ہفتہ، 11 فروری، 2017
بدھ، 8 فروری، 2017
منگل، 7 فروری، 2017
امریکی صدر کے " سیاسی گرو " کون ہے ؟
آصف جیلانی
امریکا کی سیاست کے پوشیدہ رازوں کے کھوجیوں کا کہنا ہے کہ امریکا کے نئے صدر ٹرمپ ، امریکا کے لئے کیا چاہتے ہیں اور اسے کس سمت لے جانا چاہتے ہیں؟ ان کے حامی یہ قطعی نہیں جانتے ۔ ان کی ریپبلکن پارٹی کو بھی اس کا ادراک نہیں ، حتی کہ خود ٹرمپ بھی یہ نہیں جانتے ،اس لئے اس وقت وہ اندھیرے میں ٹامک ٹویاں مار رہے ہیں۔ ٹرمپ کی سیاسی منزل کیا ہوگی ؟ اس کا ادراک صرف ایک شخص کو ہے ۔ یہ 63سالہ اسٹیفن بینن ہیں جو ٹرمپ کی شہ نشین کے پیچھے بے حد بااثر قوت ہیں ۔ انہیں ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں حکمت عملی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اتنے اہم عہدہ پر ان کی تقرری سینٹ کی تصدیقی سماعت اور منظوری کے بغیر ہوئی ہے اور انہیں قومی سلامتی کونسل میں مستقل رکن مقرر کر کے مسلح افواج کے جواینٹ چیفس آف اسٹاف اورانٹیلی جنس کے ڈائرکٹر پر فوقیت دی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ قومی سلامتی کونسل میں ایک سیاسی مشیر کو شامل کیا گیا ہے ۔ بینن کے ناقدوں کا کہنا ہے کہ انہیں قومی سلامتی کے امور کا کوئی تجربہ نہیں۔وہ صرف سات سال بحریہ میں خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔ البتہ ان کے ناقد اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ ورجینیا کے ایک غریب محنت کش خاندان سے وائٹ ہاؤس تک طویل سفر انہوں نے نہایت سرعت سے طے کیا ہے۔ ہارورڈ بزنس اسکول سے ڈگری حاصل کرنے اور بحریہ میں سروس کے بعد وہ گولڈ مین سیکس میں انہوں نے سرمایہ کاری کا تجربہ حاصل کیا اور اس کے بعد خود اپنا سرمایہ کاری کا بنک قائم کیا،جس کی زیادہ توجہ میڈیا میں سرمایہ کاری پر تھی۔اسی دوران انہوں نے ہالی ووڈ میں فلمیں بھی بنائیں۔ ان کو اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے دائیں بازو کے انتہا پسند بیربیٹ آن لائین نیوز کی ملکیت حاصل کر کے ریڈیو اسٹیشن پر اپنا شو شروع کیا۔ اسی ریڈیو شو سے ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے قربت شروع ہوئی جس میں وہ بڑی باقاعدگی سے ٹرمپ کو مدعو کرتے تھے۔ یہ کہنا غلط نہیں کہ اسی زمانے میں ٹرمپ پر، اسٹیفن بینن کے انتہا پسند نظریات کا رنگ چڑھا اور ان نظریات کے فروغ کے لئے ٹرمپ کے دل میں اقتدار کے حصول کی جوت جگی تھی ۔بینن کو جو لوگ جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے چیف ایگزیٹو مقرر ہونے سے برسوں پہلے انہیں ، جنگوں کی تاریخ ، چھاپہ مار جنگوں اور جنگی حربوں کے مطالعہ کا جنون تھا ، ہالی ووڈ میں بھی انہوں نے زیادہ تر جنگی فلمیں بنائیں ۔اس بناء پر خطرہ ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو جنگوں کی جانب دھکیل دیں۔بینن کے سیاسی فلسفہ کی اساس تین بنیادی عناصر پر ہے۔ اول ۔ مغربی دنیا کی سپر طاقت امریکا کی کامیابی ، سرمایہ داری نظام ، قوم پرستی اور یہودی ،عیسائی اقدار کے اتحاد کی مرہون منت رہی ہے ۔ بینن کا کہنا ہے کہ امریکا کی ترقی اور استحکام کے لئے یہودی اور عیسائی اقدار کا فروغ لازمی ہے اور اس مقصد کے لئے نظریاتی یک جہتی بنیادی ضرورت ہے اور ان لوگوں کو اس معاشرہ میں داخلہ سے روکا جائے جو یہودی، عیسائی اقدار پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شامی پناہ گزینوں اور سات مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے پر پابندی کا جو حکم جاری کیا ہے اس کے پس پشت بینن کا یہی عقیدہ نمایاں ہے۔ بینن کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی تاریخ کے چوتھے بڑے بحران سے گذر رہا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’امریکا انقلاب سے گذر چکا ہے ۔ اسے خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ، عظیم کساد بازاری اور دوسری عالم گیر جنگ کے دور سے گذرا ہے اور اب چوتھے بحران کا اسے سامنا ہے۔ بینن کی رائے ہے کہ دوسری عالم گیر جنگ سے قبل، یورپ کو فسطایت سے زیادہ خطر ناک قوت اسلام سے خطرہ تھا اور ان کی پیشن گوئی ہے کہ یہودی اور عیسائی مغرب اور بقول ان کے اسلامی فسطائیت کے درمیان عالمی بقا کی جنگ ہوگی۔ نو مہینے قبل اسٹیفن بینن نے کہا تھا کہ اگلے دس برس میں، امریکا اور چین کے درمیان جنوبی چین کے سمندر کے جزیروں پر جنگ ہوگی ۔ اسی کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ امریکا مشرق وسطی میں ایک بڑی جنگ میں ملوث ہوگا۔بلا شبہ صدر ٹرمپ کے سیاسی گرو بینن کے نظریہ کے مطابق نئی انتظامیہ کی پالیسی اور اقدامات سامنے آرہے ہیں۔ شامی پناہ گزینوں اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے بعد اب ایران سے معرکہ آرائی کا آغاز ہوگیا ہے۔دو روز پہلے نیشنل سیکوریٹی کے مشیر مایکل فلن نے ایران کو میزائل کے تجربہ پر خبردار کیا تھا اور ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ آگ سے کھیل رہا ہے ، پھر ایک روز بعد ما ئیکلفلن نے ایران کے مبینہ میزائل پروگرام پر ایران کی کئی درجن کمپنیوں اور تیرہ افراد پر پابندیوں کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مزید اقدامات کئے جائیں گے۔اس بات کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کا اگلا اقدام ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی منسوخی کا ہو سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں کہا جارہا ہے کہ ایران کے لئے جوہری پروگرام کی راہیں کھل جائیں گی۔اس سے پہلے ایوان نمایندگان میں ایک قرار داد پیش کی گئی تھی جس میں ایران کو جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنے کے لئے صدر کو ایران کے خلاف جنگ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے امریکا کی ۱۶ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تجزیہ میں کہا گیا تھا کہ ایران ، جوہری اسلحہ کی تیاری کی کوشش نہیں کر رہا ہے اس کے باوجود ری پبلکن اراکین نے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے بارے میں صدر کو اختیار دیا ہے ۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ ایوان نمایندگان کی اس قرار داد کے پیچھے اسٹیفن بینن کا دماغ کام کر رہا ہے ۔
بدھ، 1 فروری، 2017
افغانستان نے ( سگار ) کی رپورٹ مسترد کردی
افغانستان میں تعمیر نو کے امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ ترین نگران ادارے کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا کنٹرول بمشکل جنگ سے تباہ حال اس
ملک کے نصف پر قائم ہے، اس کی سکیورٹی فورسز کو عسکریت پسندوں کے مقابلے میں بتدریج کمی کا سامنا ہے جب کہ منشیات کی پیداوار میں اضافہ اور اس کے خاتمے میں تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغان ری کنسٹرکشن (سگار) کے دفتر سے گزشتہ تین ماہ کی جائزہ رپورٹ بدھ کو جاری کی گئی جس کے مطابق نومبر کے وسط تک افغان حکومت کا ملک کے 407 اضلاع میں سے صرف 57.2 فیصد پر کنٹرول یا اثر و رسوخ تھا جو کہ گزشتہ اگست کے مقابلے میں 6.2 فیصد جب کہ گزشتہ برس کی نسبت 15 فیصد کم تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس وقت افغانستان کی ایک تہائی یا 92 لاکھ آبادی "لڑائی والے علاقوں میں مقیم ہے" اور 25 لاکھ لوگ عسکریت پسندوں کے زیر اثر علاقوں میں رہ رہے ہیں۔ نومبر سے قبل کی سہ ماہی میں یہ تعداد 29 لاکھ تھی۔بظاہر اس تعداد میں کمی کی وجہ خراب صورتحال کے باعث لوگوں کی نقل مکانی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق گزشتہ سال تقریباً چھ لاکھ 40 ہزار افغانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری نے علاقوں پر فورسز کے کنٹرول سے متعلق "سگار" کی رپورٹ کو مسترد کیا تھا۔اس رپورٹ کی نقول گزشتہ ہفتے ہی صحافیوں کو فراہم کر دی گئی تھیں لیکن بدھ تک اس کے جاری کرنے پر ممانعت تھی۔اتوار کو ایک پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال پر دولت وزیری کا کہنا تھا کہ "تمام 34 صوبے افغان حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔۔۔ صرف آٹھ اضلاع پر طالبان عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے۔"مزید برآں رپورٹ میں افغان سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں گزشتہ سال کی نسبت 35 فیصد اضافے کا بتاتے ہوئے کہا گیا کہ امر اس جانب نشاندہی کرتا ہے کہ افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل معاونت کی ضرورت ہے اور یہ امداد کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتیں۔سگار کی یہ تازہ سہ ماہی رپورٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی منصب صدارت سنبھالنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ادارے کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 2016ء میں افیون کی پیداوار 2015ء کی نسبت 43 فیصد زیادہ رہی۔ اس کے اندازوں کے مطابق گزشتہ برس افغان کسانوں نے پوست کی فصل سے تقریباً 4800 ٹن افیون حاصل کی۔امریکی ادارے کی رپورٹ میں جس واحد معاملے میں بہتری کا تذکرہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ سرکاری سطح پر سامان کی خریدار اور سہولتوں کی فراہمی میں بدعنوانی کم ہوئی ہے۔
منگل، 10 جنوری، 2017
پیر، 9 جنوری، 2017
سوویت یونین کا بکھرنا حیران کن کیوں؟
پندرہ مختلف جمہوریتوں پر مشتمل سوویت یونین راتوں رات ٹوٹ گیا تھا اور یہ بکھراؤ اتنا بڑا تھا کہ 25 برسوں کے بعد آج بھی اس کے جھٹکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔بیسویں ویں صدی میں تاریخ، معیشت، نظریات اور ٹیکنالوجی کو متاثر کرنے والا سوویت یونین جس طرح سے اچانک ایک رات میں ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوا، یہ غور طلب ہے۔سنہ 1917 میں کمیونسٹ انقلاب سے پیدا ہونے والے سوویت یونین میں کم از کم 100 قومیتوں کے لوگ رہتے تھے اور ان کے پاس زمین کا چھٹا حصہ تھا۔ایک ایسی سلطنت جس نے ہٹلر کو شکست دی، جو امریکہ کے ساتھ سرد جنگ میں مبتلا رہا اور جوہری طاقت کی دوڑ میں بھی شامل رہا۔ اس نے ویتنام اور کیوبا کے انقلابات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ایک وقت تھا کہ جب سوویت یونین کھیل، رقص، فلم، ادب، فنون لطیفہ اور سائنس کے میدان میں بھی آگے آگے تھا۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر اور سوویت پالیسیوں کے ماہر آرچی براؤن کہتے ہیں: 'جس تیزی سے سوویت یونین ٹوٹا، وہ بھی ایک ہی رات میں، وہ سبھی کے لیے حیران کن تھا۔'
براؤن سمیت کئی دیگر ماہرین سوویت یونین کے ٹوٹنے کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ یہ 1991 میں کرسمس کی رات ہوا تھا۔
نمبر1۔ آمریتسوویت یونین کا وجود سنہ 1917 میں بالشویک انقلاب کے ذریعے ہوا تھا۔ اور زار نکولس دوم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد روسی سلطنت کو ختم کر دیا گیا تھا۔
سنہ 1922 میں لینن کی قیادت میں دور دراز کی ریاستوں کو روس میں شامل کیا گیا اور سرکاری طور پر يو ایس ایس آر کا قیام ہوا۔ اس کے سربراہ تھے ولادی میر لینن۔
ظاہر تھا کہ ایسے پیچیدہ اور متنوع ملک پر کنٹرول حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔زار کی آمریت سے الگ ہو کر سوویت یونین نے جمہوریت بننے کی کوشش کی لیکن آخر میں آمریت ہی قائم ہوئی جس میں سب سے اہم آمر سٹالن تھے۔
کچھ وقت کے بعد پارلیمان کا قیام بھی عمل میں آيا جسے سپریمو سوویت کہا گیا لیکن سارے فیصلے کمیونسٹ پارٹی ہی کرتی تھی۔ ملک کے اہم انتخاب سے لے کر حکومت کا ہر فیصلہ پارٹی کی ایک چھوٹی سی کمیٹی کرتی تھی، جسے پولٹ بیورو کہا جاتا تھا۔
سٹالن کے وقت سے ہی سیاست، معیشت اور عام زندگی پر پارٹی کا کنٹرول ہوتا چلا گیا۔ مخالفین کو گلگ بھیجا جانے لگا۔ گلگ وہی مقام ہے جہاں لوگوں کو اذیتیں دی جاتیں تھیں وہاں لاکھوں لوگ مارے گئے۔
نمبر 2۔ سخت ترین نوکر شاہی
آمریت اور سینٹرل حکومت کی وجہ سے سوویت یونین میں ایک جامع بیوروکریسی بھی وجود میں آئی جس کا کنٹرول معاشرے کے ہر کونے میں بڑھتا چلا گیا۔ یعنی کہ آپ کو ہر چیز کے لیے کاغذ، سٹامپ اور شناخت کے عمل سے گزرنا ہوتا تھا۔
آکسفورڈ کے پروفیسر آرچی براؤن کہتے ہیں اس بیوروکریسی نے ہی سوویت یونین کو ایک مشکل ملک بنا دیا تھا۔
نمبر 3۔ ناکام معیشت
سوویت یونین کی معیشت کارل مارکس کے معاشی اصولوں پر مبنی تھی۔ یہ اقتصادی نظام پنج سالہ منصوبوں کی بنیاد پر نافذ کیے جاتے تھے۔ سوویت یونین کی زیادہ تر آبادی کو صنعت اور زراعت کے کام میں لگایا گیا تھا۔لیکن اس کے باوجود معیشت کی رفتار میں سوویت یونین امریکہ سے مات کھاتا گیا اور 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کا جی ڈی پی، امریکہ سے نصف رہ گیا۔
نمبر 4۔ بہترین تعلیم و تربیت
سوویت یونین میں تعلیم و تربیت کا نظام بہت اچھا تھا اور لاکھوں لوگ تعلیم یافتہ ہوئے۔ آہستہ آہستہ باہر سے وابستگی پر لگنے والی پابندیاں کم ہونے لگی اور لوگوں کی دنیا کے بارے میں معلومات بڑھنے لگی۔ آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ پڑھے لکھے لوگوں کے سماجی گروپ بننے لگے جو وقت کے ساتھ ہی متاثر کن ہوتے چلے گئے۔
وہ گورباچوف کی ان اقتصادی اصلاحات کے حامی ہوتے گئے جن کا اعلان نوے کے عشرے میں کیا گيا تھا۔براؤن کے مطابق گرچہ سوویت یونین کی ٹوٹنے بہت سی وجوہات تھیں لیکن اس کی سب سے اہم وجہ گورباچوف خود تھے۔
ان کا اقتدار میں آنا ہی بڑی بات تھی۔ وہ اقتدار میں آئے تھے سوویت نظام کو تبدیل کرنے کے لیے یعنی وہ اپنی ہی قبر کھودنے کا کام کرنے والے تھے۔
1985 میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنے تو معیشت کا حال بہت برا تھا اور انھیں ایک غیر فعال سیاسی ڈھانچہ ملا تھا اس لیے انھوں نے ایک بہتر پروگرام شروع کیا۔
انھوں نے پیریستروكا (کم حکومتی کنٹرول) اور گلاسنوست نام کی دو پالیسیاں شروع کیں۔
گورباچوف کو لگا کہ اس سے نجی سیکٹر کو فائدہ ہوگا۔ اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور آگے چل کر غیر ملکی سرمایہ کاری بھی سوویت یونین میں آئے گی۔
انھوں نے مزدوروں کو ہڑتال کرنے کا حق دیا تاکہ وہ بہتر تنخواہ اور کام کرنے کی اچھی حالت کا مطالبہ کر سکیں۔
گلاسنوست کے تحت حکومت میں کھلے پن اور شفافیت کو اپنانے کی کوشش کی گئی۔سولجینتسن اور جارج ارویل جیسے مصنفین کی کتابوں پر عائد پابندیاں ہٹا لی گئیں۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا اور پریس کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔
پہلی بار انتخابات کی کوشش ہوئی اور اس میں کمیونسٹ پارٹی شامل ہوئی۔
اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ راشن خریدنے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگ گئیں۔ قیمتیں بڑھنے لگیں اور لوگ گورباچوف کی حکمرانی سے پریشان ہونے لگے۔
اسی سال 25 دسمبر کی رات گوربا چوف نے استعفیٰ دیا اور اگلے دن اس دستاویز پر دستخط کر دیے گئے جس کے تحت سوویت یونین کی تمام ریاستیں الگ الگ ہوگئیں۔
آرچی براؤن کہتے ہیں: 'یہ ایسے نہیں ہوا کہ اقتصادی اور سیاسی بحران کی وجہ سے لبرل ازم آ گيا اور جمہوریت کا آغاز ہوا۔'
ان کے مطابق یہ سب کچھ الٹا تھا۔ لبرلایئزیشن اور جمہوریت کے اہتمام کی وجہ سے بحران شروع ہوا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر گورباچوف اقتصادی اصلاح لانے کی کوشش نہ کرتے تو شاید آج بھی سوویت یونین کا وجود ہوتا۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)














