اتوار، 7 اکتوبر، 2018

ڈپریشن کی پہچان



ڈپریشن کی پہچان 
تحریر : محمد اقبال
ہم اداس ہوتے ہیں، شکست خوردہ محسوس کرتے ہیں، مختلف امور میں دلچسپی لینا چھوڑ دیتے ہیں اور روزمرہ سرگرمیوں سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔ لیکن عموماً یہ عارضی ہوتا ہے۔ اگر یہ علامات زیادہ عرصہ جاری رہیں تو ہو سکتا ہے کہ (شدید) ڈپریشن ہو۔

ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو مریض کو درد و کرب میں مبتلا کرتی ہے۔ اس سے مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی گویا جہنم بن گئی ہے۔ وہ زندگی کے حسن اور رنگینیوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔

 عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ دنیا کی سب سے عام بیماری ہے اور لوگوں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ادارے کے اندازے کے مطابق دنیا میں 35 کروڑ افراد اس کا شکار ہیں۔ اس بیماری کے پیدا ہونے کی دو وجوہات ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک بھی ہو سکتی ہیں۔ ایک ماحول اور دوسرا جسم یا دماغ میں کیمیائی تبدیلیاں۔ اس بیماری کا علاج تھراپی سے بھی ہوتا ہے اور ادویات سے بھی۔ ان دونوں طریقوں کو اکٹھا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مرض کا شکار فرد سست رہتا ہے۔ وہ کام نہیں کرنا چاہتا ہے۔ وہ بہانے بازی کرتا ہے۔ دراصل اس سے ایسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس میں کام کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ مریض چاہتے ہوئے بھی کام میں دلچسپی نہیں لے پاتا۔ اس لئے اسے دوش دینا اور اس پر تلخ و ہتک آمیز فقرے کسنا زیادتی ہے،گھر کا کوئی فرد جو چند ہفتے یا چند ماہ قبل ٹھیک طرح سے ہر کام انجام دے رہا تھا، کام کرنے سے انکار کرنے لگے تو اسے ڈانٹنے اور کوسنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی بجائے ہمدردی اور پیار سے اس کی بات اور فریاد سننی چاہی، اسے توجہ دینی چاہیے۔ اگر اس کی یہ کیفیت قدرے طویل ہو تو اسے کسی ماہر معالج کے پاس لے کر جانا چاہیے۔ کچھ لوگ ایسے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات کو قابو میں رکھیں، اس طرح وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن شدید ڈپریشن کی صورت میں اکثر یہ ممکن نہیں ہوتا۔ جس طرح بخار کو محض سوچ سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اسی طرح شدید ذہنی امراض کو مرضی سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

ڈپریشن میں بہت سے خیالات کو انسان اپنے ذہن سے نہیں نکال پاتا۔ اسے بہتری اور بحالی کے لیے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا دل مضطرب ہوتا ہے۔ اس کے خیالات میں تسلسل باقی نہیں رہتا اورکیفیت میں تبدیلیاں بھی آتی رہتی ہیں۔ رشتہ داروں، عزیز و اقارب کو سمجھ لینا چاہئے کہ اسے مدد اور سہارے کے علاوہ معالج کے مشورہ اور ادویات کی ضرورت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈپریشن کے لئے دوائیاں استعمال کرنے کے بعد مریض ان کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن اچھے ماہر اول تو ایسی ادویات سے پرہیز کرتے ہیں دوم علاج اس انداز سے کرتے ہیں کہ مریض ادویات کا عادی نہ ہو۔ نیز صرف ادویات کی نہیں بالکل بیرونی ماحول کو بدلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام خاندان کے افراد، دوست اور اردگرد کے دوسرے افراد کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کی حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ ادویات کے استعمال کے سوا چارہ نہیں رہتا۔

اِن دوائیوں کے استعمال سے دماغ میں کیمیائی عمل شروع ہونے سے مریض کی زندگی میں خوشی واپس لوٹنے لگتی ہے اور وہ پھر سے روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔ اس بیماری میں موروثی، نفسیاتی، ذہنی، سماجی اور تمدنی عوامل شامل ہیں۔ مریض کے نزدیکی رشتہ داروں کو چاہئے کہ نفسیاتی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے میں اس کی ہر ممکن مدد کریں تاکہ وہ حالات کا مقابلہ کر سکے۔

ہفتہ، 6 اکتوبر، 2018

جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ کتنا مستند ہے ؟ تحریر :گیرتھ ایونز



جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ کتنا مستند ہے ؟
تحریر  :گیرتھ ایونز
_______________
امریکہ کی کیپیٹل ہل کی عمارت کے ایک کمرے میں سینیٹرز ایف بی آئی کی رپورٹ پڑھ رہے ہیں جو کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج کے لیے نامزد بریٹ کیونو کی مبینہ جنسی ہراس کے حوالے سے ہے۔

اس رپورٹ کے مواد کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا اور تنقید کی جا رہی ہے کہ اس تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا جائے۔
ان تحقیقات کے دوران بریٹ پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ پولی گراف ٹیسٹ یعنی جھوٹ پکڑنے کے امتحان سے گزریں۔ جنسی ہراس کا الزام لگانے والی خواتین میں سے ایک کرسٹین بلیسی فورڈ نے پولی گراف دیا اور سرخرو ہوئیں۔
لیکن پولی گراف ٹیسٹ کتنے صحیح ہوتے ہیں اور یہ ٹیسٹ کیسے کیے جاتے ہیں؟

پولی گراف ٹیسٹ کیا ہے؟

مختصراََ پولی گراف ٹیسٹ کسی سوال کے جواب میں مختلف جسمانی حرکات کو ریکارڈ کرتا ہے جن کو بعد میں تجزیے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ آیا کوئی سچ بول رہے تھا یا جھوٹ۔
پولی گراف ٹیسٹ میں عمومی طور پر بلڈ پریشر، سانس لینے میں تبدیلی یا ہتھیلیوں پر پسینے کو ریکارڈ کرتا ہے۔

ڈاکٹر سوفی کا کہنا ہے انسانوں میں یہ تو ہوتا نہیں کہ کوئی جھوٹ بولے تو پینوکیو کی طرح اس کا ناک لمبا ہوتا جائے۔ لیکن جھوٹ بولنے سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔۔۔ جھوٹ پکڑنے کی تکنیک سے انسانی نفسیاتی اور برتاؤ میں تبدیلیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا پولی گراف ٹیسٹ فریب یا جھوٹ کو براہ راست نہیں پکڑتا بلکہ وہ اشارے ریکارڈ کرتا ہے جو اس طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔
ٹیسٹ سے لی گئی معلومات کو پھر اس شخص کے حوالے سے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ٹیسٹ کیسے کیے جاتے ہیں؟

پولی گراف ٹیسٹ دنیا بھر میں استعمال کیے جاتے ہیں لیکن اس کی ٹیکنالوجی اور عمل کم و بیش ایک جیسا ہی ہے۔

پروفیسر ڈون گربن کا کہنا ہے اس ٹیسٹ سے قبل ایک انٹرویو میں کیا جاتا ہے جو تقریباً ایک گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اس انٹرویو میں جس کا ٹیسٹ کیا جانا ہوتا ہے اس کی توجہ ان سوالات پر مرکوز کرائی جاتی ہے جو اس سے پوچھنے جانے ہوتے ہیں۔

اس کے بعد ایک پریکٹس ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں سیدھے سوال کیے جاتے ہیں۔ اس ٹیسٹ کا مقصد اس شخص کو ذہنی سکون دینا ہوتا ہو تاکہ وہ سمجھ سکے کہ یہ ٹیسٹ کیسے کیا جائے گا۔
تمام سوالات پر اتفاق کیا جاتا ہے اور پولی گراف ٹیسٹ کے سامان کو نصب کیا جاتا ہے۔

پروفیسر گربن کا کہنا ہے ٹیسٹ میں کوئی حیران کن سوال نہیں پوچھا کیونکہ ایسا سوال ہی کسی بھی شخص کا بلڈ پریشر وغیرہ تبدیل کر سکتا ہے۔ جو سوال پوچھے ہوتے ہیں وہ اس شخص کو معلوم ہوتے ہیں۔

مشین کا سازوسامان لگایا جاتا ہے جیسے بلڈ پریشر معلوم کرنے کا آلہ، انگلیوں یا ہتھیلیوں پر الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں اور سینے اور پیٹ پر دو ٹیوبز لگائی جاتی ہیں۔

پروفیسر گربن کہتے ہیں کبھی انگلی پر آلہ لگایا جاتا ہے تاکہ خون کے بہاؤ کو معلوم کیا جا سکے اور کبھی کبھار کرسی پر حرکت کی نشاندہی کرنے والا آلہ لگایا جاتا ہے تاکہ اگر آپ کوئی جواب دیتے ہوئے معمولی سی بھی حرکت کرتے ہیں تو وہ معلوم ہو سکے۔

ان کا مزید کہنا ہے یہ آلات شاید 10 سے 15 منٹ تک لگائے جائیں لیکن آپ کمرے میں کم از کم دو گھنٹے تک رہتے ہیں۔

ٹیسٹ کے دوران اس شخص سے سوالات پوچھے جاتے ہیں اور پھر اہم سوالات کے وقت اس شخص کے بلڈ پریشر دیگر چیزوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ ٹیسٹ کا اختتام ٹیسٹ کے بعد ایک اور انٹرویو سے کیا جاتا ہے جس میں وہ شخص ٹیسٹ کے دوران اپنے ردعمل کی وضاحت پیش کر سکتا ہے۔

کیا آپ دھوکہ دے سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق، جی ہاں۔
پروفیسر گربن کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ پولی گراف ٹیسٹ کو ہرا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو ٹریننگ حاصل کرنا پڑے گی۔
آپ کو ایسی ویب سائٹس ملیں گی جو آپ کو بتائیں گی کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ جا کر پولی گراف ٹیسٹ دیں گے اور اسے ہرا دیں گے تو ایسا نہیں ہونے والا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے آرام سے بیٹھ کر ماہر ممتحن کے ساتھ مسلسل پریکٹس کی ضرورت ہے۔

لیکن جن کے پاس قابل سوال کرنے والا نہیں، ان کے لیے کون سا طریقۂ کار ہوگا؟ پروفیسر گربن کا کہنا ہے کہ آپ کو جوتے میں کیل رکھنا پڑ سکتا ہے، جس سے مثال کے طور پر اعضا میں کوئی سرگرمی یا حرکت پیدا ہو کیونکہ آپ کو سیدھا بیٹھنا ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی بہت سی ادویات ہیں جو لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوتیں۔تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ زیادہ تر ممتحن اس ٹیسٹ سے بچنے کی کسی بھی کوشش کو پکڑ لیتے ہیں۔

تو کیا یہ کام کرتا ہے؟

پولی گراف ٹیسٹ پر اس کے سنہ 1921 میں ایجاد ہوتے ہی سوالات اٹھنے لگے تھے اور اس کے نتایج کی صداقت پر اب بھی بحث ہوتی ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی خیال ہی غلط ہے۔

پروفیسر ایلڈرٹ وریج کا جو اس موضوع پر کھل کے لکھ چکے ہیں کہنا ہے کہ 146یہ فریب کا اندازہ لگاتا ہی نہیں جو اس کا بنیادی مسئلہ ہے۔ خیال یہ ہے کہ یہ ٹیسٹ اہم سوالات کے جوابات کے دوران جھوٹ بولنے والوں میں بےچینی کو دکھاتا ہے، جبکہ سچ بولنے والوں میں نہیں۔
لیکن اس کے جواب میں کوئی ٹھوس منطق نہیں ہے۔

ڈاکٹر وین ڈر زی کہتی ہیں کہ جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ چونکہ کافی پریشان کن تجربہ ہے، تو اکثر معصوم لوگ بھی مجرم دکھائی دیتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جن لوگوں کے پولی گراف کے ذریعے ٹیسٹ ہوتے ہیں وہ کافی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا جہاں پولی گراف جھوٹ کی شناخت کرنے میں بہت اچھا ہے وہیں سچ کی شناخت کرنے میں یہ اتنا ہی اچھا نہیں۔

تاہم پروفیسر گربن کا کہنا ہے کہ بہت سی ایسی مختلف وجوہات ہیں کہ کیوں یہ ٹیسٹ غلط ہو سکتا ہے۔ ان وجوہات میں وہ سوالات شامل ہیں جنھیں انتہائی برے طریقے سے تشکیل دیا گیا ہے اور انٹرویو کرنے والے نتائج کو غلط طریقے سے دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ممتحن تربیت یافتہ ہو، اگر ٹیسٹ صحیح طریقے سے کیا گیا ہو، اور اگر مناسب کولٹی کنٹرول ہو، تو یہ ٹیسٹ کے 80 سے 90 فیصد کے درمیان صحیح ہو سکتا ہے۔

تاہم ان کے مطابق متاثرین کا انٹرویو کرنے سے الگ مسائل سامنے آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ متاثرین کا ٹیسٹ بالکل ہی الگ چیز ہے کیونکہ جو کچھ ان سے پوچھا جاتا ہے، آپ ویسے ہی بےچینی کی امید کر سکتے ہیں۔ اس مطلب ہے کہ متاثرہ فرد، خاص طور وہ جو صدمے سے گزرا ہو، ہو سکتا ہے جھوٹ بولتا دکھائی دے کیونکہ اس میں کافی حد تک جذبات شامل ہوں گے۔

جمعہ، 5 اکتوبر، 2018

عقل کی حدود اور کانٹ کی فکر پر ایک سوال




جرمن فلاسفر کانٹ کو ماڈرن فلسفہ کا مرکزی کردار سمجھا جاتاہے۔ کانٹ کی سب سے مشہور کتاب تنقیدِ عقل ِ محض ہے۔ عقل ِ محض پر تنقید کرنے سے پہلے کانٹ نہایت سلیقے سے انسانی عقل کی حدود، ساخت اور اس کے طرز ِ عمل کا مشاہدہ کرتاہے۔

اسی مشاہدہ کے دوران کانٹ کچھ نئی اصطلاحات متعارف کرواتاہے۔ جو اب خاصی مشہور ہیں۔ جیسا کہ اے پری آری ۔۔۔۔ اے پوسٹیری آری۔۔۔۔ یا نامینا اور فِنامِنا وغیرہ۔ عقل کے بارے میں کانٹ کی نہایت محنت سے کی گئی اس منظر کاری کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد کانٹ کی بات سمجھ میں آتی ہے۔ مثال کے طور پر کانٹ کے مطابق چیزوں کی دو قسمیں ہیں،
ایک ) ۔ جیسی وہ سچ مچ ہیں نامینا)
دو) ۔ جیسا ہم اُن کا مشاہدہ کرتے ہیں، یا جیسی ہمیں نظر آتی ہیں فِنامِنا)
مثال کے طور ہم ایک دیوار کو دیکھ رہے ہیں جس کا رنگ ڈارک گرین ہے۔ ہم نے دیوار کا مشاہدہ کیا اور ہمیں معلوم ہوا کہ اس کا رنگ ڈارک گرین ہے اور یہ ایک دیوار ہے۔ یہ ہے فنامنا۔

لیکن کیا وہ دیوار فی الاصل بھی ڈارک گرین کلر کی شئے ہے؟۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں سب کے سب رنگ روشنی کی شعاع کے ریفلیکشن کی وجہ سے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہماری جگہ کوئی اور جانور اسی دیوار کا مشاہدہ کرتے ہوئے ضروری نہیں کہ ڈارک گرین کلر ہی دیکھے۔

وہ سرخ دیوار دیکھ سکتاہے۔ یہ اس کے مشاہدےپر منحصر ہے۔ جو وہ اپنی دماغ کی ساخت اور عقل کے استعمال کی وجہ سے کرپاتاہے۔ فلہذا اگر دیوار ڈارک گرین نہیں ہے تو وہ کیا ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ وہ اصل میں کیا ہے؟ ۔۔۔۔یہ نامنا ہوگا۔ کانٹ کہتاہے کہ نامنا ہمیشہ ناقابل ِ مشاہدہ رہیگا۔
اسی طرح کانٹ کہتاہے کہ علم کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
ایک ۔ اے پری آری
دو۔ اے پوسٹیری آری
اے پری آری علم وہ ہے جس کا مکمل مشاہدہ کرنا ناممکن ہے۔ جبکہ اے پوسٹیری آری علم وہ ہے جس کا مشاہدہ کیا جاسکتاہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کہے،
تمام غیر شادہ شدہ لوگ کنوارے ہیں ۔۔۔۔۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم زمین پر موجود تمام غیر شادی شدہ لوگوں کے پاس جائیں اورپھر انہیں ٹیسٹ کریں کہ آیا وہ سچ مچ کنوارے ہیں؟ اور اگر کسی طرح ہم نے سب کے سب تک رسائی حاصل کربھی لی تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ جو جواب دینگے وہ سچ ہوگا؟
اگر ایک شخص کنوارا نہ ہوا اور اُس نے کہہ دیا کہ وہ کنوارا ہے تو ہمارے پاس کیا ٹُول ہوگاکہ ہم اس کی بات کی تصدیق کرسکیں؟ چنانچہ ایسا کوئی بھی علم جس کا مکمل مشاہدہ ناممکن ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اے پری آری اور اِس لیے ناقابل ِ تصدیق ہوتاہے۔ جبکہ 147اے پوسٹیری آری148 کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ:
کچھ شادی شدہ لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
تو ہم بڑی آسانی سے اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ کچھ شادی شدہ لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کرتے ہی ہمیں اس کی تصدیق یا تردید ہوجائے گی۔ چنانچہ ایسا علم جو قابل ِ تصدیق و مشاہدہ ہوتاہے اور جسے کانٹ اے پوسٹیری آری نالج کہتاہے ۔۔۔۔ انسانی عقل کی تسکین کا باعث ہوتاہے کہ وہ اُن جوابات کی تصدیق کا اہل ہے جو کسی عقل کے پاس کسی قسم کے سوالوں کے لیے موجود ہیں۔
کانٹ بڑا زوردار فلاسفر ہے اور بڑے دماغوں کو اپنی مات منوانا جانتاہے۔ تاہم حقیقی مسئلہ جو کانٹ کے نامنا اور فنامنا سے پیدا ہوتاہے وہ یہ کہ:

اگر یہ بات بلااختلاف درست ہے کہ ہم فنامنا کا مشاہدہ کرنے کے اہل ہیں اور نامنا کا مشاہدہ کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں تو منطقی اعتبار سے کس طرح ممکن ہے کہ کانٹ جیسا دعویٰ قائم کیا جاسکے اور نامنا کے وجود کو فرض کیا جائے؟مختصر الفاظ میں،

ایک پیدائشی اندھا کیسےجانتاہے کہ وہ اندھا ہے

فی الاصل وہ لوگ جو نابینا نہیں ہوتے اُسے بتاتے ہیں کہ وہ نابیناہے۔فلہذا نامنا ایک بامعنی چیز کیسے ہوسکتاہے جب اس کا مشاہدہ ہی ممکن نہیں؟ فرض کریں کہ ہم سب اندھے ہیں تو پھر ہمیں کون بتائے گا کہ ہم اندھے ہیں؟ اور اس نامنا کا ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ باہر ایک دیکھے جاسکنے کے قابل دنیا بھی ہے؟
اس سوال کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ ہم سائے کو دیکھ رہے ہوں تو ہمارے دماغ کو علم ہوتاہے کہ یہ کسی نہ کسی روشنی کی وجہ سے ہے۔ روشنی کے رستے میں کوئی چیزآئی ہے جس سے سایہ بن رہا ہے۔ حالانکہ ہم روشنی کو دیکھ نہیں سکتے۔ ہم صرف سائے کو دیکھ سکتے ہیں۔

ہم فنامنا دیکھ کر ایک نامنا کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ وہ جو کہ روشنی ہے۔چنانچہ نامنا تجربے سے نہیں عقل کے خودکار استخراجی عمل سے نمودار ہوتاہے۔عقل سے سرزد ہونے والے اس استخراج کو قیاس بھی کہا جاتاہے۔لیکن اس جواب پر بھی بہت سے اعتراضات وارد ہوتےہیں، جیسا کہ یہ کہ، قیاس کیا ہے؟قیاس محض ایک اندازہ ہے جو پھر قابل ِ مشاہدہ نہیں۔

کانٹ کہتاہے سوچیں بغیر مواد کے خالی ہیں۔ وجدان بغیر تصور کے اندھا

بدھ، 3 اکتوبر، 2018

دیوارِ سندھ - رنی کوٹ : دنیا کا سب سے بڑا قلعہ



دیوارِ سندھ
رنی کوٹ: دنیا کا سب سے بڑا قلعہ

قلعہ رنی کوٹ، جسے 'دیوارِ سندھ' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا قلعہ سمجھا جاتا ہے، مگر کس نے اسے تعمیر کیا اور مقصد کیا تھا؟ ان سوالات کے جوابات ہم سب کو چکرا دیتے ہیں۔



مصنف ازوبیل شا تحریر کرتی ہیں "قلعہ رنی کوٹ کا حجم تمام وجوہات کی تردید کرتا ہے، یہ ایسی جگہ کے درمیان ہے جہاں کچھ نہیں. پھر یہاں یہ کس چیز کے دفاع کے لیے تعمیر کیا گیا؟"
چھبیس کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا یہ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ ہے، مگر اس کے باوجود حکام یہاں سیاحت کو فروغ دینے میں ناکام رہے ہیں.




کراچی سے اس قلعے تک رسائی نہایت آسان ہے اور قومی شاہراہ کے ذریعے یہاں پہنچا جا سکتا ہے. کراچی سے نکلنے کے بعد دادو کی جانب انڈس ہائی وے پر سفر کریں۔ اس سڑک کی حالت بہترین ہے اور سندھی قوم پرست جی ایم سید کے آبائی قصبے سن تک ایک گھنٹے کا سفر ہے۔ اس قصبے سے کچھ آگے ایک دوراہا آتا ہے، ایک زنگ آلود بورڈ پر اعلان کیا گیا ہے کہ رنی کوٹ یہاں سے لگ بھگ تیس کلو میٹر دور واقع ہے۔ اگرچہ سڑک کافی خراب ہے مگر پھر بھی یہ فاصلہ تیس سے چالیس منٹ میں طے ہوجاتا ہے۔
اس سڑک سے آپ قلعے کی مشرقی سمت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور اس راستے کو "سن دروازے" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں قلعے کی دیواریں بہتر حالت میں ہیں، جبکہ دونوں اطراف سے اوپر چڑھنے سے اس جگہ کا بہترین نظارہ کیا جاسکتا ہے۔



یہاں سے میٹل روڈ کچھ پیچ و ختم کے بعد آپ کو "میری" تک لے جاتا ہے، جو قلعے کے اندر ایک چھوٹا قلعہ ہے جہاں شاہی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ یہاں سے کوئی بھی "شیرگڑھ" کو دیکھ سکتا ہے. یہ ایک اور چھوٹا قلعہ ہے جو اوپر پہاڑیوں پر موجود ہے۔



رنی کوٹ میں موہن گیٹ کو دیکھنا نہ بھولیں، اس تک پہنچنے کے لیے پہلے آپ کو میری جانا ہوگا اور وہاں سے کچھ کلومیٹر گاڑی پر سفر کرنے کے بعد ایک مشکل راستے پر چلنا پڑتا ہے۔



یہ راستہ آبی درے کی جانب لے جاتا ہے جہاں سے آپ بارش کے پانی سے بھرنے والے چشمے میں غوطہ لگا سکتے ہیں جو کہ قلعے کے اندر مقیم گبول دیہاتیوں کے لیے آبِ حیات ہے۔ تین سے چار کلومیٹر کی چہل قدمی کے بعد آپ 'پرین جو تلاؤ' (پریوں کا تالاب) تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ تالاب کئی مقامات پر کافی گہرا ہے اور اس کے ارگرد موجود پتھر کافی پھسلن زدہ ہیں لہٰذا کافی احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔




تالاب میں غوطہ لگائیں اور موہن گیٹ کی جانب بڑھ جائیں مگر اس کے لیے رہائشیوں کی گزرگاہ کے راستے پر ہی رہیں۔



چند کلومیٹر بعد آپ گیٹ تک پہنچ جاتے ہیں، یہاں برساتی چشمہ غائب ہوجاتا ہے، اور مختلف سرنگوں کے ذریعے پانی کے دیگر ذخائر سے منسلک ہے۔



دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ پانی کا بہاﺅ ہلکے زلزلے کے بعد سے بڑھ گیا ہے. افواہیں ہیں کہ جانوروں کے منتشر ڈھانچے اور زمانہ قبل از تاریخ کے فوسلز یہاں وہاں سے دریافت ہوئے ہیں۔ مقامی گائیڈ صادق گبول آپ کو اپنے دفتر میں ایسے ایک یا دو ڈھانچے دکھا سکتے ہیں۔



اب یہ اہم سوال کہ کیا اس قلعہ کی سیر کراچی والوں کے لیے محفوظ ہے؟ کیا اس علاقے میں ڈاکو موجود ہیں؟ اس کا جواب کافی پیچیدہ ہے۔



ہم نے خاندانوں کے خاندان، کراچی کے باسی، اور گورے بھی یہاں دیکھے. مقامیوں کا اصرار ہے کہ یہ جگہ محفوظ ہے مگر اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہاں پولیس کہیں نظر نہیں آتی۔



مگر مثبت پہلو یہ ہے کہ آپ یہاں ایک دن کے اندر گھوم پھر کر واپس آسکتے ہیں (مگر آپ اس دوران شیرگڑھ کی سیر نہیں کرسکیں گے)۔ وہاں جانے کے لیے علی الصبح نکلیں، دوپہر وہاں گزاریں اور سورج غروب ہونے سے قبل حیدرآباد لوٹ جائیں۔ توقع ہے کہ یہ محفوظ اور اچھا سفر ثابت ہوگا۔    فاروق سومرو  ۔

پیر، 1 اکتوبر، 2018

بلوچستان کی ساحلی پٹی سیکیورٹی پٹی تو بن سکتی ہے لیکن اقتصادی زون بننا مشکل ہے!







کیا گوادر کوئی معاشی رول ادا کرنے کے قابل ہے؟
بلوچستان کی ساحلی پٹی سیکیورٹی پٹی تو بن سکتی ہے لیکن اقتصادی زون بننا مشکل ہے

بلوچ دانشور انور ساجدی کا تجزیہ








ہفتہ، 29 ستمبر، 2018

پیر، 24 ستمبر، 2018

ارتقاء اورانقلاب ـ تحریر : دلمراد بلوچ



ارتقاء اورانقلاب 
تحریر : دلمراد بلوچ

تغیرپذیری فطرت کی اٹل قوانین کے جزو لاینفک حصہ ہے ،کا ئنات کی وسعتوں اور کرہ ارض میں لحظہ لحظہ پرانے مظاہر مرگ دیدہ ہوکر تخلیق نوکیلئے مواقع فراہم کررہے ہیں ،سیمابی صفت فطرت کے گوشوں میں یہ تغیرپذیری کہیں سطح زمین کو چیرتی ہوئی پود واشجار کی صورت میں اول نو وآخر کہن ،کہیں طوفانِ باد باران کہیںآتش فشان،اورکہیں زلزلے کی دہشت خیز صورت میں ہورہی ہے، دن رات اپنی محور اور مدار پر محوِ رقصان اس دنیا کی کروڑوں سال پہلے کیا صورت رہی ہوگی جو آج ہماری نظروں کے سامنے ہے، واقفانِ جغرافیہ اور ہیّیت دان اس بات کی ہزارہا بار تصدیق کر چکے ہیں یہ کرّہ ارض ایک ثانیے کیلئے بھی سکون اور سکوت کا متحمل نہیں ہوسکتا ،یا یہ کہ جمود فطرت کی قوانین میں شامل ہی نہیں ،کیا زمین ،کیا آسمان ،کیا جاندار کیا بے جان ،سب ارتقاء کی سرُ سے تال ملائے جیون کی راگ گائے اپنی انتہا وُ منتہا کی جانب بڑھ رہے ہیں ،قومیں بھی اس طرح فطرت کی بُنے گئے تانے بانوں میں اپنی ارتقاء کے منزلیں طے کر رہے ہیں ،وہ خطے جو صدیوں تک آدم زاد کی دید کیلئے ترسے ،آج انسانیت کیلئے محبوب گہوارہ بن چکے ہیں اور وہ خطے جہاں تہذیب وتمدن نے آنکھ کھولی ،پرورش پائی ،آج دست برُدِ زمانہ کی وجہ سے طاقِ نسیان کے حوالے ہوچکے ہیں ،کرّہ ارض میں تغیروتبّدل کے تناظر میں قوموں کی زندگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جب تمام مظاہرِ کائنات کہن ونو اور تغیرو تبدل کے مراحل سے گزر رہے ہیں تو قومیں کیونکراس سے مبّرا ہوسکتی ہیں ،ماہرینِ عمرانیات بتاتے ہیں قوموں کی جملہ تاریخ انہی ارتقائی مراحل کے نشیب وفراز کوطے کر کے موجودہ صورت میں وقت کے بہاؤ میں بہہ رہا ہے ،الف ننگ دھڑنگ آدم زاد سے لیکر آج کی ترقی کی معراج کو چھونے والا انسان انہی جانکاہ اور مشکل و کٹھن راستوں سے گزر کر ظہور پذیر ہوا ہے ۔

پوری انسانیات سے یکسر کٹا ہوا اور اخفاء کے دبیز پردوں تلے دبی سرزمینِ امریکہ چیف سیٹل سے اوبامہ تک مختلف النوع اور کثیرالجہت سفر طے کرکے آج یک قطبی uni.polarدنیا کی کانٹوں بھری سہی پر تاج کا مالک ہے ۔۔۔۔۔روسی زار کے گندہ اور ظالمانہ حدتک سرمایہ داریت کے دو بھاری پاٹوں میں پسے روسی مزدوروں نے فطری بہاؤ کی روشنی میں اپنی قوت کو پہچان کر نہ صرف اپنے ملک میں حیرت انگیز انقلاب برپاء کردیا ،بلکہ سوشلزم کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے سوشلسٹ سماجوں کو قیادت کرنے کیلئے ماسکو اور کریملن کو قبلہ و کعبہ بنا دیا۔۔۔۔ ۔لاکھوں کی تعداد یورپی اور امریکی مارکیٹوں میں بردہ فروشوں کے ہاتھوں معمولی قیمت پر بکنے والے افریقی قوموں نے انسانی برادری میں نمایاں مقام حاصل کی ۔۔۔۔۔ انڈومان نکوبار کی سی زندگی بتانے والے انڈین سماج ،برطانوی نوآبادیت کیلئے زرخیز بن کر بھی اس کی تحکمانہ بادشاہت کو قے کرکے اپنی گنگا جمنی کوکھ سے ایسی نظام کو جنم دینے میں کامیاب ہوگیا کہ انسانی تہذیبوں کے سمندر ہندوستان اب ویشیا اور کسبیوں کا ٹھکانہ اور وسطیٰ ایشیا و یورپ سے آئے ہوئے فاتحوں کی مفتوحہ اور باج گزار نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا لقب پاچکا ہے ۔۔۔۔۔دن رات افیم کے نشے میں پینک ماؤ کے چینی اب یک قطبی دنیا کے سپر طاقت کو آنکھیں بھی دکھاتا ہے اور دنیا پر راج کے نئے خواب بھی بُن رہا ہے ۔۔۔۔ایٹمی حملوں کے زخم سہنے والے پستہ قد جاپانیوں کا میڈان جاپان پوری دنیا کے اعتماد وبھروسے کا مالک ہے۔۔۔۔ریگستانِ عرب میں پانی کے دو بوند کو ترسے بدوآج دودھ میں نہا رہا ہے اور تیل میں بھی ،ریگستانِ عرب میں مختلف پھول کھلے ،مرجھا گئے ،بلکہ نئے ظہور بھی ہورہی ہے ۔۔۔۔ یورپ کے مکروہ کلیسا اور بادشاہ کی استحصالی گھن چکر ،اب تاریخ کے جھروکوں میں مشاہدے کے کام ہی آسکتے ہیں جبکہ یہ معاشرے تہذیب و تمدن کے سلسلے میں انسانی تاریخ کے دامن کو نئی پھولوں سے بھر رہے ہیں ،پنڈت ،شودر ،کھشتری ،اولوالامر اور آسمانی القاب سے مزّین شخصیات کی فرق مٹتا جارہا ہے ۔۔۔۔انسان روزافزوں برابری کی جانب بڑھ رہا ہے۔۔۔۔ ہٹو بچو کی صداؤں کے بجائے بُش اپنی دستی بیگ سنبھالے قصرِ صدارت کے پچھلے دروازے سے نکل کر سوئے گمنامی چلاجاتا ہے ۔۔۔۔آسمانی فرامین کی جگہ زمینی حقائق قوموں کی زندگی کے محور بنتے جارہے ہیں۔۔۔۔ معروض، موضوع کا گلا گھونٹ چکا ہے ،درجہ بالا یہ سب باتیں نہ خیالی ہیں اور نہ ہی آسمانوں کی وسعتوں میں کوئی غیبی قوت اِن کو ممکن بناکر زمین زادوں پر نازل فرمادیتی ہیں ۔۔۔۔یہ قوموں کی رہبروں کو الہام ہوئیں اور نہ ہی آسمانی مخلوقات نے گائے بہ گاہے ان کی مدد کی تھی ،کھلی حقیقت تو یہ ہے کہ سب مظاہر قوموں کی زندگی میں ارتقاء اور تغیر پذیری کی دین ہیں ،تبدیلی کے مراحل سے گزر کر اپنی وجود اور بقاء کی تحفظ میں وہ قومیں کامیاب و کامران ہوگئیں جنہوں نے اپنی اور آئندہ نسلوں کی بہتر مستقبل کیلئے غیروں کے عالیشان معبدوں میں جبین سائی کے بجائے اپنی جوہر کو شناس کر اور سرزمین کو آستانہ بنا کر ا س کی پاک مٹی پر بلیدان کے سلسلے چلائے تو اسی سے آزادی کے منور وتابان چندا اُبھرے ۔۔۔اسی سے خوشحالی کے کونپل پھوٹے ۔۔۔قومی گلدستہ میں وقار کے پھول کھلے اور اسی سے وہ اقتدار اعلیٰ کے مالک بنے ،مگر اس باب میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قومیں جب تبدیلی کے عمل کی دردِزِہ سے کراہ رہی تھیں تو اَناڑی داعیوں کے ہاتھ نہیں لگے بلکہ دانا و بینا رہبروں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر تبدیلی کے حمل کو کامیاب کراکر قوموں کو نئی زندگی بخشی ۔۔۔ نیا جنم دیا ۔۔۔۔نئی امکانات سے ہمکنا ر کیا ۔

قدرت کی ہزارہا صداقتوں میں سے ایک صداقت یہ بھی ہے کہ کوئی چیز بانجھ نہیں ہوتی ،ہر مظہر اپنی تسلسل کو جاری رکھ کر کسی نہ کسی طور پر اپنی نوع کو بڑھاتا رہتا ہے جبکہ کمزور اور قوتِ مدافعت سے محروم ضرور معدوم تو ہوتے ہیں مگر وہ بھی کسی نہ کسی اور صورت میں ڈھل کر ۔۔۔۔۔آج ہمیں جتنی اقوام ،انسانی برادری میں باوقار کھڑے نظر آتے ہیں یا واشنگٹن ڈی سی میں واقع قوموں کے انجمن اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر کی بلڈنگ پر اُن کی قومی پرچم ایک شانِ بے نیازی سے لہرا رہا ہے ،تو یہ اس حقیقت کی دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے تاریخ کا جبر سہا ۔۔۔۔۔استحصالی قوتوں کے بھینٹ چڑھے ۔۔۔۔۔جنگوں میں اپنی نسلیں جھونکتے رہے ۔۔۔۔۔سرمایہ داریت اور قبضہ گیریت کے دوزخ کی بھٹی میں جلتے رہے۔۔۔۔۔بالادست قوتوں کے زیرنگوں ہوکر بھی سرنگوں ہونے سے منکر رہے ۔۔۔۔عالمی کارپوریٹ، ساہوکاروں کی ہامانی اور مکروہ سازشوں کا شکار بنتے رہے ۔۔۔۔مٹتے رہے لیکن تھکے نہیں ہرچند کہ ہنر مند ہاتھ قلم ہوئے ۔۔۔نہ جھکنے والے سر قلم ہوئے ۔۔۔۔۔آزادی کی یافت کیلئے متحرک پاؤں شکنجوں میں کسے گئے۔ ۔۔۔قوموں کی آزادی اور بقاء کیلئے سوچنے والے دماغ بالا دست قوتوں کے زندانوں میں کیڑے مکوڑوں کے کامِ دہن کرگئے ۔۔۔۔ قوموں کی سیا سی سفر نشیب و فراز سے بھری پڑی ہیں ،تاریخ کی خون چکاں ہولناکیا ں صرف زیبِ داستان کیلئے افسانہ طرازوں کی ذہنی اخترا عات نہیں بلکہ اپنی اور بقاء کی لڑائی میں تہہ تیغ کئے گئے مجاہدوں کی بہت کم حصہ کو تاریخ محفوظ کرسکی ہے کیونکہ خودتاریخ ڈوبنے والے اُس بحری جہاز کی مانند ہے جس کے جتنے حصے بچائیں اس سے کہیں زیادہ بہہ جاتے ہیں ۔اسے کون جانتا ہے کہ فرنگیوں نے کتنے انڈین کو کالا پانی میں مار کھپایا ۔۔۔۔جلیانہ والا باغ میں تو ہندوستانی شہداء کے لاشوں کی گنتی سے خود انگریز بھی عاجز آگئے تھے ،تاریخ میں یہ بھی وافر مقدار میں معلوم داری نہیں کہ زار نے کتنے سوشلسٹوں کو سائبیریا میں منجمد کرادیا ۔۔۔۔۔ویتنام میں امریکی نیپام بموں نے کیا کیا حشر سامانیا ں ڈھائے ۔۔۔۔۔۔یورپی اور امریکی بردہ فروشوں نے افریکیوں کو کن کن ہوسناکیوں کا شکار بنایا ۔۔۔۔ ایٹمی حملوں کا زخم سہہ کر کفارہ ادا کرنے والے جاپانیوں نے چینیوں کو کس قیامت سے گزارا ۔۔۔۔قوموں کی آزادی اور بقاء کی جنگوں میں کروڑوں لوگ کام آئے ،تاریخ کہا ں تک سمیٹ سکتی ہے ،ہا ں صرف یہودیوں نے اپنی نسل کشی کو درجہ دے دلا کر 146146ہولوکاسٹ 145145 کے نام سے امتیازی حیثیت حاصل کی وگرنہ حقیقت تویہ ہے کہ ہر قوم اپنی تاریخ میں ایک آدھ ہولو کاسٹ سے ضرور دوچار رہا ہوگا،تاریخ محض چیدہ چیدہ واقعات کو اپنے دامن میں پناہ دے سکتی ہے ،جنگ زدہ خطوں کی تاریخ تو محض انسانی خون سے لبِ لباب بھرے ندی کے بہنے کی آواز ہے اس میں کس کس کی خون شامل ہے ،کوئی نہیں جانتا ہے،اس کے باجود انسان کی مجموعی شعور اس بات کا واضح ادراک رکھتا ہے کہ بگ بینگ یا عظیم دھماکے سے لیکر عصر جدید تک چشمِ فلک نے کائنات میں جن جن تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے اسی طرح انسانیت بھی حق وباطل اور غلامی سے آزادی کے جنگوں میں باآسانی ہرگز نہیں گزرا ہے ۔آج امریکی صدر کی ہر بات پردنیا کے آمناوصدقنا کہنے کی مطلب یہ نہیں ہے صدر امریکہ کو یہ قوت اس کی 146146آسمانی باپ145145 القاء کرتی ہیں بلکہ اس کے پیچھے گوروں کی قربانیوں کی ایک لمبی تاریخ ہے امریکیوں نے منتظر فردا ہونے کے بجائے ارتقاء سے ہم آہنگ رہے ،تبدیلیوں کا ساتھ دیتے رہے اور انہیں اپنی قومی مفادکیلئے استعمال کرتے رہے۔ یہ کیا بوالعجبی ہے کہ جلیانہ والا باغ میں جب خون کی ہولی کھیلی گئی تو گوروں نے ہندوستانیوں کے لاشو ں کی باعزت تجہیز وتکفین اپنی جگہ ان کی گنتی تک گوارہ نہیں کیا،آج یہی گورے ہندوستان کی جدید تو کجا ،راجستھان کے لوک ثقافت کو انسانیت کا اثاثہ قرار دیتے ہیں ،ہندوستان سے برطانوی راج کی انخلا اور آ ج ہندوستانی چوکھٹ پر جبین سائی ، سادھوؤں کی دنیا کو تیاگ کر تپیسیا اور ماورائے عقل ریاضتوں کی کرامت نہیں بلکہ سبھاش چندر بوس کی ولولہ انگیز قیادت اشفاق اللہ خان ،بھگت سنگھ ،راج گرو،جتندر داس ایسے آتش بھرے نوجوانوں کی قربانیاں ہیں ۔۔۔۔آج چینی قوم کے سنگھاسن پر ہیرے موتی اک آب و تاب سے چمک رہے ہیں تو ماؤزے تنگ کی دانشمندہ قیادت ، جذبہ شہادت سے لبریز چینیوں کی جنگ آزادی اور دنیا کی سب سے بڑی لانگ مارچ میں ہر قدم پر موت کو گلے لگانے اور گور وکفن سے محروم جانبازوں کی بے مثال قربانیوں سے صرفِ نظر کرنا ہمیں انسانیات کے درجے سے گرا کر بونا ہی ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔آج دنیامیں طیب اردگان اک آن کا مالک ہے ،انگریزی کے بجائے اپنی قومی زبان میں بات کرتا ہے تو کمال اتاترک کی اُس چاک اور تختہ سیاہ پر ایک نظر ضرور ڈالئے کہ جن کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم کو سلطنت عثمانیہ کے باقیات پر نوحہ خوانی سے نکال کر جدید قوم بنایا ۔۔۔۔۔ترقی دلایا اور دنیا میں ہمسفری کے خواب دکھائے ۔

فطرت کا سفر جاری ہے ،کہیں آتش فشاں نئے جلوے دکھارہے ہیں تو کہیں سمندر نئی دنیا ؤں کی بنیادیں رکھ رہا ہے ،کہیں طوفانِ بادوباراں دنیا کو نئی امکانات سے روشناس کرہا ہے ،تو کہیں زلزلے انسانیت کو نئی درد کے لذت سے آشنا کرکے مثبت تخلیق کیلئے مہمیز دے رہے ہیں ،اسی طرح قوموں کے جاری سفر میں غلامی اور آزادی کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے ۔۔۔کل تک دردِ غلامی سے لوٹ پوٹ ہونے والے آج آزادی کی سرور سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔۔۔کل جو قومیں محض کالونی تھے ،نوآبادی تھے ،آج اپنی کالونائزر اور نوآباد کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر اپنی حیثیت مستحکم کرچکے ہیں ۔۔۔استحصال بھری غلامی اور قبضہ گیریت کے درد ناک تاریخ میں بلوچ قوم بھی آج انہی مراحل سے گزر رہا ہے جن پر کل تک ہندوستان ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک گزررہے تھے،آج بلوچ فرزند بھی غلامانہ ذہنیت کو اسی طرح چاک چاک کر رہے ہیں،جس طرح بھگت سنگھ اور ساتھیوں نے کی تھی ۔آج بلوچ بھی اسی طرح تاریخ رقم کررہا ہے جس طرح الجزائریوں نے فرانسیسی اور ویتنامیوں نے امریکیوں کے خلاف کی تھی ۔

آج بلوچ جاگا ہے ۔۔۔بھر پور جاگا ہے گو کہ ذرا دیر سے سہی ۔۔۔شاشان کی چٹانیں آج سرمچاروں کے پاؤں کی برْمش سے ترک رہے ہیں ۔۔۔۔۔ بولان نئی نظاروں سے محظوظ ہورہا ہے۔ ۔۔۔۔سیاہ آف ،ہڑب اپنی تجدید آپ ملاحظہ کررہا ہے ،تلار،سائیجی حق وباطل کے درمیان نئی معرکہ آرائیوں کی امین بن رہا ہے ۔۔۔۔۔ساحلِ بحرِبلوچ تاریخ کے نئے طلاطم کو اپنی دامن میں سمیٹ رہا ہے ۔۔۔۔سراوان ،جھالاوان اور خاران ،مکران کو گلے لگارہا ہے ۔۔۔۔کندھے سے کندھا ملا رہا ہے ۔۔۔۔دشت و صحرااور کہسارومیدان کی فرق مٹ رہا ہے ۔سرزمین آستانہ بن چکا ہے آزادی کے نور سے روشن گھر میں اب ابراہیم آذر کو حق کی سبق پڑھا رہا ہے ۔۔۔۔۔گھر کی کلہاڑی گھر میں موجود بتوں کو پاش پاش کررہاہے ۔۔۔۔بت اپنی وجود کو بچانے کو بڑے آذر کی منت سماجت کررہے ہیں مگر تا کد ۔۔۔۔۔چاروں سمتیں مرتکز ہوئے جارہے ہیں اپنی مرکز میں ،منبع میں۔۔۔۔۔تاریخ ہی اپنی شباب میں ایسے نظاروں سے لطف اندوز ہوسکتا ہے کہ سدّو کاہان کی بجائے مکران میں دھرتی ماں کی آغوش میں سمانا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔سورابی جلیل ریکی ، ملا فاضل کے ہدیرہ کے آس پاس نئی جنم پاتا ہے ۔۔۔۔۔۔مستونگ کے شاہوانی سنگت ثناء مرگاپ میں لالہ منیر اور غلام محمد سے قول نبھاتا ہے ۔۔۔۔کوہلو کا مری مشکئے کے اللہ نذر کی کمان میں سر بکف ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔سروں کے آپسی ضرب کاری میں مصروف منگچر کے لانگو میر غفار بالاچ کو رخصت کرکے بے مہر لسبیلہ میں حق وصداقت کی یافت کیلئے روشن لکیر چھوڑدیتا ہے ۔۔۔۔۔ناکو خیربخش میدانِ حق وباطل میں سرکٹواکر فرہادکی ہمسری پاتا ہے۔۔۔۔۔پیرانہ سالہ کماش نصیر کمالان سرزمین کی آجوئی کیلئے انقلابی گیت گاگا کر اپنی سر دان کردیتا ہے تو بارہ سالہ مجید جان اور وارث زہری بھی آتشِ عشق میں شعلوں کو خاطر میں لائے بغیر بے دھڑک کود پڑتے ہیں ۔۔۔۔۔صدقے جاؤں تاریخ اور فطرت کے اٹل قوانین کی ،کہ جب بلوچ نے آزادی کے پر کشش صدا پر لبیک کہی تو اس سے کوئی بھی اپنی دامن نہ بچا سکا ۔۔۔۔۔دوست تودوست بدترین دشمن بھی اقرار کر بیٹھا کہ واقعی بلوچ لڑرہا ہے، طبقاتی جالوں ، سطحی تفاخر اور غلامانہ اَنا کے دیواروں کو توڑ تاڑ کر سب لڑرہے ہیں ۔۔۔۔۔بولان کا نوجوان ، مکران میں لڑرہا ہے۔۔۔۔۔ اورماڑہ کاساحلی گبھروبابو نوروزکے میر گھٹ کو اپنی مستقربنا چکا ہے ۔۔۔۔۔قومی تحریک کے حوالے سے بانجھ پن کی طنز سہنے والی خاران بھی شہداء کے لہو سے سیراب ہو کر کاروان کیلئے نئی پھولوں کی نمو ایک ادائے بے نیازی سے کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ بی این ایم اور بی ایس او کے سنگت اور مزاحمتی میدان کے سرمچار راہِ حق میں جامِ شہادت نوش کرتے ہیں، تواین جی اوزکے نعیم صابر اور گلوکار علی جان ثاقب ،فقیر عاجز بھی لونگ خان بن جاتے ہیں ۔۔۔۔اپنی جان نچاور کرکرکے بلوچ آزادی کے زیر تعمیر عمارت میں اپنی مضبوط خشت نمایاں جگہ پر لگادیتے ہیں ۔۔۔۔۔جنگ جاری ہے ،حال واحوال کے ذرائع روز خبر لاتے ہیں، جانبازوں اور جانثاروں کے دادوشجاعت کی نئی داستانوں کا ۔۔۔۔۔شہادت اور تشددکا۔۔۔۔ گاؤں کے گاؤں کی دشمن کے ناپاک ہاتھوں آتش زدگی کا۔۔۔قابض کے مرکھپنے والے دستوں۔۔۔۔کرایے کے سپا ہیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا۔۔۔۔۔ قابض کے لوٹ مار کے ذرائعوں کی تباہی کا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجال کہ کہیں سے پشیمانی یا جان کے زیاں پر افسردگی کا کلمہ، کوئی بات،کوئی خبر آئے،جھوٹ کے انباروں کے مالک دشمن بھی ہزارہا پینترا بازیوں کے باوجود اب تک پشیمانی اور معافی جیسی خبر تخلیق نہ کرپائی ۔غلامی کے تند وتیز نشتر جب روح پر چبھ جاتی تو اس کی لِذت آمیز دردپورے وجود میں سرایت کرجاتی ہے اس درد آشنائی کے بعدہر کَس اپنی بس اوربساط کے مطابق ہمسفر بن جاتی ہے اُن لوگوں کی، جو غلامی کے قہر سامان تاریکیوں میں آزادی کے نور گُل رہے ہیں ۔۔۔۔۔جو وقت کے فرعون کی جڑیں کاٹ رہے ہیں ۔۔۔۔۔جو آزادی کے دیوتا کی حضوراپنی لہو سے دیپ جلائے جارہے ہیں ۔۔۔۔۔جو بقاء کی حصول کیلئے فناء کو گلے لگارہے ہیں ۔۔۔۔۔آج بلوچ دھرتی پر، ہرسو رقصِ بسمل بود شب جائے کہ من بودم ،لیکن تاریخ کے مزاج سے آشنابلوچ ،قومی تکمیل کے مراحل میں ان مظالم کو شفقت و رافت کے پھول سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔ان کی خوشبو سے اپنے دل و دماغ کو معطر کردیتا ہے۔ ۔۔۔۔ پنر جنم کے صدیو ں کے انتظار کے بجائے نئی جنم کو آپ گلے لگاتا ہے ۔۔۔۔۔۔اپنی ہستی کو بظاہر نیستی کا رزق بنا کر ایسی ہستی پاتا ہے کہ جس کا کوئی انت نہیں ۔۔۔۔۔اور جسے کوئی فنا ء نہیں ۔۔۔۔بقاء بھی ایسی کہ اللہ رب العزت بھی گوائی دے
اور شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں ۔۔۔۔

آج کچھ نظاروں پر تاریخ بھی انگشت بدنداں ہے ذرا دھیاں دیجیے کہ ایک طرف شادی ہے جو نئی بندھن ہے اور تخلیق کے سفر کا آغاز ۔۔۔۔۔نئی امنگوں، نئی آرزوؤں کے در، واکرنے کی سبیل و سبب ہوتی ہے اس لئے خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، مبارک سلامت کے پیام و سلام آتے ہیں ،دوسری موت ہے جو زندگی اور اس کے لالہ زار خوشیوں کا گلہ گھونٹ دیتی ہے ۔۔۔۔دوست و عزیزاور رشتہ دار وسنگت کی جدائی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے اس لئے ماحول پر رقت طاری ہوتی ہے۔۔۔ ماتمی لباس پہنا جاتا ہے۔۔۔ بیوائیں سیاہ پوش ہوجاتی ہیں اپنی سہاگ کے لٹنے پر مائیں بین کرتی ہیں اپنی گود اجڑنے پر ۔۔۔۔۔بہنیں چادر تار تار کرتی ہیں اپنی ننگ وناموس کے محافظ کی جدائی پر ۔۔۔۔۔مگر آج تاریخ اس بات پر ششدر وحیران ہے کہ بلوچ دھرتی پر جہاں کہیں کسی جان باز کی لاش آتی ہے تو کجا کہ ماتم ہوجائے ۔۔۔۔ماحول پر موت کی عفریت چھا جائے بلکہ اس کے بالکل برعکس کچھ نظارے دیکھنے کو ملتی ہیں مائیں سنگھار کرتی ہیں ۔۔۔۔۔بہنیں مہندی گوند کر شہید بھائی کو لگاتی ہیں ۔۔۔۔۔بوڑھا باپ فخر کا اظہار کرتی ہیں ۔۔۔۔۔بھائی پھولوں کے گجرے لاتی ہے ۔۔۔۔۔اہلِ محلہ طربی گیت گاکر شہید کو دولہا بنا کر سرزمین کے عجلہ عروسی کے سپرد کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ سب کسی پاگل پن کا شاخسانہ نہیں بلکہ آج بلوچ قومی شعور کی اُس نہج پر دستک دیکر یہ جان چکا ہے کہ سرزمین کی آزادی اور قومی بقاء کیلئے قربانیاں ہی اصل شادی ہے ۔۔۔۔۔آرزوؤں کی تکمیل ہے ۔۔۔۔۔تخلیق کا تسلسل ہے۔۔بقاء کا وصل ہے۔۔۔۔۔تاریخ کا نمو دہے ۔۔۔ ۔تاریخ سہل کاری اور جان دزی سے کبھی رقم ہی نہیں ہوتی ہے ،آج بلوچ کی قومی تاریخ شہداء کے لہو سے لکھی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت ہی محکم و مضبوط ہے کیونکہ آج جہد کار، قناعت کے تانے بانے سے کاتے گئے محبت میں نیکی کی گرہیں اور سچائی کے بَل دے کر سرزمین سے اپنی تعلق اس طرح استوار کرچکا ہے کہ جس کا کوئی توڑ نہیں ۔۔۔۔ یہ شہداء ہی تاریخ کے ماتھے اصل جھومر بنتے جارہے ہیں اب ایسی صورت کسی قوم کو میسر ہو تو وہ کیونکر فناء کی خوراک بن جاتا ہے ۔

صدیوں کی ارتقائی منازل طے کرکرکے آج بلوچ دھرتی اس خطے میں روبہ عمل مثبت تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہو کر غلامی کی تاریک ترین دور سے چھٹکارا پا کر آزادی کی روشنیوں کو گلے لگا رہی ہے ،پرانے اور بوسیدہ نظام کی جگہ جدید علمی و سائنسی انتظام و انصرام کو اپنے معاشرے میں جذب کرکے کلاسیک روایات کی جدید عصری تقاضوں سے جدت طرازی کرکے خوب صورت اور باوقار مستقبل کومضبوط بنیادیں فراہم کررہا ہے ،طویل غلامی سے پیدا شدہ جمود اور لا حاصل ٹھہراؤ،جنگِ آزادی کے بابرکت حرکت میں معدوم ہورہے ہیں ۔

بلوچ سماج قابض کی تمام ہامانی ،شدادی اور فرعونی روپ بہروپ کا مشاہدہ کرچکی ہے۔۔۔ انہیں جھیل چکی ہے۔۔۔۔قوموں کے تاریخ اور جنگی روایات کو کسوٹی پر رکھ کر ان کی تجزیہ و تحلیل کرچکی ہے اور اٹل فیصلہ بھی کہ اب بس تیار ہے بلوچ نئے جنم کیلئے ۔۔۔۔نئے بلوچستان کی ظہور کیلئے ۔۔۔۔اور اس بلوچستان کی آزادی کیلئے جس کی معیت میں بہت سی قومیں صفیں بچھانے کیلئے بے قرار ہیں ،دنیا یہ باور کرچکی ہے کہ آج بلوچ لڑرہا ہے بندوق سے۔۔۔چاقوسے ۔۔۔ غلیل سے۔۔۔پتھر سے ،تو صرف آزادی کیلئے ۔۔۔اور لڑکر یہ ثابت کرچکا ہے کہ پاکستان کی مصنوعی طاقت اور اس کے طاغوتی حواری ،راندہ درگاہ کاسہ لیس جرائم پیشہ ساتھی تاریخ کے بے رحم موجوں میں کھوجانے والے ہیں ۔۔۔۔۔آج بڑھاپے میں جوانی بھری رنگ وروپ رکھنے والے فلاسفر بابا مری اُس منزل کو اپنی ادراک کی آنکھ سے ممکن ہوتا دیکھ پاتا ہے جس کیلئے انہوں بالاچ کھو دیا ہے تو ایک تین سالہ ننھا منھا بچہ بھی بلوچستان کے فضاؤ میں تحلیل آزادی کے جلترنگ کو اپنی توتلی زبان میں آجادی ،آجادی کہہ کر مسکائے جارہی ہے جس کیلئے انہوں نے اپنے ابو کو الوداع کہہ دیا ہے ۔

آج بلوچ نہ صرف قابض کے فوجی یلغار کے خلاف اپنی آزادی کے جنگ لڑرہا ہے بلکہ پنجابی ثقافتی یلغار کے مقابلے میں اپنی تہذیب کی تجدید نو بھی کررہا ہے ،اس نوک پلک سنوار رہا ہے ، بلوچ بچیا ں پاکستانی پرچم کے بنی وردیا ں جلا کر بلوچی ڈریس پہن کر سکول میں پڑھائی لینے جا رہی ہیں ۔۔۔۔پاکستانی پرچم ناک کٹوا کر بلوچ دھرتی سے بھاگ نکلا ہے ۔۔۔۔بلوچ طلباء دروغ پر مبنی پاکستانی نصاب کے بجائے آزادی بخش کتابیں اور انسان دوست مفکروں کے شذرے پڑھ رہے ہیں ۔

جنگِ آزادی نے مختصر دورانیے میں وہ مقام حاصل کرچکا ہے کہ پوری عالمی برادری بلوچ قومی رہنماؤں سے پیام و سلام کو نئے بلوچستان کے ساتھ اپنی تعلقات کی خشت اول رکھنے کے مترادف قرار ددے رہے ہیں ،دنیا کے موجودہ سپر طاقت امریکہ بھی بتدریج احساس کرچکا ہے کہ پاکستان کی پیٹھ تپ تپاکر اس سے تاریخی غلطی سرزد ہوچکی پاکستان نہ صرف انسانی اقدار سے محروم ہے بلکہ دنیا میں امن اور ترقی و خوشحالی کا ازلی دشمن بھی ہے۔۔۔۔۔اس میں کسی قسم کا شک نہیں رہا کہ کل جب بلوچستان آزاد ہوگاتو یہ سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے اڈہ نہیں ہوگا بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کا آستانہ ہوگا ،اور بلوچستان کی آزادی کوئی مشروط قسم کی آزادی نہیں ہوگی بلکہ ایک باوقار اور شاندار قومی آزادی ہوگا ،گوکہ آج کوئی ملک سرکاری طور پر بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت سے گریزکررہا ہے مگر مخالفت بھی نہیں کررہا ہے لیکن انسانی اقدار اور بین ا لاقوامی اصولوں کے مطابق جوں جوں یہ جنگ منطقی انجام کی جانب بڑھے گا ،دنیا بھر کے لوگ اور سول سوسائٹیاں ہمارے حق میں آواز اُٹھانا شروع کریں گے ،میں اپنی چشمِ تصور سے واضح طور پر دیکھ رہا ہوں کہ دنیا بھرکے دارلحکومتوں میں بلوچ بارے عظیم الشان جلوس نکل رہے ہیں ،بلوچ نسل کشی پرپاکستان کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش ہورہی ہیں، بین القوامی اداروں سے اس دہشت گرد اور انسان دشمن ریاست کی رکنیت ختم ہوتی جارہی ہے ،قوموں کی زندگی میں چند سال کوئی معنیٰ نہیں رکھتے لیکن آثار وقرائن یہ واضح طور پر ظاہر کررہے ہیں کہ بلوچ وہ عظیم منزل چند ہی سالوں میں پالے گاجسے حاصل کرنے کیلئے دوسرے قوموں نے شاید صدیوں کا سفر طے کیا ہو