ: جیوپولیٹیکل فیوچرز، 31 مئی 2016

جمعہ، 6 مئی، 2016

عورت کی بلوچ معاشرے میں حیثیت کا جائزہ



عورت کی بلوچ معاشرے میں حیثیت کا جائزہ۔
تحریر : زرک میر 
گزشتہ دنوں کے ایک پوسٹ میں اس بات پر مختلف رائے سامنے آئیں کہ " بلوچ قبائلی جنگوں میں جب عورت کا میڑھ بھیجاجاتا ہے تواس کے پس منظر میں عوامل کیا ہوتے ہیں " میں نے موقف اختیارکیاتھا کہ جنگوں میں عمومی طورپر مرد حضرات جو سردار میر ٹکری اور سید وملاوغیرہ پرمشتمل ہوتی ہے اسے بھیجاجاتا ہے لیکن ان مردحضرات کے بعد اگر جنگ کا کوئی فریق اپنی طرف سے عورتوں کو میڑھ کے لئے بھیجے تو اس کو اس فریق کی جانب سے جنگ میں شکست کا پیغام ہی سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس پر مختلف رائے سامنے آئیں جس میں کچھ دوست تو اس تصور اور رواج سے ہی بے خبر نکلے کہ عورت کو بھی میڑھ کے لئے بھیجا جاتا ہے ،دوسری رائے یہ تھی کہ عورت کو میڑھ کے لئے بھیجاجاتا ہے لیکن اس میں شکست کے پہلو کی بجائے عزت وتکریم کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ان دوستوں نے لشکر کشی یا بعض اوقات مشتعل قبائلیوں کی جانب سے گھروں اور دیہات پرحملے کے لئے لشکر کشی کی جائے تواس کو روکنے کے لئے غیر متعلقہ قبائل کے مرد یا بعض اوقات عورتوں کو بھیجا کر جنگ بندی کی کوشش کروائی جاتی ہے۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں لیکن یہ رائے رکھنے والے دوستوں نے عورت کے میڑھ کو لشکر کشی یا دوبدو جنگ کو روکنے کے تناظر میں ہی لیا اور اس کو عورت کی عزت وتکریم کے طورپر پیش کیا۔۔۔۔۔۔ یہاں تک تو بات واضح ہوگئی کہ بلوچ قبائلی جنگوں میں عورت کو بطورمیڑھ بھیجاجاتا ہے اور اس کا تصور موجود ہے۔لیکن میرا موقف یہ ہے کہ میل کشی لشکر کشی اور گھروں پرحملوں کے مخصوص جنگوں کے علا?ہ عام جنگیں جس میں گھروں میں جنگ کرنے و الے کسی بھی حملے سے محفوظ تصور ہوتے ہیں لہٰذا بدلہ لینے والا فریق اس فریق کے گھر سے نکلنے کا انتظارکرتا ہے۔اس کی راہ تھکتا ہے‘ معلومات حاصل کرتا ہے دوسرے شہروں میں جاکر اس قبیلے کے افراد پر حملے کی کوشش کرتا ہے تو ایسی صورت میں عورت کیسے درمیان میں پڑسکتی ہے چنانچہ عام جنگوں میں پہلے کے اقدام کے طورپر عورت درمیان میں نہیں پڑتی بلکہ ایسی عمومی جنگ میں ایک فریق حملہ کرتا ہے اورفورا مردحضرات کو میڑھ کے لئے اپنی رضامندی سے بھیجتا ہے دوسرا فریق اگر قبول نہ کرے تو وہ بدلہ لیتاہے اور بدلہ لیتے ہی اب وہی مردحضرات (سردار میر ٹکری سید ملاوغیرہ) کو دوسرے فریق کے پاس رضامندی سے میڑھ کے لئے بھیجتا ہے جنگ جاری رہتا ہے اور یہ قبائلی روایت کے مطابق میڑھ بھیجتے رہتے ہیں اس دوران ثالثین کی کوششیں جاری رہتی ہیں اور جنگ بھی جاری رہتا ہے۔اس وقت تک عورت درمیان میں نہیں کھود پڑتی جب تک ایک فریق جنگ میں بالادستی حاصل کرے اور دوسرا فریق پس کر رہ جائے او ر اس کی طرف سے مرد حضرات کے مسلسل میڑھ بھیجنے کو قبول نہ کرے تب اس پسے ہوئے فریق کے پا س عورتوں کو میڑھ بھیجنے کا آخری آپشن بچ جاتا ہے۔اس کی میں نے نواب بگٹی کی مثال دی حال ہی میں ایک براہوئی قبیلہ کے ہاں سیاہ کاری کاواقعہ ہوا جس میں کیس ثابت نہ ہوا لڑکی کے باپ کی طرف سے سیاہ کار کرنے والے فریق کو سخت دبا? میں رکھا قبائلیوں کے میڑھ کو تسلیم نہیں کیاگیا جس پردبا? کے شکار قبیلے کے لوگوں نے عورتوں کو میڑھ بھیجا جہاں لڑکی کے باپ اور اس کے قبیلے کے لوگوں نے عورتوں کو بطور احترام دوپٹہ دیا اوران کو واپس کردیا اور جنگ بندی سے انکار کردیا۔نواب بگٹی کے حوالے سے بھی کلپر قبیلے کو معلوم تھا کی نواب بگٹی کی قبائلی انا کو کون ختم کرسکتا ہے؟ نہ تو یہ خان کے بس کی بات ہے نہ کسی عام سردار کی لہٰذا کلپر قبیلے کی خواتین نواب بگٹی کے پاس قرآن لے کرگئیں جہاں نواب بگٹی نے ان خواتین کے لئے دعوت کا اہتما م کیااوران کو دوپٹہ وغیرہ دے کر رخصت کیالیکن معاف نہ کیا جس پر کلپر خاندان علاقے سے نکل کر صادق آباد وغیرہ میں ہی آباد ہوگئے اورابھی تک دربدر ہیں جبکہ بدلے کے طورپرنے کلپر وڈیرہ کے بیٹے قربان سمیت چند افرد مارے بھی گئے۔ایک تو عورتوں کے میڑھ تک بات نہیں پہنچتی بہت کم حدتک بات عورتوں کی حدتک پہنچتی ہے تو عورتوں کو میڑھ کے لئے ضروربھیجاجاتا ہے۔اب میڑھ کے بارے میں یہ واضح ہو کہ ایک میڑھ تو وہ ہے جو میل کشی جہاں لگے کہ ایک ہجوم بدلہ لینے کے لئے بھاری سازوسامان اور لوگوں کے جارہاہے اسے روکنے کے لئے مردحضرات یا عورتیں درمیان میں آتی ہیں اس میں جنگ بندی ہی ممکن ہوتی ہے اس میں مزید پیشرفت پھر باقاعدہ میڑھ کی صورت میں ہی ہوتا ہے اور یہ باقاعدہ میڑھ کسی ایک فریق یا بعض دفعہ دونوں فریق بااعتماد ثالثین کو چن کر اختیاردے دیتے ہیں جہاں فیصلہ ہوتا ہے لیکن جب عورت میڑھ کے لئے جاتی ہے تو اس کے پاس ایک ہی اختیارہوتا ہے وہ یہ کہ ایک فریق جنگ کی سکت نہیں رکھتا اور اپنی شکست تسلیم کرتا ہے جبکہ باقاعدہ مردوں کے میڑھ میں دونوں فریقوں سے اختیارلے کر معاملے کی تہہ تک پہنچاجاتا ہے۔جنگ میں نقصانات کا اندازہ لگایاجاتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ جس چیز پر جنگ ہوئی ہے اس کی ملکیت کا اندازہ لگایاجاتا ہے تب کسی فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں اب ایسے دانشمندی کے کاموں میں عورتوں کا کیا کام؟اگرعورت کو بلوچ معاشرے میں عزت وتکریم حاصل ہے اور اس کی عزت کسی مرد سے بھی زیادہ ہے تو پہلے ہی میڑھ میں مردحضرات کیساتھ جو سردار میر معتبر ٹکری سید اور ملاپرمشتمل ہوتا ہے اس میں ایک عورت کو بھی شامل کیاجائے تاکہ جنگ پہلے ہی باقاعدہ میڑھ میں رک جائے ختم ہوجائے لیکن ایسا نہیں یہی سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا میڑھ لے کرجانا عزت وتکریم سے زیادہ ہزیمت اور شکست کے واضح اعلان کیساتھ ناگزیر اور باحالت مجبوری بھیجاجاتا ہے اس میں مجھے عزت وتکریم کا عنصر نظرنہیں آتا۔مردحضرات بیسیوں میڑھ لے کرجاتے ہیں لیکن عورت کو اپنے ساتھ نہیں لے جاتے جب تک کہ معاملہ مرد کے ہاتھ سے نکل جائے تب شکست اور سرخم تسلیم کرنے کے طورپر عورت کو بھیجاجاتا ہے۔۔۔۔۔۔ رند رئیسانی قبائل کی جنگ کی مثال لیں جہاں بلوچستان سندھ اور پنجاب تک کے بااثر افراد کو میڑھ کے لئے بھیجاجاچکاہے لیکن چونکہ دونوں قبائل ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں کہ شکست تسلیم کریں تب ہی عورتوں کودرمیان میں نہیں لایاجارہا۔ورنہ ان خاندانوں کے درمیان رشتہ داریاں بھی ہیں ،دونوں ہم پلہ قبائل ہیں عورت کو بیچ میں لانا اپنی شان کے خلاف اور اپنی قبائلی توہین سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میڑھ کا مقصد برابری کا توازن برقراررکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس رواج کا مقصد کسی کو ظاہری طورپر کمتر خیال نہ کرنا ہے بے شک حقیقی طورپر مخالف قبیلہ کس قدرعددی حوالے سے کمزورکیوں نہ ہو یہ ایک ضروری امر ہے اگر کبھی کسی جنگ میں حملہ آور فریق حملہ بھی کرے اور میڑھ بھی نہ بھیجے اورمعاملہ خواہ کتنا ہی معمولی نہ ہو مخالف کو ہرطرح سے حملے کا بھرپورحق حاصل ہوتا ہے اور فیصلے کے وقت پہلے والے حملہ آور کو اس بات پر سزادی جاتی ہے کہ اس نے حملہ کرنے کے بعد مخالف کو میڑھ کیوں نہیں بھیجا۔۔یہ ایک رواج ہے اوررسم ہے۔۔۔۔۔۔ چنانچہ میڑھ کو ہم قبائلی رسم ورواج کے طورپر ایک رسم بھی لے سکتے ہیں جبکہ عام طورپر حملہ ناگزیر ہوتا ہے کیونکہ اکثر مسائل جب تک جنگ کے سطح پر نہ پہنچیں حل ہی نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں کبڑا چیف کاذکر کیاتھا جو مسائل کے حل کے لئے اپنی ذہانت کے طورپر فریقوں کو جنگ پرراغب کرتا ہے۔ جنگ سے قبل بہت کم ہی مسائل حل ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ہمارا بوسیدہ اور غیر فعال معاشرتی نظام ہے چنانچہ پہلا حملہ مسئلے کی شدت کو اجاگر کرنے کے لئے ہی ہوتا ہے تب میڑھ لازمی قرارپاتا ہے کہ اب اس مسئلے کو مسئلہ سمجھ کر حل کیاجانا چاہئے۔اور میڑھ دونوں فریقوں کی پوزیشن کو واضح کرنے کابھی ذریعہ ہے کہ دونوں فریق جنگ کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا صلح کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔چنانچہ سردار میر معتبر اور سید مولوی وغیرہ درمیان میں آکر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اب یہاں مسئلے کی نوعیت اہم ہوتی ہے۔عورت میڑھ کی صورت میں جائے تو یہ سفید جھنڈا کی مانند ہوتا ہے کہ وہ فریق جنگ نہیں چاہتا۔۔۔۔ البتہ یہاں بنیادی طورپرجن دوستوں نے رائے دی ان میں سے ایک آدھ کے علاوہ باقیوں نے مسئلے کی بنیادی نوعیت کو سمجھا اور اپنی رائے دی لیکن ان کی رائے سے جواختلافی پہلو نکلتا ہے وہ ہے بلوچ معاشرے میں عورت کا مقام اور حیثیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب چونکہ بلوچ سوسائٹی قبائلی سوسائٹی ہے جہاں نسلی امتیاز قبائلی انا باہمی بغض اورجھگڑوں کا تصور ہمیں کثرت سے ہی ملتا ہے۔۔۔۔خان قلات کی مرکزیت رضاکارانہ اور ڈھیلی ڈھالی رہی ہے لیکن بنیادی طورپر خان قلات کے وضح کئے گئے(جو خود قبائلی سماج کے تجربات سے ہی اخذ کئے گئے ہیں بعد میں ان میں اسلامی عناصر بھی کثرت سے شامل ہوئے) قوانین جو روایات کی صورت میں موجود ہیں ان پر ہی عملدرآمد ہوتا آیا ہے اور میرے نذدیک یہ قوانین وطن سے محبت اور لگا?کے علا?ہ مذہبی بنیادوں پر قائم رہے ہیں لہذا اس تناظر میں بلوچ معاشرے میں عورت کے مقام کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں جہاں اسلامی شریعت میں عورت کی فزیکلی کمزرویوں ،جنسی لحاظ سے جنسی جذبات کے ابھارنے اور بچے پیدا کرنے کے کردار کودیکھتے ہوئے اسے گھر میں رہنے کا پابند کیاگیا ہے اسے باقی چیزوں میں کردار ادا کرنے میں منع کیاگیا ہے۔۔۔۔اسی طرح دیگر کمزرویوں کے باوصف شریعت میں عورت کو پردہ کرنے سمیت گھر میں رہنے کی ہی تاکید کی گئی ہے البتہ اس کو ظاہری طورپر یہ قراردیاگیا کہ اسلام نے عورت کو گھر کی زینت قراردیا ہے۔ یہ جنت میں حوروں کی سردار ہوگی وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی باطنی طورپر عورت کو گھر میں قید رکھنے کی وجوہات عورت کی کمزوریاں ہی ہیں لیکن ظاہری طورپر اسے خوبصورت نام دے دیاگیا کہ عورت گھر کی زینت اور سردار ہے۔۔۔اب ہم عملی طورپر اس کا بخوبی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہماری گھر کی سردارنیاں اور زینت کس اذیت سے دوچار ہیں ، جب ان کو ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت نہیں ، ان کو کسی غیر مرد سے نظریں ملانے پر سیاہ کارکیاجاتا ہے۔۔۔۔۔اب چونکہ بلوچ معاشرہ بھی عورت کو اپنے قوانین میں عزت کے لیبل کے ساتھ بخوبی پیش کرتا ہے اور دلچسپی سے یہ بات خالی نہیں کہ ہمارے بلوچ سیاسی رہنماء4 کارکن اور ادیب بھی اس ظاہری لیبل کو ہی حقیقت ماننے پر مجبورہوکر اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچ معاشرے میں عورت کو عزت وتکریم حاصل ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچ معاشرے میں بھی عورت کو گھر میں رکھنے پردے میں رکھنے سمیت دیگر عوامل کی وجہ سے کمزور اور لاچار قراردے کر اس کے کردار کو معاشرے میں محدود کرکے عزت وتکریم کانام دیاگیا۔ گویا ہمارے عام رویئے عورت کو قدم قدم پر بے حرمت ظاہرکرتے ہیں ‘ اس کے ساتھ امتیاز اپنے عروج پرہوتا ہے۔یہاں دلچسپی کے لئے ایک مثال پیش کروں ،ایک عام بلوچ اور نواب وسردار چارشادیاں تک کرتے ہیں اول تو اس سے بلوچ معاشرے میں عورت کی عزت وتکریم اور حقوق کا پتہ چلتا ہے جو بنیادی بات ہے اور اسلام کو بھی آج اس قانون پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔اب ایک نواب چارشادیاں کرتا ہے ، ایک اپنے قبیلے سے تو باقی شادیاں غیر قبیلوں یا اکثر غیر بلوچوں میں کی جاتی ہیں۔ان تمام بیویوں سے بیٹے پیدا ہوتے ہیں جو نوابزادہ یاسردار زادہ کہلاتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں ہی تخصیص شروع ہوتی ہے یعنی نواب وسردار کا جوبیٹا اپنے متعلقہ قبیلہ کی بیوی سے ہے اس کا بیٹا ہی حقیقی بیٹا اور سردار کا جانشین خیال کیاجاتا ہے قطع نظر دوسری بیویوں کے بیٹے عمر میں بڑے ہی کیوں نہ ہوں۔یہاں بلوچ قوانین بنانے والے سردار ونواب کے گھر میں عورتوں کیساتھ ما?ں کیساتھ تخصیص یقیناًہمارے بلوچ سیاسی کارکنوں اورادیبوں کے لئے غورطلب امر ہے۔نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے ببانگ دہل میڈیا میں اعلان کیا، گوکہ جمیل بگٹی مجھ سے عمر میں بڑے ہیں لیکن چونکہ ان کی والدہ پشاوری ہیں اس کے لئے وہ نواب نہیں بن سکتے نوابی کا حقدار میں ہی ہوں۔ نواب بگٹی کی ایک بیوی انگریز تھی اور ایک میمن۔۔۔میمن بیوی سے ایک بیٹا بھی ہے جس سے ہمارے بلوچ قوانین پرنازاں افرادناآشنا ہیں جس کا نام شازور بگٹی ہیں۔نواب بگٹی کی شہادت پر شازور کہہ رہے تھے کہ مجھے پاور میں نہیں آنا میرے والد کے قاتل گرفتارکئے جائیں۔صحافی نے پوچھا آخری دفعہ نواب بگٹی (والد) سے کب ملے تھے۔ شازور نے کہا میں 1997 میں والد نواب بگٹی سے آخری بارملا۔ پھر سوال کیاگیا کہ آپ اپنے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی گئے ہیں تو انہوں نے کہا میں کبھی نہیں گیا ، اس معاملے میں ہمارے ادیب وسیاسی کارکن عورت کی عزت وتکریم کا پہلو کہاں سے ڈھونڈیں گے جو ایک ہی نواب کی بیویوں میں سے ایک کو اعلیٰ اور ایک کو کم ترقراردیں۔۔۔۔۔۔۔۔رئیسانیوں کے ہاں نوابزادہ امین رئیسانی کی حیثیت بھی ہم سب کے سامنے ہے جس کو ماں کے غیر بلوچ ہونے پر دھتکارہ گیا ہے۔زہریوں میں بھی یہ مسئلہ رہا ہے۔ایک قبیلے کے حوالے سے یہ مشہور ہے کہ جب اس کا سردار والد مر گیا تو تیسرے دن قبائلی رسم ورواج کے مطابق اس کی دستاربندی ہونی تھی اور یہ چھوٹا تھا اس کو کہا گیا کہ اب تم سرداربنوں گے تو یہ بے چارہ کہنے لگا ’’ سلبو ای آئی آن ارفو‘‘ یعنی میں ماں سے پوچھ کرآجا?ں۔اس نے بات تو حکمت کی تھی جو اس وقت باپ کی غیر موجودگی میں اس کا سب کچھ تھا ، عورت کے عزت وتکریم کی بات کرنے والوں نے اس کو اس کے لئے شغان بنادیا اورکہاجاتا ہے کہ اس کی جگہ اس قبیلے کا غیرسردارخیل نوجوان بیٹا تھا اس نے کہا میں سردار بنوں گا اسے سردار بنادیاگیااور ابھی تک وہ سلسلہ چل رہا ہے۔ہم یہ بات ابھی تک سنتے ہیں اور ماں سے مشورے کو ان قبیلے والوں کے لئے بطورشغان استعمال کرتے ہیں۔اب بلوچ سیاسی کارکن اور ادیبوں کو محض بلوچ کوڈ وقوانین کو خوبصورت لیبل میں نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ان کا کام عام شخص سے زیادہ باریک بین ہونا چاہئے لیکن افسوس ایسا نہیں ، حقائق یہ ہیں کہ اسلامی معاشرے کی طرح بلوچ معاشرہ بھی عورت کو حقیقی طورپر کمزور اور برابر نہ سمجھ کر اس کو ایک نہتا اور غیر متحرک (passive) خیال کیاجاتا ہے اب قوانین اور عام طورپر ظاہرکرنے میں اسے کمزور اور ناتواں کہا نہیں جاسکتا لہٰذا اسلام کی ہی طرح بلوچ معاشرہ بھی اسے عزت وتکریم کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ بنیادی طورپر اختلافی پہلو کا حل یہاں نکل آتا ہے باطنی طورپرعورت کی کمزوری کوہی مد نظر رکھ کراس کے میڑھ کو قبول کیاجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت کی بلوچ معاشرے میں کمزوری پر عمومی اتفاق کے مناظر ہم آئے روز دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگوں میں اکثر یہ جملے سننے کو ملتے ہیں یاپھر جنگوں کاسبب ہی یہ جملے بنتے ہیں کہ مجھے عورت مت سمجھنا ، اور یہ کہ عورت اپنے بچے کو یہ لوری سناتا ہے کہ میرا بچہ مرد اور بہادر بنے گا کھبی نہیں کہے گا کہ میرا بچہ میری طرح عورت بنے گا میری خاصیتیں اس میں ہونگی نہیں وہ اپنے بچے کے لئے اس کے باپ کو ہی آئیڈیل بناکرپیش کرتا ہے۔، مزید یہ کہ کسی بھی مرد کو عورت سے تشبہ دینا اس کی مردانگی کو چیلنج کرکے اس کو جنگ کی دعوت دینا ہے۔براہوئی میں مثال ہے کہ ’’ نیاڑی نت انا لتھر ء4243یعنی عورت پا?ں کی جوتی ہے، ایک اور مثال ’’ نیاڑی نا عقل کڑی ٹی ء4 ‘‘ یعنی عقل ودانش میں بھی اس کو کمتر خیال کیاجاتا ہے اور ہمارے روز مرہ کے رویئے عورت کے بارے میں اوپر کی مثالوں جیسے ہیں قطع نظر کہ بلوچ قوانین ان رویوں کو عزت وتکریم کا لبادہ پہناتا ہے،دراصل عورت کی کمزور حیثیت کو عزت وتکریم کانام دینے والے یہاں ایک اور غلطی کررہے ہیں کہ اگر بلوچ معاشرہ متوازن معاشرہ ہے تو اس میں عورت کو امتیازی عزت دینے بجائے برابری دینی چاہئے تھی تب بات ہوتی۔امتیازی عزت کا دعویٰ یہاں بھی مشکوک ہوکررہ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہاں بلوچ سیاسی رہنماء4 اور اس کے کارکن اور ہمارے ادیب یہاں الٹا کردار ادا کررہے ہیں انہیں چاہیئے تھا کہ وہ بلوچ قبائلی روایات کو فرسودہ اور غیر انسانی بنیادوں پر قائم قراردے کران کو ڈھانے کا کام کرتے لیکن چونکہ یہ خوش فہمیاں اور مبالغہ آرائی اور بلوچ معاشرے کا ظاہری لیبل ان کو سیاست کے لئے بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ ہم ایک عظیم ریاست کے مالک تھے ہماراآئین تھا ہماری اسمبلیاں تھیں۔ اور بلوچ ادیب بلوچ معاشرے میں عورت کے عزت وتکریم کا گن گا کر اپنی غزلیں تعمیر کرتا ہے سیاسی کارکن اپنی نیشنلزم کی بنیادیں ان مبالغہ آرائیوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے تب ہی ہمارا نیشنلزم باہر کی دنیا میں قبائلی کاقبائلی اور جنگجو قرارپاتا ہے کیونکہ نیشنلزم یا ترقی پسند سیاست کو نئی بنیادیں چاہیے ہوتی ہیں‘نئی اصلاحات درکارہوتی ہیں لیکن ہمارے آبا?اجداد تو اس قدر ویڑنری تھے کہ ہمارے لئے ہزار سالوں کے لئے جدید معاشرتی بنیادیں متعین کرکے گئے جن پرہم چل کر خواہش رکھتے ہیں کہ نیلسن منڈیلا اور فیڈل کاستروہماری تعریف کریں۔ ادیبوں اور سیاسی رہنما?ں کو انقلابی ہونا چاہئے تھا اور بلوچ معاشرے کی پرانی بنیادوں کو ڈھاکر ازسرنو نئی ترقی پسند بنیادیں تعمیر کرنے کے بارے میں حکمت عملی اختیارکرنی چاہئے تھی لیکن یہاں سب بلوچ معاشرے میں عورت کے عزت وتکریم کے ظاہری آئینی لیبل پر متفق نظرآتے ہیں اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کا سخت گیر معاشرہ بھی بلوچ سیاست اور ادیب جیسا دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیئے ہیں جن کا دنیا تصور نہیں
کرسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچ اوراسلامی معاشرے میں یہاں بہترین مماثلت نظرآتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے سیاسی کارکنوں اور ادیبوں کے تناظر میں دیکھاجائے تو ہمارا بلوچ معاشرہ عورت سمیت دیگر معاملات میں اس قدر ویڑنری رہا ہے کہ فلاسفر جان لاک وغیرہ کو بلوچ معاشرے سے سیکولرازم کی مثالیں لینی چاہئے تھی لیکن افسوس ہم گم گشتہ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بلوچ سیاسی رہنما?ں اور بلوچ ادیبوں کی باتوں سے ایسا ہی لگتاہے کہ بلوچ معاشرہ تمام حوالوں سے بالخصوص عورتوں کے حوالے سے آئیڈیل ہے۔۔۔۔ دلچسپ تو یہ ہے کہ طالبان بھی یہی دعوے کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے نے عورت کو اس قدر عزت دی ہے کہ دنیا اس کا تصور تک نہیں کرسکتی اور اسلام کے داعی بھی ہمارے ادیبوں کی طرح یہی کہتے پھرتے ہیں کہ اسلام نے تو عورت کو بیش بہا حقوق سے نوازا ہے لیکن افسوس آج کے مسلمان ان قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتے۔۔۔۔یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہمارے بلوچ ادیب اور سیاستدان بھی یہی کہتے رہتے ہیں کہ قوانین تو عزت وتکریم پر مشتمل ہیں لیکن ہمارے رویئے اگر عورت کو کمزور سمجھتے ہیں تو اس میں قوانین کا قصور نہیں۔

بدھ، 4 مئی، 2016

عابد میر کی تحریر اور گلزار بلوچ کا جوابی تحریر



طبقاتی بلوچستان میں غیر طبقاتی سیاست

عابد میر

’’دنیا کے مزدورو‘ ایک ہو جاؤ‘ ‘۔۔۔یہ شاید دنیا کا اب تک سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نعرہ ہے۔ وہ نعرہ جو محنت کشوں کے بائبل ’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘ نامی مختصر کتابچے کی پیشانی پہ جگمگا رہا ہے۔ وہ مینی فیسٹو جس کا آغاز اس مشہورِ زمانہ فقرے سے ہوتا ہے کہ،’’یورپ کے سر پرایک بھوت منڈلا رہا ہے؛ کمیونزم کا بھوت۔‘‘اس مختصر پمفلٹ کے اس فقرے کو اس سال فروری میں 168سال مکمل ہو گئے، یورپ آج بھی اس بھوت سے پیچھا نہیں چھڑا سکا۔اپنی تخلیق(1848ء) کی انیسویں صدی میں دنیا میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا یہ مختصر کتابچہ اب تک سو سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو کردنیا کے کروڑوں انسانوں کی رہنمائی کا سنگِ میل رہا ہے۔ اس کا تازہ و آخری ترجمہ بلوچی زبان میں ابھی دو سال پہلے، بلوچستان میں ہوا۔ حالاں کہ یہ خطہ اس کتاب کے اولین ترجمے کا حق دار تھا۔ اس خطے میں سیاست کی بنیاد ہی اسی کتاب سے پڑی۔ جدید سیاست کا ہمارا امام یوسف عزیز مگسی اس کی تخلیق کے سو سال بعد سام راج مخالف جدوجہد کی پاداش میں جلاوطن ہو کراس کی جائے پیدائش(لندن) پہنچا ، تو اس کا سامنا مینی فیسٹو کے اصل ماخذ سے ہوا۔ جو اس کے مطالعے میں کہاں جگہ پاتا تھا، اس کا اظہار اُس نے اپنے دوست کے نام خط میں یوں کیا کہ،’’ان دنوں میرے سرہانے دو کتابیں دھری رہتی ہیں؛ ایک طرف ’دنیا کو جھنجھوڑ دینے والے دس دن‘، دوسری طرف داس کیپٹل!‘‘ اور پھر اُس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش بلوچ ان دونوں کتابوں کو اپنے مطالعے کا لازمی حصہ بنا لیں۔۔۔۔۔۔ بلوچ اس ماخذ سے دور رہے، سو منزل کہاں پانی تھی!!

المیہ ملاحظہ ہو،وہ دھرتی جس کے اکابرین نے کمیونسٹ مینی فیسٹو نامی مختصر کتابچے کو اپنی سیاست کا سنگِ میل بنایا، وہاں کے سیاسی کارکنوں کا ایک گروہ آج اس بات پہ مصر ہے کہ بلوچستان میں طبقات کا کوئی وجود ہی نہیں۔ سرداروں ، جاگیرداروں ، مڈل کلاسیوں کی دھرتی پہ یہ دعویٰ مضحکہ خیزی کے ساتھ ہمارے سیاسی شعور کا منہ چڑانے کو کافی ہے۔ اس دعوے داری میں محض نظریات کے سراب کے پیچھے جوانیاں گنوانے والے سفید ریش سیاسی کارکن ہی نہیں، تجربات کی بھٹی میں بال سفید کرنے والے اہلِ دانش بھی شامل ہیں، جنھیں بجا طور پر سرداروں اور جاگیرداروں کا’ فکری باڈی گارڈ‘ ہونے کا طعنہ ودیعت ہوا۔ سرداروں اور جاگیرداروں کے بلوچستان میں ‘طبقات سے انکار، ان سرداروں اور جاگیرداروں کو فکری ایندھن میسر کرنا ہی تو ہے جو کبھی قومیت کے نام پر اس دھرتی کو بیچتے رہے تو کبھی مذہب کے نام پر استحصالیوں کی بداعمالیوں کی پردہ پوشی کی۔ ان کی مثال پاکستان کے اُن دانش وروں کی سی ہے جنھوں نے آمریتوں کو جلا بخشنے کے لیے کبھی انھیں مذہب کا لبادہ اوڑھایا تو کبھی روشن خیالی کی چادر پہنائی۔ جیسے آمر خواہ کسی بھی پردے میں چھپ کر آئے، وہ اپنی آمرانہ فطرت پہ قابو نہیں پا سکتا، اسی طرح سردار اور جاگیردارکے فکری باڈی گارڈ خواہ انھیں کوئی بھی چولا پہنا دیں، وہ اپنی فطرت میں استحصالی اورعوام دشمن ہی رہتا ہے۔
بلوچستان میں طبقات سے انکاری سیاسی کارکنوں اور دانش مندوں کو جاگیرداری کے شکنجے میں جکڑے لاکھوں مزدور کسانوں والے نصیرآباد کی مثال دیں تو جھٹ سے کہیں گے صرف مشرقی حصہ ہی بلوچستان نہیں، ماہی گیروں کی مثال لائیں توانھیں صرف مکران کے ساحلوں تک محدودبتائیں گے، صنعتی مزدوروں کا ذکر کریں تو انھیں صرف حب و بیلہ تک محدود کر دیں گے، بلوچستان کے ہر شہر ہر قصبے میں موجود نائی، دھوبی، بوٹ پالش کرنے والے، ریڑھی بانوں،ڈاکیوں، کلرکوں کا نام لیں تو ایک طویل وقفے سے جواب آئے گا، ’یہ طبقات کی کلاسیکل تعریف میں نہیں آتے۔۔۔‘ پھر ’بلوچستان میں طبقات اُس طرح سے واضح نہیں۔۔۔‘ اور ’قومی سوال‘ کے طویل لاینحل مسائل کی گتھیوں میں اس سوال کو اس طرح الجھا دیا جائے گا کہ سوال کرنے اور جواب دینے والا دونوں ہی اس کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جائیں!
یہ وہی بلوچستان ہے جہاں ایشیا میں سب سے زیادہ جاگیریں رکھنے والے جاگیردار بستے ہیں، جہاں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کا مالک جاگیردار بستا ہے، جہاں دنیا کے ٹاپ ٹین اسمگلر کی فہرست میں جگہ پانے والا کھرب پتی اسمگلر مڈل کلاس سیاسی جماعت میں پناہ پاتا ہے، جہاں سردار‘ سردار کے مفاد میں اپوزیشن کی سیاست ہی ترک کر دیتا ہے۔ جہاں پاکستان میں عوام کی ازلی و ابدی دشمن مقتدرر قوتیں انھی عوام دشمن سرداروں کو پالتی پوستی ہیں، جب چاہیں اپنی ضرورت کے تحت انھیں ہیرو بنا دیں، جب چاہیں انھیں ولن دکھا دیں۔ 
وہی بلوچستان جہاں اپنے مخالف جاگیرداروں کو سبق سکھانے کے لیے بھٹو کی زرعی اصلاحات کے خلاف سبھی جاگیردار نسلوں سے ان کی زمینوں کو آباد کرنے والے ہاریوں کے خلاف یک جا ہو گئے۔ ہاری جس زمین کو اپنے پسینے سے سیراب کرتے تھے، جاگیرداروں نے اس زمین کو انھی کے خون سے سیراب کر دیا۔ جس کے بطن سے خونی پٹ فیڈر تحریک نے جنم لیا۔اس سے پہلے کہ یہ ہاری کسان ان جاگیرداروں کا اصل روپ دیکھ کر ان کا مکروہ استحصالی چہرہ ہمیشہ کے لیے پہچان لیتے، ان کے ازلی فطری اتحادی مذہب کا کاروبار کرنے والے آگے آئے اور ’زمین خدا کی ہے‘ ، ’خدا جسے چاہے جتنا رزق دے‘ ، جیسی تاویلوں اور قناعت کی نصیحتوں کا افیون دے دے کر ساری بغاوت کو سلا دیا۔
وہ بلوچستان جہاں مزدوروں، کلرکوں پر مشتمل ایسی منظم و مضبوط ٹریڈ یونین نے جنم لیا کہ اس سے خوف زدہ ہو کر،اسے توڑنے کے لیے مقتدرہ نے اس میں مافیاز بھرتی کر دیے۔ انھیں اس قدر بدنام بنا دیا گیا کہ آج ٹریڈ یونین کرپٹ نوکر شاہی اور کرپٹ ترین حکم رانوں کا حصہ بن چکی ہیں۔
ماہی گیر مزدوروں کے مسائل قومی سوال کے پردے میں دبا دیے گئے۔ باقی سرداروں کے باڈی گاڈ بننے والے، ان کے گھروں میں کھانا پکانے والے، ان کی جوتیاں سیدھی کرنے والے تو ایک ’قومی فریضہ‘ سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔تو یوں بلوچستان میں نہ کوئی طبقہ رہا، نہ کوئی طبقہ نواز۔ تو یہاں طبقاتی جدوجہد کا سوال ہی غیرمتعلق ٹھہرا۔
طبقاتی جدوجہد کی سیاست بلوچستان میں ایک عرصے سے ناپید ٹھہری۔ صرف بلوچستان ہی کیا، پورے پاکستان سے لے کر ایران ، افغانستان، ہندوستان تک آج طبقاتی جدوجہد، مزدور کسان سیاست کا نام و ہی نشان ہی نظر نہیں آتا۔ کمیونزم کے بھوت سے نمٹنے کے لیے یورپ اور سرمایہ داری کے سردار امریکہ بہادر نے دہشت گردی اور قومی جدوجہد کا ایسا ہوا کھڑا کیا کہ گذشتہ بیس برسوں سے اس خطے میں یوں لگتا ہے کہ دہشت گردی کے سوا نہ اور کوئی سماجی مسئلہ ہے نہ قومی سوال کے سوا کوئی سوال کوئی جدوجہد معنی رکھتی ہے۔ ان سوالوں کی کثرت سے عوام اگر بے زار ہو تو سیکولر ازم ، لبرم ازم کا تڑکا لگائیے اور بھوک و فاقوں کے مسائل بھول جائیے۔ان ریاستوں کے نصاب سے لے کر، ان کا کارپوریٹ میڈیا تک مزدور، کسان ، ہاری اور نچلے طبقات کو یوں حاشیے پر ڈال چکا کہ لگتا ہے جیسے سماج میں ان کا وجود ہی ناپید ہو چکا ہو۔ انقلابات کو قصہ پارینہ بتانے والوں میں سبھی شکم سیر ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی شکم سیری کا سامان موجود ہے، امن کا داعی رہتا ہے۔ پیٹ خالی ہو تو ہر فکر اور جذبے کی مانندامن بھی اپنے معنی کھو دیتا ہے۔ یاد رکھیے، آسمان پہ ایک ہی چاند چمکتا ہے، کوئی اس سے حسن کشید کرتا ہے تو کسی کو یہ روٹی کی مانند دِ کھتا ہے۔ 
بھوکے پیٹ والوں کے لیے آئیے مینی فیسٹو کی سطریں یاد کیجیے۔ اس تاریخی کتابچے کے مصنفین نے خبردار کیا تھا کہ،’’محنت کشوں کے سامنے سوائے اس کے کوئی راستہ ہے ہی نہیں یا تو وہ ماریں یا مر جائیں۔‘‘ مت بھولیے کہ اب تک مرنے پہ اکتفا کرنے والا محنت کش کسی بھی وقت مارنے پر بھی مائل ہو سکتا ہے۔ اپنی محنت استحصالیوں کے ہاتھ گروی رکھنے والا یہ محنت کش طبقہ اُسی روز بیدار ہوگا جس روز اسے یہ احساس ہو گیا کہ،ان کے پاس کھونے کو صرف زنجیریں اور پانے کو سارا جہان پڑا ہے۔۔۔!





مزدور کو نصیحت
گل خان نصیر کی بلوچی نظم



شاہ و گدا‘ سیٹھ اور خوار
مزدورِ برہنہ اور سرمایہ دار
آقا اور بھوکا کاشت کار
مظلوم وظالم مردہ خور
باندی غلام اور تاج دار
جتنا بھی ہوں شیر و شکر
نہ ہوں گے بہن بھائی کبھی
کہ گرگ و گوسفند کی یاری نہیں ہو سکتی



گفت و شنید نہیں ہو سکتی ظالم اور طاقت ور کے ساتھ
رحم کی درخواست کبھی ان کے پاس نہ لے جا
اگر تم عاقل ہو، دانا ہو اور دانش مند ہو
تو اُن سے اپنے حقوق تیغ و تبر کے ذریعے لے لو



میں مزدور تو دہقاں، اُف تم پہ، آہ مجھ پہ
کب تک رہے گا ڈنڈا تیرے لیے اور گالی میرے لیے
یہ حیلہ و مکاری سے ہمارا خون چوستے ہیں
ہر ایک جونک کی طرح ہے؛ پیر تمہارے لیے ،شاہ میرے لیے 
ہم جاہل و کم زور ہیں، بے علم و ہنراندھے ہیں
یہ کاہلی نادانی بری تیرے لیے اور گناہ میرے لیے

بلوچی سے ترجمہ: شاہ محمد مری
___________________________________________________
طبقاتی بلوچستان میں غیر طبقاتی سیاست اور عابد میر کے تضادات

گلزار بلوچ
عابد میر کے یکم مئی کے آرٹیکل "طبقاتی بلوچستا ن میں غیر طبقاتی سیاست " کے عنوان سے پڑھا۔عابد میر نے جس نقطے کو یہاں زیر بحث لایا ہے وہ نقطہ ہے بلوچستان میں قومی سوال کا۔عابد میر نے بڑی ڈھٹائی سے بلوچستا ن کے ’’ قومی سوال ‘‘کو یورپ اورامریکہ کی پیداوار قراردیا۔عابد میر کے مطابق
’’ماہی گیری مزدوروں کے مسائل قومی سوال کے پردے میں دب گئے۔باقی سرداروں کے باڈی گارڈبننے والے ان کے گھروں میں کھانا پکانے والے ان کی جوتیاں سیدھی کرنے والے توایک ’’قومی فریضہ ‘‘سرانجام دے رہے ہیں۔تو یوں بلوچستان میں نہ کوئی طبقہ رہا اور نہ کوئی طبقہ نواز تو یہاں طبقاتی جدوجہد کاسوال ہی غیر متعلق ٹھہرا۔طبقاتی جدوجہد کی سیاست بلوچستان میں ایک عرصے سے ناپید ٹھہری۔کیمونزم سے نمٹنے کے لئے یورپ اور سرمایہ داری کے سردار امریکہ بہادر نے دہشتگردی اور قومی جدوجہد کاایسا ’’ہوا ‘‘ کھڑا کیا کہ گزشتہ بیس برسوں میں سے اس خطے میں یوں لگتا ہے کہ دہشتگردی کے سوا نہ اورکوئی سماجی مسئلہ ہے نہ قومی سوال کے سواکوئی سوال کوئی جدوجہد معنی رکھتی ہے’‘
یعنی بلوچستان میں قومی سوال اور دہشتگردی کو یورپ اورامریکہ کی جانب سے کمیونزم کے خلاف کھڑا کیاگیا۔آگے لکھتے ہیں کہ اب دہشتگردی اور قومی سوال کے علاوہ کوئی سوال رہا ہی نہیں۔ یعنی دہشتگردی اور قومی سوال ایک ہی معنی دیتے ہیں اور یہ کہ دونوں امریکہ کے پیداکردہ ہیں اور پھر اگر بلوچستان میں قومی سوال کو اہمیت حاصل ہے تو یہ خارجی ہے قومی سوال اندرونی جڑیں نہیں رکھتا۔
یہ الفاظ عابد میر کے مضمون میں پڑھ کرپروفیشنل لکھاریوں کی تعریف سمجھنے میں کچھ کچھ آسانی ہورہی ہے۔عابد میر کے سابقہ کچھ ہی تحریروں کاجائزہ لیاجائے تو یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ وہ یکم مئی کو "ایک دن کے لئے سوشلسٹ بننے " کااعزاز حاصل کرچکے ہیں اور ہر خصوصی دن کی مناسبت سے موصوف وہی روپ دھارلیتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں غور کیاجائے تو موصوف اور اسکے گروپ(سنگت اکیڈمی) کی تحریریں ایک دوسرے کا خود ضد بنتی رہتی ہیں یعنی اگلی روز کی تحریرپچھلی تحریر کو مکمل رد کرتی نظرآتی ہے۔ تب ہی اکثر اوقات قومی سوال کی اہمیت کا بیان اورقومی جدوجہد کے گن گانے تعریف وتوصیف اوراہم مسئلہ قرار دینے بعد قومی سوال ایک دم سے امریکہ کی جانب سے "ہوا" کھڑا کرنا قرارپاتا ہے ‘امید ہے آنے والے دنوں میں یہ ہوا پھر سے حقیقت بن جائے اور پھر کسی خاص موقع پر یہ محوہوجائے۔اب اگر ہم خود عابد میر کی تحریروں کا جائزہ لیں تو یہ تضادات سے پرہوتے ہیں اور ایک دوست زرک میر صاحب متعدد بار موصوف کے تضادات پر لکھ چکے ہیں۔ یہ موصوف ایک دن کے لئے جہاں سوشلسٹ بنتے نظرآتے ہیں تو وہاں ایک دن کے لئے کبھی یہ مسلم لیگی بن جاتے ہیں اوراس پر زرک میر نے بھی لکھا تھا۔ جہاں مہینوں پہلے ایک آرٹیکل میں مسلم لیگ نواز شریف کی خاتون رکن اسمبلی راحیلہ درانی کے بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہونے کو اہم پیشرفت اور انقلاب سمجھنے لگتے ہیں ،پھر جناب کمال مہارت دکھاتے ہوئے راحیلہ درانی کی اسپیکر شپ کو جہاں اہم پیشرفت قراردیتے ہیں وہیں گودی کریمہ کی بی ایس اوآزاد کی چیرپرسن بننے کوبھی اس جیسا انقلاب اور اہم پیشرفت قراردیتے ہیں‘کیا کمال سوشلزم ہے جہاں ایک طرف راحیلہ درانی کی اسپیکر شپ انقلاب قرارپائے جو خود ‘خود ساختہ سوشلزم کے چہرے پردھبہ ہے اورپھر راحیلہ اور کریمہ ایک ہی شخص کے لئے انقلابی خواتین قرارپاتی ہیں جو آگ اورپانی کے میلاپ کے مترادف ہے۔ممکن ہے ایک طرف ن لیگ جیسی غیر نظریاتی پارٹی کی غیر نظریاتی خاتون کے اسپیکر بننے کو سوشلزم کے ہاں انقلاب کا درجہ ملے تب یہ صاحب گودی کریمہ بلوچ کو کہاں اس عمل میں فٹ پاتے ہیں جہاں انہوں نے قومی سوال کو امریکہ کا ہوا قراردیا ہے۔مطلب عجیب تضاد ہے جو ایک نہیں دو نہیں تین نہیں بلکہ درجنوں تضاد رکھتا ہے ‘کہاں راحیلہ درانی اور اس کے اسپیکر بننے کے پس پردہ عوامل کہاں اس کے اسپیکر بننے کاسوشلزم سے تعلق اور کہاں کریمہ بلوچ اوراس کی قومی سوال سے جڑت جدوجہد۔قارئین اس تضاد کی گتھی کو خود سلجھائیں میں تو کنفیوز ہورہا ہوں۔اب کچھ اور پیچھے چلے جائیں تو یہ مادیت پرست سوشلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں مست توکلی کے گن گاتے ہوئے ایک ایسے صوفی نظرآتے ہیں کہ فکر روحین کے داعی اور مادیت پرستوں کے اہم نقیب نظرآتے ہیں۔(مست توکلی کے عشق کو عورتوں کی تحریک کی بنیاد قراردینازیر بحث ہی نہیں )مزید غورکرنے پر موصوف عورتوں کے حقوق کے ایسے علمبردار نظرآتے ہیں کہ سموراج موومنٹ کی تشکیل کاربن جاتے ہیں اور پاکستان کے پائے کے سیکولراستادوں وجاہت مسعود وغیرہ کو استاد ماننے لگتے ہیں۔کچھ سال پیچھے نظرڈوڑائیں تو یہ بلوچ قوم پرست تحریک کے روح رواں کامریڈ خیربخش مری کے پیرو قرارپاتے ہیں اور بقول عابد میر کے نوابوں کے’’ بوٹ پالش کرنے والے ‘‘ایک رہنما جو آٹھ دس سال جیل کاٹ کر جب باہر نکلے تو عابد میر صاحب کی ان سے نظریاتی قربت دیدنی تھی۔یہی نہیں الفاظ کے گورکھ دھندوں سے لے کر کتابوں کے تعریفی وتوصیفی دیپاچے اس مہا نواب(کامریڈ مری) کے بارے میں لکھے گئے اور بقول عابد میر سیاسی کارکن اس نواب کے بولٹ پالشیئے رہے ہیں اور یہ تعریفی اور توصیفی دیپاچے کوئی اور نہیں عابد صاحب کے استاد محترم لکھتے رہے گویا ان نواب کے فکری باڈی گارڈوں میں اکیڈمی کے معزز سربراہ بھی سرفہرست نظرآتے ہیں (ہم انہیں بوٹ پالشیئے نہیں کہہ سکتے )اور خود عابد اس نواب کے ایک دیرینہ فکری ساتھی کے فکری آئیڈیل جانے جاتے تھے۔یعنی جناب کی پچھلی تحریروں کا اگر ریکارڈ حاصل کیاجائے تو اس نئے فکری مراجعت کی بنیادتضاد ہی نظرآئیگی۔اب ایسا لگتا ہے کہ اکیڈمی میں ایک مخصوص "کلینڈر " ترتیب دیاگیا ہے جس میں ماہانہ وار اوراق پر مخصوص ایام نشان زد نظرآتے ہیں۔یکم مئی ‘عورتوں کا عالمی دن‘ معذوروں کا عالمی دن ‘کتابوں کا عالمی دن ‘جانوروں کا عالمی دن پھولوں کا عالمی دن ‘اب اگر اقوام متحدہ سرمایہ داری کا عالم دن رکھ لے تو روایتی تسلسل کو دیکھ کر گمان کیاجاسکتا ہے کہ ایک خصوصی تحریر سامنے لائی جائے کہ صاحب مزدور بنتے ہی سرمایہ دار ی کی وجہ سے اگر سرمایہ دار نہ ہوگا تو سوشلسٹ انقلاب آئے گا کہاں سے۔ لہٰذا سرمایہ دارانہ انقلاب زندہ باد۔ اب اقوام متحدہ کی طرف سے اگر نیشنلزم کا کوئی دن مقررکیاجائے تواس دن یوسف عزیز مگسی بلوچ قوم پرست بنتے نظرآئیں گے تب شاہد وہ دیباچے بھی سا منے لائے جائیں جو فضول اور جاہلانہ دہشتگردانہ اور امریکیائی ہوا جیسے کھڑے قومی سوال کا پرچارکرنے والے نواب مری کے حق میں لکھے گئے تھے۔وہ تحریریں تو محفوظ ہونگی وہ ضرورسامنے لائی جائیں گی اور قوم پرستی کا پرچم ضرور بلند ہوتا ہوا نظرآئے گااور جواز دیاجائے گاسوویت یونین کے انہدام میں قومی سوال کا حل نہ کرنا بھی ایک بہت بڑا موجب تھا اورگمان غالب ہے کہ پھربوٹ پالیشیوں کوسرمچار اور کامریڈ بھی قراردیاجائے اس دن یقیناًسوشلزم سے قبل قومی سوال کی اہمیت کو مدنظررکھ کر ایسا کچھ لکھاجائے گا کہ سوشلسٹ بھی حیران رہ جائیں۔ یہ بنیادی نقطہ ہے کہ عابد میر قومی سوال کو کیسے غلط قراردیتے ہیں اور انتہائی طورپر اسے امریکہ کی پیداوار کیسے قراردیتے ہیں۔ عابد تاریخ سے ناواقف ہوسکتے ہیں لیکن اس قدر ناواقفیت تو پاکستان کے بڑے بڑے لکھنے والے وجاہت مسعود یا بڑے بڑے سوشلسٹوں کے ہاں بھی گمان نہیں کیاجاسکتا۔کیا بلوچ قومی سوال روس میں کمیونزم کے انقلاب سے نتھی رہا یا اس انقلاب کے بطن سے امریکہ کی جانب سے پیدا کیاگیا یا پھر یہ ہر اس ریاست اور اس کی قوم کے ساتھ جڑاہوتا ہے جو اپنا وجود او رشناخت رکھتی ہے ؟اس حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ کیا بلوچ قوم کا وجود سوویت یونین کے انقلاب کے بعد کی پیداوار ہے جہاں سب سے پہلے قوم کا ہوا کھڑا کیاگیا بعد میں قومی سوال کا وجود تخلیق کیاگیا ؟ چنانچہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عابد میر پہلے قومی سوال کی تعریف تو کرتے کہ بلوچ قومی سوال کیسے امریکہ کی پیداوار ہے ؟یوسف عزیز مگسی جب کہتے ہیں کہ کاش بلوچ نوجوان داس کیپٹل اور انقلاب کے دس دن والی کتابوں کا مطالعہ شروع کریں تو انہیں بلوچ کالفظ استعمال کرنے کی نوبت کیوں آئی ؟انہیں کیوں اس امریکہ کے کھڑے کئے گئے ہوا کا گمان نہ گزرا ؟گل خان نصیر جیسے سوشلسٹ (؟) کو اپنے اظہار میں بلوچ وطن اور بلوچ زبان وتہذیب کیوں رہ رہ کریاد آتے گئے جہاں ان کی تحریریں وطن سے محبت پر ہی محیط ہیں جبکہ جس سیاست کو عابد میر ان کے ہاں سوشلسٹ پہچان بتاتے ہیں وہ سب سرداروں اور نیپ کے زیر سایہ رہی اگر نیپ سوشلسٹ پارٹی تھی تو اس میں سردار مینگل نواب مری امیر الملک وغیرہ وغیرہ کیوں سوشلسٹ قرارنہیں پاتے ؟ فدا بلوچ جیسی شخصیت کا بھی حوالہ دیاگیا۔اب فدا ور پھر بلوچ اور پھر بی این وائی ایم جیسی پارٹی کے بانی رہنماء4 کے ذہن میں یہ امریکی ہوا کیوں محو ہوگیا کہ انہوں نے بلوچ قومی سوال کی ہی بات کی۔۔۔۔ پوری سیاست بلوچ قومی سوال کے گرد محیط رہی چنانچہ عابد میر نے جن شخصیات کا حوالہ بطور سوشلسٹ دیا ہے ان کے ہاں ہی ہمیں بلوچ قومی سوال جس شد ومد سے نظرآتا ہے کہ جس کو کوئی بلوچ یا غیر بلوچ بھی رد نہیں کرسکتا۔ان شخصیات کی شناخت ہی بلوچ قوم پرستی کے حوالے سے ہے ؟مجھے عابد سے کوئی بغض نہیں وہ سوشلسٹ ہیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں اچھی بات ہے لیکن اس بات پر اعتراض ضرور ہے کہ قومی سوال کو یورپ اور امریکی ہوا(بے بنیاد) قراردینا اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کرناکسی طرح سے بھی تضاد سے خالی نہیں۔چنانچہ بلوچ قومی سوال کو بلوچ قومی تشکیل سے ہی لیا جاسکتا ہے جویقیناًسوویت یونین سے کہیں زیادہ پرانا ہے اگرقومی وجود کو لے کر قومی سوال کی اہمیت اور وجود کی بات کی جائے تو یہ کمیونزم اور خود امریکہ سے ہی بہت پرانے ہیں اور اگر سوویت یونین کے مختصر دور میں بلوچ قومی سوال کا ہوا کھڑا کرنے کو درست تسلیم بھی کیاجائے تو 90کی دہائی کے بعد سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس بلوچ قومی سوال کے ہوا کو کیونکر کھڑا کرنے کی اب تک ضرورت پیش آئی ہے۔ جہاں عابد میر اور ان کے استادوں کو بھی بلوچ قوم پرستی کے نواب رہنما?ں کی پیروی کرنا پڑی اور وہ بھی ان کے فکری بارڈی گارڈوں میں شامل ہونے کا شرف حاصل کرتے رہے۔چنانچہ عابد میر بلوچ قومی تشکیل اور وطن وقومی مفادات کے تحفظ کے فطری احساس کے تناظر میں ان مسائل کو دیکھنے سے قطعی قاصر رہے ہیں اور ایسے ماہر اساتذہ کی نگرانی میں بھی جناب موصوف فکری مغالطوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں جو دانش کے نام پر بلوچستان میں ہونے والی کوششوں پر ایک بنیادی سوال ہے۔کیا بلوچ قومی تشکیل امریکہ اور سوویت یونین سے جڑی ہے ؟ اگر جڑی ہے تو کیسے ؟جبکہ سادی سی حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قومی تشکیل بلوچ ریاست اور قومی مفادات کے تحفظ کی جدوجہد تو مارکسزم سے بھی بہت پہلے کی ہے۔ بلوچوں کی یہاں آمد کی تاریخ بھی دیکھی جاتی تو شاہد عابد میر کو مبالغہ نہ ہوتا۔جب خان آف قلات محراب خان انگریز کے یلغار کے خلاف دوبدو لڑائی لڑرہے تھے تواس وقت داس کیپٹیل لکھا بھی نہیں گیا تھا اورنہ مارکس اپنے نظریئے کو متعین کرسکے تھے۔اگر بلوچ قومی وجود کو لیاجائے تو اس وقت امریکہ بھی دریافت نہیں ہواتھا بلوچ امریکی دریافت سے بھی کہیں پہلے کی قوم ہے۔خان محراب خان سے بھی اگر شروع کیاجائے تو یہ سوویت یونین اور امریکہ کے سردار بننے سے پہلے کا قومی سوال قرارپاتا ہے۔مطلب میںیہ لکھتے ہوئے کنفیوز ہورہاہوں اور میری کیفیت ایسی ہے کہ اگر کسی بچے کواس کی ذہن سے بھی ماورا شہ سمجھائی جائے تو ممکن ہے کہ ایسا کیفیوڑن نہ ہو جیسا کہ اس معاملے پر عابد صاحب کی خدمت میں کچھ لکھتے ہوئے مجھے کیفیوڑن ہورہی ہے۔چنانچہ بلوچ قومی سوال کو سوویت یونین اور امریکہ کی سرداری سے نتھی کرنا ایسا ہے کہ عابد کے لئے بلوچستان کی عمر اس قدر طویل نہیں اور یہ اسے ایک صدی قبل کی ہی دریافت تخلیق یا بنیادی طورپر ’’ہوا ‘‘ قراردیتے ہیں۔چنانچہ بلوچستان کی جس قدر عمر ہے بلوچ قومی سوال بھی اس قدر پرانا ہے جس کا نہ تو سوویت یونین سے کسی طور پرکوئی تعلق ہے اور نہ ہی امریکہ کی سرداری کا اس کے وجود سے کوئی تعلق ہے۔
عابد میر نے ایک او رنقطہ بھی اٹھایا جو بدقسمتی سے تضاد بیانی سے خالی نہیں ہے وہ یہ کہ بھٹو نے یہاں زرعی اصلاحات کی کوشش کی تو یہاں کے جاگیرداروں نے اس کو ناکام بنایا۔اول تو یہ کہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو وقتا فوقتا دہرایاجاتا ہے یہ ایسا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں سکولوں کے قیام اور سڑکوں کی تعمیر کی بات کی جاتی تھی تو وفاق کہتا کہ وہاں نواب بگٹی ایسا کچھ نہیں چھوڑتے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب تک نواب بگٹی اسکول وغیرہ نہیں چھوڑتے رہے زندہ رہے بلکہ وزیر مملکت سے لے کر گورنر اور وزیراعلیٰ تک بنتے رہے لیکن جونہی انہوں نے بلوچ قومی سوال کی بابت معاملہ اٹھایاتو اسے راستے سے ہٹادیاگیا یعنی جو چیز یہاں نہ کرنی ہواسے جاگیرداروں اور سرداروں کی بدمعاشی قراردی جائے اور اسکے سامنے وفاقجیسی طاقت بے بس ہوجائے لیکن جونہی کوئی قومی سوال کے حوالے سے موقف اپنائے تو یہی طاقت ان سرکش سرداروں اور جاگیرداروں کو غاروں میں جاکر مارے۔اب بھٹو کی زرعی اصلاحات کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا۔ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کی حکومت ختم کردیِ سردار مینگل وغیر ہ گرفتارکئے گئے ، بھٹو نے ان سرکش سرداروں کو سبق سکھانے کے لئے بلوچستا ن کے دورے پر تھے ،جھالاوان میں جلسہ سے خطاب کررہے تھے اور کہہ رہے تھے آج سے میں بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں پھر فورا نیچے جھکے اور اسٹیج پر بیٹھے سردار دودا خان زہری سے کہنے لگے ’’آپ کے علا?ہ ‘‘ یعنی سرداری نظام کے خاتمے کی سنجیدگی کا یہ عالم تھا تو زرعی اصلاحات کا عالم کا خود ہی اندازہ لگایئے جہاں آج گڑی خدا بخش میں شہداء4 پی پی کے لئے جو زمین مختص ہے اور وہاں کی وسیع وعریض زمین پرجس انداز سے مقبرے تعمیر ہیں۔اب یہ شاہانہ طرز زندگی اور بعداززندگی دیکھ کر مدفن شخص کو تاریخ زرعی اصلاحات کرنے والے رہنماء4 کے طورپر قطعی یادنہیں کرسکتی۔

منگل، 26 اپریل، 2016

ہفتہ، 16 اپریل، 2016

سوچنے کی باتیں : تحریر : مہر گہوش



(غور و فکر کیلئے چند الفاظ )
تضادات و اختلافات ، بحث و مباحثہ، تلخی و الزامات کے بعد بھی اگر قومی مفاد اور وقت کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر قوم کو مایوسی کی دلدل سے نکالنے کی ایک امید پیدا ہوئی ہے اور اگر اس اہم وقت اور اقدام پہ حیرانگی کا اظہار کرکے اسی سوچ پہ قائم رہنا کہ اگر متحد ہونا تھا تو پھر اتنے وقتوں سے یہ تلخی اور بحث و مباحثہ کیوں ؟ اس نقطے یا اعتراض کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اگر تضادات نہ ہوتے تو اتنی تلخی و بد گمانی جنم لیتے ؟؟ اور ساتھ ہی اس حقیقت کو ہماری بدنصیبی کہا جائے یا ناتجربہ کاری کہ جنم لینے والے اور سامنے آنے والے تضادات بھی حقیقی ہیں ، اور تمام اہل سیاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تضادات کی موجودگی کا قطعاََ مطلب یہ نہیں کہ انھیں ویسے ہی رہنے دیا جائے اس لئے ان کا اب کوئی قابل قبول حل نکالنا ضروری ہے ،کیونکہ گذشتہ دو تین سال کی بحث و مباحثے کا کوئی نتیجہ قوم کے سامنے لانا ہوگا اور اگر بغیر نتیجہ کے ہم صرف بحث برائے بحث ہی کو ذہن میں رکھا ہے تویہ عمل بذات خود غیر سیاسی و غیر انقلابی عمل کے زمرے میں آتا ہے ، اگر شعوری انداز میں شروع کی گئی بحث کو اب ایک نتیجہ خیر فیصلے تک نہ پہنچا سکے اور سب کچھ اللہ پاک کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خاموشی اختیار کرلی تو یہ بلوچ قوم کیلئے ایک بڑے المیے و سانحہ سے کم نہ ہوگا ۔لہذا اب موجودہ حوصلہ افزاء اشتراکی عمل جو کہ سنگت حیربیار کی جانب سے پہل ہوا سب آزادی پسند قومی ذمہ داروں پہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس عمل کو سرد خانے کی نذر کرنے بجائے اور روایتی طنز و شغان اور بحث و مباحثے کے ایک متفقہ پلیٹ فارم کی تمام تر پہلوؤں پہ غور و غوص کر کے اسے باقاعدہ سنجیدگی سے آگے لے جانا چاہیے!
(میرا نقطہ نظر) 
مختلف چیزوں یا معاملات کو مختلف نقطہ نظر سے ہٹ کر ایک ہی نقطہ نگاہ سے دیکھنا، سمجھنا، اور پرکھنا دلیل و منطقی بحث و مباحثے اور ایمانداری کے ساتھ مثبت رویے اور سوچ کے ساتھ کوشاں رہنا ، اور ناممکنات لمحوں سے باہر نکل کر عملی صورت میں میدان عمل میں آنا شعور ، پختہ سوچ اور موثر فیصلہ کی ضمانت ہے ، چند چیزیں ضد ، جذباتی پن ہمیشہ مثبت عمل اور پیش رفت کو الجھن ، انتشار و بگاڑ میں لاکر نزدیکی اور ہم خیال بنانے کے بجائے مزید نفرت اور دوری کی فضا کو قائم کردیتے ہے ، طنز شغان، اور ہر قدم پہ بدگمان ہوکر شک کی پہلو کو ذہن میں رکھ کر منفی انداز میں سوچنا اور رائے قائم کرنا ، فیصلہ لینا اور ساتھ ہی ’’ میں ‘‘ اور ’’ ہم ‘‘ والا پالیسی ہمیں روشنی کے بجائے مزید تاریکی میں دھکیل دے گا ، اس لئے وقت و حالات کی نزاکت کے پیش نظر غیر ضروری بحث سے اجتناب کرکے غیر سیاسی اور غیرسنجیدہ سوالات و خیالات کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے خاموشی اختیار کرنا سب سے موثر عمل ہوگا ، کیونکہ غیر سنجیدہ اور غیرسیاسی رویوں کے مقابلے میں جذباتی ہوکر وہی عمل اور سوچ اپنانا بذات خود کم علمی و جاہلی کا ثبوت ہے، اس لئے اب ضروری ہے کہ ہمیں اپنا ہر قدم انتہائی سوچ بچار کے ساتھ آگے بڑھانا ہے ، اگر اس دفعہ خدا نہ کرئے ماضی کی طرح ایک بار پھر بے پناہ نوجوانوں کی لہو سے جلنے والی آگ سرد پڑ گیا تو اس کے پیچھے اور کچھ نہیں ہوگا سوائے جذباتی پن ، اندھی تقلید ، غلط فہمی، لاپرواہی، ضد، انا ، غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی کے !!
(فکر اور مقصد )
فکر ایک مقصد کیلئے ہوتا ہے اور مقصد کیلئے فکرکا ایک ہونا لازمی ہے ۔شعور مقصد کاتعین کرتا ہے اور مقصد کو پانے کیلئے سفر کے صحیح سمت کے تعین کے ساتھ ہی مسلسل عمل کا ہونا بھی لازمی ہے اور ساتھ ہی ایک ہی فکر کے مختلف الخیال انسانوں کو ایک مقصد کی طرف آگے لے جانے کیلئے ایک مضبوط ،دوراندیش ،معاملہ فہم، نڈراور با عمل وبا کردار لیڈرکا ہونا ضروری ہے وہی لیڈر کے ساتھ ایک باصلاحیت ٹیم کا ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے منزل یا مقصد کی طرف جانے والے لیڈر سے لیکر تمام مسافر جب ایک سخت اصول اور ضابطہ اخلاق کے پابند ہوں گے تو شعوری تشکیل کر دہ ڈسپلن یا اصول ہی تنظیم یا پارٹی کہلاتا ہے۔وقت حالات کے مطابق عارضی فیصلوں کو تبدیل کرنا اورازسر نو پالیسی مرتب کرکے فیصلہ لینا یا وقت و حالات کی نزاکت سے باخبر رہ کر سابقہ پالیسیوں سے لاحاصل نتائج یا نقصان وغیرہ کو مد نظر رکھ کر نئے سرے سے پالیسی ترتیب دینا اور ان کو قبول کرنا یا اختیار کرنابا علم و صحت مند ذہین اورشعور کی علامت ہوتی ہے۔سابقہ ناکام یا غلط پالیسوں یا رویوں کو بر قرار رکھ کر ایک ہی جگہ پہ اٹکے رہنے والے کو باشعور یا مضبوط انسان کانام نہیں دیا جاسکتا ہے ۔حقائق کو تسلیم کرنا اور وقتی معاملات و چیزوں پر رائے تبدیل کرنے کو عیب تصور کرنا جہالت اور بے شعوری کے زمرے میں آتا ہے۔فکر و مقصد یا تعین کردہ راستہ کو تبدیل کرنا عیب یا بے شعوری ہوسکتا ہے لیکن عارضی پالیسیوں وطریقہ کار کو مقصد سمجھ کر ان سے چمٹ جانا کم عقل ذہین کی عکاسی کرتا ہے۔اگر کسی چیز کو ذہین قبول نہیں کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اسی کی نشوونما پہ توانائی خرچ کی جائے تو اس کو ترک کرنے کا واحد حل کسی با اعتبار پر اعتبار کرنا اگر کسی پر اعتبار نہیں ہے یا نہیں ہوسکتا تو پھر ایک ہی راہ بچ جاتا ہے اور وہ ہے مایوسی ، اور مایوسی کا علاج خود میں موجود ہوتا ہے یاوقت پھر چھوڑ دیا جائے کہ وہ وقت پر ختم ہوگی یا مزید پختہ ہوگی۔
(مایوس وناکام انسان)
میں مایوس ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ میں مایوس ہو،میرے ہر عمل و فعل، رہین سہن اور اظہار رائے سے مایوسی کے آثار نظر آتے ہیں لیکن احترام جہاں کی خاطر کبھی کبھی یہ اظہار کیا جاتا ہے کہ میں مایوس نہیں ہوں ،جب انسان اپنے خود اختیار کردہ نظریہ اور عمل پر تذبذب کا شکار ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کا پہلا انتخابِ قدم ہی رائیگاں گیا ہے ،جب نظریہ وعمل کو روز سو دفعہ صحیح و غلط کے ترازو میں ڈالا جائے تو مایوسی کی بے ذائقہ و بے بو کیفیت دماغ پہ کافی آسانی سے اثر انداز ہو گا اورتجھے معلوم بھی نہیں ہوگا اور آخر تک بے خبر ہو کر مایوسی ہی کی زندگی سے چھٹکارہ نہیں پا سکے گا۔جب یہ کیفیت طاری ہو تو پھر نتیجہ ہر چھوٹے یا بڑے مقصد میں ناکامی مقدربن جاتی ہے،صلاحیت وتوجہ کی طاقت کمزور ہو کر ختم ہوجاتاہے پھرناکامی کی تصور کو ذہین میں بٹھا کر میں کچھ نہیں کرسکتا ہوں مجھ میں صلاحیت نہیں ہے،پھر بعض اوقات کچھ کر گزرنے کی تڑپ و چاہ ہوتے ہوئے بھی مایوسی کی مرض کی وجہ سے ہمت ہار جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ ذہین میں یہ خیال پختہ ہوچکا ہے کہ مجھ میں صلاحیت نہیں حالانکہ وہ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اس کے اندر صلاحیت موجود ہیں۔ جب ہم کسی مقصد کو حاصل کرنے یا کام کو سرانجام دینے کی خاطر اپنی تمام تر توجہ و صلاحیتوں کو ایک دائرے میں مرکوز کریں تو تب جاکر منفی سوچ و خیال کے سامنے بند بندھانے میں کامیاب ہوجائیں گے، کسی عمل کو تسلسل کے ساتھ سرانجام دینے اور اسے منزل تک پہنچانے کیلئے لازمی ہے کہ اپنی پوری توجہ کو ایک جگہ مرکوز کیا جائے ، کیونکہ جب توجہ منتشر ہوگا تو انسان چھوٹے چھوٹے معاملوں اورچیزوں و باتوں میں پھنس جاتا ہے آخر کار ناکامی اور مایوسی کی وباء اسے اپنی لپیٹ میں لے گا۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی سبق یہی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ کیوں کررہے ہیں ہمیں کیا ایسا کرنے پر مجبور کر رہا ہے انسانی رویوں کو کیا چیز بناتی ہے بگاڑتی ہے؟ان سولات کے جوابات سے ہم ان باتوں کو جان سکیں جو ہماری روشن مستقبل کی راہ کا تعین کرتا ہے 
(طویل المدت اور قلیل المدت) 
جب کسی چیز یا معاملے کے متعلق انسان اپنی انفرادی سوچ ، خواہش و جذبات اور خاص کر ذاتی نقطہ نظر و خیال کو لیکر اپنی من پسند نتائج کی خواہاں ہوں اور پھر ان ہی نتائج پہ مکمل اطمینان کا اظہار بھی کرلیں تو اسی سوچ و ذہنیت سے تشکیل پانے والے پالیسی محدود وقت و مدت کے لئے ہوسکے فائدہ مند ثابت ہوں لیکن یہ مشاہدے و تجربے کی بات ہے کہ محدود ماحول اور جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے طویل المدت نتائج نہیں دے سکتے ہیں ، اور پھر ایسی کیفیت میں مبتلا فیصلے کرنے والے مایوسی ، بے چینی، ذہنی انتشار کے شکار ہوکر بند گلی میں خود پائیں گے ۔ اختلاف رائے و مدمقابل کی سوچ کو دشمنی کے زمرے میں لائے بغیر اس کی رائے اور سوچ پہ باریک بینی سے غور وغوص کرنا اکثر اوقات انسان کو صحیح و غلط سمت کے تعین کرنے میں مدد دیتی ہے، اگر کوئی اپنی دل کو یہ تسلی دیں کہ میں کبھی غلط نہیں سوچ سکتا یا غلط پالیسی نہیں بناسکتا اور دن رات کنواں کی مینڈک کی طرح ایک ہی سمت اور زوایہ پہ سفر جاری رکھیں تو ایسے انسان بلند سوچ و میعار کے بجائے مایوسی کی وادی میں گر کر اپنی محدود صلاحیتوں کو بھی تباہ و برباد کر دے گا ، جب صلاحیت ختم و سوچ محدود ہوں اور ساتھ ہی سیکھنے و سمجھنے کا عمل بھی مفلوج ہوں تو انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے غیر ضروری بحث و مباحثے میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ معلوم تک نہیں ہوتا کہ اس کی سوچ اپنے آس پاس کے لوگوں کے لئے ندامت و اذیت کا باعث بنتا جارہا ہے ۔ اگر انسان اپنی انفرادی و محدود ماحول و سوچ سے نکل کر جب باہر کی دنیا پہ نظر ڈالے گا تو اسے وہاں حقیقت کے آئینے میں ایسا جذباتی ماحول بھی ملے کہ وہ آئینہ توڑنے کی کوشش بھی کرئے گا کیونکہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں دکھاتا ، اور جب انسان کو حقیقت کے آئینے میں اپنی اصلیت معلوم ہوگا تو وہ پھر انکار و الزام تراشی کی رو میں بہہ کر یہ تکرار کرئے گا کہ میں تو باعمل ہوں ، باصلاحیت ہوں ، بہادر ہوں ، مخلص ہوں ، قربانی دینے والا ہوں میں کیسے غلط ہوسکتا ہوں ، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے ہی رویے و مزاج کے مالک فرد یا تنظیم و جماعت تحریک و قوم کی زوال کے باعث بنیں گے ، اور ایسی سوچ کی موجودگی میں کامیابی کی امید رکھنا خود کو دھوکے میں رکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے 
(غلط فہمی)
زندگی میں سب سے زیادہ اگر مجھے کسی چیزکا خوف ہے تو وہ ہے غلط فہمی ہے،کیونکہ یہ انسان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہے وہ آپ کے مد مقابل کی ہاتھ میں ہے کہ وہ کب اور کہاں آپ کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہو ۔غلط فہمی وہ بے آواز وبے خبر تلوار ہے جو مضبوط سے مضبوط رشتوں کو منٹوں میں کاٹ دیتی ہے اگر وقت اور حالات یا کسی موقع پر بھی رشتے بحال ہو جائیں تو پھر بھی وہ پرانے رشتے کی نوعیت باقی نہیں رہتی اور غلط فہمی کی عمر جتنی طویل ہوگی اتنا ہی غلط فہمی کی وباء میں مبتلا ہونے والوں انسانوں میں نفرت ودوری زیادہ اثر کرتارہے گا۔کسی بھی مسئلے یا معاملے پہ اگر آپ مثبت رویہ اپنانے کے بجائے اپنے ہی دل و دماغ میں فیصلہ یا حتمی رائے قائم کرکے خاموشی اختیار کریں تب آپ کادماغ ایک ہی پہلو یارُخ پہ پھنس جائے گا تو پھرآپ مزید پیچیدگیوں کا شکار ہونگے نتیجہ پھرمختلف نفسیاتی امراض انسان کی ذہن کولپیٹ میں لیکر زندگی کو کرب و مشکلات سے دوچار کر دے گا۔اور پھر انسان کی اصل صلاحیت اورقوت عمل خود اس کی اپنی ہی ذہنی امراض دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر مفلوج کر دے گا۔ہر معاملے و مسئلہ چاہیے وہ آپ کے سامنے رونما ہوا ہو، لیکن اس کے باوجود یہ ایک مثبت انسانی خاصا ہے کہ اس پہ مزید سو چ و بچار اور تحقیق کرکے اوراپنی ذاتی خواہش کے برعکس تمام دیگر پہلوؤں کومد نظر رکھ کر پھر راہے قاہم کرنا چاہیے اور وہ بھی حتمی رائے نہ ہو ۔
(امید و یقین)
تحریکوں سے لیکر معمولاتِ زندگی کے کسی بھی چھوٹے بڑے ہدف کی حصول کے اگر پُر امید و پختہ یقین نہ ہوں تو انسان کو ہر قدم پہ اور ہر مقصد پر ناکامی سے دوچار ہونا پڑے گا ۔عمل کیلئے ہر لمحہ متحرک رہناہی کسی منصوبہ و حکمت عملی پایہ تکمیل تک لے جائے گا ۔ باعمل اور متحرک زندگی کی پہلی سیڑھی ہی اُمید پر قائم ہے اگر پہلی سیڑھی پہ پہلاقدم ہی ناامیدی تذزب کی حالت میں رکھا جائے تو آخر عمل بندگلی میں جاکر دم توڑ دے گا ،اُمید اور نااُمیدی کی پرورش خود آپ کے ذہنی سوچ پہ منحصر ہے کہ کون سا عنصر آپ کے دل و دماغ پہ زیادہ اثر کرئے گا ۔ اس لئے ہر ایسی خیال و سوچ سے مکمل پر ہیز کرنا چاہیے جو خود آپ اور دوسروں کے لیے ناامیدی کی سبب بنے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی خیال کے مطابق صحیح سوچ یا نیت سے گفتگو کرتے ہیں لیکن ہمیں محسوس تک نہیں ہوتا کہ ہمارا باتوں سے دوسرے انسانوں کی امیدوں کے محل کو مسمار کررہے ہیں کیونکہ دوسرے کے مثبت امیدوں کو توڑنا اس کے کردار ،عمل اورمتحرک زندگی کو مکمل مفلوج رکھنے کی مترادف ہے۔اور مفلوج زندگی سے ایک مثبت کردار وعمل کی توقع رکھنا بے معنی ہے۔ہمیشہ پُر امید رہنا ناممکن تصور کو ممکن بنا دے گا، سائنسی نقطہ نظر سے لیکر ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ہر انسان میں چھپے ہوئے بے شمار صلاحیت موجود ہوتے ہیں انھیں بیدار کر کے استعمال میں لاناہے۔ اور چھپے ہوئے صلاحیت اس وقت آشکارا ہوں گے جب آپ امید کی رسی کو مضبوطی تھام لیں اور دلچسپی و توجہ کے ساتھ ساتھ اپنے اردگرد کی ماحول و مزاج سے مکمل صحیح زانت کے ساتھ ہمیشہ ذہن میں یہ رکھنا کہ میں سب کچھ کرسکتا ہوں اور مجھے میں کرنے کی صلاحیت ہیں۔ضرور ہر انسان کا صلاحیت دوسرے سے مختلف، کم اور زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن نامیدی اور اپنی صلاحیتوں سے عدم آگاہی انسانی سوچ کی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔
(غلامانہ سماج و غلامانہ رویے )
کسی بھی مخصوص و اچانک رونما ہونے والے حالت و کیفیت سے متاثر ہوکر جلد ہی حتمی رائے قائم کرکے فیصلے کرنا کبھی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوسکیں گے ، کیونکہ ایسی رائے اور فیصلے انسانی ذہن کو علم ،سوچ و بچار کی قوت سے محروم کرکے ہر قدم پر جذباتی لہروں کی جانب لے جاکر اسے اصلیت و حقیقت کی پہچان سے دور کردیتا ہے ، ایسے منفی اور مضر ذہنی امراض غلامانہ سماج کی بدولت پرورش پاتے ہیں ، اور پھر انسان کو علم کے حصول اور عمل کی جانب حرکت کرنے سے روک دیتے۔ وقتی حالت و کیفیت سے متاثر ہوکر رائے قائم کرنے اور جذباتی فیصلوں سے بچاؤ کا حقیقی طریقہ یہی ہے کہ ہر سمت کا بغور مشاہدہ و تجزیہ کرکے اور ساتھ علمی و عملی رجحان کی جانب متوجہ ہوں تب جاکر انسان غلامانہ سماج کی پیدا کردہ منفی امراض سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔دعوے یا گفتار کی حد تک یا ازخود فیصلوں سے ہٹ کر باعلم و باعمل انسان ہی غلامانہ سماج میں ہوتے ہوتے فکری طور پر آزاد ہوتے ہیں اور جب تک کوئی انسان ذہنی و فکری طور پر آزاد نہیں ہوگا وہ کبھی بھی غلامی کے خلاف اور آزاد سماج کے حصول کیلئے کوئی بھی موثر کردار ادا نہیں کرسکے گا ۔غلامانہ سماج دراصل مختلف ذہنی امراض کی فیکٹری ہوتی اور ان ذہنی یا باالفاظِ دیگر نفسیاتی امراض کا علاج یا احتیاطی تدابیر علم و عمل پہ منحصر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سماج کی نبض پہ ہاتھ رکھ کر موثر و دیر پا حکمت عملی تشکیل دینا ہے بصورت دیگر سماج آہستہ آہستہ غلامانہ امراض کی وباء میں ایسا مبتلا ہوگا کہ پھر سماجی تبدیلی و ترقی صرف ایک خواب ہی ہوگا ۔
(ماضی ، حال اور مستقبل )
اگر میں کل غلط تھا پھر آج کیسے صحیح ، اگر آج صحیح ہوں تو پھر کل کیوں میں غلط تھا، زندگی کے اس پیچیدہ سفر میں زیادہ دور جانے کی ضرور نہیں صرف دو سال پیچھے مڑ کر دیکھیں کہ ہم سوچ اور نقطہ نظر کے حوالے سے کہاں کھڑے تھیں ، معاملوں کو کس نظر دیکھتے تھے، اور آج اگر ہم یہ کہیں کہ میرا دو سال پہلے والا نقطہ نظر غلط تھا تو پھر آج کیا گارنٹی ہے کہ آپ صحیح ہو یا پھر دو سال بعد بھی واپس اپنے آج کو غلط نقطہ نظر میں شمار کرتے ہو ، اس لئے انسانی عقل و شعور کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے مقصد و منزل کے علاوہ مسائل ، معاملات اور واقعات پہ مکمل سوچ بچار اور تحقیق سے ہٹ کر جذباتی و حتمی رائے قائم اور پھر ان پہ سختی سے ڈٹ جانا لاشعوری کے زمرے میں آتا ہے اور یہ مشاہدہ ہے کہ لاشعوری و جذباتی رائے و فیصلوں سے انسان کو مستقبل میں سوائے پشیمانی اور کچھ بھی ہاتھ نہیںآتا ۔ اور پھر ایسے انسان کی سوچ و ذہنیت کے بارے میں ہمیشہ یہ سوچ انسان میں حاوی رہتا ہے کہ یہ آج جو کچھ کہہ رہا ہے اس کو کل پھر غلط قرار دے گا ، تو پھر کیوں اس کی نقطہ نظر سے اتفاق رکھوں ، جلد متاثر ہونے والی ذہن سے انسان کا بھروسہ آہستہ آہستہ کمزور پڑتا ہے ، کیونکہ اس بات سے کوئی ذی شعور انسان انکار نہیں کر سکتا ہے کہ میں جو کل تھا آج بھی وہی ہوں اس طرح نہیں ہوسکتا ، ذہنی و فکری ترقی ، تجزیہ اور شعور و سوچ کی پختگی اورمثبت تبدیلیوں کو کوئی بھی رد نہیں کرسکتا ،اور جب انسانی ذہن کی ترقی و نشوونما رُک جائے تو وہ پھر انسان نہیں بلکہ حیوانوں میں شمار ہوتا ہے ۔جب انسان یہ سوچ لیں کہ میں کیوں ایسا تھا ، اور کیوں ایسا سوچتا تھا اور کیوں ایسے فیصلے کیے ، تو پھر جواب میں اس کی زندگی کا باقی سفر انتہائی محتاط انداز میں گزرے گا اور جلد رائے دینے اور فیصلے لینے سے گریز کرئے گا ۔ کیونکہ گھر کے پردوں کی طرح روز روز اپنی موقف اور نقطہ نظر کو تبدیل کرنا پختہ ، بلند اور دوراندیشن سوچ کی علامت نہیں ہوتی ۔

پیر، 11 اپریل، 2016

خودکش حملوں کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ




خودکشی! اگر عمومیت میں جا کر بات کی جائے تو خودکشی کے رجحانات کم و بیش ہر فرد میں موجود ہوتے ہیں اور یہ رجحانات بلا تخصیص ہر معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں- لیکن وقت کے ساتھ خودکشی کے رجحان میں بھی تنوع پیدا ہوا ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ خودکشی کی بھی اقسام ہیں، انفرادی خودکشی، اجتماعی خودکشی (جس میں افراد کا گروہ باہمی رضامندی سے خودکشی کرتا ہے) تیسری قسم خودکش حملہ ہے جس میں کسی مخصوص مقصد کے پیش نظر مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ بنایا جاتا ہے، آئیے ایک نظر خودکش حملوں کی تاریخ پر ڈالتے ہیں.خودکش حملوں کی تاریخ بہت پرانی ہے، پہلی صدی عیسوی میں زیلوٹس  یہودی فرقہ جو دراصل رومن ایمپائر کے خلاف اٹھا اس فرقہ کے ارکان جو دہشت گردی اور قتل و غارت میں ملوث ہوگئے انہیں سیکاری  کے نام سے جانا جاتا ہے، زیلوٹس کو سکاری خنجر رکھنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے، سیکا  سے مراد خنجر ہے جو وہ ہمہ وقت ان کے پاس موجود ہوتا تھا، اکثریت سیکاری عوامی مقامات پر موجود ہوتے تھے خنجروں کو چھپائے ہوئے اور ہر اس شخص پر حملہ کرتے تھے جو روم کی طرف دوستانہ رویہ رکھتا تھا، یہودی سکاری  فرقہ ہیلی نائزڈ یہودیوں کو اپنا غیر اخلاقی حلیف سمجھتے تھے کیونکہ وہ روم کی طرف مثبت رویہ رکھتے تھے، روم کے خلاف پہلی بغاوت (66-70) میں زیلوٹس نے نمایاں کردار ادا کیا مسادا  میں 73 میں ہتھیار ڈالنے کی بجائے خودکشی کر لی، سول وار کے دوران ان میں سے بہت سے یروشلم میں رومن جرنل ٹائٹس  کے ہاتھوں مارے گئے جو بعد ازاں شہنشاہ بنا (دور حکومت 79-81) یا لڑائی کے دوران شہر کے گرنے پر مارے گئے.اساسیون  کا نام قرون وسطی کے نظاری اسماعیلیوں کیلیے استعمال کیا جاتا ہے، نظاری اسماعیلی اسلام کا ہی اک فرقہ تھا جو گیارہویں صدی میں اسماعلیت سے الگ ہوگیا اور اب خود موجودہ شیعہ اسلام کی شاخ ہے، حشیشین اساسیون جس کی شناخت ایک بزرگ لیڈر تھا جو اچانک سے پہاڑوں کے عقب سے نمودار ہوتا تھا، حشیشین کو لیکر بہت سی کہانیاں مشہور ہیں اور اس لفظ پر بھی خاصے اختلافات ہیں بعض لوگ حشیشن سے مراد حسن کے پیروکار لیتے ہیں جبکہ مارکوپولو نے جب اس علاقے کا سفر کیا تو اس کے علم میں آیا کہ حشیشین انہیں حشیش کے استعمال کی وجہ سے کہا جاتا ہے جس کے ذریعے اساسیون کو قتل کی تربیت دی جاتی تھی، تاہم اساسیون کا بانی حسن صباء تھا الموت کے قلعے پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے جنت نما ایک باغ تعمیر کیا، کیا کچھ نہ تھا وہاں جس کی کوئی شخص آرزو کرے، حسن صباء اپنے پیروکاروں کو حشیش کھلا کر اسی جنت میں لے جاتا تھا جہاں کمسن خوبصورت لڑکیاں(حوریں) ان کی خدمت پر مامور ہوتی تھیں اور انہیں جام پیش کرتیں، رقص اور سرود کی محفلیں بپا ہوتیں، لیکن ہائے اس ہوش سے آنے میں ہوش گوا دینا زیادہ گھاٹے کا سودا معلوم نہیں ہوتا، ہوش میں آتے ہی پھر سے واپس جانے کی طلب تیزی سے انگڑائیاں لینے لگتی تھی اور یہی تو وہ کمزوری تھی جسے حسن صباء استعمال میں لاتا تھا اور پھر بہت آسان تھے باقی کے مراحل قتل کرنے کیلیے اور پھر ہتھیار ڈالنے کی بجائے خود کو مار ڈالنا بہت ہی آسان لگنے لگتا تھا، جس جنت سے بے دخل کر دیے گئے تھے وہاں واپس جانے کا بس ایک یہی تو راستہ تھا کہ خود کو اس مادی دنیا سے آزاد کر لیا جائے اور پھر نہ ختم ہونے والی عیاشی منتظر تھی، کیا ہی عقلمند دماغ پایا تھا حسن صباء نے، یہ دوسروں کی اور اپنی جان لینے کی نہایت ہی طاقتور تحریک تھی اور آج بھی ہے.علماء، مولوی منبروں پر چڑھ کر جس طرح جنت کا نقشہ کھینچتے ہیں اچھوں اچھوں کے پسینے چھوٹ جائیں (خوف سے نہیں، سمجھدار کیلیے اشارہ کافی ہے) طارق جمیل کے حوروں پر بیانات حوروں کے جسم کی ساخت کا علم جتنا مولانا طارق صاحب کو ہے شاید ہی کسی کو ہو، حوروں کی چھاتیوں کے ابھار، ان کی قدو قامت، حور کی اندام نہانی تک کا سفر اور فاصلہ نوجوان سن کر مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگتے ہیں جیکٹ تک کا سفر مزید مشکل نہیں رہا، یہ لفظی حشیش ہی ہے جو یہ مُلا ہماری نسلوں کو دے رہے ہیں، یہ سننے میں تو کانوں کو بہت دلنشین لگتی ہے لیکن جب نشہ اترتا ہے تو پھر اس کی طلب ہوتی ہے اور پھر بالآخر اس نہج تک یہ نشہ لے آتا ہے کہ شراب و شباب تک پہنچنے کیلیے خودکش حملہ آور بننا آسان اور شارٹ کٹ راستہ ہے.کیوں جابجا اسلام میں سیکس پر پابندی ہے اور کیوں اس کے مقابلے میں خیالی حور و شمائل کا ذکر ہے، کیا آپ نے کبھی اس نقطہ پر سوچا؟ سیکس کی طرف شدت پسند رویے جنسی گھٹن کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں انسان کو فرسٹریڈ کرتے ہیں، زندگی میں ہیجانی پژمردگی بڑھتی ہے نتیجے میں جوش و جذبہ میں کمی واقع ہوتی ہے، زندگی کی امنگ ختم ہونے لگتی ہے، بے جا پابندیوں سے پھر اچانک جنت الفردوس کے قصے ان میں حوروں کی خوبصورتی اور پھر ان کے ساتھ فری سیکس دماغ کیلیے تازہ ہوا کے جھونکے ہیں اور پھر تسلسل کے ساتھ ایسے بیانات، اب آپ بالکل تیار ہیں ممکنہ اہداف کو پورا کرنے کیلیے، آگے بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں اپنے ٹارگٹ سمیت خود کو اڑانے کا پہلا سہرا کس شخص نے اپنے سر باندھا، نام نکلتا ہے ایک روسی شخص کا جس کا نام ایگنیٹی گرین وٹسکی تھا اس نے زار الیگزینڈر دوئم  کو قتل کرنے کیلیے بم پھینکنے والا یونٹ (جو بطور خاص الیگزینڈر شہنشاہ دوئم کو مارنے کیلیے بنا تھا) جوائن کیا،قتل سے ایک رات قبل اگنیٹی گرین وٹسکی نے خط لکھا جو ان الفاظ پر مشتمل تھا:
الیگزینڈر دوئم ضرور مرے گا، اور اس کے ساتھ اس کا دشمن جس نے اسے مارا وہ بھی مرے گا، آزاد ہونے سے پہلے ہمارا ناخوش ملک اپنے بیٹوں سے کتنی قربانیاں مانگے گا، میری عمر مرنے کیلیے ابھی بہت کم ہے, میں ہماری فتح کے روشن موسم میں ایک دن ایک گھنٹہ نہیں جی پاؤں گا، لیکن مجھے یقین ہے موت کے ساتھ ہی میں اپنا فرض ادا کردوں گا، اور اب اس دنیا میں کوئی اس سے زیادہ مجھ سے طلب نہیں کر سکتا13 مارچ 1881 کو روس کا شہنشاہ الیگزینڈر دوئم اپنی بگھی پر سفر کر رہا تھا، ہتھیاروں سے لیس کاسک اس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا جبکہ چھ کاسک ہتھیاروں سے لیس اس کی بگھی کے پیچھے چل رہے تھے، جیسے ہی بگھی گلی کے نکڑ پر کیتھرائن نہر کے قریب پہنچی تو پیپلز ول   کے بائیں بازو کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، الیگزینڈر دوئم زخمیوں کو دیکھنے کے لیے باہر نکلا تو ایگنیٹی جو نہر کی باڑ کے ساتھ جھکا ہوا تھا نے الیگزینڈر کے پاؤں میں بمب پھینک دیا یوں ایگنیٹی نے خودکش حملہ کر کے 62 سالہ شہنشاہ الیگزینڈر دوئم کو اڑا دیا اور ساتھ ہی خود بھی ہلاک ہوگیا، یہ پہلا ڈائنا مائٹ سے کیا جانے والا خود کش حملہ تھا، شہنشاہ دوئم نے روس کو ماڈرنائز کرنے میں اور لبرلائز کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا.
پہلا ملٹری خودکش حملہ جاپان کے کامی کاز  پائلٹس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران کیا، یہ قدم ملٹری آرڈرذ کے تحت اٹھایا گیا، حملہ قومیت اور حکم بجا لانے کی تحریک کے تحت تھا، واضح رہے کہ حملے کے وقت دنیا دوسری جنگ عظیم سے گزر رہی تھی، 1980 میں باقاعدہ طور پر خودکش حملے دہشتگردی کی تحریکوں کا حصہ بنے، تامل ٹائیگرز کی مشہور تکنیک خودکش حملے تھے 1980 سے 2000ء تک تامل باغیوں نے 168 خودکش حملے کیے اور عوام کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا، اس تنظیم کے محرکات علیحدگی پسندی، قومیت پرستی اور سوشلزم تھے، ہندوستان کے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کو 1993 میں اور سری لنکا کے صدر رانا سنگھے پریم داسی  کو 1993 میں تامل باغیوں نے خودکش حملے میں مارا، خودکش بیلٹ کے موجد بھی تامل باغی ہیں اور خواتین کی خودکش حملوں میں استعمال کرنے کی داغ بیل بھی انہوں ہی نے ڈالی.مسلم دہشت گرد تنظیموں نے خودکش حملوں کو نیا عروج بخشا، خودکش حملہ آور کے دماغ میں کیا چل رہا ہوتا ہے؟ وہ دنیا کو کیسے دیکھتا ہے؟ مختلف وڈیوز اور انٹرویوز سنے جن کا لب لباب یہ تھا کہ یہ دنیا عارضی ہے بے کار ہے، میں خدا سے ملوں گا جنت میں جاؤں گا جہاں حوریں مجھے بطور انعام ملیں گی، دو ناکام خودکش حملہ آوروں کے انٹرویوز سنے ان میں سے ایک خاتون بھی تھیں دوران انٹرویو اس سے سوال کیا گیا کہ مرد خودکش حملہ اس لیے کرتے ہیں کہ بطور انعام انہیں حوریں ملیں گی لیکن خواتین کا خودکش حملے کا کیا محرک ہے تو اس نے جواب دیا مردوں اور عورتوں کو مساوی انعام ملے گا انہیں بھی برابر تعداد میں مرد ملیں گے، میرے لیے یہ کافی مضحکہ خیز بات تھی، آپ نے بھی شاید پہلی بار ایسا بیان سنا ہو، ایک بات کا اور تذکرہ بھی کروں گی، پاکستان میں طالبان خودکش حملہ آور کی معاشی مدد کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس افغانستان میں بچوں کو زبردستی خودکش حملہ آور بننے پر مجبور کیا جاتا ہے جن میں مختلف عمروں کے بچے بھی شامل ہیں ایک بچہ انٹرویو کے دوران بتا رہا تھا کہ مجھے طالبان نے آفر کی کہ تم خودکش حملہ کرو ہم تمہیں پیسے دیں گے بچے نے جواب دیا کہ جب میں مر جاؤں گا تو قبر میں میں ان پیسوں کا کیا کروں گا بچہ بہت ہی کم عمر تھا بمشکل سات آٹھ سال کا.خودکش حملوں کا بنیادی محرک قومیت اور علیحدہ ریاست کا قیام ہے، آپ کسی بھی مذہب کو پڑھ لیں، کسی بھی الہامی کتاب کا مطالعہ کرلیں آپ کو یہ رنگ نمایاں نظر آئیں گے، زیادہ دور نہیں جاتے، مذہب اسلام کی ہی بات کرلیتے ہیں، قرآن کی کچھ آیات دیکھ لیں جس میں قومیت پرستی پر جابجا زور دیا گیا ہے اور دوسری قوموں سے نفرت کا درس جا بجا ملتا ہے، قرآن میں ایک جگہ درج ہے:ترجمہ: ایمان والو یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے کوئی انہیں دوست بناۓ گا تو ان ہی میں شمار ہو جائے گا-اب ان خودکش حملوں کا ذکر جنہوں نے خودکش حملوں کی تاریخ کو جدت بخشی:11 مئی 1945 دوسری جنگ عظیم کاماکازی  مشن ملٹری خودکش حملہ، ایئر کرافٹ کے ذریعے دشمن کے بحری جہاز پر اپنا ایئر کرافٹ تباہ کر دیا..11 ستمبر 2011 کو ایک خودکش حملہ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہوا جس میں جہاز کو بلڈنگ سے ٹکرا کر کریش کیا گیا تاہم یہ دہشت گردی کی کمپین کا حصہ تھا.
9-11ان تینوں حملوں میں ایک کامن بات یہ تھی کہ ان میں جہازوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، تاہم اغراض و مقاصد میں فرق تھا، یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہازوں کو استعمال میں لاتے ہوئے یہ خودکش حملے، خودکش حملوں کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں.موجودہ دور میں خوکش حملوں کا محرک مخصوص آئیڈیالوجی ہے، خودکش حملہ وارفیئر کا ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے مخصوص آبادی کے لوگوں کے دماغ میں خوف بھرا جاتا ہے اور حکمت عملی کے تحت ان جگہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں عوام خود کو محفوظ سمجھتی ہے بھروسے کی وہ فضا جو معاشروں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر رکھتی ہے اس اعتماد اور بھروسے کو توڑنا دھشتگردوں کا ٹارگٹ ہوتا ہے.انسانی دماغ جہاں ان گنت تخلیقی اور پیدواری کاموں کی آماجگاہ ہے وہاں کچھ لوگوں کے دماغ اس طرح تیار کیے جاتے ہیں کہ وہ روئے زمین پر بسنے والے لوگوں کیلیے خطرناک بائیولوجیکل ہتھیار بن جاتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو موت سے ہمکنار کر دیتے ہیں.انسانی دماغ ماحول کے ساتھ اشتراک، خاندان اور دوستوں کے ساتھ تعلقات اس وسیع دنیا کے ساتھ تعامل ثقافتی اور مذہبی تعلیمات کے زیر اثر مسلسل اپنی تجدید کرتا رہتا ہے مثلاً پاتھ ویز کی ریفائننگ اور فائن ٹیوننگ ایکٹویٹی وغیرہ- یہ تبدیلیاں نئے کرداری ردِ عمل متعارف کراتی رہتی ہیں.تو کیا تشدد کا رویہ اچانک پنپتا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں، تشدد حیرت کی طرف لے جاتا ہے، تاہم نیورل سطح پر اسے بننے کیلیے سالوں درکار ہوتے ہیں، خاص قسم کے لوگوں میں پر تشدد رویہ جات پنپنے کے رحجانات ہوتے ہیں ایک قسم کے افراد وہ ہیں جو مطمئن، سرد اور بے گانے لوگ اور یہ لوگ بے رحم نظریات کیلیے زرخیز زمین ہیں اور دوسری قسم کے لوگ اینٹی سوشل لوگ ہیں جن کی زندگی جذباتی لحاظ سے مردہ ہوتی ہے، اول الذکر قسم کے لوگ اینٹی سوشل لوگوں میں اپنے ٹارگٹ کے خلاف نفرت اور انہیں تکلیف میں مبتلا کرنے کی وجوہات فراہم کرتے ہیں، تلخ اور زہریلی تنقید ان کے دماغ میں بھرتے ہیں، اینٹی سوشل لوگ ان کیلیے اپنا زہر انڈیلنے کے بہترین سٹور ثابت ہوتے ہیں، اور یوں اینٹی سوشل لوگوں کی زندگی جو پزمردہ ہوتی ہے جذباتی لحاظ سے اس میں جوش بھر جاتا ہے.اور پھر یوں یہ دونوں فریقین کینہ پرور خدا میں اپنا اتحادی تلاش کر لیتے ہیں جو ان کے دشمنوں کا خاتمہ چاہتا ہے، رسمی تربیت کے دوران ان کی ناراضگی غیض و غضب میں بدل جاتی ہے، ان سے احساس جرم جیسے احساسات چھین لیے جاتے ہیں اور اس نہج پر لے آیا جاتا ہے جہاں یہ قتل سوچے سمجھے بغیر کریں، اور یوں قاتلوں کی ٹیم تیار ہے۔

مصنف: Abeeha Ayan