جمعرات، 30 اگست، 2018

حقائق اور اسرار _ تحریر : یاسین عزیز بلوچ



حقائق اور اسرار 

تحریر : یاسین عزیز بلوچ



انسانی جذبات کو اُس وقت قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے، جب انسان ناانصافی دیکھتا ہے اور کسی بھی باضمیر انسان کیلیئے ناانصافی کی انتہاء کو دیکھ کر اُسے برداشت کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ برداشت کرکیخاموشی پر اکتفاء کرنا، اندر ہی اندر کڑنا یا کسی بھی قسم کا اظہارکرنا ہر انسان کیعقل و دانش، فہم و فراست اور جرات پر منحصر ہوتا ہے۔ راہ چلتے لوگوں پر کسی پاگل یا مجنوں کا پتھر پھینکنے کا جواب کوئی پتھر پھینک کر دیتا ہے، جب تک اُسے یہ سمجھ نہ آئے کہ پتھر پھینکنے والا پاگل ہے، کوئی خاموشی سے گذر جاتا ہے اور کوئی اپنا راستہ ہی بدل لیتا ہے، بہرحال پاگل اور مجنوں سے کوئی بھی مقابلہ نہیں کرنا چاہتا، جنکا کوئی کام ہوتا ہے، کوئی منزل ہوتی ہے ان کو تو آگے ہی بڑھنا ہوتا ہے۔



کچھ وقت سے لکھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن کئی اندیشے اور خدشات دامن گیر تھے لیکن اندر سے ضمیر اور انصاف نے انہی دنوں میں نہ جانے کیوں جھنجھوڑا، شاید اس مرتبہ گیارہ اگست کی قربانی اور اسکے بعد کے حالات نے حوصلہ دیا ضمیراور اندر کیانصاف کے تحت کچھ تحریر کررہاہوں۔ آگے پڑھنے والے خود انصاف کے تقاضے پورا کریں۔



انصاف صرف عدالتوں سے نہیں ملتا، انصاف کا پیمانہ ہر انسان کے سوچ اور اسکے ضمیرسے جڑا ہوتا ہے، ہر وہ شخص جو انسانی سماج کا حصہ ہے اپنے اردگرد پیش آنے والے واقعات و معاملات کو کس زاویے سے دیکھتا اور پرکھتا ہے، انکو سمجھ کر ان سے حقائق کی کسوٹی پر کتنا انصاف کرسکتاہے، اپنے اظہار اور فیصلوں پر اس حقیقت کو کس طرح سے لاگو کرتا ہے یہ دیکھنے کیلیئے صرف اسکے اظہار اور فیصلوں پر غور کرنا پڑتا ہے کیونکہ انسانی علم، حیثیت واختیار اور عمل کے بااثر اور بے اثر ہونے کا تعلق بنیادی طور اسی سے جڑا ہوتا ہے۔



بلوچ قومی تحریک میں حیثیت، اختیار اور عمل کے زوال ہونے کا سب سے سبق آموز اور عبرتناک نمونے کے طور پر ہمارے سامنے اس وقت جونام آتا ہے وہ حیربیار مری کا ہے۔ آخر کیوں وہ شخص جو قومی تحریک کے ابتداء میں سب سے زیادہ جاندار کردار، سب سے بااثر حیثیت اور سب سے زیادہ بااختیار تھا، آج بے بسی کا منظر پیش کررہا ہے؟



وجوہات، دعوؤں اور الزامات کے بیچ سرگردانی سے بہتر ہے ہم صرف اردگرد کے لوگوں سے حیربیارمری کے تعلقات اور واقعات کا سرسری جائزہ لیں، ضروری نہیں الزامات کے گورکھ دھندے میں ہم تنقیدی نقطہ نگاہ سے واقعات کو پرکھیں بلکہ ہم اُن پیش آنے والے واقعات اور ان سے جڑے افراد کے کرداروں پرغورکریں، جن پر حیربیارمری کی طرف سیتسلسل کیساتھ الزامات کی بوچھاڑ کی جاتی رہی تھی یا کی جارہی ہے اور پھر حیربیارمری کی طرف سے سامنے آنے والے موقف اور حیربیارمری کے جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا موازنہ کریں، کچھ قریبی ذرائع اور بلوچ تحریک پر نظر رکھنے والے دانشوران اور سیاسی مبصرین کی آراء اور اپنی معلومات کوبھی شاملِ تحریر کروں گا تاکہ اصل حقائق کوسمجھنے میں ہمیں آسانی ہو، ان حقائق کے بہت سے دیگر پہلو ہوسکتے ہیں انکی جانج پڑتال قارئین کے ذمہ داری ہے۔


بلوچ قومی تحریک میں حیثیت، اختیار اور عمل کے زوال ہونے کا سب سے سبق آموز اور عبرتناک نمونے کے طور پر ہمارے سامنے اس وقت جونام آتا ہے وہ حیربیار مری کا ہے۔ آخر کیوں وہ شخص جو قومی تحریک کے ابتداء میں سب سے زیادہ جاندار کردار، سب سے بااثر حیثیت اور سب سے زیادہ بااختیار تھا، آج بے بسی کا منظر پیش کررہا ہے


لندن میں حیربیارمری کی گرفتاری تک تحریک کے اندر کوئی بڑی رکاوٹ سامنے نہیں آیا تھا، ابتدائی صورت حال کی وجہ سے بلوچ عوام اورتحریکی ساتھیوں کیلیئے سب کچھ نیا تھا اور ظاہری وعملی اقدامات توجہ حاصل کررہے تھے، جن میں اثرانگیزی کی وجہ مزاحمتی اور جنگی کاروائیاں تھیں، نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کی شہادت جیسے سانحات نے تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی تھی، اسی دوران اچانک حیربیارمری کی گرفتاری بعدازرہائی کے بعد تحریک میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔




پہلے غیر متوقع اعلانِ یک طرفہ جنگ بندی سامنے آیا، سیاسی اور جنگی مبصرین کے مطابق یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان مزاحمتی تنظیموں کی طرف سے آنا بالکل ہی حیرت انگیز تھا، کیونکہ دنیا کی تاریخ میں جتنی بھی مثالیں ملتیں ہیں، ان میں یک طرفہ جنگ بندی کی پیش کش طاقت ور فریق کی طرف سے ہوتا رہا ہے، جن حالات میں جنگ بندی کی گئی ان حالات کے تحت جنگ بندی کے وجوہات کوسمجھنا آسان کام نہ تھا۔ کئی مہینوں کی مشترکہ جنگ بندی کی غیر اعلانیہ خاتمے کا آغاز بگٹی علاقے سے ہوا، جہاں پاکستانی فوج نے حملہ کرکے کئی لوگوں کو نشانہ بنایا، جسکے ردعمل میں بی آر اے نے جنگ بندی ختم کرکے پاکستانی فوجیوں پر حملے شروع کردیئے اور اسکے فوراً بعد مشکے میں سرکاری کاروائیوں کے نتیجے میں بی ایل ایف نے بھی جوابی کاروائیوں سیجنگ بندی کا خاتمہ کردیا، جو یہ ثابت کرنے کیلیئے کافی تھے کہ یکطرفہ جنگ بندی کا فیصلہ وقت وحالات کے تحت نہیں تھا۔



بعد کی حاصل کی گئی معلومات کے مطابق یہ جنگ بندی حیربیارمری کے خواہش پر کی گئی تھی، جس کیلئے اس نے کوئی واضح اور خاص وجہ پیش نہیں کی تھی۔ مبصرین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ یہ جنگ بندی ایک ایسی یقین دہانی تھی، جو کسی کو کرائی جارہی تھی کہ تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں، جو بی آر اے اور بی ایل ایف کے غیر اعلانیہ جنگی کاروائیوں سے اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکا اور پھر بی ایل اے نے بھی جنگ کا اعلانیہ آغاز کردیا۔



یک طرفہ جنگ بندی کا مسئلہ عام بلوچوں کیلیئے سر بستہ راز ہی بنا رہا لیکن جنگی اور سیاسی مبصرین اس جنگ بندی کوکسی کی یقین دہانی سے جوڑتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یک طرفہ جنگ بندی کے فیصلے اور اسکے مقاصد جو بھی تھے، وہ پورے نہ ہوسکے، اسکی وجہ فردی اور یکطرفہ فیصلوں اور ان پر مجموعی حوالے سے عمل نہ ہونا تھا۔ جنکے پیچھے کسی پالیسی یا متفقہ سوچ کا فقدان تھا، بعد کے ہونے والے تمام متنازعہ اقدامات اور انکی ناکامیوں کی ابتداء جنگ بندی اور اسکے ناکامی سے ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد حیربیارمری کے طرف سے ایک اخباری بیان میں یہ اعتراف کیا گیا کہ تحریک میں قیادت کے سطح پر اختلافات ہیں، جنکو حل نہیں کیا گیا تو وہ تحریک سے کنارہ کشی اختیار کرینگے بیان میں اختلافات اور انکی نوعیت اور قیادت کی سطح پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔


جنگ بندی حیربیارمری کے خواہش پر کی گئی تھی، جس کیلئے اس نے کوئی واضح اور خاص وجہ پیش نہیں کی تھی۔ مبصرین کے مطابق ہوسکتا ہے کہ یہ جنگ بندی ایک ایسی یقین دہانی تھی، جو کسی کو کرائی جارہی تھی کہ تمام معاملات میرے ہاتھ میں ہیں، جو بی آر اے اور بی ایل ایف کے غیر اعلانیہ جنگی کاروائیوں سے اپنے مقصد کو حاصل نہیں کر سکا 


اسی دوران بی این ایف کی طرف سے ایک اخباری بیان جاری ہوا، جس میں حیربیارمری کو قومی تحریک کا عالمی نمائندہ مقرر کیا گیا تھا، لیکن دوسرے دن ہی بی این ایف نے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بعد کی معلومات کے مطابق جوبات کھل کرسامنے آئی، اس میں بلوچ رائٹس کونسل کے وہاب بلوچ اور حیربیارمری سے قربت رکھنے والے سمندر آسکانی نے یہ بیان خود سے جاری کیا تھا۔ جس کیلئے بی این ایف کے ذمہ دار دوستوں سے کسی بھی قسم کی مشاورت کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اس مسئلے نے بھی یکطرفہ جنگ بندی کی طرح متفقہ سیاسی مشاورت اور فیصلوں کے فقدان کی طرف اشارہ کیا اور اس مسئلے میں بھی جو متنازعہ کردار سامنے آیا، وہ حیربیارمری کا تھا۔



اسی دوران حیربیارمری کی طرف سے چارٹر آف لبریشن کی باز گشت سنائی دی اور وہ تیار ہوکر تمام آزادی پسندوں تک پہنچائی گئی، جن میں نواب مری سے لیکر اختر مینگل تک سب شامل تھے، اس چارٹر آف لبریشن کے ساتھ دو نقاط کے سوا تمام نقاط میں تبدیلی کیلیئے گنجائش کی شرط بھی رکھی گئی تھی، جسے شروع میں تو تمام آزادی پسندوں نے خوش آئند اور بہتر قرار دیا لیکن آہستہ آہستہ سب اسکی حمایت سے دستبردار ہوتے گئے، وجوہات تک رسائی کی تگ دو میں کچھ مبصرین چارٹر آف لبریشن کے شائع کرنے کے وقت و حالات کو غیرمناسب و غیر موزوں قرار دیتے ہیں، انکے مطابق ٹھیک اسی وقت نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے۔ زامران مری کو لیکرحیربیارمری اورنواب خیربخش مری کے بیچ جو کچھڑی پک رہی تھی، اسکو لیکر حیربیار مری کسی بھی طرح تمام آزادی پسند اتحادیوں کو اپنا حمایتی بنانا چاہتے تھے۔ مبصرین کے مطابق یکطرفہ جنگ بندی، بی این ایف کا متنازعہ بیان اور چارٹر آف لبریشن اسی سلسلے کی کڑیاں تھے۔ یہ ایسے اقدامات تھے جو حیربیارمری نے قیادت کے ڈور کو اپنے ہاتھوں میں ثابت کرنے کیلئے عجلت میں اٹھائے تھے۔ ان تمام اقدامات سے مراد یہ تاثر دینے کی سعی تھی کہ حیربیار مری بلوچ تحریک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں، لہٰذا کوئی گفت و شنید اس سے گذرے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گی، اب یہ تاثردینا کس کو مراد تھا، شاید اب تحریک کے اندر یہ مزید ایک سربستہ راز نہیں رہا۔



مبصرین کے مطابق اگر مدمقابل نواب خیربخش مری جیسی شخصیت نہ ہوتی، تو شاید ان تمام اقدامات کا حمایت حاصل کرنا اتنامشکل نہیں ہوتا۔ دیگر آزادی پسند چہ میگو ئیوں میں ان اقدامات کو سیاسی حربوں کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جنکا مقصد آزادی پسند اتحادیوں میں خود کوبطور قیادت نمایاں کرنا تھا، جو ممکن نہ ہوسکا اس دوران یو بی اے کا ظہور ہوچکا تھا اور بی ایل اے اپنے ایک اخباری بیان میں یو بی اے کوریاستی تنظیم بھی قرار دے چکا تھا۔ یہ سلسلہ آگے چل کر مزید سنگین صورت حال اس وقت اختیار کرگیا، جب سوشل میڈیا پر تنقید اور اصلاح کے نام پرتقریباً ان تمام آزادی پسند گروپوں کو نشانہ بنایا گیا، جو نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے مسئلے میں غیرجانبدار رہنا چاہتے تھے یا جو مسئلے کا کوئی متفقہ حل نکالنا چاہتے تھے۔



مبصرین کے مطابق حیربیارمری کو صرف اور صرف اپنے شرائط پر مسئلے کا طے شدہ حل قبول تھا، جو نواب خیربخش مری اور اسکے ساتھیوں کو سنے اور سمجھے بغیر انکو قبول کروانا تھا، جس میں زامران مری قابل قبول نہیں تھے اور حیربیارمری اپنے فیصلے کو جراح اورکوئی بھی ثبوت پیش کیئے بغیرپورا ہوتا دیکھنا چاہتے تھے، جو دیگر آزادی پسند اتحادیوں کیلیئے ممکن اور قابل قبول نہیں تھا، ایک طرف حیربیارمری کے ناقابل قبول شرائط اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر تنقید و اصلاح کے نام پر کردار کشی کے لیئے کئے جانے والیحملے، معمولی مسائل کو جواز بنا کر ہدف تنقید بنانے کے اقدامات مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے جارہے تھیاور بداعتمادی کا باعث بنے رہے تھے۔ اس دوران تحریک کو حاصل ہونیوالے تمام مقناطیسی اثرات آہستہ آہستہ زائل ہونا شروع ہوئے، وہ مقناطیسی محب بدمزگی، اخلاقی گراوٹ اورکھلے پن کا شکار ہوکر بازاری ماحول میں تبدیل ہوتاگیا، جس کے منفی اثرات سے بلوچ عوام و تحریک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔



اسی دوران نواب مری اس دنیا سے رخصت ہوگئے، اُنکی رحلت کے فوراً بعد حیربیارمری کا نواب صاحب کے بارے میں تبدیل ہونے والے موقف نے آزادی پسندوں کو حیرت میں ڈال دیا، حیربیارمری کی طرف سے نواب صاحب کے عقیدت میں جو بیانات سامنے آئے، وہ زندہ نواب خیربخش مری کے بارے میں اُن کی پیش کئے جانے والے رائے اور موقف سے بالکل بھی الگ اورمتضاد تھے، قریبی ذرائع کے مطابق اسکے بعد اپنے والدہ سے ناراضگی اور آخری وقت میں انکی حال پرسی سے انکار اور پھر والدہ کی رحلت کے بعد جاوید مینگل، اپنی بہن اور زامران مری کے خلاف لندن پولیس کو رپورٹ کرنا بھی اسی سوچ کی عکاسی تھی۔ خاص طور پر اپنی والدہ کے وفات کے بعد حیربیار کا اپنی بہن کے خلاف اخباری بیان اور لندن پولیس میں رپورٹ کرنے کو عوامی سطح پر بہت منفی معنوں میں دیکھا گیا۔


نواب مری اس دنیا سے رخصت ہوگئے، اُنکی رحلت کے فوراً بعد حیربیارمری کا نواب صاحب کے بارے میں تبدیل ہونے والے موقف نے آزادی پسندوں کو حیرت میں ڈال دیا، حیربیارمری کی طرف سے نواب صاحب کے عقیدت میں جو بیانات سامنے آئے، وہ زندہ نواب خیربخش مری کے بارے میں اُن کی پیش کئے جانے والے رائے اور موقف سے بالکل بھی الگ اورمتضاد تھے،


ایسے پرُتضاد فیصلوں کا سامنے آنا، حیربیارمری اور اُسکے قریبی ساتھیوں اور عوام کے بیچ قائم اعتماد کے رشتے پر براہِ راست منفی اثر ڈالنے لگے کیونکہ نواب خیربخش مری، زامران مری اور دیگر آزادی پسند شخصیات پر لگائے گئے الزامات کو بھی ثابت کرنے میں حیربیارمری مکمل ناکام ہوئے اور دوسری طرف ان شخصیات کے بیچ پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں بھی حیربیارمری مکمل ناکام ہوئے، معمولی مسائل اگر اس طرح کی سنگین شکل اختیار کرتے ہیں تو انکی تہہ تک جانا بہت ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی نقطے کے تحت اگر مری بگٹی قبائلی جنگ، جس میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے تھے، جو ایک پیچیدہ مسئلہ تھا، اگر اس جنگ کوروک کر دونوں قبائل کو شیر شکر کرکے انکا رخ دشمن کی طرف موڑا جاسکتا تھا اور موڑا گیا، تو پھرمعمولی کرپشن کے الزامات پر یو بی اے جیسا تقسیم اور آزادی پسندوں کے بیچ ہونے والےآپسی جنگ کو کیسے روکا نہیں جا سکتا تھا؟ دشمن کے خلاف سرگرم عمل ساتھیوں کو دشمن کو چھوڑ کر ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں دھکیلنا باعث تشویش وحیرت تھا۔ وہ عوامل کیا تھے، جو معمولی مسئلے سیتقسیم اور پھر جنگ کی صورت حال اختیار کرگئیاور وہ عوامل کیا تھے جو قبائل کے بیچ جاری جنگ اور اس جنگ میں ہزاروں جانی و مالی نقصانات کو فوراً حل کی طرف لے گئے؟ ایسے متضاد صورت حال میں لازمی طور پر سطحی الزامات جیسے ڈسپلن، اصول پرستی وغیرہ بغیر ٹھوس و ثبوت یا مضبوط دلائل کے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ الزامات اورسطحی و جذباتی شور شرابے میں حقائق تک رسائی بھی اتنا آسان نہیں ہوتا، اسلیئے ہر کوئی اپنے معلوماتی ذرائع پر تکیہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، چاہے اسکا معیار کچھ بھی ہو جسکی وجہ سے پیچیدگیاں جنم لیتے ہیں۔



مسائل کے ڈھیر میں ایک اوراضافہ اس وقت ہوا کہ جب بی ایل اے 2017 میں ایک اور بحران کا شکار ہوا، حیربیارمری کے دست راست سمجھے جانے والے اور زمین پر پوری تنظیم کی باگ ڈور سنبھالنے والے استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیرزیب بلوچ کے خلاف بھی اچانک میڈیا میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کے الزامات اچھالے گئے، ہندوستان اور مذہبی گروہوں سے تعلقات کی شُبے اورنشاندہی کے ساتھ انکو معطل کردیا گیا لیکن دوسری جانب تنظیم کے اندر سے ہی اس فیصلے کو شخصی فیصلہ قرار دیکر مسترد کردیا گیا اور الزامات کو دباؤ کے حربے قرار دیکر ثبوت مانگا گیا اور تنظیم کے اندر تنظیمی طریقہ کار کے بغیر ہونے والے اس فیصلے کو چیلنج کیاگیا اور تنظیم کے اندر ذمہ داران کے ساتھ ملکر مسئلے کے حل پرزور دیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ماضی کی طرح یہ سلسلہ بھی تنظیم کے اندر حل نہ ہوتے ہوئے اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔ اور تادمِ تحریر لگائے گئے الزامات کے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہیں آسکا، جو ان الزامات کے صحت کو مشکوک کردیتی ہے۔



اس مسئلے میں دو ترجمان سامنے آئے، آزاد بلوچ نامی ترجمان حیربیار مری کی ترجمانی کرنے لگا اور جئیند بلوچ بی ایل اے کا دعویدار بنکر سامنے آیا، یہ بات بھی ماضی کی طرح سر بستہ راز رہا کہ سخت اصولوں کیلیئے پہچان رکھنے والا تنظیم اپنے اندرونی مسائل تنظیم کے اندر حل کرنے کی صلاحیت سے کیوں قاصر ہے؟ اپنے مسائل کے حل کیلئے اُسے پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ دو طرفہ دعوؤں اور الزامات سے قطع نظرسیاسی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حیرت زدہ کردینے والی بات یہ ہے کہ حیربیارمری ہمیشہ سے اصول اور سخت ڈسپلن کا دعویدار رہا ہے، بی ایل اے کو وہ اصولوں کا گہوارہ قرار دیکر خود کو زبردست اصول پرست قرار دیتا آرہا ہے لیکن اس دوران سب سے زیادہ بحران اور تقسیم کا شکار بی ایل اے اور سب سے زیادہ متنازعہ شخصیت حیربیارمری خود ہی رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ سمجھنا شاہد ماضی میں مشکل رہا ہو، مگر آج اتنا مشکل نہیں۔ مبصرین کے مطابق حیربیارمری ہر مسئلے کواپنے مرضی اور منشاء کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے، چاہے اس مسئلے میں حیربیارمری فریق ہی کیوں نہ ہو، شرائط رکھ کر اپنی بات منوانے کی عادت حیربیارمری کی نفسیات میں شامل ہے، اسکے شرائط اگر فریقین کیلئے قابل قبول نہ ہو تو، حیربیارمری مزید گفت وشنید کے بجائے دباؤ میں لانے کیلئے مسائل کو اخبارات میں اپنے طور پر بیان کرکے مزید اُلجھن پیدا کرتا ہے، جس سے مزید پیچیدگیاں جنم لیتے ہیں۔


زمینی حقائق کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ بات دیکھنے میں بالکل صاف نظر آتی ہے کہ حیربیارمری کی طرف سے سب سے زیادہ ہدف تنقید بی ایل ایف اور ڈاکٹراللہ نذر رہے، مکران میں ہونے والی جدوجہد رہی اور ساتھ ہی ساتھ اسی دوران اصول، اصلاح، ڈسپلن اور حقیقی سمت میں سفر کیلیئے حیربیارمری ہمیشہ ہی اپنے آپ کو متعارف کراتے رہے لیکن آج کے نتائج میں کوہلو، کاہان اور مکران کے مزاحمتی حالات کچھ اور گواہی دے رہے ہیں۔ کوہلو کاہان میں مزاحمتی لہر آخری سانسیں لے رہا ہے، جس مڈی کو جواز بنا کر آزادی پسند جنگجوؤں کو آپسی جنگ کے آگ میں دھکیلا گیا، اس مڈی کو روزانہ کی بنیاد پر سرکاری فورسز علاقے سے بغیر کسی مزاحمت کے برآمد کرکے اپنے تحویل میں لے رہے ہیں، مری علاقے کے نامی گرامی کمانڈر یا تو سرینڈر ہوچکے ہیں یا پھر خاموش ہو کر کہیں روپوش ہوگئے ہیں۔ بچے کچھے ساتھیوں میں مزاحمت کی قوت ناپید ہے جبکہ جس مکران کو مافیا کا گڑھ اور جس بی ایل ایف کو چوروں اور منشیات فروشوں یا بلوچ کش افراد کا ٹولہ قرار دے رہے تھے، وہ اس مشکل حالات اور بے سر وسامانی کی حالت میں بھی مکران میں مزاحمت کو مضبوطی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسیحالات میں اصول پرستی، سخت ڈسپلن کے دعوؤں پر آسانی سے یقین کرنا کیسے ممکن رہ جاتا ہے؟


بی ایل اے کا مسئلہ دو کمانڈروں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ
 حیربیار مری تنظیمی اکثریت کھوچکے ہیں


تازہ ترین بحران کے تحت ایک سال قبل ہی حیربیارمری اور اسکے قریبی ساتھیوں کی طرف سے استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیرزیب کو معطل کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ وہ محض دو کمانڈر ہیں، باقی تنظیم پر اسکے اثرات نہیں پڑے لیکن ان دعوؤں کو ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے مسترد کیا گیا تھا، بعض مقامات پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ حیربیار کا انفرادی فیصلہ تھا جسے محض اسکے کچھ قریبی ساتھیوں کی تائید حاصل تھی، وگرنہ یہ محض دو کمانڈر نہیں بلکہ تنظیمی اکثریت اس شخصی آمریت کے خلاف ہے، جسکے بعد وہ ترجمان جئیند بلوچ کے نام سے بی ایل اے کی مسلح کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعد کے آنے والے حالات و واقعات جیئند بلوچ کے موقف کے حق میں دلالت کرتے نظر آئے کیونکہ دو معطل کمانڈر مکران سے لیکر سبّی کاہان تک کیسے مسلح کاروائیاں سرانجام دے سکتے ہیں؟ اس ایک سال کے دوران جیئند بلوچ نے کوئٹہ، خاران، قلات، خضدار، زھری، حب چوکی، دالبندین، نوشکی، بولان، سبی، مچھ، کاہان، ہرنائی وغیرہ سمیت مکران کے مختلف علاقوں میں کامیاب کاروئیاں کئیں، یہ تقریباً بلوچستان کا ہر کونہ بن جاتا ہے، یہ یقیناً محض دو کمانڈروں کی بس کی بات نہیں لگتی بلکہ تنظیمی اکثریت لگتا ہے اور یہ حملے محض اخباری دعوے نہیں ہیں، مسلح کاروائیوں کے بہت سارے وڈیوز بھی سامنے آچُکے ہیں جبکہ دوسری طرف آزاد بلوچ اور ہائی کمان کے حملے انتہائی محدود سطح پر اور محدود علاقوں اور محدود پیمانے کے ہوئے اور وہ بھی ان حملوں کے دعوؤں کی تصدیق کیلئے کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ جنگی مبصرین کے مطابق ان عوامل سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ دو کمانڈروں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ حیربیار مری تنظیمی اکثریت کھوچکے ہیں۔



ایسا بھی سننے میں آرہاہے کہ ہمگام نیوز کی تشکیل ومتعارف کرانیاوراشاعت میں استاد اسلم بلوچ کی ٹیم کاہاتھ تھا لیکن تین سال قبل مختلف حیلوں و بہانوں سے اس ٹیم سے بلا کسی جواز کے ہمگام کو زبردستی چھین کر شبیر اور جمال ناصر کے حوالے کیا گیا، اس کے بعد ہمگام نیوز کی کارکردگی اور معیار اس حد تک گِرگیا کہ دیکھنے لائق ہے۔ اسکے بعد ایک سال قبل متعارف کیاجانے والا ایک نیا اردو و انگریزی آن لائن میڈیا ادارہ اُسی ٹیم کی مرہون منت ہے، جن سے ہمگام نیوز کو بِلا جواز چھینا گیا تھا، اگر اس نئے آن لائن میڈیا ادارے اور ہمگام نیوز کا آج صرف غیرجانبدارنہ تقابل و تجزیہ کیاجائے تو کارکردگی کے حوالے سے بہت کچھ ثابت ہوجائے گا۔


ہمگام نیوز کی تشکیل ومتعارف کرانے اوراشاعت میں استاد اسلم بلوچ کی 
ٹیم کاہاتھ تھا لیکن تین سال قبل مختلف حیلوں و بہانوں سے اس ٹیم 
سے بلا کسی جواز کے ہمگام کو زبردستی چھین کر شبیر اور جمال ناصر کے
 حوالے کیا گیا، اس کے بعد ہمگام نیوز کی کارکردگی اور معیار اس حد
 تک گِرگیا کہ دیکھنے لائق ہے


بی ایل اے جئیند بلوچ کی مسلح کاروائیوں سے لیکر متعارف کیئے گئے نئے متحرک میڈیا نیٹورک ادارے کی مخالفت سوشل میڈیا پر اُن آئی ڈیز کی طرف سے کی جاتی رہی ہے، جو حیربیارمری کے حمایتی جانے جاتے ہیں، آگے چل کر اسی سلسلے کی کڑی گیارہ اگست کو دالبندین میں چینی انجئیرز پر ہونے والا فدائین حملہ جسکو استاد اسلم بلوچ کے فرزند ریحان بلوچ نے اپنے والد اور والدہ محترمہ کی اجازت و رضامندی سے سرانجام دیا تھا۔ جنگی مبصرین کے مطابق اس واقعے نے بلوچ تحریک پر انتہائی گہرے اور کثیر الجہت اثرات مرتب کیئے، اول یہ کہ بلوچ تحریک میں فدائی حملوں کی مثال کم ملتی ہے، اس حملے نے یہ پیغام پہنچایا کہ تحریک کس حد تک شدت اختیار کرسکتی ہے اور اس شدت کا فیصلہ بلوچ مزاحمتکاروں کے ہاتھوں میں ہے، جو ان دعوؤں کو مسترد کر بیٹھی کہ بلوچ تحریک کمزور پڑرہی ہے، دوسری جانب بلوچ تحریک قیادت کی سطح پر متنازعہ ہوتی جارہی تھی، لیکن استاد اسلم بلوچ کا خود کش حملے کیلئے سب سے پہلے اپنے جوانسال بیٹے کے چننے نے قیادت پر اعتماد کی بحالی میں بہت بڑا کردار ادا کیا اور حالیہ صورتحال کو لیکر وسعت، شدت اور اثر انگیزی میں بی ایل اے ترجمان جئیند بلوچ کے دعوے سچ ثابت ہوئے اور اسکی واضح برتری نظر آنے لگی۔ پانچ روز گذرنے کے بعد آزاد بلوچ اور ہائی کمان کے دعویدار حیربیارمری کی طرف سے دالبندین فدائین حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرکے اس حملے کواستاد اسلم بلوچ کا ذاتی فعل قرار دیا گیا۔ اس کے فوراً بعد یعنی اگلے روز جئیند بلوچ نے آزاد بلوچ کے بیان کو شرمناک قرار دیکر تنظیم کے اکثریتی کمانڈروں کی طرف سے آزاد اور حیربیارمری کو بی ایل اے سے لاتعلق قرار دیکر اپنے سینئرکمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی کا اعلان کردیا۔ اس مسئلے میں بھی قریبی ذرائع اور سیاسی مبصرین کسی اور طرف ہی اشارہ کرتے نظر آتے ہیں۔



مبصرین کہتے ہیں کہ بی ایل اے کا موجودہ بحران راتوں رات پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ اسکی کڑیاں گذشتہ مسائل سے جڑی ہوئیں ہیں اور بہت سے معاملات پر اختلافات تنظیم کے اندر پنپ رہے تھے۔ بی ایل اے میں پہلے نواب خیربخش مری اور حیربیارمری کے بیچ پیدا ہونے والے بحران اور اسکے نتائج کے سامنے آنیکے بعد تنظیمی ساتھیوں کی اکثرت نے ادارہ جاتی طریقہ کار کی کمی محسوس کی اور ادارہ جاتی تنظیمی طریقہ کار پر زور دیا اور یو بی اے سے جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصانات اور دیگر آزادی پسند گروہوں سے اختلافات اور آپسی رسہ کشی کے تباہ کن نتائج کو مدنظر رکھ کر اپنے پالیسوں اور طریقہ کار پر نظرثانی کیلئے زور دیا اور انہی خطوط پرکام کرنا شروع کردیا۔ اُن ساتھیوں میں استاد اسلم بلوچ اور اسکے قریبی ساتھی پیش پیش تھے اور تنظیم کے اندر استاد اسلم اور انکے قریبی ساتھی بہت اثر رکھتے ہیں، وہ اعتماد کے حوالے سے بھی تنظیمی ساتھیوں کے اکثریت کیلیئے قابل قبول ہیں۔ لیکن حیربیار مری کسی بھی ایسے ساخت، فیصلے یا تنظیم کاری کے قائل نہیں تھے، جہاں تنظیمی معاملات مکمل طور پر انکے ہاتھ میں نہیں رہتے۔ اس وجہ سے بہت سے معاملات پر اختلافات نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اسی دورانیئے میں بی ایس او کانسٹی ٹیوشنل بلاک اور سالویشن فرنٹ جیسے پارٹیوں کی حیربیار کی جانب سے حمایت اور حوصلہ افزائی پر بھی اختلافات سامنے آچُکے تھے۔ استاد اسلم بلوچ اور انکے دوست ان فیصلوں کے قائل نہیں تھے، مگر دوسری طرف حیربیارمری کو تبدیلی اور کوئی دوسراطریقہ کار قابل قبول نہیں تھا، حیربیارمری نتائج کی پرواہ کیئے بغیر اپنے پرانے سوچ کے تحت اپنے ہی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتا تھا، تنظیمی طریقہ کار کے فقدان کا پہلے سے ہی تنظیم کو سامنا تھا۔ ادارہ جاتی فقدان کی وجہ سے تنظیم نواب خیربخش مری، زامران اور انکے قریبی ساتھیوں کی تقسیم اور یو بی اے جیسے بحران سے پہلے ہی دوچار ہوچکا تھا۔ حیربیارمری کیلئے کھل کر استاد اسلم اور اُنکے ساتھیوں کی مخالفت ممکن نہیں تھا، لیکن وہ اسلم بلوچ کی تنظیم میں اثرانگیزی اور گرفت کو بھی خود کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھتا تھا۔ اس لیئے حیربیار نے اس دوران اُستاد اسلم اور اسکے ساتھیوں کے خلاف جواز ڈھونڈنا شروع کیا، پہلے مرحلے میں اُس نے استاد اسلم کے قریبی ساتھیوں کو بلا جواز دباؤ میں لانے کی کوششیں کیئے، آہستہ آہستہ انکو بغیر وجوہ ظاھر کیئے اور بسا اوقات معمولی وجوہات بنا کر تنظیمی ذمہ داریاں انکے ہاتھوں سے لیکر انہیں بند گلی میں دھکیلنے لگا، تنظیم کے اندر ذمہ دار حلقے اور مبصرین اس پورے تسلسل کو اسلم بلوچ کے گِرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرنے سے تعبیر کرتے ہیں تاکہ بغیر کسی مسئلے کے اسلم بلوچ کو بے اثر کیا جاسکتا۔


حیربیارمری کیلئے کھل کر استاد اسلم اور اُنکے ساتھیوں کی مخالفت ممکن نہیں تھا، لیکن وہ اسلم بلوچ کی تنظیم میں اثرانگیزی اور گرفت کو بھی خود کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھتا تھا۔ اس لیئے حیربیار نے اس دوران اُستاد اسلم اور اسکے ساتھیوں کے خلاف جواز ڈھونڈنا شروع کیا، پہلے مرحلے میں اُس نے استاد اسلم کے قریبی ساتھیوں کو بلا جواز دباؤ میں لانے کی کوششیں کیئے، آہستہ آہستہ انکو بغیر وجوہ ظاہر کیئے اور بسا اوقات معمولی وجوہات بنا کر تنظیمی ذمہ داریاں انکے 
ہاتھوں سے لیکر انہیں بند گلی میں دھکیلنے لگا


اس کے ساتھ ہی، تنظیم میں کچھ نااہل اور کچھ باہر کے غیرمتعلقہ افراد کو ایک ساتھ کرکے تنظیم کے موجودہ طریقہ کار میں مداخلت شروع کی گئی، ان ساتھیوں پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے وسائل کی روک تھام شروع کی گئی اور ساتھیوں سے رابطے منقطع کیئے گئے، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ استاد اسلم اور کامریڈ بشیر زیب کو کہا گیا کہ آپ دونوں عسکری جہد کے تقاضوں سے نابلد شبیر بلوچ اور جمال ناصر کے پابند ہیں اور کسی بھی کام کیلیئے جمال ناصر اور شبیر سے رابطہ کریں، ایسے حالات بنائے گئے جن کی وجہ سے اشتعال انگیزی جنم لے اور کوئی مشتعل ہوکر کچھ غلط کرے۔ ایسے حالات میں مزید دباؤ کیلیئے مختلف حربے استعمال ہوتے رہے۔



اسی دوران طبعیت کی ناسازی اور دوران علاج اُستاد اسلم کے خلاف ایسے اخباری بیان کا سامنے آنا جس کا تصور بھی ایک عام سیاسی کارکن کیلئے ممکن نہیں، جس میں استاد اسلم کے مقام وموجودگی کی نشاندہی کے ساتھ کسی دوسرے ملک سے تعلقات کے اشارے دیئے گئے، وہ بھی بی ایل اے کے ترجمان آزاد بلوچ کے نام سے، سیاسی مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ پچھلے تمام عرصے میں پاکستان بھرپور کوششیں کرتا رہا کہ کسی بھی طرح بلوچ قومی تحریک کو ہندوستان،افغانستان یا اسرائیل سے جوڑ کر پراکسی قرار دے سکے لیکن پاکستان اپنے اس کوشش میں مکمل ناکام رہا، ایسے حالات میں بی ایل اے کے ترجمان آزاد کے نام سے اسطرح کے بیان کا سامنے آنا ناقابل یقین عمل تھا۔ عام خیال یہ ہے کہ تمام رابطوں کی موجودگی اور تنظیم کے ہوتے ہوئے، کیا وہاں صرف علاج کیلئے اجازت نہ لینے کی جرم پر استاد اسلم کو جوابداہ نہیں بنایا جاسکتا تھا؟ اس بات کو بھی سمجھنا ذرا مشکل ہے کہ دوران علاج اور غیر موجودگی میں استاد اسلم کے مقام و موجودگی کی نشاندہی کیوں کی گئی؟ کیا یہ عمل کسی بھی طرح اصول پرستی یا کسی بھی طرح کے ڈسپلن کے زمرے میں آتا ہے؟ اگر اس بات پر چند لمحات کیلئے یقین بھی کیا جائے کہ یہ بیان موقع کی تلاش نہیں بلکہ خاص ڈسپلن کے بنیاد پر جاری ہوا تھا، پھر کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ جس سطح کی بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی ہو، شاید وہ اتنا بڑا گناہ نہیں ہوتا لیکن تنظیم کے کسی سینئر کمانڈر کا جگہ، مقام اور صحت کی صورتحال کا میڈیا میں یوں اعلان کرنا، خود ناقابلِ معافی حد تک ڈسپلن کی ورزی نہیں تھی؟ بلکہ یہ پاکستان کی دیرینہ موقف کی رسمی طور پر تائید ہے۔



اس عمل کے پس پردہ مقاصد پر رائے زنی کافی مشکل کام ہے قریبی ذرائع کے مطابق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بیان سے کوئی ایک ہفتہ قبل شعبہ نشرواشاعت کے انچارج و ذمہ داران کو کوئی وجہ بتائے بغیر ان سے تنظیم کے تمام ویب سائٹس کے پاسورڈزمانگے گئے اور اسکیلیئے حیربیارمری نے از خود ایک ذمہ دار پر دباؤ ڈالا اور یہ یقین دہانی کرائی کہ میں ویب سائٹس چیک کرکے پاسورڈز واپس کردوں گا لیکن پھر پاسورڈ تبدیل کرکے استاد اسلم کے خلاف بیان جاری کیا گیا اور شعبہ نشرواشاعت کو نظرانداز کرکے ویب سائٹس پر قبضہ کرلیا گیا، جسکے ردعمل میں بی ایل اے کے ساتھیوں نے اس مخبرانہ اخباری بیان، جس میں استاد اسلم کے مقام و موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی سے لاتعلقی اور ویب سائٹس کے ہیک ہونے کا بیان جاری کیا گیا تھا۔ اول یہ بیان رسمی طریقہ کاروں سے ہٹ کر شعبہ نشر واشاعت کے بغیر جاری ہوا تھا اور دوسری طرف آزاد بلوچ سے جاری اس بیان کا بیانیہ مکمل طور پر پاکستانی بیانیئے سے ہم آہنگ تھا، جس سے فوری ہیک ہونے کا تاثر ابھرا۔



مبصرین کی رائے ہے کہ گذشتہ واقعات کے تسلسل، استاد اسلم بلوچ سے رابطہ کیئے بغیر اور بجائے اسے آمنے سامنے بِٹھا کر کسی بھی تنظیمی طریقہ کار کے مطابق اظہارِ وجوہ کا موقع دیا جاتا، مسئلے کو اخباروں کی زینت بنانا یہ تمام حالات و واقعات اس جانب اشارہ کررہی ہیں کہ اسلم بلوچ کا علاج یہاں مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ وہ موقع تھا جس کا حیربیار مری کو تلاش تھا۔ ان عوامل کو مدنظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو پھر یہ بات سمجھنے میں چنداں دشواری پیش نہیں آتی کہ اگر اسلم بلوچ علاج نہیں بھی کرواتے تو پھرجلد یا بدیر ڈسپلن کے نام پر کوئی اور مسئلہ اچھال کر اسلم بلوچ کو اسی طرح معطل کیا ہی جاتا اور بات اسی طرح میڈیا کی زینت بنائی جاتی۔



جس طرح یہ مسئلہ بلوچ سیاست کے کچھ شرمناک واقعات میں سے ایک ہے، اس مسئلے کو حل کرنے کی نیت اور طریقہ کار بھی اچھے روایات قائم کرنے میں ناکام رہی۔ اس مسئلے میں فریق ہونے کے باوجود حیربیار مری اس مسئلے کا حل بھی حسبِ روایات اپنے شرائط کو تسلیم کرانے سے منسوب کراچکا تھا اور کوئی بھی بات چیت شرائط کو من و عن تسلیم کرنے سے ہی مشروط تھا۔ اس معاملے میں جو ثالث تھے انہوں نے بھی خود کو بے بس پایا۔ انہی ثالثین میں سے ایک میر عبدالنبی بنگلزئی بھی تھے جنہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ اسے استاد اسلم بلوچ نے اس مسئلے کو حل کرنے کا مکمل اختیار دے دیا تھا، لیکن بارہا کوششوں کے باوجود حیربیار مری نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔



بلوچ سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کیلئے یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے اور اس بابت یہ جائز سوال اٹھایا جارہا ہے کہ تنظیم کو اتنے بڑے بحران میں اصولوں کے نام پر مبتلا کیا گیا، لیکن وہ اصول کیا ہیں؟ استاد اسلم بلوچ جیسے ایک کمانڈر جو پورے تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، کو یوں اصولوں کی خلاف ورزی کے نام پر معطل کیا گیا، تنظیمی اکثریت اور ہمدردیوں کو یوں اصولوں کے نام پر پسِ پشت ڈالا گیا لیکن اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسلم بلوچ نے کس اصول کی خلاف ورزی کی تھی؟ یہ اصول یا نظم و ضبط کے کس شِق کی خلاف ورزی تھی؟ اگر اصول تحریری نہیں ہیں، زبانی ہیں تو پھر اس بات کی ابتک کوئی وضاحت کیوں سامنے نہیں آئی ہے کہ یہ اصول تنظیم کے کس ادارے نے، کب اور کتنے کمانڈروں کی موجودگی میں تشکیل دی تھی اور اسکے علاوہ تنظیم کے اہم اصول کیا ہیں؟ اگر میڈیا میں اتنے حساس مسئلے پیش کیئے جاسکتے ہیں، تو پھر اس معاملے کو سلجھانے کیلئے، ان اصولوں یا کم از کم جس اصول کی خلاف ورزی ہوئی تھی، اسے سامنے لانے میں کوئی عار نہیں۔ اگر ایسی کوئی ٹھوس چیز پیش نہیں کی جاسکتی، پھر استاد اسلم بلوچ، کامریڈ بشیر زیب اور انکے ساتھیوں کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ یہاں اصول سے مراد حیربیار مری کا مزاج اور منشاء ہے، کوئی متفقہ اور منظور کردہ طے شدہ منشور یا نظم و ضبط نہیں۔ پھر اس طرح اصول و ڈسپلن کے خوشنما نعرے کے پیچھے کل مہران مری کو نشانہ بنایا گیا، آج اسلم بلوچ کو نشانہ بنایا جارہاہے پھر آنے والے کل کو کسی کو بھی انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جاسکے گا۔



مبصرین اپنی رائے میں اس سنجیدہ مسئلے کی جانب بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ مسئلہ محض اندرونی تھا، پھر بھی جلد یا بدیر نظر انداز کیا جاسکتا ہے لیکن آزاد بلوچ نے استاد اسلم بلوچ کے خلاف جو بیان جاری کیا، اس میں ہندوستان کا ذکر کیوں ضروری تھا؟ کیا حیربیار مری یا اسکے قریبی ساتھی پاکستان کے پروپگنڈے یا خطے کی صورتحال سے اتنے ناواقف تھے کہ انکو احساس نہیں تھا کہ ہندوستان کا نام لیکر وہ پاکستان کے بیانیئے کی تائید کررہے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ اس جانب اشارہ ہے کہ یہ کسی غیر تحریکی قوت کو خوش کرنے کیلئے، بھارت کو بلیک میل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حیربیار مری غیر تحریکی قوتوں کی وجہ سے تحریک کو بڑے مصائب میں مبتلاء کرنے کا موجب بنے ہیں۔ یک طرفہ جنگ بندی کے فیصلے سے خود کو تحریک کا مالکِ کل ظاہر کرنے کی سعی ہو، بی این ایف سے عالمی نمائندگی کا جعلی بیان جاری کروانا ہو، یو بی اے مسئلہ یا چارٹر پر سب کو زبردستی متفق کرانے کی کوشش کرکے خود کو اختیار اعلیٰ ظاہر کرنا چاہنا ہو اور اب بی ایل اے کے نام سے بھارت کو رسمی طور پر بلوچ تحریک میں ملوث قرار دینے کی کوشش۔ ان سب عوامل میں تین چیزیں مشترکہ نظر آئیں گی اول یہ کہ سب سے مراد حیربیار کو طاقتور اور سب سے زیادہ با اختیار ظاھر کرنے کی کوشش تھی، دوئم سب عوامل میں تحریک کے باقی اسٹیک ہولڈر بائی پاس ہیں اور جو بھی کچھڑی پک رہی ہے یا سودا بازی ہورہی ہے وہ حیربیار مری اور کسی غیر تحریکی قوت کے بیچ ہوئی ہے اور تیسری یہ کہ سب کا انجام تحریک میں انتشار، ٹوٹ پھوٹ اور مایوسی پر منتج ہوا ہے۔


 آج سے قریباً چھ ماہ قبل معتبر جریدے فنانشل ٹائمز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ چین ’’کچھ قبائلی علیحدگی پسند بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔’’مبصرین اب چینی انجنیئروں پر حملے کی تردید اور قبائلی علیحدگی پسند کا چین سے مذاکرات کو جڑتے ہیں اور آزاد بلوچ کے بیان کو چین کو دی گئی یقین دہانیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں


یہی مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کرتے ہوئے خدشات تب جنم دیتا ہے، جب گیارہ اگست کو چینی انجنیئروں پر خود کش حملہ ہوتا ہے۔ اس حملے کو پوری بلوچ قوم میں ستائش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن حیربیار مری چپ رہنے کے بجائے آزاد بلوچ کے نام سے یہ بیان دیتے ہیں کہ بی ایل اے کا اس خود کش حملے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ استاد اسلم بلوچ کا ذاتی عمل تھا۔ دو ایسے وجوہات ہیں جس کی وجہ سے آزاد بلوچ کے اس بیان کو غیر معمولی سمجھا جاسکتا ہے اور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اول یہ کہ بی ایل اے جئیند بلوچ کے نام سے تقریباً روزانہ کے بنیاد حملے کرتی اور قبول کرتی آرہی ہے لیکن آزاد بلوچ کو صرف چینی انجنیئروں پر خود کش حملے کی تردید کرنی پڑی کے اسکا بی ایل اے سے تعلق نہیں باقی حملوں کی نہیں دوسری اہم بات یہ کہ آج سے قریباً چھ ماہ قبل معتبر جریدے فنانشل ٹائمز نے یہ خبر بریک کی تھی کہ چین ’’کچھ قبائلی علیحدگی پسند بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔’’مبصرین اب چینی انجنیئروں پر حملے کی تردید اور قبائلی علیحدگی پسند کا چین سے مذاکرات کو جڑتے ہیں اور آزاد بلوچ کے بیان کو چین کو دی گئی یقین دہانیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔



استاد اسلم بلوچ اور کامریڈ بشیر زیب بلوچ کو معطل کرنے کے بعد سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے استاد اسلم اور انکے ساتھیوں پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ در اصل تنظیم توڑنا چاہتے تھے، لیکن انہوں نے بی ایل اے کو توڑنے کے بجائے بی ایل اے کے نام سے ہی اپنا کام جاری رکھا اور مبصرین کے مطابق حیران کن حد تک انکی ایک سالہ کارکردگی بی ایل اے کی گذشتہ کارکردگی سے بھی بہتر رہی، اس دوران بی ایل اے نے جئیند بلوچ کے نام سے بلوچستان کے تقریباً ہر کونے میں کامیاب حملے کیئے، جن میں بڑے پیمانے کے حملے بھی شامل تھے، جن میں سب سے قابلِ ذکر چینی انجنیئروں پر استاد اسلم بلوچ کے اپنے بیٹے ریحان بلوچ کا فدائی حملہ تھا۔ اسکے علاوہ اس ایک سال کے دوران استاد اسلم کے ساتھیوں نے یو بی اے سے جنگ بندی کرتے ہوئے، جنگ کا مکمل خاتمہ کردیا، نقصانات کا ازالے کے ساتھ آزادی پسند ساتھیوں کو باہم شیر وشکر کردیا، بی ایل ایف سے اشتراک عمل کرکے دیگر آزادی پسند تنظیموں سے اعتماد بحال کردیا۔ ایک سال سے کم عرصے میں نا صرف اردو بلکہ انگریزی میڈیا میں ایک نیا معتبر و متحرک میڈیا ادارہ تشکیل دیکر بلوچستان کی آواز دنیا تک پہنچانے میں قابلِ ذکر حد تک بہترین کام کیا اور سب سے بڑھ کر جو کام بی ایل اے گذشتہ دو دہائیوں سے نہیں کرپائی وہ انہوں نے گذشتہ ایک سال کے اندر کرکے دِکھایا یعنی تنظیم کے اندر باقاعدہ سپریم کمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمانڈ کے نام سے حقیقی ادارے تشکیل دے دیئے۔ یہ عوامل اس امر کی غمازی کرتیں ہیں کہ حیربیار مری تنظیم کے اندر اداروں کے قیام اور صلاحیتوں کیسامنے رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔



اصول پرستی، حق گوئی اور حقیقت پسندی کے خوشنما نعروں کے برعکس، ہر عمل اور فیصلے کا نتیجہ اسکا سب سے بڑا وکیل ہوتا ہے، آج سے دو دہائیوں سے زائد عرصے پہلے خیربخش مری نے حیربیار کے ہاتھ میں بلوچوں کی واحد نمائندہ مزاحمتی تنظیم کی مکمل باگ ڈور تھمائی اور اسے بے پناہ طاقت و اختیار کا مالک بنا دیا، اس طویل عرصے کے بعد آج حیربیار اسکو کتنا آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے یا کتنا گھٹاتے رہے، اس پر اب مزید تجریئے کی ضرورت نہیں، آج وہ جہاں کھڑے ہیں، وہ اب تک اپنے غلط فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے، تحریک کے تمام اسٹیک ہولڈروں کو جن کی بہت جاندار کرداریں ہیں، انہیں نمک حرام و سازشی قرار دیکر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ اور اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ دوسرے آزادی پسندوں کے ساتھ روا رکھے اس ہتک آمیزانہ اور متکبرانہ رویئے کے باوجود ان سے اتحاد اپنے شرائط پر چاہتے ہیں۔



کوئی بھی عمل ہو، جب تک ہم اسکے مستقبل بعید کے بارے میں درست پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکیں تب تک وہ سائنس کے کسوٹی پر پورا نہیں اترتا، اور درست پیشن گوئی کی صلاحیت بار بار کے نتائج اور ان نتائج کے باہم مربوط رشتے اور مماثلت کو درست پرکھ کر ہی کی جاسکتی ہے۔ اب ان فیصلوں اور انکے نتائج، اور حقائق کے اس بوچھاڑ میں سیاسیات کا ایک طالبعلم بلوچ قومی تحریک کے مستقبل کی کیسی پیشن گوئی کرسکتا ہے، وہ اسکے صلاحیتوں پر منحصر ہے، لیکن کوئی بھی غیر جانبدار مبصر و تجزیہ نگار ایسے فیصلوں و اعمال کے نتائج میں ایک تابناک مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کرے گا، اگر مستقبل روشن نظر نہیں آرہی تو اسکا مطلب ہے کہ موجودہ فیصلوں و اعمال کے نتائج کا باہم ربط مثبت نہیں اور اگر فیصلے مثبت نہیں تو فیصلے کرنے والوں کو پرکھنا چاہیئے۔
بشکریہ  ـــ    دی بلوچستان پوسٹ

منگل، 31 جولائی، 2018

آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت کیا ہے اور اس کی تصدیق کیسے ہوئی؟




آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت کیا ہے اور اس کی تصدیق کیسے ہوئی؟

صادقہ خان
سائنس میں کوئی بھی قانون یا نظریہ حرف آخر نہیں ہوتا، جوں جوں تحقیق آگے بڑھتی ہے ان سے متعلق مزید اہم نکات سامنے آتے رہتے ہیں اور بعض اوقات نئی تحقیق پرانے نظریے کو مکمل طور پر رد بھی کر دیتی ہے، مگر آئن اسٹائن کی تحقیقات کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ایک صدی گزر جانے کے باوجود بھی بنیادی نظریہ اضافیت اور کشش ثقل سے متعلق ان کے پیش کیے گئے قوانین کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بڑے پیمانے پر تصدیق ہو رہی ہےاور زمین سے ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ستاروں پر بھی یہ قوانین اتنے ہی درست ثابت ہوئے ہیں جتنے زمین کی گریوی ٹیشنل فیلڈ میں مصدقہ تھے۔


سائنس میں معمولی دلچسپی رکھنے والا شخص بھی گلیلیو گلیلی کے پیسا ٹاور والے تجربے سے ضرور واقف ہوگا، اگرچہ اس تجربے کی صداقت کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آتے رہے ہیں مگر اس کے بارے میں خودگلیلیو کے اپنے شاگرد ونکازو ویویانی نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے جو 1717 میں شائع ہوئی۔


ویویانی کے مطابق گلیلیو نے 2 مختلف اجسام والے کرے پیسا ٹاور سے ایک ہی بلندی سے پھینک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی کہ آیا ان کے نیچے گرنے کے دورانیے پر ان اجسام کا ماس اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں ؟ بار بار کے تجربات کے بعد گلیلیو اس نتیجے پر پہنچے کے ہلکے اور بھاری تمام اجسام کے زمین کی طرف گرنے کے دورانیے اور رفتار میں فرق نہیں ہوتا اور تمام اجسام ایک ہی تناسب سے گرتے ہیں۔


گلیلیو کے تجربے کے کئی صدیوں بعد آئن اسٹائن نے اپنے بنیادی نظریہ اضافیت میں اس تصور کو دوبارہ پیش کیا کہ گرتے ہوئے اجسام ایک ہی تناسب سے زمین کی طرف آتے ہیں اور ان کی حرکت پر ان کا ماس اثر انداز نہیں ہوتا، اسی تھیوری کو خلاباز ڈیوڈ اسکاٹ نے اپولو 15 مشن کے دوران آزماتے ہوئے چاند کی سطح پر ایک ہتھوڑے اور پرندے کے پر کے گرنے کے تناسب کو نوٹ کیا جو ایک ہی تھا۔


واضح ر ہے کہ چاند کی سطح پر کشش ثقل زمین سے 1،6 فیصد کم ہے۔


بیسویں صدی کے آخر میں ہبل ٹیلی اسکوپ خلاء میں بھیجے جانے کے بعد سائنسدانوں کی نئی کائناتوں کی تلاش میں تیزی آگئی اور اسی باعث انہیں موقع ملاکے وہ آئن اسٹائن کے بنیادی نظریہ اضافیت اور دیگر قوانین کو زمین سے ہزاروں نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ستاروں کے جھرمٹوں، بلیک ہولز اور کہکشاؤں پر لاگو کرکے دیکھیں کہ آیا یہ قوانین زمین سے کئی گنا بڑے اور زیادہ ماس والے اجسام پر صحیح ثابت ہوتے ہیں یا نہیں ۔

آئن اسٹائن کو ہر دور کا ذہین ترین انسان اس لیے ہی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بنیادی نظریہ اضا فیت، کشش ثقل سے متعلق اور جو دیگر قوانین 20 ویں صدی کے اوائل میں محض اپنی فہم و فراست کے بل بوتے پر پیش کیے تھے آج ان کی جدید ٹیکنالوجی سے تصدیق ہو رہی ہے۔

آئن اسٹائن کی کشش ثقل سے متعلق قانون کی تصدیق کے لییے سائنسدان ایک عرصے سے ایک نیچرل لیبارٹری (قدرتی تجربہ گاہ) کی تلاش میں تھے، 2011 میں گرین بینک ٹیلی اسکوپ کے ذریعے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن سے منسلک چند سائنسدانوں نے 3 ستاروں مشتمل ایک سسٹم دریافت کیا جسےایس آر  کا نام دیا گیا، یہ ستاروں کا سسٹم زمین سے 4 ہزار 200 نوری سالوں کے فاصلے پر وا قع ہے اور ان 3 ستاروں میں سے ایک نیوٹران اسٹار ہے۔

نیوٹران ستارے بے انتہا ٹھوس فلکیاتی اجسام کے ہوتے ہیں جن کی کشش ثقل اور کثافت کافی زیادہ لیکن رداس اور سائز کم ہوتا ہے اور یہ زیادہ تر نیوٹرانوں پر مشتمل ہوتے ہیں، اس نیوٹران ستارے کے مدار کا دورانیہ ایک اعشاریہ چھ دن ہے، اس کے ساتھ 2 وائٹ ڈوارف ستاروں کی جوڑی تھی، یہ ایسے ستارے ہیں جو ہمارے سورج کی طرح اندرونی طور پر بہت متحرک ہوتے ہیں اور نیوکلیائی انشقاق ( فژن ری ایکشن ) کے ذریعے ان میں ہائیڈروجن ایٹم آپس میں مدغم ہوکر ہیلیم کا بڑا ایٹم بناتے رہتے ہیں، ان وائٹ ڈوارف ستاروں میں سے ایک کا گردشی دورانیہ 327 دن ہے۔
نیچر سائنس جنرل میں شائع ہونے والے مقالے کے مصنفین کے مطابق 3 ستاروں کا یہ نظام کچھ اس قسم کا تھا کہ یہ ہمیں آئن اسٹائن کے کشش ثقل سے متعلق قانون کو پرکھنے کے لیے ایک قدرتی لیبارٹری محسوس ہوا، کیوں کہ اس جیسا کوئی اور سسٹم اب تک ماہرین فلکیات کی نظر میں نہیں آ سکا۔

سائنسدان اس سسٹم کا کئی سالوں تک مشاہدہ کرتے رہے جس سے معلوم ہوا کہ نیوٹران ستارہ دراصل 'پلسار' تھا، جن کی کشش ثقل بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان سے مسلسل ریڈیائی موجیں /لہریں خارج ہوتی رہتی ہیں۔
یہ ستارے کچھ اس طرح سے گردش میں رہتے ہیں کہ ان کی گردش کا دورانیہ نوٹ کرتے ہوئے زمین پر موجود انتہائی حساس ایٹمی گھڑیاں بھی غلط ثابت ہوجاتی ہیں۔

اس نیوٹران ستارے سے آنے والے ریڈیائی پلسز یا سنگل کو انتہائی حساس گرین بینک دور بین نے ڈیٹیکٹ کیا تھا، ماہرین کے مطابق اس ستارے سے ایک سیکنڈ میں 366 بار سگنل کا اخراج ہو رہا تھا اور انہوں نے کئی برس تک اس کے ایک ایک سگنل کو چیک کیا۔

حاصل ہونے والے اعداد و شمار اس قدر جامع تھے کہ ماہرین اس نیوٹران ستارے کے بارے میں بلکل درست بتا سکتے تھے کہ اس وقت وہ کس مقام پر ہوگا اور آئندہ کب، کس مقام کی طرف رخ کرے گا، اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ نیوٹران ستارے اور اس کے ہمسایہ ڈوارف ستاروں کو اگر پرکھا جائے تو غلطی کے امکانات بہت کم تھے۔

ماہرین کا خیال تھا کہ چوں کہ نیوٹران ستارے اور اس کے ساتھ اندرونی وائٹ ڈوارف ستارے کے ماسز میں بہت زیادہ فرق تھا اور اندرونی ڈوارف کی گریوی ٹیشنل انرجی کم تھی اس لیے ان دونوں کو باہر کی جانب والے ( بیرونی ) ڈوارف ستارے کی جانب جھکنا چاہیے لیکن ان کے جھکاؤ کی حالت ایک جیسی نہیں ہونی چاہیے تھی اور دونوں کے ماس میں فرق کے باعث ان کے گردشی اثر میں واضح فرق ہونا چاہیے تھا کیوں کہ آئن اسٹائن کے کشش ثقل سے متعلق اصول کے متبادل قوانین بھی یہی پیش گوئی کرتے ہیں، مگر سالہا سال تک ان تینوں ستاروں کا مکمل جائزہ لینے کے باوجود سائنسدانوں کو ان کے جھکاؤ اور گردشی اثر میں کوئی واضح فرق محسوس نہیں ہوا، جو آئن اسٹائن کے بنیادی نظریۂ اضافیت کی خلاء میں بڑے اسکیل پر براہ راست تصدیق تھی کہ تمام اجسام چاہے وہ جسامت میں کتنے ہی بڑے اور بھاری ہوں اور زمین کی کشش ثقل کی مناسبت سے کتنے ہی زیادہ طاقتور ثقلی میدان میں گھرے ہوئے ہوں،ان کے آزادانہ گرنے کا تناسب ایک ہی ہوتا ہے۔



اگر کسی بہت ہی زیادہ کشش ثقل والے ماحول میں اجسام کے گرنے کے جھکاؤ میں کوئی فرق نوٹ بھی کیا جائے تو وہ ایک ملین کا محض ایک تہائی حصہ ہوگا۔


اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ کشش ثقل سے متعلق آئن اسٹائن کا 'اسٹرانگ ایکیو ویلنس ' یا اجسام کے گردشی اثر میں یکسانیت والا اصول فلکیاتی اجسام کے لیے بھی درست ہے، یہ اس امر کی جانب ایک اشارہ بھی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کائنات کی مزید سرحدوں کو پار کر کے سائنسدانوں کو نہ صرف آئن اسٹائن کے دیگر قوانین بلکہ فزکس کے اور بہت سے قوانین کو بڑے پیمانے پر پرکھنے کے لیے مزید قدرتی تجربہ گاہ مل سکتی ہیں۔

پیر، 30 جولائی، 2018

Education Under Military Siege in Balochistan - Sammu Noor



Education Under Military Siege in Balochistan

Sammu Noor : University of Turbat
The Balochistan Post
For last seven decades, Balochistan is under the Pakistani occupation. Pakistani colonial policies not only have affected the Baloch culture, tradition and identity but also its education. Under these colonial policies, 
the Baloch nation has been kept at a distance from education.

The government statistics about the education in Balochistan claim the percentage of literacy at 43 percent which, in fact, does not depict the ground reality, and this figure contrasts to the facts, which is far worse than the given data. On other hand, the report of Pakistan Education Statistic 2015-16 launched by the National Education Management Information System (NEMIS) states that 70 percent children in Balochistan are out of school. Just imagine it, this is just the government statistics.

The nature of colonial states146 policies are always anti-education where they do not let their colonies to access right to education, and we see the same policy executed by Pakistan, which keeps the Baloch nation at distance to education. Because Pakistan knows that education leads towards awareness about Baloch rights and national issues.

To keep Baloch at a distance to education, the state uses multi-layer tactics in order to close the door to education for Baloch nation.
The United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization (UNESCO) defines literacy as the 147ability to identify, understand, interpret, create, communicate and compute, using printed and written materials associated with varying contexts148.
In the perspective of Balochistan as the part of Pakistani federation, firstly, if we analyze the literacy rate of Balochistan based on the above mentioned definition of UNESCO, then according to the ground realities, we find it 15 to 20 percent hardly. On the other hand, the Pakistani survey reveals that Balochistan has the literacy rate of 43 percent which interestingly includes ones who can write only; which is not compatible to the UNESCO146s definition of literacy.

Balochistan is richer than the other provinces in terms of natural resources and geography. Therefore, the income per individual and literacy rate should be comparatively higher than provinces, but unfortunately it146s not so. Balochistan has the lowest literacy rate.
Secondly, if we analyse the condition of Balochistan as an occupied territory in terms of education only, then the occupier state becomes responsible for the basic rights of the occupied country in accordance with international law, among which education is one of basic and most essential rights of human being.
If Balochistan would not be even enriched with natural resources, but it naturally becomes the responsibility of a state to facilitate its every citizen with the basic rights of life, because every individual pays tax to the state from their personal income and state is receiving it using different means of income tax payment from people.

In the above mentioned both cases, the people of Balochistan are deprived of their basic rights. On the other hand, Balochistan plays a vital role for boosting the economy of Pakistan, but Balochistan itself is deprived of everything.

According the Joint Survey Conducted by United Nation Children Emergency Fund (UNICEF) and Global Partnership for Education (GPE) in Balochistan, 25 percent of the government schools are without buildings, 64 percent are without potable water and 90 percent of schools has no proper sanitation system.
According to a survey of Balochistan government, Balochistan has collectively 11,000 educational institutions, among them six are universities.

According to UNESECO, Balochistan have 11,079 primary schools and 913 higher secondary schools. UNESCO report reveals that five hundred schools have no science rooms and majority of schools are lack of laboratories, and 80 percent schools lack basic facilities such as potable water, boundaries, drainage and electricity.

It is not a rocket science to understand the impossibility of how one teacher can teach six different classes just in a single room? Two thousand schools are without classrooms, it means that students are studying in the open sky, and 1.7 million children are out of school, while 80% of the students are not even able to reach matriculation stages. In addition three thousand ghost schools and five thousand ghost teachers are getting expenditure from Balochistan budget.

University of Balochistan is the oldest university of Balochistan. As compared to other provinces, Balochistan has less educational institutions and these few buildings and administrations of the educational institutions are also under the control of forces. The presence of forces in institutions has developed a sense of fear among the students and an unfriendly environment for study.

Recently many notifications of threat alerts were issued by the government which points out that educational institutions are the most vulnerable of such threats, but these are just tactics for creating an atmosphere of fear and to justify the presence of forces in educational institutions. In Balochistan, the real threats to peace are the Pakistani security forces themselves.

In University of Balochistan (UOB), programs were conducted last year in the honour of Nasir Khan Janjua, the then commandant of frontier crops, but the fact is, under his command thousands of Baloch youth were either abducted or martyred. Even to date, in university colony, the guest house of university146s vice chancellor is used as FC headquarters, and the Sport Complex of UOB has been handed over to Chiltan Rifles Wing of FC.

Auditorium of university is established for students, but students are strictly prohibited to enter it, and surrounding areas are captured by FC in university where they have secret detention centre used for violence and torture of students. All students, teachers and residents of university colony are witness of these facts but they are silent for the sake of their lives.

Power is used in Balochistan to suppress the voice of peaceful politics. Every student has the fear of being abducted in university. In the name of security, thousands of cameras are installed in university premises, and in spite of it, hostels are frequently searched and students are harassed by the forces.
This is not only story of Balochistan University; every educational institution in Balochistan depicts the same state of affairs. The building and administration of Balochistan University of Management and Technology Chiltan Campus has been occupied by the frontier crops, and operations in nearby areas are controlled by FC-64-Wing under the military camps present inside the premises of university.

Same situation exists in Sardar Bahadur khan Women University (SBKWU), the only university for women. A bus of SBKWU carrying students was targeted on June 15, 2013 by the Islamic extremists. The forces used the attack to justify their presence in the women university, and after the attack, the university was converted into a military camp where students are humiliated on daily basis by the security forces.

According to Education Department of Balochistan government, there are 97 degree colleges in Balochistan. The intermediate and degree colleges of Mashkay, Nall, Awaran, Lehri and Turbat are occupied by the forces. The only inter-college of Mashkay, a tehseel of Awaran district, has been occupied by the state forces since October 2013, and the hostel of Degree College Panjgur was converted into a FC camp by the forces.
During raid on hostel of Atta Shad Degree College Turbat, forces abducted Rasool Jan along with other students and detained the books of history, philosophy and politics, and after that, in front of the media, forces claimed to capture a huge amount of pro-independence literature. Even though, those books are available in markets of Lahore and Karachi. Other all abductees were set free, but the mutilated body of Rasool Jan was found on April 13. After the raid, forces shut down the hostel of Atta Shad Degree College which affected the education of thousands of students.

Bolan Medical College (BMC) is the only medical college in Balochistan, and it has a large number of security presence. The security forces have captured the sports complex of the hostel and indoor games complex. Students of BMC are much concerned about the presence of forces in institution, because educational institutions are not venues for the forces to stay, and their presence only disturbs the educational environment of BMC.

For giving justification for the presence of forces in institutions, state can go to any level. School and colleges are attacked through Islamic extremists so that forces get solid reasons for the occupation of the institutions. Currently, all educational institutions including universities and colleges are dealt directly or indirectly by the forces.

Fate of the Baloch is in the hand of Pakistani rulers, and it146s up to them where they take it. History is witness that Pakistani rulers have always wanted to deprive Baloch politically, socially and economically. If Baloch don146t get the ownership of its land, fate of people will remain same or might be worst.

منگل، 17 جولائی، 2018

افغانستان میں امن کا چکرویو اور بلوچ تحریک کا امتحان



افغانستان میں امن کا چکرویو اور بلوچ تحریک کا امتحان

تحریر : سلام صابر 
اگر افغانستان میں بدامنی اور انتشاری ماحول سے صرف پاکستان کے مفادات وابستہ ہوتے تو شاید بہت پہلے ہی وہاں پہ جاری طویل جنگ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہوتا ، لیکن چونکہ اس پورے خطے میں بالادستی کو قائم و دائم رکھنے کیلئے افغانستان ایک مرکزی کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے وہاں پہ امریکہ کی موجودگی صرف ایران نہیں بلکہ روس اور چین کے لئے بھی بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے ۔


طالبان کے متفقہ اور غیر متنازعہ امیر ملا عمر کی وفات کے بعد اسلامی امارات کی مرکزیت میں پڑنے والی دراڑ اور پھر طالبان کے اندر کی قبائلی تقسیم اور بالادستی کی کوشش بھی افغانستان کی جنگ میں اضافے کا ایک اہم سبب بنا ہوا ہے ۔


اس بات میں اب شاہد کوئی دورائے نہیں کہ افغان طالبان کا پاکستان کے اوپر سے اعتماد دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے ، اول طالبان کے مرکزی رہنما مولانا عبیداللہ کی گرفتاری اور دوران قید موت ، پھر امیر المومنین مولانا منصور کی بلوچستان میں ڈرون حملے میں شہادت ، اور پھرمولانا عبدالصمد ثانی کی پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں گرفتاری ، ایسے واقعات ہیں کہ ان کی وجہ سے طالبان کی جنگی تحریک کو شدید جھٹکے لگے اور بالخصوص مالی امور کے انچارچ مولانا عبدالصمد ثانی کی گرفتاری نے طالبان کی اماراتی سرگرمیوں کو کافی حد تک متاثر کردیا ۔


ان ہی واقعات کے بعد طالبان کی قیادت خاموشی سے اور انتہائی تیزی سے پاکستان کی حصار سے نکل کر ایران میں اپنے مراکز کو مضبوط کرنے میں سرگرم ہوئیں ۔
اور حالیہ عرصے میں کوئٹہ شوریٰ کے نام سے مشہور طالبان قیادت کی نصف تعداد یا تو افغانستان میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں منتقل ہوئیں یا پھر ایران ۔




ایران جو کہ مذہبی اور قومی حوالے سے طالبان کے بنیادی نظریات سے متصادم ملک ہے لیکن مولانا اختر منصور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کی بیرون ملک سفارت کاری اور دوراندیشی کے سبب اس نے اپنے ہمسایے ایران سے تعلقات کو بہتر بنا دیا اور ساتھ ہی ایران سمیت روس اور چین کو بھی یہ باور کرایا کہ افغانستان سے باہر افغان طالبان کے کوئی عزائم اور مقاصد نہیں ، اور اسی بنیادی پالیسی کے سبب افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان، اسیٹ ترکمانستان موومنٹ اور جند اللہ سے اپنے تعلقات منقطع کردیئے ۔


افغانستان میں طالبان کا گھیرا تنگ کرنے کیلئے امریکہ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا جس کے بعد 11مئی کو انڈونیشیا کے شہر بوگور میں افغانستان ، پاکستان اور انڈونیشیا کے علماء کرام کا اجلاس ہوا ، جب اس اجلاس کے انعقاد کا اعلان ہوا تو طالبان میں سراسمیگی پھیلی کہ کئی ایسا نہ ہو کہ ان کے خلاف کوئی فتوی جاری ہو ، کیونکہ فتوے کے جاری ہونے کے بعد طالبان کی جنگ کا بنیاد ہی کمزور پڑجائے گا لیکن جب اس اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا تو اس میں نہ افغان جنگ( جہاد) کے خلاف کوئی فتوی دیا گیا اور نہ ہی امریکہ کی افغان سرزمین پہ ہونے والی جارحیت کو جائز سمجھا گیا ،، البتہ اجلاس کے اعلامیہ میں فریقین کو شہری نقصانات کی روک تھام اور تنازع کے پرامن حل کی کوشش کی سفارش کی کی گئی ۔
طالبان پہ مزید دباؤ بڑھانے کیلئے گذشتہ عید پرافغان صدراشرف غنی نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے بعد طالبان نے چند ایک بنیادی مجبوریوں کے سبب پانچ کے بجائے تین روزہ جنگ بندی کا بھی اعلان کیا ، اور بقول پاکستان میں افغان سفیر کے جنگ بندی میں پاکستان کا بنیادی اور اہم کردار رہا ، اب اس بات میں کتنی صداقت ہے ، اس کا اندازہ اس صرف بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سفیر کے بیان پر طالبان نے مکمل خاموشی اختیار کی ، نا تردید کی نا تائید ۔

جنگ بندی سے مخصوص مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد افغانستان کے حوالے سے سعودی عرب کے شہر جدہ اور مکہ مکرمہ میں علما ء کرام کے نام سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا لیکن اس کانفرنس میں بھی سوائے چند ایک سرکاری مولویوں کے کسی قابل ذکر اور جید عالم دین نے شرکت نہیں کی ۔


ان تما م سرگرمیوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد ہی امریکی صدر نے اپنے افغان پالیسی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ، کیونکہ جن مقاصد اور نتائج کی توقع کی گئی تھی وہ حاصل نہ ہوسکے اور امریکہ کے نئے افغان پالیسی میں ناکامی میں ایران نے بنیادی کردار ادا کیا ، کیونکہ ایران اب کھل کر طالبان کی عسکری اور مالی امداد کررہا ہے اور ایران کے شرائط بھی ایسے نہیں کہ وہ طالبان کو منظور نہ ہوں ، اول امریکہ کیلئے بے چینی کی ماحول پیدا کرنا جبکہ دوسرا داعش کا راستہ روکنا ، یہ دو ایسے شرائط ہیں جن پہ طالبان خود ہی گذشتہ کئی عرصے سے عمل کررہے ہیں اور یہ قوی امکان ہے کہ آنے والی دنوں میں افغانستان میں جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو ، اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ایرانی مداخلت ہوگا ۔


اب اگر امریکہ ایران کی توسیع پسندانہ عزائم کو لگام ڈالنے میں کامیاب بھی ہوگا تب بھی اس کے منفی نتائج افغانستان پر پڑیں گے ، کیونکہ اس وقت پاکستان کے بجائے افغانستان کے تاجروں نے ایران پر توجہ موکوز کی ہے ،اور انڈیا بھی ایران ہی کے راستے افغانستان میں اپنی تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا خواہاں ہیں ، لیکن معاشی پابندیوں اور انڈیا کی جانب سے تیل کی خریدداری بند ہونے کے بعد ایران نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اگر بھارت ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کرتا ہے تو اسے حاصل خصوصی مراعات ختم کردیئے جائیں گے ۔


افغانستان میں سرگرم دیدہ اور نادیدہ قوتین عرصہ دراز سے اس کوشش میں لگے ہوئیں ہیں وہ کسی بھی طرح سے اس جنگ کو آس پاس پھیلا دیں ، اول وزیرستان اور دیگر شمالی علاقے اس کی لپیٹ میں آئیں اور اب بلوچستان میدان کار زار بن جائے گا ۔


اب بنیادی سوال یہاں سے یہ اٹھتا ہے اس جنگ کو کیا بلوچستان میں داخل ہونے سے روکا نہیں جاسکتا تھا ؟ 


تو ہماری محدود خیال کے مطابق اگر آزادی پسند لیڈر شپ انفرادیت کی حصارسے نکل کر قومی مفادات کو اولیت دیتے تو لازمی طور پربلوچستان میں ہونے والی مذہب کے نام پر جاری کشت و خون کو آسانی سے روک سکتے تھے ۔


قطع نظر اس بات کے کہ دعوؤں کی حد تک ہم یہ ببانگ دہل کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بیرون ملک سفارتی کاری کیوجہ سے بلوچ قومی مسئلہ اجاگر ہوا ہے ، لیکن برسرزمین اس سفارتی کامیابیوں کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں ، اگر سفارتی میدان میں ایک فیصد ہماری آزادی پسند نااہل لیڈر شپ توجہ دیتا تو، نہ تو کوئٹہ میں ہمارے وکلاء بے دردی سے مارے جاتے ، نہ شاہ نورانی میں بے گناہ قتل ہوتے ۔

اب کوئی یہ لازمی طور پر سوچتا ہے کہ آزادی پسند کیسے بلوچستان میں جاری مذہب کے نام پر جاری حالیہ تشدد کو روک سکتے تھے ، تو اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ دنیا جہاں میں کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے پاتے ہیں ۔


اس کے علاوہ اس امر پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی نصف درجن سے زائد افغانستان کے دوروں کے بعد خو د افغانستان کیلئے ’’بے ضرر‘‘ ملا فضل اللہ کی ڈرون میں مارا جانا اتنا آسان اور چھوٹا خفیہ معاہدہ نہیں ہے ۔


اگر ملا فضل اللہ کے حوالے سے افغان اور پاکستان میں افغان طالبان ہی زیر بحث رہے ہیں تو افغان طالبان نے متبادل راستہ تلاش کرلیا ہے، لیکن اگر اس دوران بلوچ کا نام پاکستان و افغانستان کے مذاکراتی میز میں پڑی فائل میں ہوگا تو بلوچ کے پاس متبادل راستہ کون سا ہے ؟
جولائی 16 بروز سموار 2018 

منگل، 3 جولائی، 2018

جدلیات کے تین اصول ـ عمران شاہد بھنڈر



اگر چہ یونانی فلسفی تشکیل و ارتقا کے ان سائنسی اصولوں کو دریافت نہ کرسکے جو فطرت، سماج اور انسانی ذہن میں یکساں کارفرما ہوتے ہیں، تاہم اس کے باوجود جدلیات کابانی ہیراکلیٹس کائنات میں جاری حرکت وتبدیلی جب کہ تضاد کو ان کی علت (Cause) کے طور پرتسلیم کرتے ہوئے جدلیاتی سائنس کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ جدید سائنس اس اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ ارتقا کے تصورکی بنیاد میں حرکت و تبدیلی کا ازلی و ابدی قانون پیوست ہے۔ حرکت و تبدیلی کے متضاد عمل کو ایک آفاقی اصول کے طور پر تسلیم کرنے کا مطلب جدلیات کے احاطے میں داخل ہونا ہے، لیکن جدلیات محض متضاد، حرکت اور تبدیلی پر ہی نہیں ٹھہرتی، بلکہ سماج کی تشکیل و ارتقا کے ان باطنی قوانین کو بھی دریافت کرتی ہے، جو سماج کی خود رو تشکیل کا ذریعہ ہیں۔ ان کی تفہیم کے بعد سماجی حرکت کو متعین کرنے والی کسی خارجی علت (Cause) کی ضرورت نہیں رہتی۔

جدلیاتی سائنس کو تاریخ میں پہلی بار ایک جامع فلسفیانہ نظام کی شکل میں جرمن فلسفی جارج ہیگل نے پیش کیا۔ ہیگل ایک خیال پرست فلسفی تھا،تاہم اس نے جدلیات کے اہم ترین اصول دریافت کیے۔ یہی تین اصول بعد ازاں مارکسی مفکر فریڈرک اینگلز نے مستعار لیے اور انھیں مادی جدلیات کی تشکیل و توضیح کے لیے استعمال کیا۔  میں جب جنگ عظیم جاری تھی تو ولاد میرلینن،ہیگل کی منطق کی سائنس کے مطالعے میں مصروف تھا، تاکہ وہ سماج میں متضاد قوتوں میں مضمرلازمیت کا ادراک کرسکے کہ جو تبدیلی کی حرکت کو متعین کرتی ہیں۔لینن کا ہیگل کی جدلیات کی قرأت نے لینن کی جدوجہد کو درست خطوط میں استوار کرنے میں رہنمائی کی، جس کا نتیجہ 1917 کے روسی انقلاب کی شکل میں سامنے آیا۔ لینن کی منطق کی سائنس کو اس کی فلسفیانہ بیاض (والیم 38)کہا جاتا ہے، جس میں ہیگلیائی جدلیات کے تینوں اصولوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جدلیات کا پہلا اصولمقدار کی معیار میں تبدیلیہے۔ فطرت ہو یا انسانی سماج، ان میں تبدیلی کا عمل ہمہ وقت جاری رہتا ہے، مگر یہ تبدیلی محض ایک شکل سے کسی دوسری شکل ہی میں تبدیلی نہیں ہوتی، بلکہ اس تبدیلی میں سماج کی تشکیل و ارتقا کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ سماج اور فطرت میں تبدیلی کا عمل تو ہمہ وقت جاری رہتا ہے، مگر جدلیات مقدار کی معیار میں تبدیلی کی وضاحت کرتی ہے۔

اگر مثال کے طور پرسرمایہ داری نظام پر غور کریں تو اس کے آغاز سے اب تک اس کی ہیئت میں بہت زیادہ تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔پیداواری طریقۂ کار میں تبدیلی کے علاوہ بنیاد (Base) یعنی معیشت اور بالائی ساخت (Superstructure) یعنی آئیڈیالوجی، مذہبی عقائد، ثقافتی اشکال اور سیاسی طریقۂ کار وغیرہ کے رشتوں کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے، مگر ابھی تک جو شے مستقل ہے اور جس کی وجہ سے موجودہ نظام کو سرمایہ داری نظام کہا جاتا ہے، وہ ہے اس نظام میں نجی ملکیت کا قائم رہنا۔ لہذا ہم سرمایہ داری نظام میں مقداری تبدیلیوں کا تو ذکرکرسکتے ہیں مگر اس معیاری تبدیلی کا واقع ہونا ابھی باقی ہے کہ جس سے سرمایہ داری نظام کے ان ملکیتی رشتوں کا انہدام ہو، جن پر یہ تمام تبدیلیوں کے باوجود قائم رہتا ہے ، تاکہ ایک مختلف نظام وجود میں آسکے۔ مختلف نظام کی تشکیل و ارتقا محض چند افراد کی باطنی خواہش کے تحت ممکن نہیں ہوتی، یہ سماج میں موجود متضاد قوتوں کی جدلیاتی پیکار کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کا تعلق سماجی سطح پر طبقات کے درمیان تضادات کی گہرائی،ان کی نوعیت اور درست سمت میں برپا ہونے والی طبقاتی جدوجہد کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔
جدلیات کا دوسرا اصول نفی کی نفی ہے۔ نفی (Negation) صرف ایک منطقی مقولہ (Logical Category) ہی نہیں جو خیال پرست فلسفی کی ذہنی اختراع تھا۔ یہ سماجی تشکیل و ارتقا کی لازمی شرط ہے۔ کارل مارکس کے الفاظ میں سماجی وجود کی موجود اشکال کی نفی کے بغیرکسی بھی قسم کا ارتقا ممکن نہیں ہے ۔نفیکی حقیقی قوت کو 1789 کے فرانسیسی انقلاب کی صورت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، جس میں جدلیات کے دونوں اصول کارفرما نظر آتے ہیں یعنی جاگیرداری نظام کے تشکیل کردہ رشتوں کی نفی ہوئی، ان میں معیاری تبدیلی واقع ہوئی، گزشتہ پیداواری رشتوں کا انہدام عمل میں آیا اور ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ ان معنوں میں جدلیاتی نفی تشکیل وارتقا کے عمل کے دوران میں نئے اور پرانے نظام میں نہ صرف ربط بلکہ تسلسل کو بھی قائم رکھتی ہے۔جدلیاتی نفی کوئی ایسی حتمی علیحدگی یا فتق(Rupture) کو بروئے کار نہیں لاتی کہ جس کا پرانے نظام سے تعلق اور تسلسل ہی منقطع ہوجاتا ہے۔ مابعد جدید مفکروں نے حتمی علیحدگی کا تصور پیش کیا تھا کہ جس کے تحت نئی وجود میں آنے والی شے گزشتہ کے ساتھ ربط کا مکمل انکار کرتی ہے۔ژاک دریدا نے مابعد جدیدیت پرہیگل کی پیروی میں تنقید کی اور حتمی علیحدگی کے تصور کو غلط گردانا۔ ہیگل نے اس کے لیے رد و نمو(Sublate) کی اصطلاح استعمال کی ہے کہ جس کے تحت پرانی ساختوں میں مضمر تمام قدامت پسندانہ رجحانات کو مسترد کردیے جاتے ہیں، جب کہ ترقی پسندانہ عوامل کو محفوظ کرلیا جاتا ہے، تاکہ ارتقا کا سفر جاری و ساری رہے۔ سرمایہ داری نظام اور اس کا دفاع کرنے والے بورژوا فلسفوں میں نفی کے تصور میں محض مقداری تبدیلیوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، مگر معیاری نفی کا انکار کردیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کو ایک حتمی نظام تسلیم کرنے کا مطلب جدلیات کے سائنسی اصولوں یعنی نفی کی نفی اور مقدار کی معیار میں تبدیلی سے انحراف کرنا ہے مگر تاریخ جدلیات کے اصولوں کا انکار نہیں ان کا اثبات کرتی ہے۔

جدلیات کا تیسرا مگر اہم ترین اصول تخالفین کی وحدت اور جدوجہد ہے۔ فطرت ہو یا سماجی تشکیل کا کوئی عمل ، وہ سماج میں متحرک قوتوں کے مابین 146تضاد145 کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔بورژوا فلسفوں کی خامی یہ ہے کہ وہ تضاد کو معروض (Object) کے اندر نہیں بلکہ خارج میں اس کے تخالف کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔ اس فلسفے کا بنیادی نقص یہ ہے کہ یہ حرکت اور تبدیلی کے لیے ایک خارجی علت (Cause)کا جواز تلاش کرتے ہوئے پُراسراریت کے لیے راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ آئزک نیوٹن نے کائنات میں جاری حرکت کے لیے ایک خارجی ہاتھ ضروری گردانا، مگر ہیگل نے نیوٹن کے سائنسی نتائج کو مسترد کردیا۔ جدلیات وضاحت کرتی ہے کہ حرکت یا تبدیلی، تضاد کے بغیر ممکن نہیں ہے اور تضاد معروض سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔ کوئی بھی معروض دیگر معروضات سے عدم ارتباط کے نتیجے میں تشکیل و ارتقا کے عمل سے نہیں گزر سکتا، مگر یہ تمام معروضات ایک دوسرے میں نفوذ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔جہاں ہر معروض کا ظاہر اس کا اثبات کراتا ہے تو وہاں اسی معروض کے جوہر تک پہنچنے کا عمل اس کی نفی کے پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوں کہ سرمایہ داری طریقۂ پیداوار میں دو متضاد طبقات کے وجود کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے،مگر یہ دونوں طبقات ایک ہی پیداواری طریقۂ کار میں موجود ہوتے ہیں۔

دونوں میں سے کسی ایک کا انہدام ہو تو دوسرا بھی اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ دونوں ہی ایک دوسرے میں سرایت کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو ذرایع پیداوار کا مالک ہے اور دوسرا وہ جو اپنی محنت کی اجرت وصول کرتا ہے۔ یہی بنیادی تضاد سرمایہ داری نظام کی شناخت کو برقرار رکھتا ہے ۔ان طبقات کے درمیان جدوجہد سماجی ارتقا کا باعث بنتی ہے۔ لینن کے الفاظ میں ترقی تخالفین کی جدوجہد کا نام ہے۔ سرمایہ دار اور محنت کش ایک دوسرے کا متضاد ہیں، مگر تخالفین کی وحدت کے جدلیاتی اصول کی تفہیم اس بظاہر تضاد کو دیکھ کر نہیں ہوتی۔ ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ ہر معروض کے اندر ہی اس کی نفی کا تصور موجود ہوتا ہے، یعنی جب محنت کش طبقات اس جدوجہد میں فتح سے ہمکنار ہوتے ہیں تو سرمایہ داری نظام میں ایک معیاری جست لگتی ہے۔ محنت کشوں کی فتح سے نہ صرف مقتدر طبقات کی نفی ہوتی ہے بلکہ محنت کشوں کے اپنے اس وجود کی بھی نفی ہوتی ہے، جو فتح یعنی معیاری جست سے قبل موجود تھا۔ جدلیات یہ بتاتی ہے کہ تخالفین کی جدوجہد میں صرف ایک وجود (Being) کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اس وجود کے دونوں پہلوؤں یعنی اثبات اور نفی کی بھی نفی ہوتی ہے۔ نفی کا ہر عمل ایک متعین (Determinate) عمل ہوتا ہے، اور معروض چونکہ اثبات اور نفی کی وحدت ہوتا ہے، اس لیے ہر نفی اس وحدت کی نفی ہوتی ہے۔ پرولتاریہ انقلابی تبدیلی کے بعد پرولتاریہ نہیں رہتا، کیونکہ ملکیتی رشتوں کا انہدام اسے ایک مختلف شناخت دیتا ہے۔

مابعد الطبیعاتی فلسفے کے برعکس جدلیات میں تفکر کا عمل تضادات کے بغیر طے نہیں ہوتا۔جدلیات میں تضادات کی نوعیت کی تفہیم سماجی عمل کی درست تحقیق کے لیے لازمی ہے، ورنہ ہم ہر وقت دانشوروں کی پیشین گوئیاں پڑھتے رہتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سماجی و سیاسی عمل کا رخ موڑ سکتے ہیں، مگر حقیقت میں اس قسم کے تبصرے سماج میں مضمر حقیقی قوانین سے متصادم ہوتے ہیں۔ جس سماج میں جتنے غیر تربیت یافتہ دانشور ہوتے ہیں، ان کی آرا سماجی عمل کی تفہیم کوگنجلک بنانے کے سوا اورکوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔
بشکریہ ایکسپریس 10 فروری 2014