ہفتہ، 22 جولائی، 2017

کردار، حیثیت و فرائض:تحریر :اسلم بلوچ


 
تقابلی مطالعے و تجزیے کا مثبت اور حقیقی پہلو دوسروں کے تجربات اور کارکردگی کو اپنے اندر جانچنا ہوتا ہے تاکہ انکے کامیابیوں سے استفادہ اور ناکامیوں سے سبق حاصل کیا جائے، ایسے تجزیوں سے خامیوں،کمزوریوں،خرابیوں کی نشاندہی کرکے ان سے کیسے نمٹا جائے یہ دیکھنا ہوتا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوتا کہ ایسے تجزیاتی مواد کو کسی کے بھی نفی کیلئے تراش خراش کر جواز بنایاجاتا ہو، پوری دنیا میں علم سیاسیات اس بنیادی نقطے کے گرد گھومتا ہے کہ طاقت کو کیسے حاصل کیا جائے اسکو کیسے برقرار رکھا جائے اور کیسے استعمال کیا جائے، آج بنیادی سوال جس کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے کیسے طاقت حاصل کی یا کررہے ہیں پچھلے تمام عرصے میں ہم نے اسکو کیسے استعمال کی یا کررہے ہیں اور کیا ہم حاصل کی گئی یا رہی سہی طاقت کو برقرار رکھ رہے ہیں یا رکھ سکتے ہیں؟؟؟؟؟
ان سوالات کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہماری طاقت ہے کیا؟؟سماج انسانی تعلقات انکی نوعیت و ضرورتوں کا نام ہے ،یہ انسانی آبادی کا مجموعہ ہوتا ضرور ہے لیکن یہ مشترکہ مقصد کیلئے وجود میں آتا ہے سماج کو بے آہنگم و بے ربط اور متضاد رویوں و اقدار و روایات و رسم و رواج کا نام ہرگز نہیں دیا جاسکتا اور سیاست سماج میں رہنے والوں کو منظم رکھنے کا علم ہے یہ دونوں ایک ہی مقصد کی تکمیل کرتے ہیں جو انسانوں کی بہتر زندگی کیلئے ہوتی ہے ،کیونکہ سماجی مفکرین سماج میں بسنے والوں کے تعلق کو پیچیدہ رشتوں سے تعبیر کرتے ہیں میکیور(Maciver) کے مطابق سماج بدلتے پیچیدہ رشتوں کا ایک جال ہے جو عادات اور طریقہ کار وباہمی مدد کا ایک نظام رکھتا ہے صرف اور صرف مقصد کی ہم آہنگی ہی سماج کا امتیازی وصف ہے ورنہ سماج علیحدہ ذہن ،فکر و نظریات رکھنے والے افراد کا مجموعہ ہے لاسکی کے الفاظ میں سماج کوئی سادہ تنظیم نہیں یہ انسانوں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے اور یہ انسانوں کے متضاد فطرت کی نمائندگی کرتا ہے دستیاب تاریخ میں انسانوں میں مشترکہ مقصد سے ہم آہنگی ہی سیاست اور ریاست کی بنیاد بنتی آرہی ہے تو بلوچ سماج اور سیاست میں بھی مشترکہ مقصد(قومی آزادی کا حصول) ہی ہم آہنگی اورطاقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اگر بلوچ مزاحمتی تاریخ پر نظر دوڑائیں توماضی کے مقابلے حالیہ لہر مشترکہ مقصد(قومی آزادی) کی بلوچ سماج میں ضرورت و مقبولیت کا اندازہ لگانامشکل نہیں ہوگا، کیونکہ مشترکہ مقصد کیلئے بلوچ سماج سے طاقت کا حصول توقعات سے زیادہ رہا ہے اور ہر طرح کے مشکل حالات میں بھی جاری و ساری ہے ،لیکن جب دوسرے نمبر پر بات اسکو منظم رکھنے اور صحیح استعمال کرنے کی آتی ہے تو بات سیاست اور اسکے معیار پر رکتی ہے وہ اس لئے کہ منظم رکھنے کا ذمہ سیاست کے سر ہوتا ہے تو یہاں بنیادی سوال جو سر اٹھاتا ہے کہ کیا پچھلے تمام عرصے میں حاصل ہونے والی طاقت بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر اے،ایل بی، سیاسی پارٹیاں بی ایس او و دیگر انجمنیں و افراد یا علاقائی شخصیات کو ہماری سیاست منظم رکھنے اور بہتر طور کام میں لانے میں کامیاب ہوچکی ہے؟؟؟
شاہد کہنے لکھنے سے زیادہ موجودہ صورتحال ہی سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
کیا ہمیں کچھ سمجھ آرہا ہے یا ہم سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں؟؟؟
کیا ہم صحیح طور پراپنی جدوجہد کا تاریخی جائزہ لیتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ،وہ تلخ تجربات کو پوری طرح ٹٹول چکے ہیں جو ہمارے طاقت کو منظم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ بنتے آرہے ہیں، مثلا ماضی کے ناکامیوں کو اگر چند افراد کے سر ڈال کرایسے سوچ کے تحت ایک ذہنی کیفیت کی پرورش کی جائے کہ ماضی کے جہدکار سب بیکار و فضول تھے توایسی ذہنی کیفیت کی بنیاد ہی نفی کے قانون پر استوار ہوگا۔ 
بات سیدھی طرح سے یہ ہے کہ ہم کچھ بنیادی عوامل کو بھول کر جست لگانے کی چکر میں ایسے الجھ چکے ہیں کہ اب ہمارے پاس الزام تراشیوں اور زبانی کلامی تعریفات کے علاوہ کچھ رہا نہیں ،کسی کو نفی کرکے اپنے وجود کا احساس دلانا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے، یہ سب کچھ دن رات ہوتاآرہا ہے ،ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم سب مل بیٹھ کر باہمی احترام کے ساتھ صحیح خطوط پر اپنے کام اور تحریک کو استوار کرتے مگر بدقسمتی ان حالات میں بھی ہم اپنے حقیقی جمع پونجی کے نفی میں لگے ہیں، دیکھنا ہے کہ ہمارے عملی جدوجہد سے کیا قومی تحریک کی ضروریات پوری ہورہے ہیں اورہم تحریک کی حقیقی شکل کے تشکیلی مراحل کو آگے بڑھاتے ہوئے اسکو اقوام عالم میں ایک قومی تحریک کے طور پر متعارف کرانے میں کامیاب ہورہے ہیں ،کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور دنیا میں جاری جنگوں نے انسانی مسائل کو عالمی مسائل بنادیا ہے ایسے حالات میں دیکھنے والوں کو ہمارا تحریک مسائل و پیچیدگیوں کا ڈھیر تو نظر نہیں آرہا ہے؟؟
تسلسل سے گر دش کرتے کچھ سوالات اور مخصوص غیر متوقع رویوں نے مجھے کتابیں ٹٹولنے پر مجبور کردیا جس کے تحت اس تحریر سے جوڑنا پڑا اگر ہمارے دانشور اور سیاسی سنگت اس بحث میں مزید دوستوں کی رہنمائی کریں تو یہ وقت و حالات کے تحت ایک موثر عمل ہوگا کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے جن سوالات اور عمل کو میرا ذہن قبول نہیں کرپارہا ہے ،میں انکے پیچھے کے سوچ کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں، اختلاف،تنقید،تقابلی جائزے،شکوک و شکایت کا تعلق ہوتا ہی عمل سے ہے اور یہ سب کچھ تعمیری عمل کا حصہ کہلاتے ہیں تصورات، نظریے،خیالات اور ان پر تنقیدی بحث مباحثے بھی علمی جانداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن انکے مثبت اور منفی پہلو کا تعلق انکے پیچھے کے مقاصد سے جوڑا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ا یسے تمام عمل میں زور نفی کے قانون پر رہتا ہے ،عمل میں حد بندی کرداروں میں درجہ بندی اور اختیارات کی نشاندہی و تقسیم کی وضاحت مسائل کی نشاندہی ان کی نوعیت کو سمجھنے اور انکے حل سے زیادہ شکوک شہبات کا اظہار لازمی سمجھا جاتا ہے آخر کیوں؟؟؟
کمزوری،خامی، خرابیوں کی نوعیت سے زیادہ واقعات جواز بنائے جاتے ہیں اور انکے بنیاد پر تحریک کے بہت سے کرداروں پر ناروا طریقے سے ایسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جن میں انکے کردار کومشکوک بناکر انکی حیثیت کی مکمل نفی کی کوشش کی جاتی ہے 
اگر دیکھا جائے توہر کردار کے ساتھ ایک حیثیت ضرور ہوتی ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کردار اور حیثیت لازم و ملزم ہوتے ہیں دراصل حیثیت وہ سماجی پوزیشن ہے جسکا دارومدار مکمل کردار پر ہوتا ہے اور جب کردار کسی حیثیت (پوزیشن) کاحامل ہوجاتا ہے تو معاشرہ، سماج میں اعتبار کے حوالے سے اس سے ویسے ہی توقعات وابستہ کئے جاتے ہیں ۔ 
اسی طرح جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے وابسطہ تمام ذمہ داریوں کو سمجھ کر فرائض کی انجام دہی سے جوڑ جاتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا کردار(رول) ادا کررہا ہے حیثیت اور کردار کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے ان میں صرف علمی تعریف کے حوالے سے فرق پایا جاتا ہے۔
وہ چاہئے کسی سماجی تنظیم میں ہو یا سیاسی و عسکری یا کسی تحریک میں یا مختلف مخصوص حالات میں ویسے تو حیثیت کے دو واضح نوعیت سامنے آتے ہیں مگر اسکے بہت سے اشکال انہی دو کے گرد گھومتی ہیں۔
علمی تعریف کے حوالے سے ایک کو انتسابی یعنی وراثتی حیثیت کہتے ہیں جو وراثت میں ملتی ہے، 
دوئم اکتسابی یعنی محنت، صلاحیت،مقابلے و کوششوں کے بل بوتے پرحاصل کی جانے والی حیثیت ہوتی ہے، غرض ہر حیثیت کے ساتھ لازمی طور پر ذمہ داریاں اور فرائض ہی وابستہ ہوتے ہیں، یہ فرائض اور ذمہ داریوں سے خالی کوئی مراعاتی عنایت نہیں ہوتا جسکو حاصل کرنے یا عنایت کرنے کا طریقہ کار ذاتی تعلقات و خواہشات یا مفادات پر یا پھر بعض، حسد، خوف جیسے منفی سوچ پر مبنی ہو، کسی بھی مثالی نظام،انقلابی تحریک، سیاسی تنظیم یا پارٹی میں بہترین صلاحیتیں زیادہ محنت اورخلوص کے بل بوتے پر جب ہرمتعلقہ حیثیت کو اپنے کردار(رول)کا صحیح اندازہ یا علم ہوجاتا ہے تب ہی تمام توجہ ذمہ داریوں اور فرائض پر مرکوز ہوجاتے ہیں۔بصورت دیگر کسی بھی تحریک، تنظیم،پارٹی یا نظام سے وابسطہ افراد میں اس وقت تک ہم آہنگی اور یکسوئی پیدا ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے جب تک وہ اپنے اپنے حیثیت کے مطابق اپنے کردار پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔
انتسابی یعنی وراثتی حیثیت میں بادشاہت میں جیسے، بادشاہ کے مرنے پر شہزادہ بادشاہ بنتاہے ولی عہد کو طرز حکمرانی کی تربیت دیکر مسند پر بیٹھایا جاتا ہے ہمارے ہاں قبائلی نظام میں سردار کا بیٹا سردار یا کسی سیاستدان کا بیٹا سیاست دان بنتا ہے یہ حیثیت موروثی ہونے کی وجہ سے پیدائشی نوعیت کی ہوتی ہے اسمیں ذاتی صلاحیتوں کا عمل دخل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس حیثیت کے مطابق کردار(رول)ادا نہیں کیا جاتا۔یعنی پیدائشی حیثیت جو بنے بنائے وراثت میں ملتی ہے تو اس حیثیت کی اہلیت کو ثابت کرنے کیلئے اسکے مطابق توقعات پر پورا اُتر نہیں جاتا، یہاں اوپر سے نیچے اور اس سے اوپر کی حیثیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے اور اسکی بنیاد کردار پر منحصر ہوتا ہے جتنا بڑا حیثیت ہوگا اتنا ہی زیادہ ذمہ داری اور فرائض کو نبھانے کا تقاضا کرئیگا، ہمارے ہاں اسکی مثال سنگت حیربیارمری،براہمدغ بگٹی،جاوید مینگل،زامران مری ہیں 
اور اکتسابی حیثیت جو کہ صلاحیت، محنت، ذہنیت اور خلوص اور مقابلے کی بنیاد پر بنتی ہے وہ صفر سے شروع ہوتا ہے وہ نیچے سے اوپر کا سفر طے کرتا ہے اسکو کسی ستون(پلر) کا سہارا نہیں ہوتا ہمارے ہاں اگر دیکھا جائے تو چیرمین غلام محمد ،میر عبدالنبی بنگلزئی، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر، کامریڈ بشیرزیب، گلزار امام ماسڑ سیلم وغیرہ اس حیثیت کے مثال ہیں کسی بھی تنظیم یا پارٹی سے تعلق و عہدے یا تنظیمی حیثیت سے قطع نظر بلوچ سماج میں ان حضرات کا اکتسابی حیثیت انکے کردار سے متعلق ہے لہذا ان حضرات پر توقعات اور انکی ذمہ داریاں اور فرائض بھی اسی نسبت سے ہونگے۔کیونکہ ہم قومی جدوجہد کے دعویدار ہیں تو قومی نظریہ کے حوالے سے ہم میں یہ دونوں حیثیتں بشمول علاقائی، علمی و ادبی حیثیتوں کے موجودگی قابل تسلیم و قابل قدر ہیں بشرطیکہ کہ وہ قومی مفادات و قومی نظریے کے مطابق ہوں۔
کسی بھی تحریک میں ہم افراد کے کردارکا سرسری جائزہ لیں تو اس تحریک سے وابسطہ تنظیمیں یا پارٹیاں بالکل ایسے ہوتے ہیں جیسے تدریسی ادارے یعنی سکول کے بچوں کی طرح اگر وہ افراد کو منظم اور نظم و ضبط میں رکھنا چاہتے ہیں تو انکے پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے بروئے کار لانا بھی انکا فرض بنتا ہے کیونکہ تمام انسان ذہانت، ایمانداری، طاقت، محنت کے حوالے سے برابر نہیں ہوتے کچھ زیادہ محنتی ذہن اور باصلاحیت ہوتے ہیں اور کچھ کم کچھ جسمانی اور ذہنی مضبوط ہوتے ہیں اور کچھ اتنے مضبوط نہیں ہوتے وہ ماحول اور حالات جہاں سے تحریک کو بہتر افرادی قوت میسر ہو پارٹیوں اور تنظیموں کے ذمہ آتی ہے۔
ہمارے ہاں ہو کیا رہا ہے شعوری یا لاشعوری طور پر کچھ بے بنیاد اور گمراہ کن خیالات کی تشہیر دبے دبے الفاظ میں یا غیر ذمہ دارانہ انداز میں کروائے جارہے ہیں کہ لیڈر ایک ہوتا ہے باقی سب پیروکار ہوتے ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ تحریکیں ایسے لاتعداد کیڈر و لیڈر جنم دیتے ہیں جو تحریک سے وابسطہ ہزاروں افراد کی قیادت کرکے انکو منظم رکھتے ہیں اور انہی میں سے وہ تحریک کے لیڈرکی شکل میں سامنے آتا ہے جو اسی حلقے میں سب سے زیادہ قابل احترام و قابل اعتبار ہوتا ہے مگرہمارے ہاں کسی بھی سیاسی یا عسکری حیثیت کے نفی کیلئے نئے اصطلاح سیلفی سرمچاری یا شوق لیڈری متعارف کرائے جارہے ہیں اس حقیقت سے قطع نظر کہ جو تحریک قیادت پیدا نہ کرسکے وہ تحریک ہی نہیں کہلاتا اور کبھی کبھی سماجی مسائل،روایات،انقلاب، جدوجہد آزادی اور قومی سیاست اور قومی ریاست کو پولیٹیکل سائنس کے کسی ایک باب(چیپٹر) سے مو ازنہ کرکے گراونڈ پر جاری ایک پوری عمل کی نفی کی جاتی ہے۔لیکن بلوچ سماج،بلوچی روایات، جدوجہدکے تاریخی تسلسل موجود وقت و حالات کے تحت درپیش حقیقی مسائل کا سیاسیات میں حل اور انکے طویل سفر کا نہ تو کوئی ذکر پایا جاتا ہے اور نہ ہی بنیادی تجزیہ، زور ایک ہی بات پر رہتاہے جس میں چند واقعات کو بنیاد بناکر چند کرداروں کو تسلیم کرتے ہوئے انکے حیثیت کی نفی یاانکو مشکوک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ سیدھی طرح سے تحریک سے وابسطہ پارٹیوں اور تنظیموں کی اس پیداواری صلاحیت اور پیداوار پر 
ضرب لگانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے جو تحریک کو قیادت فراہم کرسکتی ہے یا کررہی ہے کبھی ڈسپلن تو کبھی اصول پرستی کے نام پرتو کبھی جنگی حالات میں پیش آنے والے چھوٹے چھوٹے واقعات کو جواز بناکر ایک مرحلہ وار عملی پیداواری سلسلے کی نفی کی جارہی ہے اسکے پیچھے کے مقاصد کو سمجھنا اسلئے بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ ڈھونڈنے پر تاریخی حوالے سے یہ عمل ہمیں دنیا کے کسی بھی تحریک میں نظر نہیں آتا تو یہ بلوچ قومی تحریک کیلئے کیوں اور کیسے ضروری ہوچکا اس کیلئے آج تک کوئی دلیل، وضاحت،حوالہ و ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ویسے پوری دنیا میں مفکرین میں ابھی تک یہ بات زیر بحث ہے کہ سیاست فن ہے یا سائنس یا دونوں کا مجموعہ۔
میٹلینڈ(MaitLand) نے کہا تھا کہ جب میں امتحانی سوالات کے ایک اچھے مجموعے کو دیکھتا ہوں جن پر علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)کی سرخی لگی ہوتو مجھے سوالات پر نہیں بلکہ اس عنوان(ٹائیٹل)پر افسوس ہوتا ہے۔
فرانسیسی سیاسی مفکر جین بودن(Jean Bodin)1596 میں پہلی بار اس علم کو علم سیاسیات کہا تھا دراصل علم سیاسیات پولیٹیکل سائنس مجموعی طور پر ریاست و حکومت سے انسانی تعلق کا مطالعہ ہے ۔
فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ(Paul Janet)کے الفاظ میں علم سیاسیات سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے۔
سوئیز اسکالر بلونشکلی(Bluntschli) کے الفاظ میں سیاست علم سے زیادہ ایک فن ہے جسکا تعلق عملی معاملات یا مملکت کی رہنمائی ہے جبکہ علم سیاسیات کا تعلق مملکت کی بنیادوں اسکی لازمی نوعیت اسکی شکلوں یا مظاہر اور تبدیلیوں و ارتقاء سے ہے 
گارنر(Garner)کے مطابق علم سیاسیات مملکت سے شروع ہوتا ہے اور مملکت پر ختم ہوتا ہے۔
یہاں ان مفکرین کے حوالے سے اس بات کی نشاندہی مقصود ہے کہ ہمارا درد سر موجودہ حالات میں طرز حکمرانی کا درس نہیں میرے نزدیک سب سے اہمیت کا حامل فرانسیسی اسکالر پال جانیٹ کے الفاظ ہیں جس میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کہ علم سیاسیات(پولیٹیکل سائنس)سماجی علوم کا وہ حصہ ہے جو مملکت کی ابتداء اور حکومت کے اصولوں سے بحث کرتی ہے تو میرابنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم مملکت کے تشکیل اور حکومت سازی کے مراحلے سے گذر رہے ہیں؟؟؟؟؟
اس وقت بلوچ قوم جو ایک وسیع و عریض جغرافیہ پر پھیلا ہوا ہے اور ایران و پاکستان کے مقبوضہ کہلاتے ہوئے مختلف قبائلی و علاقائی رشتوں اور سیاسی اور مذہبی نظریات و عقائد کے بنیاد پر تقسیم ہیں ان کے بیچ آزادوطن کو لیکر حب الوطنی اور مشترکہ مفادات معاشی، اخلاقی روایات رسم و رواج زبان کی بنیاد پر ہم آہنگی پیدا کرکے متحدہ قومی قوت کی تشکیل اور اسکے بنیاد پر قومی آزادی کے حصول کو ممکن بناکر آخری مرحلے میں قومی ریاست یا قومی اقتدار اعلی کی تشکیل تک پہنچنا ہے کہتے ہیں کہ سماجی نظم و ضبط سماجی مسائل کا حل سماجی قوانین سے ہی علم سیاسیات کو خام مواد اور رہنمائی حاصل ہوتا ہے، لہذا سماجیات کے بنیادی و ابتدائی اصولوں کو نہ جاننے والوں کو نظریہ مملکت پڑھانا ایسا ہی ہے جیسے نیوٹن کے قوانین حرکت کو نہ جاننے والوں کو فلکیات یا حرکیات پڑھانا قوانین ہمیشہ سماجی ضرورتوں کے تحت بنائے جاتے ہیں، نقالی نہیں ہوتے چاہے جتنے بھی مثالی ہوں بلوچ سماج سے رجوع اور جوڑت کے سواء کوئی چارہ نہیں اس حقیقت کا اسوقت تک بہتر مظہر بلوچ جہدکار ہیں جو دشمن سے برسرپیکا ہونے کے ساتھ ہی ساتھ سماجی مسائل سے نمٹنے کے عمل سے بھی دوچار ہیں ہاں روایات و رسم و رواج میں تبدیلی کا عمل رائے عامہ کے بغیر نقصاندہ ہوتا ہے اسکو سمجھنے کی اہلیت شاہد سب میں نہ ہو مگر اکثریت اس حقیقت کو مان کر چل رہے ہیں اور یہ حقیقت بھی قابل تسلیم ہے کہ انہی جہدکاروں کی شعوری اور فکری کاوشیں ہی فرسودہ روایات اور غیرمنصفانہ رسم و رواج میں شعوری حوالے سے تبدیلی کا باعث بنیں گے۔ 
میرے خیال سے اگر ساتھی اس مقام اور حالات کے نوعیت کے مطابق نظم و ضبط(ڈسپلن)کوسمجھنے کے لئے بھی علمی خزانوں کو ٹٹولیں تو بہتر ہوگا۔
حقیقتاََ کوئی بھی تنظیم اور پارٹی بغیر نظم و ضبط کے بغیرقائم نہیں رہ سکتا، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نظم و ضبط ہی ایک تنظیم کی جان ہوتی ہے یا یوں کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مقصد، پالیسی، نظم و ضبط اور افراد کے کردار کا مجموعہ تنظیم کہلاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ نظم و ضبط ہوتا کیا ہے یا اسکی حقیقت اور ضروریات کی وضاحت کیسے کی جائے۔ 
دراصل تمام ضابطے، اصول، نظم تنظیم سے منسلک افراد کے خارجی افعال کو آپس میں مربوط کرتے ہوئے تنظیم سے منسلک افراد کے درمیان اور تنظیم اور تنظیمی مقاصد کے بیچ اختیارات فرائض اور حقوق کا تعین کرتے ہیں اس عمل کے مکمل ہونے کے و نظم و ضبط(ڈسپلن) کہتے ہیں ایک طرح سے یہ سیاسی اقتدار کو بنیادی ابتدائی شکل فراہم کرتے ہیں نظم و ضبط کو ابتدائی قانون قرار دینا غلط نہیں ہوگا .جو طاقت و مقاصد کے حصول کے ساتھ مستقبل میں قومی اقتدار اعلیٰ یا قومی ریاست کے وسیع قانون کی شکل اختیار کرسکتا ہے یا یوں کہیں کہ کرلیتا ہے۔
سماجی زندگی میں قبائلی اور خاندانی تنظیم روایات کے بنیاد پر لوگوں کو منظم رکھتا ہے لیکن ذرا وسیع پیمانے پر اگر سیاسی تنظیم کے تناظر میں اسکا جائزہ لیا جائے تواصول، نظم و ضبط ،تنظیمی مقاصد، تنظیمی پالیسیوں اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے فرائض،اختیارات،حقوق کے ساتھ ہی ساتھ انکے سماجی تعلقات میں توازن کا نام ہیں۔
یہ انہی تعلقات میں توازن رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں اور بنائے جاتے ہیں ہمارے ہاں شاہد انکو جرائم اور قانونی پابندیوں کے تناظر میں دیکھا یا لیاجاتا ہے۔ نظم و ضبط کی ضرورت و حقیقی تعریف کی وضاحت و تشریح اسلئے بھی ان حالات میں ضروری ہوچکا ہے کیونکہ نظم و ضبط کے نام پر بہت سے غلط فہمیاں پیدا ہوچکے ہیں یا پھرکی جارہی ہیں اور بہت سے غیر مناسب غیر موزوں پابندیوں کو بھی جواز فراہم کیا جارہا ہے لوگوں کو منظم رکھنے والی ٹیم یا گروہ کا اس بات سے باخبر ہونا ضروری ہے کہ عوامی حمایت و محنت کے حصول اور اسکو بروئے کا ر لانے کا انکے پاس متفقہ فارمولا کیا ہے؟؟؟
ایسا ہو نہیں سکتا کہ ایک ہی طرح کے عمل پر آپ دو طرح کے الگ الگ اصول لاگو کریں اور شک یا سوال کا حق بھی ڈسپلن کے نام پرجرم قرار دیں آپ کے پاس متفقہ طور پر ذمہ داریاں اختیارات تقسیم کرنے کا فارمولا بھی نہ ہو اور آپ اختیارات کے تقسیم و سلب کرنے میں بھی بااختیار ہوں ثبوت،وجہ،جواز،شک کا فائدہ کچھ بھی پیش کرنے سے قاصر یابری الذمہ بھی ہوں جب اتنے تضادات کے ساتھ آپ لوگوں کا بھروسہ و اعتماد حاصل کرنا چائیں گے تو آپ کیلئے بہت مشکل ہوگا۔
جہاں تک بات قانون، اصول اور نظم و ضبط کو یکجا کرکے دیکھنے کا ہے تو ان تمام کا مقصد انسانی تعلقات میں توازن قائم کرنے سے ہے جسکی بنیاد عدل و انصاف پر قائم ہوتی ہے فطری قوانین کے بعد اخلاقی قوانین ہی بہتر و اعلیٰ کہلائے جاتے ہیں، کیونکہ اخلاق کا تعلق خارجی نہیں داخلی طور ضمیر سے ہوتا ہے اور اس کا انحصار مکمل رائے عامہ پر ہوتا ہے کسی کمزور پر ظلم دھوکہ دہی، چوری، قتل، جھوٹ، کسی کی حق تلفی سازش وغیرہ کسی بھی سماج میں ناپسندیدہ عمل جانے جاتے ہیں،اسی مناسبت سے اگر دیکھا جائے تو بعد کے جتنے بھی قوانین آتے ہیں انکا اخلاقیات سے گہرا تعلق ہے کسی بھی قانون کو جہاں بھی لاگو کیا جاتا ہے اسکو وہاں کی اکثریت کی اخلاقی حمایت حاصل ہو تب وہ آسانی سے نافذ اور قابل عمل ہوسکتا ہے اور اسکے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اسلئے تمام انسانی تعلقات میں سب سے اہم اور لازمی بات اخلاقی برتری شمار کی جاتی ہے جو تعلقات کو بہت ہی مضبوط اور دیرپاء بناتی ہے لیکن بدقسمتی سے کسی بھی قسم کے تعلقات کسی بھی وجہ سے اپنے اخلاقی برتری کے جواز کو کھو دیتے ہیں تو پھروہاں ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے وقت و حالات اور تعلقات کی نوعیت کے مطابق متفقہ اصولوں اور قانون کا سہارا جس میں نظم و ضبط کو قائم رکھا جاسکے۔ورنہ انسانی تعلقات میں اگر خاندان کاسربراہ قبائلی نظام میں قبائل کے بیچ کوئی طاقتوار قبیلہ یا ایک قبیلے کا سردار روایات کے خلاف من مانی کریں یا کسی پارٹی یا تنظیم کا سربراہ سیاسی تعلقات میں کسی بھی وجہ سے من مانی شروع کردیں تو اسکے نتائج سیدھی طرح سے بے چینی، بداعتمادی اور بغاوت کا سبب بن جاتے ہیں۔
تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسئلے کو سمجھنے کے لئے اسکے وجوہات و اسباب کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے اور اسکے بعد اسکے حل کیلئے کوششیں کئے جاتے ہیں اگر کسی بھی نوعیت کے مسئلے سے جوڑے کسی بھی کردار کی نفی کی جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ایک اور مسئلہ سر اٹھائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ تحریر :: 21 جولائی 2017

پیر، 17 جولائی، 2017

پاوندہ تہذیب کا ارتقاء اور ادب قدیم اشتمالیت اور کوچی زندگی میں مماثلت


پائند خان خروٹی
دنیا کے مختلف علاقوں میں خانہ بدوشی کی روایت اب بھی موجود ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں کوچ کرنے والے خانہ بدوشوں نے قدیم اشتمالی معاشرے کی اقدار اور رویوں کو آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ خانہ بدوش جس کو پشتوزبان میں کوچی یا پاوندہ بھی کہا جاتا ہے کی معاشرتی زندگی اور قدیم اشتمالی سماج میں خوشگوار مماثلت حیرت انگیز بھی ہے لیکن ایک نئے ترقی یافتہ اشتمالی معاشرے کی جانب سفر کرنے میں اعتماد اور حوصلہ بخشنے کا باعث بھی ۔ خانہ بدوشی کی زندگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی اشکال میں فرق ہو سکتا ہے لیکن مجموعی حالت کے اعتبار سے کوچی لوگ آج بھی ابتدائی انسانی زندگی کی اقدار، رسم و رواج اور روایات کے پاسدار نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک میں خانہ بدوشو ں کی اجتماعی زندگی آج بھی برابری ، اخوت ، بے غرضی اور مہر و محبت میں پیوست ہے ۔ اس کا ذکر پشتو اولسی فوالکلور کی مقبول ترین صنف ’’ٹپے‘‘ میں کچھ یوں ہے کہ دنیا کی زیب و زینت انسانوں سے وابستہ ہے اور انسانوں کے بغیر دنیا بیابان کے مترادف ہے۔ انسانی تاریخ میں قدیم اشتمالی معاشرہ کی نشاندہی کرنے والا سب سے پہلا معتبر نام کارل مارکس کا ہے جنہوں نے انسانی تاریخ کے مختلف ارتقائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انسان پیدائشی طور پر خودغرض، لالچی اور ایک دوسرے کا دشمن نہیں ہے بلکہ تاریخ کے ابتدائی ادوار میں بے غرضی ،مساوات ، بھائی چارہ اور یکجہتی پر مشتمل ایک اشتمالی معاشرے میں رہتا رہا ہے۔ بعدازاں کارل مارکس کے قریبی ساتھی اور مبارز فریڈرک اینگلزنے لیوس ہنری مارگن کے حوالے سے مارکس کے اس نقطے کو وضاحت کے ساتھ مدلل اندا زمیں آگے بڑھایا۔’’انہوں نے تجزیہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ سماج اور سماجی اداروں کی ترقی سب سے زیادہ جس چیز پرمنحصر ہے وہ مادی پیدوار کاطریقہ ہے‘‘۔(1) قدیم اشتمالی سماج سے آگے بڑھ کر انسان نے مختلف پیداواری طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے مختلف قسم کی معاشروں کو اختیار کیا۔ تاہم طویل عرصے کے اس سفر کے باوجود پرانے اشتمالی معاشرے کے اثرات اب بھی انسانی آبادی کے مختلف حصوں میں نظر آتے ہیں۔ 
دنیا پہ خلقو شائستہ دہ ۔ چی خلق نہ وی کنڈوالے شکاری کورونہ 
پشتو خلقی فوالکلور کے ایک اور صنف ’’غاڑہ‘‘میں کوئی عورت جو اپنے محبوب کی مجبوری اور مشکل کے وقت اس کی ضرورت کے مطابق نقد رقم فراہم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی لیکن اپنے خلوص اور سچائی کا بھرپور مظاہرہ اپنے ذاتی استعمال کے کنگن دے کر کرتی ہے۔
وس مونشتہ دپیسو ۔ پہ گران کنگڑ ژدم دلاسو 


خانہ بدوش آج بھی سادگی اور اعتماد کا وہ معیار رکھتے ہیں جو سرمائے کی بنیاد پر ترقی کرتے معاشرے میں معدوم ہوتا جارہا ہے۔ایک محبوبہ ایک ٹپے میں اپنی سچائی کا اظہار یو ں کررہی ہے جس کا ترجمہ ہے میرے محبوب نے سفر پر جانے سے پہلے مجھے اللہ کی حفاظت میں دیا ہے۔میں اس وقت اللہ کی پناہ میں ہوں میرے چہرے کی طرف اٹھنے والی ہر نگاہِ بد رکھنے والا شخص کافر ہوجاتاہے ۔
مخ تہ می مہ گورہ کافر شوے۔ زہ مسافر جانان پہ خدائے سپارلے یمہ
مختلف مذاہب میں بھی مال مویشی اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کو نہ صرف پسندیدہ قرار دیا گیا ہے بلکہ خود انبیاء کرام حتیٰ کہ آخری نبی ؐ تک مال مویشی پالنے سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے خانہ بدوشوں نے اسی طریقہ زندگی و تجارت کو برقرار رکھا ہے ۔ خانہ بدوشوں نے اپنی گزر اوقات کیلئے جن ذرائع کو اختیار کیا ہے وہ آج کے جدید دور میں بھی انسانیت کیلئے منافع بخش ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مال مویشیوں کی افزائش اور پرورش ، تازہ دودھ ، گوشت اور متعلقہ مصنوعات (اون، مکھن، پنیر، خشک دودھ، پوشاک اور چمڑے کا سامان وغیرہنہ صرف وابستہ افراد کیلئے روزگار کا ذریعہ ہے بلکہ کئی ممالک کیلئے زر مبادلہ کے حصول کا وسیلہ بھی ہے۔ خاص کر پاکستان جیسے زرعی ممالک میں مالداری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ بلوچستان میں مال مویشی پالنے کااہم پہلو یہ ہے کہ اس سے نسبتاً پسماندہ اور دیہی علاقوں میں پشتون بلوچ معاشی طورپر ناآسودہ خواتین کی بڑی تعداد وابستہ ہے جو اس کی آمدنی سے عام طور پر اپنی گھریلو ضروریات اور بچوں کی تعلیم ونشو ونما کے اخراجات پورا کرتی ہیں ۔
فریڈرک اینگلز کے خیال میں انسانی تاریخ میں گلہ بانی کاآغاز دریائے آمو کے قریب سے ہوا ہے ۔ آریائی اقوام نے پہلی بار جانور کو پالتو بنایا اورگھریلو ضروریات کے لئے استعمال کیا۔ گوشت اور دودھ کے عام استعمال کی وجہ سے ہی آر یا ئی ا قوام کے افراددیگر اقوام کے مقابلے میں جسمانی طو رپر مضبوط تھے اور انہوں نے سماجی ترقی کی۔ انسانی تہذیب کے ابتدائی آثار متعلقہ خطہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔اینگلز کے تحقیق کے مطابق اس زمانے میں کرنسی کی عدم موجودگی کے بارے باعث اشیاء کے تبادلے کے ساتھ ساتھ خرید وفروخت کیلئے جانور کو معیار تصور کیاجاتا تھا ۔ ایک پشتو روایت کے مطابق جانور کو پشتو زبان میں پسہ کہاجا تا ہے اور پیسے کالفظ اسی سے نکالا ہے ۔آر یائی تہذیب کے اثرات کوچی خاندانوں میں کے رسم ورواج ،تقریبات اور تہواروں میں آج بھی نمایاں نظر آتے ہیں جن میں سواس تیکا نشان ، دلہن کو سندور لگانا ، بالوں کامانگ نکالنا اور آگ کااحترام کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔
پشتون خانہ بدوش دنیا کے دیگر خانہ بدوشوں کے مقابلے میں اس اعتبار سے ممتاز اور منفرد حیثیت کے حامل ہے کہ وہ اپنی خانہ بدوشی کی زندگی میں تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں۔ماضی میں وسط ایشیاء کے ممالک سے ہندوستان تک سفر کرنے والے خانہ بدوش وسط ایشیاء اور افغانستان سے خشک میوہ جات ،تیار قالین،اون ،رخت،سیاہ زیرہ،ریشم اور جڑی بوٹیاں ہندوستان لے جاتے تھے اور وہاں سے مصالحہ جات ،گڑ،چینی،الائچی اور سپاری وغیرہ لے آتے تھے۔ ان میں سے بعض خاندان پیمنٹ کے کاروبار کرتے تھے اور ان کے مرد حضرات پنجاب میں محنت مزدوری کے لئے بھی جاتے تھے ۔ تیسری اینگلو افغان جنگ(1919) کے بعد ان کے دریائے سندھ عبور کرنے پر پابندی لگ گئی اس طرح پشتون خانہ بدوش موسم گرما میں کابل پغمان ، غزنی جبکہ موسم سرما میں پشاور ،سوات،ڈیرہ اسماعیل خان، کاکڑ خراسان ، لورالائی اور سبی تک محدود ہوگئے۔تقسیم ہند کے بعد ان کی آمدورفت اور نقل و حمل مزید محدود ہوئی جبکہ ایوبی دور فروری 1962ء میں پاک افغان سرحد کو مستحکم کرنے کے نتیجے میں وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو کر رہ گئے۔
یہاں اس دلچسپ تاریخی واقعے کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ ’’پہلی اینگلو افغان جنگ (1839) کے بعد انگریزوں نے پشتون خانہ بدوش قبائل میں سے چھ ہزار افراد کو ان کے اونٹوں کے ہمراہ سونے کے ذخائر ،معدنیات ،ٹیلی فون اور ریلوے کے شعبے میں کام کے غرض سے اپنے ہمراہ لے گئے۔مذکورہ چھ ہزار افراد کو واپس آنے کی اجازت نہ ملی اور ہمیشہ کیلئے وہیں کے ہو گئے‘‘۔(2)واضح رہے کہ اس دو رمیں اونٹ کو ریگستانی جہاز کی حیثیت سے خاص اہمیت حاصل تھی یعنی چھ ہزار افراد کو اونٹوں کے ساتھ لے جانے کا مطلب یہ ہوا چھ ہزار افراد بمعہ اس وقت کے جہاز(اونٹمقامی خانہ بدوشوں کو افرادی قوت اور مالی اعتبار سے نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
خانہ بدوش خاندانوں کی زندگی ہماری معمول کی معاشرتی زندگی سے مختلف ڈھانچہ رکھتی ہے ۔ خاندانی رشتوں کی بات ہو یاگھر سے باہر محنت ومشقت کا معاملہ ہو صنفی امتیاز کاسلسلہ آج بھی ان کے ہاں موجود نہیں۔ روایتی برقعے کی پابندیوں سے آزاد لیکن فطری شرم وحیا او رعزت وقار ان کی آنکھوں اور رویوں میں شہری خواتین سے زیادہ موجود ہیں ۔ ان میں تمام افراد مرد و زن ضروریات زندگی پورا کرنے کیلئے مل جل کر محنت کرتے ہیں اور ضرورت کے مطابق تقسیم کرتے ہیں ۔ تیار خوروں کی طرح دوسروں کی خیرات ،زکوٰۃ ، عطیات اور بیرونی امداد پرانحصار کرنے کی بجائے مکمل طورپر وہ اپنی محنت وہمت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ زیارکش طبقہ کی محنت کی بنیاد پر قائم معاشرتی ڈھانچے میں منطقی طورپر اونچ نیچ اور طبقات سے پاک جمہوریت میں کسی قسم کے استحصال کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ خود انحصاری کی معیشت نے انہیں بیکاری ، بیگاری اور تیار خوری کے تصور سے نجات دے رکھی ہے ۔ خو د کفالت حاصل کرنے کیلئے نت نئے طریقے اختیار کرنے والے جدید دنیا کو خانہ بدوشوں کی اپنی ہمت و محنت سے حاصل کردہ خود کفالت سے سیکھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں ۔
فطرت کے ہم رکاب زندگی گزارنے کے باعث خانہ بدوش پیداواری ذرائع تبدیل ہونے کے ساتھ پیدا ہونے والی منافقت ، مکاری ، جسم فروشی اور دوغلا پن سے آج بھی آزاد ہے اور فطرت کے مختلف مظاہر کی نغمگی اور مو سیقیت سے براہ راست لطف اندوز ہوتے ہیں اور انہیں اپنے اندر جذب کرکے خوبصورت ٹنگ ٹکور سے دنیا کو مستفید کرتے ہیں ۔ ایک چرواء شپونکےجب قدرتی چراہ گاہوں میں بھیڑ بکریاں چراتے ہوئے دنیا کاپہلا موسیقی آلہ بانسری/شپیلی کی دلکش آواز سے پوری فضا کو نغمہ زن کردیتا ہے تو سننے والے پر خوشی ومسرت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ایک روایت کے مطابق موسیقی کے اس نرالہ انداز سے متاثر ہوکر سانپ بھی جھوم اٹھتے ہیں ۔ فطرت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی وجہ سے وہ نام نہاد ترقی سے پیدا ہونے والی علتوں موٹا پا، بلڈ پریشر ، ٹینشن اور ڈپریشن سے نابلد ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں موجود اطمینان وسکون دیدنی ہوتا ہے ۔ کوچی خاندانوں کے افراد آج بھی بد ہضمی اور بے خوابی وغیرہ جیسی بیماریوں سے آزاد جسمانی قوت اور حسن کانمونہ ہے ۔ ان کے مردوزن کو آج بھی مصنوعی بناؤ سنگھار، زیورات ، کاسمیٹک اور پلاسٹک سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی ۔
کوچیانی ادب اور اس کی مختلف اصناف ٹپے ، کہاوتیں ، اتن نارے ، پہیلیاں ، لطیفے ، فالونہ ، غاڑی اور اولسی نکلونہ(داستانوغیرہ کی تخلیقات کااصل جوہر عوام الناس کی ا جتماعی تخلیقی صلاحیت ہے ۔ اس طرح کوچی اد ب اجتماعی دانش کانمائندہ ہے اور ان میں سے ہر شخص خود کو بجا طو رپر اس خلقی ادب کاخالق محسوس کرتا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خانہ بدوشوں کی ملکیت کاتصور آج بھی اجتماعی ہے انفرادی نہیں ۔ گویا کوچیوں کے سفید اجسام کینسرزدہ ا ستحصالی نظام یعنی جاگیر داری اور سرمایہ داری کے سیاہ داغ لگنے سے محفوظ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوچی نہ صرف جدید عالمی قصابوں اور قصاب خانوں کے ظلم و استحصال سے ناواقف ہیں بلکہ منبرپر بیٹھ کر حسین دنیا کو عارضی اور فانی قرار دینے والوں کے کئی منزلہ شاندار بنگلوں اور عیش وعشرت کی زندگی سے بھی ناآشنا ہیں ۔
جدید دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے کوچی کو خاندانوں میں اپنے بچوں کے نام رکھتے ہوئے بھی وسیع النظری اور فراغ دلی کامظاہرہ کیاجاتا ہے ۔ وہ مخصوص حکمرانوں ، مذاہب اورمعاشی غنڈوں سے متاثر ہوکر اپنے بچوں کے نام نہیں رکھتے بلکہ فطری مناظر ، دیگر جانداروں ، خوبصورت پرندوں ، پہاڑوں ، آبشاروں ، دریاؤں اور دیگر قدرتی مناظر کے حوالے سے اپنے نام رکھتے ہیں ۔ مثلاً سورگل(پھول کا نام بریشنا(آسمانی بجلی، زرکہچکور،پلوشہ(کرن،تاترہ(پہاڑ کانام )،وژمہ(باد نسیم)،چنار(درخت کانام )،پاغوندہ(پودا کے نام)،آباسین (دریا کانام)، پامیر (پہاڑ کانام)، باز(پرندے کانام)، میوندعلاقے کانام)،پغمانعلاقے کانام)وغیرہ
کوچیانی (خانہ بدوش ادب وثقافت اشتراک واجتماعیت کی بہترین مثال ہے ۔ ا ن کے ادبی ذخائر(پانگےکسی خاص شخص سے متعلق نہیں اور نہ ہی کسی خاص شخص کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے ۔ کوچیانی ادب کے ہیرو بھی انفرادیت کی بنیاد کی بجائے اجتماعی اوصاف کی بنیاد پر تراشے جاتے ہیں ۔ اس لئے ان کے گھریلو معاملات سے متعلق فیصلے اور جرگوں میں شرکت عمر اوروراثت کی بجائے عقل، اہلیت ، ننگ اور غیرت کے معیار پر ہوتا ہے ۔
معاشی اور معاشرتی ترقی کے سفر میں ہم نے علم ودانش کی دنیا میں بھی اجتماعیت کو ترک کرکے انفرادی ملکیت اور اس کے احساس کوفروغ دیا جس کے نتیجے میں ہمار اادب اور فن کچھ دربار اوربادار کے حدود میں مقید ہوگیا ۔ اس کے مقابلے میں کوچیانی ادب آج بھی ان حدوداور پابندیوں سے آزاد ، عوام کی اجتماعی دکھ اور سکھ کابھرپور ترجمان ہے ۔ آج کے معاشرے میں سرمایہ بٹورنے ، سستی شہرت ، شارٹ کٹ اور مختلف لالچ کے تحت علمی وادبی سر گرمیاں عام ہیں ۔ ہمارے اکثر شعراء وادیب سیلف پروجیکشن او رذاتی مفاد کے حصول کیلئے تخلیقی سرگرمیوں سے زیادہ شاہ اور شاہ پرستوں یعنی خواص کے ساتھ ربط وتعلق بنانے پر توجہ دیتے ہیں جن کی وجہ سے ادیب وشاعر معاشرے کے کسی حصے میں بھی آئیڈیل کے طور پر قبول نہیں کئے جاتے حتیٰ کہ ان کے اپنے بچے بھی انہیں ہیرو تسلیم کرنے کوتیار نہیں ہیں ۔ اس کے مقابلے میں کوچیانی ادب اپنے اجتماعیت اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کی روش کے باعث آفاقیت اور اعلیٰ اقدار کامظہر ہے اور تمام دنیا کیلئے بیک وقت کشش اور دلچسپی کاحامل ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خلقی یا اولسی فوالکلور کو عالمی ادب کا سنہرا بچپن قرار دیا جاتا ہے ۔ 
عالمی میڈیا اور جرنلزم آج بھی مختلف زبانوں میں اپنے اسٹاف کی بھرتی کے بعد اسے درست اور خالص زبان سے شعور وآگاہی حاصل کرنے کیلئے خانہ بدوشوں کے پاس بھیجتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبا ن کی اور یجنلیٹی سے آشنا ہوسکیں اور ان الفاظ سے بھی آگاہ ہوں جنہیں عام طو رپر شہروں میں متروک کردیاگیا ہے جو خانہ بدوشوں کے پاس اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔ واضح رہے کہ پشتون خانہ بدوشوں کی قدیم ٹیکنالوجی طرز علاج ، خوراک ، پوشاک ، کشیدہ کاری ، کھیل، مختلف مواقعوں پر اجتماعی تقریبات ، موسیقی اور دیگر مظاہر کامکمل ریکارڈ خان خادم کو چی کی شاہکار پشتو تحقیقی کتاب ’’کوچیانی پانگہ‘‘ میں موجود ہے ۔
’’پشتون خانہ بدوش قبائل دیگر لوگوں کی طرح پیروں اور ملاؤں کا احترام کرتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کے عمل و کردار سے واقف نہیں وہ ان کو جاننے اور پہچاننے کے باوجود ان کے آباؤ اجداد کے احترام او رعزت کے حوالے سے خود ان کے قول و فعل میں تضاد بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں ‘‘۔ (3)ان زیار کش خانہ بدوشوں میں یہ پشتوٹپہ مشہور ہے کہ فقیر یا ملنگ ہمارے لئے دعا کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنی حالت بہتر بنانے کی دعا کیوں نہیں مانگتے او ر خود گھر گھر خیرات مانگنے پر کیوں مجبور ہے؟
تاریخی طو رپر خانہ بدوشوں کااہم مرکز صدیوں سے سبی ہے جہاں مال مویشی ، خشک میوہ جات ، ریشم ، سپاری اور رخت یعنی کپڑے کے کاروبار کامرکز رہا ہے۔ تاہم مالداری سے متعلق ماہرین کاخیال ہے کہ ضلع موسیٰ خیل ، ژوب اور بارکھان مالداری اور خانہ بدوشوں کی سرگرمیوں کیلئے وسیع امکانات رکھتا ہے اور اگر ان علاقوں کومنصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ پورے عرب جزائربشمول پاکستان کے گوشت ،اون، چمڑے اور دودھ وغیرہ کی ضروریات پوری کرسکتا ہے ۔ہر سال حج کی سعادت حاصل کرنے والے لاکھوں حجاج کرام کو قربانی کیلئے جانوروں کی فراہمی بھی یہیں سے میسر ہو سکتی ہے۔
فلکیات اور موسم کی پیشگوئی کے حوالے سے کوچی افراد غیر معمولی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ وہ سردی ، گرمی اور بارش وغیرہ کے حوالے سے اتنی درستگی کے ساتھ پیشگوئی کرتے ہیں کہ دور جدید کے پڑھے لکھے افراد خاص طورپر ماہرین موسمیات اور متعلقہ شعبہ کے پروفیسر حضرات بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ کوچی حضرات گھڑی اور کیلینڈر کے بغیر اوقات اور فطری مظاہر کی بنیاد پرفاصلے (سفرکاتعین کرتے ہیں ، وہ گزرے ہوئے قافلے یاکاررواں کا جانوروں کی تھکاوٹ، پاؤں کے نشانات ، میڑہبیناڑی(پچیکی نمی سے وقت کا اندازہ لگاتے ہیں اور موسمی ضروریات کے مطابق ہجرت کرتے ہیں جو حیران کن حد تک درست ہوتا ہے ۔ گویا مادی ضرورت اور موسمی ہجرت ان کو مسلسل سفر و حرکت پر مجبور کرتے ہیں۔رات کے دوران گھپ اندھیرے میں کوچی اپنے ساتھیوں کو اپنی بات سے آگاہ کر نے کیلئے مخصوص آواز نکالتے ہیں جس کامطلب وہ آپس میں اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں ۔
معاشرے بے زبان لوگوں کی موثر آواز بننے کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ کے اس اہم حصے کو نظر انداز کرنے کی بجائے چلتی پھرتی تاریخ کوجدید زندگی کی سہولتوں سے آراستہ کرکے محفوظ بنایاجائے ۔ شاید افغانستان دنیا میں واحد ملک ہے جس کی پارلیمنٹ میں دس لاکھ موجودکوچیوں کا ایک خصوصی نمائندہ ہوتا ہے ۔ لہذاان لوگوں کو ڈیری پروڈکٹس ، دودھ ، گوشت ، چمڑے ، اون اور دیگر مصنوعات کی تجارت کے حوالے سے جدید سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنا معیار زندگی بلند کرکے معاشرے کی تعمیر وترقی میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر بھرپور کردار ادا کریں ۔
حوالہ جات۔1۔فریڈرک اینگلس،خاندان، ذاتی ملکیت اورریاست کاآغاز ، مارگن کی تحقیقات کی ضمن میں ص نمبر7، ماسکو،سوویت یونین۔
۔2۔ عدنان علیزئی ،تحقیقی مقالہ،پشتون خانہ بدوش قبائل کاجنوبی آسٹریلیا کی ترقی میں کردار2013ء 
۔3۔ خان خادم ، کوچیانی پانگہ، دکوچیانوژوند ،ژواک اوکڑنی2000۔ ص نمبر4،ناشر دانش خپرندو یہ ٹولنہ قصہ خوانی بازار پشارو۔
کتابیات۔1۔نویں غلام حیدر علی ، شمالی پاکستان ، تاریخ وثقافت ،2015 فکشن ہاؤس لاہور۔
۔2۔سحر گل کتوزئی، پشتو ادب پوھنہ ،خیبر پبلشر پشاور2009 ء

بدھ، 14 جون، 2017

منگل، 13 جون، 2017

قطر بحران کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟



قطر کا بحران دو باتیں ثابت کرتا ہے: عرب ریاستیں اب بھی بچکانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، اور دو ہفتے قبل سعودی عرب میں سربراہی کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مضحکہ خیز موجودگی میں جنم لینے والے سنی اسلامی اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔
مرتے دم تک شیعہ ایران کی 'دہشتگردی' سے جنگ کا وعدہ کرنے کے بعد سعودی عرب اور اس کے قریب ترین دوستوں نے اپنے امیر ترین پڑوسیوں میں سے ایک، قطر، کے خلاف 'دہشتگردی' کا منبع ہونے کی وجہ سے محاذ کھول لیا ہے۔ پیٹھ میں ایسا چھرا گھونپنے کی مثال صرف شیکسپیئر کے ڈراموں میں ہی مل سکتی ہے۔
اس پوری کہانی کے بارے میں بہت کچھ حیرت انگیز ہے۔ قطر کے شہریوں نے بلاشبہ دولتِ اسلامیہ کو مدد دی ہے، مگر سعودی عرب کے شہریوں نے بھی ایسا کیا ہے۔ 11 ستمبر کے دن نیو یارک اور واشنگٹن میں کسی قطری شہری نے جہاز عمارتوں سے نہیں ٹکرائے تھے۔ مگر 19 میں سے 15 ہائی جیکر سعودی تھے۔ بن لادن بھی قطری نہیں تھے۔ وہ بھی سعودی تھے۔
مگر بن لادن اپنی ذاتی براڈکاسٹ کے ذریعے قطر کے الجزیرہ چینل کی حمایت کرتے تھے، اور یہ الجزیرہ ہی تھا جس نے شام میں برسرِپیکار القاعدہ اور النصرۃ فرنٹ کے جنگجو رہنما کو گھنٹوں کا ایئرٹائم صرف یہ بتانے کے لیے دیا کہ وہ کس قدر اعتدال پسند اور امن پسند گروہ ہیں۔
سب سے پہلے تو اس کہانی کے انتہائی مضحکہ خیز پہلوؤں سے جان چھڑائیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یمن نے قطر سے اپنے فضائی رابطے منقطع کر لیے ہیں۔ بیچارے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے لیے یہ حیرت کی بات ہے کیوں کہ ان کے سابق دوستوں عرب امارات اور سعودی عرب نے یمن پر اتنی بمباری کی ہے کہ اس کے پاس قطر کے ساتھ فضائی رابطے قائم رکھنے کے لیے کوئی سالم جہاز بچا ہی نہیں ہے، تو رابطے توڑنے کی کیا بات کریں۔
مالدیپ نے بھی قطر سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے مالدیپ کو 30 کروڑ ڈالر کے پانچ سالہ قرضے کے وعدے، سعودی پراپرٹی کمپنی کے مالدیپ میں ایک فیملی ریزورٹ میں 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے، اور سعودی اسلامی علماء کی جانب سے مالدیپ میں 10 'ورلڈ کلاس' مساجد کی تعمیر کے لیے ایک لاکھ ڈالر کے وعدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اور ہاں، دولتِ اسلامیہ اور دیگر انتہاپسند گروہوں کے افراد کی اس بڑی تعداد کو کیسے بھول سکتے ہیں جو عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی جنگ لڑنے کے لیے، آپ نے صحیح سمجھا، مالدیپ سے آئے تھے۔
ویسے اگر سعودی عرب نے قطر میں استحکام کی بحالی کے لیے اپنی فوجیں بھیجنے کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا 151 جیسا کہ اس نے 2011 میں بحرین کے بادشاہ کے ساتھ کیا تھا  تو قطری امیر کے پاس اپنے چھوٹے سے ملک کو بچانے کے لیے کافی تعداد میں فوجیں نہیں ہوں گی۔ مگر شیخ تمیم بلاشبہ امید رکھتے ہیں کہ قطر میں موجود امریکی ایئربیس سعودی عرب کی ایسی کسی فراخدلانہ پیشکش کو ٹھکرانے کے لیے کافی ہوگی۔
جب میں نے ان کے والد شیخ حماد (جنہیں بعد میں شیخ تمیم نے معزول کر دیا تھا) سے پوچھا تھا کہ وہ قطر سے امریکیوں کو باہر کیوں نہیں نکال دیتے، تو انہوں نے کہا تھا کہ: "اگر میں نے ایسا کیا، تو میرے عرب بھائی مجھ پر حملہ کر دیں گے۔" مجھے لگتا ہے کہ جیسے والد، ویسا ہی بیٹا، امریکا زندہ باد۔یہ سب تب شروع ہوا  یا ہم سے توقع ہے کہ ہم ایسا مانیں گے جب قطر نیوز ایجنسی مبینہ طور پر ہیک ہوئی، اور اس نے قطری امیر کے ایران کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی ضرورت پر تشویشناک حد تک سچائی پر مبنی بیانات شائع کر دیے۔
قطر نے اس خبر کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔ سعودیوں نے فیصلہ کر لیا کہ یہ خبر درست ہے، اور اپنے انتہائی روایتی (اور شدید بورنگ) سرکاری ٹی وی چینل پر وہ خبر نشر کر دی۔ پیغام میں کہا گیا کہ نودولتیے امیر اس دفعہ بہت آگے جا چکے ہیں۔ خلیج میں پالیسیاں سعودی طے کریں گے، ننھا قطر نہیں۔ کیا ٹرمپ کے دورے سے یہ بات ثابت نہیں ہو گئی؟
مگر سعودیوں کے پاس فکرمند ہونے کے لیے اور بھی مسائل تھے۔ کویت، جو قطر سے تعلقات منقطع کرنے سے ابھی بہت دور ہے، اب سعودیوں و اماراتیوں اور قطر کے درمیان صلح کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دبئی کی امارت ایران کے کافی قریب ہے، یہاں بیسیوں ہزار ایرانی کام کرتے ہیں، اور وہ ابو ظہبی کے قطر مخالف غصے کی مثال پر شاید ہی عمل کر رہا ہو۔
عمان تو دو ماہ قبل تک ایران کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں بھی کر رہا تھا۔ پاکستان نے طویل عرصہ قبل یمن میں اپنی سعودی عرب کی مدد کے لیے افواج بھیجنے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ سعودی عرب نے صرف سنی فوجی بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاک فوج کو قابلِ فہم طور پر اس بات پر شدید غصہ آیا کہ سعودی عرب اس کے فوجیوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف بھی اطلاعات کے مطابق 'دہشتگردی' کے خلاف سعودی سربراہی میں بننے والی اسلامی اتحاد کی قیادت سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہے ہیں۔مصر کے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتح السیسی الاخوان المسلمون کی حمایت کرنے پر قطر کے خلاف چنگھاڑ رہے ہیں، اور قطر واقعی اب کالعدم قرار دے دیے گئے اس گروہ کی مدد کرتا ہے جسے السیسی غلط طور پر دولتِ اسلامیہ کا حصہ قرار دیتے ہیں، مگر اہم بات یہ ہے کہ مصر بھلے ہی سعودی عرب سے کروڑوں ڈالر حاصل کر چکا ہو، مگر وہ یمن کی تباہ کن جنگ میں سعودی عرب کی مدد کے لیے اپنے فوجی نہیں بھیجنا چاہتا۔ اس کے علاوہ سیسی کو اپنے فوجی اپنے ملک میں درکار ہیں تاکہ دولتِ اسلامیہ کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے، اور اسرائیل کے ساتھ مل کر فلسطین کی غزہ پٹی کا محاصرہ جاری رکھا جا سکے۔پر اگر ہم تفصیلی جائزہ لیں تو یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ سعودیوں کی اصل پریشانی کیا ہے۔ قطر بشار الاسد حکومت کے ساتھ بھی خفیہ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس نے النصرۃ فرنٹ کی قید میں موجود شام کی عیسائی راہباؤں، اور مغربی شام میں دولتِ اسلامیہ کی قید میں موجود لبنانی سپاہیوں کی رہائی میں مدد دی۔ جب راہبائیں قید سے رہا ہوئیں تو انہوں نے بشار الاسد اور قطر دونوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے علاوہ خلیج میں قطر کے بڑے ارادوں، یعنی جنگ زدہ شام کی تعمیرِ نو، کے بارے میں شکوک و شبہات بھی ہیں۔ اگر اسد صدر رہے، تب بھی شام پر قطر کا قرضہ ملک کو قطر کے اقتصادی کنٹرول میں دے دے گا۔اور اس سے ننھے قطر کو دو سنہری فوائد حاصل ہوں گے۔ اب اس کے پاس الجزیرہ کی صورت میں جتنی بڑی ابلاغی سلطنت موجود ہے، اتنی ہی بڑی زمینی سلطنت بھی آ جائے گی۔ اور یہ اپنی سخاوت شامی علاقوں تک بڑھائے گا، جسے کئی تیل کمپنیاں خلیج سے یورپ براستہ ترکی اپنی پائپ لائنز کے روٹ کے لیے استعمال کرنا چاہیں گی، یا پھر شامی کی اللاذقیہ بندرگاہ سے تیل کے جہاز بھیجنا چاہیں گی۔یورپ کے لیے ایسا روٹ روس کی تیل پر بلیک میلنگ کے امکانات کم کر دے گا، اور اگر جہازوں کو خلیجِ ہُرمز سے نہ گزرنا پڑا، تو تیل کے روٹس کے لیے خطرہ بھی کم ہو جائے گا۔تو قطر، یا پھر سعودی عرب، دونوں کے لیے بہت سارے فوائد موجود ہیں، اگر امریکی قوت کے بارے میں دو امراء یعنی حماد اور تمیم کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ قطر میں موجود سعودی افواج ریاض کو سلطنت میں موجود تمام تر مائع گیس پر کنٹرول فراہم کر دیں گی۔ مگر امن پسند اور 'دہشتگردی مخالف' سعودی سر قلم کرنے کے شوق کو تھوڑی دیر کے لیے بھول جائیں  اپنے عرب بھائی کے لیے ایسا کبھی نہیں چاہیں گے۔تو فی الوقت صرف یہ امید کرتے ہیں کہ قطر کی سیاست میں صرف قطر ایئرویز کے روٹ ہی وہ چیز ہیں جنہیں کاٹا جائے گا۔

پیر، 12 جون، 2017

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا



تحریر :جیریمی بوئن
مدیر برائے مشرقِ وسطی، بی بی سی
  پچاس برس سال قبل اسرائیل اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان جنگ چھڑی تھی۔ یہ جنگ صرف چھ روز جاری رہی لیکن اس کے
 اثرات آج بھی موجود ہیں۔
سنہ 1948 میں اسرائیل کے عرب ہمسایوں نے نئی نئی قائم ہونے والی اس ریاست کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اس پر ناکام حملہ کیا۔ مصر کی فوج کو پسپا ہونا پڑا لیکن چند دستے جو فلوجہ میں محصور ہو گئے تھے انھوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔
مصر کے نوجوان افسروں کے ایک گروپ اور اسرائیل فوج کے افسروں نے اس تعطل کو توڑنے کی کوشش کی۔
ان میں اسرائیل فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ اسحاق رابن جو جنوبی محاذ پر جنگ کارروائی کی قیادت کر رہے تھے اور 30 سالہ مصری میجر جمال عبدالناصر بھی شامل تھے۔
نازیوں کی طرف سے 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے چند سال بعد مقدس سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا خواب پورا ہو گیا تھا۔
فلسطینی سنہ 1948 کے اس واقعے کو ’النکبہ‘ یا تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کر کے اسرائیل کا وجود عمل میں لایا گیا اور ان فلسطینیوں کو واپس جانے نہیں دیا گیا۔
عربوں کی اسرائیل کے ہاتھوں شکست ایک ایسا تہلکہ خیز سیاسی واقعہ تھا جس کے بعد یہ خطہ اب تک عدم استحکام کا شکار ہے۔
مصر کی فوج نے جو ندامت اور اپنے ساتھ غداری کے احساس سے چور تھی، اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنگ کے چار سال بعد ناصر کی قیادت میں نوجوان افسران کے ایک گروپ نے مصر میں بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔
دونوں ملکوں کو بخوبی علم تھا کہ اگلی جنگ جلد یا بدیر ضرور ہو گی۔
سنہ 1956 میں جمال عبدالناصر نے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ اسی برس انھوں نے برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نہر سویز کو قومیانے کا فیصلہ کر لیا اور یوں وہ قومی ہیرو اور عربوں کے قائد بن گئے۔
اسرائیل میں اسحاق رابن فوج میں نوکری کرتے رہے اور سنہ 1966 میں فوج کے اعلیٰ ترین افسر یعنی چیف آف سٹاف بن گئے۔
عربوں کے زخم مندمل نہیں ہوئے۔ اسرائیل یہ کبھی فراموش نہیں کر سکا کہ اس کے ہمسایہ ملکوں نے اس کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی۔ دونوں کو پوری طرح احساس تھا کہ اگلی جنگ جلد یا بدیر ضرور ہو گی۔
خراب ہمسائے
اسرائیل اور عرب ہمسائیوں کے لیے باہمی نفرت اور ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے کے لیے بہت سی وجوہات موجود تھیں۔
سنہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں سرد جنگ نے بداعتمادی اور کشیدگی کی فضا کو مزید ایندھن فراہم کیا۔
سویت یونین نے مصر کو جدید فضائی طیارے فراہم کیے۔ اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ قریبی دوستی تھی لیکن یہ ابھی امریکی دفاعی امداد حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک نہیں بنا تھا۔ سنہ 1960 میں اسرائیل نے فرانس سے طیارے اور برطانیہ سے ٹینک حاصل کیے۔
سنہ 1948 کے بعد اسرائیل نے اپنی پوزیشن کو مسحتکم کرنے کے لیے انتھک محنت کی اور اس دوان اس نے مزید دس لاکھ یہودی تارکین وطن کو آباد کیا۔ اسرائیل میں آنے والوں کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا ایک لازمی شرط تھی۔
اسرائیل نے ایک سریع الحرکت اور ہلاکت خیز فوج تیار کر لی اور 1967 میں وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے قریب تھا۔
اسرائیل میں پیدا ہونے والے نئے اسرائیلی جنھیں 'سبراس' (عبرانی زبان میں ایک ترش پھل کا نام) کہا جاتا تھا مختلف ملکوں میں آباد یہودیوں کی ماضی میں کی گئی غلطیوں کو نہ دہرانے کے لیے پرعزم تھے۔
رابن اسرائیل فوج کے بارے میں پراعتماد تھے۔ ان کا مشن ہر جنگ جیتنا تھا اور اسرائیل ایک جنگ بھی ہارنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
مصر کی افواج اور اس کے اتحادی شام کی فوجیں جو کم تربیت یافتہ تھیں، بلند و بانگ دعوے کرنے لگیں اور یہ فراموش کر بیٹھیں کہ 1956 میں نہر سویز کے بحران سے حاصل ہونے والی سیاسی فتح کے بعد انھیں فوجی شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
جمال عبدالناصر نے عرب دنیا میں قومی تحریک پر توجہ مرکوز رکھی جس کے بارے میں ان کے رفقا کا خیال تھا عربوں کے قومی تفاخر کو بحال کر کے اسرائیل سے بدلہ لیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے اپنے سب سے قریبی ساتھی فیلڈ مارشل عبدالحکیم عامر کو مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف بنا دیا۔
مصر ایک قدیم ملک ہے جس میں عدم تحفظ کا احساس نہیں تھا جو اسرائیل جیسے جارح ملک کو کھائے جاتا ہے۔
عبدالحکیم عامر کا سب سے اہم مشن جو انھوں نے بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا، وہ نوجوان افسران کو خوش اور مطمئن رکھ کر فوج کی وفاداری کو یقینی بنانا تھا۔
فوج کی لڑائی کی صلاحیت کو بہتر بنانا ان کی ترجیحات میں نہیں تھا۔
سنہ 1967 تک مصر یمن کی جنگ میں ملوث ہو چکا تھا جو اس کا اپنا ویتنام بن گیا۔ وہ بہتر انداز میں جنگ نہیں کر سکا۔ لیکن ناصر عامر کی جگہ کوئی بہتر فوجی نہیں لا سکتے تھے۔
شام کی فوج بھی سیاست کا شکار ہو چکی تھی اور سویت یونین کی طفیلی ریاست بن گئی تھی اور وہاں کئی جرنیل فوجی بغاوتوں کے نتیجے میں برسراقتدار آئے۔
عرب قومیت، سوشلزم اور اتحاد کی بہت بات کرتے تھے لیکن حقیقت میں وہ بری طرح تقسیم کا شکار تھے۔
شام اور مصر کی قیادت اپنے خلاف سازشوں کی شکایت کرتے تھے جو ان کے بقول اردن اور سعودی عرب کی بادشاہتیں کر رہی تھیں۔
سعودی عرب اور اردن کی بادشاہتیں مصر اور شام میں مقبول فوجی آمروں سے خائف تھیں کہ وہ پوری عرب دنیا میں انقلابی جذبات بھڑکا سکتے تھے۔
اردن کے فرمانروا شاہ حسین برطانیہ اور امریکہ کے قریبی اتحادی تھے۔ اردن وہ واحد اسلامی ملک ہے جو سنہ 1948 کی جنگ میں فاتح رہا تھا۔
شاہ حسین کے دادا شاہ عبداللہ کے یہودی ایجنسی سے خفیہ روابط تھے جو برطانیہ کی حاکمیت والے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کی نمائندگی کرنے والی مرکزی تنظیم تھی۔ انھوں نے 1948 میں پہلے سے طے شدہ برطانوی انخلاء کے بعد اس زمین کو آپس میں بانٹ لینے کی گٹھ جوڑ کر رکھی تھی۔
سنہ 1951 میں ایک فلسطینی قوم پرست نے شاہ عبداللہ کو بیت المقدس کی الاقصیٰ مسجد میں ہلاک کر دیا۔ 15 برس کے شہزادہ حسین نے اپنی دادا کو ہلاک ہوتے دیکھا اور اس کے اگلے دن پہلی مرتبہ بندوق اٹھائی۔ ایک سال بعد وہ بادشاہ بن گئے۔
سنہ 1948 کی جنگ کے بعد اردن اور اسرائیل قریب آئے لیکن اتنے قریب نہیں آ سکے کہ امن ممکن ہو سکے۔ شاہ حسین کے دور میں بھی خفیہ مذاکرات جاری رہے۔ وہ اردن کی کمزوری سے بخوبی واقف تھے۔
اس کا زیادہ تر علاقہ صحرا پر مشتمل تھا اور اس کی اکثریتی آبادی عدم اطمینان کا شکار فلسطینی پناہ گزینوں پر مشتمل تھی۔
شامی علامات
سنہ 1967 کی جنگ عرب اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان طویل کشیدگی اور خوفناک سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی۔
مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحد عموماً پرامن رہی۔ اسرائیل کی شمالی سرحد مستقل کشیدگی کا شکار تھی جہاں متنازع علاقوں اور دریائے اردن کے پانی کا رخ موڑنے کی مصری فوج کی کوششوں کی وجہ سے جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔
شام نے فلسطینی گوریلا جنگجوؤں کو پناہ دے رکھی تھی جو اسرائیل کے اندر حملے کرتے رہتے تھے۔
مغربی قوتوں کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا کہ مشرق وسطیٰ میں سنہ 1967 کی جنگ سے قبل کون سی فوجی طاقت کا توازن کس کے حق میں تھا۔ امریکہ کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کم از کم اگلے پانچ برس تک کسی بھی عرب اتحاد کی مشترکہ فوجوں کا تنہا مقابلہ کر سکتا ہے۔
سنہ 1967 میں تل ابیب میں تعینات برطانوی فوجی اتاشی کا اسرائیلی فوج کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہنا تھا کہ کمان، تربیت، دفاعی سازو سامان اور رسد کے شعبوں میں اسرائیلی فوج جنگ کے لیے اس سے زیادہ کبھی تیار نہیں تھی۔
اعلیٰ تربیت یافتہ، خودانحصار، سخت جان اسرائیلی فوجیوں میں اپنے ملک کے دفاع کے لیے لڑنے کا جذبہ اوج پر تھا اور وہ جنگ پر جانے کے لیے تیار تھے۔
سرحدی جنگیں کشیدگی کے باعث شروع ہوئیں۔ فلسطینی گوریلا ایک سرحدی باڑ توڑ کر اندر آئے۔ اسرائیل نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دے کر مذمت کی اور اس طرح کے حملے روکنے کے لیے اس نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
اردن کے زیر قبضہ غرب اردن کے ایک گاؤں سیموا میں نومبر 1966 میں اسرائیلی فوج کی ایک بڑی کارروائی کے بعد اسرائیل کے اندر ایک بارودی سرنگ کا حملہ ہوا۔
غرب اردن میں اسرائیلی فوجی کارروائی پر فلسطینیوں میں خوب شور شرابہ ہوا۔ حسین دہشت زدہ تھے۔ انھوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو بتایا کہ وہ تین برس سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں اور ان کے اسرائیلی رابطہ کار نے جس دن کارروائی کی گئی اس صبح
بھی یہ یقین دلایا تھا کہ جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
امریکہ کا رویہ ہمدردانہ تھا۔ انھوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اس قرار داد کی بھی حمایت کی جس میں سیموا کے حملے کی مذمت کی گئی۔
شاہ حسین نے غرب اردن میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور انھیں تقریباً یہ یقین ہو گیا تھا کہ غم اور غصے کا شکار فلسطینی ان کا تخت الٹ دیں گے۔
انھیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ ان کی فوج میں جمال عبدالناصر کے حمایتی فوجی افسر ان کے خلاف بغاوت کر دیں گے اور اسے بہانا بنا کر اسرائیل غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس کو ہڑپ کر جائے گا۔
وہ اس حشر کا شکار نہیں ہونا چاہتے تھے جو مشرق وسطیٰ میں دوسرے ہاشمی فرمانروا اور ان کے رشتے کے بھائی اور دوست عراق کے بادشاہ فیصل کا مقدر بنا تھا۔
عراق کے شاہ فیصل کو ان کے محل کے دالان میں سنہ 1958 کی بغاوت میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
شام اور اسرائیل کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جنگ کے بادل گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔ شاہ حسین کے برعکس جن کے بارے میں امریکیوں کو بھی یقین تھا کہ وہ فلسطینیوں کی چھاپہ مار کارروائی روکنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، شام فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔
اسرائیل متنازع علاقوں پر اپنے دعوؤں کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھا رہا تھا جن میں غیر فوجی علاقوں میں بکتر بند ٹریکٹروں کے ذریعہ گھاس کی کٹائی کا عمل بھی شامل تھا۔
سات اپریل سنہ 1967 کو شام اور اسرائیل میں بھرپور جنگ شروع ہو گئی۔ اسرائیل کی فوج نے شامی افواج کو زبردست نقصان پہنچایا۔
اگلی صبح ایک برطانوی سفارت کار کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی فوجی قوت اور عربوں کی بے بسی پر ششدر فلسطینی نوجوان یہ کہتے نظر آئے کہ مصر کہاں ہے اور جمال عبدالناصر پر عملی اقدام کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
اسرائیل قومی تفاخر کے جذبے سے سرشار تھا لیکن چند سیاست دان اور فوجی خدشات کا شکار تھے۔ اسرائیلی پارلیمان کی ایک راہداری میں فوج کے سابق چیف آف آرمی سٹاف موشے دایان کا آمنا سامنا جنرل ایزر وائزمین میں سے ہوا جو اسحاق رابن کے دستِ راست تھے۔ موشے دایان نے ان سے پوچھا کیا تم ہوش میں تو ہو۔ تم تو ملک کو جنگ میں دھکیل رہے ہو۔'
شام اور فلسطینی گوریلا گروپ اسرائیل کو اشتعال دلانے کی ہرممکن کوشش کر رہے تھے اور اسرائیل ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے آمادہ تھا۔
مصر اور شام کو نظر آ رہا تھا اور برطانیہ اور امریکہ بھی دیکھ رہے تھے کہ اسرائیل بڑی جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایک نیوز ایجنسی کی مبالغہ آمیز رپورٹ میں اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ اگر فلسطینیوں کی طرف سے کارروائیاں جاری رہیں تو اسرائیل محدود فوجی کارروائی کرے گا جس کا مقصد دمشق میں شام کی فوجی کا تخت الٹنا ہو گا۔
اس خبر کا ذریعہ فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہارون ایرو تھے۔ انھوں نے شامی حکومت کے خاتمے کو ممکنہ اقدامات میں سے انتہائی اقدام قرار دیا لیکن اس خبر کو شام اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ، دونوں نے بڑی سنجیدگی سے لیا۔
اور پھر سوویت یونین کی مداخلت نے سب کچھ بدل دیا۔ 13 مئی کو ماسکو نے قاہرہ کو صاف الفاظ میں خبردار کر دیا کہ اسرائیل شام کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجیوں جمع کر رہا ہے اور وہ ایک ہفتے کے اندر اندر شام پر حملہ کر دے گا۔
اس سوال پر اس دن سے بحث ہو رہی ہے کہ آخر سوویت یونین نے اس جنگ میں پہلی گولی کیونکر چلائی تھی۔ دو اسرائیلی تاریخ دانوں، ایزابیلا گنور اور گڈیون ریمیز، کا خیال ہے کہ سوویت یونین نے جان بوچھ کر تنازع شروع کرایا تھا۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ اصل میں سوویت یونین اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو روکنا چاہتا تھا اور اس لڑائی میں اپنی فوجیں بھیجنے تک کے لیے تیار تھا۔
اُس وقت ایک درمیانے درجے کے سوویت افسر نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو بتایا تھا کہ سوویت یونین عربوں کو اکسا رہا تھا کہ وہ امریکہ کے لیے مسائل پیدا کریں۔ اس وقت امریکہ کو ویتنام میں ایک بڑے مسئلے کا سامنا تھا اور اگر مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھڑ جاتی تو امریکہ کے لیے ایک نیا دردِ سر پیدا ہو سکتا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ ان دنوں اسرائیل اور اس کے عرب ہمسائیوں کو کسی کے اکسانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ چنانچہ دونوں فریقوں نے اُس لڑائی میں چھلانگ لگا دی جس کی توقع دونوں ایک عرصے سے کر رہے تھے۔
ناصر کا جوا
سوویت یونین کی جانب سے خبردار کیے جانے کے محض 24 گھنٹے بعد مصری فوج کے کمانڈر، فیلڈ مارشل حکیم عامر نے نے اپنی فوج کو جنگ کے لیے پوری طرح تیار رہنے کا حکم دے دیا
فوج کے چیف آف آپریشنز جنرل انور القادی نے اپنے کمانڈر کو بتایا کہ بہترین فوجیوں سمیت ملک کی آدھی سے زیادہ فوج یمن میں الجھی ہوئی ہے اور اس وقت یہ فوج اسرائیل کے ساتھ لڑنے بالکل قابل نہیں ہے۔
اس پر عامر نے جنرل القادی کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ لڑائی منصوبے کا حصہ ہے ہی نہیں، بلکہ وہ اسرائیل کی جانب سے شام کو دے جانے والی دھمکیوں کے جواب میں محض طاقت کا 'مظاہرہ' کرنا چاہتے ہیں۔
دو دن بعد مصر نے اسرائیل سے جڑی سرحد پر 1956 سے گشت کرنے والے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو نکال کر اور اپنی فوج کو صحرائے سینا میں تعینات کر کے خود کو اس بحران میں مزید پھنسا لیا۔
اس وقت چونکہ اسرائیلی فوج کے سر پر شام سوار تھا، اس لیے اسرائیل نے مصر کے ساتھ صبر کا مظاہرہ کیا۔.
اس وقت شلومو گزیت فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ تھے۔ انھوں نے امریکی سفارتکاروں کو بتایا کہ اسرائیل کو مصر کے جارحانہ رویے پر بہت حیرت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اسے مصر کی جانب سے محض 'لفظوں کی جنگ' سمجھتا ہے، اور اسرائیل مصر کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائے گا تاکہ وقتیکہ کہ مصر بحیرہ احمر میں آبنائے طیران کو بند کر کے ایلات کی بندرگاہ کو اسرائیل کے لیے بند نہیں کر دیتا۔
مصر میں اسرائیل کے خلاف جذبات کو مہمیز دینے میں جمال عبدالناصر کے پسندیدہ ریڈیو سٹیشن 'صوت العرب' نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
قاہرہ میں قائم اس ریڈیو سٹیشن کی نشریات پورے مشرق وسطیٰ میں سنی جاتی تھیں اور یہ جمال ناصر کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم آلہ بن چکا تھا۔
اسرائیل نے ناصر کے اقوام متحدہ کے فوجیوں کو نکالنے اور صحرائے سینا میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلوں پر کسی خاص رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ چنانچہ ناصر نے اسرائیل کو مزید زِچ کرنے کے لیے ایلات کی بندرگاہ کو ایک مرتبہ پھر بند کر دیا۔
صحرائے سینا میں مصری فضائیہ کے اڈے پر تقریر کرتے ہوئے جمال ناصر نے اعلان کیا کہ ’اگر اسرائیل ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے، تو ہم اس کا استقبال کریں گے۔‘
ناصر کی خواہش تھی کہ دنیا بھر میں ان کی شناخت ایک ایسے عرب رہنما کی بن جائے جو یہودی ریاست کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات رکھتا ہے۔ چنانچہ جدید لڑاکا طیارے اڑانے والی فضائیہ کے ہوابازوں کے درمیان کھڑے ناصر کی تصویر کی دنیا بھر میں خوب تشہیر کی گئی۔
اس تصویر وہ ایک ایسے بچے کی طرح خوش دکھائی دے رہے ہیں جس نے کوئی ایسی لکیر عبور کر لی ہو جس کی توقع بچے سے نہیں کی جاتی۔
مصر کی جانب سے اس اعلان کے صرف 42 منٹ بعد ہی امریکہ نے نائب صدر کے مصر کے دورے کی امید دلا کر کہا کہ اگر اس تنازعے کو بڑھنے نہ دیا جائے تو یہ دورہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس وقت تک امریکی صدر لنڈن جانسن ساری صورت حال پر خاصے برہم ہو چکے تھے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل یو تھاٹ امن مشن پر مشرق وسطیٰ کی جانب سفر شروع کر چکے تھے۔ اس موقعے پر ناصر نے اپنے اس وعدے کا اعادہ کیا کہ مصر پہلی گولی نہیں چلائے گا۔
لیکن اپنے دورے کے اختتام پر یو تھاٹ کا تجزیہ یہی تھا کہ اگر ایلات کی بندرگاہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا تو جنگ یقینی ہے۔
حملے کے لیے دباؤ
جمال ناصر کی جانب سے آبنائے طیران کے بند کیے جانے کے صرف ایک دن بعد ہی اسرائیلی وزیر اعظم لیوی ایکشول نے اپنی فوجوں کو سرحد کی جانب پیش قدمی کا حکم دے دیا۔ اس حکم کے 48 گھنٹے کے اندر اندر پچاس سال تک کی عمر کے دو لاکھ 50 ہزار فوجی اور نیم فوجی دستے میدان میں اترنے کے لیے تیار تھے۔
جنرل رابن پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ تمام شواہد بتا رہے تھے کہ اسرائیل یہ جنگ جیت جائے گا، لیکن جنرل رابن خود کو قائل کر چکے تھے کہ وہ اسرائیل کو آگ میں جھونکنے جا رہے ہیں۔
وہ اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار تھے کہ سگریٹ کی کئی ڈبیاں پینے کے بعد وہ تھک ہار کے بستر پر گر گئے۔ وہ تقریباً 24 گھنٹے سوتے رہے اور پھر جا گے تو واپس دفتر لوٹے۔
جہاں تک جنگ کو رکوانے کی بین الاقوامی کوششوں کا تعلق ہے تو سفارتکاری کی دنیا میں ان کا آغاز تنازع شروع ہوتے ہی ہو گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ، ابا ایبان، نے بھی پہلی پرواز پکڑی اور صدر جانسن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن روانہ ہو گئے۔
اس سے پہلے جب سنہ 1956 میں اسرائیل نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے مصر پر حملہ کیا تھا، اس وقت امریکہ نے نہ صرف اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا بلکہ اسے ان علاقوں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا تھا جن پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ اسی لیے اِس مرتبہ اسرائیل کی کوشش تھی کہ اسے امریکہ کی تائید حاصل ہو جائے۔
صدر جانسن نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ پہلی گولی اس کی طرف سے نہیں چلنی چاہیے۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو کہا کہ وہ مصر کی فکر نہ کریں۔ مصر کی جانب سے جنگ کے امکانات کم ہی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو (مجھے پتہ ہے) ’آپ مار مار کے اُس کا بھرکس نکال دیں گے۔‘
صدر جانسن نے ملاقات میں یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر موزوں ہوا تو امریکہ شاید اپنے اتحادیوں کی بحریہ کے ساتھ مل کر آبنائے طیران کو کھولنے کے لیے حملہ بھی کر سکتا ہے۔
ایبا ایبان نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اسی رفتار پر چلیں گے جس پر امریکہ چل رہا ہے، لیکن اسرائیلی فوج حملے کے لیے تیار تھی اور ان کے جرنیل بھی 
سیاستدانوں کی تاخیر سے مایوس ہو رہے تھے۔
فوجی ایبان کے رویے سے بہت چِڑ چکے تھے اور وزیر خارجہ کا انداز گفتگو اور ان کے شہری طور طریقے ان فوجیوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہے تھے۔
اسی لیے جب 28 مئی کو اسرائیلی کابینہ نے مزید دو ہفتے تک انتظار کا فیصلہ کیا تو جرنیل بہت برہم ہوئے۔ اُن کے خیال میں یہ مسئلہ صرف آبنائے طیران کے کھلنے کا نہیں تھا، بلکہ ان کی نظر خطے کی بڑی تصویر پر تھی۔
جرنیلوں کے خیال میں جمال ناصر تمام عرب دنیا کو اسرائیل کے خلاف متحد کر رہے تھے اور اسی مقصد کی خاطر انھوں نے اپنی فوج صحرائے سینا میں بھیج دی تھی تاکہ وہاں سے اسرائیلی سرحد پر براہ راست حملہ کیا جا سکے۔
اردن کا مخمصہ
جمال ناصر سنہ 1956 سے عرب دنیا کے واحد متفقہ رہنما بن چکے تھے۔ اور جب وہ عربوں کی نفرت کی علامت اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوئے تو عربوں میں ان کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم ہو گئی۔
انھوں نے 28 مئی کو قاہرہ میں غیر ملکی صحافیوں سے ایک ملاقات کی جس میں انھوں نے صحرائے سینا اور آبنائے طیران میں بحران کو فلسطین کے خلاف اسرائیل کی 'جارحانہ کارروائیوں' سے نسبت دی۔
جمال ناصر کا کہنا تھا کہ چونکہ اسرائیل سنہ 1948 میں فلسطینیوں پر ڈاکہ ڈال کر ان کے علاقے چھین لیے ہیں، اس لیے اب اسرائیل کے ساتھ امن بقائے باہمی کے تحت رہنا ممکن نہیں رہا۔
جمال ناصر کے اعتماد نے اردن کے شاہ حسین کو ایک کونے میں دھکیل دیا۔ حسین ناصر پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے عمان میں سی آئی اے کے سربراہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں اسرائیل کا اصل ہدف غربِ ادرن پر قبضہ کرنا ہے۔
حسین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی اپنی بقا اور بادشاہت تھی۔ اسی لیے انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی جمال ناصر کے ساتھ مفاہمت کا فیصلہ کر لیا۔
جنگ کے کچھ سال بعد انھوں نے تاریخ دان، ایوی شلیم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'مجھے معلوم تھا کہ جنگ ہو کے رہے گی۔ مجھے پتہ تھا کہ ہم یہ جنگ ہار جائیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ اردن خطرے میں ہے۔ ہمیں دونوں طرف سے خطرہ تھا، تو ایک حل تو یہ تھا کہ ہم وہی کرتے جو ہم نے کیا، اور اگر ہم اس تنازع سے باہر رہتے تو ہمارا ملک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا۔'
خوف اور خطرات
اگر اسرائیلی جرنیلوں کو وہ کرنے دیا جاتا جو وہ چاہتے تھے تو انھیں یقین تھا کہ وہ اسرائیل کو زبردست فتح سے ہمکنار کر سکتے تھے۔ لیکن اسرائیل میں فوج کے اندر کے معاملات پر سخت سینسر کی وجہ سے جرنیلوں کی باتیں باہر نہیں آ سکتی تھیں۔
اور دوسری جانب عرب ریڈیو سٹیشنوں اور اسرائیلی اخبارات میں ایک دوسرے کے خلاف خوفناک دھمکیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے اسرائیل پر ناامیدی کے بادل چھا گئے۔
حکومت نے متوقع اموات کے پیش نظر تابوت اکھٹے کرنا شروع کر دیے اور مذہبی رہنماؤں نے ہنگامی بنیادوں پر عوامی پارکوں کو قبرستانوں میں تبدیل کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔
ان حالات میں وزیر اعظم لیوی ایشکول کی 28 مئی کی تقریر نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ تقریر کے دوران ان کی زبان لڑکھڑا رہی تھی اور وہ الفاظ ادا نہیں کر پا رہے تھے۔
تقریر کے بعد ایک ملاقات میں اسرائیلی جرنیلوں نے وزیر اعظم کے خوب لتے لیے۔ جب تمام جرنیل انھیں برا بھلا کہہ رہے تھے تو بریگیڈیئر جرنل ایریل شیرون نے چیخ کر کہاکہ مسٹر وزیر اعظم نے 'ہم نے اپنا سب سے بڑا ہتھیار کھو دیا ہے، اور وہ ہتھیار ہے ہمارا خوف۔'
اس ملاقات میں موجود بہت سے کمانڈروں نے نہایت سخت اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے اور اپنی حکومت کا موازنہ ان یہودی رہنماؤں سے کرنا شروع کر دیا جو یورپ سے جلاوطنی کے بعد غلاموں کی طرح رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
یورپ سے آئے ہوئے اپنے سیاسی رہنماؤں کے برعکس سنہ 1950 اور 60 کی دہائیوں میں اسرائیل میں پیدا ہونے والے لوگوں کی پرورش اس انداز میں ہوئی تھی کہ وہ یورپی یہودیوں کو کمزور سمجھتے تھے کہ یہ لوگ نازیوں کے ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوئے اور اُن کا ہر ظلم برداشت کیا۔
اکثر اسرائیلی وزرائے اعظم کی طرح ایشکول کے پاس وزارت عظمیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت دفاع کا قلمدان بھی تھا۔ لیکن جلد ہی انھیں مجبوراً وزارت دفاع کا عہدہ اسرائیل کے ایک جنگی ہیرو، ایک آنکھ والے جنرل موشے دان کو دینا پڑ گیا۔
موشے دان کی شہرت یہ تھی کہ وہ ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنے والے شخص ہیں۔
جنگ سے پہلے آخری دن
جمال ناصر ایک بڑا جُوا کھیل رہے تھے۔ اگرچہ مصر کے پاس ایک جدید فضائیہ تھی، لیکن اس کی برّی فوج کمزور تھی۔ ناصر کے جرنیلوں کو بھی معلوم تھا کہ ناصر کی خطروں سے کھیلنے کی عادت انھیں ایک تباہ کن جنگ کے دہانے پر لے آئی ہے۔
دوسری جانب جنگ کو روکنے کی بین الاقوامی کوششیں بھی ناکام ہو چکی تھیں۔ برطانیہ اور امریکہ کے پاس لے دے کے یہی حل بچا تھا کہ بحرہ احمر میں مجوزہ بحری ٹاسک فورس کسی طرح آبنائے طیران کو مصر کے ہاتھوں سے چھڑا لے لیکن برطانوی اور امریکی بحریہ کے سربراہوں کو یہ حل بالکل پسند نہیں تھا۔ انھیں فکر تھی کہ اگر وہ آبنائے طیران کو چھڑوا نہ سکے تو یہ جمال ناصر کی ایک اور فتح ثابت ہو گی۔
اور پھر جمعہ دو جون کو اسرائیلی جرنیلوں نے اپنی دفاعی کابینہ کو جنگ کا حتمی فیصلہ پیش کر دیا۔ انھوں نے سیاستدانوں کو بتایا کہ وہ مصر کی پٹائی کر سکتے ہیں، لیکن وہ اس میں جتنی تاخیر کریں گے یہ کام اُتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔
اس سے چند دن پہلے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ میئر امیت بھی بھیس بدل کر ایک نقلی پاسپورٹ پر واشنگٹن کا سفر کر چکے تھے۔ وہ
جنگ کا مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ 50 سال تک کی عمر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو طویل عرصے کے لیے فوج میں بلانے کے بعد ملک کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔
امریکیوں نے بھی اسرائیل کو واضح اشارہ دے دیا۔ امریکیوں کو بتا دیا گیا تھا کہ اب اسرائیل جنگ کرنے جا رہا ہے اور وہ (امریکی) اس جنگ کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔
موساد کے سربراہ میئر امیت جب طیارے میں واپس اسرائیل آئے تو امریکہ میں اسرائیل کے سفیر ایب ہارمن بھی ان کے ہمراہ تھے اور اُس طیارے میں تمام مسافروں کے لیے گیس ماسک بھی موجود تھے۔۔ وہ سنیچر تین جون کو تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترے۔
ایک کار ان دونوں کو لے کر سیدھی وزیر اعظم ایشکول کی رہائش گاہ پر پہنچی، جہاں وہ اپنے وزرا کے ہمراہ اِن دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔ میئر امیت کی خواہش تھی کہ فوراً جنگ شروع کر دی جائے، جبکہ ایب ہارمن چاہتے تھے ہفتہ بھر انتظار کیا جائے۔
موشے دایان نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اگر ہم سات، نو دن تک انتظار کرتے ہیں تو ہزاروں لوگ مر چکے ہوں گے۔ پہلا حملہ ہمیں کرنا دینا چاہیے، اور جہاں تک سیاسی پہلو کا تعلق ہے، وہ ہم حملے کے بعد دیکھ لیں گے۔'
کمرے میں موجود کسی بھی شخص کو اب یہ شک نہیں رہا تھا کہ جنگ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسرائیل جنگ کرنے جا رہا ہے۔
اگلی ہی صبح کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔
جمال ناصر کی پیشنگوئی یہ تھی کہ اسرائیل چار یا پانچ جون کو حملہ کر دے گا۔ ان کی اس پیشنگوئی کی بنیاد وادیِ اردن اور اسرائیل کی جانب عراقی توپ خانے کی پیش قدمی تھی۔
اچانک حملہ
پانچ جون صبح سات بج کر 40 منٹ تل ابیب میں وزارت دفاع کے دفتر میں ہر ایک سانس روکے بیٹھا تھا کیونکہ حملے کا لمحہ قریب آ چکا تھا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر تھا کہ وہ دشمن کو سوچنے کا موقع ہی نہ دیں اور نہایت سرعت سے مصر سے آغاز کر کے عرب فضائیہ کے تمام اڈّوں کو تباہ کر دیں۔
اسرائیلی فضائیہ ان حملوں کی تیاری کئی سالوں سے کر رہی تھی۔ اس مقصد کے لیے جاسوس طیاروں کی مدد سے انھوں نے عرب فضائیہ کے تمام اڈوں کا بغور مطالعہ کر لیا تھا۔
مصر اور دیگر عرب ملکوں کے برعکس اسرائیلیوں نے اپنی پوری تیاری کی تھی۔ انھوں نے مصر، اردن اور شام کے ہوائی اڈوں کی مکمل تصویر حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں جاسوس مشن بھیجے۔ ہر پائلٹ کے پاس اہداف کی ایک کتاب تھی جس میں اس کے محل وقوع اور دفاع سے متعلق تفصیل موجود تھی۔ حتیٰ کے انھوں نے ریڈیو کالز سن کر بڑے عرب کمانڈروں کی آوازوں کو شناخت کرنے کے لیے نظام بنا لیا تھا۔
یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ فیلڈ مارشل عامر اور مصر کی اعلی قیادت سینا میں موجود ایک ہوائی اڈے بیر تمادا میں ملاقات کر رہے تھے۔ اجلاس شروع ہونے کو تھا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بم گرانا شروع کیا۔ فوجی جنرل اتنے حیران تھے کہ ان کے ذہنوں میں پہلا خیال بغاو ت کا
آیا یا مصر کے ساتھ کسی قسم کے دھوکے کا۔
عامر اپنا جہاز اڑانے میں کامیاب ہو گئے لیکن ایک ایسا وقت بھی آیا کہ انہیں جہاز اتارنے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی کیونکہ مصر کے سبھی ہوائی اڈوں پر حملہ کیا گیا تھا۔
ادھر تل ابیب میں ایزر وائزمین بہت خوش تھے۔ حملے ان کی توقع سے اچھے جا رہے تھے۔ انھیں دشمن کے خلاف حیران کن کامیابی ملی تھی۔ انھوں نے اپنی اہلیہ کو فون کیا ’ہم جنگ جیت گئے۔‘ وہ چلائے تھے۔
اس دن اسرائیل نے اردن اور شام کی فوج کے پیشتر ہوائی اڈے تباہ کر دیئے تھے۔ فضاؤں پر اسرائیل کا قبضہ تھا۔
اسرائیل نے شاہ حسین کو متنبہ کیا کہ جنگ میں شامل نہ ہوں لیکن انھوں نے ذہن بنا لیا تھا اس لیے انھوں نے اردن کی قابل فوج کو مصر کے نااہل جنرل کے ماتحت دے دیا۔ یروشلم میں لڑائی کے آغاز کے آدھے دن بعد ہی اردن کی فوج نے فائر کھول دیا۔ شاہ حسین نے اسرائیل کی جانب سے جنگ سے دور رہنے کی صورت میں بچ جانے کے اشاروں کو درگزر کیا۔ 1966 میں سمووا ریڈ کے بعد انھوں نے اسرائیل کی یقین دہانی پر بھروسہ نہیں کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ مصر کے ساتھ فوجی اتحاد سے نکلے تو وہ اپنا تخت کھو دیں گے۔
جنوب میں اسرائیلی زمینی فوج صحرائے سینا میں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ادھر مصری فوج بھی بہادر سے لڑ رہی تھی لیکن وہ اسرائیلی فوج کی طرح حاضر دماغی میں تربیت یافتہ، لچک دار اور پھرتیلے نہیں تھے۔
قاہرہ میں فوج کے صدر دفتر میں کمانڈرز گھبراہٹ کا شکار ہو رہے تھے۔ جنرل صلاح الدین ہدیدی مان چکے تھے جنگ آدھی ہاری جا چکی ہے اور یہ مصر کے لیے بدترین شکست تھی۔
لیکن باہر سڑکوں پر لوگ جشن منا رہے تھے۔ حکمران جماعت کی جانب سے فراہم کی گئی بسوں پر لوگ شہر میں آ رہے تھے۔ وائس آف عرب خبروں اور سچ کا ایک قابلِ بھروسہ ذریعہ تھا اور وہ سراب پھیلا رہا تھا۔
رات آٹھ بج کر 17 منٹ پر وہ یہ خبر دے رہا تھا کہ 86 اسرائیلی طیارے مار گرائے گئے اور مصر ٹینک اسرائیل میں گھس گئے ہیں۔ صحرائے سینا میں موجود جنرل محمد عبدالغنی بڑھتی ہوئی دہشت کے ساتھ یہ خبر سن رہے تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ سب بکواس ہے۔
برسوں بعد میں نے احمد سے پوچھا کہ انھوں نے آن ائر جھوٹ کیوں بولا۔ انھوں نے اپنا دفاع کیا: ’آپ لوگوں سے لڑنے کے لیے کہہ
رہے ہیں رقص کرنے کے لیے نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ نشریات ہمارا سب سے طاقتور ہتھیار تھیں۔ ہمارے کئی سامع ان پڑھ تھے اس لیے ریڈیو ان تک رسائی کا سب سے اہم ذریعہ تھا۔‘
1967 میں جب شکست کی درست خبر سامنے آئی ناصر اور عامر اپنے مسکن میں لوٹ آئے۔ انور سادات نے بحیثیت صدر اسرائیل کے ساتھ تاریخی امن معاہدہ کیا جس کے بعد انھیں انہی کے محافظ نے قتل کر دیا۔
ایک نیا منظر نامہ
پانچ دنوں میں اسرائیل نے مصر، اردن اور شام کی فوجوں کو اکھاڑ پھینکا۔ اس نے مصر سے غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا، شام سے گولان کی پہاڑیوں اور اردن سے مغربی پٹی اور مشرقی یروشلم کے علاقے چھین لیے۔
دو ہزار سال میں پہلی مرتبہ یہودیوں کے مقدس مقام یروشلم پر یہودیوں کا قبضہ ہوا۔ جس کے بعد مزید فلسطینی بے دخل، فرار اور قتل ہوئے تاہم یہ 1948 کے پیمانے پر نہیں ہوا۔
ناصر نے استعفی دے دیا تاہم لاکھوں لوگوں کے احتجاج کے بعد انھیں یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس کے بعد وہ اپنی وفات تک 1970 تک اپنے عہدے پر قائم رہے۔ فیلڈ مارشل عامر کی موت پراسرار حالات میں ہوئی۔ ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ انھیں زہر دیا گیا۔
اردن کے شاہ حسین نے مشرقی یروشلم کھو دیا لیکن ان کا تحت باقی رہا۔ انھوں نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات جاری رکھے اور دونوں ممالک میں سنہ 1994 میں امن قائم ہوا۔
شام میں فضائی فوج کے کمانڈر نے 1970 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا ان کا نام حفیظ الاسد تھا اور سنہ 2000 میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے بشارالاسد ان کے جانشین بنے۔
اسرائیل میں وزیرِ اعظم ایشکول سنہ 1969 میں دل کا دورے پڑنے سے وفات پا گئے۔ ان کی بیوہ مریم کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کی شام وزراتِ دفاع سے جبراً نکالے جانے کے صدمے سے کبھی نکل ہی نہیں پائے۔
ایشکول کے جانشین گولڈا میئر کو سنہ 1973 میں خبردار کیا گیا کہ شام اور مصر ایک اچانک حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اسرائیلی اب تک سنہ 1967 میں مخالفین کو دی گئی شکست کے گھمنڈ کے زیرِ اثر تھے۔
اس جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کی کافی مدد کی۔ 1967 کے بعد امریکیوں نے اسرائیل کو ایک نئی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا۔ انھیں نوجوان سبراس سے محبت ہو گئی جنھوں نے تین عرب فوجوں کو شکست دی۔
اسرائیل اور فلسطین پر سنہ 1967 کی جنگ کے اثرات مرتب ہوئے اور اسرائیل نے فلسطینی سرزمین پر قبضہ شروع کر دیا جو آج نصف صدی کے بعد بھی جاری ہے۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کو ریاست میں ضم کر دیا جسے عالمی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔
جنگ کے ختم ہوتے ہی اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریئن نے فتح کی دلفریب اور پرکشش چمک دھمک سے متعلق خبردار کیا۔ ایک تھنک ٹینک سے خطاب میں انھوں نے کہا ’ان خطوں میں رہنا یہودی ریاست کو بگاڑ دے گا یا شاید اسے تباہ کر دے۔ اسرائیل کو یروشلم کو پاس رکھتے ہوئے باقی علاقے عربوں کو لوٹا دینے چاہییں۔ چاہے یہ امن معاہدے کے تحت کریں یا اس کے بغیر ہی۔‘
نقشے پر اسرائیلی ریاست کا گولان سے سوئز تک پھیلاؤ اور دریائے اردن کی لمبائی دیکھ کر اسرائیلی وزیرِ خارجہ ابا ایبان اسے امن کی ضمانت کے بجائے جنگ کے دعوت نامے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔
لیکن اسرائیل میں کسی بھی احتیاط کو مکمل رد کر دیا گیا کیونکہ ان کی فوج نے عربوں سے نمٹا تھا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے یہودیوں کا کہنا تھا کہ یہ فتح ایک معجزہ تھی اور خدا نے انھیں عطا کی ہے۔
یہودی (مبلغ) ربی زوی یہودہ کوک نے پوراٹ سمیت کئی آبادکاروں کو قائل کیا۔ کوک ایک صیہونی رہنما تھے اور انھوں نے لوگوں کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خدا کا دیا ہوا کام کیا۔
ان کے بقول ’اسرائیلی دفاعی افواج مقدس ہیں۔ وہ خدا کی زمین پر اس کے بندوں کی حکومت کے ترجمان ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ خدا کی طرف سے یہودیوں کو تحفے میں دی جانے والے زمین کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔
لیکن ان کی مشکل یہ تھی کہ فلسطینی اسے اپنی زمین قرار دیتے ہیں اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
جنگ کے ایک ماہ بعد ہی امریکی صدر جانسن کے مشرقِ وسطی کے لیے مشیر باب اینڈرسن نے خبردار کیا کہ یروشلم کی عربوں کے لیے ایک خاص اہمیت ہے۔
بعض اسرائیلوں کا خیال تھا کے بعض خطوں کو امن معادہدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن مشرقی یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا بلکہ مغربی پٹی سے اس میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
اگست میں خرطوم میں ہونے والے اجلاس میں عرب ریاستیں ایک ایسے ملک کو عزت دینے کے حق میں نہیں تھیں جس نے ان کی تذلیل کی۔ عرب رہنماؤں کا کہنا تھا اسرائیل کے ساتھ کوئی مذاکرات، کوئی امن معاہدہ نہیں ہوگا۔
سنہ 1967 کی شکست فلسطینی نیشنل موومنٹ کے آغاز کا باعث بنی۔ اس سے پہلے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن ناصر کی کٹھ پتلی کے طور پر کام
کر رہی تھی جس کے ذریعے درحقیقت فلسطینیوں کو استعمال کیا جا رہا تھا نا کہ ان کی آزادی کی جنگ میں مدد کی جاتی۔
1967 کے بعد یاسر عرفات اور ان کی جماعت الفتح نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ 1968 میں تین ماہ کے دوران درجنوں حملوں کے بعد اسرائیل نے اردن کے کیمپ میں واقع تنظیم کے صدر دفتر پر حملہ کیا۔
انھیں غیر متوقع طور پر فلسطینی گوریلوں اور اردن کے اسلحے کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر کار اسرائیل نے کرامہ کو تباہ کر دیا تاہم کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر جاری رہنے والے اس لڑائی میں ان کے 30 جوان مارے گئے۔
اس لڑائی میں الفتح کے 100 جنگجو ہلاک ہوئے اور انھیں قومی ہیرو قرار دیا گیا۔ یاسر عرفات قریب المرگ فلسطینی لبریشن آرگینائزیشن کے سربراہ بنے۔ جہاں فلسطینی لبریشن کی پہچان اور بین الاقوامی شخیصت بن گئے وہیں وہ اسرائیلیوں کے لیے دنیا کے بدترین دہشت گرد قرار پائے۔
پائیدار میراث
سنہ 1967 کی جنگ نے اسرائیل کو قابض بنا دیا جو باقی ہر چیز سے زیادہ معنی رکھتا ہے۔ یہ اسرائیل اور فلسطین دونوں کے لیے ایک تباہی کا باعث تھا۔ اسرائیل نے بین الاقومی قوانین سے سرکشی کرتے ہوئے یہودی بستیاں تعمیر کیں۔ قوانین کے مطابق قبضہ کرنے والے مقبوضہ اراضی پر اپنے لوگوں کو آباد نہیں کر سکتے لیکن اسرائیل اسے مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔
ابا ایبان نے پیش گوئی کی تھی کہ فلسطینی ’آزادی، تفاخر، عزت اور پرچم‘ کا ذائقہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
فوجی قبضے کا مطلب جبر ہے۔ قبضہ تشدد کی فضا قائم کرتا ہے جس کی وجہ سے انسانی جانیں سستی ہو جاتی ہیں اور مقبوضہ علاقوں کے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے اور جو لوگ اس کے خلاف لڑتے ہیں ان پر طاقت کا استعمال کیا جاتاہے۔
سنہ 1967 کی جنگ کے بعد کے حالات کو سدھارنے کے لیے 90 کی دہائی میں مذاکرات شروع ہوئے۔ سنہ 1993 میں امریکی صدر کلنٹن کی میزبانی میں اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم یِتزک ریبن نے اپنے پرانے دشمن یاسر عرفات سے ہاتھ ملایا۔
امن عمل میں دونوں جانب سے کمیاں دیکھنے میں آئیں۔ انتہائی دائیں بازوں کے اسرائیلیوں نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے ان کے اس پورے خطہِ زمین پر حکومت کے خواب کو دھچکا لگا جو خدا نے انہیں دی تھی۔
سنہ 1995 میں ایک انتہا پسند یہودی نے وزیرِ اعظم ریبن کو تل ابیب میں قتل کر دیا۔ ان کا قاتل اتنا خوش تھا کہ اس نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا جو یہودیوں کے لیے خطرہ تھا۔
ریبن اسرائیلیوں کے لیے بہت اہم تھے، وہ اپنے تحفظ کے لیے ان پر بھروسہ کرتے تھے۔
امن عمل شاید ریبن کے ساتھ ناکام ہوا لیکن ایک ایسے شخص کے بغیر امن ممکن بھی نہیں تھا جس نے 1967 کی جنگ اور فلسطینیوں کے تشدد کے دوران فوجی کی قیادت کی۔
1967 کے پچاس سال گزرنے کے بعد کئی دوسرے امریکی صدور کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل میں مدد کریں گے۔
اگر ان کے خواب بات چیت میں بدلتے ہیں تو ایسے خطے کے مستقبل کا تعین ہوگا جس پر چھ دن کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا گیا۔ یہ ایک غیر معمولی انسانی ڈرامہ تھا جس میں ایک اسرائیلی نسل کو بھاری کامیابی ملی جبکہ عربوں کے بچے اور ان کے بچے اس جنگ کے باعث بننے والے دنیا میں امن سے نہیں رہ پائے۔
ایک مقدس زمین جس کادل یروشلم (بیت المقدس) ہے جہاں مذاہب، تہذیبوں اور قومیتوں کی ٹیکٹونک پلیٹس یکجا ہوتی ہیں۔ ان کے درمیان گزرنے والی فالٹ لائن کبھی خاموش نہیں رہتی، یہ ہمیشہ خطرناک رہتی ہے۔ سنہ 1967 کی میراث سے جان چھڑانا آسان نہیں ہے۔